Baaghi TV

Tag: ضمانت

  • خدیجہ شاہ کی عدم رہائی، سی سی پی او کے بعد آئی جی پنجاب کی طلبی

    خدیجہ شاہ کی عدم رہائی، سی سی پی او کے بعد آئی جی پنجاب کی طلبی

    لاہور ہائیکورٹ: سوشل ایکٹوسٹ خدیجہ شاہ کو عدالتی حکم کے باوجود رہا نہ کر نے پر آئی جی پنجاب پولیس اور سی سی پی او لاہور کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    آئی جی پنجاب پولیس اور سی سی پی او لاہور کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی،عدالت نے توہین عدالت کی درخواست پر آئی جی پنجاب پولیس کو طلب کر لیا،عدالت نے حکم دیا کہ آئی جی پنجاب 3نومبر کو پیش ہوکر جواب داخل کرائیں، عدالت نے سی سی پی او سے استفسار کیا کہ آپکی رپورٹ مجھے قائل نہ کر سکی اس لیے آپکو بلایا ،سرکاری وکیل نے کہا کہ میں تفتیشی کا بیان حلفی دینا چاہتا ہوں ،عدالت نے سرکاری وکیل پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ اگر اپ اسطرح تفتیش کرنے لگے تو عدالت کیسے آگے بڑھے گی، سرکاری وکیل نے کہا کہ خدیجہ شاہ کے ریمانڈ پر آج فیصلہ ہونا ہے،

    عدالت نے کہا کہ اگر ریمانڈ نہیں تو پھر کیا ہے، عدالت نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ ٹرائل کورٹ کا آرڈر چیلنج کریں گے؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے آرڈر نہیں لکھا صرف جوڈیشل کیا ہے ،آج بھی ٹرائل کورٹ میں پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے ،پولیس کی پیش کردہ رپورٹ مضحکہ خیز ہے،عدالت نے کہا کہ ٹرائل کورٹ کو کیس کا فیصلہ کرنے کا مکمل اختیار ہے ،سرکاری وکیل نے کہا کہ ٹرائل جج نے معاملہ یہاں ہونے کی وجہ سے خدیجہ شاہ کے ریمانڈ دینے یا نہ دینے پر فیصلہ نہیں کیا ،عدالت نے کہا کہ حکومت نے جو کہا اسکے نتائج دیکھتے ہیں ؟آپ نے صرف دو مقدمات دینے کا بیان کیوں دیا،

    عدالت میں سی سی پی او بلال صدیق کمیانہ اور ڈی ائی جی انوسثی گیشن عمران کشور پیش ہوئے، جسٹس علی باقر نجفی نے خدیجہ شاہ کی درخواست پر سماعت کی،درخواست گزار کی طرف سے سمیر کھوسہ ایڈووکیٹ پیش ہوئے،

    خدیجہ شاہ کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی کہ ایڈیشنل آئی جی نے مقدمات کی تفصیلات کے لیے دائر درخواست میں عدالت رپورٹ پیش کی،رپورٹ میں خدیجہ شاہ پر دو مقدمات درج کرنے کی تفصیلات فراہم کی گی ،پولیس نے خدیجہ شاہ سے دیگر مقدمے میں تفتیش شروع کردی ہے ،پولیس کی بدنیتی ہےعدالت آئی جی پنجاب سمیت دیگر کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی کرے

    پولیس نے خدیجہ شاہ کے خلاف درج مقدمے میں کورکمانڈر ہاؤس لاہور پر حملے سے متعلق الزامات عائد کئے ہیں،خدیجہ شاہ جیل میں ہیں، امریکی حکام نے بھی خدیجہ شاہ سے ملاقات کی ہے، خدیجہ شاہ نے ایک ویڈیو بیان جاری کر کے معافی بھی مانگی تھی، خدیجہ شاہ کو عدالت پیش کیا گیا تا ہم وہ خاموش رہیں اور سوالوں کے جواب نہیں دیئے ، خدیجہ شاہ نے خود تھانے میں پیش ہو کر گرفتاری دی تھی ،انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں تحریک انصاف کی خاتون رہنما خدیجہ شاہ کو پولیس نے پیش کیا تو اس موقع پر خدیجہ شاہ کے منہ پر کپڑا ڈالا گیا تھا، خدیجہ شاہ نے ہاتھ میں تسبح پکڑ رکھی تھی،

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

    عدالت نے خدیجہ شاہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کو مسترد کردیا

  • العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کی سزا کے خلاف  اپیلیں بحال

    العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کی سزا کے خلاف اپیلیں بحال

    سابق وزیراعظم نواز شریف اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئے
    اسلام آباد ہائیکورٹ نے العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کی سزا کے خلاف اپیلیں بحال کردی ہیں، عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے فیصلہ محفوظ کیا تھا تا ہم بینچ نے خود فیصلہ نہیں سنایا، عدالتی عملے نے ن لیگی قانونی ٹیم کو آگاہ کیا کہ آپ کی اپیلیں بحال کر دی گئیں ہیں ، جس کے بعد سابق وزیراعظم نواز شریف کمرہ عدالت سے روانہ ہو گئے

    نواز شریف کی اپیلیں بحال کرنے کی درخواستوں پر سماعت ہوئی،چیف جسٹس عامر فاروق، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل خصوصی بینچ سماعت کر رہا ہے،سابق وزیر اعظم نواز شریف، سابق وزیر اعظم شہباز شریف دیگر لیگی رہنماؤں کیساتھ کمرہ عدالت میں موجود ہیں،پراسیکیوٹر جنرل نیب احتشام قادر شاہ، نواز شریف کے وکیل اعظم نذیر تارڑ، امجد پرویز روسٹرم پر موجود ہیں،

