Baaghi TV

Tag: ضمانت

  • عمران ، بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ مؤخر

    عمران ، بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ مؤخر

    اسلام آباد: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں بانیٔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت ہوئی۔

    ایڈیشنل سیشن جج، جناب افضل مجوکہ کی عدالت میں ہونے والی اس سماعت میں بانیٔ پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواستوں پر جزوی دلائل مکمل ہو گئے، تاہم فیصلہ مؤخر کر دیا گیا۔بانیٔ پی ٹی آئی کی جانب سے 6 مقدمات میں ضمانت کی درخواست دائر کی گئی ہے، جبکہ بشریٰ بی بی پر جعلی رسیدوں کے کیس میں مقدمہ درج کیا گیا ہے، جس میں ان کی ضمانت کی درخواست بھی زیر سماعت ہے۔ سماعت کے دوران بشریٰ بی بی کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی۔ بشریٰ بی بی کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ان کی موکلہ کو مختلف وجوہات کی بناء پر عدالت میں پیش ہونے میں دشواری کا سامنا ہے، اس لیے انہیں حاضری سے استثنیٰ دیا جائے۔

    بانیٔ پی ٹی آئی کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ جیل حکام جان بوجھ کر بانیٔ پی ٹی آئی کی ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری نہیں کرا رہے۔ وکیل نے بتایا کہ سلمان صفدر، جو کہ بانیٔ پی ٹی آئی کے کیسز کی پیروی کر رہے ہیں، دیگر مقدمات میں مصروف ہیں، اس لیے عدالت کی طرف سے ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری کی اجازت دی جائے۔ وکیل نے یہ بھی کہا کہ جیل حکام یہ نہ کہیں کہ سردی کی وجہ سے انٹرنیٹ سروس معطل ہو گئی ہے، اس لیے حاضری ممکن نہیں ہو سکی۔ عدالت نے بانیٔ پی ٹی آئی کے ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری کو یقینی بنانے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت سے قبل اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ بانیٔ پی ٹی آئی ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوں۔ ایڈیشنل سیشن جج نے مزید کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ ایک ساتھ کیا جائے گا، کیونکہ جزوی دلائل مکمل ہو چکے ہیں اور صرف بانیٔ پی ٹی آئی کی ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری باقی ہے۔عدالت نے بانیٔ پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت 28 جنوری تک ملتوی کر دی۔

    کیا ہم واقعی امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ طالبان کو بھیج رہے ہیں؟ایلون مسک

    تبت میں زلزلہ، 53 افراد ہلاک، متعدد عمارتیں گر گئیں

  • پشاور ہائیکورٹ ، اسد قیصر کی راہداری ضمانت منظور

    پشاور ہائیکورٹ ، اسد قیصر کی راہداری ضمانت منظور

    پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی راہداری ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں 30 جنوری تک کسی بھی مقدمے میں گرفتار کرنے سے روک دیا۔

    پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر کی راہداری ضمانت کی درخواستوں پر پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس کامران حیات میاں خیل نے سماعت کی۔ اس موقع پر اسد قیصر کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل کے خلاف مختلف مقدمات درج ہیں اور وہ اس وقت اپنی راہداری ضمانت کی درخواست دائر کر رہے ہیں۔جسٹس کامران حیات میاں خیل نے وکیل سے استفسار کیا کہ اس وقت درخواست گزار کہاں ہیں تو اسد قیصر کے وکیل نے بتایا کہ وہ راستے میں ہیں اور عدالت آ رہے ہیں۔ جسٹس کامران حیات میاں خیل نے ریمارکس دیے کہ "ٹھیک ہے، جب وہ عدالت آئیں گے تو پھر کیس کی سماعت کریں گے۔”اس کے بعد پشاور ہائیکورٹ نے اسد قیصر کو 2 لاکھ روپے زر ضمانت کے عوض راہداری ضمانت دی اور پولیس کو 30 جنوری تک ان کی گرفتاری سے روک دیا۔

    پی ٹی آئی رہنما،سابق اسپیکر اسد قیصر کے خلاف مختلف تھانوں میں ایف آئی آرز درج ہیں

    پشاور ہائیکورٹ میں سماعت کے بعد اسد قیصر نے میڈیا سے بات چیت کی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ان کے خلاف بے تحاشا مقدمات درج ہیں اور ان کے ارکان اسمبلی کے خلاف بھی جعلی مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔ اسد قیصر نے 26 نومبر کے واقعات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس دن پی ٹی آئی کے کارکنوں پر تشدد کیا گیا، جس کی وہ شدید مذمت کرتے ہیں۔اسد قیصر نے مزید کہا کہ "26 ویں آئینی ترمیم کے بعد عدالتی نظام مفلوج ہو چکا ہے، ” انہوں نے بانی چیئرمین عمران خان سے جیل میں ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان پر کوئی دباؤ نہیں ہے اور ان کا مؤقف یہ ہے کہ جب تک کارکنوں کی رہائی نہیں ہوگی، وہ خود کو رہائی کے لیے پیش نہیں کریں گے۔سابق اسپیکر قومی اسمبلی نے مذاکراتی کمیٹی کے حوالے سے بتایا کہ حکومت کے سامنے دو اہم مطالبات رکھے گئے ہیں۔ پہلا مطالبہ یہ ہے کہ بانی چیئرمین عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے، جبکہ دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے۔ "ہمیں افغانستان کے ساتھ کشیدگی پر افسوس ہے، اور اس معاملے کو افہام و تفہیم سے حل کیا جانا چاہیے۔”اسد قیصر نے افغانستان کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا اپنا کلچر ہے اور ہمیں افغانستان کے ساتھ مفاہمت کی راہ اختیار کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان افہام و تفہیم سے مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔

    سال 2024 میں بی آر ٹی پشاور میں چوری کے 27 واقعات

    سال 2024 میں دنیا بھی میں 68 صحافیوں کی ہلاکت

  • خلیل الرحمان قمر کیس، آمنہ عروج کی درخواست ضمانت پر سماعت ملتوی

    خلیل الرحمان قمر کیس، آمنہ عروج کی درخواست ضمانت پر سماعت ملتوی

    لاہور ہائیکورٹ: خلیل الرحمن قمر ہنی ٹریپ کیس کی ملزمہ آمنہ عروج اور یاسر علی کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی

    عدالت نے ملزمان کے وکلا کو تیاری کی مہلت دیتے ہوئے سماعت 6 دسمبر تک ملتوی کر دی ،ملزمان کے وکیل کی جانب سے تیاری کے لیے مزید مہلت طلب کی گئی،جسٹس شہباز رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیسز پر سماعت کی ،لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ انسداددہشت گردی عدالت لاہور نے آمنہ عروج اور یاسر علی کی ضمانت بعد از گرفتاری خارج کر دی،ملزمہ کو خلیل الرحمن قمر کی جانب سے ناجائز ڈیمانڈ پوری کرنے کے لیے بلیک میل کیا گیا،ایف آئی آر چار دنوں کی تاخیر کے بعد درج ہوئی جس سے پراسیکیوشن کا کیس بری طرح متاثر ہوتا ہے،لاہور ہائی کورٹ آمنہ عروج اور یاسر علی جی درخواست ضمانت منظور کرے،

    خلیل الرحمان آج کل خبروں میں ہیں، گینگ سے تشدد کا نشانہ بننے سے لے کر نازیبا ویڈیو لیک ہونے تک ہر روز خلیل الرحمان قمر کی دو چار خبریں آ رہی ہیں، ہر خبر میں نئے انکشافات سامنے آ رہے جس میں خلیل الرحمان قمر کا حقیقی کردار بے نقاب ہو رہا ہے،خلیل الرحمان قمر آمنہ عروج کو فون کرتے تھے، خود ملنے گئے، ایک بار نہیں کئی بار ملے، نازیبا ویڈیو بنیں اور وائرل ہو گئیں، مقدمہ درج ہوا تو آمنہ عروج ،حسن شاہ و دیگر کو گرفتار کر لیا گیا خلیل الرحمان قمر بھی نازیبا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ایف آئی اے پہنچ گئے کہ میری ساکھ متاثر ہوئی ہے،خلیل الرحمان قمر کی نازیبا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد انہیں سوشل میڈیا پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے،

