Baaghi TV

Tag: ضمانت

  • بھارت میں ریپ کے ملزم بی جے پی رہنما کلدیپ سنگھ کی ضمانت پر احتجاج

    بھارت میں ریپ کے ملزم بی جے پی رہنما کلدیپ سنگھ کی ضمانت پر احتجاج

    بھارت میں دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے ایک سابق حکمران جماعت کے قانون ساز کو مشروط ضمانت دیے جانے کے فیصلے کے بعد دارالحکومت دہلی میں احتجاج ہوا۔

    کلدیپ سنگھ سینگر، جو وزیرِاعظم نریندر مودی کی جماعت بی جے پی سے تعلق رکھنے والے سابق رکنِ اسمبلی ہیں، کو دسمبر 2019 میں ایک کم سن بچی سے زیادتی کے مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی، دہلی ہائی کورٹ نے حالیہ حکم میں ان کی سزا اس بنیاد پر معطل کر دی کہ وہ 7 سال سے زائد عرصہ جیل میں گزار چکے ہیں، جبکہ ان کی اپیل تاحال زیرِ سماعت ہے۔

    یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں جنسی جرائم کے مقدمات، عدالتی عمل اور متاثرین کے تحفظ پر پہلے ہی وسیع بحث جاری ہے،اس فیصلے کے بعد جمعے کے روز دہلی ہائی کورٹ کے باہر بڑی تعداد میں افراد جمع ہوئے اور فیصلے کے خلاف احتجاج کیا گیا احتجاج کے باعث سیکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیے گئے اور علاقے میں پولیس کی اضافی نفری تعینات رہی۔

    تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان فوری جنگ بندی پر اتفاق

    تاہم، عدالتی حکم کے باوجود کلدیپ سنگھ سینگر فوری طور پر رہا نہیں ہوں گے کیونکہ وہ ایک دوسرے مقدمے میں بھی سزا کاٹ رہے ہیں، جو متاثرہ لڑکی کے والد کی پولیس حراست میں ہلاکت سے متعلق ہے اس مقدمے میں انہیں اور دیگر ملزمان کو 10 سال قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔

    یہ کیس ماضی میں اس وقت قومی توجہ کا مرکز بنا جب متاثرہ لڑکی نے 2018 میں خودسوزی کی کوشش کی، جبکہ بعد ازاں 2019 میں ایک سڑک حادثے میں اس کے 2 رشتہ دار جاں بحق ہو گئے ان واقعات کے بعد سپریم کورٹ نے کیس دہلی منتقل کرنے اور متاثرہ کو سیکیورٹی اور مالی معاوضہ فراہم کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔

    جدہ ایئرپورٹ پر پی آئی اے کی 2 ایئرہوسٹس کے درمیان ہاتھا پائی

    دریں اثنا، مرکزی تحقیقاتی ادارے سی بی آئی نے اعلان کیا ہے کہ وہ دہلی ہائی کورٹ کے ضمانتی فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گا، جس سے اس حساس مقدمے میں قانونی عمل کا نیا مرحلہ شروع ہونے کا امکان ہے۔

