Baaghi TV

Tag: ضمانت

  • گرفتاری کا خوف، بشریٰ بی بی پھر عدالت پہنچ گئی

    گرفتاری کا خوف، بشریٰ بی بی پھر عدالت پہنچ گئی

    لاہور ہائیکورٹ، چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کی کیسز کی تفصیلات کیلئے درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے درخواست پر وفاقی حکومت سمیت فریقین کو 20 نومبر کیلئے نوٹس جاری کر دیئے،جسٹس شہرام سرور چوہدری کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے بشری بی بی کی درخواست پر سماعت کی،درخواست میں وفاقی حکومت، صوبائی حکومت کو فریق بنایا گیا ہے،درخواست میں نیب، آئی جی پنجاب، انٹی کرپشن سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے

    بشریٰ بی بی کی جانب سے عدالت میں دائر درخؤاست میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کیخلاف شوہر کو وزارت اعظمی سے ہٹانے سے قبل کوئی کیس نہیں تھا، چیئرمین پی ٹی آئی کو عہدے سے ہٹانے کے بعد سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ،درخواست گزار کو آئے روز کسی نئے کیس میں طلب کرلیا جاتا ہے ،درخواست گزار کو کیسز کی تفصیلات فراہم نہیں کی جارہی ہیں،معلوم نہیں درخواست گزار کیخلاف کتنی انکوائریاں، کیسز درج ہیں،عدالت غیر قانونی کیسز، انکوائریز کالعدم قرار دی جائیں ،عدالت انکوائریز، ایف آئی آرز، تحقیقات کی تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دے،عدالت نامعلوم کیسز، انکوائریز میں گرفتار کرنے سے روکنے کا حکم دے ،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • انوکھے لاڈلے کو کہنا چاہتا ہوں فیصلہ آسمانوں پر ہوتا ہے،شیخ رشید

    انوکھے لاڈلے کو کہنا چاہتا ہوں فیصلہ آسمانوں پر ہوتا ہے،شیخ رشید

    اسلام آباد ہائیکورٹ: سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کی موچکو اور لسبیلہ میں مقدمات کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے درخواست پر سماعت کی،موچکو اور لسبیلہ میں درج مقدمات میں شیخ رشید کی گرفتاری روکنے کے حکم میں جنوری تک توسیع کر دی گئی، عدالت نے ایس ایس پی انوسٹی گیشن کیماڑی کو نوٹس جاری کرتے ہوئےآئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ،عدالت نے استفسار کیا کہ ایس ایس پی کیماڑی بتائیں کہ عدالتی حکم کے باوجود مقدمے کے آپریشنز کیسے جاری رکھے گئے؟تفتیشی افسر نے کہا کہ لسبیلہ میں درج مقدمے کی اخراج کیلئے رپورٹ بھجوا دی ہے ، محکمے کو مراسلہ بھجوا دیا ہے،

    عدالت نے لسبیلہ مقدمے کے مدعی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردئیے ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شیخ صاحب چلے سے بھی جان نہیں چھوٹی آپ کی ،سندھ میں بھی 7اے ٹی اے لگ گئی ہے آپ پر ، سندھ پولیس کے افسر نے کہا کہ ہماری تفتیش مکمل ہوگئی ہے،چالان جمع کرانا ہے ، سابق تفتیشی افسر نے تفتیش مکمل کی، 7اے ٹی اے کا اضافہ بھی کیا ، ڈی ایس پی کلفٹن نے کہا کہ اندارج کے وقت شاید کوئی سیاسی معاملہ تھا ، میرے حساب سے تو یہ ایف آئی آر ہی نہیں بنتی،ڈی ایس پی ٹریفک کراچی نے کہا کہ میرے پاس یہ کیس ہوتا تو ایف آئی آر خارج ہوچکی ہوتی،ڈی ایس پی پولیس کلفٹن نے کہا کہ میرا اب تبادلہ ہوچکا ہے ،آئندہ سماعت پر شاید کوئی اور آفسر پیش ہو،اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ان کا بیان نہ لکھیں یہ تو ویسے ہی ایمانداری سے یہ بات بتارہے ہیں ،جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کہا کہ آپ کا بیان نہیں ہم کارروائی کا حصہ نہیں بنارہے ،یہ نہ ہو آپ کی نوکری چلی جائے،کیس کی سماعت جنوری تک ملتوی کردی گئی

    عدالت پیشی کے موقع پر شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی 16 سیٹیں ہیں، 3 انوکھا لاڈلا لے گا، بلوچستان کی تین چار سیٹیں فضل الرحمان لے گا ،آصف زرداری بھی تاش چھاتی سے لگا کر کھیلتے ہیں،میرے اوپر 80 سے زائد مقدمات درج ہوچکے ہیں، کل لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی برانچ میں درخواست دائر کروں گا،اگر میں نے جیل سے الیکشن لڑنا ہے تو میں نے رضائی لے لی ہے، میں نے کسی کے خلاف کوئی بیان نہیں دیا،میں انوکھے لاڈلے کےساتھ بھی رہاہوں ، انوکھے لاڈلے کو کہنا چاہتا ہوں فیصلہ آسمانوں پر ہوتا ہے،میری طبیعت نہیں ٹھیک میں ہاتھ جوڑکر بڑے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں،میری طبیعت اور صحت ٹھیک نہیں، جتنے میرے اوپر کیس ہیں، کل پتہ چلے گا، نو مئی والے ملزمان کے لئے ہاتھ جوڑ کر بڑے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں‌کہ انکو معاف کیا جائے، میری کسی سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی، جو بے گناہ ہیں، انکو معاف کر دیا جائے.مجھے کوئی ریلیف نہیں مل رہا، عمران خان کے حوالہ سے سوال پر شیخ رشید نے کوئی جواب نہیں دیا،

  • سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    سائفر کیس، شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس میں شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد کردی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیا، عدالت نے شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد کر دی،شاہ محمود قریشی نے ضمانت پر رہائی کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے محفوظ شدہ فیصلہ سنادیا

    سائفر کیس کا ٹرائل چار ہفتوں میں مکمل کرنے کا حکم
    سائفر کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا حکم سامنے آیا ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس کا ٹرائل چار ہفتوں میں مکمل کرنے کا حکم دے دیا،سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت مسترد کر دی گئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے تحریری فیصلہ جاری کردیا،سائفر کیس میں شاہ محمود قریشی کی ضمانت مسترد کرنے کا 10 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا گیا،فیصلے میں کہا گیا کہ شاہ محمود قریشی کو سائفر کیس میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے سیکشن 9 کے تحت نامزد کیا گیا ہے، شاہ محمود قریشی پر سائفر کیس میں جرم کی حوصلہ افزائی اور معاونت کے الزامات ہیں، قانون کے مطابق جرم کی معاونت کرنے والے پر بھی اتنی ہی ذمہ داری عائد ہوتی ہے جتنی جرم کرنے والے ہر ہوتی ہے، سائفر کیس میں مرکزی ملزم چیئرمین پی ٹی آئی کو آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی سیکشن 5 کے تحت نامزد کیا گیا ہے، سیکشن 5 کے تحت جرم کے ارتکاب کی سزا عمر قید یا سزائے موت ہے،آفیشل سیکریٹ ایکٹ کا سیکشن 9 کہتا ہے کہ جرم پر اکسانے یا معاونت پر بھی وہی سزا ہوگی جو سیکشن 5 میں درج ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ مرکزی ملزم چیئرمین پی ٹی آئی کی ضمانت کی درخواست 16 اکتوبر کو مسترد کر چکی ہے،شاہ محمود قریشی کی ضمانت بھی مرکزی ملزم سے جڑی ہوئی ہے، درخواست گزار کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت استثنیٰ بھی مانگا گیا ہے،آرٹیکل 248 شاہ محمود قریشی کے کیس میں لاگو ہی نہیں ہوتا، آرٹیکل 248 کا اطلاق سرکاری ذمہ داریاں نبھانے کے حوالے سے کیا جاتا ہے، شاہ محمود قریشی پر الزام ہے کہ انہوں نے 27 مارچ 2023 کو جلسے میں تقریر کے دوران جرم کی حوصلہ افزائی، معاونت کی،ایک جلسے میں تقریر کرنا سرکاری ذمہ داریوں میں شامل نہیں، لحاظہ آرٹیکل 248 کا اطلاق نہیں ہوتا،شاہ محمود قریشی کی ضمانت کی درخواست مسترد کی جاتی ہے،خصوصی عدالت یہ حکم نامہ موصول ہونے کے 4 ہفتوں کے اندر اندر ٹرائل مکمل کرے،

    کیس کی سماعت کے دوران ایف آئی اےکے پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے درخواست ضمانت کی مخالفت کر دی جس پر چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ لیکن یہ تو ضمانت کی درخواست ہے ، رضوان عباسی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے تناظر میں سرٹیفیکیٹ جمع کروانا ہوتا وہ نہیں ہے ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ سرٹیفیکیٹ شریک ملزم کا نہیں ہے لیکن اسکا ریفرنس تو دیا ہوا ہے ،وکیل شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کریمنل کیسز میں اگر دس کیسز ہیں تو دس وکیل بھی ہو سکتے ہیں ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہاکہ ایسے معاملات میں دیگر کیسز کو یکجا کردیا جاتا ہے ، ہمارے ہاں بہت ساری غلطیاں ہوتی ہیں ہم اس کو مان لیتے ہیں ، وکیل شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے میرے موکل کی ضمانت خارج کردی تھی ،

