Baaghi TV

Tag: صدر

  • شہادت امام حسین ؓ اُمت مسلمہ کے لیے ایک عظیم درس ہے،صدر اور وزیراعظم کا پیغام

    شہادت امام حسین ؓ اُمت مسلمہ کے لیے ایک عظیم درس ہے،صدر اور وزیراعظم کا پیغام

    وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان محمد شہباز شریف اور صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے یوم عاشورہ 1444/2022ہجری کے موقع پر قوم کے نام پیغام دیا ہے .وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ میں کہا ہے کہ یومِ عاشور حق و باطل کے اس لازوال معرکے کی یاد دلاتا ہے جب سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی قیادت میں جذبۂ ایمانی سے سرشار جماعت نے باطل کی اطاعت سے انکار کیا، اور حق کی سربلندی کے لیے اپنے سے بظاہر طاقتور گروہ کے سامنے سینہ سپر ہو گئی، اور یوں اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرتے ہوئے تا قیامت عزم و ہمت اور بہادری کا استعارہ بن گئی۔

    نو اور دس محرم کے دن اہل بیت اور دیگر جانثار ساتھیوں کے ہمراہ، حضرت امام حسین ؓ نے بے سرو سامانی کے عالم میں ظلم و استبداد پر کاربند قوتوں کو للکارا اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے دین اسلام کوجلاء بخشی۔ آج اسلام انہی قربانیوں کی بنا پر زندہ ہے اوریہی قربانیاں اہل ایمان کو ابتلاء و آزمائش کی گھڑی میں عزم و ہمت کا حوصلہ دیتی ہیں۔

    شہادت امام حسین ؓ اُمت مسلمہ کے لیے ایک عظیم درس ہے۔ ہم سب کو چاہئیے کہ ان کے فلسفہ شہادت کو اپنے لیے مشعل راہ بنائیں، اور حق کی سربلندی کے لیے ہر قسم کی آزمائش کا جوانمردی اور اسقامت کے ساتھ مقابلہ کریں۔

    اس وقت ہمارا ملک جس نازک صورتحال سے دوچار ہے، ہمارے لیے اس جذبۂ جوان مردی اور حق گوئی کی اہمیت دو چند ہو جاتی ہے۔ اس لیے وطن عزیز کو ان مشکلات سے نکالنے کے لیے ہمیں صبر، ہمت اور یکسوئی کا مظاہرہ کرنا ہے۔

    اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اسوہ امام حسین پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ پاکستان اور پاکستانی قوم کو خوشحالی اور ترقی عطا فرمائے۔ آمین!
    پاکستان پائندہ باد.

    علاوہ ازیں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اپنے پیغام میں کہا کہ اسلامی تاریخ میں محرم الحرام نہایت عزت و احترام اور فضیلت والا مہینہ ہے،اس مہینے میں جہاں اسلامی تاریخ کے اہم ترین واقعات رونما ہوئے وہیں یوم ِ عاشورہ یعنی 10 محرم الحرام کا دن بھی امت مسلمہ کے نزدیک خصوصی اہمیت و فضیلت کا حامل ہے، آج کے دن حضرت امام حسین ؓ نے ایک ظالم حکمران کی بیعت کرنے سے انکار کرتے ہوئے دین کی سربلندی اور حق و صداقت کی خاطر اہلِ بیت اور دیگر جانثار ساتھیوں کے ہمراہ جامِ شہادت نوش فرمایا.

    صدر مملکت نے کہا کہ نواسۂ رسول ؐ نے کربلا کے تپتے ہوئے میدان میں حق کی خاطر اپنا سر تو کٹوا دیا مگر اسے باطل قوتوں کے سامنے جھکنے نہ دیا، آج کے دن حضرت امام حسین ؓ  ، اہلِ بیت اور ان کے وفا شعار ساتھیوں نے شجاعت ، بہادری اور قربانی کی عظیم الشّان مثال قائم کی اور اپنے خون سے اسلام کو ایک نئی زندگی عطا کی، اس اندوہناک واقعہ اور اہلِ بیت پر بے انتہا ظلم پر ہر مسلمان کی آنکھ اشک بار ہے.

    صدر مملکت کا کہنا تھا کہ خانوادۂ ِ حضرت امام حسین ؓ  کی عظیم قربانی ہمارے لیے مشعل راہ ہے اور اس میں ہمارے لیے پیغام ہے کہ ظلم و جبرپر مبنی باطل نظام کے خلاف حق اور سچائی کا علم بلند کرنا چاہیے، امّتِ مسلمہ کو حق و صداقت اور دین کی بقا اور فروغ کیلئے ڈٹ جانا چاہیے، خلقِ خدا کو ظلم و ستم کا نشانہ بنانے والی اور احکامات ِ الٰہی کی نافرمانی کرنے والی قوتوں کے خلاف صدائےاحتجاج بلندکرنی چاہیے، انفرادی اور اجتماعی سطح پر حق کی سربلندی اور نصرت کے لیےصبر، استقامت اور جرات کے ساتھ جدوجہد کے لیے ہمہ وقت تیار رہنا چاہیے.

    صدر عارف علوی نے کہا کہ جب ہم اللہ کے دین ، سنت نبوی ؐ اور اسوہ امام حسین ؓ  پر عمل پیرا ہوں گے تو یقینا ً اللہ تعالیٰ کی مدد ونصرت بھی ہمیں حاصل ہو گی اور ہم دنیا اور آخرت میں بھی کامیابی حاصل کریں گے، آئیں ، ہم آج کے دن عہد کریں کہ ہم اسوۂ ِ امام حسین ؓ  پر عمل پیرا ہونے کی بھرپور کوشش کریں گے اور جذبۂ ِ ایثار و قربانی سے سرشار ہوکر اپنے ہم وطنوں ، بالخصوص جنہیں سیلابی صورتحال کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے، کی خدمت کریں گے، میری دعا ہے کہ اللہ تعالی ٰ ہمارے ملک کو ترقی و خوشحالی کا گہوارہ بنائے اور ہمیں تمام بلاؤں سے محفوظ رکھے ۔ آمین !

  • صدرعارف علوی نے شہری سے ناانصافی پر ایف بی آر سے وضاحت طلب کرلی

    صدرعارف علوی نے شہری سے ناانصافی پر ایف بی آر سے وضاحت طلب کرلی

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے شہری سے ناانصافی اور بدانتظامی پر ایف بی آر سے وضاحت طلب کرلی،صدر مملکت نے وضاحت وفاقی ٹیکس محتسب کے فیصلے کے خلاف غیر ضروری طور پر اور بغیر کسی مضبوط قانونی جواز کے مالی طور پر معمولی کیس کو طول دینے اور ملک کے اعلیٰ ترین دفتر کا وقت ضائع کرنے پر طلب کی

    غلامی نامنظور اور سازش اپنی جگہ،عطیہ کیسے ٹھکراوں،یہ ہے عمران خان

    صدر مملکت کا کہنا تھا کہ چھوٹے اور مالی طور پر معمولی ٹیکس دہندگان کا معقول اور قانونی وجوہات کے بغیر تعاقب سے ایف بی آر کے تاثر پر منفی اثر پڑتا ہے اور عوامی ناراضگی بھی پیدا ہوتی ہے.

    ایبٹ آباد کے ایک دکان مالک کو ایف بی آر نے "درجہ 1 ریٹیلر” کے طور پر رجسٹر کیا تھا حالانکہ دکان مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اترتی تھی. شہری نے اس ناانصافی پر وفاقی ٹیکس محتسب سے رجوع کیا جس نے شہری کے حق میں احکامات جاری کیےایف بی آر نے اس فیصلے کی تعمیل کی بجائے فیصلے کے خلاف صدر مملکت کے پاس اپیل دائر کی

    صدر مملکت کی ایف بی آر کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے دکان کی غیر منصفانہ رجسٹریشن ختم کرنے کی ہدایت کی.

     

    شیریں مزاری کاامریکی حکام کےپاکستان کےحساس علاقوں کےدورے پرشکوہ،سوشل میڈیاصارفین کی تنقید

     

    صدر مملکت نے کہا کہ ایف بی آر 45 دن کے اندر تعمیل کی رپورٹ جمع کرائے، بتائے کہ ناجائز طور پر ایک کپڑے کی دکان کو "درجہ-1 ریٹیلر” کے طور پر کیوں رجسٹر کیا گیا.

    صدر عارف علوی نے کہا کہ دکان صرف 594 مربع فٹ پر مشتمل تھی، سیلز ٹیکس رولز کے تحت لازمی رجسٹریشن قانون، قواعد کے خلاف، غیر منصفانہ اور غیر متعلقہ بنیادوں پر مبنی اور بدانتظامی کے مترادف ہے، ٹیکس محتسب کا حکم ٹھوس بنیادوں پر تھا، اصل حکم میں مداخلت کا کوئی معقول جواز نہیں، صدر مملکت نےاپیل مسترد کر دی اور حکم دیا کہ ایف بی آر حکم پر عمل درآمد کے 45 دن کے اندر رپورٹ بھیجے.

    صدر مملکت کا کہنا تھا کہ ایف بی آر وجوہات بتائے کہ انصاف میں تاخیر کیوں ہوئی اور ملک کے اعلیٰ ترین فورم کی کوشش اور وقت کیوں ضائع کیا گیا.

