Baaghi TV

Tag: صدف نعیم

  • عمران خان کے لانگ مارچ میں حادثے میں مرنیوالی خاتون صحافی کی پہلی برسی

    عمران خان کے لانگ مارچ میں حادثے میں مرنیوالی خاتون صحافی کی پہلی برسی

    صدف نعیم
    تاریخِ وفات:30 اکتوبر 2022ء

    صدف نعیم خاتون صحافی 1987ء کو پیدا ہوئیں، لاہور پریس کلب کی کونسل ممبر میں بطور رپورٹر طویل عرصہ سے روزنامہ خبریں اور 2009ء سے چینل 5 کے ساتھ وابستہ تھیں اور جرنلسٹ گروپ کی جانب سے ممبر گورننگ باڈی کیلئے الیکشن بھی لڑ چکی تھیں۔ 24 میں سے 16 گھنٹے ڈیوٹی کرتی تھیں، اپنے چینل کے لیے وہ عموماً سیاسی جماعتوں اور سیاسی معاملات کی کوریج کرتی تھیں اور پنجاب اسمبلی کی کارروائی بھی باقاعدگی سے کور کرتی تھیں۔

    30 اکتوبر 2022ء کو لانگ مارچ (حقیقی آزادی مارچ) میں سادھوکی، (تحصیل کامونکی ضلع گوجرانوالہ) میں صدف نعیم نے عمران خان کے سست رفتار کنٹینر پر چڑھنے کی کوشش کی جس سے گرنے کے بعد اسی کنٹینر کے نیچے آکر موقع پر جاں بحق ہو گئیں۔ اس سے دو روز قبل صدف نعیم نے عمران خان کا انٹرویو بھی کیا تھا۔ ان کی عمر 35 سال تھی۔ اولاد میں ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے۔ نماز جنازہ اچھرہ میں ہوئی۔ شوہر محمد نعیم بھٹی نے کسی بھی قسم کی قانونی کاروائی سے انکار کر دیا۔ وفاقی حکومت نے 50 لاکھ روپے اور پنجاب حکومت نے 25 لاکھ لواحقین کو امداد دینے کا اعلان کیا۔

    ٹی وی دیکھا تو بیٹی صدف کی تصویر دیکھ کر کلیجہ پھٹ گیا۔ صدف کی ماں کی گفتگو

     صدف نعیم کے شوہر سے پی ٹی آئی رہنماؤں نے زبردستی دستخط کروائے ہیں،

    عمران خان کی تعزیت کیلئے صحافی صدف نعیم کے گھر آمد 

    کامونکی،لانگ مارچ کی کوریج کرنیوالے صحافیوں پر پولیس کا تشدد

    پی ٹی آئی نے جلسے کی اجازت کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا

    وزیراعلیٰ پنجاب کی صحافی صدف نعیم مرحومہ کی بیٹی ،بیٹے سے ملاقات، دیا چیک

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی تعزیت کیلئے صحافی صدف نعیم کے گھر آمد ہوئی تھی،عمران خان پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ صدف نعیم کے گھر پہنچے اور لواحقین سے اظہار تعزیت کیا، عمران خان کے ہمراہ اسد عمر ،میاں اسلم و دیگر بھی موجود تھے،عمران خان نے لانگ مارچ میں شہید ہونے والی خاتون صحافی کے لئے دعائے مغفرت کی اور لواحقین کے لئے صبر جمیل کی دعا کی. صدف نعیم کی والدہ عمران خان کو دیکھ کر زاروقطار روتی رہیں ، شفقت محمود بھی عمران خان کے ہمراہ تھے،

    صدف نعیم لانگ مارچ کے دوران کینیٹر کے نیچے آ کر شہید ہو گئی تھیں، صدف نعیم کی نماز جنازہ گزشتہ شب اچھرہ میں ادا کی گئی بعد ازاں مقامی قبرستان میں تدفین کی گئی، صدف نعیم کے شوہر نے کوئی بھی کاروائی کرنے سے انکار کر دیا تھا تا ہم یہ بھی اطلاعات ہیں کہ صدف نعیم کے شوہر سے پی ٹی آئی رہنماؤں نے زبردستی دستخط کروائے ہیں،

  • جواد احمد نے  صحافی صدف نعیم کی شہادت کے بعد ان کے گھر نہ جانے پر صحافی بردار سے معذرت کر لی

    جواد احمد نے صحافی صدف نعیم کی شہادت کے بعد ان کے گھر نہ جانے پر صحافی بردار سے معذرت کر لی

    برابری پارٹی کے چئیر مین جواد احمد نے صحافی برادری سے معذرت کر لی ہے انہوں نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ لاہور کی صحافی صدف نعیم کی شہادت کا مجھے بہت افسوس ہے اور اس سے بھی زیادہ افسوس ہے کہ میں ان کے گھر تعزیت کرنے نہیں جا سکا جو کہ میری غلطی ہے میں اسے تسلیم کرتے ہوئے پوری صحافی برادری سے معذرت کرتا ہوں. جواد احمد نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ مجھ سمیت شوبز شخصیات اور خصوصی طور پر پی ٹی آئی کے سیاستدانوں کو ان کے گھر ضرور جانا چاہیے تھے. ہم قدر کرتے ہیں صحافیوں کی لیکن ہمارے ہاں بد قسمتی سے یہ دیکھا جاتا ہے کہ کون کتنا بڑا صحافی ہے اس حساب سے ٹریٹ کیا جاتاہے. اگر کوئی بڑا صحافی انتقال کر جائے تو اس کے گھر تو سب جاتے ہیں

    لیکن وعام صحافی کے گھر کوئی نہیں جاتا جو کہ بہت ہی غلط ہے اور صدف نعیم کے معاملے میں جو مثال سیٹ ہوئی ہے وہ نہایت ہی افسوسناک ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا . انہوں نے تمام زندگی صحافت کی خدمت کی لہذا ان کے گھر والوں کے دکھ درد میں کھڑے ہونا ہم سب کی ذمہ داری تھی اور ہے. یاد رہے کہ چینل فائیو کی رپورٹر صدف نعیم لانگ مارچ کی کوریج کرتے ہوئے چند روز قبل شہید ہو گئیں تھیں.

  • صدف نعیم واقعہ، پنجاب حکومت کا فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنانے کا فیصلہ

    صدف نعیم واقعہ، پنجاب حکومت کا فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنانے کا فیصلہ

    صدف نعیم واقعہ: پنجاب حکومت کا فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنانے کا فیصلہ
    پنجاب حکومت نے ٹی وی چینل کی خاتون رپورٹر صدف نعیم کے واقعے کی وجوہات جاننے کے لئے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمیٹی میں متعلقہ محکموں کے افسر شامل ہونگے اور وہ اپنی رپورٹ جلد پیش کرے گی۔ اس بات کا فیصلہ کابینہ کی قائمہ کمیٹی برائے لا اینڈ آرڈر (ایس سی سی ایل او) کے سول سیکرٹریٹ میں ہونے والے اجلاس میں کیا گیا۔ صوبائی وزیر پارلیمانی امور، تحفظ ماحول و کوآپریٹوز محمد بشارت راجہ نے راولپنڈی سے بذریعہ ویڈیو لنک صدارت کی۔ چیف سیکرٹری پنجاب عبداللہ خان سنبل، آئی جی پولیس فیصل شاہکار اور متعلقہ افسران بھی شریک ہوئے۔

    کابینہ کمیٹی نے چینل فائیو کی رپورٹر صدف نعیم کی شہادت کے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا اور شرکا نے مرحومہ کے لئے فاتحہ خوانی بھی کی۔ چیئرمین کمیٹی محمد بشارت راجہ نے ہدایت کی کہ آئندہ ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین عمران خان مرحومہ صدف نعیم کے گھر خود گئے اور اہلخانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔ پنجاب حکومت کی طرف سے پہلے ہی امدادی پیکیج کا اعلان کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا نے اس واقعے پر مثبت کردار ادا کیا جو قابل تعریف ہے۔ اس موقع پر چیف سیکرٹری عبداللہ خان سنبل نے کہا کہ انہیں صدف نعیم کے واقعے پر دلی افسوس ہوا۔ حکومت پنجاب سوگوار فیملی کے ساتھ رابطے میں ہے۔ کمیٹی کا نوٹیفکیشن جلد کر دیا جائے گا۔ کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں لانگ مارچ کی سکیورٹی کا تفصیلی جائزہ بھی لیا گیا۔