    وکیل راجہ رضوان عباسی نے کہا کہ کچھ حقائق عدالت کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں ،9 اکتوبر کو کاپیز کی نقول شاہ محمود قریشی کو دی گئیں تھیں ، 17 اکتوبر کو شاہ محمود قریشی نے 9 اکتوبر کے آرڈر پر دستخط کئے تھے، 23 اکتوبر کو قانونی تقاضے پورے کرکے فرد جرم عائد ہوئی تھی، قانون میں صرف کاپیز فراہم کرنے کا ذکر ہے، ملزم کے وصول کرنے کا نہیں، اگر ملزم تعاون نا کر کے کاپیز وصول نا کرے تو اس سے عدالت کا کوئی تعلق نہیں، عدالت نے کاپیز سپلائی کر دیں، مقدمہ اس عدالت کے دائرہ اختیار میں تھا مگر لاہور ہائی کورٹ کا ایک سال تک حکم امتناع رہا، ایف آئی اے نے حکم امتناع خارج ہونے پر انکوائری مکمل ہونے پر کمپلینٹ پر مقدمہ درج کیا، کچھ آڈیو لیکس بھی اس کیس میں تھیں، پٹشنرز نے لاہور ہائیکورٹ میں ایف آئی اے کے نوٹسز چیلنج کئے،ایک سال سے اس کیس میں لاہور ہائیکورٹ میں اسٹے رہا ہے پھر انہوں نے وہ پٹیشن واپس لے لی، اس کے بعد ایف آئی اے نے کاروائی شروع کی ایف آئی اے کے اندراج میں کوئی ڈیلے نہیں ہے، ، شاہ محمود قریشی نے سنگین جرم کیا اور وہ ضمانت کی رعائت کے مستحق نہیں عدالت ضمانت کی درخواست مسترد کرے

    سائفر کیس میں ایف آئی اے اسپیشل پراسیکیوٹر ذوالفقار عباس نقوی نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے کہاکہ ہم 15 سے 20 دن میں سائفر کیس کا ٹرائل مکمل کر سکتے ہیں اگر عدالت ہمیں 15 سے 20 روز یا زیادہ سے زیادہ ایک ماہ دے تو ٹرائل مکمل کر دیں گے یہ تو یہ ٹرائل کو آگے نہیں بڑھنے دیتے یہ کہتے ہیں ہر سماعت پر تین تین گواہوں کے بیانات ریکارڈ کریں ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہ جیل ٹرائل ہے، ان کیمرا ٹرائل نہیں ، جیل ٹرائل کس انداز میں چل رہا ہے؟ سپیشل پراسیکیوٹر شاہ خاور نے کہا کہ اٹارنی جنرل نے ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ کو بتایا ہے کہ وہ تحفظات دیکھیں گے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ جیل ٹرائل کا مطلب ہے کہ اوپن پبلک کورٹ پروسیڈنگ نہیں،سپیشل پراسکیوٹر نے کہا کہ جیل ٹرائل میں پبلک کی رسائی منع نہیں مگر محدود ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ جیل ٹرائل کے دوران تو صرف وہ لوگ ٹرائل پروسیڈنگ دیکھ سکیں گے جنہیں جیل حکام اجازت دیں.

    واضح رہے کہ سائفر کیس میں عمران خان کی درخواست ضمانت ہفتے کے روز اسلام آباد ہائیکورٹ نے مسترد کر دی تھی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے 20 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا،تحریری فیصلے میں عدالت نے کہا کہ بادی النظر میں مقدمہ میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن فائیو کا اطلاق ہوتا ہے،پراسیکیوشن کا کیس ہے کہ وزارت خارجہ نے سائفر کو ڈی کوڈ کر کے پرائم منسٹر سیکرٹریٹ کو بھجوایا،چیئرمین پی ٹی آئی نے بطور وزیراعظم سائفر کو وصول کیا اور بظاہر گم کر دیا،چیئرمین پی ٹی آئی نے سائفر کے مندرجات کو ٹوئسٹ کر کے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • توشہ خانہ کیس، عمران خان کی ضمانت بحال

    توشہ خانہ کیس، عمران خان کی ضمانت بحال

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ نیب کیس میں عمران خان کی ضمانت بحال کردی

    190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل میں گرفتاری کی وجہ سے درخواست غیر موثر قرار ، نیب کی گرفتاری اسلام آباد ہائیکورٹ نے درست قرار دے دی،گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کیا تھا جو اب سنا دیا گیا ہے، عدالت نے احتساب عدالت کو کہا ہے عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں ضمانت بحال تصور ہو گی احتساب عدالت دوبارہ کیس سن کے میرٹ پر فیصلہ کرے

    دوران سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب نے بہت لاپرواہی کا مظاہرہ کیا جس وجہ سے کیس تاخیر کا شکار ہوا، نیب کا یہ رویہ قطعی طور پر درست نہیں،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق نے کیس پر سماعت کی، عمران خان کی جانب سے انکے وکیل سردار لطیف کھوسہ پیش ہوئے۔لطیف کھوسہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ18اکتوبر کو ہم نے یہ درخواست یہاں اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کی تھی۔ عدالت کے روبرو نیب نے بیان دیا کہ تاحال چیئرمین پی ٹی آئی کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ عدالت سے فراڈ کیا گیا۔

