Baaghi TV

Tag: صوبہ سندھ

  • سندھ: زراعت شماری 2024 مربوط ڈیجیٹل گنتی کا افتتاح

    سندھ: زراعت شماری 2024 مربوط ڈیجیٹل گنتی کا افتتاح

    پاکستان بالخصوص صوبہ سندھ میں زرعی شعبے کی ترقی کے لیے ایک اہم قدم کے طور پر، ساتویں زراعت شماری 2024 مربوط ڈیجیٹل گنتی کا سرکاری طور پر افتتاح کیا گیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق صوبائی وزیر برائے لائیواسٹاک اینڈ فشریز محمد علی ملکانی نے کسانوں کی بہتری, مویشیوں کی پیداواری صلاحیتوں میں اضافے اور فوڈ سیکیورٹی کے لیے انقلابی قدم قرار دیا. سندھ سیکریٹریٹ کراچی میں منعقدہ اس تقریب میں اہم شخصیات نے شرکت کی، جن میں وزیر برائے لائیو اسٹاک اور فشریز محمد علی ملکانی، وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقیات اور توانائی سید ناصر حسین شاہ اور چیف اسٹیٹسٹیشن، پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس (PBS)، ڈاکٹر نعیم الظفر شامل تھے۔تقریب میں مختلف صوبائی محکموں کے سیکریٹریز، ڈائریکٹر جنرلز اور دیگر افسران نے بھی شرکت کی۔اپنے کلیدی خطاب میں ڈاکٹر نعیم الظفر نے اس زراعت شماری کی تبدیلی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا، "یہ صرف ایک ڈیٹا اکٹھا کرنے کی مشق نہیں ہے، بلکہ یہ شواہد پر مبنی فیصلے کرنے کی بنیاد ہے جو ہمارے زرعی شعبے کو پائیدار ترقی کی طرف لے جائے گی۔پہلی بار، ہم ایک مربوط اور مکمل طور پر ڈیجیٹل طریقہ اختیار کر رہے ہیں، جس میں زرعی، لائیو اسٹاک اور مشینری کے شمار کو ایک جامع آپریشن میں ضم کیا گیا ہے۔زراعت شماری کے مقاصد کو بیان کرتے ہوئے، ڈاکٹر نعیم الظفر نے مزید کہا، "یہ زراعت شماری پاکستان کے زرعی ڈھانچے، فصلوں کے نمونوں، لائیو اسٹاک کی آبادی، اور مشینری کے رجحانات کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرے گی۔جدید آلات جیسے کہ ٹیبلٹ پر مبنی ڈیٹا کلیکشن، جی آئی ایس ڈیش بورڈز، اور ریئل ٹائم مانیٹرنگ کا استعمال درستگی، اعتماد اور بروقت ڈیٹا کی فراہمی کو یقینی بناتا ہے۔ یہ منصوبہ بین الاقوامی بہترین طریقوں اور فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (FAO) کے رہنما اصولوں کے مطابق ہے۔انہوں نے تیاریوں کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ سندھ میں 1,695 زراعت شماری کنندگان اور نگرانوں کو 30 مقامات پر تربیت دی گئی ہے تاکہ ڈیٹا کے معیار کو یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے سندھ کی زرعی معیشت میں اہم کردار کی بھی تعریف کی, جس میں 82 لاکھ ایکڑ قابلِ کاشت زمین شامل ہے اور کپاس، چاول، گنا، اور گندم جیسی اہم فصلیں پیدا کی جاتی ہیں۔تقریب میں، وزیر برائے لائیو اسٹاک اور فشریز، محمد علی ملکانی نے اپنے خطاب میں کہا، "یہ زراعت شماری ہمارے زرعی طریقوں کو جدید بنانے اور خوراک کی یقین دہانی، ماحولیاتی بحران، اور دیہی ترقی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک تاریخی قدم ہے۔سندھ کا زرعی شعبہ اس کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، جو ہماری 37 فیصد آبادی کو سہارا دیتا ہے۔ اس زراعت شماری سے حاصل ہونے والی معلومات پالیسی سازوں کو بہتر فیصلے کرنے اور پائیدار ترقی کو آگے بڑھانے کے قابل بنائے گی۔وزیر نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں، تعلیمی اداروں، اور دیگر متعلقہ شراکت داروں کی مشترکہ کاوشوں کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا، "ہم جو ڈیٹا اکٹھا کریں گے، اس کے دور رس اثرات ہوں گے، جو کسانوں کی بہتری، پیداواری صلاحیت میں اضافہ، اور خوراک کی حفاظت کو مضبوط بنائیں گے۔سید ناصر حسین شاہ، وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقیات اور توانائی نے بھی تقریب سے خطاب کیا اور کہا، "ہماری حکومت جدید طریقوں کے ذریعے زرعی شعبے کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہے۔ یہ زراعت شماری اس وژن کو پورا کرنے کی ایک اہم کڑی ہے۔تقریب میں موجود صحافیوں نے معززین سے سوالات کیے، جن میں گزشتہ 16 سال سے زراعت شماری کے نہ ہونے کی وجوہات اور موجودہ شماریات کی درستگی، مطابقت اور کارکردگی پر سوالات شامل تھے، خاص طور پر ماحولیاتی بحران کے تناظر میں۔فیلڈ آپریشنز یکم جنوری سے 10 فروری 2025 تک جاری رہیں گے، جبکہ حتمی نتائج اگست 2025 تک متوقع ہیں۔ یہ منصوبہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان تعاون اور ٹیکنالوجی کے ذریعے گورننس کو بہتر بنانے اور زرعی شعبے کی پائیدار ترقی کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے۔