    نواز شریف کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے عدالت میں کہا کہ گزشتہ سماعت پر عدالت نے پراسیکیوشن جنرل نیب کو کلئیر موقف کا کہا تھا ،پراسیکیوٹر جنرل نیب روسٹرم پر آ گئے اور کہا کہ ریفرنس واپس لینے کی گنجائش صرف اس صورت میں ہے جب فیصلہ نہ سنایا گیا ہو، مجھے عدالت نے حکم دیا تھا کہ چیئرمین نیب سے درخواستوں پر رائے لی جائے، ہم نے تفصیل میں نواز شریف کی درخواستوں پر تبادلہ خیال کیا ہے، ہم نے دونوں اپیلوں کے حقائق اور قانون کا مطالعہ کیا ہے، پہلے ایون فیلڈ کیس سے متعلق بتانا چاہتا ہوں، اس اسٹیج پر ریفرنس قانونی طور پر واپس نہیں لے سکتے ، فرد جرم عائد ہونے سے پہلے یا بعد میں ریفرنسز واپس لئے جا سکتے ہیں سزا کے بعد نہیں،نواز شریف نے عدالت میں عبوری ریلیف مانگا گیا اور ہم نے اس سے اتفاق کیا، میڈیا پر ایسا تاثر گیا کہ جیسے نیب نے سرینڈر کر دیا، ایسا نہیں ہے،موجودہ صورتحال میں نواز شریف کے خلاف ریفرنسز واپس نہیں لے سکتے،ایون فیلڈ ریفرنس سپریم کورٹ کے آرڈر کی روشنی میں دائر کیا گیا تھا، سپریم کورٹ کے حکم پر جے آئی ٹی بھی قائم کی گئی تھی،چیئرمین نیب کی منظوری سے ریفرنسز دائر کیے گئے تھے،احتساب عدالت نے کیسز پر فیصلہ سنایا تو اس کے خلاف اپیلیں دائر کی گئیں، ریفرنسز واپس لینے کی گنجائش ٹرائل کے دوران موجود تھی، پاکستان کے قانون کے مطابق اگر فیصلے کے خلاف اپیل ایڈمٹ ہو جائے تو کیس واپس نہیں ہو سکتا، اگر اپیل دائر ہو جائے تو اس کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے، عدم پیروی پر بھی خارج نہیں ہو سکتی، اگر ان اپیلوں کو بحال کریں گے تو پھر انہیں میرٹس پر دلائل سن کر فیصلہ کرنا ہو گا، پراسیکیوٹر کی ڈیوٹی ہے کہ وہ اعلی معیار کی پراسیکیوشن کرے،پراسیکیوٹر کی ذمہ داری ہے کہ اگر کوئی شہادت ملزم کے حق میں جائے تو اسے بھی نا چھپائے،بطور پراسکیوٹر جنرل میں قانون کے مطابق چیئرمین نیب کو ایڈوائس دینے کا پابند ہوں پراسکیوٹرز نے ریاست کے مفاد کو دیکھنے کے ساتھ انصاف کی فراہمی بھی دیکھنی ہے،اعلی معیار کی پراسکیوشن کرنا پراسکیوٹر کی ڈیوٹی ہے ، پراسکیوٹر کی زمہ داری ہے کہ اگر کوئی شواہد ملزم کے حق میں تو اسے بھی نہ چھپائے،نواز شریف کی دو اپیلیں زیر سماعت تھیں، عدم پیروی پر خارج کی گئیں، اس عدالت نے آبزرو کیا تھا کہ جب اشتہاری سرینڈر کرے اس کے ساتھ قانون کے مطابق کارروائی ہو،ملزم قانون میں موجود تمام ریلیف کا حقدار ہوتا ہے اگر وہ قانون کی پاسداری کرے،چیئرمین نیب اور میں متفق ہوں کہ نواز شریف کی اپیلیں بحال کرنے پر اعتراض نہیں ،نیب کا جامع موقف ہے کہ نواز شریف کی اپیلیں بحال کی جائیں،نیب کو نواز شریف کی سزا کیخلاف اپیلیں بحال کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے.

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ہم نے آپ کو کہا تھا کہ آپ اس متعلق مزید غور بھی کریں، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیا آپ ججمنٹ کے حق میں دلائل دیں گے؟نیب پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ پہلے مرحلے میں ہم اپیلیں بحال کرنے پر کوئی اعتراض نہیں کریں گے،اپیلیں بحال ہو گئیں تو پھر شواہد کا جائزہ لے کر عدالت میں موقف اختیار کریں گے، ہم دلائل دینگے، کچھ تحفظات ہیں، عدالت اپیلیں سنےتووہ عدالت کےسامنےرکھوں گا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیا آپ اپیلوں کے نتیجے میں ٹرائل کورٹ کے فیصلے کی حمایت میں موقف دیں گے؟ پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ ابھی اپیلوں کا معاملہ عدالت کے سامنے نہیں ہے،

    نواز شریف کے وکیل امجد پرویز ایڈوکیٹ نے عدالت میں کہا کہ مریم نواز کی ایون فیلڈ ریفرنس سے بریت کے فیصلے میں عدالت نے واضح کر دیا ہے،عدالت نے کہا نیب کو بارہا مواقع دیے گئے مگر تین مرتبہ وکلا کو تبدیل کیا گیا،عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ نیب نواز شریف کا کردار بھی ثابت کرنے میں ناکام رہا، عدالت نے کہا کہ نیب اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام رہا ہے،عدالت نے قرار دیا کہ نواز شریف کے کردار کا جائزہ لیے بغیر باقی دو ملزمان کی اپیلوں پر فیصلہ ناممکن ہے،عدالت نے مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے انہیں بری کردیا تھا،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پاناما جے آئی ٹی نیب نہیں ہے ، جہاں تک گرل (مریم نواز) کا معاملہ ہے اس کا اس کیس میں کردار نہیں تھا ،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے مریم نواز کا حوالہ دیتے ہوئے گرل کا لفظ استعمال کیا.

    اعظم نذیر تارڑ نے اپیلیں بحال کرنے سے متعلق اعلی عدالتوں کے فیصلے پڑھ کر سنا ئے،اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ میرے 30 سالہ کیرئیر میں ایسا کوئی کیس نہیں کہ اشتہاری ملزم عدالت میں آ کر کھڑا ہوگیا ہو اور اسکا اسٹیٹس بحال نہ ہوا ہو،جب ملزم عدالت میں آجاتا ہے تو اس کے وارنٹ اسی وقت منسوخ کردیئے جاتے ہیں،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ آپکو کیا خدشہ ہے، نیب نواز شریف کو گرفتار ہی نہیں کرنا چاہتا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا نیب کو نواز شریف کی اپیلیں بحال ہونے پر کوئی اعتراض نہیں؟نیب حکا م نے کہا کہ ہمیں اپیلیں بحال ہونے پر کوئی اعتراض نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ کیا آپ اپیل کنندہ نواز شریف کو گرفتار کرنا چاہتے ہیں؟ نیب پراسیکیوٹر نے عدالت میں کہا کہ اس متعلق میں پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ ہمیں گرفتاری نہیں چاہئے، پٹیشنر نے جس لمحے سرینڈر کیا اس نے خود کو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ آپ سے بطور عدالتی معاون پوچھ رہے ہیں کہ اپیل بحال ہوئی تو ضمانت کا سٹیٹس کیا ہو گا؟ پراسیکیوٹر جنرل نیب نے کہا کہ آپ اپیل کنندہ سے دوبارہ ضمانتی مچلکے لے لیں،

    نواز شریف کی اپیلیں بحال ہوں گی یا نہیں ، اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا

    عدالت میں کیس کی سماعت کے بعد نواز شریف کمرہ عدالت میں ہی بیٹھے رہے، نواز شریف اپنے بھائی شہباز شریف اور ن لیگی رہنماؤں، قانونی ٹیم سے مشاورت کرتے رہے، اس موقع پر صحافی نے نواز شریف سے سوال کیا کہ الیکشن کی تاریخ کا مطالبہ کریں گے ؟ نواز شریف نے عدالت کی طرف سے اشارہ کرکے جواب دیا کہ پہلے یہاں سے تو فری ہو جائیں ، صحافی نے سوال کیا کہ قوم کے مجرموں کاحساب ہو گا یا نہیں ؟ نواز شریف نے جواب نہیں دیا اور مسکرا دئیے ،صحافی نے سوال کیا کہ سویلین بالادستی پر یقین رکھتے ہیں ؟ نواز شریف نے کہا کہ 1947 میں بھی سویلین بالادستی تھی تو ہم آزاد ہوئے ہیں ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ: سابق وزیر اعظم نواز شریف کی درخواستوں پر سماعت کا معاملہ،پولیس اور بی ڈی ایس نے کمرہ عدالت کی سکیورٹی کلیئر قرار دے دی،رجسٹرار آفس کی جانب سے جاری پاسز کے حامل افراد کو کمرہ عدالت کے اندر داخل کردیا گیا،سابق وزیر دفاع خواجہ آصف کمرہ عدالت پہنچ گئے،سابق وزیر قانون اور نواز شریف کے وکیل اعظم نذیر تارڑ کمرہ عدالت میں پہنچ گئے،ن لیگی رہنما ایاز صادق اور خواجہ سعد رفیق کمرہ عدالت میں پہنچ گئے

    سابق وزیراعظم نواز شریف کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی کا معاملہ ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر اسلام آباد پولیس اور ایف سی کی نفری تعینات کر دی گئی،اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر 1200 پولیس اہلکار تعینات کئے گئے ہیںَ,اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر اور احاطہ عدالت میں پولیس و ایف سی کے اہلکار تعینات ہیں،ڈی آئی جی آپریشنز شہزاد بخاری بھی اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئے.

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی عدالت کے باہر سخت حفاظتی انتظامات ہیں ، بغیر کارڈ ہائی کورٹ کے تیسرے فلور پر جانے کی اجازت نہیں ، عدالت کے باہر صرف پولیس اور رینجر اہلکار موجود ہیں ، رجسٹرار آفس نے کمرہ عدالت کے لئے 108 کارڈ جاری کیے نون لیگ کے لیے 54 کارڈ ، کورٹ رپورٹرز کو 30 کارڈ ، لا افسران ، لیگل ٹیم کے لیے 24 کارڈ جاری کئے گئے،پراسیکیوٹر جنرل نیب سید احتشام قادر اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئے

    دوسری جانب کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں کئی سیاسی رہنما آئے،چییرمین تحریک انصاف نے اپنے دور حکومت میں ملک کی معیشت کا جنازہ نکال دیا، مجھے کسی وزارت کی کوئی خواہش نہیں ،ایک کینڈیڈیٹ کے طور پر انتخابات میں حصہ لوں گا، میرا یہ کہنا آن ریکارڈ ہے کہ ایک وقت آئے گا جب نواز شریف کی منت ترلے کر کے لایا جائے گا،

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

     نوازشریف کی ضبط شدہ پراپرٹی واپس کرنے کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری

  • نواز شریف آئندہ ہفتے سے انتخابی سرگرمیوں کاآغاز کریں گے

    نواز شریف آئندہ ہفتے سے انتخابی سرگرمیوں کاآغاز کریں گے

    سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اسلام آباد میں پارٹی رہنماوں سے مشاورتی ملاقات کی ہے

    ملاقات میں اسحاق ڈار، خواجہ آصف، اعظم نذیر تارڑ، خواجہ سعد رفیق شریک تھے،مریم اورنگزیب، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، عطاء اللہ تارڑ بھی مشاورت میں شریک تھے،مشاورت میں نواز شریف کی قانونی ٹیم بھی شریک تھی،نواز شریف نے قانونی اور سیاسی امور پر رہنماوں سے مشاورت کی،قانونی ٹیم نے اجلاس میں کیسز کی صورتحال پر بریفنگ دی،نواز شریف کی قانونی ٹیم نے کیسز کا فیصلہ میرٹ پر لینے کی ہدایت کی،

    سابق وزیرعظم نواز شریف آئندہ ہفتے سے انتخابی سرگرمیوں کاآغاز کریں گے ۔ نواز شریف نے پارٹی کو ملک بھر میں انتخابی رابطہ مہم شروع کرنے کی ہدایت کر دی ،ن لیگ تمام صوبوں میں جلسے کرے گی ،نواز شریف خطاب کریں گے پنجاب میں نواز شریف اپنی انتخابی مہم کا آغاز قصور میں جلسے سے کریں گے، بلوچستان ،سندھ اور کے پی میں بھی جلسے کیے جائیں گے

    سابق وزیراعظم نواز شریف کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی کا معاملہ ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر اسلام آباد پولیس اور ایف سی کی نفری تعینات کر دی گئی،اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر 1200 پولیس اہلکار تعینات کئے گئے ہیںَ,اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر اور احاطہ عدالت میں پولیس و ایف سی کے اہلکار تعینات ہیں،ڈی آئی جی آپریشنز شہزاد بخاری بھی اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گئے.

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی عدالت کے باہر سخت حفاظتی انتظامات ہیں ، بغیر کارڈ ہائی کورٹ کے تیسرے فلور پر جانے کی اجازت نہیں ، عدالت کے باہر صرف پولیس اور رینجر اہلکار موجود ہیں ، رجسٹرار آفس نے کمرہ عدالت کے لئے 108 کارڈ جاری کیے نون لیگ کے لیے 54 کارڈ ، کورٹ رپورٹرز کو 30 کارڈ ، لا افسران ، لیگل ٹیم کے لیے 24 کارڈ جاری کئے گئے،پراسیکیوٹر جنرل نیب سید احتشام قادر اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئے

    میاں نواز شریف کا قافلہ منسٹر انکلیو پہنچ گیا،میاں نواز شریف قانونی ٹیم کے ساتھ مشاورت کریں گے،میاں نواز شریف کچھ دیر میں ہائیکورٹ پیش ہوں گے،قبل ازیں سابق وزیراعظم نوازشریف مری سے اسلام آباد پھلگراں ٹول پلازہ پہنچے تواسلام آباد پھلگراں ٹول پلازہ پر اسلام آباد پولیس اور اے ٹی ایس کے جوانوں نے نوازشریف کے قافلے کو سکواڈ کرلیا ،جیمر اور ٹریفک پولیس کی گاڑیاں بھی سابق وزیراعظم نوازشریف کے قافلہ میں شامل ہوگئیں

    سابق وزیراعظم نواز شریف آج اسلام آباد ہائیکورٹ ہوں گے،مریم نواز، جنید صفدر، دیگر فیملی ممبران بھی نواز شریف کے ہمراہ موجود ہوں گے میاں نواز مری کے راستے ایکسپریس وے سے ہوتے ہوئےاسلام آباد پہنچیں گے،میاں نواز شریف کی اسلام آباد روانگی کے موقع پر سیکورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کئے گئے ہیں،سابق وزیراعظم مری جھنگا گلی سے اسلام آباد روانہ ہو چکے ہیں،میاں نواز شریف کا اسلام آباد ہائیکورٹ سے قبل منسٹر انکلیو جانے کا امکان ہے وہ سابق وزیراعظم منسٹر انکلیو میں اسحاق ڈار کی رہائش گاہ پر ٹھہریں گے،نواز شریف منسٹر انکلیو میں قانونی ٹیم سے مشاورت کریں گے

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

     نوازشریف کی ضبط شدہ پراپرٹی واپس کرنے کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری

  • نیب مقدمات،عمران خان کی ضمانت کیس سننے والا بینچ ٹوٹ گیا

    نیب مقدمات،عمران خان کی ضمانت کیس سننے والا بینچ ٹوٹ گیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ: چیئرمین پی ٹی آئی کی دو نیب مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں بحال کرانے کی درخواستوں پر سماعت ہوئی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس بابر ستار درخواستوں پر سماعت کر رہے ہیں ،وکیل عمران خان نے کہا کہ اِن درخواستوں پر وقت کی پابندی کا نیب کا اعتراض درست نہیں، چیئرمین پی ٹی آئی نواز شریف تو ہیں نہیں جو نیب مخالفت نہ کرے، چیئرمین پی ٹی آئی کا جہاں نام آ جائے نیب نے مخالفت کرنی ہوتی ہے، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا وہ گرفتار تصور نہیں ہوں گے ؟ وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ نیب نے اپنا بیان دیا ہے کہ اس کو گرفتار نہیں کیا گیا ،نیب کا اپنا طریقہ کار ہے چیئرمین نیب وارنٹ جاری کرتا ہے ، چیئرمین پی ٹی آئی کے وارنٹ گرفتاری موجود ہیں ،

    جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو گرفتاری کے بعد تمام کیسز میں گرفتار قرار کیوں نہیں دیا گیا؟ سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس کے اس حوالے سے فیصلے موجود ہیں، وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ چیئرمین نیب کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے بغیر تو گرفتار نہیں کیا جا سکتا،جسٹس بابر ستار نے کہا کہ کیا ان کیسز میں چیئرمین پی ٹی آئی کے وارنٹ گرفتاری جاری نہیں ہوئے؟ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو ابھی گرفتار نہیں کیا گیا، میں وارنٹ جاری نہ کئے جانے کی وجوہات بتاؤں گا، جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا کہ جب چیئرمین پی ٹی آئی زیرحراست ہیں تو نیب ان سے تفتیش کیوں نہیں کر رہا؟ نیب چیئرمین پی ٹی سے تفتیش کیوں نہیں کر رہا؟ وکیل لطیف کھوسہ نے کہاکہ جو کچھ ہو رہا ہے چیئرمین پی ٹی آئی کے لئے الگ قانون اور دوسروں کے الگ ہے ،

    عدالت نے نیب سے استفسار کیا کہ آپ نے زیر حراست ہونے کی وجہ سے ابھی تک تفتیش شروع کیوں نہیں کی ؟وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ یہی بات تو ہم بھی کر رہے ہیں، جسٹس بابر ستار نے کہا کہ آپ یہ نہیں کہہ رہے، آپ تو ضمانت کی درخواستیں بحال کرانے کی درخواستیں لائے ہیں، وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی عبوری ضمانت بحال کی جائے، جسٹس بابر ستار نے کہا کہ ایک شخص گرفتار ہو چکا تو عبوری ضمانت کیسے بحال ہو سکتی ہے؟ وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ اسی عدالت کے دوسرے بنچ نے ہماری چھ مقدمات میں عبوری ضمانت بحال کی ہے،لطیف کھوسہ نے کہا کہ جس بنچ نے یہ آرڈر پاس کیا میرا اُس سے اختلافِ رائے ہے، میں یہ کیس نہیں سن رہا، جس بنچ نے فیصلہ دیا وہی یہ کیس سنے گا، میرا موقف یہ ہے کہ ایک شخص گرفتار ہے تو دیگر مقدمات میں بھی گرفتار قرار دیا جائے گا،

    نیب پراسکیوٹر نے کہا کہ القادر ٹرسٹ اور توشہ خانہ دونوں کیسز میں وارنٹ گرفتاری موجود ہیں ، قانونی طور پر اس طرح ہم تفتیش نہیں کر سکتے ، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا جو دونوں کیسز میں اس تحقیقات چل رہی ہیں ؟ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ جی تحقیقات چل رہی ہیں ،جسٹس بابر ستار نے کہا کہ میں متفق نہیں ہوں اس لئے دوسرے بنچ کے سامنے کیس لگایا جائے ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ چھ نومبر کو جسٹس طارق محمود جہانگیری آجائیں گے ،آپ کا کیس اسی روز اسی بنچ کے سامنے مقرر ہو گا ،جسٹس بابر ستار بینچ سے الگ ہو گئے

    چیئرمین پی ٹی آئی کے کیس کی سماعت کرنے والے بنچ سے جسٹس بابر ستار الگ ہو گئے،چیئرمین پی ٹی آئی کا کیس اب نئے بنچ کے سامنے مقرر ہو گا

    امریکہ کے خلاف تحریک چلانے والی پی ٹی آئی اب عمران خان کی رہائی کے لئے امریکہ سے ہی مدد مانگ لی

     اسد عمر نے سائفر کے معاملے پر ایف آئی اے میں پیش ہونے کا اعلان کیا 

    ریاستِ پاکستان کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی سازش بے نقاب, اپنے ہی پرنسپل سیکرٹری نے سازشی بیانیہ زمیں بوس کردیا

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

  • العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں نواز شریف کی حفاظتی ضمانت میں توسیع

    العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں نواز شریف کی حفاظتی ضمانت میں توسیع