    ٹی وی دیکھا تو بیٹی صدف کی تصویر دیکھ کر کلیجہ پھٹ گیا۔ صدف کی ماں کی گفتگو

     صدف نعیم کے شوہر سے پی ٹی آئی رہنماؤں نے زبردستی دستخط کروائے ہیں،

    عمران خان کی تعزیت کیلئے صحافی صدف نعیم کے گھر آمد 

    کامونکی،لانگ مارچ کی کوریج کرنیوالے صحافیوں پر پولیس کا تشدد

    پی ٹی آئی نے جلسے کی اجازت کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا

    وزیراعلیٰ پنجاب کی صحافی صدف نعیم مرحومہ کی بیٹی ،بیٹے سے ملاقات، دیا چیک

  • وزیراعلیٰ پنجاب کی  صحافی صدف نعیم کی بیٹی ،بیٹے سے ملاقات، دیا چیک

    وزیراعلیٰ پنجاب کی صحافی صدف نعیم کی بیٹی ،بیٹے سے ملاقات، دیا چیک

    وزیراعلیٰ پنجاب کی صحافی صدف نعیم مرحومہ کی بیٹی ،بیٹے سے ملاقات، دیا چیک

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے چینل فائیو کی سینئر صحافی صدف نعیم مرحومہ کی بیٹی نمرہ نعیم،بیٹے اذان نعیم، چچانوید بھٹی اورقریبی سہیلی مروہ انصرسے ملاقات کی۔وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے صدف نعیم مرحومہ کے اہل خانہ کے ساتھ افسوسناک واقعہ پر دلی ہمدردی اور تعزیت کااظہار کیا۔وزیراعلیٰ نے مرحومہ کے بیٹے اوربیٹی کو دلاسہ دیا اور انکے ساتھ شفقت کا اظہار کیا۔وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے صدف نعیم مرحومہ کی بیٹی نمرہ نعیم کو 50لاکھ روپے مالی امداد کا چیک دیا۔ وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے بیٹی نمرہ نعیم کوسرکاری ملازمت اور صدف نعیم مرحومہ کے شوہر کو سرکاری محکمے میں فوٹو گرافر کی ملازمت دینے کااعلان کیا۔وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے صدف نعیم مرحومہ کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کی۔

    وزیراعلیٰ چودھری پرویزالٰہی نے صدف نعیم مرحومہ کی صحافت میں خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ ہم آپ کی والدہ محترمہ کو واپس تو نہیں لا سکتے لیکن آپ کی ہر طرح سے دیکھ بھال جاری رکھیں گے۔ مرحومہ کی ناگہانی وفات پربہت دکھ او رافسوس ہوااور ہم غم کی گھڑی میں آپ کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔انہوں نے کہاکہ صدف نعیم مرحومہ ایک انتہائی محنتی اورپروفیشنل صحافی تھیں او رشعبہ صحافت میں ان کی خدمات کو تادیر یاد رکھا جائے گا۔سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان، صوبائی وزیرمیاں محمود الرشید، پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ محمد خان بھٹی، سیکرٹری اسمبلی عنایت لک، ڈپٹی کمشنر لاہور او رمتعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔

    ٹی وی دیکھا تو بیٹی صدف کی تصویر دیکھ کر کلیجہ پھٹ گیا۔ صدف کی ماں کی گفتگو

     صدف نعیم کے شوہر سے پی ٹی آئی رہنماؤں نے زبردستی دستخط کروائے ہیں،

    عمران خان کی تعزیت کیلئے صحافی صدف نعیم کے گھر آمد 

    کامونکی،لانگ مارچ کی کوریج کرنیوالے صحافیوں پر پولیس کا تشدد

    پی ٹی آئی نے جلسے کی اجازت کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا

  • یا اللہ رحم، لانگ مارچ قاتل مارچ بن گئی، معصوم صحافی کا قتل، مبشر لقمان کی کمال چھترول

    یا اللہ رحم، لانگ مارچ قاتل مارچ بن گئی، معصوم صحافی کا قتل، مبشر لقمان کی کمال چھترول

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ صدف نعیم کی موت شہادت ہے، اسکے ذمہ داروں کے خلاف کاروائی ہونی چاہئے،

