پشاور ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی سنیٹر اعظم سواتی, سابق وفاقی وزیر مراد سعید اور سابق صوبائی وزیر عاطف خان کے خلاف مقدمات کی تفصیل فراہمی سے متعلق درخواست پر سماعت میں عدالت نے حکومت سے جواب طلب کرلیا
سماعت جسٹس اعجاز انور اور جسٹس سید ارشد علی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے سماعت کی، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل دانیال چمکنی, درخواست گزار وکیل قاضی انور ایڈوکیٹ, شاہ فیصل اتمانخیل اور ندیم شاہ ایڈوکیٹ عدالت میں پیش ہوئے، عدالت نے حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا، کیسں قابل سماعت ہے کہ نہیں ہم دیکھیں گے۔ جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ حکومت یہ تو بتا دیں کہ ان کے گھروں پر ریڈ کیوں ہورہے ہیں۔ قاضی انور ایڈووکیٹ نے کہا کہ یہ پبلک انٹرسٹ کاکیس ہے اعظم سواتی سینیٹر ہے اور مراد سعید بھی سابق قومی اسمبلی ممبر ہے۔ عدالت نے کہا کہ حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہیں بتا دیں کہ ان کے خلاف کتنے کیسز ہے۔ عدالت نے کہا کہ 5 جولائی کو اس کیس کو دوبارہ سنے گے۔ اے اے جی نے کہا کہ عید کی چھٹیاں ہے 5 جولائی سے آگے تاریخ دے دیں۔جس پر عدالت نے برہم ہوتے ہوئے کہا کہ پولیس کی کوئی چھٹی نہیں ہوتی جواب جمع کریں۔ عدالت نے حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت 5 جولائی تک ملتوی کردی۔
Tag: صوبائی وزراء

پشاور ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی کے سابق وزراء کے خلاف مقدمات پر سماعت

فرح گوگی کو ریڈ وارنٹ کے ذریعے لائیں گے،صوبائی وزراء
صوبائی وزرا اور لیگی رہنما ملک احمد خان اور عطاءاللہ تارڑ نے کہا ہے کہ عمران خان نئے جھوٹ گھڑنے کے ماہر ہیں، حکومت ختم ہونے لگی تو بیرونی سازش کا بیانیہ دیا گیا، پاکستان کو خطرہ بیرونی نہیں عمران خان کی اندرونی سازش سے ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لیگی رہنماوں ملک احمد خان اور عطاءاللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ ساڑھے تین سال عوامی خدمت کے نام پر لوٹ مار ہوتی رہی، تحریک انصاف ضمنی الیکشن پر اثرانداز ہونے کی کوشش کررہی ہے، جو عمران خان کے خلاف بولے وہ غدار، کرپشن چھپانے کیلئے الزامات لگانا ان کا ویترہ ہے۔
مخالفین کے خلاف غداری کا بیانیہ بنایا جائے، بشریٰ بی بی کی مبینہ آڈیو لیک
ملک احمد خان نے مزید کہا کہ عمران خان نے اپنی حکومت جانے کےبعداداروں کیخلاف ہرزہ سرائی شروع کردی، وہ اپنے سوا تمام سیاسی جماعتوں کو ناسمجھ کہتے اور خود کو حق اور سچ کا علمبردار سمجھتے ہیں، اپنی خفت مٹانے کیلئےنت نئے جھوٹ گھڑتے رہتے ہیں، حکومت ختم ہونے لگی تو بیرونی سازش کا بیانیہ بنا دیا۔ سازش سے متعلق ایک خط کا چرچا کیا گیا، اگرسازش کاپتہ چل گیا تھا تو اس ملک کےسفیر کو کیوں نہیں بلایا، اس ملک کو جوابی مراسلہ کیوں نہیں لکھا۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان نے بیرونی سازش کانام لے کراندرونی سازش کی، بیرون ملک سے ملےتحائف بیچ دیئے، عمران خان کو”توشہ خان” سے بہتر نام نہیں دیا جا سکتا، یہ عوامی خدمت کے نام پر عوام کو لوٹتے رہے۔ عمران خان کے آئینی حدود میں رہ کرسیاست کرنے پر اعتراض نہیں، انہوں نے کرپشن کی بنیاد پر جھوٹ کی سیاست کی۔
ملک احمد خان نے کہا کہ ، کہا جاتا تھا عمران خان کی بیوی ایک گھریلو خاتون ہیں، اگر یہ گھریلو خاتون نہ ہوتی تو شاید ایٹم بم چلاتی،اس آڈیو میں کہا گیا کہ جو بھی پارٹی چھوڑے علیم خان صاحب کو غداری سے جوڑ دیا جائے،مولانا فضل الرحمان یا جو بھی لوگ آج حکومت میں ہیں،اگر آپ کے خلاف سازش ہوئی تھی تو اس ملک کے ایمبیسیڈر کو کیوں نہیں بلایا، امریکی ایمبیسیڈر ڈونلڈ لو ہمارے سفیر سے بات کررہے ہیں، مطلب میں روس سے بات کررہا ہوں گا تو دوسرے ممالک بات کرتے ہیں، سازش کے لغوی معنی تو سمجھ لو
ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ آپ نے بیرونی سازش کا نام لے کر اندرونی سازش کی،آپ نے عسکری اداروں سے مدد مانگی ،کسی کو سراج الدولہ کسی کو میر جعفر کہا تو آپ کا اپنا کردار کیا ہے، ان کا توشہ خان سے بہتر نام کوئی نہیں دیا جاسکتا،ان کی بیوی تحفے ساتھ لے گئی، فارن فنڈنگ کے معاملات سب کے سامنے ہے،شوکت خانم کے معاملات کو سیاست میں تبدیل کیا گیا،اگر یہ حکومت میں ہوں تو جنرل باجوہ بہترین ڈیموکریٹ ہیں ، بہترین جنرل ہیں، ہر ہفتے جنرل باجوہ کی تعریف کرنا اپنا فرض سمجھتے تھے،عمران خان نے کرپشن کے بیانیے کی بنیاد پر ن لیگی قیادت کے کیسز میں ایک مناسب گواہ موجود نہیں تھا،پہلے کہتے رہے کہ دس ارب روزانہ ملک سےباہر چلے جاتے ہیں، یاسمین راشد نے کہا کہ ریاستی ادارے ضمنی الیکشن میں اثر انداز ہورہے ہیں کوئی ایک کال دکھا دیں، پہلا ہائی کورٹ کا فیصلہ ان کے حق میں تھا یہ سپریم کورٹ میں چلے گئے،گھرانہ ڈاٹ کام کس کا ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے، ارسلان خالد ڈیجیٹل میڈیا سے کروڑوں روپے لوگوں کو دیتے رہے، ریاست پاکستان کا پیسہ آپ کے باپ کا پیسہ نہیں تھا،
ملک احمد خان نے کہا کہ آپ نے پاکستان کے اداروں کے خلاف سازش کی، آپ پاکستان کے ساتھ برا کیا، آپ نے پاکستان کی سفارت کو گندا کیا،آپ کہتے ہیں کہ دوسرا ملک سازش کررہا ہے تو آپ کا صدر عارف علوی اس سے مل رہا ہے،فرح گوگی کس کو نہیں پتہ تھانے بکے ہیں، کس کو نہیں پتہ اربوں روپے سی اینڈ ڈبلیو سے بزدار کی جیب میں گئے اور وہاں سے فرح گوگی اور پنکی پیرنی کی جیب میں گئے، ضمنی الیکشن میں بیس میں سے اٹھارہ انیس سیٹوں کو انشاء اللہ ہم جیتے گے.
عطاء اللہ تارڑنے کہا کہ ہمارے سے سوال یہ ہوتا تھا کہ کاروائی نہیں کرتے، یکم جولائی کو اینٹی کرپشن پنجاب نے ایک ایف آئی آر درج کی ہے، دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے،فرح گوگی صاحبہ نے دس ایکڑ کا انڈسٹریل پلاٹ جس کی قیمت ساٹھ کروڑ کا ہے آٹھ کروڑ میں الاٹ کروایا ہے،فرح گوگی کی والدہ کا نام بھی بشری خان ہے، احسن جمیل نے جعلی بینک گارنٹی دے کر یہ پلاٹ الاٹ کروایا ہے، رانا یوسف اور مقصود احمد کو گرفتار کیا ہے، یہ کلیئر کیس ہے عمران خان ایک عام آدمی نہیں ہے.