    احتساب عدالت سے ضمانت مںظور ہونے کے بعد سابق وزیراعظم نواز شریف اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئے
    شہباز شریف ، خواجہ آصف سمیت دیگر ن لیگی رہنما بھی اسلام آبا د ہائیکورٹ پہنچ گئے، نواز شریف کی عدالت پیشی کے موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی.حنیف عباسی بھی اسلام آباد ہائیکورٹ میں موجود تھے،نواز شریف کورٹ نمبر ایک میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی عدالت میں پیش ہوئے،سردار ایاز صادق ،ظفراللہ خان ، حافظ حفیظ الرحمان ،طارق فضل چوہدری ،امیر مقام،دانیال چوہدری،رانا تنویر،عطا تارڑ،سینیٹر افنان اللہ،حنا پرویز بٹ،مریم اورنگزیب ،خواجہ آصف ،اعظم نزیر تارڑ، محسن شاہنواز رانجھا کے ساتھ مسلم لیگ ن کے متعدد رہنما نواز شریف کے ساتھ کمرہ عدالت میں موجود تھے

    چار سال اشتہاری رہنے کے بعد سابق وزیر اعظم نواز شریف نے خود کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے سرنڈر کر دیا

    سماعت کا آغاز ہوا تواسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سماعت شروع، یہ کیا ہے ؟،اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ دو درخواستیں ہیں اپیلیں بحال کرنے کی ،چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اگر ہم آپ کے دلائل سے مطمئن نہ ہوئے تو پھر ، اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ میں مطمئن کرونگا ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں اپیلیں بحال کرنے کی درخواستوں پر ہم نیب کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کر لیتے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اپیلوں کی بحالی روٹین کا معاملہ نہیں، آپ نے مطمئن کرنا ہے کہ آپ عدالت سے غیر حاضر کیوں رہے؟ نواز شریف نے جسٹیفائی کرنا ہے کہ کیوں وہ اشتہاری ہوئے؟، وہ عدالت کیوں پیش نہیں ہوتے رہے

    نواز شریف کے وکلا نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف جان بوجھ کر عدالت سے غیر حاضر نہیں ہوئے ، عدالت نے نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دی، میڈیکل رپورٹس جمع کراتے رہے ہیں، جسٹس میاں گل حسن اوررنگزیب نے نواز شریف کے وکلاء سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک بات واضح کردوں آپ نے قانون کے مطابق چلنا ہے، کیا ملزم اپنی مرضی سے وطن واپس آ کر اپیلیں بحال کرانے کا کہہ سکتا ہے؟، کیا عدالت اپیلیں بحال کرنے کی پابند ہے؟ اسلام آبا د ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اپیلوں کی بحالی معمول کا معاملہ نہیں،اعظم نذیر تارڑ نے استدعا کی کہ یہ فرسٹ امپریشن کا کیس ہے، ہمارے حفاظتی ضمانت کے آرڈر میں کچھ روز کی توسیع کر دیں،پراسیکیوٹر جنرل نیب عدالت کے سامنے پیش ہوئے،پراسیکیوٹر جنرل نیب نے عدالت کے سامنے اقرارکیا کہ نواز شریف کی حفاظتی ضمانت میں توسیع پر ہمیں اعتراض نہیں ہے،ہم نے اپیلوں کی بحالی سے متعلق درخواستیں پڑھی ہیں، ہمیں ان درخواستوں پر کوئی اعتراض نہیں ہے،اگر حفاظتی ضمانت میں توسیع کردی جائے تو ہمیں اعتراض نہیں، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں ان کیسز میں 5 سال بعد واپس آیا ہوں، سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں کیا یہ وہی نیب ہے .آپ کو پتہ ہے عام عوام کا کتنا وقت اس کیس میں لگا ؟،بڑا آسان ہے عدالت میں الزام لگایا جائے ،میں کنفیوژ ہوں کہ کیا یہ وہی نیب ہے؟،2 ہائیکورٹس کے ریٹائرڈ جج اور پوری ریاستی مشینری اس وقت متحرک تھی، اب وہی نیب پیش ہو کر کہہ رہی ہے کہ ہمیں کوئی اعتراض نہیں، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے نیب پراسیکیوٹر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا ٹائم اور کیوں ضائع کرتے ہیں، کیا اب نیب یہ کہے گی کہ کرپٹ پریکٹسز کا الزام برقرار ہے، نوازشریف کو چھوڑ دیں،

    عدالت نے استفسار کیا کہ چیئرمین نیب کہاں ہیں ؟،پراسیکیوٹر جنرل نیب نے کہا کہ وہ ملک میں ہی ہیں ، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ اگر عدالت ضمانت میں توسیع نہیں کرتی تو کیا نیب نواز شریف کو گرفتار کرے گا؟،جس طرح میں نے کہا میں اس صورتحال سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہوں،چیئرمین نیب کے سامنے معاملہ رکھیں، کیوں عوام کا وقت دوبارہ ضائع کر رہے ہیں ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب اگر سمجھتا ہے کہ ریفرنسز غلط دائر ہوئے تو وہ واپس لے لے، اگر نیب نے ریفرنسز واپس لینے ہوں تو کیسے لئے جا سکتے ہیں؟ اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ہائے کیا زود پشیماں کا پشیماں ہونا، ایسا نہ کریں، نواز شریف پر بہت سے الزامات لگائے گئے، نواز شریف کو عدلیہ اور آئین سرخرو کرینگے،

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم جو بھی تاریخ مقرر کریں گے آپ چیئرمین نیب سے ہدایات لے کر آئیں، آئندہ سماعت پر آپ کلیئر پوزیشن لیں، یہ آپ کے ادارے کےلئے بھی ٹھیک نہیں ، ہمیں واضح بتا دیں تاکہ ہم فیصلہ دے کر کوئی اور کام کریں، پراسیکیوٹر جنرل نیب نے عدالت میں جواب دیا ،جی سر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا اور کہا کہ ہم پھر پوچھ رہے ہیں کیا نیب نواز شریف کو گرفتار کرنا چاہتا ہے؟ ، کیا حفاظتی ضمانت میں توسیع پر کوئی اعتراض ہے،پراسکیوٹر جنرل نیب نے کہا کہ ہم گرفتار نہیں کرنا چاہتے، حفاظتی ضمانت میں توسیع پر بھی کوئی اعتراض نہیں،عدالت نے کہا کہ شریعت کے تقاضے پورے کرتے ہوئے دوبارہ پوچھتے ہیں کیا آپ نوازشریف کو گرفتار کرنا چاہتے ہیں؟ نیب پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ نہیں، گرفتار نہیں کرنا چاہتے ،

    العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں نواز شریف کی حفاظتی ضمانت میں 26 اکتوبر تک توسیع کر دی گئی، عدالت نے نیب سے جواب طلب کر لیا،نواز شریف کی سزا کیخلاف درخواستیں بحال کرنے کی درخواستوں پر نیب کو نوٹس جاری کر دیا گیا،عدالت نے کیس کی سماعت جمعرات تک کیلئے ملتوی کردی،عدالت نے نواز شریف کی حفاظتی ضمانت میں جمعرات تک توسیع کردی،نواز شریف کی حفاظتی ضمانت میں 2 دن کی توسیع کی گئی.جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نوازشریف کی اپیلیں بحال کرنے کی درخواستوں کو میرٹ پر دیکھیں گے.

    قبل ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کے کمرہ عدالت سے تمام وکلاء لیگی رہنما اور صحافیوں کو باہر نکال دیا گیا،کمرہ عدالت میں کی سیکورٹی کلیرنس کے بعد لوگوں کو دوبارہ اندر آنے کی اجازت دی جائے گی

    نواز شریف کے کیسز پر سماعت مسلم لیگ ن کے وکلا اور رہنماؤں کی وجہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں تاخیر کا شکار ہوئی، عدالتی عملے کی جانب سے کمرہ عدالت خالی کرانے کی ہدایت کی گئی اور کہا گیا کہ جب تک کورٹ روم خالی نہیں کریں گے، بم ڈسپوزل سکواڈ سیکورٹی کلیئرنس نہیں کرے گا،صدر اسلام آباد ہائی کورٹ بار نوید ملک نےبھی وکلا سے کمرہ عدالت خالی کرنے کی اپیل کی،عطا تارڑ کی جانب سے بھی وکلا اور ن لیگ رہنماؤں کو سیکورٹی کلیئرنس کے لیے کورٹ روم خالی کرنے کی ہدایت کی گئی،نواز شریف کیس میں مخصوص وکلا اور تیس کورٹ رپورٹرز کو کورٹ روم داخلے کی اجازت ہے

    واضح رہے کہ نواز شریف احتساب عدالت پیشی کے بعد منسٹر انکلیوچلے گئے تھے، نواز شریف احتساب عدالت آئے بھی منسٹر انکلیو سے تھے، وہاں سے پھر نواز شریف اسلام آباد ہائیکورٹ آئے تو انکے ساتھ 18 گاڑیاں تھیں، نواز شریف کی گاڑی کو احاطہ عدالت میں آنے کی اجازت نہیں ملی،
    nawaz

    سابق وزیراعظم نواز شریف کی اسلام آباد کی عدالتوں میں پیشی کے پیش نظر اسلام آباد پولیس نے نواز شریف کو خصوصی سکیورٹی فراہم کی ہے نوازشریف کی سکیورٹی سکواڈ میں 3 سپیشل پولیس وینز شامل کی گئی ہیں،اے ٹی ایس اہلکاروں کا خصوصی دستہ بھی نواز شریف کے ساتھ تعینات کیا گیا ہے.

    کیا آپ نے جنرل فیض حمید کو معاف کردیا ؟ نواز شریف سے صحافی کا سوال، جواب نہ ملا،گارڈ کے صحافی کو دھکے
    نواز شریف کی اسلام آباد ہائیکورٹ پیشی کے موقع پر کوریج کرنے والے صحافیوں نے نواز شریف سے سوال کرنے کی کوشش کی تو انہیں دھکے دیئے گئے، اس ضمن میں صحافی زبیر علی خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں سوال پوچھا کہ کیا آپ نے جنرل فیض حمید کو معاف کردیا ہے؟ جنرل باجوہ کا احتساب آپ کریں گے؟ میاں صاحب نے سوال کا جواب تو نہیں دیا لیکن ان کے گارڈز نے دھکے دیے موبائل چھننے کی کوشش کی

    صحافی نے نواز شریف سے سوال کیا کہ الیکشن میں حصہ لیں گے،جس کے جواب میں نواز شریف مسکرا دیے،صحافی نے سوال کیا کہ ملڑی کورٹس سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ اچھا ہے؟ نواز شریف نے ججز کی کرسیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کورٹ آرہی ہے

    اسلام آباد ہائیکورٹ: میاں نواز شریف کا مرکزی گیٹ پر کارکنان کی جانب سے استقبال کیا گیا،کارکنان نے پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں،کارکنان کی جانب سے وزیراعظم نواز شریف کے نعرے لگائے گئے،کمرہ عدالت کے اندر شدید بد نظمی، وکلاء نے نواز شریف کو گھیر لیا،وکلاء دھکم پیل کرکے زبردستی کمرہ عدالت میں داخل ہوگئے، پولیس کی ایک نہ چلی،کمرہ عدالت کا ڈیکورم شدید متاثر، لیگی وکلاء کمرہ عدالت میں ہی سیلفیاں لینے لگ گئے،لیگی رہنماؤں، وکلاء اور کارکنان کے سامنے اسلام آباد پولیس بے بس ہو گئی.