    خلیل الرحمان قمر کو 15 جولائی کو مبینہ طور پر اغوا کرکے تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا، ملزمان کے خلاف 21 جولائی کو تھانہ سندر میں مقدمہ درج کیا گیا تھا،پولیس کے مطابق کیس کے مرکزی ملزم حسن شاہ سمیت 12 ملزمان پولیس کی تحویل میں ہیں،حسن شاہ 28 جولائی کو پشاور سے اپنے دوست کے ہمراہ گرفتار ہوا تھا اور اسی دن ہی خلیل الرحمان قمر کی نازیبا ویڈیو وائرل ہوئی تھی،پولیس نے گینگ کا سابقہ مجرمانہ ریکارڈ نکال لیا ہے، ملزم حسن شاہ کے خلاف ننکانہ صاحب میں اغواء ، تشدد ، بجلی چوری کے 2 مقدمات درج ہیں ،ملزم کے ساتھی رفیق عرف فیکو قتل سمیت سنگین جرائم میں ملوث رہا ہے،مرکزی ملزم حسن شاہ اور رفیق کو پولیس نے پشاور سے گرفتار کیا ہے،پولیس ریکارڈ کے مطابق رفیق عرف فیکو کے خلاف قتل ، اقدام قتل ، تشدد کے 6 مقدمات شیخوپورہ میں درج ہیں،ملزم رفیق لاہور میں بھی قتل کے مقدمہ کا اشتہاری ہے،ملزم رفیق مرکزی ملزم حسن شاہ کے شوٹر کے طور پر آپریٹ کرتا ہے، ملزم حسن شاہ منشیات کا عادی ہے،افیون سمیت پکڑا گیا ہے

    تھانے میں آمنہ کو کرنٹ لگایا گیا،خلیل سے معافی مانگو

    خلیل قمر اور آمنہ کی انتہائی شرمناک ویڈیو،اس رات ہوا کیا تھا؟

    خلیل الرحمان قمر کے ساتھ کبھی کام نہیں کروں گی،نادیہ افگن

    خلیل الرحمان قمر کیس، آمنہ عروج سمیت 12 ملزمان پر فردجرم عائد

  • 26 نومبر کے چار مقدمے، بشریٰ بی بی کی ضمانت منظور

    26 نومبر کے چار مقدمے، بشریٰ بی بی کی ضمانت منظور

    اسلام آباد: اسلام آباد کی مقامی عدالت نے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی 4 مختلف مقدمات میں عبوری ضمانت منظور کر لی۔

    یہ مقدمات پی ٹی آئی کے 26 نومبر کے احتجاج کے دوران بشریٰ بی بی کے خلاف درج کیے گئے تھے۔ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں ڈیوٹی جج شبیر بھٹی نے بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی۔ سابق خاتون اول بشریٰ بی بی اپنے وکلاء کے ہمراہ کمرہ عدالت میں پیش ہوئیں۔ عدالت نے ان کی عبوری ضمانت 13 جنوری تک منظور کرلی۔عدالت نے بشریٰ بی بی کی ضمانت کے لیے 50 ہزار روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا۔ عدالت کی جانب سے عبوری ضمانت کی منظوری کے بعد بشریٰ بی بی کو کوئی فوری گرفتاری کا سامنا نہیں ہوگا۔

    یاد رہے کہ بشریٰ بی بی کے خلاف تھانہ ترنول میں ایک اور تھانہ رمنا میں تین مقدمات درج ہیں۔ یہ مقدمات پی ٹی آئی کے 26 نومبر کے احتجاجی دھرنے کے دوران بشریٰ بی بی کے مبینہ کردار سے متعلق ہیں، جس کے نتیجے میں پولیس نے ان کے خلاف مقدمات درج کیے تھے۔اس عبوری ضمانت کی منظوری کے بعد بشریٰ بی بی کو کسی بھی طرح کی قانونی پریشانی سے بچت حاصل ہوئی ہے، اور ان کے وکلا نے عدالت کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