    مبشر لقمان یوٹیوب آفیشیل پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ صدف چلی گئی میں جانتا نہیں تھا، وہ دو بچوں کی ماں تھی، میں نہیں جانتا تھا انکو، میں نے سنا ہے کہ بہت محنتی رپورٹر تھیں، پیدل، موٹر سائیکل پر جانا، رکشے پر جانا، خبر کے لئے وہ بہت ایکٹو ہوتی تھیں، لانگ مارچ کے منتظمین کے اوپر قتل کا مقدمہ ہونا چاہئے، تین دن سے ایک ایک دو رپورٹر کو بلایا جاتا کہ چیئرمین کا انٹرویو کر لیں، صدف کو دوبارہ بلایا اور کینٹینر پر چڑھا رہے تھے اور کینیٹینر چل رہا تھا ، اسی لئے وہ ٹائر کے نیچے آئی، اگر وہ رکا ہوتا تو بچی کچلی کیسے جاتی؟ کینٹینر چل رہا تھا یہ کرمنل ایکٹوٹی ہے، ایک بچی کو چڑھانے کے لئے ایک سیکنڈ کے لئے کینٹینر نہیں روکا گیا، ظلم کی بھی انتہا ہوتی ہے، ہاتھ جھاڑ‌کر چلے گئے کہ سانحہ حادثہ ہو گیا، یہ ایک شہادت ہوئی ہے، وہ اپنا کام کرتے ہوئے شہید ہوئی ہے،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی والوں کو شرم نہیں آتی، کب تک ایسے حادثے ہوتے رہیں گے بچیوں کو ایسے کینٹینر پر چڑھایا جاتا ہے وہ دو بچوں کی ماں تھی، کیا اسکے لئے بھی یونیورسٹی بنے گی، اس کے لئے بھی واویلا ہو گا اس طرح جس طرح ارشد شریف کی موت کو کیش کروایا گیا، میں آج ہر بیورو چیف کو کہوں گا کہ لانگ مارچ کے لئے رپورٹر بھیجنا چھوڑ دیں، انہوں نے کوئی انتظام نہیں کیا ہوا، یہ کہتے ہیں کہ لوگ آئیں اور انکی گڈی چڑی رہے،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ لانگ مارچ تو ہمیں ڈاکٹر طاہر القادری نے سکھایا تھا، ہم بھی پہلے مارچ میں گئے، 120 دن اسلام آباد بیٹھے رہے، لاہور سے اسلام آباد کینیٹنر گیا، ان سے مرید کے تک نہیں جایا جا سکا، تین گھنٹے کا لانگ مارچ ،پھر لاہورآ کر میٹنگ کرتے ہیں، اسد عمر کہتے ہیں میٹنگ ہے، عمران خان کہتے ہیں نہیں کوئی میٹنگ نہیں ہو رہی،آج اگر اداکارہ میرا یہ کہہ دے کہ میں نے شادی کرنی ہے تو فلاں گراؤنڈ میں امیدوار آ جائیں تو لانگ مارچ سے زیادہ شرکاء وہاں آ جائیں گے،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ گیارہ بجے جانے کا وقت تھا، ساڑھے گیارہ بجے چالیس بندے تھے، یہ حال ہے ان کے لانگ مارچ کا،ریاستی اداروں کو گالم گلوچ کرتے رہیں اور آپ کہیں کہ ہمیں کوئی کچھ نہ کہے، اب رو کیوں رہے ہو، کس بات کو رو رہے ہو، میں حکومت کو کہوں‌گا کہ ایک ماہ کے لئے سوشل میڈیا کو بند کر دیں، سب سکون میں آ جائیں گے،لوگوں کا کاروبار نہیں ہو رہا، بچے بھوکے مر رہے ہیں، اور انکو لانگ مارچ کی پڑی ہے، پنجاب میں کرائم بڑھ گیا ہے کیونکہ پنجاب کی پولیس پروٹوکول دینے میں لگی ہوئی ہے، یہ ہوتی ہے مارچ؟ اپنے ہی لوگوں کی زندگی عذاب کر دو،

    عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

    عمران خان سے ڈیل کی حقیقت سامنے آ گئی

    عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

  • صدف نعیم کی موت کے واقعے کی میرٹ پر تفتیش ہوگی،وزیر اطلاعات

    صدف نعیم کی موت کے واقعے کی میرٹ پر تفتیش ہوگی،وزیر اطلاعات

    صدف نعیم کی موت کے واقعے کی میرٹ پر تفتیش ہوگی،وزیر اطلاعات

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ صحافی صدف نعیم کی ہلاکت پر افسوس ہے ،

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ صدف نعیم کے شوہر سے لکھوایا گیا کہ وہ مزید کارروائی نہیں چاہتے، میں صدف نعیم کو ذاتی طورپر جانتی ہوں وہ خاتون محنتی تھیں،صحافی صدف نعیم کی ہلاکت کے واقعے کی میرٹ پر تفتیش ہوگی،ہم نے واقعے سے متعلق کمیٹی تشکیل دے دی ہے،

    قبل ازیں پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات اور وفاقی وزیر ادی شازیہ عطا مری، عمران خان کے کنٹینر کے نیچے آکر جاں بحق ہونے والی خاتون رپورٹر صدف نعیم کے لواحقین سے تعزیت کرنے ان کے گھر پہنچ گئیں

    علاوہ ازیں اپوزیشن لیڈر سندھ حلیم عادل شیخ شہید خاتون صحافی صدف نعیم کے گھر پہنچ گئے اور صدف نعیم کے شوہر سے اظہار تعزیت و دعا کی ،حلیم عادل شیخ کا کہنا تھا کہ صدف نعیم بھٹی ایک محنتی صحافی تھی،اپنی ڈیوٹی سر انجام دیتے ہوئے شہید ہوگئیں ہم شہید آزادی مارچ، شہید صحافت صدف نعیم کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں

    دوسری جانب سینئر صحافی صدف کی غائبانہ نمازِجنازہ اسلام آباد پریس کلب میں ادا کی گئی راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹ کے زیر اہتمام اور نیشنل پریس کلب میں صدف نعیم کی نماز جنازہ ادا کی گئی

    راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس نے تحریک انصاف کے ۔ لانگ مارچ کی کوریج کیلئے اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی کے دوران چینل فائیو کی خاتون صحافی صدف نعیم عمران خان کے کنٹینرز سے گر کر شہید ہونے کے واقعہ پر گہرے رنج وغم کا اظہار کیا ہے آر آئی یو جے کے صدر عابد عباسی ، جنرل سیکرٹری طارق علی ورک، فنانس سیکرٹری کاشان اکمل اور مجلس عاملہ کے اراکین نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے لانگ مارچ کی کوریج کر نیوالے صحافیوں کیلئے الگ کنٹینرز مختص ہونا چاہیے تھا اور اس حوالے سے فل پروف انتظامات ہونے چاہئیں تھے تا کہ صحافی اپنے پیشہ ورانہ فرائض احسن طریقے سے ادا کرتے اور اس طرح کا واقعہ رونما نہ ہوتا انہوں نے کہا کہ صدف نعیم ایک محنتی صحافی تھیں ان کی کمی محسوس کی جاتی رہے گی کوریج کے دوران ان کو کنٹینر پر چڑھنے سے کس نے روکا اور پی ٹی آئی کی کوریج کے حوالے سے پالیسی کیا تھی اور اس کے ذمہ داران کون ہیں تعقیق کی جانی چاہئے کنٹینر پر نصب کیمروں کی فوٹیج چیک ہونی چاہئے دیکھا جائے کہ حادثہ قدرتی طور پر ہوا یا کسی کی کوتاہی کی وجہ سے اور زمہ دران کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے

    ٹی وی دیکھا تو بیٹی صدف کی تصویر دیکھ کر کلیجہ پھٹ گیا۔ صدف کی ماں کی گفتگو

     صدف نعیم کے شوہر سے پی ٹی آئی رہنماؤں نے زبردستی دستخط کروائے ہیں،

    عمران خان کی تعزیت کیلئے صحافی صدف نعیم کے گھر آمد 

    کامونکی،لانگ مارچ کی کوریج کرنیوالے صحافیوں پر پولیس کا تشدد

    پی ٹی آئی نے جلسے کی اجازت کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا

    واضح رہے کہ  تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے کامونکی جاتے ہوئے راستے میں عمران خان کے کنٹینر کے نیچے آکرنجی ٹی وی کی خاتون رپورٹر جاں بحق ہوگئیں حادثے کے فوری بعد سابق وزیراعظم عمران خان نے  مارچ منسوخ کردیا۔کہا کہ بدقسمتی سے ایک حادثہ ہوا ہے، ہم نے کامونکی جانا تھا لیکن حادثے کی وجہ سے کینسل کردیا ہے

  • عمران خان کی تعزیت کیلئے صحافی صدف نعیم کے گھر آمد

    عمران خان کی تعزیت کیلئے صحافی صدف نعیم کے گھر آمد

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی تعزیت کیلئے صحافی صدف نعیم کے گھر آمد ہوئی ہے