  • امریکی عوام  جوبائیڈن کواگلےصدرکےطورپرنہیں دیکھنا چاہتے:سروے رپورٹ

    امریکی عوام جوبائیڈن کواگلےصدرکےطورپرنہیں دیکھنا چاہتے:سروے رپورٹ

    نیویارک:امریکی عوام صدر جوبائیڈن کواگلے صدر کے طورپرنہیں دیکھنا چاہتے:سروے رپورٹ میں انکشاف ،اطلاعات کے مطابق امریکی عوام نے 2024 کےلیے جوبائیڈن کی بجائے اپنے اگلے صدر کے طور پر جوبائیڈن کی بجائے کسی اور پرامیدیں لگا لی ہیں، جمعرات کو جاری ہونے والے تازہ ترین نیوز نیشن/ڈیسیژن ڈیسک ہیڈکوارٹر پول کے مطابق ووٹرز نہیں چاہتے کہ صدر جو بائیڈن دوبارہ الیکشن لڑیں، لیکن وہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ٹکٹ پر بھی نہیں دیکھنا چاہتے۔

    سروے میں شامل تمام ووٹروں میں سے 60 فیصد سے زیادہ نے کہا کہ بائیڈن کو صدر کے لیے انتخاب نہیں لڑنا چاہیے۔ دی ہل نے رپورٹ کیا کہ ڈیموکریٹس میں سے 30 فیصد نے کہا کہ انہیں 2024 سے باہر بیٹھنا چاہیے۔اسی طرح کل ووٹروں میں سے تقریباً 57 فیصد نے کہا کہ ٹرمپ کو صدر کے لیے انتخاب نہیں لڑنا چاہیے۔ چھبیس فیصد رائے دہندگان ریپبلکن کسی اور کو بطور امیدوار چاہتے ہیں۔

    ہل وائٹ ہاؤس کے کالم نگار نیل سٹینج نے کہا کہ یہ 2020 کے متنازعہ صدارتی انتخابات کی یادیں ہو سکتی ہیں جنہوں نے ووٹرز کو موجودہ اور سابق صدر دونوں سے دور کر دیا۔

    کالم نگار کا کہنا ہے کہ "اس کا ایک حصہ، ایمانداری سے، مجھے لگتا ہے کہ اس انتخاب کی تلخی اور دشمنی کا تعلق ہے،” سٹینج نے مزید کہا، "مجھے شک ہے کہ وہاں بہت سارے ووٹرز ہیں، خاص طور پر درمیانی میدان میں یا زیادہ اعتدال پسند ووٹرز۔ ہر پارٹی، جو صرف یہ نہیں چاہتی کہ اس سارے عمل پر دوبارہ مقدمہ چلایا جائے کیونکہ یہ اتنا منقسم الیکشن تھا۔

    ڈیموکریٹک اور ریپبلکن امیدواروں میں اگلے سب سے زیادہ مقبول نائب صدر ہیرس تھے، بالترتیب 16 فیصد، اور فلوریڈا کے گورنر رون ڈی سینٹیس، بالترتیب 23 فیصد تک رہی ہے

    ڈیسک ہیڈکوارٹر کے سینئر ڈیٹا سائنسدان کیل ولیمز نے کہا، تاہم یہ بتانا بہت جلد ہے کہ انتخابات کیسے ہو سکتے ہیں۔ ولیمز نے کہا کہ یہ بھی ممکن ہے کہ وسط مدتی انتخابات سے چار ماہ بعد، بہت سے ممکنہ امیدوار ابھی تک گھریلو نام نہیں بن پائے ہیں۔ولیمز نے کہا ، "میرے خیال میں اس میں سے زیادہ تر رائے دہندگان میں صرف نام کی شناخت کی کمی ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکی عوام اب جوبائیڈن کو صدر کے طورپرنہیں دیکھنا چاہتے

  • سری لنکا:سیاسی بحران جاری، نئے صدر سے بھی مستعفی ہونے کا مطالبہ

    سری لنکا:سیاسی بحران جاری، نئے صدر سے بھی مستعفی ہونے کا مطالبہ

    سری لنکا کے سابق صدر راجاپکسے کے مستعفی ہونے اور نئے صدر کے حلف اٹھانے کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ اس ملک کا سیاسی بحران ختم ہو جائیگا لیکن اب یوں دکھائی دے رہا ہے کہ بحران کا سلسلہ ابھی اور آگے بڑھے گا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سری لنکا میں حکومت مخالف احتجاجی مظاہرین نے نومنتخب صدر رانیل وکرماسنگھے سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔مظاہرین کی جانب سے صدر وکرما سنگھے پر معزول صدر کے ساتھیوں کو تحفظ دینے کا الزام لگایا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز دارالحکومت کولمبو میں سکیورٹی فورسز نے ایوانِ صدر کے باہر موجود حکومت مخالف مظاہرین کے کیمپ اکھاڑ پھینکے تھے اور ایک طرح سے مظاہرین کی سرکوبی کا عمل شروع کر دیا تھا جبکہ پولیس ترجمان نے 9 افراد کی گرفتاری کی بھی تصدیق کردی ہے۔