انہوں نے کہا کہ چھوٹے چھوٹے پیکٹ میں پیسے جانے کام عمران خان نے شروع کیا ،پنجاب کے اندر تھوک کے حساب سے ہاؤسنگ سوسائیٹیوں کو اپروو کیا گیا،یہ ڈائمنڈ چھوٹے چھوٹے پیکٹوں میں باہر جاتا تھا،وزیر اعظم واحد چیز توشہ خان کو ہاتھ ڈال سکتا ہے عمران خان نے ڈالا، کیا آپ کو باجوہ صاحب نے کہا تھا کرپشن کریں؟، آپ کی کرپشن سامنے آتی ہیں تو کہتے ہیں فوج اور جنرل باجوہ ٹھیک نہیں ہے.
عطاء تارڑ کا کہنا تھا کہ عمران خان بے نامی دار ہیں، بشری بی بی ، احسن جمیل اور فرح گوگی کے سربراہ عمران خان ہیں، جو خان صاحب کے خلاف بولے وہ غدار ہے،نیوٹرل کا کوئی قصور نہیں ہے آپ پچاس کروڑ سے کم کا ڈاکا نہیں ڈالتے، پھر کہتے ہیں فوج اور نیوٹرل بڑے خراب ہیں، ہم فرح گوگی کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے جارہے ہی، اگر عمران خان سچا ہے تو قسم کہا کر کہے اسے بشری بی بی ، فرح گوگی اور احسن جمیل کا پتہ نہیں تھا، شام کو ان کے لوٹے ہوئے پیسوں پر میٹنگز ہوتی تھی، جس دن بھی فرح گوگی اور احسن جمیل واپس آئے ایک گھنٹے میں وعدہ معاف گواہ بنے گے،ان کے وزیر کان میں کہتے ہیں خان صاحب اسلامی ٹچ دینا.
انہوں نے مذید کہا کہ بشری بی بی اسلامی سرٹیفکیٹ بانٹ رہی ہے، پنجاب کے گھپلے ایک ایک کرکے سامنے آئیں گے، خان صاحب کا انجام مجھے اچھا نظر نہیں آرہا، ملتان سے مظفر گڑھ ، مظفر گڑھ سے پنڈی تک یہ چھوٹی چھوٹی جلسیاں کررہے ہیں،اگر عمران خان کو پکڑنا ہو تو وہ منشیات استعمال کرتے ہیں،دنیا جانتی ہے وہ منشیات استعمال کرتے ہیں، یہ جیل اس لئے نہیں جاتا،کیونکہ اس کو کوکین کون پہنچائے گا،خان صاحب کو گرفتار کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے،ان کی اہلیہ اور اس کا سابق خاوند ارب پتی ہوگئے ہیں،عمران خان جو کررہے ہیں وقت بتائے گا. ہم ریڈ وارنٹ کے ذریعے ان کو واپس لائیں گے، فرح گوگی نے مجھے چھ ارب کا لیگل نوٹس بھجوایا ہے.
ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ ہماری فوج پر تنقید سیاسی تھی،ہم نے ریاستی اداروں پر بے بنیاد الزامات نہیں لگائے ،توشہ خان جو نواز شریف کا کیس بے بنیاد ہے وہ گاڑی سے متعلق ہے ، ہم نے تو ان سوالوں پر جواب دیئے جو نہیں بنتے تھے، عمران خان کو اپنی شکست نظر آرہی ہے تو وہ اداروں پر الزام لگارہے ہیں.