    عمران خان پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ صدف نعیم کے گھر پہنچے اور لواحقین سے اظہار تعزیت کیا، عمران خان کے ہمراہ اسد عمر ،میاں اسلم و دیگر بھی موجود تھے،عمران خان نے لانگ مارچ میں شہید ہونے والی خاتون صحافی کے لئے دعائے مغفرت کی اور لواحقین کے لئے صبر جمیل کی دعا کی. صدف نعیم کی والدہ عمران خان کو دیکھ کر زاروقطار روتی رہیں ، شفقت محمود بھی عمران خان کے ہمراہ تھے،

    صدف نعیم گزشتہ روز لانگ مارچ کے دوران کینیٹر کے نیچے آ کر شہید ہو گئی تھیں، صدف نعیم کی نماز جنازہ گزشتہ شب اچھرہ میں ادا کی گئی بعد ازاں مقامی قبرستان میں تدفین کی گئی، صدف نعیم کے شوہر نے کوئی بھی کاروائی کرنے سے انکار کر دیا تھا تا ہم یہ بھی اطلاعات ہیں کہ صدف نعیم کے شوہر سے پی ٹی آئی رہنماؤں نے زبردستی دستخط کروائے ہیں،

    ٹی وی دیکھا تو بیٹی صدف کی تصویر دیکھ کر کلیجہ پھٹ گیا۔ صدف کی ماں کی گفتگو

    واضح رہے کہ  تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے کامونکی جاتے ہوئے راستے میں عمران خان کے کنٹینر کے نیچے آکرنجی ٹی وی کی خاتون رپورٹر جاں بحق ہوگئیں حادثے کے فوری بعد سابق وزیراعظم عمران خان نے  مارچ منسوخ کردیا۔کہا کہ بدقسمتی سے ایک حادثہ ہوا ہے، ہم نے کامونکی جانا تھا لیکن حادثے کی وجہ سے کینسل کردیا ہے ہم اپنے مارچ کو ختم کر رہے ہیں اور کل کامونکی سے اپنا مارچ شروع کریں گے،

  • ٹی وی دیکھا تو بیٹی صدف کی تصویر دیکھ کر کلیجہ پھٹ گیا، صدف کی ماں کی گفتگو

    ٹی وی دیکھا تو بیٹی صدف کی تصویر دیکھ کر کلیجہ پھٹ گیا، صدف کی ماں کی گفتگو

    ٹی وی دیکھا تو بیٹی صدف کی تصویر دیکھ کر کلیجہ پھٹ گیا۔ صدف کی ماں کی گفتگو

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عمران خان کے لانگ مارچ میں خاتون صحافی صدف کی موت ہو گئی ہے صدف کے ساتھی رپورٹنگ کرنے والے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ صدف کو سیکورٹی گارڈ نے دھکا دیا جس کے بعد اسکی موت ہوئی ۔ لاہور سے خاتون صحافی امبرین فاطمہ صدف کے گھر گئیں اور لواحقین سے ملاقات کی واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا ۔

    صدف کنٹینر پر تعینات گارڈز کے دھکا دینے سے جاں بحق ہوئیں، ساتھی رپورٹر کا دعویٰ


    صدف کے گھر لواحقین سےملاقات کے بعد امبرین فاطمہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا کہ ابھی صدف کے گھر سے ہوکر آئی ہوں،صدف کے والد اور والدہ بیٹا اور بیٹی سب کی حالت دیکھ کر بہت تکلیف ہوِئی۔مرحومہ کے دو بچے ہیں ایک بیٹا اور بیٹی۔

    بیٹی کا کہنا ہے کہ صبح ناشتے کے وقت انکو منع کیا مت جائیں،والدہ کہتی ہیں رات 12 بجے کال کرکے خاص طور پہ منع کیا لیکن کام ‏کے جنون نے انہیں رکنے نہ دیا اور کام پر پہنچ گئیں۔

