Baaghi TV

Tag: صلاح الدین

  • پولیس کے نظام میں اصلاحات کیوں ضروری ہیں؟ ؟؟  محمد عبداللہ

    پولیس کے نظام میں اصلاحات کیوں ضروری ہیں؟ ؟؟ محمد عبداللہ

    یہ کوئی وقتی مشاہدے کی باتیں نہیں بلکہ پچھلے دس گیارہ سالوں سے مسلسل سفر میں رہتے ہوئے ، پاکستان کے شہروں اور صوبوں میں گھومتے پھرتے جہاں اور بہت ساری چیزوں کا مشاہدہ اور تجربہ حاصل ہوا وہاں پولیس کے رویوں اور طریقہ کار کو بھی جانچنے اور پرکھنے کا بھی موقع ملتا رہا. ویسے بھی مسافر (ٹورسٹ) اور پولیس کا واسطہ اکثر ہی رہتا ہے. کے پی کے، پنجاب، سندھ اور حتیٰ کے بلوچستان کی پولیس کے ساتھ بھی گپ شپ بھی رہی اور واسطہ بھی پڑتا رہا ہے. جہاں بہت سارے تجربے پولیس کے برے رویے کے ہیں وہیں کافی تجربات پولیس کی بہترین مہمان نوازی اور مشفقانہ رویہ روا رکھنے کے بھی ہیں. ایسا نہیں ہے کہ پولیس کا سارا محکمہ ہی گندا ہے، کرپٹ ہے یا ظالم ہے ہمارے بہت سے دوست احباب اور رشتہ دار بھی اس محکمے میں ہیں اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ ان گنت نیک نیت، ایماندار اور فرض شناس لوگ اس محکمے میں ایسے بھی ہیں جن کی وجہ سے پولیس کے محکمے کی عزت برقرار ہے. افواج پاکستان کی طرح پولیس کے شہداء کی بھی ایک لمبی لسٹ ہے جو وطن عزیز اور اس کے شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرگئے. لیکن جو بات مسلمہ ہے وہ یہی ہے کہ اس محکمے میں بیشتر اندھیر نگری اور چوپٹ راج ہے، کرپشن اور ظلم کا دور دورہ ہے.جہاں ایس ایچ او اپنے علاقے کا بے تاج بادشاہ ہوتا ہے اور اس کے اشاروں پر لوگوں کی قسمتیں بن اور بگڑ رہی ہوتی ہیں وہیں ناکے پر کھڑا کانسٹیبل بھی چنگیز خان سے کم نہیں ہوتا جو چاہے تو چوری کے سامان سے بھری گاڑی کو گزرنے دے اور چاہے تو معمولی موٹر سائیکل سوار کو اپنی چائے پانی کے لیے خوار کرتا رہے اور تھانے میں بیٹھا محرر بھی کسی بنیئے سے مقابلہ کر رہا ہوتا ہے جب وہ ایف آئی آر درج کرنے کے لیے بھاؤ تاؤ کر رہا ہوتا ہے. یہ بات بطور لطیفہ بیان کی جاتی ہے مگر یہ انتہائی تکلیف دہ سچ ہے کہ دوسرے ممالک کے میں لوگوں کو پولیس کو دیکھ کر تحفظ کا احساس ہوتا ہے مگر وطن عزیز میں پولیس کو دیکھ کر آپ کو لٹ جانے کا احساس ہوتا ہے. آپ روڈ پر سفر کر رہے ہیں آپ کی جیب میں آپ کا لائسنس، گاڑی کے کاغذات، شناختی کارڈ غرض کے سب کچھ موجود ہے اور آپ تمام روڈ سیفٹی قوانین کو بھی فالو کر رہے ہیں لیکن جب آپ کی نظر سامنے لگے ناکے پر موجود پولیس کے سپاہیوں پر پڑتی ہے تو بندہ غیر ارادی طور پر دل ہی دل میں دعائیں پڑھنا شروع ہوجاتا ہے کہ یا اللہ آج بچا لے ان سے. اگر آپ طاقتور ہیں کسی اونچی پوسٹ پر ہیں تو یہی پولیس آپ کی محافظ ہوتی ہے اور آپ غریب ہیں اور عام سے شہری ہیں تو اس پولیس سے جان چھڑوانا ناممکن اور عذاب بنا ہوتا ہے. میرے پاس بیسیوں نہیں سینکڑوں مثالیں ہیں بلکہ تجربات ہیں کہ پولیس کے پاس شہریوں کو تنگ کرنے کے کتنے اور کون کونسے حربے ہوتے ہیں. ہمارے ملک میں کتنے ہی مجبور اور بے کس شہری ہیں جن کو پولیس کے ظلم اور تشدد نے کرپٹ اور مجرم بنا دیا ہے. کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو پولیس کی عدم توجہی اور ظالم کی پشت پناہی کی وجہ سے قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں اور معاشرے میں دہشت گرد اور ڈاکو کا خطاب پاتے ہیں. سانحہ ساہیوال، صلاح الدین کیس اور ان جیسے ناجانے کتنے کیس ہیں جو پولیس کی غنڈہ گردی اور ظلم کی عملی مثالیں ہیں. کوئی کتنا بھی کرپٹ کیوں نہ ہو، مجرم کیوں نہ ہو اس کے جرائم کی سزاء و جزا دینے کے لیے ا ملک میں ایک پورا عدالتی نظام موجود ہے تو پھر پولیس کو یہ جرات کیسے پیدا ہوتی ہے کہ وہ جعلی پولیس مقابلوں اور دوران تفتیش ماورائے عدالت قتل کرتے پھریں ؟؟؟ یہ کونسے قاعدے اور قانون میں ہے کہ پولیس مجرم سے اقبال جرم کروانے کے لیے اس پر غیر انسانی تشدد کرے؟ پاکستانی پولیس ایسا کیوں سمجھتی غریب کے جسمانی ریمانڈ کا مطلب اس کی چمڑی ادھیڑ دینا ہوتا ہے؟؟

    "صلاح الدین کا مبینہ قتل ریاست کے سر پر ہے” محمد عبداللہ

    یہ ساری باتیں تقاضہ کرتی ہیں کہ اب وقت آن پہنچا ہے کہ نظام پولیس میں اصلاحات کی جائیں اور اس پورے نظام کو از سر نو ترتیب دیا جائے اور انسانی ہمدردی اور انسانی مدد کی بنیاد پر پولیس کے محکمے کو کھڑا کیا جائے اور ایسی پولیس معاشرے میں کھڑی کہ جائے جس کو جرم سے نفرت ہو نہ کہ انسانیت سے اور جس کو دیکھ ہی معاشرے کو تحفظ کا احساس ہو.

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • صلاح الدین  کی غلطی کی سزا،  پنجاب پولیس اپنے آپ کو جہنمی دروغے سمجھ بیٹھی ،  ظلم اتنا کہ زبان سے بیان کرنا مشکل

    صلاح الدین کی غلطی کی سزا، پنجاب پولیس اپنے آپ کو جہنمی دروغے سمجھ بیٹھی ، ظلم اتنا کہ زبان سے بیان کرنا مشکل

    لاہور :صلاح الدین نے اے ٹی ایم کیا توڑی کہ پولیس نے مار مار کر صلاح الدین کی ہڈیاں ہی توڑدیں ، پھر اتنا مارا کہ مار مار کر مار ہی دیا ، صلاح الدین نے اے ٹی ایم مشین توڑنے کی یہ پہلی کوشش نہیں کی بلکہ اس سے پہلے بھی وہ گاہے بگاہے کوششیں کرتا رہا ہے.

    کیا پولیس اور بینک انتظامیہ کو کیا پہلے پتہ نہیں تھا کہ کوئی شخص اے ٹی ایم کو توڑنے کی کوشش کررہا ہے، یقینا بینک انتظامیہ کو پتہ ہوگا اور پولیس کو بھی آگاہ کیا ہوگا ،ایسے ہی صلاح الدین نے ایک کوشش پہلے بھی کی جس کے بارے میں باغی ٹی وی تصویر کا دوسرا رخ پیش کررہا ہے.

    https://www.youtube.com/watch?v=Z798gsVigbc

    باغی ٹی وی کے مطابق یہ ATM حبیب بنک وحدت روڈ لاہور کی ہے 7 :15 منٹ پر داخل ہونے والے شخص کی رہائش بھی ساتھ وارث کالونی میں ہے اور ساتھ کھڑا شخص صلاح الدین ہے جو پولیس تشدد سے ہلاک ہوچکا ہے یہ نا تو زھنی مریض تھا نا ہی گونگا یا اللہ لوک یہ گونگا بننے کی اور اشاروں سے بات کرنے کی اداکاری کر رہا تھا .

    باغی ٹی وی کو حاصل ہونے والی اس ویڈیو میں جو معلومات حاصل ہوئی ہیں اس کے مطابق صلاح الدین کا طریقہ واردات یہ تھا کہ سب سے پہلے اس نے جہاں سے پیسے نکالے جاتے ہیں وہاں پر سلپ کی پرچیاں گھسا دیتا ہے تاکہ پیسے باہر نا آسکیں اور اسکے اور پھر مشین کو توڑنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ اسکے اندر وائس ڈیوائس رکھے وہ نیں ٹوٹتی تو مشین کی بیک سائیڈ پر ایک ڈیوائس چھپا دیتا ہے اور اسکا ریموٹ اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے

    وائرل ہونے والی اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ صلاح الدین ایک کارنر میں کھڑا ہوجاتا ہے اور پاسورڈ دیکھنے کی کوشش کرتا ہے اور ریموٹ دباتا ہے تو وائس ڈیوائس سے آواز آتی ہے "اپکا کارڈ کیپچر ہوگیا ہے برانچ سے رابطہ کریں اس وقت برانچ بھی بند ہوتی ہے وہ بندہ باہر جاتا ہے تو یہ فورا کارڈ نکالتا ہے اور باہر نکل جاتا ہے پاس ورڈ بھی اسکے پاس ہوتا ہے کارڈ بھی اسکے پاس ہوتا ہے کسی بھی دوسری برانچ سے جا کے پیسے نکلوالیتا ہے

    باغی ٹی وی کے مطابق اس ویڈیوسے ظاہر ہوتا ہےکہ یہ بندہ جو 7:15 پر داخل ہوتا ہے اسکے اکاونٹ سے اس بندے نے کریم بلاک برانچ الائیڈ بنک سے 7:35 منٹ پر 25000 ہزار کی 2ٹرانزکشن کیں اور 50 ہزار نکلوا کر لے گیا صرف 20 منٹ میں لیکن پولیس تشدد کی اجازت پھر بھی نیں دی جاسکتی یہ ویڈیو 2017 کی ہے


    یہ تو تھا صلاح الدین کے حوالے سے تصویر کا دوسرا رخ لیکن یہ قوم پوچھتی ہے کہ کیا اس جرم کی سزا یہ ہے کہ کسی مجرم پر اتنا جرم کرو کہ وہ تشدد ، تکلیف اور ظلم کی وجہ سے ہی دم توڑ جائے ، کیا آئین یہ اجازت دیتا ہےکہ انسانیت کو اس طرح ذلیل ورسوا کرکے ماردیا جائے ،

    کیا دنیا میں وحشت اور درندگی اس حدتک بڑھ گئی ہے کہ پولیس جسے چاہے مار دے ، جسے چاہے بیوہ کردے ، جسے چاہے یتیم کردے اورجسے چاہے اس کے لیے قیامت کا نظام تھانے اور کچہری میں قائم کردے . ہرگز ایسا نہیں ہوسکتا اور نہ ہی دنیا کا کوئی گیا گزرا معاشرہ اس بات کی اجازت دے سکتا ہے جس کا لاسئنس پنجاب پولیس نے حاصل کررکھا ہے. صلاح الدین کے ساتھ ہونے والے ظلم نے تو پتھر دل انسان کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے.

    پولیس گردی میں جانبحق ہونےوالے صلاح الدین کے گھر والوں کو ابتدا میں محض شک تھا کہ ان کی موت تشدد کا نتیجہ ہے۔ وہ پولیس کی تحویل میں ہلاک ہوئے تھے۔ پاکستان میں اس نوعیت کی اموات کے بارے عام تاثر یہی پایا جاتا ہے۔

    صلاح الدین کے لواحقین کا یہ شک اس وقت یقین میں بدلا جب ان کی لاش کو گجرانوالہ میں ان کے آبائی علاقے لایا گیا اور تدفین سے قبل اسے غسل دینے کا وقت آیا۔ ان کے والد اور بڑے بھائی ظہیرالدین نے اس وقت پہلی بار صلاح الدین کے بدن پر تشدد کے نشانات دیکھے۔

    بڑے بھائی ظہیرالدین بتاتے ہیں کہ جب صلاح الدین کو غسل دیا جارہا تھا تو اس دوران بہت بھیانک صورت حال دیکھنے کو ملی وہ بتاتے ہیں کہ ‘ایک بازو پر بغل کے نیچے اس طرح سے ماس اکھڑا ہوا تھا کہ جیسے استری کے ساتھ جلایا گیا ہے یا کرنٹ لگایا گیا ہے۔ جلد اتری ہوئی تھی اس کی۔’

    ظہیر الدین بتاتے ہیں‌ کہ دوسری طرف کندھے کے اوپر، کوہنی اور ہاتھ پر بھی کٹ لگے ہوئے تھے اور انھیں بعد میں سیا ہوا تھا۔ کمر پر بھی نشان تھے اور اس کے علاوہ جسم کی نازک جگہ پر تشدد کے نشانات تھے۔ وہ اس قدر سوجی ہوئی تھی کہ میں بیان نہیں کر سکتا۔’

    صلاح الدین پر ہونے والے ظلم وتشدد کی داستان بیان کرتے ہوئے بڑے بھائی ظہیرالدین نے بتایا کہ صلاح الدین کے چہرے کا آدھا حصہ سیاہ ہو چکا تھا اور اس پر سوزش تھی۔ یہ سب دیکھنے کے بعد ان کے خاندان والوں کا مؤقف ہے کہ انھیں یقین ہے صلاح الدین کو پولیس نے تشدد کا نشانہ بنایا جس کی وجہ سے ان کی موت واقع ہوئی۔

    دوسری طرف صلاح الدین کے والد کا کہنا تھا کہ بیٹا ذہنی مریض تھا، وہ اکثر اوقات ادھر ادھر نکل جاتا تھا اور ہم نے اس کے ہاتھ پر گھر کا پتا اور نام لکھوایا تھا تاکہ وہ گم ہوجائے تو کوئی اسے گھر پہنچادے

    ذہنی معذور صلاح الدین کے قتل سے آج ریاست اور شہریوں کے مابین یہ میثاق ننگ دھڑنگ سرِ بازار جھومر ڈال رہا ہے۔ لکھ رکھیے، کسی کے خلاف کچھ نہیں ہوگا، کوئی ذمہ دار انجام کو نہیں پہنچے گا۔ معمول کی محکمانہ کارروائی ہوگی اور فائل بند کر دی جائے گی۔

    پولیس میں اس طور کا تشدد کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ایسے سینکڑوں واقعات سالانہ رپورٹ ہوتے ہیں۔ اس کام کے لیے باقاعدہ ٹارچر سیل بنے ہوئے ہیں۔ پولیس کا یہ وطیرہ بھی نیا نہیں ہے

    صلاح الدین ایسے کئی بےگناہ، سرکاری کارندوں کے تشدد سے جان سے جاتے رہیں گے۔ ریاست محض تماشا دیکھے گی۔ وزیر اعظم سے لے کر وزراء تک عمل سے تہی داماں البتہ جملے بازی میں یدطولیٰ رکھتے ہیں۔

    حکومت کا دامن صدچاک ہے، جنہوں نے بخیہ گری کا خواب دکھایا تھا وہ خود اسے تار تار کرنے کے درپہ ہیں تو پھر ریاست کے دامن صد چاک کی بخیہ گری کون کرے گا؟؟

  • وزیراعظم عمران خان کے بھانجے نے صلاح الدین کے قتل کے خلاف عدالت جانے کا اعلان دیا

    وزیراعظم عمران خان کے بھانجے نے صلاح الدین کے قتل کے خلاف عدالت جانے کا اعلان دیا

    لاہور : مظلوم صلاح الدین کو بے دردی سے قتل کرنے والوں نے انسانیت کی غیرت کو چیلنچ کردیا . اسی چیلنج کو قبول کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کے بھانجے حسان نیازی نے صلاح الدین کے قتل کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کا اعلان کردیا

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے بھانجے حسان نیازی نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ وہ مظلوم ، مقتول اور مقہور صلاح پر ہونے والے ظلم کا ضرور حساب لے گا ، اپنے ویڈیو پیغام میں حسان نیازی نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ صلاح الدین کے قاتلوں کو انجام تک نہیں پہنچائیں گے تو پھر اس کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے

    https://youtu.be/ycLh2smUDOc

    اپنے ویڈیو پیغام میں حسان نیازی نے کہا ہےکہ وہ آئی جی پنجاب اور عثمان بزدار کو کٹہرے میں بلائیں گے اور پوچھیں گے کہ آخر ان کو قتل کرنے کے اور کروانے کا لائسنس کس نے دیا ہے. حسان نیازی نے کہا کہ وہ صلاح الدین کے کیس کو مثال بنائیں‌گے تاکہ کل کو کسی اور ماں کا صلاح الدین پنجاب پولیس وحشت کی بھینٹ نہ چڑھ جائے

  • پولیس اہلکار نے صلاح الدین کے ذہنی معذور ہونے کی تصدیق کردی

    پولیس اہلکار نے صلاح الدین کے ذہنی معذور ہونے کی تصدیق کردی

    اسلام آباد:صلاح الدین قتل کے حوالے سے تھانہ آئی نائن اسلام آباد پولیس کے سینئر اہلکار نے باغی ٹی وی کو بتایا کہ صلاح الدین نامی شخص کو ہم نے بھی ایک مرتبہ آئی نائن تھانہ کی حدود سے گرفتار کیا تھا اس پر چوری کا

    صلاح الدین پر بدترین پولیس تشدد کی تصویریں سامنے آگئیں
    الزام تھا اور اس نے فوری جرم کا اعتراف بھی کیا وہ دیکھنے میں ذہنی معذور لگتا تھا اس کی کیفیت دوسرے ملزمان سے الگ تھی وہ جو گذرتا اسے آوازیں دیتا القابات سے پکارتا کبھی پانی مانگتا
    صلاح الدین کی دوران پولیس حراست ہلاکت معاملہ ایس ایچ او اور تفتیشی آفیسر معطل مقدمہ درج
    اور کبھی کھانا اور وہ کبھی کبھی سنجیدہ باتیں بھی کرتا. اہلکار نے بتایا کہ پولیس کو دوران تفتیش مارنے کی اجازت نہیں ہوتی لیکن اس پر پریشر ڈال کر ہم اسے اگلواتے ہیں اس لئے اس نے فوری اعتراف کرلیا تھا اس
    تھانوں میں ملزمان پر جانوروں کی طرح تشدد، اسمبلی میں قرارداد جمع
    کے لواحقین سے رابطہ ہوا انہوں نے اس کے ذہنی معذور ہونے کی اطلاع دی اور اس کی ضمانت کروا لی تھی..
    "صلاح الدین کا مبینہ قتل ریاست کے سر پر ہے” محمد عبداللہ
    یاد رہے گزشتہ چند دن پہلے رحیم یار خان میں اے ٹی ایم مشین توڑنے کے جرم میں صلاح الدین دوران تفتیش پولیس کے تشدد کے دوران ہلاک ہوا

