Baaghi TV

Tag: صدیق جان

  • معروف یوٹیوبرز کے بینک اکاؤنٹس غیر ملکی فنڈنگ کے الزام میں منجمد

    معروف یوٹیوبرز کے بینک اکاؤنٹس غیر ملکی فنڈنگ کے الزام میں منجمد

    حکومتِ پاکستان نے معروف یوٹیوبرز کے بینک اکاؤنٹس غیر ملکی فنڈنگ کے الزام میں منجمد کر دیے.

    باغی ٹی وی کے مطابق حکومتِ پاکستان نے سخت کارروائی کرتے ہوئے چند معروف یوٹیوبرز کے بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان یوٹیوبرز پر غیر ملکی فنڈنگ کے ذریعے ملک دشمن بیانیہ پھیلانے کا الزام ہے۔متاثرہ یوٹیوبرز میں صدیق جان، معید پیرزادہ، صابر شاکر اور عمران ریاض خان شامل ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ وہ بیرونِ ملک سے مالی امداد حاصل کر کے سوشل میڈیا پر پاکستان کے اداروں اور ریاستی پالیسیوں کے خلاف پروپیگنڈا کرتے رہے ہیں۔

    اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے اور دیگر حساس اداروں نے مشترکہ تحقیقات کے بعد ان یوٹیوبرز کے مالیاتی ریکارڈز کی جانچ کی، جس میں مبینہ طور پر بیرونی ممالک سے لاکھوں روپے کی فنڈنگ کے شواہد ملے۔سرکاری ذرائع کے مطابق یہ یوٹیوبرز ’آزادی اظہار‘ کی آڑ میں سوشل میڈیا پر ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دے رہے تھے، اور انہیں مبینہ طور پر دشمن ممالک سے مالی مدد مل رہی تھی۔

    یاد رہے کہ ان میں سے اکثر یوٹیوبرز حکومتی پالیسیوں اور اسٹیبلشمنٹ پر شدید تنقید کے لیے جانے جاتے ہیں اور سوشل میڈیا پر ایک بڑی فالوونگ رکھتے ہیں۔اس معاملے پر تاحال متاثرہ فریقین کی جانب سے باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا، تاہم سوشل میڈیا پر ان کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان گرما گرم بحث جاری ہے۔

    خیبر پولیس کی وردی تبدیل،شلوار قمیض کی جگہ،شرٹ پتلون کا حکم

    فلسطین میں نسل کشی ، اسرائیل کے ساتھ تعلقات منقطع کیے،روسی قونصل جنرل

    وزیراعظم آج دورۂ ترکیہ کے لیے روانہ ہوں گے

    کینال منصوبے کے خلاف احتجاج، آلو، پیاز کی ترسیل متاثر

    پی ٹی آئی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ عمران لالیکا نے معافی مانگ لی، پاک فوج زندہ باد کے نعرے

  • ہلاکتوں کے دعوے درست نہیں، صدیق جان بھی مان گئے

    ہلاکتوں کے دعوے درست نہیں، صدیق جان بھی مان گئے

    اسلام آباد: پی ٹی آئی کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ 24 نومبر کے احتجاج یا پولیس کے ساتھ تصادم کے دوران درجنوں افراد مارے گئے ہیں-

    باغی ٹی وی : پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج کے دوران درجنوں افراد کی ہلاکتیں ہوئی ہیں، تاہم 24 گھنٹے گزرنے کے باوجود ان دعووں کا کوئی حقیقی ثبوت سامنے نہیں آ سکا، نہ ہی کوئی ویڈیو یا تصاویر فراہم کی گئیں، نہ ہی کسی کی شناخت یا جنازہ کی تصاویر منظر عام پر آئیں اس صورت حال پر سوالات اٹھنا شروع ہوگئے ہیں، کہ کیا ممکن ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوں اور ان کا کوئی ثبوت نہ مل سکے؟