    لانگ مارچ میں خاتون صحافی کی موت، وزیر داخلہ نے بڑا اعلان کر دیا


    امبرین نے ٹویٹ کرتے ہوئے مزید کہا کہ والدہ کہتی ہیں کہ صدف نے مزید کام نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہوا تھا آٹا منگوایا کہ اب بچوں کو اپنے ہاتھ سے روٹی بنا کر دوں گی،امتنان شاہد کے اصرار پر لانگ مارچ کی کوریج کےلیے گھر سے نکلی،تایا کا کہنا ہے کہ عمران خان کا انٹرویو کرنے پہ بہت خوش تھی،صدف کی نند بچوں کی طرح رو رہی تھی اور تعریف کررہی تھی۔

    صدف کی والدہ کہتی ہیں کسی نے کہا ٹی وی دیکھو،دیکھا تو صدف کی تصویر دیکھ کر کلیجہ پھٹ گیا بولیں آٹھ دن پہلے میرے پاس چھ گھنٹے گزار کر گئی بولی پھر آوں گی امی جی-

    امبرین فاطمہ کے مطابق صدف کا جنازہ آج رات ایک بجے ان کی رہائش گاہ سے اٹھایا جائے گا۔

    اہلیہ کی موت حادثاتی تھی،کوئی کاروائی نہیں کرنا چاہتے،شوہر صدف نعیم

  • لانگ مارچ میں خاتون صحافی کی موت، وزیر داخلہ نے بڑا اعلان کر دیا

    لانگ مارچ میں خاتون صحافی کی موت، وزیر داخلہ نے بڑا اعلان کر دیا

    پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ میں خاتون صحافی کی موت پر ساتھی صحافی کے انکشافات کے بعد وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ نے بڑا اعلان کر دیا ہے-

    باغی ٹی وی : پاکستان مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر داخلہ راناثناءاللہ نے کہا ہے کہ موقع پر موجود صحافیوں کے انکشافات کے بعد معاملہ مشکوک ہوگیا ہے-

    صدف کنٹینر پر تعینات گارڈز کے دھکا دینے سے جاں بحق ہوئیں، ساتھی رپورٹر کا دعویٰ

    انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کی قانونی ذمہ داری ہے کہ ایک بے گناہ خاتون رپورٹر کی دردناک موت کی تحقیق کرائے۔ پنجاب حکومت نے اپنی قانونی اور انسانی ذمہ داری پوری نہ کی تو وفاقی حکومت اپنا قانونی فرض ادا کرے گی۔

    وزیراعظم کا خاتون صحافی صدف کے اہلخانہ کیلئے 50 لاکھ روپے امدادکا اعلان

    رانا ثناءاللہ نے کہا کہ جاں بحق خاتون رپورٹر کے ساتھی صحافیوں کا بیان ہے کہ صدف کو دھکا دیا گیا، دھکا دینے والے شخص کو گرفتار کیا جائے، قانون کے تقاضے پورے کئے جائیں؛ اس شہادتی بیان کے بعد ضروری ہے کہ واقعے کی تحقیقات ہوں۔

    واضح رہے کہ نجی خبررساں ادارے چینل 5 کی صدف نعیم کے ساتھی صحافی افضل سیال عینی شاہد کا بیان ہے کہ صدف نعیم کو عمران خان کے کنٹینر پر تعینات گارڈ نے دھکا دے کر نیچے گرایا پھر کنٹینر نے کچلا ہے-

    اہلیہ کی موت حادثاتی تھی،کوئی کاروائی نہیں کرنا چاہتے،شوہر صدف نعیم

    خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے کامونکی جاتے ہوئے راستے میں عمران خان کے کنٹینر کے نیچے آکرنجی ٹی وی کی خاتون رپورٹر جاں بحق ہوگئیں حادثے کے فوری بعد سابق وزیراعظم عمران خان نے آج کا مارچ منسوخ کردیا۔

    انہوں نے خطاب میں کہا کہ بدقسمتی سے ایک حادثہ ہوا ہے، آج ہم نے کامونکی جانا تھا لیکن حادثے کی وجہ سے کینسل کردیا ہے آج ہم اپنے مارچ کو ختم کر رہے ہیں اور کل کامونکی سے اپنا مارچ شروع کریں گے، ایک حادثے کی وجہ سے ہمیں آج کا مارچ منسوخ کرنا پڑا، خاتون رپورٹر کی فیملی سے اظہار ہمدردی کرتے ہیں۔

    کوئٹہ: جوائنٹ روڈ بروری کراس پر پولیس چوکی پر دستی بم حملہ،14 افراد زخمی ایک ہلاک

  • صدف کنٹینر پر تعینات گارڈز کے دھکا دینے سے جاں بحق ہوئیں، ساتھی رپورٹر کا دعویٰ

    صدف کنٹینر پر تعینات گارڈز کے دھکا دینے سے جاں بحق ہوئیں، ساتھی رپورٹر کا دعویٰ

    پی ٹی آئی لانگ مارچ کےدوران جاں بحق ہونے والی خاتون رپورٹر صدف نعیم کےساتھ موقع پر موجود ساتھی رپورٹر کا کہنا ہے کہ صدف کنٹینر پر تعینات گارڈز کے دھکا دینے سے جاں بحق ہوئیں-

    باغی ٹی وی : صدف ک ساتھی رپورٹ کا کہنا ہے کہ صدف نعیم چینل فائیو کی پچھلی 20 سال سے رپورٹر تھیں اور میری کولیگ تھیں ہم نے سالوں اکٹھے کام کیا ہے لیکن آج کا دلخراش واقعہ ہے جو ان کی شہادت ہوئی –

    وزیراعظم کا خاتون صحافی صدف کے اہلخانہ کیلئے 50 لاکھ روپے امدادکا اعلان

    انہوں نے بتایا کہ ہمارے سارے دوست وہاں پر موجود تھے یہ تقریباً 3 لوگ تھے اور ٹوٹل 5 لوگ تھے جو کہ کنٹینر کے ساتھ موو کر رہے تھے اور کوشش کر رہے تھے کہ ہماری عمران خان کے ساتھ ملاقات ہو جائے جس کے چکر میں انہوں نے کنٹینر کے ساتھ ساتھ تقریباً دو کلومیٹر سفر کیا اور سادھو کی سے باہر جب عمران خان کی تقریر کے بعد کنٹینر آگے بڑھا تو یہ بھی آگے بڑھنے لگے-

    انہوں نے بتایا کہ یہ ٹوٹل 5 لوگ تھے جن میں دو کیمرہ مین اور تین رپورٹر تھے ایک نجی خبر رساں ادارے دنیا نیوز کے رپورٹر اخلاق باجوہ تھے اور کاشف سلیمان نجی خبررساں ادارے نیو ٹی وی کے تھے اور صدف نعیم تھیں ساتھ دو کیمرہ مین تھے-

    صدف کے ساتھ رپورٹ کے مطابق اخلاق باجوہ نے صدف سے کہا کہ یہ دو گارڈ جو کنٹینرکے دروازے پر کھڑے ہوئے ہیں یہ ہمیں کنٹینر پر نہیں چڑھنے دیں گے اخلاق باجوہ جو صدف نعیم کے آگے تھے تھک کر سائیڈ پر ہو گئے اورصدف اخلاق باجوہ کی جگہ پر آ گئیں اور انہوں نے کنٹینر کے ہینڈل کو پکڑ کر اوپر چڑھنے کی کوشش کی تو ان دونوں گارڈز میں سے جو کنٹینر کے دروازے پر کھڑے تھے ایک نے صدف کو دھکا دیا اور وہ نیچے گر گئیں-

    اہلیہ کی موت حادثاتی تھی،کوئی کاروائی نہیں کرنا چاہتے،شوہر صدف نعیم

    انہوں نے مزید بتایا کہ جیسے ہی صدف نیچے گریں تو کنٹینر کا ٹائر ان کے سر کو کچل کر آگے نکل گیا اس کے بعد سب سے المناک واقعہ پیش آیا کہ دنیا نیوز کے کیمرہ مین آصف پرویز ٹوبہ نے شور ڈال کر کنٹینر کو رکوایا اور جب کنٹینر رکا تو ان رپورٹرز کیمرہ مینز ویڈیو بنانے لگے جب انہوں نے ویڈیو بنانے کوشش کی تو اوپر کنٹینر سے ان کے اپور پانی کی بوتلیں پھینکی گئیں اور کنیٹنر کے گیٹ پر کھڑے گارڈز نے صحافیوں کو زدوکوب کیا اور وہاں پر ایک لڑکا ویڈیو بنا رہا تھا اس سے موبائل بھی چھین لیا گیا-

    واضح رہے کہصدف نعیم اتوار کو لاہور میں عمران خان کے لانگ مارچ کے کنٹینر سے گر کر جاں بحق ہوگئی تھیں-

    پی ٹی آئی نے ارشد شریف کی شہادت پر سیاست کرنے کی کوشش کی،فیصل کریم کنڈی