    آذربائیجان ،طیارہ مبینہ میزائل حملے کا نشانہ بنا، دعویٰ

    جاپان ایئرلائنز پر سائبر حملہ،پروازوں میں تاخیر

  • گرفتاری کا خدشہ،خدیجہ شاہ کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست

    گرفتاری کا خدشہ،خدیجہ شاہ کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست

    اسلام آباد ہائیکورٹ: خدیجہ شاہ نے اپنے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات کے حصول کیلئے درخواست دائر کر دی

    خدیجہ شاہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا کہ فریقین کو اسلام آباد میں درج مقدمات کی تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دیا جائے،9 مئی مقدمات میں شامل کیا گیا، ایک سال جیل میں رہی پھر ضمانت منظور ہوئی، مستند ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ مجھے مزید خفیہ مقدمات میں نامزد کیا گیا ہے، عدالت گرفتاری سے روک کر متعلقہ عدالتوں سے رجوع کرنے کی اجازت دے،فریقین کو درخواست گزار اور اُسکی فیملی کو ہراساں کرنے سے روکا جائے، درخواست میں سیکرٹری داخلہ، آئی جی پولیس اور ڈی جی ایف آئی اے کو فریق بنایا گیا ہے

    عمران خان کے سیل کا دورہ نہیں کرنے دیا گیا،خدیجہ شاہ کا چیف جسٹس کو خط

    پشاور ہائیکورٹ،شبلی فراز،زرتاج گل،خدیجہ شاہ و دیگر کی ضمانت منظور

    جیل ریفارمز،چیف جسٹس نے آمنہ قادر،احدچیمہ،خدیجہ شاہ پر مشتمل کمیٹی قائم کر دی

  • بشریٰ بی بی  کو 32 مقدموں میں ضمانت مل گئی

    بشریٰ بی بی کو 32 مقدموں میں ضمانت مل گئی

    سانحہ نو مئی کے32 مقدمات میں بشری بی بی نے انسداد دہشتگردی کی عدالت میں خود کو سرنڈر کر دیا

    راولپنڈی انسداد دہشت گردی اپنے وکلا کے ہمراہ پیش ہو گئیں ،اس موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں،محمد فیصل مالک پر مشتمل وکلا کا پینل درخواست ضمانتوں کی پیروی کرے گا ،دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے جج کمرہ عدالت میں پہنچ گئے ،بشری بی بی کی درخواست پر سماعت کریں گے،بشریٰ بی بی کی گاڑی کو انسداد دہشتگردی کی عدالت کے حدود میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی،

    بشری بی بی کی 32 مقدمات میں 13 جنوری تک عبوری ضمانت منظور کر لی گئی،عدالت نے بشری بی بی کو 13جنوری تک گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا،عدالت نے تمام مقدمات کے تفتیشی افسران کو نوٹس جاری کر دیئے۔عدالت نے آئندہ سماعت پر ریکارڈ طلب کر لیا، بشری بی بی کے خلاف مقدمات احتجاج کے واقعات پر اٹک اور پنڈی میں درج ہیں۔ درخواست ضمانتوں کی سماعت انسداد دہشتگردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کی ،ضمانت ملنے کے بعد بشری بی بی عدالت سےروانہ ہو گئیں،بشریٰ بی بی سماعت کے دوران کمرۂ عدالت میں موجود تھیں اور ان کی جانب سے ضمانتی مچلکے بھی جمع کرائے گئے۔