    واضح رہے کہ پچھلے کئی ماہ سے مظاہرین نے قصرِ صدارت کے باہر پڑاؤ ڈالا ہوا تھا، ان کا مطالبہ تھا کہ سابق صدر راجاپکسے مستعفی ہوں۔ تاہم راجاپکسے کے مستعفی ہونے کے بعد اب مظاہرین نے نومنتخب صدر سے بھی مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

  • رانیل وکرما سنگھے سری لنکا کے نئے صدر منتخب

    رانیل وکرما سنگھے سری لنکا کے نئے صدر منتخب

    کولمبو: سری لنکن پارلیمنٹ میں صدرکےانتخاب کاعمل مکمل ،6 باروزیراعظم رہنےوالےرانیل وکرما سنگھے کو صدرمنتخب کر لیا گیا-

    باغی ٹی وی: غیرملکی میڈیا کے مطابق 6 باروزیراعظم رہنےوالےرانیل وکرما سنگھے کو صدرمنتخب کر لیا گیا نئےسری لنکن صدرکا انتخاب خفیہ بیلٹ کےتحت ہوا نیا صدر 2024 میں نئے انتخابات سے قبل بقیہ دو سال پورا کرے گا۔

    سری لنکا کے قائم مقام صدر نے ملک میں ایک بار پھر ایمرجنسی نافذ کردی

    صدارتی انتخاب کے لئے پارلیمنٹ کے اطراف سیکورٹی انتہائی سخت کردی گئی تھی اورہزاروں سیکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کردیا گیا تھا جبکہ سینکڑوں مظاہرین پارلیمنٹ کے باہر جمع تھے وزیراعظم وکرما سنگھے بطور عبوری صدر بھی فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

    نجومی خاتون بابا وانگا کی 2022 میں کی گئی پیشگوئیوں میں 2 پوری ہو گئیں

    رانیل وکرما سنگھے نے گزشتہ دنوں صدر گوٹابایا راجا پاکسے کے ملک سے فرار ہونے کے بعد قائم مقام صدر کا عہدہ سنبھالا تھا گوٹابایا راجا پاکسے بدترین معاشی بحران کے نتیجے میں عوامی احتجاج اورمظاہروں کے باعث سابق صدر ملک چھوڑ کر فرار ہوئے تھے۔

    سری لنکا گذشتہ کئی مہینوں سے شدید اقتصادی اور سیاسی بحران کا شکار ہے ملک میں خوراک، ایند ھن اور ادویات سمیت دیگر ضروری اشیا کی شدید قلت ہے۔

    بھارت کا اگلا صدر کون ہو گا؟ ووٹنگ جاری

  • بھارت کا اگلا صدر کون ہو گا؟ ووٹنگ جاری

    بھارت کا اگلا صدر کون ہو گا؟ ووٹنگ جاری

    بھارت کے 15واں صدر کا انتخاب کرنے کے لیے پارلیمینٹ ہاوس اور مختلف ریاستوں کی قانون ساز اسمبلیوں میں ووٹنگ کا عمل شروع ہوگیا ہے۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی اور امیت شاہ نے پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس میں اور یوگی آدتیہ ناتھ نے لکھنؤ اسمبلی میں ووٹ ڈالا۔ دوسری جانب بہار کےسیتامڑھی سے ایم ایل اے متھیلیش کمار اپنا ووٹ ڈالنے اسٹریچرپرپہنچےجبکہ بھارت کے سابق وزیراعظم من موہن سنگھ نے بھی اپنا ووٹ کاسٹ کردیا ہے-

    ووٹوں کی گنتی اور اعلان 21 جولائی کو ہوگا، جبکہ نومنتخب صدر 25 جولائی کو حلف لیں گے صدارتی انتخاب میں تقریباً 4 ہزار سے زائد کونسل ممبران اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ آج ملک میں صدارتی انتخاب کے لیے ووٹنگ جاری ہے۔ ایوان کے اس اجلاس میں ہم نئے صدر اور نائب صدر کی رہنمائی حاصل کریں گے۔

    بی جے پی کی زیرقیادت این ڈی اے کی صدر جمہوریہ امید وار دروپدی مرمو اور اپوزیشن کے یشونت سنہا کے درمیان مقابلہ ہے، دروپدی مرمو کو 50 فیصد سے زیادہ ووٹوں کی ضرورت ہے، رام ناتھ کوند کی بطور صدر 24 جولائی کو مدت پوری ہورہی ہے۔

    بی جے پی نے 21 جون کو دوروپی مرمو کو اپنا امیدوار نامزد کیا تھا، تب این ڈی اے کے کھاتے میں 5,63,825 یا 52 فیصد ووٹ تھے۔ سنہا کے 24 اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ ہونے کی وجہ سے 4,80,748 یعنی 44 فیصد ووٹوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ 27 دنوں میں، مرمو کو فیصلہ کن برتری حاصل ہوئی کیونکہ کئی غیر این ڈی اے پارٹیاں حمایت میں آئیں۔ اگر تمام 10,86,431 ووٹ ڈالے جائیں تو مرمو کو 6.67 لاکھ (61 فیصد) سے زیادہ ووٹ ملیں گے۔ سنہا کے ووٹ کم ہو کر 4.19 لاکھ رہ گئے۔ جیت کے لیے 5,40,065 ووٹ درکار ہیں۔

  • سری لنکا سیاسی بحران میں کمی آنےلگی:صدرگوٹابایا راجا پکسےبالآخر مستعفی ہوگئے

    سری لنکا سیاسی بحران میں کمی آنےلگی:صدرگوٹابایا راجا پکسےبالآخر مستعفی ہوگئے

    کولمبو:بدترین معاشی بحران کا شکار سری لنکا کے صدر گوٹابایا راجا پکسے بالآخر مستعفی ہوگئے۔ اس موقع پردارالحکومت میں جشن کا سماں ہے۔جس کے بعد گُمان کیا جارہا ہے کہ ممکن ہے کہ سیاسی بحران میں کمی آجائے جس کے بعد معاشی بحران میں بھی کمی آسکتی ہے

    سری لنکا کے صدر گوٹابایا راجا پکسے کے مستعفی ہونے کا سن کر دارالحکومت کولمبو میں لوگوں نے جشن مناتے ہوئے پٹاخے برسائے۔

    غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق سری لنکا کے صدر گوٹابایا راجا پکسے منگل کو ملک سے فرار ہونے کے بعد سنگاپور میں موجود ہیں، جہاں وہ مملکت کے عہدے سے باضابطہ طور پر مستعفی ہو گئے ہیں۔

    صدر پکسے کے مستعفی ہونے کی خبر سن کر دارالحکومت کولمبو میں جشن کا سماں ہے۔ مقامی لوگوں نے جشن مناتے ہوئے پٹاخے بھی پھوڑے۔اس موقع پر پارلیمنٹ کے سپیکر نے بھی تصدیق کی کہ انہیں راجا پکسے کے استعفیٰ کا خط موصول ہوچکا ہے۔

    یاد رہے، صدر کا استعفیٰ ایک ایسے دن آیا ہے جب مظاہرین نے اعلان کیا تھا کہ وہ صدارتی محل، صدارتی سیکرٹریٹ اور وزیر اعظم کے دفتر سمیت سرکاری عمارتوں پر سے اپنا قبضہ ختم کر دیں گے۔

    دوسری جانب، سنگاپور کی حکومت کا کہنا ہےکہ کہ سری لنکا کے سابق صدر “نجی دورے” پر وہاں موجود ہیں اور انہوں نے سیاسی پناہ کی درخواست نہیں دی ہے۔

    وزیر اعظم رانیل وکرما سنگھے نے سیکورٹی فورسز کو امن بحال کرنے کے لیے کہا ہے اور ہنگامی حالت کا اعلان کیا ہے۔مظاہرین کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ہم پرامن طور پر صدارتی محل، صدارتی سیکرٹریٹ اور وزیر اعظم کے دفتر سے فوری طور پر دستبردار ہو رہے ہیں تاہم، اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

     

     

    معاشی بحران کے شکار سری لنکا میں حکومت مخالف مظاہرین نے کہا ہے کہ وہ سرکاری عمارات سے اپنا قبضہ ختم کر رہے ہیں۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق رواں ہفتے سیکڑوں مظاہرین نے سری لنکا کے صدر گوٹابایا راجاپکسے کے محل پر قبضہ کرکے انہیں بدھ کو مالدیپ فرار ہونے پر مجبور کردیا تھا جبکہ مظاہرین کا بہت بڑا ہجوم وزیر اعظم رانیل وکرماسنگھے کے دفتر بھی جمع ہوگیا۔