حکومت چلی گئی عمران خان کی ہیرا پھیری نہیں گئی، صوبائی وزراء
صوبائی وزیر خزانہ اویس لغاری، صوبائی وزیر داخلہ عطاء اللہ تارڑ، صوبائی وزیر قانون ملک احمد خان نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ن لیگ جب حکومت میں آئی توحمزہ شہباز وزیر اعلئ بنے، ہمارا یقین ہے کہ اقتدار نچلے طبقے تک لے کرجانا ہے، اس قانون پر کام کیا گیا پھر اس کو کابینہ میں لے کر گئے،صوبائی وزیر خزانہ اویس لغاری نے کہا کہ اربن اور رورل کو دوبارہ تقسیم کیا ہے، جب تک میونسپل کمیٹی نہیں بنتی سسٹم نہیں چل سکتا، چودہ نئی میونسپل کارپوریشن فارم کی جارہی ہیں،دو سو پینتیس سے زیادہ میونسپل کمیٹیاں چیئرمین اور وائس چیئرمین کا براہ راست انتخاب ہوگا،یونین کونسلز کو صحیح طرح مضبوط کرنے جارہے ہیں.
عارف علوی کا بھی احتساب ہوگا،حمزہ شہباز
اویس لغاری کا کہنا تھا کہ لوکل گورنمنٹ کا دس فیصد حصہ یونین کونسل میں جایا کرے گا، یونین کونسل کا وائس چیئرمین اپر ہاؤس میں جائے گا اور تحصیل کی حکومت کو ہیڈ کرے گا عمران خان پیسے والے لوگوں کو لے کر آگے آرہے تھے، ہم غریب آدمی کو آگے لے کر آرہے ہیں،اگر کوئی افسر صحیح کام نہیں کرے گا تو یو سی افسران اس کو تبدیل کرسکے گے، گیارہ گریڈ کے افسران پی سی ایس کے ذریعے بھرتی کیئے جائیں گے
انہوں نے کہا کہ چیک اینڈ بیلنس کا مکمل طریقہ کار وضع کیا گیا ہے،جہاں وزیر اعلی چیئرمین نہیں ہے وہاں لوکل گورنمنٹ کے افسران چیئر کریں گے، لوکل گورنمنٹ کے سربراہان کو خودمختاری دی جائے گی،اس اقتدار کو ہم ہر یو سی لیول تک لے کر جارہے ہیں
، جلد از جلد ان حکومتوں کا قیام بھی یقینی بنائیں گے، پچاس ہزار سے زیادہ لوگ عوام کے بنیادی مسائل حل کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں گےصوبائی وزیر قانون ملک احمد خان نے کہا کہ صاف دیہات پروگرام اس کے ساتھ منسوب ہے، پنجاب کے طول و عرض میں صفائی کا بہترین نظام وضع کریں گے، آج کچھ قوانین پنجاب اسمبلی سے متعلق بھی پاس کیئے گئے ہی، دو ہزار بیس میں ایک بل پاس کیا گیا قوانین کے حوالے سے اس کو واپس اس کی اصل شکل میں لے کر آئے ہیں، پنجاب میں کیا گیا تھا کہ میرا اپنا سیکرٹری ہوگا تو اپنی مرضی سے چلو گا،صحافیوں کے حوالے سے ایک بل پاس کیا گیا تھا کہ کوئی صحافی خبر دے گا تو چھ ماہ جیل ہوسکتی ہے، چیئرمین نیب کے پاس بھی ایسا اختیار نہیں تھا، پنجاب کے آٹھ اضلاع متاثر تھے ٹول پلازوں کی وجہ سے اورٹول پلازوں سے عوامی تکلیف بہت زیادہ تھی ان گیارہ ٹول پلازوں کو ختم کردیا گیا ہے