    مجلس وحدت مسلمین کا ملک بھر میں دھرنے ختم کرنے کا اعلان

    سندھ نے وفاقی اداروں سے پانی کے 20 ارب مانگ لیے

    دُھند کا راج برقرار، موٹر وے سیکشنز بند

  • وزیر اعلیٰ سندھ  کا بچوں کےلیے سندھ بھر میں مخلوط تعلیم کی ضرورت پر زور

    وزیر اعلیٰ سندھ کا بچوں کےلیے سندھ بھر میں مخلوط تعلیم کی ضرورت پر زور

    کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اجالا سنٹر کا دورہ کیا-

    باغی ٹی وی: انتظامیہ سے ملاقات میں خصوصی ضروریات کے حامل بچوں خصوصاً آٹزم کا شکار بچوں کے مسائل پر تبادلہ خیال کیا وزیرا علیٰ سندھ کو اجالا 2 سی آرٹس پروجیکٹ کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی،منصوبے کا مقصد آٹزم اور اس سے متعلقہ حالات کا شکار بچوں کی مدد کرنا ہے-

    سید مراد علی شاہ نے بچوں کےلیے سندھ بھر میں مخلوط تعلیم کی ضرورت پر زور دیا، وزیراعلیٰ سندھ نے خصوصی ضروریات کے حامل بچوں کےلیے کلفٹن میں وقف پارک بنانے کا اعلان کیا،وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پارک میں جسمانی اور ذہنی معذوری کا شکار بچوں کی ضروریات کے مطابق سہولیات ہوں گی –

    زیادہ ورکرز جمع نہیں کر سکیں گے،قیادت کی عمران خان سے 24 نومبرکی کال واپس …

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ ویل چیئر راستہ اور سینسرز سے لیس پلے ایریا بھی بنایا جائےگا، ہم بچوں کی ایسے ماحول میں نشونما چاہتے ہیں جہاں وہ خود کو ماحول کا حصہ، با اختیار اور حمایت یافتہ محسوس کریں، وزیراعلیٰ سندھ نے مجوزہ خصوصی شہر کے منصوبے پر بھی روشنی ڈالی –

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ منصوبے میں تمام رہائشیوں خصوصاً معزوری کا شکار افراد کےلیے جامع ماحول موجود ہوگا، منصو بے میں پبلک انفرا اسٹرکچر، خصوصی ٹرانسپورٹ سہولیات اور آگاہی پھیلانے کا بندوبست بھی ہوگا-

    اے آر رحمان کی گٹارسٹ کا بھی شوہر سے علیحدگی کا اعلان

  • صوبہ سندھ کا رواں ماہ مالی سال کا بجٹ 10 جون کو پیش کیا جائے گا

    صوبہ سندھ کا رواں ماہ مالی سال کا بجٹ 10 جون کو پیش کیا جائے گا

    کراچی: صوبہ سندھ کا مالی سال 2023-24 کا بجٹ 10 جون کو پیش کیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی: محکمہ خزانہ کے حالیہ اعلان کے مطابق صوبہ سندھ کا مالی سال 2023-24 کا بجٹ10 جون کو پیش کیا جائے گا،بجٹ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ صبح 11 بجے پیش کریں گے۔

    پی سی بی نیوزی لینڈ میں وائٹ بال کرکٹ سیریز کھیلنے پر رضا مند

    سیکرٹری سندھ اسمبلی کو لکھے گئے خط میں محکمہ خزانہ نے بجٹ پیش کرنے کی تاریخ اور وقت کی تصدیق کردی، یہ سالانہ مالیاتی منصوبہ بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ آئندہ مالی سال کے لیے فنڈز کی تقسیم اور حکومتی ترجیحات کا خاکہ پیش کرتا ہے۔

    واضح رہےکہ مالی سال وفاقی بجٹ سندھ کے بجٹ کےاعلان سے ایک روز قبل 9 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے، وفاقی اور صوبائی بجٹ کے درمیان ہم آہنگی خطے میں وسائل کی تقسیم اور ترقیاتی اقدامات کے تعین میں اہم کردار ادا کرے گی۔

    نیب کا بشریٰ بی بی کو گواہ بنانے کا فیصلہ

    سندھ کے بجٹ کی پیش کش میں بیان کردہ بجٹ کے فیصلوں اور پالیسیوں کےمختلف شعبوں بشمول تعلیم،صحت کی دیکھ بھال، انفراسٹرکچر اور سماجی بہبود پر نمایاں اثرات مرتب ہوں گے۔

  • صوبہ سندھ میں بارشوں کی تباہ کاریوں سے چالیس ارب روپے کا نقصان ہوا،مراد علی شاہ

    صوبہ سندھ میں بارشوں کی تباہ کاریوں سے چالیس ارب روپے کا نقصان ہوا،مراد علی شاہ

    وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہےصوبے میں بارشوں کی تباہ کاریوں سے چالیس ارب روپے کا نقصان ہوا۔

    باغی ٹی وی : سندھ میں مون سون بارشوں نےتباہی مچا دی، موسلا دھاربارشوں کے باعث حادثات میں 29 افراد جاں بحق ہوگئے خیرپورمیں گھر کی چھت گرنے سے3 بچوں سمیت 6 افراد جاں بحق ہوگئے۔دادو میں چھتیں گرنے سے 4 افراد جاں بحق جبکہ 20 زخمی ہوئے۔

    پاکستان بھر میں سیلاب کے باعث 600 سے زیادہ اموات ریکارڈ ہوئی. این ڈی ایم اے

    ایک اورواقعے میں نواب شاہ میں مکان کی دیوارگرنےسے 2 بچے دم توڑ گئے شکارپور میں چھت گرنے سے 2 بہنیں جاں بحق ہوئیں کوٹ ڈیجی میں سیلابی ریلے بہہ کر2 افراد جاں بحق ہوگئے۔

    شہداد پور اور ٹنڈو آدم اور جوہی میں بارش کے بعد ندی نالے بپھر گئے شہر کو بارش کے پانی نے ڈبویا تو دیہی آبادی سیلاب کی زد میں آگئی شہری اپنی مدد آپ کے تحت نکل مکانی پر مجبور ہوگئے۔شہر کے گلیاں بازار میں بھی پانی بھر گیا بازار تالاب کا منظر پیش کرتی رہیں موٹرسائیکل اور گاڑیاں خراب ہوگئیں سڑکوں پر بھرے پانی نے شہریوں کو اذیت میں مبتلا کردیا۔

    موسلادھار بارش کے بعد ہالہ اور عمرکوٹ شہر تالاب میں بدل گیا۔ سڑکیں، بازار، گلیاں پانی میں ڈوب گئیں سانگھڑ اور مٹیاری کی کہانی بھی مختلف نہیں ہے گھر،گلیاں، سڑکیں اور بازار پانی میں ڈوب گئے شہری گھروں میں قید ہوکر رہ گئے۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ 24 گھنٹوں کے دوران پڈعیدن میں 364، شہید بے نظیر آباد میں 146، موئن جو دڑو میں 126، روہڑی میں 125 اور لاڑکانہ میں 107 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی سندھ کے مختلف شہروں میں فصلیں تباہ ہو گئیں اور بجلی کا نظام درہم برہم ہو گیا-

    ملک کے مختلف حصوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان

    وفاقی وزیر شیری رحمان کا کہنا ہے کہ سندھ میں چوبیس گھنٹوں کے دوران بارش کا نیا ریکارڈ بن گیا ہےگزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 335 ملی میٹر بارش ہوئی اس سے پہلے2011 میں 238 ملی میٹر بارش ہوئی تھی شیری رحمان نے دعویٰ کیا کہ جامشورو میں کلاوڈ برسٹ ہوا جس سے علاقے میں تباہی ہوئی ۔
    https://twitter.com/sherryrehman/status/1560657712962097152?s=20&t=hsvwsTsK_cDo_24ctDz7YA
    چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کی زیر صدارت بارشوں کے نقصانات اور حکومتی اقدامات کے حوالے سے اجلاس ہوا۔ حکام نے بتایا کہ ڈی واٹرنگ مشینیں لگاکر پانی نکا لا جارہا ہے۔ متاثرین کو خیمے اور کھانا بھی فراہم کررہے ہیں۔

    وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہےصوبے میں بارشوں کی تباہ کاریوں سے چالیس ارب روپے کا نقصان ہوا بارشوں کے دوران 166 اموات ہوئیں۔9 اضلاع کو آفت زدہ قرار دے چکے ہیں، مزید 4 اضلاع کو بھی آفت زدہ قرار دیا جا رہا ہے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ متاثرین کی ہر ممکن مدد کی جائے۔

    ملک کے مختلف حصوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان

  • تاثر ہے کہ سندھ کو کمزرو کرنے کیلئے وفاق افسران فراہم نہیں کر رہا،سپریم کورٹ

    تاثر ہے کہ سندھ کو کمزرو کرنے کیلئے وفاق افسران فراہم نہیں کر رہا،سپریم کورٹ

    تاثر ہے کہ سندھ کو کمزرو کرنے کیلئے وفاق افسران فراہم نہیں کر رہا،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں پاکستان ایڈمنسٹریٹیو سروس افسران کی صوبوں میں تعیناتی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    جسٹس منصور علی شاہ نے دوران سماعت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر 25 فیصد کوٹہ ہے تو ہر صوبے کیلئے افسران کی تعداد مقرر کر دیں،سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے روٹیشن پالیسی اور صوبوں سے مشاورت پر معاونت طلب کر لی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آئندہ ہفتے دوسرا بینچ کیس سنے گا،تاثر ہے کہ سندھ کو کمزرو کرنے کیلئے وفاق افسران فراہم نہیں کر رہا،

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں کوئی قانونی معاملہ نہیں ہے،جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ افسران کے تبادلے روٹیشن پالیسی کے مطابق ہوتے ہیں روٹیشن پالیسی کو عدالت میں چیلنج ہی نہیں کیا گیا،ایک افسر 5 سال کیلئے تعینات ہوا،مدت پوری ہونے کے بعد تبادلے کیلئے صوبے سے مشاورت کی کیا ضرورت ہے،عدالت نے کہا کہ ایسا بھی نہ ہو کہ روٹیشن پالیسی کی آڑ میں وفاق بغیر مشاورت افسران کو صوبے سے نکال لے،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سندھ میں ڈی ایم جی افسران کا پنجاب سے زیادہ ہونا سمجھ سے باہر ہے،وکیل فیڈرل پبلک سروس نے کہا کہ صوبائی افسران پر یہ کیس کا اثرانداز ہوگا ہمیں بھی سنا جائے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آپ اس کیس میں فریق ہی نہیں اور یہ کیس آپ پر اثرانداز نہیں ہوگا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ سندھ حکومت کی درخواست 184/3 کے زمرے میں کیسے آتی ہے؟ ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت کے درمیان تنازعہ عدالت آسکتا ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ صرف قانونی تنازعہ عدالت آسکتا ہے، افسران کی کمی انتظامی مسئلہ ہے، عدالت کیا کرے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ سندھ میں سب سے زیادہ سی ایس پی افسران تعینات ہیں،صوبائی حکومت نے اپنے 75 فیصد کوٹہ کے افسران بھی مکمل تعینات نہیں کیے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ افسران کا تبادلہ ہونا تو مشاورت سے ہی چاہیے یکطرفہ تعیناتیاں اور تبادلے نہیں ہونے چاہیں،

    سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت یکم مارچ تک ملتوی کردی

    ویڈیو کس نے وائرل کی تھی؟ عدالت کے استفسار پر سرکاری وکیل نے کیا دیا جواب

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،ملزم عثمان مرزا کو عدالت نے کہاں بھجوا دیا؟

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،ملزم عثمان مرزا کے والدین بھی عدالت پہنچ گئے

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،ملزم عثمان مرزا کے ریمانڈ میں توسیع

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،ریاست کو مدعی بننا چاہئے،صارفین

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس، وزیراعظم نے بڑا اعلان کر دیا

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،جوڑے کے وارنٹ گرفتارری جاری

    عثمان مرزا کیس،لڑکے اور لڑکی کو برہنہ کرنے کی ویڈیو عدالت میں چلا دی گئی

  • صوبہ سندھ میں دو ٹانگوں والے چوہے گندم کھا گئے،علی زیدی کی سندھ حکومت پر تنقید

    صوبہ سندھ میں دو ٹانگوں والے چوہے گندم کھا گئے،علی زیدی کی سندھ حکومت پر تنقید

    حیدرآباد: وفاقی وزیربرائے بحری امورعلی زیدی نے کہا ہے کہ بلاول زرداری اسلام آباد آئیں، چائے پلائیں گے۔

    باغی ٹی وی : حیدر آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علی زیدی نے کہا کہ سندھ کے حالات سب کے سامنے ہیں گزشتہ 15 سالوں سے آصف زرداری یہاں حکومت کر رہے ہیں۔

    جس حوالات میں آج میں ہوں جلد اسی حوالات میں عمران خان ہوگا۔ محسن بیگ

    وفاقی وزیرعلی زیدی نے کہا کہ حکومت سندھ نے پولیس سمیت تمام اہم اداروں کو تباہ حال کردیا ہے انہوں نے الزام عائد کیا کہ آئی جی سندھ بلاول ہاؤس سے ڈکٹیشن لے رہے ہیں صوبے میں دو ٹانگوں والے چوہے گندم کھا گئے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ سندھ میں 19 ارب کی گندم غائب ہوئی ہے یہاں گندم چوری اور ذخیرہ کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے وفاقی حکومت کو گندم درآمد کرنا پڑتی ہے زرداری مافیا پاکستان کے مفادات کے خلاف کام کر رہا ہے اور مال بنا رہا ہے یہاں کے اسپتالوں کی حالت بھی بہت خراب ہے۔

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ سندھ میں پاکستان تحریک انصاف کی جڑیں بہت گہری ہیں کراچی اور حیدرآباد جیسے بڑے شہروں کا ملکی معاشی ترقی میں نہایت اہم کردار ہے۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ بلاول زرداری اسلام آباد آئیں، چائے پلائیں گے 26 فروری کو ہمارا شروع ہونے والا لانگ مارچ 6 مارچ کو کراچی پہنچے گا۔

    نیب والے کیس بناتے ہیں تو اسے ختم بھی کیا کریں،سپریم کورٹ

    خیال رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین و سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ پیپلزپارٹی کا لانگ مارچ ایک کامیاب لانگ مارچ ثابت ہو گا حال ہی میں سابق صدر آصف زرداری نے پارٹی رہنماوں سے ملاقات کی تھی جس میں سینیٹر سلیم مانڈوی والا، رخسانہ بنگش اور دیگر رہنما موجود تھے ملاقات میں سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے آصف زرداری کو لانگ مارچ سے متعلق تیاریوں پر بریفنگ دی۔ اس کے علاوہ پنجاب میں اہم ملاقاتوں اور لانگ مارچ سے متعلق دیگر امور پر بھی مشاورت کی گئی۔

    آصف زرداری نے اس موقع پر کہا تھا کہ موجودہ حکومت معاشی اور سفارتی سطح پر مکمل ناکام ہو چکی ہے، عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے حکومتی دعوے جھوٹ ثابت ہو چکے ہیں۔

    عورت مارچ کو روکا جائے،وزیر مذہبی امور کے خط کے بعد بحث جاری

    دوسری جانب تحریک عدم اعتماد لانے پر تنقید کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے الزام عائد کیا کہ اپوزیشن والے بڑے چورہیں وہ اپوزیشن تحریک عدم اعتماد کیا لائے گی جس کے اپنے گھر والے اس پر اعتماد نہیں کرتے ہیں بیٹی کیسز بھگت رہی ہے جب کہ باپ اور بیٹے لندن میں ہیں تحریک عدم اعتماد کا ڈرامہ صرف اپنے کیسز معاف کرانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اس ملک کو بچانے والا ایک ہی لیڈر ہے اور وہ عمران خان ہیں۔ انہوں نے استفسار کیا کہ ملک میں ترقیاتی کام آج سے پہلے کس حکومت نے کیے تھے؟-

    گردوغبارختم:سیاسی بادل جلد چھٹ جائیں گےاورموسم صاف ہوجائےگا:چودھری پرویز الٰہی

  • صوبہ سندھ میں بلدیاتی ترمیمی بل نافذ کردیا گیا

    صوبہ سندھ میں بلدیاتی ترمیمی بل نافذ کردیا گیا

    کراچی: صوبہ سندھ میں بلدیاتی ترمیمی بل نافذ کردیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : اس ضمن میں سندھ اسمبلی کے سیکریٹری نے باقاعدہ نوٹی فکیشن جاری کردیا ہے سندھ اسمبلی کے سیکریٹری کی جانب سے جاری کردہ نوٹی فکیشن کے بعد بلدیاتی ترمیمی بل نافذ العمل ہو گیا ہے۔

    واضح رہے کہ بلدیاتی ترمیمی بل 26 نومبر کو منظورکیے جانے کے بعد حتمی منظوری کے لیے گورنر سندھ عمران اسماعیل کو بھیجا گیا تھا گورنر سندھ نے اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے بل پر اعتراضات دور کرنے کے لیے 11 دسمبر کو واپس بھیج دیا تھا۔

    سندھ اسمبلی کے سیکریٹری کی جانب سے جاری کردہ نوٹی فکیشن میں واضح کیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 116 کےتحت 10 دن گزرجانے کے بعد اس بل کو نافذ العمل کردیا گیا ہے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے سندھ کی حکمراں جماعت نے بلدیاتی حکومت کا ترمیمی بل اپوزیشن کی عدم موجودگی میں اسمبلی سے منظور کروایا تھا جس میں نہ صرف تعلیم اور صحت کے کام میونسپل اداروں سے واپس لے لیے گئے بلکہ میئرز، ڈپٹی میئرز کے انتخاب کے لیے اوپن بیلٹ کو بھی ختم کردیا گیا۔

    نیا بل صوبائی حکومت کو میونسپل اداروں پر اتنا کنٹرول دیتا ہے کہ وہ قانون سازی کے بوجھل عمل سے گزرے بغیر محض ایک نوٹی فکیشن کے ذریعے باگ ڈور واپس لے سکتی ہے۔

    تاہم اس بل پر مرکز کی جانب سے ایک سخت ردعمل سامنے آیا ہے، جس سے پیپلز پارٹی کی زیر قیادت حکومت سندھ کے لیے نئے چیلنجز پیدا ہوگئے ہیں۔

    حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے اس بل پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے کالا قانون قرار دیا تھا البتہ صوبائی حکومت نے اس بل کا کھل کر دفاع کیا تھاحکومت اور اپوزیشن کی جماعتوں نے ایک دوسرے پر یہ الزام عائد کیا تھا کہ بلدیاتی انتخابات سے متعلق قانون پر لسانی کارڈ کھیلا جا رہا ہے۔

    ناساز معاشی حالات پر وزیر اعظم کے پرانے ساتھی جہانگیر خان ترین بھی بول پڑے

    حزبِ اختلاف کی جماعتوں کا کہنا تھا کہ یہ بل عجلت میں اسمبلی سے منظور کرایا گیا اور اس ضمن میں بل کو غور کے لیے اسٹینڈنگ کمیٹیوں کو بھیجنا بھی گوارا نہیں کیا گیا لیکن صوبائی حکومت اپوزیشن کے ان الزامات کی تردید کی تھی-

    مہنگائی کی ہفتہ وار رپورٹ جاری، دال، چینی، انڈے اور سیلنڈر سمیت 23 اشیا ضروریہ…

    اپوزیشن جماعتوں کا خیال تھا کہ لوکل گورنممٹ ایکٹ بلدیاتی اداروں کےوسائل پرقبضہ مزید مستحکم کرنے کی ایک کوشش ہے حزبِ اختلاف کی جماعت متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم) کے رہنما خواجہ اظہار الحسن کا کہنا تھا کہ آئین میں درج ہے کہ مقامی حکومتوں کو سیاسی، مالی اور انتظامی اختیار حاصل ہونے چاہیئں لیکن سندھ میں گزشتہ 13 سالوں سے یہ اختیارات چھینے جارہے ہیں۔

    اسد عمرکا کہنا تھا کہ ہم اس بل کو مسترد کرتے ہیں اور اب وقت آگیا ہے کہ ہم کراچی اور سندھ کے لوگوں کے حقوق کے لیے مہم شروع کریں ان کا کہنا تھا کہ یہ بل (سندھ لوکل گورنمنٹ بل) کراچی یا صوبے کے کسی دوسرے شہر کی مقامی حکومت کو اختیارات نہیں دیتا، یہ جعلی بلدیاتی نظام بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ اسلام آباد کے لیے ہم ایک ایسا بلدیاتی نظام لائے ہیں جو میئر کو دارالحکومت کے ہر ایک میونسپل، صحت اور تعلیمی کام کے لیے بااختیار بناتا ہے یہاں کراچی میں ہم دیکھتے ہیں کہ بلدیاتی نمائندے پانی کی فراہمی، صفائی اور صحت کا معاملہ بھی نہیں اٹھا سکتے، میں کراچی میں اپنے ساتھی اراکین سے کہتا ہوں کہ یہ شہر کے ساتھ بہت بڑی ناانصافی ہے اور انہیں اس کے خلاف ایک مؤثر مہم کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔

    وفاقی وزیر نے کہا تھا کہ کراچی کے لوگ ناانصافی کا شکار ہیں، وہ خیرات نہیں مانگتے اور بہتر زندگی، مضبوط اور طاقتور بلدیاتی نظام کے مستحق ہیں۔