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

  • جناح ہاؤس کیس،مزید 4 افراد کی ضمانتیں منظور

    جناح ہاؤس کیس،مزید 4 افراد کی ضمانتیں منظور

    ‏انسداد دہشت گردی عدالت لاہور ،جناح ہاوس حملہ کیس میں نامزد 129 ملزمان کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی
    عدالت نے پراسیکیوشن کی استدعا پر ضمانتوں پر سماعت انتظار میں رکھ لی ،عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان کو نئے مقدمات میں بغیر نوٹس گرفتار کیوں کر رہے ہیں ، مجھے تو لگتا ہے لوگوں کو خواب میں بھی یہ مقدمات آتے ہوں گے ،پراسیکیوٹر عبدالجبار ڈوگر نے کہا کہ اسپیشل پراسیکیوٹر فرہاد علی شاہ دلائل مکمل کریں گے ،

    عدالتی حکم پر پولیس نے مقدمے کا ریکارڈ عدالت پیش کر دیا ،اسپیشل پراسیکیوٹر فرہاد علی شاہ کی ہائیکورٹ مصروفیت کی کاز لسٹ عدالت پیش کر دی گئی، عدالت نے ہدایت کی کہ ملزمان کے وکلا اپنے دلائل مکمل کریں ،انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ارشد جاوید درخواست ضمانتوں پر سماعت کی، پراسیکیوشن نے کہا کہ سر یہ ریکارڈ ہائیکورٹ میں پیش کرنا ہے ، اس مقدمہ کا ریکارڈ کوٹ لکھپت جیل میں شناخت پریڈ کے لیے پیش کرنا ہے ،ملزمان کے وکلا نے کہا کہ اگر ریکارڈ بھیج دیا تو ریکارڈ فائل آج واپس نہیں آئے گی ، یہ تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں عدالت ریکارڈ واپس نہ بھیجے ،جناح ہاوس حملہ کیس کا مقدمہ تھانہ سرور روڈ میں درج ہے.

    دوسری جانب لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے جناح ہاوس مقدمہ میں مزید 4 افراد کی ضمانتیں منظور کرلیں،انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج نے خالد حسین، آفتاب اقبال، اسد علی بیگ اور ظہور احمد کو ضمانت ہر رہا کرنے کا حکم دے دیا،ملزمان کیجانب سے ایڈوکیٹ چوہدری ناصر جٹ عدالت میں پیش ہوئے،ملزمان کیخلاف جناح ہاوس توڑ پھوڑ کا مقدمہ تھانہ سرور روڈ درج تھا

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد کور کمانڈر ہاؤس لاہور میں ہونیوالے ہنگامہ آرائی میں پی ٹی آئی ملوث نکلی

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     مراد سعید کے گھر پر پولیس نے چھاپہ

    واضح رہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کارکنان نے فوجی تنصیبات پر ملک بھر میں حملے کئے تھے، شرپسند عناصر کو گرفتار کیا جا چکا ہے، گرفتار افراد کا کہنا ہے منظم منصوبہ بندی کے تحت حملے کئے گئے، شرپسند افراد نے ویڈیو بیان بھی جاری کئے ہیں جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ سب منصوبہ بندی کے تحت ہوا، پی ٹی آئی رہنما بھی گرفتار ہیں تو اس واقعہ کے بعد کئی رہنما پارٹی چھوڑ چکے ہیں

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نومئی واقعات کیس میں جے آئی ٹی کے سامنے جب پیش ہوئے تھے تو اسوقت جے آئی ٹی کے سوالات کے جواب میں عمران خان نے تسلیم کر لیا کہ نو مئی کا واقعہ منظم منصوبہ بندی کے تحت ہوا،لیکن منصوبہ بندی کہیں اور ہوئی تھی، عمران خان جے آئی ٹی کے اراکین کو دھمکیاں بھی دیتے رہے،میں پھر آؤں گا،آپکو تمام کاروائیوں کا جواب دینا ہو گا

    میڈیا رپورٹس کے مطابق عمران خان سے جے آئی ٹی نے جو سوال کئے اور عمران خان نے جواب دیئے، اندرونی کہانی سامنے آئی،عمران خان سے جو سوال کئے گئے اس میں عمران خان نے سوالات کے جواب دئے ساتھ ہی دھمکی بھی لگاتے رہے، عمران خان جے آئی ٹی کے سامنے ایک گھنٹہ رہے، جے آئی ٹی ایک ڈی آئی جی، ایک ایس ایس پی اور 4 ایس پیز پر مشتمل تھی،

  • آپ نے پھر شیخوں والی بات کر دی،عدالت کا شیخ رشید سے مکالمہ

    آپ نے پھر شیخوں والی بات کر دی،عدالت کا شیخ رشید سے مکالمہ

    9 مئی واقعات، ہنگامہ آرائی، توڑ پھوڑ مقدمات، شیخ رشید کی ضمانت منظور کر لی گئی

    اسلام آباد کی سیشن کورٹ نے پانچ ہزار کے ضمانتی مچلکوں پر شیخ رشید کی ضمانت منظور کرلی ، شیخ رشید نے عدالت میں کہا کہ جو ضمانتی مچلکے جمع کراتا ہے اسے بھی اٹھا لیا جاتا ہے،آج بنک بند ہیں پیر کے روز تک پانچ ہزار روپے جمع کرائیں گے، عدالت نے شیخ رشید کے بیان پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے پھر شیخوں والی بات کردی، عدالت کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہہ گونج اٹھا،سیشن کورٹ نے شیخ رشید کے خلاف تھانہ کوہسار میں درج مقدمے پر پولیس کو نوٹس جاری کردیا

    سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے تھانہ کوہسار میں درج مقدمہ میں ضمانت کیلئے رجوع کیا تھا،شیخ رشید نے ضمانت کی درخواست سردار عبدالرزاق ایڈووکیٹ کے ذریعے دائر کی ،درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ پی ٹی آئی ورکرز پر درج کسی بھی مقدمہ میں نامزد نہیں ہوں،واقعہ سے کوئی تعلق نہیں، بے بنیاد پھنسایا جا رہا ہے، قانون کی عملداری پر یقین رکھتا ہوں، پولیس نے رہائشگاہ پر چھاپہ بھی مارا، کیس کا فیصلہ ہونے تک ضمانت منظور کی جائے،

    عدالت پیشی کے موقع پر شیخ رشید کا کہنا تھا کہ تھانہ کوہسار میں بیسویں ضمانت منظور ہوئی ہے ۔ شکر ہے جج صاحب نے سستی ضمانت دی, سنا ہے 66 کیسز اور ہیں میرے پاس تو اتنے ضمانتی نہیں, کوئی قوم اداروں کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی، چلہ مہنگا پڑھ گیا، 73 سال عمر ہے 86 کیسز ہیں،جس دن چلے پر گیا اس دن ہائیکورٹ میں کہا گیا کہ میرے اوپر کوئی کیس نہیں، میرے ضمانتیوں کو اندر کر دیا جاتا ہے،اداروں کے ساتھ اچھے تعلقات نہ ہوں تو کوئی قوم نہیں رہ سکتی، اداروں کے ساتھ یکجہتی کا بہتر رشتہ ہونا چاہئے،جج صاحب نے بھی کہا کہ چلہ الٹا پڑ گیا، اللہ مدد کرے گا، اللہ عزت دیتا ہے، اللہ بادشاہ ہے، باقی سب کچھ عارضی ہے،

    واضح رہے کہ شیخ رشید رہائی کے بعد واپس آئے تھے تو انکی طبیعت خراب ہو گئی تھی، شیخ رشید کو ہسپتال منتقل کر دیا تھا تا ہم ایک روز ہسپتال رہنے کے بعد وہ گھر منتقل ہو گئے تھے،لال حویلی بھی شیخ رشید کی رہائی کے بعد ڈی سیل کر دی گئی ہے

    لال حویلی خالی کرانے کا نوٹس، شیخ رشید کو عدالت سے ریلیف مل گیا

    اکیلی عورت لفٹ لے کر فرنٹ سیٹ پر کیسے بیٹھ گئی، عدالت کے ریمارکس

    کٹاس راج مندر ازخودنوٹس کیس، سپریم کورٹ نے کس سے رپورٹ طلب کی؟ اہم خبر

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

  • بشریٰ بی بی بھی جلد جیل میں‌ہوں گی

    بشریٰ بی بی بھی جلد جیل میں‌ہوں گی

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے امکانات بڑھ گئے ہیں

    عمران خان سائفر کیس میں جیل میں ہیں، بشریٰ بی بی کو بھی نیب نے طلب کر رکھا ہے، بشریٰ بی بی مختلف کیسز میں ضمانتوں پر ہیں، نیب نے ہر پیشی پر کہا کہ بشریٰ کی گرفتاری مطلوب نہیں تا ہم بشریٰ بی بی کو گوا ہ سے ملزم بنا کر گرفتار کیا جا سکتا ہے،بشریٰ بی بی کو 13 نومبر کو بطور ملزم نیب نے طلب کر رکھا ہے،

    نجی ٹی وی جیو کے مطابق بشریٰ بی بی نے کچھ رقوم وصول کیں جس کے شواہد نیب کو مل گئے ہیں،حال ہی میں‌فرح گوگی کے اثاثوں کے حوالہ سے سامنے آنے والی رپورٹس بھی بشریٰ بی بی اور عمران خان کے لئے کافی مسائل پیدا کر سکتے ہیں

    نیب میں توشہ خانہ اور 190 ملین پاؤنڈ کیس چل رہا ہے،نیب اس کیس کا ٹرائل جلدی کر سکتا ہے، اسی کیس میں بشری بی بی کی گرفتاری ہو سکتی ہے،سات ستمبر کو توشہ خانہ کیس میں تفتیشی افسر نے عدالت میں کہا تھا کہ بشری بی بی کی گرفتاری مطلوب ہے،بشری بی بی کی ایف آئی اے کو آڈیو کی فرانزک کیلئے بھیجی ہوئی ہے تاہم عدالت نے کیس کی سماعت کے بعد بشریٰ بی بی کو ضمانت دے دی تھی،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • شیخ صاحب لگتا ہے آپ کا چلہ آپکو الٹا پڑ گیا،عدالت کا شیخ رشید سے مکالمہ