ملک احمد خان نے مزید کہا کہ عمران خان ، فواد چوہدری نیوٹرل فوج کے سربراہ کو کہتے ہیں، پہلے ان کو کہتے ہیں کہ ہماری حکومت قائم کروائے نہیں کرواتے تو گالیاں دیتے ہی، کل ایک پروگرام میں کہا گیا کہ فوج اور عدلیہ کا آئینی کردار ہے، بیس بائیس پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کے لوگ پکڑے جاتے ہیں،وہ فوج اور عدلیہ کی کردار کشی کرتے ہیں، جب وہ میری کردار کشی کریں گے تو میں حق رکھتا ہوں کہ قانونی کاروائی کروں،کبھی کہتے ہیں نیوٹرل نیوٹرل نہیں ہیں، وہ کیا کہنا چاہتے ہیں. ہم عمران خان ، فواد چوہدری کے خلاف قانونی کاروائی بھی کرسکتے ہیں ہتک عزت کا دعوی بھی کرسکتے ہی،عدلیہ میں یہ پراسیس سلو ہے اس کے لئے ترمیم کرنا پڑی ہے ،اگر تم قائم رہو تو ٹھیک ہے باقی سب برباد ہوجائیں ، فواد چوہدری، قاسم سوری اور عمر چیمہ سمیت پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں نے آئین شکنی کی ہے ان کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی ہونی چاہیے جب کہ جھوٹی خبریں پھیلانے والوں کے خلاف ہتک عزت کے مقدمات چلانے پر غور کررہے ہیں
صوبائی وزیر داخلہ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پچھلے دنوں ایک صحافی یہ کہہ رہے تھے کہ عمران خان آدھی پانی کی بوتل بھی لے جاتے ہیں، ہمارا یہی کیس ہے وہ کچھ نہیں چھوڑتے انھوں نے مشرق وسطی میں جاکر بیچا، یہ تین اور پانچ کیرٹ کے تحفے مانگتے رہے لوگوں کے بڑے کام کیئے ہیں، کبھی فوج کبھی عدلیہ پر حملہ کرتے ہیں، آپ کی بیوی کی سہیلی فرحت شہزادی نے کرپشن کے انبار لگادیئے، منی لانڈرنگ آپ نے کی ہے،آج بڑا اچھا لگا عمران خان گرمی کے موسم میں کسی عدالت میں گئے.
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ یہ اسلام آباد آئے جب لوگ نہ نکلے تو واپس چلے گئ، پشاور حکومت کو عمران خان کئی کروڑ کے پڑتے تھے،حکومت چلی گئی عمران خان کی ہیرا پھیری نہیں گئی، اتوار کے روز کسی نے قانون ہاتھ میں لیا تو قانونی کاروائی کی جائے گی
،ابھی تک کوئی درخواست نہیں ملی.سابق وزیراعلی عثمان بزدار پر دو ایف آئی آر ہیں اصل بے ایمانی عمران خان کی ہے،عمران خان نے وزیر اعظم اور وزیر اعلی کے اختیار بشری مانیکا اور فرح گوگی کو دیئے ہوئے تھے،اسپیکر نیشنل اسمبلی سے کہوں گا ان کی تنخواہیں بند کریں انہوں نےبل جلائیں اور بعد میں ادا بھی کئے.بنتے پھرتے ہیں ایماندار اور غیرت مند یہ فواد چوہدری بھی قومی اسمبلی سے تنخواہ لے رہا ہے،فواد صاحب استعفی دیا ہے تو نہ کریں ایسے. خان صاحب کہتے تھے کسی کے باپ کا پیسہ نہیں تو یہ کسی کے باپ کا پیسہ نہیں ہے، ڈ ٹ کے کھڑا ہے اب کپتان اس کی حقیقت ہے چھپ کے کھڑا ہے اب کپتان.میڈیا کا یہ کام نہیں ہے کہ کسی کی سائیڈ لے ،امن و امان خراب کرنے کی کسی کو اجازت نہیں ہے.ملک احمد خان نے کہا کہ یہ سیریز قاسم سوری سے شروع ہوتی ہے جوعمران خان ، فواد چوہدری اور دیگر پر جاتی ہے،یہ کہتے ہیں فوج اورعدلیہ کا سیاسی کردار ہے اس کے بعد گنجائش نہیں ہے،ان پرآرٹیکل پانچ اور چھ واضح طور پر آتا ہے،وفاقی حکومت سے اس پر بات کریں گے.ریاست کے اداروں سے بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے، کاش عمران خان کے کیسز کی ویسے تحقیق ہو جیسے نواز شریف کے خلاف فیصلے آئے تھے، میری بات آئین اور قانون کے دائرے میں ہے، درست صحافت کریں گے تو کوئی اعترازض نہیں ہوگا