  • نماز کی مبینہ بے حرمتی کا مقدمہ،رجب بٹ کی حفاظتی ضمانت منظور

    نماز کی مبینہ بے حرمتی کا مقدمہ،رجب بٹ کی حفاظتی ضمانت منظور

    لاہور ہائیکورٹ نے یوٹیوبر رجب علی بٹ کی حفاظتی ضمانت منظور کر لی۔

    یہ فیصلہ کراچی میں درج مقدمے کی وجہ سے کیا گیا،جہاں رجب بٹ پر الزام تھا کہ انہوں نے نماز کی ادائیگی کے دوران میوزک چلایا تھا۔ عدالت نے رجب بٹ کو 28 جنوری تک حفاظتی ضمانت دے دی۔جسٹس فاروق حیدر کی سربراہی میں لاہور ہائیکورٹ کے بنچ نے اس مقدمے کی سماعت کی، جس میں رجب بٹ کے وکیل نے عدالت سے درخواست کی کہ ان کے موکل کو حفاظتی ضمانت دی جائے۔ رجب بٹ، جو کہ ایک معروف ٹک ٹاکر اور یوٹیوبر ہیں، عدالت میں پیش ہوئے اور درخواست کی کہ انہیں کراچی کی متعلقہ عدالت میں پیش ہونے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ کیس کی پیروی کر سکیں۔وکیل نے عدالت کو بتایا کہ رجب بٹ کے خلاف کراچی میں مقدمہ درج کیا گیا ہے اور انہیں خدشہ ہے کہ وہ کراچی کی عدالت میں پیش ہونے سے قبل پولیس گرفتار کر لے گی۔ وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ رجب بٹ کی حفاظتی ضمانت منظور کی جائے تاکہ وہ قانونی کارروائی میں حصہ لے سکیں۔

    عدالت نے وکیل کی استدعا کو منظور کرتے ہوئے رجب بٹ کی حفاظتی ضمانت 28 جنوری تک کے لیے منظور کر لی۔ عدالت نے حکم دیا کہ رجب بٹ اس مدت کے دوران گرفتار نہیں کیے جائیں گے اور وہ اپنے مقدمے کی پیروی کے لیے کراچی کی متعلقہ عدالت میں پیش ہو سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ کراچی کی مقامی عدالت کے حکم پر یوٹیوبر رجب بٹ کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا،یہ مقدمہ نماز کی مبینہ بے حرمتی کے معاملے پر درج کیا گیا ہے، مقدمہ تھانہ حیدری میں پاکستان کے تعزیرات کے سیکشن 295-A کے تحت درج کیا گیا ہے۔عدالت میں مدعی کا بیان پولیس نے قلمبند کر لیا، جس کے بعد رجب بٹ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا گیا۔ عدالت کی جانب سے دلائل سننے کے بعد پولیس کو مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

    ایڈوکیٹ ریاض علی سولنگی نے اس حوالے سے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا اگلا مقصد رجب بٹ کو گرفتار کروانا ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ اس دفعہ کے تحت رجب بٹ کو دس سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس مقدمے کے ذریعے یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ آئندہ کوئی بھی شخص شعائر اسلام کی توہین کرنے سے پہلے سوچے گا۔

    متحدہ عرب امارات پاکستانی آم خریدنے والا سب سے بڑا ملک

    سیف علی خان پر حملے کا ملزم قومی سطح پر ریسلنگ کا چیمپئن نکلا

  • 32 مقدمے،بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت میں توسیع

    32 مقدمے،بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت میں توسیع

    راولپنڈی: انسداد دہشت گردی کی عدالت (اے ٹی سی) راولپنڈی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج کیس میں بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت میں یکم فروری تک توسیع کر دی ہے۔

    ، 26 نومبر 2022 کو ہونے والے پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران بشریٰ بی بی کے خلاف 32 مقدمات درج کیے گئے تھے۔ تاہم، بشریٰ بی بی اڈیالہ جیل میں قید ہونے کے باعث عدالت میں پیش نہیں ہو سکیں۔عدالت کے جج امجد علی شاہ رخصت پر ہونے کے سبب عبوری ضمانت میں توسیع کی گئی۔ اس کیس میں مزید سماعت بعد میں ہوگی۔

    یاد رہے کہ بشریٰ بی بی پر 26 نومبر کے احتجاج کے دوران ریاستی اداروں کے خلاف تقاریر اور دہشت گردی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، جس کے بعد ان کے خلاف مقدمات درج کیے گئے تھے۔ بشری بی بی کے خلاف حسن ابدال، حضرو، اٹک، ٹیکسلا اور راولپنڈی میں مقدمات درج ہیں۔بشریٰ بی بی کو القادر ٹرسٹ کیس میں سزا سنانے کے بعد اڈیالہ جیل سے ہی گرفتار کر لیا گیا تھا اور وہ اب اڈیالہ جیل میں سزا کاٹ رہی ہیں.

    ٹرمپ کا عمران کی رہائی کیلئے کردارصرف پی ٹی آئی کی خوش گمانی

    سیف علی خان حملہ،ملزم کی نمائندگی کیلئے عدالت میں وکلا لڑ پڑے

  • 26 نومبر توڑ پھوڑ مقدمہ،اسد قیصر کی ضمانت میں توسیع

    26 نومبر توڑ پھوڑ مقدمہ،اسد قیصر کی ضمانت میں توسیع

    اسلام آباد: انسدادِ دہشت گردی کی عدالت (اے ٹی سی) نے پی ٹی آئی کے رہنما اسد قیصر کی عبوری ضمانت میں 14 فروری تک توسیع کر دی ہے۔

    اسد قیصر کے خلاف 26 نمبر چنگی توڑ پھوڑ کیس میں درخواستِ ضمانت قبل از گرفتاری پر سماعت ہوئی۔آج کی سماعت میں اے ٹی سی کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے اسد قیصر کی درخواست پر فیصلہ سنایا۔ اس موقع پر اسد قیصر عدالت میں پیش نہیں ہوئے، تاہم ان کے وکیل صفائی عائشہ خالد نے ان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی، جسے عدالت نے منظور کر لیا۔

    اسد قیصر کے خلاف تھانہ سنگجانی میں مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس میں ان پر توڑ پھوڑ اور دیگر الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ عدالت نے اسد قیصر کی عبوری ضمانت میں توسیع کر کے انہیں 14 فروری تک مقدمہ میں گرفتاری سے تحفظ فراہم کر دیا ہے۔یہ پیش رفت پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے لیے ایک بڑی راحت کی بات ہے، کیونکہ اس سے قبل بھی مختلف پی ٹی آئی رہنماؤں کی حفاظتی ضمانتیں منظور کی جا چکی ہیں

    سیف علی خان پر حملہ،ملزم نے اعتراف جرم کر لیا

  • نومئی مقدمے،علیمہ خان کی درخواست ضمانت پر پراسیکیوشن سے دلائل طلب

    نومئی مقدمے،علیمہ خان کی درخواست ضمانت پر پراسیکیوشن سے دلائل طلب

    انسداد دہشت گردی عدالت لاہور، 5 اکتوبر اور نومئی کو پولیس پر تشدد، جلاؤ گھیراؤ اور پولیس توڑ پھوڑ کا مقدمہ ،عدالت نے علیمہ خان اور عظمی خان سمیت دیگر کی عبوری ضمانتوں پر سماعت کی

    عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی دونوں بہنوں کی حاضری کے لیے کیس انتظار میں رکھ لیا ،عدالت نے دیگر شریک ملزمان کی ضمانتوں میں 15 فروری تک توسیع کر دی ،سلمان اکرم راجہ کی ایک روزہ حاضری معافی کی درخواست منظور کر لی گئی، عدالت نے کہا کہ تفتیشی افسر تفتیش مکمل کر کے آئندہ سماعت پر رپورٹ پیش کریں عدالت ،پی ٹی آئی رہنما علی امتیاز ،ندیم نے عباس بارا عدالت پیش ہو کر حاضری لگائی ،انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ارشد جاوید نے سماعت کی ،ملزمان کے خلاف تھانہ اسلام پورہ ،لاری اڈا اور تھانہ مستی گیٹ میں مقدمات درج ہیں

    بعد ازاں علیمہ خان اور عظمی خان اپنے وکیل کے ہمراہ عدالت پیش ہوئیں، پراسیکیوشن نے کہا کہ جناح ہاؤس کیس میں تفتیش تاحال مکمل نہیں ہے،علیمہ خان نے کہا کہ ہم لوگ 22 ماہ سے عدالت میں پیش ہو رہے ہیں،اسلام آباد سے صبح صبح عدالت میں پیش ہونے کے لیے آتے ہیں،عدالت نے کہا کہ آپ کیس میں بحث کریں میں آج ہی فیصلہ کر کے جاؤں گا، ریکارڈ آیا ہے کہ نہیں آیا یہ آپکا مسئلہ ہے میں اسکو آج ہر حال میں سن کر فیصلہ کروں گا،وکیل علیمہ خان نے کہا کہ ہمیں 10 منٹ دیں، تیاری کر کے دلائل مکمل کر لیتے ہیں، عدالت نے علیمہ خان اور عظمی خان کے وکیل کو دلائل مکمل کرنے کا حکم دے دیا

    بانی پی ٹی کی بہنوں کے خلاف پانچ اکتوبر اور نو مئی کے دو مقدمات میں عبوری ضمانت پر سماعت ہوئی،بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کے وکیل نے درخواست ضمانتوں پر دلائل مکمل کر لیے،عدالت نے پراسیکیوشن کو دلائل کے لیے 12 فروری کو طلب کر لیا ،جج نے کہاکہ 12 فروری کو دلائل سن کر اور ریکارڈ دیکھ کر فیصلہ کر دوں گا۔علیمہ کے وکیل نے کہا کہ دونوں بانی پی ٹی آئی کی بہنیں ہیں اس وجہ سے ان کے خلاف مقدمہ بنایا گیا ، عدالت ضمانتیں کنفرم کرنے کا حکم دے ، پراسیکیوشن نے دلائل کے لیے مہلت طلب کر لی ،عدالت نے کہا کہ ہم نے کیس صبح سے انتظار میں رکھا ہوا اب آپ تاریخ کی بات کر رہے ہیں ،پراسیکیوشن نے کہا کہ جناح ہاؤس کیس میں تفتیش تاحال مکمل نہیں ہے ،انسداد دہشت گردی عدالت نے کاروائی 12 فروری تک ملتوی کر دی

    نظام کے اوپر ہمیں افسوس،ہم نے اللہ تعالیٰ پر چھوڑا ہوا ہے،علیمہ خان
    عدالت پیشی کے موقع پر علیمہ خان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے جب فیصلہ سنا تو ہنس پڑے ۔ وہ کہہ رہے تھے کہ اچھا 14 سال ہے ۔ اس سے زیادہ بھی ہوتی ہے کیا۔تو انھوں نے کہا کہ نہیں زیادہ سے زیادہ 14 سال ہی ہوتی ہے،عمران خان اتنے بڑے لیڈر ہیں، ہم پریشان ہو رہے تھے، نظام کے اوپرہمیں افسوس ہو رہا تھا،عمران پر اس لئے کیس بنا رہے کہ باہر آ کر لوگوں سے نہ ملے، ہم نے اللہ تعالیٰ پر چھوڑا ہوا ہے، اللہ کا نظام سب سے بڑا نظام ہے،اینکرز نے 2 روز پہلے ہی فیصلہ بتا دیا تھا، ایسا کرتے جج کی جگہ اُنہیں ہی بٹھا دیتے

    سیف علی خان حملہ،پولیس کی کسی بھی گرفتاری کی تردید،ملاقاتوں پر پابندی عائد

    دنیا کو پرامن بنانے کیلیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ ٹرمپ کا چینی صدر سے رابطہ

  • نومئی مقدمے،عمران خان کی درخواست ضمانت پر نوٹس جاری

    نومئی مقدمے،عمران خان کی درخواست ضمانت پر نوٹس جاری

    لاہور ہائیکورٹ میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی نو مئی کے دوران درج ہونے والے 8 مقدموں میں ضمانت کی درخواستوں پر سماعت ہوئی۔

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ، جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی۔بانی پی ٹی آئی کی جانب سے اپنے وکیل سلمان صفدر کے ذریعے درخواستیں دائر کی گئی ہیں، جن میں استدعا کی گئی ہے کہ اے ٹی سی (انسداد دہشت گردی عدالت) نے حقائق کے برعکس ان کی ضمانتوں کو مسترد کیا تھا۔ بانی پی ٹی آئی نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ان پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں اور ضمانتوں کی درخواستوں کو مسترد کرنا قانونی طور پر غلط ہے۔عدالت نے پولیس کو نوٹسز جاری کر کے جواب طلب کر لیا ہے۔ بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر مزید سماعت کا اعلان کیا گیا، جس میں عدالت نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے کو زیر غور رکھتے ہوئے قانون کے مطابق فیصلہ کرے گی۔

    بانی پی ٹی آئی نے عدالت سے درخواست کی کہ آٹھ مقدموں میں ان کی ضمانتیں منظور کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی کارروائی غیر قانونی اور زیادتی پر مبنی ہے، جس کے باعث ان کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے ہیں۔عدالت نے پولیس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے.

    مریم نواز نے کیا "آسان کاروبار فنانس” اور "آسان کاروبار کارڈ” پروگرام کا افتتاح

    مذاکرات،پی ٹی آئی کے تحریری مطالبات کمیٹی میں پیش

  • پشاور ہائیکورٹ ، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا  کی حفاظتی ضمانت میں  توسیع

    پشاور ہائیکورٹ ، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی حفاظتی ضمانت میں توسیع

    پشاور ہائیکورٹ نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی حفاظتی ضمانت میں تین ہفتوں کی توسیع کر دی ہے۔ چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ، جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس وقار احمد پر مشتمل ڈویژن بنچ نے علی امین گنڈاپور کی حفاظتی ضمانت اور ان کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات کے لیے دائر درخواست کی سماعت کی۔

    سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اس وقت اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی سربراہی میں اہم مذاکراتی میٹنگ میں شرکت کے لیے گئے ہیں، جس کے باعث وہ عدالت میں پیش نہیں ہو سکتے۔ اس وجہ سے انہوں نے استثنیٰ کی درخواست دائر کی ہے۔عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل کے دلائل کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیراعلیٰ کی حفاظتی ضمانت میں مزید تین ہفتوں کی توسیع کر دی اور ساتھ ہی علی امین گنڈاپور کو ان کے خلاف درج مقدمات میں گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا۔ اس کے علاوہ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 11 فروری 2025 تک ملتوی کر دی۔

    اب تک علی امین گنڈاپور کے خلاف مختلف مقدمات درج ہیں، جن میں ان کے خلاف کارروائی کا امکان تھا، مگر عدالت نے اس مرحلے پر ان کو گرفتاری سے بچانے کے لیے حفاظتی ضمانت فراہم کی۔

    سپریم کورٹ نے ملٹری ٹرائل کیسز کا ریکارڈ مانگ لیا

    سابق امریکی صدر اوباما اور انکی اہلیہ میں ممکنہ طلاق کی افواہیں

  • بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانتوں میں توسیع

    بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانتوں میں توسیع

    انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ڈی چوک احتجاج کے سلسلے میں بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانتوں میں توسیع کر دی ہے۔

    یہ فیصلہ 13 مختلف مقدمات میں عبوری ضمانتوں کے کیس کی سماعت کے دوران سنایا گیا۔ عدالت نے بشریٰ بی بی کی ضمانت میں 7 فروری تک توسیع کرتے ہوئے پولیس کو ریکارڈ سمیت پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔سماعت کے دوران عدالت نے بشریٰ بی بی کے وکیل کو برہمی کا سامنا کیا۔ جج نے فائلیں تیار کر کے نہ لانے پر ان کی جانب سے ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور کہا کہ "آپ فائلیں تیار کر کے آیا کریں، عدالت میں آ کر فائلیں سیدھی کر رہے ہیں۔” اس پر وکیلوں نے درخواست کی کہ ضمانت کی تمام درخواستوں پر 7 فروری تک تاریخ مقرر کی جائے۔

    وکلاء کی جانب سے بشریٰ بی بی کے سادہ کاغذ پر دستخط اور انگوٹھا لگوانے کے معاملے پر جج نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "ہر جگہ وی آئی پی پروٹوکول ملنے کی بات نہیں کی جا سکتی۔ میں نے آپ کو انتظار نہیں کرایا، فیصلے کی تحریر میں بھی آپ کی ضمانتوں پر سماعت کر رہا ہوں۔” جج نے مزید کہا کہ جب عدالتی حکم نامہ جاری ہو گا تو اس پر ملزمہ کے دستخط اور انگوٹھا لگے گا۔

    وکیل قدیر خواجہ کی جانب سے بولنے پر جج نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "آپ عدالت پر یقین کریں، جب آپ عدالت پر یقین کریں گے تو لوگ بھی آپ پر یقین کریں گے۔” یہ بیان جج کی جانب سے وکیلوں کو عدالت کے عمل پر اعتماد رکھنے کی ہدایت کے طور پر تھا۔

    ٹرائل کے دوران میں نے ججز کو بیمار ،کانپتے ہوئے دیکھا ، ایک جج صاحب کا بلڈ پریشر 200 پر گیا لیکن اُنہوں نے ہمیں سزا سنانا تھی اور وہ سنائی ، بشریٰ بی بی
    بشریٰ بی بی نے انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارا عدالتوں سے اعتماد اٹھ گیا ہے، عمران خان اور ہمارے ساتھ جو ہوا ہے اسکے بعد قانون سے یقین ختم ہو گیا ہے، ٹرائل کے دوران میں نے ججز کو بیمار ہوتا، کانپتے ہوئے دیکھا ہے، ایک جج صاحب کا بلڈپریشر دو سو پر گیا لیکن انہوں نے ہمیں سزا سنانی تھی اور وہ سنائی، ملک میں قانون ہے لیکن انصاف نہیں عمران خان جیل میں آئین کی بالادستی کے لئے قید ہیں.اسلام آباد میں گاڑی سے رینجرز اہلکاروں کو ٹکر مارنے کے کیس کی سماعت انسداد دِہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے کی، اس دوران بشریٰ بی بی عدالت میں پیش ہوئیں،دورانِ سماعت بشریٰ بی بی اور جج طاہر عباس کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا جس میں جج نے کہا کہ تھوڑا وقت لگ گیا ہے لیکن قانونی ضابطے پورے کیے گئے ہیں۔اس پر بشریٰ بی بی نے جواب دیا کہ نہیں کوئی بات نہیں، ہمارا عدالتوں سے اعتماد اٹھ گیا ہے،جج طاہر عباس نے کہا کہ نہیں ایسا نہیں ہے، ہر جگہ سے اعتماد نہیں اٹھا، جسٹس سسٹم جیسا بھی چل رہا ہے اگر ختم ہو گیا تو سوسائٹی ختم ہو جائیگی، آپ میرے پاس کچہری میں بھی پیش ہوتی رہی ہیں،بعد ازاں عدالت نے بشریٰ بی بی کی تھانہ رمنا میں درج مقدمے میں7 فروری تک عبوری ضمانت منظور کرلی۔

    واضح رہے کہ بشریٰ بی بی کے خلاف ڈی چوک احتجاج پر اسلام آباد کے مختلف تھانوں میں 13 مقدمات درج ہیں۔ ان میں سے تھانہ سیکریٹریٹ میں 3، تھانہ مارگلہ میں 2، تھانہ کراچی کمپنی میں 2، تھانہ رمنا میں 2، تھانہ ترنول، کوہسار، آبپارہ اور کھنہ میں ایک ایک مقدمہ درج ہے۔عدالت نے 7 فروری 2025 کو آئندہ سماعت کی تاریخ مقرر کرتے ہوئے پولیس کو تمام ریکارڈ کے ساتھ عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا۔ اس فیصلے کے بعد بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانتیں 7 فروری تک برقرار رہیں گی۔

    خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 8 خوارج جہنم واصل

    نو مئی،ماسٹر مائنڈ کا ٹرائل بھی ملٹری کورٹ میں ہی ہوگا ، وکیل وزارت دفاع

  • 9مئی کے 8 مقدمات میں عمران خان کی درخواست ضمانت دائر

    9مئی کے 8 مقدمات میں عمران خان کی درخواست ضمانت دائر

    بانی پی ٹی آئی نے 9 مئی کے 8 مقدمات میں ضمانت کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق چیئرمین عمران خان نے 9 مئی کے دوران درج ہونے والے 8 مقدمات میں لاہور ہائی کورٹ سے ضمانت کے لیے درخواست دائر کر دی ہے۔ ان مقدمات میں جناح ہاؤس پر حملہ اور دیگر الزامات شامل ہیں۔لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں عمران خان نے موقف اختیار کیا ہے کہ 9 مئی کو وہ اسلام آباد میں نیب کی تحویل میں تھے اور ان پر سیاسی انتقام لینے کے لیے سازش کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ عمران خان نے اس بات کا بھی دعویٰ کیا کہ انہیں محض سیاسی وجوہات کی بنا پر ان مقدمات میں ملوث کیا گیا۔

    عمران خان کی درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ انہیں گزشتہ دو سال سے مختلف مقدمات کا سامنا ہے اور یہ تمام کارروائیاں انتقامی نوعیت کی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف جو مقدمات بنائے گئے ہیں، وہ جھوٹے اور بے بنیاد ہیں۔عمران خان نے لاہور ہائی کورٹ سے استدعا کی ہے کہ ان کے خلاف درج مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں منظور کی جائیں تاکہ انہیں انصاف مل سکے اور ان پر عائد الزامات کا قانونی طریقے سے جائزہ لیا جا سکے۔

    ملالہ یوسف زئی کی پاکستان آمد

    میدان صحافت میں جرات کی مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

  • اسلام آباد ہائیکورٹ کا خدیجہ شاہ کو ہراساں نہ کرنے کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا خدیجہ شاہ کو ہراساں نہ کرنے کا حکم

    اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما اور سپریم کورٹ کی جیل اصلاحاتی کمیٹی کی ممبر خدیجہ شاہ کو ہراساں کرنے سے روکنے کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) اور پولیس کو حکم جاری کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ عدالت میں خدیجہ شاہ کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات کی فراہمی کی درخواست پر سماعت کے دوران آیا۔

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ، جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں ہونے والی سماعت میں، عدالت نے فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کر لیا۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ خدیجہ شاہ کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات فراہم کی جائیں تاکہ پولیس اور ایف آئی اے کو درخواست گزار اور ان کی فیملی کو ہراساں کرنے سے روکا جا سکے۔دورانِ سماعت، خدیجہ شاہ کی وکیل آمنہ علی نے عدالت میں اپنا مؤقف پیش کیا کہ ان کے موکلہ کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات کی فوری فراہمی ضروری ہے تاکہ ان کے خلاف کسی بھی غیر قانونی اقدام کو روکا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ درخواست گزار اور ان کے خاندان کو ایف آئی اے اور پولیس کی جانب سے ہراساں کیا جا رہا ہے، جس کا تدارک کیا جائے۔

    عدالت نے درخواست کو سننے کے بعد اس پر فیصلہ دیتے ہوئے ایف آئی اے اور پولیس کو خدیجہ شاہ کو ہراساں کرنے سے روک دیا اور کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک کے لیے ملتوی کر دی۔

    شہزادہ ولیم کا کیٹ مڈلٹن کی 43ویں سالگرہ پر خصوصی پیغام

    18 برس بعد دوسری شادی کرنیوالی خاتون نے اپنی شرائط بتا دیں