    شیخ صاحب لگتا ہے آپ کا چلہ آپکو الٹا پڑ گیا،عدالت کا شیخ رشید سے مکالمہ

    راولپنڈی: انسداد دہشت گردی عدالت،سابق وزیر داخلہ شیخ رشید اور انکے بھتیجے شیخ راشد شفیق کی 9 مئی کے مزید چار مقدمات میں ضمانت منظور کر لی گئی

    شیخ رشید اور شیخ راشد شفیق انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش ہوگئے،کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ملک اعجاز آصف نے کی،عدالت نے شیخ رشید سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ شیخ صاحب لگتا ہے آپ کا چلہ آپکو الٹا پڑ گیا، شیخ رشید نے عدالت میں کہا کہ میرے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں تھا سب مقدمات میرے چلے کے بعد کے ہیں

    عدالت نے شیخ رشید اور شیخ راشد شفیق کی عبوری ضمانت 18 نومبر تک منظور کرلی،عدالت نے شیخ رشید اور شیخ راشد شفیق کے مقدمات کی درخواستیں یکجا کرنے کی ہدایت کر دی، شیخ رشید کے وکیل نے کہا کہ آئی جی پنجاب لکھ کر دے چکے شیخ رشید کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں، نو مئی کے مقدموں میں بیانات کے ذریعے شیخ رشید کو ملوث کیا گیا، شیخ رشید کو نو مئی کے 13 مقدمات میں نامزد کیا گیا ہے،

    واضح رہے کہ شیخ رشید رہائی کے بعد واپس آئے تھے تو انکی طبیعت خراب ہو گئی تھی، شیخ رشید کو ہسپتال منتقل کر دیا تھا تا ہم ایک روز ہسپتال رہنے کے بعد وہ گھر منتقل ہو گئے تھے،لال حویلی بھی شیخ رشید کی رہائی کے بعد ڈی سیل کر دی گئی ہے

    لال حویلی خالی کرانے کا نوٹس، شیخ رشید کو عدالت سے ریلیف مل گیا

    اکیلی عورت لفٹ لے کر فرنٹ سیٹ پر کیسے بیٹھ گئی، عدالت کے ریمارکس

    کٹاس راج مندر ازخودنوٹس کیس، سپریم کورٹ نے کس سے رپورٹ طلب کی؟ اہم خبر

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

  • بشریٰ بی بی نے نیب پیشی سے معذرت کر لی

    بشریٰ بی بی نے نیب پیشی سے معذرت کر لی

    نیشنل کرائم ایجنسی 190 ملین پاؤنڈ کیس ،بشریٰ بی بی نے نیب پیشی سے معذرت کر لی

    بشریٰ بی بی نے اپنے وکیل نعیم حیدر پنجوتھہ کے توصل سے تحریری جواب جمع کروایا ،بشریٰ بی بی کی جانب سے جمع جواب میں کہا گیا کہ مجھے آج 2:30 بجے نیب کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہونے کا نوٹس موصول ہوا، زاتی مصروفیات کے باعث آج پیش نہیں ہوسکتی،آئندہ ہفتے پیش ہونے کے لئیے کوئی تاریخ دی جائے پیش ہوں گی،

    واضح رہے کہ بشریٰ بی بی کوآج نیب نے طلب کر رکھا تھا، بشریٰ بی بی اس کیس میں پیش ہو چکی ہیں اور ضمانت پر ہیں،گزشتہ سماعت پر نیب پراسکیوٹر نے عدالت میں بیان دیا کہ بشریٰ بی بی نے تیسری بار درخواست ضمانت دائرکی ہے، جب کہ گزشتہ 2 بار ضمانتوں کی درخواست نمٹا دی گئی تھیں، اور نیب نے کہا بھی تھا کہ بشریٰ بی بی کی گرفتاری مطلوب نہیں، انہوں نے ایک ہی گراؤنڈ پر دربارہ درخواست ضمانت ہ دائر کردی ہے اور بشریٰ بی بی کے وکیل نے عدالت میں استدعا کی کہ بشریٰ بی بی کو کم سے کم نوٹس تو پہلے دیا جائے۔یب کے تفتیشی افسر نے اپنا بیان احتساب عدالت میں جمع کروایا، جس میں کہا کہ بشریٰ بی بی کی گرفتاری مطلوب نہیں ہے اور بشریٰ بی بی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ بشریٰ بی بی کے خلاف مقدمات بنانے کی کوشش کی جارہی جبکہ عدالت نے بشریٰ بی بی کی دونوں مقدمات میں ضمانت میں15 نومبر تک توسیع کردی اور سماعت ملتوی کردی۔

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • سائفر کیس،شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت،وکیل کے دلائل مکمل

    سائفر کیس،شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت،وکیل کے دلائل مکمل

    اسلام آباد ہائیکورٹ: شاہ محمود قریشی کی سائفر کیس میں درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی

    شاہ محمود قریشی کے وکیل علی بخاری عدالت میں پیش ہوئے،ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر شاہ خاور اور رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آج پراسیکیوشن موجود ہے،

