Baaghi TV

Tag: صدر

  • تقریب حلف برداری،ٹرمپ ہار گئے،میلانیا کوکوشش کے باوجود "بوسہ” نہ دے سکے

    تقریب حلف برداری،ٹرمپ ہار گئے،میلانیا کوکوشش کے باوجود "بوسہ” نہ دے سکے

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوسری بار بطور امریکی صدر عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے،

    ٹرمپ کی تقریب حلف برداری میں فوٹوگرافروں کے کیمرے ایک ایک سیکنڈ میں اس تاریخی لمحے کو محفوظ کر رہے تھے، اور اسی دوران ایک دلچسپ اور غیر متوقع منظر نے دنیا بھر کی توجہ حاصل کی ہے،ٹرمپ اور ان کی اہلیہ میلانیا کے درمیان یہ لمحہ ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گیا۔ نو منتخب صدر امریکا، ڈونلڈ ٹرمپ، جب کیپیٹل کی عمارت میں حاضرین کے سامنے اپنی اہلیہ میلانیا کو بوسہ دینے کی کوشش کر رہے تھے، تو ایک ہنسی مذاق کی صورتحال پیدا ہو گئی۔ٹرمپ نے اپنی اہلیہ کے گال پر بوسہ دینے کے لیے جب ان کی جانب بڑھنے کی کوشش کی، تو میلانیا کے سر پر موجود ہیٹ نے انہیں بوسہ دینے میں رکاوٹ ڈالی۔ اس وقت ان کے ارد گرد ان کے بچے بھی موجود تھے، جنہوں نے کامیابی اور فتح کی خوشی میں ٹرمپ کا ساتھ دیا تھا۔

    لیکن جب ٹرمپ نے اپنی اہلیہ کے گال پر بوسہ دینے کی کوشش کی، تو ہیٹ کی موجودگی کی وجہ سے وہ یہ نہ کر پائے۔ اس پر ٹرمپ نے فوراً صورتحال کو سنبھالا اور خود کو شرمندگی سے بچاتے ہوئے اپنی اہلیہ کو ہوا میں بوسہ (Flying Kiss) دے کر مطمئن ہو گئے۔یہ منظر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا اور صارفین نے اس "ادھورے بوسے” پر دلچسپ تبصرے کیے۔ سوشل میڈیا پر لوگوں نے اس منظر پر قہقہے لگائے اور اس کو ایک منفرد اور غیر متوقع واقعہ قرار دیا۔

    یہ لمحہ نہ صرف ہال میں موجود افراد کے لیے یادگار بن گیا، بلکہ سوشل میڈیا پر بھی اس نے اپنی جگہ بنا لی، جہاں پر صارفین نے اس کو مختلف انداز میں شیئر کیا۔ ٹرمپ کی شخصیت اور اس منفرد لمحے نے ایک بار پھر سوشل میڈیا پر اپنی دھاک بٹھا لی۔

    ٹرمپ کی سعودی اسرائیل تعلقات میں بہتری کی امید

    ٹرمپ نے حلف اٹھاتے وقت بائبل پر ہاتھ نہ رکھا

    جوبائیڈن کے 78 صدارتی اقدامات منسوخ،ٹرمپ نے اہم ایگریکٹو آرڈر پر کئے دستخط

  • ٹرمپ نے  حلف اٹھاتے وقت بائبل پر ہاتھ نہ رکھا

    ٹرمپ نے حلف اٹھاتے وقت بائبل پر ہاتھ نہ رکھا

    امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز اپنی صدارت کا حلف اٹھایا، جس کے ساتھ ہی وہ امریکا کے 47 ویں صدر بن گئے۔ اس موقع پر امریکی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جان رابرٹس نے صدر ٹرمپ سے عہدہ صدارت کا حلف لیا۔

    حلف برداری کی تقریب میں ایک حیران کن بات یہ تھی کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس موقع پر بائبل پر ہاتھ نہیں رکھا۔ جہاں ایک طرف ٹرمپ کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ دو بائبلز تھامے کھڑی تھیں، وہیں صدر ٹرمپ نے اپنا سیدھا ہاتھ بلند کیا لیکن کسی بھی بائبل پر ہاتھ نہیں رکھا۔اگرچہ امریکی دستور کے تحت صدر کے لیے بائبل پر ہاتھ رکھنا قانونی طور پر ضروری نہیں ہے، مگر یہ ایک قدیم روایت ہے کہ امریکی صدر اپنے عہدے کا حلف ایک ہاتھ بائبل پر رکھ کر لیتا ہے۔ یہ روایت امریکا کی صدارت کی تاریخ میں صدیوں سے جاری ہے، تاہم ٹرمپ کا یہ غیر متوقع اقدام لوگوں کے لیے حیرانی کا باعث بن گیا۔

    یاد رہے کہ 20 جنوری 2017 کو اپنے پہلے دور صدارت کی حلف برداری کے دوران، ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دائیں ہاتھ کو دو بائبلز پر رکھا تھا، لیکن اس بار ایسا کچھ نہیں کیا۔ اس عجیب و غریب صورتحال نے ملکی اور عالمی سطح پر بحث و مباحثہ کو جنم دیا ہے۔

    جوبائیڈن کے 78 صدارتی اقدامات منسوخ،ٹرمپ نے اہم ایگریکٹو آرڈر پر کئے دستخط

    کمیٹی چلتے ہوئے کیسز واپس لے تو عدلیہ کی آزادی تو ختم ،جسٹس منصور علی شاہ

  • جنوبی کوریا: معطل صدر کی حراست میں توسیع ، حامیوں نے عدالت پر دھاوا بول دیا

    جنوبی کوریا: معطل صدر کی حراست میں توسیع ، حامیوں نے عدالت پر دھاوا بول دیا

    سیئول: جنوبی کوریا کے معطل صدر یون سک یول کی حراست میں توسیع دیے جانے پر حامیوں نے عدالت پر دھاوا بول دیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق جنوبی کوریا کی عدالت کی جانب سے مارشل لا لگانے کی کوشش پر معطل صدر یون سک یول کی حراست میں مزید 20 دن کی توسیع دیئے جانے کے بعد ان کے حامیوں نے عدالت پر دھاوا بولا دیا، معطل صدر کے مشتعل حامیوں کی جانب سے عدالتی بلڈنگ کے دروازوں اور کھڑیوں کو توڑا گیا جب کہ فرنیچر کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔

    پولیس کے مطابق عدالت پر حملے کے الزام میں 40 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ اس دوران 40 لوگوں کو معمولی زخم بھی آئے جنہیں طبی امداد دی گئی ہے۔

    پہلا مرحلہ عارضی،دوسرا مرحلہ بے نتیجہ رہا تو جنگ کا دوبارہ آغاز کریں گے،نیتن یاہو

    ملک میں مارشل لا لگانے پر معطل صدر یون سک کو 4 دن قبل تحقیقات کے لیے حراست میں لیا گیا تھا تفتیش کار ایک ہزار کےقریب اہلکاروں کے ساتھ صدارتی محل پہنچے تاہم تفتیش کاروں کے پہنچنے پر پہلے تو صدارتی گارڈز اور حامیوں نے مزاحمت کی اور انہیں گرفتاری سے روکا تاہم بعد ازاں انہیں گرفتار کرلیا گیا۔

    قابض افواج کبھی بھی ہمارے عوام اور مزاحمت کو شکست نہیں دے سکتی،ڈاکٹر خلیل الحیہ

    جبکہ اس سے قبل یون سک یول کے حامی ان کی گرفتاری میں بھی رکاوٹ بنے ہوئے تھے، یون کی حکمران جماعت پیپلز پاورپارٹی کے 30 قانون ساز بھی صدارتی محل کے باہرپہنچ گئے تھے،اس سے قبل سرچ اورگرفتاری کے وارنٹ دکھانے کے باوجود تفتیش کاروں کو گرفتاری سے روکا گیا تھا کرپشن انوسٹی گیشن آفس کا کہنا تھا کہ وارنٹ کی تعمیل سے روکنے والوں کو حراست میں لیا جائےگا۔

    غزہ معاہدہ : 6ہفتوں کی جنگ بندی پر عمل درآمد 3 مراحل میں کیا جائے گا،قطری وزیر اعظم

    واضح رہے 3 دسمبر کو مختصر مدت کے لیے مارشل لاء لگانے پر صدر یون کے مواخذے کے بعد آئینی عدالت میں مقدمہ زیر سماعت ہے۔

  • سابق امریکی صدر جمی کارٹر کی وفات پر پر صدرِ پاکستان، وزیرِ اعظم  کا اظہارِ افسوس

    سابق امریکی صدر جمی کارٹر کی وفات پر پر صدرِ پاکستان، وزیرِ اعظم کا اظہارِ افسوس

    امریکا کے سابق صدر جمی کارٹر کی وفات پر پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور وزیرِ اعظم شہباز شریف نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور ان کے اہلِ خانہ، امریکی حکومت اور عوام کے ساتھ تعزیت کا پیغام بھیجا ہے۔

    پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ "ہم جمی کارٹر کے خاندان، امریکی حکومت اور عوام سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔” انہوں نے کہا کہ جمی کارٹر کی زندگی عالمی امن کے فروغ اور انسانی حقوق کے لیے ایک روشن مثال ہے اور ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔صدر زرداری نے مزید کہا کہ جمی کارٹر کا کردار عالمی سطح پر مثالی تھا، اور ان کی کوششوں نے دنیا بھر میں امن اور انسانیت کے لیے نیا راستہ دکھایا۔

    دوسری جانب وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف نے بھی سابق امریکی صدر جمی کارٹر کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "جمی کارٹر کے انتقال کی خبر سن کر بہت افسوس ہوا ہے۔” وزیرِ اعظم نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ "میں جمی کارٹر کے اہلِ خانہ اور امریکی عوام سے دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔”شہباز شریف نے کہا کہ "جمی کارٹر کی قیادت کے اعلیٰ اوصاف اور عالمی امن کے لیے ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔” انہوں نے مزید کہا کہ سابق امریکی صدر نے دنیا بھر میں انسانی حقوق اور عالمی ترقی کے لیے اہم اقدامات اٹھائے، اور ان کا شمار دنیا کے عظیم رہنماؤں میں کیا جائے گا۔

    سابق امریکی صدر جمی کارٹر نے 1977 سے 1981 تک امریکا کی صدارت کے فرائض سر انجام دیے۔ ان کی صدارت کے دوران انسانی حقوق کے تحفظ، عالمی امن کے فروغ اور ترقی پذیر ممالک میں امداد کے حوالے سے کئی اہم اقدامات کیے گئے۔ ان کی قیادت میں امریکا نے کیمپ ڈیوڈ معاہدے پر دستخط کیے جس میں مصر اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدہ ہوا۔ اس کے علاوہ جمی کارٹر نے "کارٹر سینٹر” کی بنیاد رکھی جو دنیا بھر میں صحت، تعلیم، انسانی حقوق اور جمہوریت کے لیے کام کرتا ہے۔جمی کارٹر کی وفات عالمی سطح پر ایک بڑا نقصان ہے اور ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

    بیٹے نے ماں کی دوسری شادی کروا دی، تصاویر وائرل

    پاکستان میں پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد بڑھ رہی ،مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے،وزیراعظم

  • دینی مدارس کی رجسٹریشن کے معاملے پر اہم پیش رفت

    دینی مدارس کی رجسٹریشن کے معاملے پر اہم پیش رفت

    اسلام آباد: دینی مدارس کی رجسٹریشن کا معاملہ، صدر آصف علی زرداری نے سوسائٹیز رجسڑیشن ایکٹ 2024 پر دستخط کردیے۔

    باغی ٹی وی: صدرمملکت کے دستخطوں کے ساتھ ہی بل قانون بن گیا، قومی اسمبلی جلد سوسائٹیز رجسڑیشن ایکٹ گزٹ نوٹیفیکیشن جاری کرے گی، قانون کے تحت دینی مدارس کی رجسٹریشن سوسائٹی ایکٹ کے مطابق ہوگی، یہ معاملہ افہام و تفہیم سے حل کرلیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ دو روز قبل وفاقی کابینہ نے مولانا فضل الرحمان کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے مدارس رجسٹریشن پر صدارتی آرڈیننس جاری کرنے کی منظوری دی تھی،جمعے کو وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں حکومت اور جمعیت علمائے اسلام کے درمیان تنازعے کا باعث بننے والے سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ میں ترمیم کے لیے آرڈیننس کی منظوری دی گئی۔