    وزیر اعظم رانیل وکرماسنگھے نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ مظاہرین سرکاری عمارات کو خالی کریں۔ انہوں نے سیکیورٹی فورسز کو ہدایات جاری کیں کہ امن و امان کی بحالی کے لیے جو بھی ضروری اقدامات کیے جاسکتے ہیں وہ کریں۔

  • سری لنکن صدرفرارہوگئے

    سری لنکن صدرفرارہوگئے

    کولمبو: سری لنکا کے صدر گوٹابایا راجا پاکسے اپنے گھر سے فرار ہو گئے ہیں کیونکہ مظاہرین نے ہفتے کے روز ان کی رہائش گاہ کا گھیراؤ کیا اور دھاوا بول دیا تھا ۔ ذرائع کے مطابق مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں دو پولیس اہلکاروں سمیت کم از کم سات افراد زخمی ہو گئے۔

    دارالحکومت کولمبو میں صدر کی سرکاری رہائش گاہ پر دھاوا بولنے کے لیے ہزاروں مظاہرین نے پولیس کے ساتھ جھڑپیں کی اور رکاوٹیں توڑ دیں۔ وزارت دفاع کے ذرائع نے بتایا کہ صدر گوتابایا راجا پاکسے کو ہفتے کے آخر میں طے شدہ ریلی سے قبل ان کی حفاظت کے پیش نظرکسی دوسری جگہ منتقل کردیا گیا ہے

    یاد رہے کہ یہ موجودہ صورت حال پچھلے کئی دن سے خراب تھی اور یہ اقدام ملک میں معاشی چیلنجز کے دوران بڑھتی سیاسی کشیدگی سے امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول رکھنے کی خاطرملک میں کرفیونافذ کیا گیا ہے۔

    ادھر اس سے پہلے کولمبو میں صدر گوتابایا راجا پکسے کی برطرفی کے لیے بڑے عوامی مظاہروں کا اعلان کیا گیا تھا جس کے بعد سیکورٹی صورتحال کے پیشِ نظر فوج کو الرٹ رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔

    پولیس نے کرفیو کے دوران شہریوں کو گھروں تک محدود رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے باہر نہ نکلنے کی تاکید کی ہے۔اس سے پہلے پولیس کے سربراہ چندنا وکرمارتنے کا کہنا ہے کہ جمعہ کی رات 9 بجے سے دارالحکومت میں کرفیو کا نفاذ ہو گیا ہے جو غیر معینہ مدت تک برقرار رہے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ نئے حکم نامے تک کرفیو کے حالات میں لوگ گھروں سے باہر ہرگز نہ نکلیں۔ کرفیو کولمبو شہر کے ساتھ ساتھ مضافاتی علاقوں میں بھی نافذ رہے گا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ہفتہ کو صدر کے خلاف بڑی ریلی شیڈول ہے جس میں شرکت کے لیے ہزاروں لوگ کولمبو پہنچے ہوئے ہیں اورمظآہرین کی طرف سے سخت دباو کے بعد سری لنکن صدرکوفرارکرادیا گیا ہے

  • سابق گوریلا رہنما کولمبیا کے نئے صدر منتخب ہو گئے

    سابق گوریلا رہنما کولمبیا کے نئے صدر منتخب ہو گئے

    سابق گوریلا رہنما گوستاوو پیٹرو کولمبیا کے نئے صدر منتخب ہو گئے ۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق اتوار کو ہونے والے صدراتی انتخابات کے ابتدائی نتائج کے مطابق پیٹرو نے 50.49 فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں جبکہ ان کے قدامت پسند حریف اور کاروباری شخصیت روڈولفو ہیرنینڈس نے 47.26 فیصد ووٹ حاصل کیے۔

    روس، چین کو سستے داموں سب سے زیادہ خام تیل سپلائی کرنے والا ملک بن گیا

    گوستاوو پیٹرو کولمبیا کے دارالحکومت بوگوٹا کے میئر بھی رہ چکے ہیں اور وہ کولمبیا کے بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے پہلے صدر ہیں۔

    بائیں بازو کے گستاوو پیٹرو M-19 گوریلا تحریک کے ایک سابق رکن ہے۔ جنہوں نے سماجی اور اقتصادی تبدیلی کے لیے طویل جدوجہد کی۔ گستاوو پیٹروملکی تاریخ میں صدر بننے والے پہلے ترقی پسند رہنما بن گئے ہیں انہوں نے مفت اعلیٰ تعلیم، پنشن اصلاحات اور غیر پیداواری زمین پر زیادہ ٹیکسوں کے ساتھ ساتھ معاشرے میں عدم مساوات ختم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

    اپنی فتح کی تقریر کے دوران، پیٹرو نے اتحاد کی کال جاری کی اور اپنے کچھ سخت ترین ناقدین کو مل کر کام کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ حزب اختلاف کے تمام اراکین کا صدارتی محل میں "کولمبیا کے مسائل پر بات کرنے” کے لیے خیرمقدم کیا جائے گا۔

    انہوں نے کہا اس حکومت سے جو شروع ہو رہی ہے، کبھی سیاسی ظلم و ستم یا قانونی ظلم نہیں ہو گا، صرف احترام اور بات چیت ہو گی، انہوں نے مزید کہا کہ وہ نہ صرف ہتھیار اٹھانے والوں کی بات سنیں گے بلکہ اس خاموش اکثریت کو بھی سنیں گے۔ کسان، مقامی لوگ، خواتین، نوجوان-

    ایمبر ہرڈ کا چہرہ سائنسی طور پر دنیا میں سب سے خوبصورت چہرہ قرار

    سبکدوش ہونے والے قدامت پسند صدر، ایوان ڈیوک نے، نتائج کے اعلان کے فوراً بعد پیٹرو کو مبارکباد دی، اور ہرنینڈیز نے جلد ہی شکست تسلیم کر لی۔

    شہریوں کی اکثریت نے دوسرے امیدوار کا انتخاب کیا ہے۔ جیسا کہ میں نے مہم کے دوران کہا تھا، میں اس الیکشن کے نتائج کو قبول کرتا ہوں،‘‘ ہرنینڈز نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں کہا۔ "مجھے پوری امید ہے کہ یہ فیصلہ سب کے لیے فائدہ مند ہے۔”

    امریکی وزیر خارجہ، اینٹونی بلنکن نے کولمبیا کے عوام کو ایک آزادانہ اور منصفانہ صدارتی انتخابات میں اپنی آواز سنانے پر” مبارکباد دی۔

    انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ ہم امریکہ-کولمبیا تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور اپنی قوموں کو بہتر مستقبل کی طرف لے جانے کے لیے منتخب صدر پیٹرو کے ساتھ کام کرنے کے منتظر ہیں-

    میکسیکو کے صدر اینڈریس مینوئل لوپیز اوبراڈور نے سابق گوریلا کی جیت کو "تاریخی” قرار دیا۔ لوپیز اوبراڈور نے ٹویٹ کیا، "کولمبیا کے قدامت پسند ہمیشہ سے سخت اور سخت رہے ہیں۔

    پیٹرو کی نائب صدر فرانسیا مارکیز ہوں گی جو انسانی اور ماحولیاتی حقوق کی ایک انعام یافتہ محافظ ہوں گی – جو پہلی بار ایک سیاہ فام خاتون کے عہدے پر فائز ہوں گی۔

    اتوار کی سہ پہر پولنگ بند ہوتے ہی مارکیز نے ٹویٹ کیا، "آج تمام خواتین جیت گئیں۔” "ہمیں حالیہ دنوں میں تبدیلی کے سب سے بڑے امکان کا سامنا ہے۔”

    واضح رہے کہ کولمبیا 52 برس تک بائیں بازو کے فارک باغیوں اور دائیں بازو کی پیراملٹری کے درمیان خانہ جنگی کا شکار رہا جس کا خاتمہ 2016 میں امن معاہدے کے بعد ہوا۔ اس تنازعے میں 2لاکھ 20 ہزار افراد مارے گئے جبکہ کئی ملین بے گھر ہوئے۔

    روس کیجانب سے گیس کی بندش، یورپ میں بحران کا خدشہ

  • بولیویا کی سابق صدر کو آئین شکنی کرنے پر دس برس قید کی سزا

    بولیویا کی سابق صدر کو آئین شکنی کرنے پر دس برس قید کی سزا

    بولیویا کی سابق صدر کو آئین شکنی کرنے پر دس برس قید کی سزا سنا دی گئی۔

    باغی ٹی وی : ” الجزیرہ” کے مطابق جنوبی امریکی ملک بولیویا کی ایک عدالت نے جمعہ کے روزملک کی سابق صدر جینینے اینز چاویز کو 2019 میں بغاوت کرنے کا قصوروار ٹھہرایا دیا ہے اور انہیں 10 سال قید کی سزا سنائی۔

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی شام میں پھنسے پاکستانیوں کی وطن واپسی کے لئے اقدامات کی ہدایات

    54 سالہ انیز کو جمعہ کے روز "آئین کے خلاف فیصلے” کرنے اور "فرض سے غفلت” کا مجرم قرار دیا گیا عدالتی فیصلے میں سابق صدر کو دس برس قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

    استغاثہ نے کہا کہ انیز، جو اس وقت دائیں بازو کی سینیٹر تھیں، نے ان اصولوں کی خلاف ورزی کی جو بولیویا کے 2019 کے صدارتی انتخابات کے بعد آئینی اور جمہوری نظم کی ضمانت دیتے ہیں۔

    انیز کا کہنا ہے کہ وہ بے قصور ہے اس کے دفاع نے کہا کہ وہ بین الاقوامی اداروں سے انصاف کے حصول کی اپیل کرے گی، اور حزب اختلاف کے کئی شعبوں نے اس فیصلے کے خلاف احتجاج کے لیے مارچ کا منصوبہ بنایا ہے۔

    عدالت نے مسلح افواج کے سابق کمانڈر ولیمز کلیمن اور سابق پولیس کمانڈر ولادیمیر کالڈیرون کو بھی 10 سال قید کی سزا سنائی۔ چار دیگر سابق فوجی سربراہوں کو کم سزائیں سنائی گئیں۔

    سابق صدر انیّز کو مارچ 2021 میں دہشت گردی، بغاوت اور سازش جیسے الزامات کے تحت حراست میں لے لیا گیا تھا، تب سے وہ قید میں ہیں اور انہیں مقدمے کی سماعت کے دوران عدالتی کارروائی میں ذاتی طور پر شرکت کی بھی اجازت نہیں دی گئی اور وہ جیل سے ہی مقدمے کی پیروی کرتی رہیں۔

    بولیویا اس بات پر منقسم ہے کہ آیا بغاوت اس وقت ہوئی جب 2019 میں اس وقت کے صدر ایوو مورالس نے استعفیٰ دے دیا تھا، انیز کے صدر کے عہدے پر فائز ہونے کے بعد قیادت کے خلا میں رہ گئے تھے۔ مورالز کی رخصتی ایک متنازعہ انتخابات پر بڑے پیمانے پر مظاہروں کے بعد ہوئی جس میں انہوں نے مسلسل چوتھی بار متنازعہ عہدے پر جیتنے کا دعویٰ کیا تھا۔

    متنازعہ کیس نے ایک گہرے منقسم ملک میں فالٹ لائنز کو مزید بے نقاب کیا ہے جبکہ بولیویا میں عدالتی عمل کے بارے میں خدشات کو بھی بڑھا دیا ہے۔

    ہیومن رائٹس واچ میں امریکہ کے سینئر محقق سیزر مونوز نے فیصلے سے پہلے کہا کہ "ہمیں تشویش ہے کہ اس کیس کی پیروی کیسے کی گئی۔ اور ہم اعلیٰ عدالتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس بات کا جائزہ لیں کہ کارروائی کیسے چلائی گئی-”

    امریکہ کودیگردنیامیں مداخلت کی بجائے اپنا گھرپرتوجہ دینی چاہیے:امریکیوں کی اکثریت کاخیال

    انیز کو سماعت کے بعد اور جیل سے حصہ لینے کے بجائے ذاتی طور پر مقدمے میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔ وہ مارچ 2021 میں دہشت گردی، بغاوت اور سازش کے ابتدائی الزامات میں گرفتاری کے بعد سے حراست میں ہے۔

    مورالس کی موومنٹ فار سوشلزم (ایم اے ایس) پارٹی کے ارکان اور حامی، جو 2020 میں اقتدار میں واپس آئی، کہتے ہیں کہ انیز نے اس میں کلیدی کردار ادا کیا جو کہ بولیویا کے پہلے مقامی صدر مورالس کے خلاف بغاوت تھی، 2005 سے 2019 تک جس نے غربت میں ڈرامائی کمی کی نگرانی کی۔

    بطور صدر، انیز پر سیاسی سکور سیٹنگ کا الزام لگایا گیا جب اس کی انتظامیہ نے سابق ایم اے ایس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ چلایا۔

    انیز کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس کا مقدمہ غیر قانونی اور سیاسی تھا۔ اپنے مقدمے کی سماعت میں، انیز نے کہا کہ وہ حالات کا نتیجہ ہے اور اس کے اعلیٰ عہدے پر جانے سے ایک کشیدہ قوم کو پرسکون کرنے اور اکتوبر 2020 میں ہونے والے انتخابات کی بنیاد رکھنے میں مدد ملی۔

    انیز نے جج کے سامنے اپنے آخری بیان میں کہا کہ”میں نے صدر بننے کے لیے انگلی نہیں اٹھائی، لیکن میں نے وہی کیا جو مجھے کرنا تھا۔ میں نے آئین میں قائم کردہ ذمہ داریوں کے مطابق صدارت سنبھالی ہے‘‘۔

    جرمنی:2014 سےلیکرابتک 800 مساجد پرحملے ہوچکے:مگرعالمی برادری خاموش تماشائی