    ایف آئی اےکے پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے درخواست ضمانت کی مخالفت کر دی جس پر چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ لیکن یہ تو ضمانت کی درخواست ہے ، رضوان عباسی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے تناظر میں سرٹیفیکیٹ جمع کروانا ہوتا وہ نہیں ہے ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ سرٹیفیکیٹ شریک ملزم کا نہیں ہے لیکن اسکا ریفرنس تو دیا ہوا ہے ،وکیل شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کریمنل کیسز میں اگر دس کیسز ہیں تو دس وکیل بھی ہو سکتے ہیں ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہاکہ ایسے معاملات میں دیگر کیسز کو یکجا کردیا جاتا ہے ، ہمارے ہاں بہت ساری غلطیاں ہوتی ہیں ہم اس کو مان لیتے ہیں ، وکیل شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے میرے موکل کی ضمانت خارج کردی تھی ، عدالت نے کہا کہ اسکو بعد میں سنتے ہیں دیگر کیسز سن لیتے ہیں پہلے ،

    سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت پر وقفے کے بعد سماعت کا آغاز ہوا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا کیس کا ریکارڈ آگیا؟ شاہ محمود قریشی کے وکیل علی بخاری نے دلائل دیئے،شاہ محمود قریشی کے وکیل سید علی بخاری نے ایف آئی آر پڑھ کر سنائی ،عدالت نے شاہ محمود قریشی کے وکیل سے استفسار کیا کہ اس کیس میں آپکے موکل کا کیا رول ہے؟ وکیل نے کہا کہ آفیشل سیکریٹ انفارمیشن، سائفر کو غیر قانونی رکھنا اور اسکا استعمال کرنا لیکن ایسا کچھ بھی نہیں، یہ سب میں نہیں بلکہ ایف آئی آر کہہ رہی ہے،میرا تو نام بس آخر میں لکھا گیا ہےپہلے سابق وزیراعظم کی درخواست ضمانت خارج ہوئی اور پھر میرے موکل کی،اسی مقدمے میں اعظم خان اور اسد عمر کا نام چالان میں نہیں ہے،مقدمہ میں سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان اور اسد عمر کا ذکر ہے، چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت خارج جبکہ اسد عمر کی ضمانت کنفرم کر دی گئی،چالان کی کاپی درخواست گزار کو احتجاج کرنے پر فراہم کی گئی، 23 اکتوبر کو درخواست گزار پر فرد جرم عائد کر دی گئی،پراسیکوشن کا شکریہ جنہوں چالان جمع کرایا، میرے پاس چالان ہے ہی نہیں، ماسوائے دو بیانات کے، 8 مارچ 2022 کو سائفر آیا اور 27 مارچ 2022 کو جلسے میں بتایا گیا، میری تقریر کو ہی میرے خلاف استعمال کیا گیا، اور وہاں سے میرا کردار شروع ہوگیا،

    علی بخاری نے شاہ محمود قریشی کی پریڈ گراؤنڈ جلسے کی تقریر کی ٹرانسکرپٹ عدالت کو پڑھ کر سنایا،وکیل نے کہا کہ نہ میں نے کسی چیز کا، نہ ہی کسی ملک کا یا کسی شخص کا نام لیا، عدالت نے استفسار کیا کہ یعنی کہ آپ کہنا چاہ رہے ہیں کہ آپ سائفر کا ٹرانسکرپٹ ڈسکلوز نہیں کیا؟ سائفر آنے کے بعد وزیر خارجہ اور سیکرٹری خارجہ نے مشاورت کی کہ سائفر نے کہاں کہاں جانا ہے؟ وکیل شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 7 مارچ 2022 کو سائفر آیا اور 8 مارچ 2022 کو ہی کابینہ میٹنگ لایا گیا، جو بھی چیزیں ہوتی ہیں وہ کابینہ اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کیا جاتا ہے، کابینہ اجلاس کے ایجنڈے میں جو بھی شامل کیا جاتا ہے وہ پرنسپل سیکرٹری کرتے ہیں جو مقدمے میں ہی نہیں ہے، وزارت خارجہ کا کام ہر معاملے کو وزیراعظم کو بزریعہ پرنسپل سیکرٹری آگاہ کرنا ہے، وزیر اعظم کے ساتھ معلومات شئیر کرنا میری آئینی ذمہ داری ہے، اگر وزیر اعظم کے ساتھ معلومات شئیر نہ کرتا تو حلف کی خلاف ورزی ہوتی،اعظم خان مجسٹریٹ کے سامنے اپنا بیان قلمبند کروا چکے، اعظم خان کا مجسٹریٹ کے سامنے دیا گیا بیان چالان کا حصہ بنایا گیا،اس مقدمہ میں چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کا کردار مختلف ہے،میرے موکل کو کوئی کریمنل ریکارڈ نہیں ،استدعا ہے کہ ضمانت منظور کی جائے ،

    وکیل شاہ محمود قریشی سید علی بخاری کے دلائل مکمل ہو گئے،شاہ محمود قریشی کے وکیل علی بخاری نے مختلف عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ کابینہ اجلاس، ایجنڈا میٹنگز، سارا کچھ پرنسپل سیکرٹری نے کرنا ہے، جس بندے نے سارا کچھ کرنا ہے انکا نام ہی نہیں، جن کا کوئی کردار نہیں، ان پر مقدمہ بنایا گیا،سائفر کیس کا مقدمہ سائفر آنے کے 17 ماہ بعد درج کردیا گیا،وکیل کے دلائل مکمل ہونے کے بعدکیس کی سماعت میں ایک بار پھر وقفہ کردیا گیا ، چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اسکو فی الحال یہیں روک دیں دو بجے باقی سماعت کرینگے ،پراسکیوشن کے وکلا دو بجے کے بعد اپنے دلائل کا آغاز کرینگے

    سائفر کیس میں شاہ محمود قریشی کی ضمانت کی درخواست پر وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نےکیس کی سماعت کی،ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی نے دلائل کا آغاز کردیا،شاہ محمود قریشی کے وکلاء علی بخاری اور تیمور ملک عدالت میں پیش ہوئے،شاہ محمود قریشی کی فرد جرم کی کاروائی کے فیصلے کے خلاف درخواست پر بھی سماعت ہوئی، وکیل راجہ رضوان عباسی نے کہا کہ کچھ حقائق عدالت کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں ،9 اکتوبر کو کاپیز کی نقول شاہ محمود قریشی کو دی گئیں تھیں ، 17 اکتوبر کو شاہ محمود قریشی نے 9 اکتوبر کے آرڈر پر دستخط کئے تھے، 23 اکتوبر کو قانونی تقاضے پورے کرکے فرد جرم عائد ہوئی تھی، قانون میں صرف کاپیز فراہم کرنے کا ذکر ہے، ملزم کے وصول کرنے کا نہیں، اگر ملزم تعاون نا کر کے کاپیز وصول نا کرے تو اس سے عدالت کا کوئی تعلق نہیں، عدالت نے کاپیز سپلائی کر دیں، مقدمہ اس عدالت کے دائرہ اختیار میں تھا مگر لاہور ہائی کورٹ کا ایک سال تک حکم امتناع رہا، ایف آئی اے نے حکم امتناع خارج ہونے پر انکوائری مکمل ہونے پر کمپلینٹ پر مقدمہ درج کیا، کچھ آڈیو لیکس بھی اس کیس میں تھیں، پٹشنرز نے لاہور ہائیکورٹ میں ایف آئی اے کے نوٹسز چیلنج کئے،ایک سال سے اس کیس میں لاہور ہائیکورٹ میں اسٹے رہا ہے پھر انہوں نے وہ پٹیشن واپس لے لی، اس کے بعد ایف آئی اے نے کاروائی شروع کی ایف آئی اے کے اندراج میں کوئی ڈیلے نہیں ہے، ، شاہ محمود قریشی نے سنگین جرم کیا اور وہ ضمانت کی رعائت کے مستحق نہیں عدالت ضمانت کی درخواست مسترد کرے ، ایف آئی اے اسپیشل پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی نے کے دلائل مکمل ہو گئے

    سائفر کیس میں ایف آئی اے اسپیشل پراسیکیوٹر ذوالفقار عباس نقوی نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے کہاکہ ہم 15 سے 20 دن میں سائفر کیس کا ٹرائل مکمل کر سکتے ہیں اگر عدالت ہمیں 15 سے 20 روز یا زیادہ سے زیادہ ایک ماہ دے تو ٹرائل مکمل کر دیں گے یہ تو یہ ٹرائل کو آگے نہیں بڑھنے دیتے یہ کہتے ہیں ہر سماعت پر تین تین گواہوں کے بیانات ریکارڈ کریں ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہ جیل ٹرائل ہے، ان کیمرا ٹرائل نہیں ، جیل ٹرائل کس انداز میں چل رہا ہے؟ سپیشل پراسیکیوٹر شاہ خاور نے کہا کہ اٹارنی جنرل نے ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ کو بتایا ہے کہ وہ تحفظات دیکھیں گے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ جیل ٹرائل کا مطلب ہے کہ اوپن پبلک کورٹ پروسیڈنگ نہیں،سپیشل پراسکیوٹر نے کہا کہ جیل ٹرائل میں پبلک کی رسائی منع نہیں مگر محدود ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ جیل ٹرائل کے دوران تو صرف وہ لوگ ٹرائل پروسیڈنگ دیکھ سکیں گے جنہیں جیل حکام اجازت دیں.

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس میں شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت اور فرد جرم کی کاروائی کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا

    واضح رہے کہ سائفر کیس میں عمران خان کی درخواست ضمانت ہفتے کے روز اسلام آباد ہائیکورٹ نے مسترد کر دی تھی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے 20 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا،تحریری فیصلے میں عدالت نے کہا کہ بادی النظر میں مقدمہ میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن فائیو کا اطلاق ہوتا ہے،پراسیکیوشن کا کیس ہے کہ وزارت خارجہ نے سائفر کو ڈی کوڈ کر کے پرائم منسٹر سیکرٹریٹ کو بھجوایا،چیئرمین پی ٹی آئی نے بطور وزیراعظم سائفر کو وصول کیا اور بظاہر گم کر دیا،چیئرمین پی ٹی آئی نے سائفر کے مندرجات کو ٹوئسٹ کر کے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو