Baaghi TV

Tag: صنعتی ترقی

  • عالمی پابندیاں بھی روس کی صنعتی ترقی میں رکاوٹ نہ ڈال سکیں:ترقی کا سفرجاری

    عالمی پابندیاں بھی روس کی صنعتی ترقی میں رکاوٹ نہ ڈال سکیں:ترقی کا سفرجاری

    ماسکو :عالمی پابندیاں بھی روس کی صنعتی ترقی میں رکاوٹ نہ ڈال سکیں:ترقی کا سفرجاری ہے اور اس سلسلے میں روس کی ترقی کے سفر کے بارے میں روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ قومی ماہی گیری کا شعبہ بیرونی پابندیوں کے باوجود پائیدار ترقی جاری رکھے گا۔

    ماسکو میں میڈیا سے بات چشیت کرتے ہوئے روسی صدر کا کہنا تھا کہ میں آبی حیاتیاتی وسائل کی پیداوار کے حجم کے اچھے نتائج سے متعلق بات کرنا چاہوں گا۔

    انہوں نے کہا کہ آج بین الاقوامی منڈی میں ہماری سمندری خوراک کی سپلائی بڑھ رہی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ روسی ماہی گیری کی صنعت پائیدار ترقی کرتی رہے گی اور اپنی مسابقت کو بڑھاتی رہے گی۔

    پابندیوں کے باوجود روسی ماہی گیری صنعت کی ترقی جاری ہے اسی سلسلے میں روسی صدر نے مزید کہا کہ ریاست یقینی طور پر کمپنیوں اور لیبر ٹیموں کو ترجیحی کاموں کے حل کے لیے مطلوبہ اور ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔

    روس کے سربراہ نے کہا کہ یہ گھریلو پیداوار کے وسائل کی بنیادی ترقی ہے اور اس کی وجہ سے اعلیٰ معیار کی مصنوعات کی ایک وسیع رینج کے ذریعے مقامی مارکیٹ کی کامیابی ہے۔ ایسی مصنوعات “مختلف درجے کی آمدنی والے شہریوں کے لیے سستی ہونی چاہئیں۔

  • چین کو عالمی صنعتی چین سے باہر رکھنے کی کوشش امریکہ کے لیے نقصان دہ ثابت ہو گی:عالمی میڈیا

    چین کو عالمی صنعتی چین سے باہر رکھنے کی کوشش امریکہ کے لیے نقصان دہ ثابت ہو گی:عالمی میڈیا

    ایک طرف امریکہ چین پراقتصادی پابندیاں عائد کررہا ہے تو دوسری طرف امریکہ نے نام نہاد ویغور جبری مشقت کی روک تھام کے ایکٹ کے تحت، سنکیانگ سے ہر قسم کی مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کر دی ہے۔ امریکہ کا یہ اقدام مارکیٹ اکانومی کے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ اس کا اصل مقصد یہ ہے کہ امریکہ چین سے تجارتی امور میں “ڈیکپلنگ” چاہتا ہے، سنکیانگ اور یہاں تک کہ پورے چین کو عالمی صنعتی چین سے باہر کرنا چاہتا ہے، تاکہ چین کو کنٹرول کرنے کے لیے نام نہاد سنکیانگ کا استعمال کیا جا سکے۔

    ایک جرمن میڈیا نے تبصرہ کیا کہ امریکی سنکیانگ ایکٹ سے چینی صنعت پر تو زیادہ اثر نہیں پڑے گا مگر امریکی صنعت متاثر ہو گی۔ کچھ تجزیہ کاروں نے نشاندہی کی کہ امریکی سیاست دانوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ ایکٹ عالمی صنعتی چین کی “ڈی-امریکنائزیشن” کی علامت بن جائے گا، جس کی منظوری خود امریکہ دے رہا ہے۔

    آج عالمگیریت کے دور میں، سنکیانگ کی مصنوعات اور خام مال دنیا کے کئی حصوں کو برآمد کیا جاتا ہے ، جو عالمی صنعتی چین کا احاطہ کرتے ہیں۔ سنکیانگ کے ویغور کارکن بھی بڑے پیمانے پر کاروباری اداروں کے پیداواری عمل میں شامل ہیں اور بہتر زندگی کے لیے کوشاں ہیں۔ امریکہ نے سنکیانگ کی مصنوعات کو خارج کرنے کی کوشش میں نام نہاد “جبری مشقت” کا جھوٹ گھڑا ہے جبکہ درحقیقت وہ خود کو عالمی منڈی سے الگ تھلگ کر رہا ہے۔

    تاریخی طور پر، امریکہ معاشی عالمگیریت کا بنیادی آغاز کنندہ اور اسے فروغ دینے والا رہا ہے، اور سب سے زیادہ فائدہ بھی امریکہ نے ہی اٹھایا ہے۔ تاہم اب کچھ امریکی سیاست دان معاشی عالمگیریت کے عمل کو منقطع کرتے ہوئے اسے تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ وقت ثابت کرے گا کہ دوسروں کا راستہ روکنے کی کوشش بلا آخر اپنا راستہ روکنے کے مترادف ہو گی ۔