    عطاء اللہ تارڑ نے کے پی حکومت کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کردیا

    مدارس رجسٹریشن کے ترمیمی بل کو پارلیمنٹ نے اکتوبر میں منظور کیا تھا لیکن صدر مملکت آصف علی زرداری نے اعتراضات لگا کر اسے واپس بھیج دیا تھا،صدر آصف علی زرداری نے مدارس کی رجسٹریشن کے لیے پہلے سے موجود قوانین جیسے پاکستان مدرسہ ایجوکیشن بورڈ آرڈیننس 2001 اور اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹوری ٹرسٹ ایکٹ 2020 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان قوانین کی موجودگی میں نئی قانون سازی غیر ضروری ہے۔

    کُرم:گرینڈ قبائلی جرگہ دو روز کیلئے ملتوی،معاہدے کےاہم نکات سامنے آ گئے

    صدر مملکت نے مزید کہا تھا کہ ’نئے بل میں مدرسوں کی تعلیم کو شامل کرنے سے 1860 کے ایکٹ کے بنیادی اصولوں کے ساتھ تضاد پیدا ہو گا اور اس قانون کے تحت مدرسوں کی رجسٹریشن فرقہ واریت کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتی ہےایک ہی سوسائٹی میں متعدد مدرسوں کی تعمیر سے امن و امان کی صورتحال متاثر ہو سکتی ہے اور عالمی سطح پر تنقید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    بعدازاں سینیٹر کامران مرتضیٰ نے بتایا تھا کہ مدارس رجسٹریشن ایکٹ کا مسئلہ 26 ویں آئینی ترمیم کی روشنی میں حل کر لیا گیا ہے۔

    باباوانگا کے ’اے آئی ورژن‘کی 2025 کے حوالے سے حیران کن پیشگوئی

    ان کے مطابق وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ کے ساتھ مل کر مسودے کو حتمی شکل دی گئی ہے اور اب یہ معاملہ مکمل طور پر طے پا چکا ہے ترمیم کے تحت وزارت تعلیم یا سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ کے ذریعے مدارس کی رجسٹریشن ہو گی، جس سے مدارس کے تمام دھڑوں کے مطالبات پورے ہو جائیں گےپاکستان پیپلز پارٹی نے بھی اس حل کی تصدیق کی تھی اور امکان ظاہر کیا تھا کہ صدر مملکت جلد ہی آرڈیننس کی منظوری دے دیں گے، جس کے بعد باضابطہ گزٹ نوٹیفکیشن جاری ہوگا۔

    ملک میں آزاد اور ذمہ دار صحافت کا فروغ قومی ترقی اور خوشحالی کیلئےضروری ہے،بلاول

  • کرغزستان،صدر نے وزیراعظم کو ہٹا دیا

    کرغزستان،صدر نے وزیراعظم کو ہٹا دیا

    کرغزستان کے صدر صدیر جاپاروف نے وزیرِ اعظم اکیل بیک جاپاروف کو ان کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔
    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، کرغزستان کی صدارتی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اکیل بیک جاپاروف کو دوسرے عہدے پر منتقلی کے باعث ان کی وزارتِ عظمیٰ سے برطرفی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اکیل بیک جاپاروف 2021 سے وزیرِ اعظم کے عہدے پر فائز تھے، اور ان کی برطرفی سے کرغزستان کی سیاسی صورتحال میں نئی تبدیلیاں متوقع ہیں۔ اکیل بیک جاپاروف کی حکومت کے دوران کئی اہم اقتصادی اور سیاسی فیصلے کیے گئے تھے، جن میں کرغزستان کی داخلی سیاست اور بین الاقوامی تعلقات میں اہم موڑ آئے۔

    صدر جاپاروف کی جانب سے جاری کیے گئے ایک دوسرے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وزیرِ اعظم کے عہدے کی ذمہ داری اب نائب وزیرِ اعظم عادل بیک قاسم مالیئیف کو سونپ دی گئی ہے۔ عادل بیک قاسم مالیئیف اس سے قبل نائب وزیرِ اعظم کے عہدے پر کام کر رہے تھے، اور اب انہیں وزارتِ عظمیٰ کے فرائض سنبھالنے کا موقع ملا ہے۔

    کرغزستان میں حکومت کی تبدیلیاں اکثر سیاست اور معیشت پر اہم اثرات ڈالتی ہیں، اور اکیل بیک جاپاروف کی برطرفی کے فیصلے کے بعد سیاسی تجزیہ کاروں کی نظریں ملک کی آئندہ حکومتی پالیسیوں اور ترقیاتی اقدامات پر مرکوز ہیں۔

  • فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کا عالمی دن، صدر مملکت ،وزیراعظم کا پیغام

    فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کا عالمی دن، صدر مملکت ،وزیراعظم کا پیغام

    فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کے عالمی دن کے موقع پر صدر مملکت آصف زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے بیانات جاری کیئے ہیں

    صدر آصف علی زرداری نے فلسطینی عوام کے حق ِخودارادیت کیلئے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان فلسطینیوں کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت کی حمایت کے لیے پرعزم ہے۔آزادی، وقار اور انصاف کیلئے فلسطینی عوام کی جائز جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔عالمی برادری فلسطینی عوام کی نسل کشی روکنے کے لیے فوری اور فیصلہ کن اقدامات کرے۔ صدر مملکت نے فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان ان جارحانہ کاروائیوں کی شدید مذمت کرتا ہے اور عالمی برادری پر زور دیتا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کی نسل کشی روکنے کے لیے فوری اور فیصلہ کن اقدامات کرے۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان اس سلسلے میں اسرائیل اور اس کی قیادت کے احتساب کے لیے تمام اقدامات کا خیرمقدم اور حمایت کرتا ہے۔

    آزادی اور حق خود ارادیت کے لیے فلسطینی عوام کی جائز جدوجہد کی پُر عزم طریقے سے حمایت جاری رکھیں گے،وزیراعظم
    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کے عالمی دن کے موقع پر مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل اور فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت کے حصول کے لیے پاکستانی عوام اور حکومت کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ وزیراعظم نے غزہ میں فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے فلسطینی عوام کے لیے بلا روک ٹوک انسانی امداد کو یقینی بنانے کی فوری ضرورت پر زور دیا ہے۔وزیراعظم نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ تاریخ کے گھناؤنے ترین مظالم ڈھاتے ہوئے اسرائیل اب تک ہزار وں معصوم فلسطینی مردوں، خواتین اور بچوں کا قتل عام کر چکا ہے۔ پاکستان عالمی برادری سے پرزور مطالبہ کرتا ہے کہ وہ فلسطین میں اسرائیل کے مظالم کو فوری پر روکنے کے لیے فیصلہ کن کارروائی کرے۔ شہریوں، ہسپتالوں، اسکولوں اور انفراسٹرکچر پر حملوں کو روکا جائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم آزادی اور حق خود ارادیت کے لیے فلسطینی عوام کی جائز جدوجہد کی پُر عزم طریقے سے حمایت جاری رکھیں گے۔پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق مسئلہ فلسطین کا منصفانہ اور دیرپا حل چاہتا ہے، جس میں ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا گیا ہے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو گا۔

    پیسے دے کر کہا گیا دھرنے میں جا کر آگ لگانی ،گرفتار شرپسندوں کے انکشاف

    پی ٹی آئی مظاہرین کے تشدد سے متاثرہ پنجاب رینجرز کے جوانوں کے انکشافات

    سروسز بیچنے والیوں سے مجھے یہ فتوی نہیں چاہیے،سلمان اکرم راجہ کا بشریٰ کو جواب

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

  • ٹرمپ کا میڈیا کے خلاف کارروائی کا عندیہ

    ٹرمپ کا میڈیا کے خلاف کارروائی کا عندیہ

    صدر منتخب ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دوسرے دور میں میڈیا کے خلاف کارروائی کا عندیہ دیا

    امریکہ کے نومنتخب ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دوسرے دورِ حکومت میں میڈیا کے خلاف سخت اقدامات کرنے کی دھمکی دی ہے۔ انہوں نے صحافیوں کو جیل میں ڈالنے، نشریاتی لائسنسز منسوخ کرنے اور میڈیا اداروں کے خلاف متعدد مقدمات درج کرانے کا منصوبہ ظاہر کیا ہے۔ یہ حکمت عملی وہ پہلے بھی استعمال کرنے کی دھمکی دے چکے ہیں۔

    ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں باقاعدگی سے صحافیوں سے الجھتے ہوئے، میڈیا کو "عوام کا دشمن” قرار دیا اور سرکاری بریفنگز سے صحافیوں کو باہر نکال دیا۔ حالیہ مہینوں میں اپنے انتخابی مہم کے دوران، ٹرمپ نے میڈیا پر حملہ کرنے کے لیے متشدد اور جارحانہ بیانات دیے، اور حال ہی میں ایک عوامی اجتماع میں کہا کہ انہیں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑے گا اگر صحافیوں کو گولی مار دی جائے۔ ان بیانات نے یہ خوف پیدا کیا ہے کہ ٹرمپ حکومت کے وسائل کو آزاد صحافت کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

    یورپ میں آمرانہ قیادت پر تحقیق کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے دوسرے دور میں، جہاں انہیں اپنے وفاداروں کی حمایت حاصل ہوگی اور نگرانی کے کم تر عوامل ہوں گے، وہ امریکہ میں آزاد صحافت کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔بین الاقوامی صحافیوں کے مرکز کی صدر، شارون موشاوی نے کہا کہ ایسے ممالک جہاں آزاد صحافت کو ختم کیا گیا، وہاں یہ عمل ایک ہی اقدام سے نہیں ہوتا۔ "یہ ایک ہی بات نہیں ہے، یہ نہیں ہوتا کہ ‘ہم صحافیوں کو جیل میں ڈالیں گے’۔”

    دنیا کے مختلف حصوں میں آمرانہ حکومتوں جیسے روس، ہنگری، بھارت اور حالیہ دنوں میں پولینڈ نے آزاد میڈیا پر پابندیاں لگائیں اور اختلاف رائے کو دبایا۔ ٹرمپ نے ان ممالک کے رہنماؤں کی اکثر تعریف کی ہے، خاص طور پر ہنگری کے دائیں بازو کے وزیرِ اعظم وکٹر اوربان کی۔شارون موشاوی نے کہا، "یہ ہزاروں چھوٹے حملوں کی موت ہے، یہ متعدد زاویوں سے حملے ہوتے ہیں

    ٹرمپ کی صدارت کی دوسری مدت پہلی سے بالکل مختلف

    ٹرمپ نے وائیٹ ہاؤس میں پہلی تقرری کر دی،خاتون کو ملا بڑا عہدہ

    ٹرمپ کی کامیابی،شہزادہ ہیری کی امیگریشن فائل منظر عام پر آنے کاامکان

    روسی صدر کی ٹرمپ کو کال،تعلقات بحال کرنے کو تیار ہیں،پیوٹن

    بھارت میں روپوش حسینہ واجد کی ٹرمپ کو مبارک

    ٹرمپ کی ٹیم کی اگلے ہفتے جوبائیڈن سے ملاقات متوقع

    ٹرمپ کی تین شادیاں،26 جنسی ہراسانی کے الزامات،امیر ترین صدر

    ٹرمپ کی جیت،زلفی بخاری کی مبارکباد،ملاقات کی تصویر بھی شیئر کر دی

  • ٹرمپ کی ٹیم کی اگلے ہفتے جوبائیڈن سے ملاقات متوقع

    ٹرمپ کی ٹیم کی اگلے ہفتے جوبائیڈن سے ملاقات متوقع

    امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم اس بات پر تبادلہ خیال کر رہی ہے کہ وہ کب واشنگٹن، ڈی سی جائیں تاکہ صدر جو بائیڈن سے ملاقات کر سکیں۔