    عام طور پر جب کسی بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوتی ہیں، تو اس کے متعلق ویڈیوز، تصاویر اور میڈیا رپورٹس آنا معمول کی بات ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا اور مختلف نیوز چینلز کے ذریعے ایسی خبریں فوری طور پر پھیل جاتی ہیں، اس کے علاوہ، حکومت اور متعلقہ ادارے عموماً ہلاکتوں کی تصدیق کے لیے بیان دیتے ہیں،لاشیں سامنے آتی ہیں ،جنازے ہوتے ہیں،لواحقین سامنے آتے ہیں، لیکن اس مرتبہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا، جو اس دعوے کو حقیقت بناتا ہو-
    pti
    تاہم اب صحافی و یو ٹیوبرصدیق جان نے بھی پی ٹی آئی کی جانب سے ہلاکتوں کے دعووں کو بے نقاب کیا ہے،سوشل میڈیا پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ میں کوشش کرتا ہوں کہ ہمیشہ حقائق سامنے لاؤں،میں نے سارا وقت گراؤنڈ پر گزارا،میری نظر میں سوشل میڈیا پر پھیلے ہلاکتوں کے دعوے درست نہیں ہیں،ہمارے سامنے کوئی لاش نہیں اٹھائی کسی نے ،دوستوں کو ایسے دعوے کرنے سے پہلے تصدیق کرنی چاہیئے-

  • صدیق جان کی درخواست ضمانت پر آیا فیصلہ

    صدیق جان کی درخواست ضمانت پر آیا فیصلہ

    اسلام آباد کی مقامی عدالت نے صحافی و یوٹیوبر صدیق جان کی درخواست ضمانت پر فیصلہ سنا دیا

    انسداددہشتگردی عدالت میں صدیق جان کے خلاف مقدمہ کیس کی سماعت ہوئی، صدیق جان کا جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر انہیں عدالت پیش کیا گیا،محمد ادریس کو بھی عدالت پیش کیا گیا، عدالت نے صدیق جان اور محمد ادریس کو کیس سے ڈسچارج کر دیاعدالت نے صدیق جان کے 50 ہزار کے ذاتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دے دیا،

    صدیق جان کو دو روز قبل اسلام آباد سے گرفتار کیا گیا تھا، اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ صدیق جان کو تھانہ سی ٹی ڈی کے مقدمہ 3/23 میں گرفتار کیا،صدیق جان کو جوڈیشل کمپلیکس جلاؤ گھیراؤ کے واقعات کے تناظر میں گرفتار کیا گیا،

    عمران خان لاپتہ، کیوں نہ نواز شریف کیخلاف مقدمے کا حکم دوں، عدالت کے ریمارکس

    لاپتہ افراد کا سراغ نہ لگا تو تنخواہ بند کر دیں گے، عدالت کا اظہار برہمی

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

  • صدیق جان کا ایک روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    صدیق جان کا ایک روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد سے گزشتہ روز گرفتار کئے گئے صحافی و یوٹیوبر صدیق جان کو عدالت پیش کر دیا گیا

    صدیق جان کو جب عدالت لایا گیا تو انہیں ہتھکڑی لگائی گئی تھی، صدیق جان کی پیشی کے موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، صدیق جان کو انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا گیا، پولیس نے صدیق جان کی دس روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کردی، جج نے صدیق جان سے استفسار کیا کہ آپ پر ٹارچر تو نہیں ہوا ؟ جس پر صدیق جان نے عدالت میں کہا کہ جی تشدد نہیں ہوا ، لیکن میں ایک منٹ کچھ کہنا چاہتا ہوں، جج راجہ جواد عباس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو موقع ملے گا ،جج نے تفتیشی سے سوال کیا کہ صدیق جان سے کیا برآمد کرنا ہے؟ پولیس نے کہا کہ صدیق جان سے شیلز برآمد کرنے ہیں، صدیق جان کے وکیل نے کہا کہ صدیق جان پر یہ دفعات لگتی نہیں ،صدیق جان پر لگائی گئی دفعات قابل ضمانت ہیں ،صحافیوں کا جرم یہ ہے کہ وہ جرائم کو بے نقاب کرتے ہیں۔ یہ کیس اسلام آباد پولیس نے خود کو شرمندہ کروانے کیلئے بنایا ہے۔ جو کہانی پراسیکیوٹر اور تفتیشی نے سنائی وہ ایف آئی آر کا حصہ ہی نہیں ہے۔ صدیق جان ایف آئی آر میں کسی جگہ نامزد ہی نہیں ہے، نہ ہی نامعلوم نے جو جرائم کیے ان میں سے کوئی جرم کا الزام میرے موکل پر لگایا گیا۔ صدیق جان جوڈیشیل کمپلیکس کی بلڈنگ پر نہیں بلکہ چوہدری پلازہ کی بلڈنگ پر دیگر صحافیوں کے ہمراہ تھا۔ صدیق جان دس اور صحافیوں کے ساتھ جوڈیشل کمپلیکس سے پچاس میٹر دور ایک عمارت کی چھت پر کوریج کررہے تھے۔ صدیق جان شیلنگ سے مدہوش ایک سی ٹی ڈی اہلکار کو پانی پلاتے رہے اسکو ہوا دی۔ جب پولیس والے کا ہوش بحال ہوا تو اس نے شیلنگ شروع کردی تو صدیق نے اسکو منع کیا ،صدیق جان کے وکیل میاں علی اشفاق نے متعلقہ واقعے کی ویڈیو عدالت میں چلا دی اور کہا کہ اسلام آباد پولیس کا یہ شخص کمانڈو ہے جو بتایا گیا یہ گلگت بلتستان کا ہے لیکن یہ جھوٹ ہے

    تفتیشی افسر نے عدالت میں کہا کہ ویڈیو میں پولیس اہلکار اسلام آباد پولیس کا ملازم ہے ،صدیق جان نے پولیس کو شیل فائر کرنے سے روکا ،ویڈیو کی فرانزک کرانی ہے ان کے فوٹو گرائیمٹری ٹیسٹ بھی کرانے ہیں ،عدالت نے صدیق جان کو روسٹرم پر طلب کر لیا، صدیق جان نے اپنا بیان ریکارڈ کروایا، صدیق جان نے کہا کہ دروازہ بند کردیا تھا تاکہ کوئی پی ٹی آئی کارکن نہ آجائے یہ پولیس والے آئے اور گر گئے ہم اوپر لے آئے ادریس کو پہلے صدیق جان سمجھا ادریس نے کہا ہاں میں صدیق جان ہوں لیکن بعد میں انہیں سمجھ آئی یہ وہ نہیں لیکن ساتھ لے ائے،جب شیل فائر کیے تو دو دوست بولے کہ یہاں نہ کرو واپس دھواں آتا ہے، پھر میں نے کہا، کیونکہ ہونا یہ تھا کہ وہاں سے پتھر آنے تھے،چوہدری پلازہ کے اوپر صرف میڈیا تھا ،ہم نے چھت پر جاکر ویڈیو بند کردی ، پولیس والا شیلنگ کی وجہ سے گر گیا تھا ،میرے گرفتار کرنے والوں میں فورس کے علاؤہ کچھ اور لوگ بھی تھے

    وکیل پولیس نے کہا کہ یہ ایسا کیس ہے جس میں فرانزک کرانا ہے، اگر ویڈیو میں صدیق جان ثابت نہیں ہوتے تو پھر بعد میں عدالت فیصلہ کرے، ریمانڈ دیں،فوٹو گرامیڑری ٹیسٹ کے لیے صدیق جان کو لاہور لیکر جانا ہے،جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 24 گھنٹے میں سب کچھ کر لیں،وکیل پولیس نے کہا کہ فرانزک لاہور سے ہوگا، اتنے وقت میں نہیں ہوگا،

    کیس کی سماعت کے بعد انسداد دہشت گردی عدالت نے صحافی صدیق جان کا ایک روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا

    قبل ازیں ترجمان اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ صدیق جان کو تھانہ سی ٹی ڈی کے مقدمہ 3/23 میں گرفتار کیا،صدیق جان کو جوڈیشل کمپلیکس جلاؤ گھیراؤ کے واقعات کے تناظر میں گرفتار کیا گیا،

    عمران خان لاپتہ، کیوں نہ نواز شریف کیخلاف مقدمے کا حکم دوں، عدالت کے ریمارکس

    لاپتہ افراد کا سراغ نہ لگا تو تنخواہ بند کر دیں گے، عدالت کا اظہار برہمی

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں