Baaghi TV

Tag: صنعت

  • صنعت کی ترقی سے معیشت مستحکم ہو گی،رانا تنویر

    صنعت کی ترقی سے معیشت مستحکم ہو گی،رانا تنویر

    وفاقی وزیر صنعت و پیداوار اینڈ فوڈ سیکورٹی ریسرچ رانا تنویر کی آذربایجان کے سفیر سے ملاقات ہوئی ہے

    ملاقات میں دو طرفہ تعاون اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال ہوا،ملاقات میں باہمی دلچسپی کے ایریاز میں ملکر کر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا سفیر آذربایجان کا کہنا تھا کہ زراعت صنعت و پیداوار میں سرمایہ کاری کے وسیع امکانات موجود ہیں ، وفاقی وزیر صنعت و پیداوار اینڈ فوڈ سیکیورٹی رانا تنویر کا کہنا تھا کہ پاکستان اور آذربائیجان کے مابین برادرانہ مضبوط تعلقات ہیں ،پاکستان آذربائیجان کے ساتھ تعلقات کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، صنعت و پیداوار میں اضافہ زرعی ترقی ہماری اولین ترجیح ہے،وزیراعظم پاکستان کے ویژن اور ہدایت زراعت پر خصوصی توجہ دی جارہی ھے،زراعت کو پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ھے، زراعت کی وجہ سے پاکستان ہر سال کثیر زر مبادلہ کماتا ہے ،ایکسپورٹ کو بڑھانے کیلیے عملی اقدامات کیے جارھے ہیں ،صنعت کی ترقی سے معیشیت مستحکم ہو گی

    وفاقی وزیر صنعت و پیداوار رانا تنویر حسین کی زیر صدارت شوگر ایڈوائزری بورڈ کا اجلاس

    روزے کی‌حالت میں حیض آ جائے تو کیا حکم ہے؟

    بشریٰ بی بی کو زہر،ذاتی معالج کی ملاقات،حقیقت سامنے آ گئی

    بشریٰ بی بی کامیڈیکل چیک اپ کروایا جائے، تحریک انصاف کا مطالبہ

    بشریٰ بی بی کو زہر دے کر عمران خان کو جھکانے کی کوشش کی جارہی ہے،زرتاج گل

    کھانے میں زہر،کوئی ثبوت ہے؟ صحافی کے سوال پر بشریٰ بی بی "لال” ہو گئیں

    توشہ خانہ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطل 

    بنی گالہ میں میرے شہد میں کچھ ملایا گیا تھا،بشریٰ بی بی کا الزام

  • آٹوموبائل انڈسٹری کوقومی معشیت میں کلیدی حیثیت حاصل ہے،سیکرٹری صنعت

    آٹوموبائل انڈسٹری کوقومی معشیت میں کلیدی حیثیت حاصل ہے،سیکرٹری صنعت

    سیکرٹری صنعت و تجارت ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے کہا ہے کہ آٹوموبائل انڈسٹری کوقومی معشیت میں کلیدی حیثیت حاصل ہے تاہم جی ڈی پی میں اس کاشیئر بڑھانے اور گلوبل مارکیٹ میں اپنا مناسب حصہ حاصل کرنے کیلئے حائل مشکلات اور چیلنجز کودور کرنا ہوگا، یہ سیکٹر ویلیو ایڈڈ ایکسپورٹس کے شاندار مواقع فراہم کررہا ہے اس لئے پنجاب حکومت آٹوموبائل انڈسٹری کے فروغ کیلئے ہر ممکن تعاون فراہم کررہی ہے.

    سیکرٹری صنعت و تجارت نے یہ بات پاپام کے زیر اہتمام ایکسپو سینٹر جوہر ٹاؤن میں صنعتی سیمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے کہی، ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے کہا کہ حکومت صنعتوں کے فروغ کیلئے پرعزم ہے، پنجاب میں سرمایہ کاری دوست ماحول موجود ہے،آٹوموٹواور انجینئرنگ سیکٹر سمیت انڈسٹری کے فروغ کیلئے سازگار فضا موجود ہے، انہوں نے کہا کہ صوبے میں 10 سپیشل اکنامک زونزز فنکشنل ہیں اور تین نئے اکنامک زونزز کیلئے وفاقی حکومت کو سفارشات بھجوائی گئی ہیں، ان خصوصی اقتصادی زونز میں ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لئے وسیع مواقع موجود ہیں.

    انہون نے کہا کہ صوبے میں سرمایہ کاروں کیلئے 24سمال انڈسٹریل اسٹیٹس بھی موجود ہیں، انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور آٹوموبائل اور انجینئرنگ سیکٹر کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے اسی طرح تیانجن یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی، میر چاکر خان یونیورسٹی ڈی جی جی خان اور رسول یونیورسٹی منڈی بہاؤ الدین اعلیٰ معیار کے ٹیکنالوجسٹس پیدا کررہی ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ اکیڈمیا اور صنعت کے مابین روابط بڑھائے جائیں، سیکرٹری صنعت و تجارت نے سیمنار کے انعقاد پرپاپام کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ایسے سیمنار پالیسی سازی کے عمل میں معاون ثابت ہوتے ہیں، اس سیمپوزیم میں سامنے آنے والی سفارشات سے استفادہ کیا جائے گا.

    سیکرٹری صنعت و تجارت ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے تین روزہ پاکستان آٹوشو کے انعقاد کو بھی خوش آئند قرار دیا، اس ایونٹ میں مقامی اور عالمی 153سے زائد نمائش کنندگان شریک ہیں، کاریں، ٹریکٹر اور موٹر سائیکل بنانے والی فیکٹریوں کے علاوہ آٹوپرزہ جات بنانے والے کارخانوں نے سٹالز لگا رکھے ہیں. چئیرمین پاپام عبدالرزاق گوہر، چیف آرگنائزر سیمپوزیم افتخار احمد اور دیگر نے بھی سیمنار سے خطاب کیا جبکہ صنعتکاروں کی بڑی تعداد نے سیمنار میں شرکت کی.

  • ٹیکس مراعات نہ دیں تو آئی ٹی صنعت بند ہو جائے گی ،وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی

    ٹیکس مراعات نہ دیں تو آئی ٹی صنعت بند ہو جائے گی ،وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی

    اسلام آباد: وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی امین الحق نے کہا ہے کہ ٹیکس مراعات نہ دیں تو آئی ٹی صنعت بند ہو جائے گی۔

    باغی ٹی وی : وفاقی وزیرانفارمیشن ٹیکنالوجی امین الحق نے پالیسی کمیٹی اور ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ فنڈ کے اجلاس کی صدارت کرتے کہا ہے کہ ایف بی آر کی پالیسیوں اور اسٹیٹ بینک کے کچھ قواعد ملک میں آئی ٹی ایکسپورٹ میں اضافے اور فری لانسرز کے ذریعے برآمدی ترسیلات کو بڑھانے میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔

    مہنگائی کا ایسا طوفان آنے والا ہے جو برداشت سے باہر ہوگا،بابر اعوان

    انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ مقامی ٹیلنٹ کام تو یہاں کررہا ہوگا لیکن کسی دوسرے ملک سے اپنی کمپنی کو آپریٹ کرکے سارا زرمبادلہ اور کریڈٹ اس ملک کو مل رہا ہوگا۔

    اجلاس میں وزارت آئی ٹی کے ماتحت ادارے یونیورسل سروس فنڈ کے مالی سال 2022/23 کیلئے 32 ارب 13 کروڑ روپے اور نیشنل ٹیکنالوجی فنڈ(اگنائٹ)کیلئے 3 ارب 75 کروڑ روپے کے بجٹ کی اصولی منظوری دی گئی۔

    واضح رہے کہ ٹیکس کی چھوٹ کی لاگت نے مسلسل چوتھے سال اپنے بڑھتے رجحان کو جاری رکھا جس کی بنیادی وجہ برآمدی صنعتوں کی لاگت کم کرنے کے لیے خام مال اور نیم تیار شدہ اشیا پر دیا گیا استثنیٰ تھا۔

    ایف بی آر نے رواں سال جنوری میں زیادہ تر سیلز ٹیکس کی مد میں تقریباً 350 ارب روپے کی چھوٹ واپس لی جبکہ آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت کھادوں اور مشینری پر جزوی چھوٹ دی گئی تھی-

    حال ہی میں وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے پاکستان اقتصادی سروے 22-2021 جاری کیا تھا جا کے مطابق ٹیکس چھوٹ 33.71 فیصد بڑھ کر17 کھرب 57 ارب روپے تک پہنچ گئی جو ایک سال پہلے 13 کھرب 14 روپے تھی۔

    کالے شیشوں، فینسی و بوگس اور بغیر نمبر پلیٹس گاڑیوں کےخلاف کریک ڈاؤن

  • ایران اور ہندوستان ملکرکشمیرکی پھلوں کی صنعت کوتباہ کرنے لگے

    ایران اور ہندوستان ملکرکشمیرکی پھلوں کی صنعت کوتباہ کرنے لگے

    سرینگر:ایران اور ہندوستان ملکرکشمیرکی پھلوں کی صنعت کوتباہ کرنے لگے ،اطلاعات ہیں کہ کشمیر ی تاجروں کا کہنا ہے کہ ایرانی سیبوں کی بھاری مقدار میں درآمد سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی سیبوں کی صنعت پر تباہ کن اثرات مرتب ہورہے ہیں اور نومبر کے وسط سے قیمتوں میں 40 فیصد کمی ہوئی ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق تاجروں نے کہاکہ شمالی بھارت میں سردی کی لہر اور جنوبی بھارت میں سیلاب کے بعد ہول سیل مارکیٹوں میں کشمیری سیبوںکی قیمتیں گرنے لگیں۔ اس کے ساتھ ہی ایرانی سیبوں کی درآمدسے جن کو بھارت میں ڈمپ کرنے کے بعد سستے داموں فروخت کیا جاتا ہے، کشمیری سیبوں کی تجارت کو نقصان پہنچاہے۔کشمیر میں سیبوں کے تاجر اور کاشتکار ایرانی سیبوں میں پھپھوندے کی بیماریاں پائے جانے کے بعد پریشان ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ درآمد شدہ سیب اپنے ساتھ نئی بیماریاں لا سکتے ہیں۔

    شوپیاں میں سیب کے ایک کاشتکار اور تاجر محمد اشرف وانی کاکہناتھا کہ کاشتکاروں اور تاجروں کی انجمن کشمیری سیبوں کے تحفظ کے حوالے سے پریشان ہے۔انہوں نے کہاکہ بھارتی حکومت نے حال ہی میں ایرانی کیویز میںکچھ نئی بیماریاںپائے جانے کے بعدفوری اقدامات کیے اور ان پر پابندی لگادی ۔ اب جب کہ ایرانی سیبوں میں بھی ایسی بیماریاں پائی گئی ہیں، حکومت کو فوری طور پر ان کی درآمد بند کر دینی چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ جہاں بھارتی سیب میں 40 بیماریوں کی نشاندہی کی گئی ہے، وہیں ایران میں پیدا ہونے والے سیبوں میں 400 سے زیادہ بیماریاں پائی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران سے تمام سیب سمندری راستوں کے ذریعے بھارت لائے جا رہے ہیں کیونکہ بیشتر ممالک نے بیماریوں اور دیگر معیار کے مسائل کی وجہ سے ایرانی سیب درآمد کرنے سے انکار کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ درآمد کو جلد از جلد بند کیا جائے۔

    مقبوضہ جموں وکشمیر میں واقع پھلوں کی پیداوار کی ایک کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اذہان جاوید نے کہا کہ درآمدسے نہ صرف قیمتیں گرجائیں گی بلکہ یہ نئی بیماریاں لا کر سیب کی صنعت پر تباہی مچا دے گی۔سرینگر میں پھلوں اور سبزیوں کی منڈی کے صدر بشیر احمد بشیر نے بتایا کہ تاجروں اور کاشتکاروں نے مالیاتی اداروں سے موٹے قرضے لے کر سیب کو کولڈ سٹوریج میں محفوظ کر رکھا ہے لیکن حکومت ایرانی سیبوں کی درآمد کی اجازت دے کر ان کے مستقبل سے کھیل رہی ہے۔بشیر نے کہا کہ کشمیری سیبوں کی قیمتوں میں 40 فیصد کمی ہوئی ہے جس سے تاجروں اور کاشتکاروںکوبھاری نقصان ہوا ہے۔