    سی این این کے مطابق ایک باخبر ذرائع نے بتایا کہ ملاقات کی تاریخ ابھی حتمی نہیں ہے، لیکن یہ امکان ہے کہ یہ ملاقات اگلے ہفتے ہو سکتی ہے، قبل اس کے کہ بائیڈن جنوبی امریکہ کے لیے اپنے ایک ہفتے کے غیر ملکی دورے پر روانہ ہوں۔14 نومبر کو بائیڈن کا واشنگٹن سے جنوبی امریکہ کے لیے روانہ ہونے کا شیڈول ہے، جس میں ان کے سفر کے دوران پیرو، برازیل اور ایمیزون کے جنگلات میں بھی رکنے کا منصوبہ ہے۔ اس دورے کے دوران بائیڈن ایشیا پیسیفک اور گروپ آف ٹوئنٹی (G20) ممالک کے رہنماؤں سے سربراہی ملاقاتیں کریں گے۔ ٹرمپ کے دوسرے دور حکومت میں ان رہنماؤں کے ساتھ تعلقات کو سمجھنا بائیڈن کی اپنے اتحادیوں سے دوطرفہ ملاقاتوں اور امریکی حریفوں کے ساتھ ملاقاتوں کے دوران معاون ثابت ہوگا۔

    ٹرمپ کی ٹیم کی خواہش ہے کہ وہ جلد از جلد واشنگٹن پہنچیں، اور ذرائع کے مطابق یہ ملاقات اگلے ہفتے بھی ممکن ہے۔پچھلے دنوں، وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ بائیڈن نے بدھ کے روز ٹرمپ سے فون پر بات کی اور انہیں ان کی جیت پر مبارکباد دی۔ بائیڈن نے اس دوران ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس آنے کی دعوت بھی دی اور کہا کہ وہ حکومت کی منتقلی کو ہموار بنانے کے لیے پرعزم ہیں اور ملک کو یکجا کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ٹرمپ نے بائیڈن کی کال کو "بہت سراہا” اور کہا کہ وہ جلد ہی صدر بائیڈن سے ملاقات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

    ٹرمپ کی تین شادیاں،26 جنسی ہراسانی کے الزامات،امیر ترین صدر

    ٹرمپ کی جیت،زلفی بخاری کی مبارکباد،ملاقات کی تصویر بھی شیئر کر دی

    ٹرمپ کے دوبارہ صدر منتخب ہونے پر روس،ایران کا ردعمل

    ٹرمپ کو برطانوی،بھارتی وزیراعظم،فرانسیسی،یوکرینی صدر و دیگر کی مبارکباد

    امریکی انتخابات،سیاسی منظر نامے میں اہم تبدیلیاں

    وزیراعظم کی ٹرمپ کو مبارکباد،پاک امریکا تعلقات مزید مضبوط کرنے کا عزم

    اپریل 2022 میں عمران خان سے ملاقات کرنیوالی الہان عمر چوتھی بار کامیاب

    ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی امریکہ کے لیے ایک نیا آغاز،اسرائیلی وزیراعظم

    ٹرمپ کی فاتحانہ تقریر،ایلون مسک کی تعریفیں”خاص”شخص کا خطاب

    ٹرمپ کا شکریہ،تاریخی کامیابی دیکھی،جے ڈی وینس

    ٹرمپ کو دوبارہ صدر منتخب ہونے پر بلاول کی مبارکباد

  • ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی امریکہ کے لیے ایک نیا آغاز،اسرائیلی وزیراعظم

    ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی امریکہ کے لیے ایک نیا آغاز،اسرائیلی وزیراعظم

    اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو نے امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو صدارتی انتخابات میں تاریخی کامیابی پر مبارکباد دی ہے،

    نیتن یاہو نے "ایکس” پر ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے ایک پوسٹ میں کہا: "آپ کی وائٹ ہاؤس میں تاریخی واپسی امریکہ کے لیے ایک نیا آغاز ہے اور اسرائیل اور امریکہ کے عظیم اتحاد کے لیے ایک طاقتور عزم کی تجدید ہے۔ یہ ایک شاندار فتح ہے!”

    ٹرمپ، جو اکثر دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ تاریخ میں اسرائیل کے سب سے زیادہ حامی صدر تھے، نیتن یاہو کے ساتھ اپنے ذاتی تعلقات کو بھی بڑے فخر سے پیش کرتے تھے۔ تاہم، گزشتہ کچھ سالوں میں ان کے تعلقات میں تناؤ آیا ہے اور ٹرمپ نے اس سال کے دوران ہونے والی جنگ کے دوران نیتن یاہو سے بات کرنے سے گریز کیا ہے۔ٹرمپ کی انتظامیہ نے اسرائیل کے فائدے کے لیے متعدد پالیسیوں پر عمل کیا، جن میں تل ابیب سے امریکی سفارت خانہ کو یروشلم منتقل کرنا، گولان ہائٹس پر اسرائیل کی خودمختاری کو تسلیم کرنا اور متعدد مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے ممالک کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی حمایت کرنا شامل ہے، جو ابراہم معاہدوں کا حصہ تھا۔نیتن یاہو نے پہلے ٹرمپ کو اسرائیل کا سب سے بڑا دوست قرار دیا تھا اور ان کی حکومت کے دوران اسرائیل کے حق میں "ناقابلِ تردید” حمایت کی تعریف کی تھی۔

    دوسری جانب سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اتحادی پہلے ہی ان کی ممکنہ انتظامیہ کے عہدوں کے بارے میں بات چیت کر رہے ہیں، تین ذرائع نے سی این این کو بتایا۔ جن افراد کے ذہن میں خاص عہدے ہیں، وہ ٹرمپ کے قریبی حلقے کے ارکان سے رابطہ کر کے خود کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ٹرمپ، جو بدشگونی سے بچنے کے لیے مشہور ہیں، حالیہ ہفتوں میں ان سے بات چیت سے بڑی حد تک گریز کر رہے تھے، حالانکہ ان کے اتحادی خود کو اچھی پوزیشن میں رکھنے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ کبھی کبھار وہ ممکنہ انتظامی ناموں پر بات کرتے تھے، لیکن اس سے آگے بات نہیں بڑھاتے تھے۔ تاہم، یہ اب ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ وہ لوگ جو سمجھتے ہیں کہ انہوں نے ٹرمپ کے ساتھ اپنی وفاداری ثابت کی ہے، اپنی کوششوں کو تیز کر رہے ہیں۔

    سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کی صبح اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس ایک ملک ہے جسے مدد کی ضرورت ہے اور یہ مدد بہت ضروری ہے۔ ہم اپنی سرحدوں کو درست کریں گے اور اپنے ملک کے ہر مسئلے کو حل کریں گے،”اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ ہم نے سب سے شاندار سیاسی کامیابی حاصل کی ہے،فلوریڈا کے ویسٹ پام بیچ میں ایک کنونشن سینٹر میں خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے امریکی عوام کو یقین دہانی کرائی کہ "ہر دن میں آپ کے لیے لڑوں گا” اور کہا کہ وہ "امریکہ کے سنہری دور” کا آغاز کریں گے۔

    ٹرمپ کی فاتحانہ تقریر،ایلون مسک کی تعریفیں”خاص”شخص کا خطاب

    ٹرمپ کا شکریہ،تاریخی کامیابی دیکھی،جے ڈی وینس

    ٹرمپ کو دوبارہ صدر منتخب ہونے پر بلاول کی مبارکباد

    واضح رہے کہ وائٹ ہاؤس کا نیا مکین مل گیا،ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر منتخب ہو گئے ہیں، ٹرمپ امریکہ کے 47 ویں صدر منتخب ہوئے ہیں، اب تک کے نتائج کے مطابق ٹرمپ277ووٹ لے چکے ہیں،

    امریکی انتخابات،کئی علاقوں میں ووٹرز کو شدید بارش اور طوفانی موسم کا سامنا

    امریکی انتخابات،غزہ جنگ نے عرب،مسلم ووٹرز کو جل سٹائن کی طرف کیا مائل

    امریکی انتخابات،ٹک ٹاک نے نوجوانوں کےسیاسی خیالات بدل ڈالے

    کملا ہیرس کی کامیابی کے لئے بھارت کے مندروں میں دعائیں