  • "صلاح الدین کا مبینہ قتل ریاست کے سر پر ہے” محمد عبداللہ

    "صلاح الدین کا مبینہ قتل ریاست کے سر پر ہے” محمد عبداللہ

    عمران خان صاحب آپ نے سانحہ ساہیوال پر کہا کہ میں بیرون ملک سے واپس آکر اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچاؤں گا اگر آپ واپس آچکے تو آپ کو خبر ہو کہ اب اک اور بے گناہ اور معصوم نوجوان صلاح الدین ان پولیس والوں کی درندگی کی بھینٹ چڑھ گیا. ہنسنے مسکرانے والا صلاح الدین جو خود تو چلا گیا لیکن اس نظام پولیس پر ایک ایسا زناٹے دار تھپڑ رسید کرگیا جو شاید اس کی موت کی ہی وجہ بن گیا. چہرے پر بچوں کی سی معصومیت لیے بھولے لہجے میں اپنے تفتیشی افسران سے کہنے لگا کہ جان کی امان پاؤں تو اک بات عرض کروں. اذن سوال ملنے پر جو بولا تو اس نظام پولیس اور درندگی کو عیاں کرگیا کہنے لگا کہ آپ نے انسانوں کو مارنا کہاں سے سیکھ لیا. اور پھر مبینہ طور پر جان کی امان نہ مل سکی اور سفید ریش بوڑھے باپ کو صلاح الدین کی میت ہی ملی جس پر مبینہ طور پر غیر انسانی تشدد کے آثار واضح ہیں. پولیس کی زیر حراست یہ موت پورے نظام پولیس اور ریاست کے سر پر ہے. اس مبینہ قتل کی ذمہ دار ریاست پاکستان ہے، یہ نظام تفتیش اور نظام پولیس ہے جو نہ جانے کتنی ماؤں کے لعل کھاگیا، کتنی بیویوں کے سہاگ اجڑ گئے، کتنی بہنیں اپنے بھائیوں کی راہ تکتی رہ گئیں اور کتنے ہی باپ اپنے بڑھاپے کے سہارے کی تلاش میں در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوئے.
    عمران خان صاحب، جناب قمر جاوید باجوہ صاحب، چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ صاحب، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی صاحب، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر صاحب ، عثمان بزدار صاحب، آئی جی پنجاب پولیس، مکمل پارلمینٹ، تمام قومی اداروں کے سربراہان صلاح الدین کا مبینہ قتل یہ ریاست پاکستان پر ہے آپ سب کے سر ہے اور پوری قوم کے سر پر ہے. آخر کب تک اس قوم کے بیٹے تفتیش کی اس درندگی کی بھینٹ چڑھتے رہیں گے. پولیس کے سپاہی اور افسران کب تک ترقیوں کے چکر میں بے گناہوں کو بہیمانہ طریقے سے قتل کرتے رہیں گے؟ ذہنی معذور صلاح الدین کا خون رائیگاں نہیں جانا چاہیے..
    اپنے دوستوں سے جو معصوم صلاح الدین کو ملک چوروں اور ڈکیتوں سے ملا رہے ہیں یا موازنہ کر رہے ہیں چھوٹا اور بڑا چور کہہ کر میں ان سے گزارش کرتا ہوں صلاح الدین چور نہیں تھا. وہ تو اس کیفیت میں تھا جس میں شریعت اسلامی بھی فرائض تک میں درگزر کرجاتی ہے. خدارا صلاح الدین کو چور کہہ کر اس کے والدین اور ورثاء کے دلوں پر چھریاں نہ چلائیں جو صلاح الدین سے پہلے ہی دو جواں سال بیٹے اس دھرتی کے لیے قربان کرچکے ہیں.

    Muhammad Abdullah