    بشریٰ بی بی بارے ٹویٹس،گلوکار سلمان احمد کو پی ٹی آئی نے پارٹی سے نکال دیا

    پشاور ہائیکورٹ، بشریٰ بی بی کی حفاظتی ضمانت میں توسیع

    عمران کے چھ، بشریٰ کی ایک مقدمے میں‌عبوری ضمانت میں توسیع

  • 2017 سے کیس زیر التوا،ریاست حکومت گرانے،لانے میں مصروف،جسٹس اطہرمن اللہ

    2017 سے کیس زیر التوا،ریاست حکومت گرانے،لانے میں مصروف،جسٹس اطہرمن اللہ

    سپریم کورٹ میں قتل کے ملزم اسحاق کی ضمانت قبل از گرفتاری درخواست پر سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے ملزم کو گرفتار کر کے جیل حکام کے حوالے کرنے کا حکم دیا ہے، دوران سماعت جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 2017 سے یہ کیس سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے جبکہ ریاست حکومت گرانے اور لانے میں مصروف ہے، تمام ادارے سیاسی مخالفین کے پیچھے پڑے ہیں، جسٹس جمال خان مندو خیل نے کہا کہ ریاست کی کیا بات کریں؟، 3 وزرائے اعظم مارے گئے، تینوں وزرائے اعظم کے کیسز کا کیا بنا، بلوچستان میں ایک سینئر ترین جج بھی مارے گئے، کچھ معلوم نہیں ہوا، اصل بات کچھ کرنے کی خواہش نہ ہونا ہے، دیگر 2 صوبوں کی نسبت سندھ اور پنجاب میں پولیس کی تفتیش انتہائی ناقص ہے، جب تک ریاستی ادارے سیاسی انجینئرنگ میں مصروف ہوں گے تو ایسا ہی حال رہے گا،

    وزیراعظم کے قتل سے بڑا جرم کیا ہو سکتا ہے؟، کسی کو ذمے دار قرار دے کر سزا دی جانا چاہئے تھی،جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ آئین پر عمل ہوتا تو ایسے حالات نہ ہوتے، جسٹس جمال خان مندو خیل نے کہا کہ لوگوں کو اداروں پر یقین نہیں، لوگ چاہتے ہیں تمام کام سپریم کورٹ کرے، جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ یہ ادارہ بھی اتنا ہی سچ بولتا ہے جتنا ہمارا معاشرہ، 40 سال بعد منتخب وزیر اعظم کے قتل کا اعتراف کیا گیا، وزیراعظم کے قتل سے بڑا جرم کیا ہو سکتا ہے؟، کسی کو ذمے دار قرار دے کر سزا دی جانا چاہئے تھی،

    وزیراعظم ایک دن وزیر اعظم ہائوس تو دوسرے دن جیل میں،جسٹس شہزاد ملک
    جسٹس شہزاد ملک نے کہا کہ جس ملک میں وزیراعظم کا ایسا حال ہو تو عام آدمی کا کیا حال ہوگا، وزیراعظم ایک دن وزیر اعظم ہائوس تو دوسرے دن جیل میں ہوتا ہے، کسی کو معلوم نہیں کس نے کتنے دن وزیراعظم رہنا ہے۔

    اٹک: مویشی پال حضرات کے لیے لائیو اسٹاک کارڈز کی تقسیم

    پشاور: اپیکس کمیٹی اجلاس، ضلع کرم میں بنکرز ختم کرنے کا فیصلہ

  • سپریم کورٹ،  فون اسمگلنگ کی ملزمہ کی ضمانت منظور

    سپریم کورٹ، فون اسمگلنگ کی ملزمہ کی ضمانت منظور

    سپریم کورٹ آف پاکستان نے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے فون اسمگلنگ کی ملزمہ کی ضمانت منظور کر لی ہے۔

    عدالت نے ملزمہ کی ضمانت 2 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کی۔ یہ فیصلہ جسٹس مسرت ہلالی کی جانب سے تحریر کیا گیا، جس میں کہا گیا ہے کہ ضمانت منسوخ کرنے کے وقت عدالت کو ملزمہ کی خواتین ہونے کی حیثیت کو مدنظر رکھنا چاہیے تھا۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ صرف قانون کا حوالہ دے کر سزا سنانا غیر مناسب تھا، اور اس کے ساتھ ہی ملزمہ کے مجرمانہ ریکارڈ، جرم کی نوعیت اور فرار نہ ہونے کے پہلو کو بھی ذہن میں رکھا جانا چاہیے تھا۔ عدالت نے مزید کہا کہ ملزمہ کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں اور نہ ہی اس کا اشتہاری ہونے کا کوئی ریکارڈ ہے۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ ملزمہ کی گرفتاری کے بعد سے اب تک وہ مقدمے میں تعاون کر رہی ہے اور اس کے خلاف کوئی ایسی دلیل یا ثبوت نہیں ہیں جن سے یہ ثابت ہو کہ وہ فرار ہو سکتی ہے۔

    یاد رہے کہ لاہور ایئرپورٹ پر دورانِ چیکنگ ملزمہ سے 26 آئی فون برآمد ہوئے تھے، جن کی مالیت 78 لاکھ 46 ہزار 798 روپے بتائی گئی ہے۔ ملزمہ پر الزام تھا کہ وہ ان فونز کو غیر قانونی طور پر اسمگل کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ تاہم، عدالت نے اس بات کو مدنظر رکھا کہ ملزمہ کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں اور اس کے جرم کی نوعیت بھی سنگین نہیں ہے۔

    فیصلہ کیا گیا کہ ملزمہ کے خلاف کوئی اشتہاری ہونے کا ریکارڈ نہیں ہے۔ملزمہ نے گرفتاری کے بعد کوئی فرار ہونے کی کوشش نہیں کی۔اس کی جنس کو مدنظر رکھتے ہوئے خصوصی احتیاطی تدابیر اختیار کی جانی چاہیے تھیں۔ملزمہ کا مجرمانہ ریکارڈ صاف ہے اور وہ مقدمے میں مکمل تعاون کر رہی ہے۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ جب تک ملزمہ پر مقدمہ چلتا ہے، وہ ضمانت پر رہ سکتی ہے اور اگر کسی بھی وقت وہ عدالتی کارروائی میں مداخلت کرنے کی کوشش کرے گی تو اس کی ضمانت واپس لے لی جائے گی۔اس فیصلے کے بعد، ملزمہ کو 2 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت پر رہائی مل گئی ہے، اور وہ اپنی رہائش گاہ پر موجود رہیں گی جب تک کہ ان کے خلاف کیس کی سماعت جاری ہے۔

  • پشاور ہائیکورٹ، بشریٰ بی بی کی حفاظتی ضمانت میں توسیع

    پشاور ہائیکورٹ، بشریٰ بی بی کی حفاظتی ضمانت میں توسیع

    پشاور ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ان کی حفاظتی ضمانت میں توسیع کر دی اور سماعت 16 جنوری تک ملتوی کر دی۔

    بشری بی بی کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات کے حوالے سے دائر کی گئی درخواست پر 2 رکنی بنچ نے سماعت کی، جس میں جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ اور جسٹس وقار احمد شامل تھے۔درخواست گزار کے وکیل عالم خان ادینزئی ایڈوکیٹ نے عدالت میں پیش ہو کر کہا کہ بشری بی بی کو آج اسلام آباد میں توشہ خانہ ٹو کے کیس میں پیش ہونا ہے، اور وہ وہاں پر پیش ہوں گی۔ وکیل نے عدالت سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی جس میں استدعا کی گئی کہ حفاظتی ضمانت میں مزید توسیع دی جائے تاکہ درخواست گزار کو قانونی کارروائی سے تحفظ حاصل ہو سکے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ بشری بی بی کے خلاف دو مختلف کیسز عدالت کے سامنے زیر سماعت ہیں، اور پہلے کیس میں انہوں نے رپورٹ جمع کروا دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں مزید کاروائی کے لیے رپورٹ تیار کی جا رہی ہے۔سپیشل ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب نے بھی عدالت میں اپنی رپورٹ جمع کروا دی اور بتایا کہ بشری بی بی کے خلاف نیب کے تین مختلف کیسز زیر تفتیش ہیں۔ انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ ان کی نئی درخواست پر بھی رپورٹ جمع کی جائے۔عدالت نے اس موقع پر ریمارکس دیے کہ بشری بی بی کی نئی درخواست پر بھی رپورٹ جمع کی جائے اور مزید قانونی کارروائی کو جاری رکھا جائے۔ اس کے بعد عدالت نے بشری بی بی کی حفاظتی ضمانت میں توسیع کرتے ہوئے سماعت 16 جنوری 2024 تک ملتوی کر دی۔

    یہ مقدمات بشری بی بی اور ان کے شوہر عمران خان کے خلاف جاری تحقیقات کا حصہ ہیں، جن میں نیب اور دیگر ادارے کرپشن اور دیگر الزامات کی تفتیش کر رہے ہیں۔اب بشری بی بی کو اس عرصے میں قانونی معاملات میں راحت ملے گی اور انہیں حفاظتی ضمانت کی توسیع کا فائدہ حاصل ہوگا۔ ان کی آئندہ پیشیوں کا فیصلہ عدالت کی جانب سے 16 جنوری 2024 کو کیا جائے گا۔

  • سول نافرمانی تحریک عمران خان جب حکم دیں گے،شروع ہو گی،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    سول نافرمانی تحریک عمران خان جب حکم دیں گے،شروع ہو گی،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی ایک ماہ کی حفاظتی ضمانت منظور کرلی ہے۔

    یہ فیصلہ عدالت میں علی امین گنڈاپور کی درخواست پر سماعت کے بعد دیا گیا، جس میں انہوں نے اپنے خلاف درج مقدمات کی تفصیل پیش کرنے کی درخواست کی تھی۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور عدالت میں پیش ہوئے اور اپنے خلاف درج مقدمات پر بات کی، جس کے بعد پشاور ہائیکورٹ نے انہیں ایک ماہ کے لیے حفاظتی ضمانت دینے کا فیصلہ کیا۔ عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو درج مقدمات میں گرفتار نہ کیا جائے۔

    وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کے خلاف اسلام آباد میں 32 اور پنجاب میں 33 مقدمات درج ہیں، وفاقی حکومت کی جانب سے پشاور ہائیکورٹ میں رپورٹ جمع کروا دی گئی

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سول نافرمانی تحریک صرف اس وقت شروع ہوگی جب پی ٹی آئی کے بانی عمران خان اس کا حکم دیں گے۔ انہوں نے کہا، "بانی پی ٹی آئی جب بتائیں گے، تب سول نافرمانی تحریک شروع ہوگی۔ ان کے احکامات آئیں گے، پھر اس پر عمل ہوگا۔”علی امین گنڈاپور نے مزید کہا کہ انہیں گزشتہ روز بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرنے سے روکا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اڈیالہ جیل میں ملاقات کے لیے پہنچنے کے باوجود انہیں کہا گیا کہ "آپ کو ملاقات کی اجازت نہیں ہے”۔ وزیراعلیٰ کے پی کا کہنا تھا کہ وہ پورے خیبرپختونخوا کے نمائندہ ہیں اور انہیں کسی سے کلیئرنس کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے یہ بھی سوال کیا کہ جو افراد اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں، کیا ان کی کلیئرنس ہے؟میری عمران خان سے ملاقات ہو جائے گی،جو عمران خان کا حکم ہو گا اس پر عمل ہو گا، میں صوبے کا نمائندہ ہوں مجھے ضمانت کی ضرورت نہیں پھر بھی کروا رہا ہوں،

    واضح رہے کہ علی امین گنڈاپور نے کل (پیر کے روز) عمران خان سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل گئے تھے تاہم انہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ اس واقعے پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے شدید برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ انہیں ملاقات سے روکا جانا ایک غیر مناسب عمل تھا۔

    شہباز شریف ہرجانہ کیس، عمران خان کی درخواست ناقابل سماعت قرار

    عمران کے چھ، بشریٰ کی ایک مقدمے میں‌عبوری ضمانت میں توسیع

    توہین الیکشن کمیشن کیس،عمران خان کو پیش نہ کیا جا سکا،سماعت ملتوی