Baaghi TV

Tag: صدر

  • پبلک سیکٹر  کے آڈٹ اور اکاؤنٹس کے محکمے جدید تکنیکی آلات کو  اپنائیں،صدرعارف علوی

    پبلک سیکٹر کے آڈٹ اور اکاؤنٹس کے محکمے جدید تکنیکی آلات کو اپنائیں،صدرعارف علوی

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے پاکستان آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس سروس کے زیرِ تربیت افسران نے ملاقات کی .ملاقات میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان محمد امجد گوندل اور سینئر حکام نے شرکت کی.

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ پبلک سیکٹر کے آڈٹ اور اکاؤنٹس کے محکمے بہترین بین الاقوامی طریقوں اور جدید تکنیکی آلات کو اپنائیں ، بہتر اکاؤنٹنگ سے بہتر مالیاتی کنٹرول اور عوام کے بہترین مفاد میں عوامی فنڈز کے موثر اور شفاف استعمال میں مدد ملے گی ، نئے افسران خود کو جدید علم ، پیشہ ورانہ اور تکنیکی مہارتوں اور بہتر فنِ گفتگو سے لیس کریں .

    صدر مملکت کا کہنا تھا کہ افسران عام آدمی کی خود تک رسائی بہتر بنائیں ، سرکاری ذمہ داریوں کو عاجزی اور انصاف سے ادا کریں، ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کررہی ہے جنکہ فیصلہ سازوں اور سول سرونٹس کی فیصلہ سازی کی رفتار سست ہے ، بلاک چین، اور ورچوئل اور آگمینٹڈ ریائلٹی جیسی اہم ٹیکنالوجیز اپنانے کی ضرورت ہے، حکومتی عمل کو خودکار بنانے ، بغیر کیش لین دین کی طرف منتقل ہونے سے سرکاری اخراجات کی بہتر ٹریکنگ میں مدد ملے گی .

    انہوں نے کہا کہ تعلیم یافتہ اور ہنر مند آبادی قوم کا اثاثہ ہے اور ترقی و خوشحالی کا ذریعہ بن سکتی ہے، نوجوانوں اور خواتین کو معیاری تعلیم فراہم کرنے اور کاروباری سرگرمیوں میں شامل کرنے کی ضرورت ہے ، روایتی ، آن لائن اور ہائبرڈ طریقہ تعلیم سے نوجوانوں اور خواتین کو ہنرمند بنانا ہوگا.

  • یوم آزادی پاکستان، صدر، وزیراعظم کا قوم کے نام پیغام

    یوم آزادی پاکستان، صدر، وزیراعظم کا قوم کے نام پیغام

    صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے یوم آزادی پرقوم کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان کی آزادی کی 75ویں سالگرہ کے پر مسرت موقع پر پوری قوم کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ یہ دن ہمیں مادر وطن "پاکستان” کے حصول کیلئے قائداعظم محمد علی جناح کی متحرک قیادت میں بانیانِ پاکستان کی لاتعداد قربانیوں کی یاد دلاتا ہے۔ آج ہم نظریہ ِپاکستان کو برقرار رکھنے اور پاکستان کو ایک مثالی جدید اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔

    اس سال ہم آزادی کی ڈائمنڈ جوبلی بھی منا رہے ہیں اور اس سلسلے میں ملک بھر میں مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ ان تقریبات کا مقصد عوام بالخصوص پاکستان کے نوجوانوں میں قومی یکجہتی ، نظریہ ِپاکستان اور تحریکِ آزادی کے بارے میں شعوراجاگر کرنا ہے ۔ اس تاریخی موقع کو منانے کے حوالے سے تمام اداروں کی کاوشیں لائق ِ تحسین ہیں۔

    ڈائمنڈ جوبلی کے اس موقع پر ہمیں اپنی کامیابوں اور خامیوں کا بھی احاطہ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اپنی 75 سالہ تاریخ میں ہم نے مختلف مشکلات پر کامیابی سے قابو پایا۔ ہم نہ صرف ایک ایٹمی قوت بن کر ابھرے ، بلکہ دہشت گردی کے عفریت کو بھی شکست دی۔ حالیہ ماضی میں ہم نے کورونا وبا پر بھی کامیابی سے قابو پایا۔ اس تاریخی موقع پر ، ہم افواجِ پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوانوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے مادر وطن کے دفاع اور سلامتی کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ میں پاکستان کے محنت کشوں ، مزدوروں ، خواتین ، کاروباری برادری ، اقلیتوں اور اُن تمام لوگوں کی کوششوں کو سراہتا ہوں جنہوں نے پاکستان کی ترقی میں اپنا کردار ادا کیا۔ اگرچہ آج کے پاکستان کو معاشی اور سیاسی سطح پر مشکلات کا سامنا ہے مگر میرا قوی یقین ہے کہ یہ قوم اپنی اولوالعزمی ، پختہ ارادے، حب الوطنی ، شبانہ روز محنت ، اتحاد، تنظیم ، باہمی ہم آہنگی اور یکجہتی سے ان مشکلات سے بھی سرخرو ہوکر نکلے گے۔

    ہمیں آج یوم ِ آزادی مناتے ہوئے غیر قانونی طور پر بھارتی زیرِتسلط جموں و کشمیر کے مظلوم اور بھارتی جبر و استبداد کے شکار بہن بھائیوں کو بھی نہیں بھولنا چاہئے۔ بھارت کئی دہائیوں سے کشمیر میں انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزیوں کا مرتکب ہو رہا ہے اور بھارت کی طرف سے 5 اگست 2019 ء کو آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کر کے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی قانونی حیثیت ختم کرنے کے یکطرفہ اقدامات کو بھی تین سال مکمل ہوگئے ہیں۔ میں اپنے کشمیری بھائیوں کو یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان اقوام ِمتحدہ کی قرادادوں کے مطابق ان کے حق خودارادیت کے حصول کی جائز جدوجہد کی ہر ممکن سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔

    آخر میں ، میں قوم کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ملک کی تعمیرو ترقی کے لیے ثابت قدم رہتے ہوئے دلجمعی سے کام جاری رکھیں ۔ آج پاکستانی قوم کو درپیش معاشرتی، معاشی اور سلامتی کے مسائل سے نبرد آزما ہونے کے لیے متحد رہنے کی ضرورت ہے۔ آ ئیے ، عہد کریں کہ ہم اس وطن کے لوگوں کے وقار اور عزت نفس، اور اِس مادر وطن کی عظمت اور سربلندی کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ انشاءاللہ !

    علاوہ ازیں وزیراعظم محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ پاکستان لاکھوں قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا ، کھلے دل سے اس سچائی کا اعتراف کرنا ہو گا کہ ہم اپنی نسلوں کو وہ پاکستان نہیں دے سکے جس کا خواب قائد اور اقبال نے دیکھا تھا ۔

    ہم نے تہیہ کیا ہے کہ پاکستان کو معاشی خود انحصاری کے راستے پر لیکر جائیں گے ، معاشی آزادی کے بغیر حقیقی آزادی کا تصور ناممکن ہے اپوزیشن لیڈر کے طور پر میثاق معیشت کی پیشکش کا بطور وزیراعظم آج ایک مرتبہ پھر خلوص دل سے اعادہ کر رہا ہوں ، اس کی پیشکش کررہا ہوں ، وقت کا تقاضا ہے کہ اب ہم بحیثیت قوم درست سمت میں اپنے سفر کو جاری رکھیں اور قومی مفاد کو ذاتی عناد ، ضداور ہٹ دھرمی کی بھینٹ نہ چڑھنے دیں ، حقیقی سیاسی قیادت انتخابات پر نہیں آنے والی نسلوں کے مستقبل پر نظر رکھتی ہے

    ، ہمارا سامنا بے رحم حقائق سے ہے جن کا مقابلہ ہم قومی اتفاق رائے پر مبنی پالیسیوں کے تسلسل ، معاشی اور سیاسی استحکام سے کر سکتے ہیں ، ہمیں خود ی اور خود داری کے اسی جذبے کو زندہ کرنا ہے جس نے پاکستان بنایا تھا جو تحریک پاکستان کی اصل روح ہے، اسی جذبے سے تعمیر پاکستان ہو گی ،14اگست ایک دن ہے آئیں اس دن ہم ایک قوم بن جائیں ۔

    قوم سے خطاب میں وزیراعظم نے کہاکہ تاریخ گواہ ہے کہ لاکھوں مسلمانوں کے لہو سے لکھی گئی داستان کا عنوان پاکستان ہے ، وطن عزیز کی 75ویں سالگرہ پر میں تحریک آزادی کے ان گنت شہداء کو خراج عقیدت اور پوری دنیا میں آباد ہر پاکستانی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔ وزیراعظم نے کہاکہ آج محض ایک مبارکباد کافی نہیں یقیناً ہم ہر سال بڑی دھوم دھام اور خوشی سے یوم آزادی ، یوم پاکستان ، یوم قائداعظم اور یوم اقبال مناتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم نے گزشتہ 75سال سے ان دنوں کو صرف منایا ہے مگر ان کے اصل مقاصد کو اپنایا نہیں ہے ۔

    وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان کو ایسا نہیں بنایاجسے دیکھ کر خود ہمارا دل یہ گواہی دے کہ اس سے قائد اور لاکھوں شہداء کی روحیں مطمئن اور آسودہ ہوں گی ، اسی لئے یوم آزادی کے موقع پر میرا دل خوش بھی ہے اور بے چین بھی ہے ۔ آج ہمیں کھلے دل سے یہ اعتراف کرنا ہوگا کہ اپنے بچوں ، اپنی نئی نسل کو وہ سب نہیں دے سکے جس کے وہ حقدار ہیں ۔

    وزیراعظم نے کہاکہ وہ قوم جس پر اللہ تعالی کی ہمیشہ بے پایہ رحمت رہی جس میں قائداعظم کا عمل اور اقبال کی فکر موجود ہے پھر وہ کیوں منزل کی تلاش میں بھٹک رہی ہے ، ہم ان بحرانوں سے کیوں دوچار ہیں جن میں سب سے بڑھ کر معاشی بحران ہے ۔

    انہوں نے کہاکہ سب سے پہلے میں اس جذباتی بحران کا ذکر کرنا چاہوں گا جس کا آج ہمیں سامنا ہے ، یہ بحران خودی ، خود داری ، خود اعتمادی پر ہمارے یقین کا متزلزل ہونا ہے جس کے اثرات آج ہمارے قومی
    وجود کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہیں ۔ حالانکہ ہمارا قومی کردار جذبے ، ہمت ، محنت اور کر دکھانے سے عبارت ہے جس کا سب سے بڑا ثبوت خود پاکستان کا قیام ہے ۔

    یہی وہ جذبہ تھا جو علامہ اقبال نے سوئی ہوئی ملت میں جگایا ، جس کی بدولت قائداعظم محمد علی جناح کی عظیم الشان قیادت نے اس خواب کو تعبیر میں بدل دیا اور پاکستان معرض وجود میں آگیا ۔ انہوں نے کہاکہ تعمیر پاکستان کے اس مشن کو ہماری قومی و سیاسی قیادت نے جمہوری و آئینی جدوجہد کے ذریعے آگے بڑھایا ۔ انہوں نے کہاکہ حقائق سے نظریں نہیں چرائیں ، ہوش مندی سے سچائی کا سامنا کیا اور شدید مالی انتظامی اور ہر طرح کے مسائل کا صبر ، استقامت اور دانشمندی سے مقابلہ کیا ۔

    قوم کو متفقہ آئین دیکر ایک قومی ایجنڈے پراکٹھاکیا ، ادارے بنائے ، معیشت ، زراعت اور صنعت کو ترقی دی ، قوم کو روزگار دیا اور پاکستان کو دنیا میں قابل عزت بنایا ، یہ وہ قوم ہے جس نے وسائل نہ ہونے کے باوجود وزیراعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں پاکستان کے لئے جوہری پروگرام شروع کیا اور سابق وزیراعظم محمد نوازشریف کی قیادت میں تمام تر ترغیبات اور دبائو کے باوجود اسے مکمل کر کے قومی دفاع کو ہمیشہ کے لئے ناقابل تسخیر بنادیا

    ، اس قوم نے ہولناک زلزلوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں کا مقابلہ کیا ، ہمت نہیں ہاری ، آگے بڑھتی رہی ، اسی قوم کے بیٹوں اور بیٹیوں نے کھیلوں کے عالمی مقابلوں میں پاکستان کا پرچم سربلند کیا ، اسی مہینے میں کامن ویلتھ گیمز میں ارشد ندیم اور نوح بٹ سمیت قوم کے بیٹوں اور بیٹیوں نے کامیابیاں حاصل کر کے پاکستان کا نام دنیا میں سربلند کیا۔ وزیراعظم نے کہاکہ اسی قوم نے ملکر دہشت گردی کو شکست فاش دی ۔

    یہ ہمارے قومی عزم اور اعتماد کی چند مثالیں ہیں ، جو اس امر کا ثبوت ہے کہ ہماری قوم ہر مقصد کو حاصل کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہے لیکن آج قوم کو مایوسی کے ایک اور بحران کا سامنا ہے ، انتشار اور نفرت کے بیج بوئے جارہے ہیں ۔قوم کو تقسیم در تقسیم اور قومی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کی ناپاک کوشش کی جارہی ہے اس کے ساتھ ہی ساتھ گزشتہ حکومت کے پیدا کردہ معاشی بحران نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے ۔ آج مالی محتاجی جیسے ہماری قومی شناخت بن گئی ہے جس کا ہمارے بزرگوں نے کبھی تصور بھی نہ کیا ہو گا۔ انہوں نے کہاکہ گیارہ اپریل 2022سے اب تک بطور وزیراعظم میرا سب سے تلخ تجربہ یہی ہے ۔

    انہوں نے کہاکہ میں نے آپ کو تاریخ کے آئینے میں تصویر کے دونوں رخ دکھا دیئے ہیں ایک مایوسی کا ہے اور دوسرا امید کا ہے لیکن راستہ صرف ایک یقین محکم کا ہے اور عمل پیہم ، عزم و ہمت اور امید کا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم غور کریں تو ہر بحران میں مواقعے چھپے ہوتے ہیں، بس دیکھنے کو چشم اور کرنے کو عزم چاہئے ، اس جدوجہد کی ابتدا ہم کر چکے ہیں ہم نے اللہ کے فضل و کرم سے مختصر وقت میں ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لئے دن رات محنت کی جو اب بھی جاری ہے ، جس کی وجہ سے پاکستانی معاشی طور پر دیوالیہ ہونے سے بچ گیا، اس پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں ۔

    انہوں نے کہاکہ سابق حکومت نے 48ارب ڈالر کا پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا تجارتی خسارہ چھوڑا ہے ، اس خسارے کو کم کرنے کے لئے ہمیں دوست ممالک اور عالمی مالیاتی اداروں سے قرض لینا پڑا ہے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا یہ حقیقی آزادی ہے ، سابق حکومت نے پونے چار سال میں بیس ہزار ارب روپے کا تاریخ کا سب سے بڑا قرض لیا جس کے سود کی ادائیگی بھی محال ہو چکی ہے ۔

    انہوں نے کہا کہ 2017-18میں ہم پاکستان کو گندم میں خود کفیل چھوڑ کر گئے تھے آج گزشتہ حکومت کی مجرمانہ غفلت کے نتیجے میں ہم اربوں ڈالر کی لاگت سے گندم باہر سے منگوانے پر مجبور ہیں کیا یہ حقیقی آزادی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ حکومت نے کرپشن ، سنگین اور مجرمانہ غفلت کرتے ہوئے ایل این جی کا کوئی بھی طویل المدتی معاہدہ نہیں کیا جو اس وقت انتہائی سستے داموں مل رہی تھی ، آج لوڈشیڈنگ اور مہنگی بجلی کی بنیادی وجہ یہی ہے ۔

    وزیراعظم نے کہاکہ کیا میں یہ سوال کر سکتاہوں کہ گزشتہ حکومت نے کس کے اشارے پر سی پیک کے منصوبوں کو بند کر کے پاکستان کی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ۔وزیراعظم نے کہاکہ ہماری معاشی پالیسیوں کے نتیجے میں غیر ضروری درآمدات کو سختی سے کنٹرول کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں آج پاکستانی روپیہ دن با دن مضبوط ہو رہاہے ۔ وزیراعظم نے کہاکہ سادگی کو اپناتے ہوئے ہم خود دار قوموں کی طرح اپنے وسائل پر انحصار کریں گے۔

    اربوں ڈالر خرچ کر کے ہم باہر سے تیل اورگیس منگوا کر مہنگی بجلی پیدا کرتے ہیں اس کی جگہ ہم نے ہزاروں میگاواٹ سولر انرجی کے منصوبے لگانے کا فیصلہ کیا ہے ، اس سے ایک طرف اربوں ڈالر کی بچت ہوگی اور دوسری طرف عوام کو سستی بجلی بھی مہیا ہو گی ۔ وزیراعظم نے کہاکہ ہم نے تہیہ کیا ہے کہ پاکستان کو معاشی خود انحصاری کے راستے پر لیکر جائیں گے ، کیونکہ معاشی آزادی کے بغیر آزادی کا تصور ناممکن ہے اسی لئے میں نے اپوزیشن لیڈر کے طور پر میثاق معیشت کی پیشکش کی تھی اور بطور وزیراعظم آج ایک مرتبہ پھر خلوص دل سے اس کا اعادہ کر رہا ہوں ، اس کی پیشکش کررہا ہوں ۔

    وزیراعظم نے کہاکہ وقت کا تقاضا ہے کہ اب ہم بحیثیت قوم درست سمت میں اپنے سفر کو جاری رکھیں اور قومی مفاد کو ذاتی عنا ، زد اور ہٹ دھرمی کی بھینٹ نہ چڑھنے دیں ۔ وزیراعظم نے کہاکہ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ حقیقی سیاسی قیادت انتخابات پر نہیں آنے والی نسلوں کے مستقبل پر نظر رکھتی ہے ۔

    وزیراعظم نے کہاکہ ہمارا سامنا بے رحم حقائق سے ہے جن کا مقابلہ ہم قومی اتفاق رائے پالیسیوں کے تسلسل ، معاشی اور سیاسی استحکام سے کر سکتے ہیں ، سب سے بڑھ کر ہمیں خود ی اور خود داری کے اسی جذبے کو زندہ کرنا ہے جس نے پاکستان بنایا تھا جو تحریک پاکستان کی اصل روح ہے اسی جذبے سے تعمیر پاکستان ہو گی ۔ وزیراعظم نے کہاکہ 14اگست ایک دن ہے آئیں اس دن ہم ایک قوم بن جائیں ۔\

  • شہادت امام حسین ؓ اُمت مسلمہ کے لیے ایک عظیم درس ہے،صدر اور وزیراعظم کا پیغام

    شہادت امام حسین ؓ اُمت مسلمہ کے لیے ایک عظیم درس ہے،صدر اور وزیراعظم کا پیغام

    وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان محمد شہباز شریف اور صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے یوم عاشورہ 1444/2022ہجری کے موقع پر قوم کے نام پیغام دیا ہے .وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ میں کہا ہے کہ یومِ عاشور حق و باطل کے اس لازوال معرکے کی یاد دلاتا ہے جب سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی قیادت میں جذبۂ ایمانی سے سرشار جماعت نے باطل کی اطاعت سے انکار کیا، اور حق کی سربلندی کے لیے اپنے سے بظاہر طاقتور گروہ کے سامنے سینہ سپر ہو گئی، اور یوں اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرتے ہوئے تا قیامت عزم و ہمت اور بہادری کا استعارہ بن گئی۔

    نو اور دس محرم کے دن اہل بیت اور دیگر جانثار ساتھیوں کے ہمراہ، حضرت امام حسین ؓ نے بے سرو سامانی کے عالم میں ظلم و استبداد پر کاربند قوتوں کو للکارا اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے دین اسلام کوجلاء بخشی۔ آج اسلام انہی قربانیوں کی بنا پر زندہ ہے اوریہی قربانیاں اہل ایمان کو ابتلاء و آزمائش کی گھڑی میں عزم و ہمت کا حوصلہ دیتی ہیں۔

    شہادت امام حسین ؓ اُمت مسلمہ کے لیے ایک عظیم درس ہے۔ ہم سب کو چاہئیے کہ ان کے فلسفہ شہادت کو اپنے لیے مشعل راہ بنائیں، اور حق کی سربلندی کے لیے ہر قسم کی آزمائش کا جوانمردی اور اسقامت کے ساتھ مقابلہ کریں۔

    اس وقت ہمارا ملک جس نازک صورتحال سے دوچار ہے، ہمارے لیے اس جذبۂ جوان مردی اور حق گوئی کی اہمیت دو چند ہو جاتی ہے۔ اس لیے وطن عزیز کو ان مشکلات سے نکالنے کے لیے ہمیں صبر، ہمت اور یکسوئی کا مظاہرہ کرنا ہے۔

    اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اسوہ امام حسین پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ پاکستان اور پاکستانی قوم کو خوشحالی اور ترقی عطا فرمائے۔ آمین!
    پاکستان پائندہ باد.

    علاوہ ازیں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اپنے پیغام میں کہا کہ اسلامی تاریخ میں محرم الحرام نہایت عزت و احترام اور فضیلت والا مہینہ ہے،اس مہینے میں جہاں اسلامی تاریخ کے اہم ترین واقعات رونما ہوئے وہیں یوم ِ عاشورہ یعنی 10 محرم الحرام کا دن بھی امت مسلمہ کے نزدیک خصوصی اہمیت و فضیلت کا حامل ہے، آج کے دن حضرت امام حسین ؓ نے ایک ظالم حکمران کی بیعت کرنے سے انکار کرتے ہوئے دین کی سربلندی اور حق و صداقت کی خاطر اہلِ بیت اور دیگر جانثار ساتھیوں کے ہمراہ جامِ شہادت نوش فرمایا.

    صدر مملکت نے کہا کہ نواسۂ رسول ؐ نے کربلا کے تپتے ہوئے میدان میں حق کی خاطر اپنا سر تو کٹوا دیا مگر اسے باطل قوتوں کے سامنے جھکنے نہ دیا، آج کے دن حضرت امام حسین ؓ  ، اہلِ بیت اور ان کے وفا شعار ساتھیوں نے شجاعت ، بہادری اور قربانی کی عظیم الشّان مثال قائم کی اور اپنے خون سے اسلام کو ایک نئی زندگی عطا کی، اس اندوہناک واقعہ اور اہلِ بیت پر بے انتہا ظلم پر ہر مسلمان کی آنکھ اشک بار ہے.

    صدر مملکت کا کہنا تھا کہ خانوادۂ ِ حضرت امام حسین ؓ  کی عظیم قربانی ہمارے لیے مشعل راہ ہے اور اس میں ہمارے لیے پیغام ہے کہ ظلم و جبرپر مبنی باطل نظام کے خلاف حق اور سچائی کا علم بلند کرنا چاہیے، امّتِ مسلمہ کو حق و صداقت اور دین کی بقا اور فروغ کیلئے ڈٹ جانا چاہیے، خلقِ خدا کو ظلم و ستم کا نشانہ بنانے والی اور احکامات ِ الٰہی کی نافرمانی کرنے والی قوتوں کے خلاف صدائےاحتجاج بلندکرنی چاہیے، انفرادی اور اجتماعی سطح پر حق کی سربلندی اور نصرت کے لیےصبر، استقامت اور جرات کے ساتھ جدوجہد کے لیے ہمہ وقت تیار رہنا چاہیے.

    صدر عارف علوی نے کہا کہ جب ہم اللہ کے دین ، سنت نبوی ؐ اور اسوہ امام حسین ؓ  پر عمل پیرا ہوں گے تو یقینا ً اللہ تعالیٰ کی مدد ونصرت بھی ہمیں حاصل ہو گی اور ہم دنیا اور آخرت میں بھی کامیابی حاصل کریں گے، آئیں ، ہم آج کے دن عہد کریں کہ ہم اسوۂ ِ امام حسین ؓ  پر عمل پیرا ہونے کی بھرپور کوشش کریں گے اور جذبۂ ِ ایثار و قربانی سے سرشار ہوکر اپنے ہم وطنوں ، بالخصوص جنہیں سیلابی صورتحال کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے، کی خدمت کریں گے، میری دعا ہے کہ اللہ تعالی ٰ ہمارے ملک کو ترقی و خوشحالی کا گہوارہ بنائے اور ہمیں تمام بلاؤں سے محفوظ رکھے ۔ آمین !

  • صدرعارف علوی نے شہری سے ناانصافی پر ایف بی آر سے وضاحت طلب کرلی

    صدرعارف علوی نے شہری سے ناانصافی پر ایف بی آر سے وضاحت طلب کرلی

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے شہری سے ناانصافی اور بدانتظامی پر ایف بی آر سے وضاحت طلب کرلی،صدر مملکت نے وضاحت وفاقی ٹیکس محتسب کے فیصلے کے خلاف غیر ضروری طور پر اور بغیر کسی مضبوط قانونی جواز کے مالی طور پر معمولی کیس کو طول دینے اور ملک کے اعلیٰ ترین دفتر کا وقت ضائع کرنے پر طلب کی

    غلامی نامنظور اور سازش اپنی جگہ،عطیہ کیسے ٹھکراوں،یہ ہے عمران خان

    صدر مملکت کا کہنا تھا کہ چھوٹے اور مالی طور پر معمولی ٹیکس دہندگان کا معقول اور قانونی وجوہات کے بغیر تعاقب سے ایف بی آر کے تاثر پر منفی اثر پڑتا ہے اور عوامی ناراضگی بھی پیدا ہوتی ہے.

    ایبٹ آباد کے ایک دکان مالک کو ایف بی آر نے "درجہ 1 ریٹیلر” کے طور پر رجسٹر کیا تھا حالانکہ دکان مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اترتی تھی. شہری نے اس ناانصافی پر وفاقی ٹیکس محتسب سے رجوع کیا جس نے شہری کے حق میں احکامات جاری کیےایف بی آر نے اس فیصلے کی تعمیل کی بجائے فیصلے کے خلاف صدر مملکت کے پاس اپیل دائر کی

    صدر مملکت کی ایف بی آر کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے دکان کی غیر منصفانہ رجسٹریشن ختم کرنے کی ہدایت کی.

     

    شیریں مزاری کاامریکی حکام کےپاکستان کےحساس علاقوں کےدورے پرشکوہ،سوشل میڈیاصارفین کی تنقید

     

    صدر مملکت نے کہا کہ ایف بی آر 45 دن کے اندر تعمیل کی رپورٹ جمع کرائے، بتائے کہ ناجائز طور پر ایک کپڑے کی دکان کو "درجہ-1 ریٹیلر” کے طور پر کیوں رجسٹر کیا گیا.

    صدر عارف علوی نے کہا کہ دکان صرف 594 مربع فٹ پر مشتمل تھی، سیلز ٹیکس رولز کے تحت لازمی رجسٹریشن قانون، قواعد کے خلاف، غیر منصفانہ اور غیر متعلقہ بنیادوں پر مبنی اور بدانتظامی کے مترادف ہے، ٹیکس محتسب کا حکم ٹھوس بنیادوں پر تھا، اصل حکم میں مداخلت کا کوئی معقول جواز نہیں، صدر مملکت نےاپیل مسترد کر دی اور حکم دیا کہ ایف بی آر حکم پر عمل درآمد کے 45 دن کے اندر رپورٹ بھیجے.

    صدر مملکت کا کہنا تھا کہ ایف بی آر وجوہات بتائے کہ انصاف میں تاخیر کیوں ہوئی اور ملک کے اعلیٰ ترین فورم کی کوشش اور وقت کیوں ضائع کیا گیا.

  • امریکی عوام  جوبائیڈن کواگلےصدرکےطورپرنہیں دیکھنا چاہتے:سروے رپورٹ

    امریکی عوام جوبائیڈن کواگلےصدرکےطورپرنہیں دیکھنا چاہتے:سروے رپورٹ

    نیویارک:امریکی عوام صدر جوبائیڈن کواگلے صدر کے طورپرنہیں دیکھنا چاہتے:سروے رپورٹ میں انکشاف ،اطلاعات کے مطابق امریکی عوام نے 2024 کےلیے جوبائیڈن کی بجائے اپنے اگلے صدر کے طور پر جوبائیڈن کی بجائے کسی اور پرامیدیں لگا لی ہیں، جمعرات کو جاری ہونے والے تازہ ترین نیوز نیشن/ڈیسیژن ڈیسک ہیڈکوارٹر پول کے مطابق ووٹرز نہیں چاہتے کہ صدر جو بائیڈن دوبارہ الیکشن لڑیں، لیکن وہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ٹکٹ پر بھی نہیں دیکھنا چاہتے۔

    سروے میں شامل تمام ووٹروں میں سے 60 فیصد سے زیادہ نے کہا کہ بائیڈن کو صدر کے لیے انتخاب نہیں لڑنا چاہیے۔ دی ہل نے رپورٹ کیا کہ ڈیموکریٹس میں سے 30 فیصد نے کہا کہ انہیں 2024 سے باہر بیٹھنا چاہیے۔اسی طرح کل ووٹروں میں سے تقریباً 57 فیصد نے کہا کہ ٹرمپ کو صدر کے لیے انتخاب نہیں لڑنا چاہیے۔ چھبیس فیصد رائے دہندگان ریپبلکن کسی اور کو بطور امیدوار چاہتے ہیں۔

    ہل وائٹ ہاؤس کے کالم نگار نیل سٹینج نے کہا کہ یہ 2020 کے متنازعہ صدارتی انتخابات کی یادیں ہو سکتی ہیں جنہوں نے ووٹرز کو موجودہ اور سابق صدر دونوں سے دور کر دیا۔

    کالم نگار کا کہنا ہے کہ "اس کا ایک حصہ، ایمانداری سے، مجھے لگتا ہے کہ اس انتخاب کی تلخی اور دشمنی کا تعلق ہے،” سٹینج نے مزید کہا، "مجھے شک ہے کہ وہاں بہت سارے ووٹرز ہیں، خاص طور پر درمیانی میدان میں یا زیادہ اعتدال پسند ووٹرز۔ ہر پارٹی، جو صرف یہ نہیں چاہتی کہ اس سارے عمل پر دوبارہ مقدمہ چلایا جائے کیونکہ یہ اتنا منقسم الیکشن تھا۔

    ڈیموکریٹک اور ریپبلکن امیدواروں میں اگلے سب سے زیادہ مقبول نائب صدر ہیرس تھے، بالترتیب 16 فیصد، اور فلوریڈا کے گورنر رون ڈی سینٹیس، بالترتیب 23 فیصد تک رہی ہے

    ڈیسک ہیڈکوارٹر کے سینئر ڈیٹا سائنسدان کیل ولیمز نے کہا، تاہم یہ بتانا بہت جلد ہے کہ انتخابات کیسے ہو سکتے ہیں۔ ولیمز نے کہا کہ یہ بھی ممکن ہے کہ وسط مدتی انتخابات سے چار ماہ بعد، بہت سے ممکنہ امیدوار ابھی تک گھریلو نام نہیں بن پائے ہیں۔ولیمز نے کہا ، "میرے خیال میں اس میں سے زیادہ تر رائے دہندگان میں صرف نام کی شناخت کی کمی ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکی عوام اب جوبائیڈن کو صدر کے طورپرنہیں دیکھنا چاہتے

  • سری لنکا:سیاسی بحران جاری، نئے صدر سے بھی مستعفی ہونے کا مطالبہ

    سری لنکا:سیاسی بحران جاری، نئے صدر سے بھی مستعفی ہونے کا مطالبہ

    سری لنکا کے سابق صدر راجاپکسے کے مستعفی ہونے اور نئے صدر کے حلف اٹھانے کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ اس ملک کا سیاسی بحران ختم ہو جائیگا لیکن اب یوں دکھائی دے رہا ہے کہ بحران کا سلسلہ ابھی اور آگے بڑھے گا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سری لنکا میں حکومت مخالف احتجاجی مظاہرین نے نومنتخب صدر رانیل وکرماسنگھے سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔مظاہرین کی جانب سے صدر وکرما سنگھے پر معزول صدر کے ساتھیوں کو تحفظ دینے کا الزام لگایا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز دارالحکومت کولمبو میں سکیورٹی فورسز نے ایوانِ صدر کے باہر موجود حکومت مخالف مظاہرین کے کیمپ اکھاڑ پھینکے تھے اور ایک طرح سے مظاہرین کی سرکوبی کا عمل شروع کر دیا تھا جبکہ پولیس ترجمان نے 9 افراد کی گرفتاری کی بھی تصدیق کردی ہے۔

    واضح رہے کہ پچھلے کئی ماہ سے مظاہرین نے قصرِ صدارت کے باہر پڑاؤ ڈالا ہوا تھا، ان کا مطالبہ تھا کہ سابق صدر راجاپکسے مستعفی ہوں۔ تاہم راجاپکسے کے مستعفی ہونے کے بعد اب مظاہرین نے نومنتخب صدر سے بھی مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

  • رانیل وکرما سنگھے سری لنکا کے نئے صدر منتخب

    رانیل وکرما سنگھے سری لنکا کے نئے صدر منتخب

    کولمبو: سری لنکن پارلیمنٹ میں صدرکےانتخاب کاعمل مکمل ،6 باروزیراعظم رہنےوالےرانیل وکرما سنگھے کو صدرمنتخب کر لیا گیا-

    باغی ٹی وی: غیرملکی میڈیا کے مطابق 6 باروزیراعظم رہنےوالےرانیل وکرما سنگھے کو صدرمنتخب کر لیا گیا نئےسری لنکن صدرکا انتخاب خفیہ بیلٹ کےتحت ہوا نیا صدر 2024 میں نئے انتخابات سے قبل بقیہ دو سال پورا کرے گا۔

    سری لنکا کے قائم مقام صدر نے ملک میں ایک بار پھر ایمرجنسی نافذ کردی

    صدارتی انتخاب کے لئے پارلیمنٹ کے اطراف سیکورٹی انتہائی سخت کردی گئی تھی اورہزاروں سیکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کردیا گیا تھا جبکہ سینکڑوں مظاہرین پارلیمنٹ کے باہر جمع تھے وزیراعظم وکرما سنگھے بطور عبوری صدر بھی فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

    نجومی خاتون بابا وانگا کی 2022 میں کی گئی پیشگوئیوں میں 2 پوری ہو گئیں

    رانیل وکرما سنگھے نے گزشتہ دنوں صدر گوٹابایا راجا پاکسے کے ملک سے فرار ہونے کے بعد قائم مقام صدر کا عہدہ سنبھالا تھا گوٹابایا راجا پاکسے بدترین معاشی بحران کے نتیجے میں عوامی احتجاج اورمظاہروں کے باعث سابق صدر ملک چھوڑ کر فرار ہوئے تھے۔

    سری لنکا گذشتہ کئی مہینوں سے شدید اقتصادی اور سیاسی بحران کا شکار ہے ملک میں خوراک، ایند ھن اور ادویات سمیت دیگر ضروری اشیا کی شدید قلت ہے۔

    بھارت کا اگلا صدر کون ہو گا؟ ووٹنگ جاری

  • بھارت کا اگلا صدر کون ہو گا؟ ووٹنگ جاری

    بھارت کا اگلا صدر کون ہو گا؟ ووٹنگ جاری

    بھارت کے 15واں صدر کا انتخاب کرنے کے لیے پارلیمینٹ ہاوس اور مختلف ریاستوں کی قانون ساز اسمبلیوں میں ووٹنگ کا عمل شروع ہوگیا ہے۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی اور امیت شاہ نے پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس میں اور یوگی آدتیہ ناتھ نے لکھنؤ اسمبلی میں ووٹ ڈالا۔ دوسری جانب بہار کےسیتامڑھی سے ایم ایل اے متھیلیش کمار اپنا ووٹ ڈالنے اسٹریچرپرپہنچےجبکہ بھارت کے سابق وزیراعظم من موہن سنگھ نے بھی اپنا ووٹ کاسٹ کردیا ہے-

    ووٹوں کی گنتی اور اعلان 21 جولائی کو ہوگا، جبکہ نومنتخب صدر 25 جولائی کو حلف لیں گے صدارتی انتخاب میں تقریباً 4 ہزار سے زائد کونسل ممبران اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ آج ملک میں صدارتی انتخاب کے لیے ووٹنگ جاری ہے۔ ایوان کے اس اجلاس میں ہم نئے صدر اور نائب صدر کی رہنمائی حاصل کریں گے۔

    بی جے پی کی زیرقیادت این ڈی اے کی صدر جمہوریہ امید وار دروپدی مرمو اور اپوزیشن کے یشونت سنہا کے درمیان مقابلہ ہے، دروپدی مرمو کو 50 فیصد سے زیادہ ووٹوں کی ضرورت ہے، رام ناتھ کوند کی بطور صدر 24 جولائی کو مدت پوری ہورہی ہے۔

    بی جے پی نے 21 جون کو دوروپی مرمو کو اپنا امیدوار نامزد کیا تھا، تب این ڈی اے کے کھاتے میں 5,63,825 یا 52 فیصد ووٹ تھے۔ سنہا کے 24 اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ ہونے کی وجہ سے 4,80,748 یعنی 44 فیصد ووٹوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ 27 دنوں میں، مرمو کو فیصلہ کن برتری حاصل ہوئی کیونکہ کئی غیر این ڈی اے پارٹیاں حمایت میں آئیں۔ اگر تمام 10,86,431 ووٹ ڈالے جائیں تو مرمو کو 6.67 لاکھ (61 فیصد) سے زیادہ ووٹ ملیں گے۔ سنہا کے ووٹ کم ہو کر 4.19 لاکھ رہ گئے۔ جیت کے لیے 5,40,065 ووٹ درکار ہیں۔

  • سری لنکا سیاسی بحران میں کمی آنےلگی:صدرگوٹابایا راجا پکسےبالآخر مستعفی ہوگئے

    سری لنکا سیاسی بحران میں کمی آنےلگی:صدرگوٹابایا راجا پکسےبالآخر مستعفی ہوگئے

    کولمبو:بدترین معاشی بحران کا شکار سری لنکا کے صدر گوٹابایا راجا پکسے بالآخر مستعفی ہوگئے۔ اس موقع پردارالحکومت میں جشن کا سماں ہے۔جس کے بعد گُمان کیا جارہا ہے کہ ممکن ہے کہ سیاسی بحران میں کمی آجائے جس کے بعد معاشی بحران میں بھی کمی آسکتی ہے

    سری لنکا کے صدر گوٹابایا راجا پکسے کے مستعفی ہونے کا سن کر دارالحکومت کولمبو میں لوگوں نے جشن مناتے ہوئے پٹاخے برسائے۔

    غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق سری لنکا کے صدر گوٹابایا راجا پکسے منگل کو ملک سے فرار ہونے کے بعد سنگاپور میں موجود ہیں، جہاں وہ مملکت کے عہدے سے باضابطہ طور پر مستعفی ہو گئے ہیں۔

    صدر پکسے کے مستعفی ہونے کی خبر سن کر دارالحکومت کولمبو میں جشن کا سماں ہے۔ مقامی لوگوں نے جشن مناتے ہوئے پٹاخے بھی پھوڑے۔اس موقع پر پارلیمنٹ کے سپیکر نے بھی تصدیق کی کہ انہیں راجا پکسے کے استعفیٰ کا خط موصول ہوچکا ہے۔

    یاد رہے، صدر کا استعفیٰ ایک ایسے دن آیا ہے جب مظاہرین نے اعلان کیا تھا کہ وہ صدارتی محل، صدارتی سیکرٹریٹ اور وزیر اعظم کے دفتر سمیت سرکاری عمارتوں پر سے اپنا قبضہ ختم کر دیں گے۔

    دوسری جانب، سنگاپور کی حکومت کا کہنا ہےکہ کہ سری لنکا کے سابق صدر “نجی دورے” پر وہاں موجود ہیں اور انہوں نے سیاسی پناہ کی درخواست نہیں دی ہے۔

    وزیر اعظم رانیل وکرما سنگھے نے سیکورٹی فورسز کو امن بحال کرنے کے لیے کہا ہے اور ہنگامی حالت کا اعلان کیا ہے۔مظاہرین کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ہم پرامن طور پر صدارتی محل، صدارتی سیکرٹریٹ اور وزیر اعظم کے دفتر سے فوری طور پر دستبردار ہو رہے ہیں تاہم، اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

     

     

    معاشی بحران کے شکار سری لنکا میں حکومت مخالف مظاہرین نے کہا ہے کہ وہ سرکاری عمارات سے اپنا قبضہ ختم کر رہے ہیں۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق رواں ہفتے سیکڑوں مظاہرین نے سری لنکا کے صدر گوٹابایا راجاپکسے کے محل پر قبضہ کرکے انہیں بدھ کو مالدیپ فرار ہونے پر مجبور کردیا تھا جبکہ مظاہرین کا بہت بڑا ہجوم وزیر اعظم رانیل وکرماسنگھے کے دفتر بھی جمع ہوگیا۔

    وزیر اعظم رانیل وکرماسنگھے نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ مظاہرین سرکاری عمارات کو خالی کریں۔ انہوں نے سیکیورٹی فورسز کو ہدایات جاری کیں کہ امن و امان کی بحالی کے لیے جو بھی ضروری اقدامات کیے جاسکتے ہیں وہ کریں۔

  • سری لنکن صدرفرارہوگئے

    سری لنکن صدرفرارہوگئے

    کولمبو: سری لنکا کے صدر گوٹابایا راجا پاکسے اپنے گھر سے فرار ہو گئے ہیں کیونکہ مظاہرین نے ہفتے کے روز ان کی رہائش گاہ کا گھیراؤ کیا اور دھاوا بول دیا تھا ۔ ذرائع کے مطابق مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں دو پولیس اہلکاروں سمیت کم از کم سات افراد زخمی ہو گئے۔

    دارالحکومت کولمبو میں صدر کی سرکاری رہائش گاہ پر دھاوا بولنے کے لیے ہزاروں مظاہرین نے پولیس کے ساتھ جھڑپیں کی اور رکاوٹیں توڑ دیں۔ وزارت دفاع کے ذرائع نے بتایا کہ صدر گوتابایا راجا پاکسے کو ہفتے کے آخر میں طے شدہ ریلی سے قبل ان کی حفاظت کے پیش نظرکسی دوسری جگہ منتقل کردیا گیا ہے

    یاد رہے کہ یہ موجودہ صورت حال پچھلے کئی دن سے خراب تھی اور یہ اقدام ملک میں معاشی چیلنجز کے دوران بڑھتی سیاسی کشیدگی سے امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول رکھنے کی خاطرملک میں کرفیونافذ کیا گیا ہے۔

    ادھر اس سے پہلے کولمبو میں صدر گوتابایا راجا پکسے کی برطرفی کے لیے بڑے عوامی مظاہروں کا اعلان کیا گیا تھا جس کے بعد سیکورٹی صورتحال کے پیشِ نظر فوج کو الرٹ رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔

    پولیس نے کرفیو کے دوران شہریوں کو گھروں تک محدود رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے باہر نہ نکلنے کی تاکید کی ہے۔اس سے پہلے پولیس کے سربراہ چندنا وکرمارتنے کا کہنا ہے کہ جمعہ کی رات 9 بجے سے دارالحکومت میں کرفیو کا نفاذ ہو گیا ہے جو غیر معینہ مدت تک برقرار رہے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ نئے حکم نامے تک کرفیو کے حالات میں لوگ گھروں سے باہر ہرگز نہ نکلیں۔ کرفیو کولمبو شہر کے ساتھ ساتھ مضافاتی علاقوں میں بھی نافذ رہے گا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ہفتہ کو صدر کے خلاف بڑی ریلی شیڈول ہے جس میں شرکت کے لیے ہزاروں لوگ کولمبو پہنچے ہوئے ہیں اورمظآہرین کی طرف سے سخت دباو کے بعد سری لنکن صدرکوفرارکرادیا گیا ہے