    واضح رہے کہ نواز شریف ہفتہ کو پاکستان واپس پہنچے ہیں، انہوں نے مینار پاکستان گراؤنڈ میں جلسہ سے بھی خطاب کیا تھا، نواز شریف بعد ازاں جاتی امرا گئے، نواز شریف کی زیر صدارت گزشتہ روز ایک اہم اجلاس بھی ہوا ، نواز شریف نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے حفاظتی ضمانت لی ہے، آج 24 اکتوبر کو نواز شریف کو عدالت نے طلب کر رکھا ہے،

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

     نوازشریف کی ضبط شدہ پراپرٹی واپس کرنے کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری

  • اسلام آبا د ہائیکورٹ سے بھی نواز شریف کی حفاظتی ضمانت منظور

    اسلام آبا د ہائیکورٹ سے بھی نواز شریف کی حفاظتی ضمانت منظور

    اسلام آباد ہائیکورٹ ، العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی حفاظتی ضمانت کی دو درخواستوں پر سماعت ہوئی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سماعت کی،ن لیگی وکلا اعظم نزیر تارڑ ، امجد پرویز عدالت کے سامنے پیش ہوئے نیب پراسیکیوٹر رافع مقصود اور نعیم سنگھیڑا ہائیکورٹ میں موجودتھے، دوران سماعت ن لیگی وکیل اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ نواز شریف ٹرائل کورٹ میں اشتہاری تھے اس میں وارنٹ معطل ہوگئے ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سوال کیا کہ آپ کے پاس وہ آرڈر ہے؟ اعظم نذیر نے بتایا کہ آرڈر ہوگیا ہے،وکلا ابھی احتساب عدالت سے آرہے ہیں ،

    سماعت کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے میاں نواز شریف کی حفاظتی ضمانت منظور کر لی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ہم حفاظتی ضمانت دے کر کیس پیر کو مقرر کردیتے ہیں ، وکیل نواز شریف نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے منگل کے لیے کیس رکھا ہے ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے نواز شریف کو 21 اکتوبر کو پاکستان واپسی پر ائیرپورٹ پر گرفتار کرنے سے 24 اکتوبر تک روک دیا ، چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے احکامات جاری کئے، عدالت نے نواز شریف کو 24 اکتوبر کو ہائی کورٹ کے سامنے پیش ہونے کا حکم دے دیا.

    عدالتی فیصلہ، نواز شریف اب لاہور ہی آئیں گے
    دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ اب نواز شریف پہلے کے شیڈول کے مطابق لاہور ایئر پورٹ پر ہی اتریں گے، نواز شریف نے عدالت میں سرینڈر کرنے کے لئے دائر درخواست میں لکھا تھا کہ وہ عدالت پیش ہوں گے اور اسکے لئے انہیں اسلام آباد ایر پورٹ اترنا تھا تا ہم اب عدالتی فیصلے کے بعد نواز شریف لاہور ایئر پورٹ ہی لینڈ کریں گے،اسلام آباد ہائیکورٹ نے 24اکتوبر تک نواز شریف کو گرفتار کرنے سے روک دیاہے

    نواز شریف کو ایون فیلڈ کیس میں دس سال اور العزیز یہ کیس میں سات سال سزا سنائی گئی تھی،23 جون 2021 ہائیکورٹ اسلام آباد نے عدم پیشی پر نواز شریف کی اپیلیں خارج کر دی تھیں،اسلام آباد ہائیکورٹ نے نواز شریف کو اشتہاری قرار دیا تھا،ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں پاکستان واپس آنے پر اپیلوں کی بحالی درخواست دائر کرنے کی اجازت دی ہے،حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے عدالت کے سامنے پیش ہونے کی استدعا کی جائے گئی،توشہ خانہ کیس اسلام آباد کی احتساب عدالت نے بھی نواز شریف کو اشتہاری قرار دے رکھا ہے

    نواز شریف کو وطن واپسی پر گرفتار نہیں کیا جائے گا

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

     نواز شریف کو آج تک انصاف نہیں ملا،

     نوازشریف کی واپسی کے حوالے سے جو بھی فیصلہ ہوگا پارٹی باہمی مشاورت سے کرے گی

    پاکستان مسلم لیگ (نواز) کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ نواز شریف 21 اکتوبر کو وطن واپس آئیں گے، پاکستان آمد پر نواز شریف کا فقید المثال استقبال کیا جائے گا 

    سابق وزیراعظم نواز شریف لندن میں4 سال رہنے کے بعد 21 اکتوبر کو پاکستان پہنچ رہے ہیں،نواز شریف نے مرکزی قیادت کو استقبال کے لئے ٹاسک سونپ دیا ہےمریم نواز استقبالی معاملات کی نگرانی کر رہی ہیں، اور تنظیمی عہدیداران کو استقبالیہ جلسے میں زیادہ سے زیادہ لوگ لانے کی ہدایت کردی گئی ہے۔

  • شیخ رشید کی بازیابی کے لیے مزید ایک ہفتے کی مہلت

    شیخ رشید کی بازیابی کے لیے مزید ایک ہفتے کی مہلت

    عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کی گرفتاری کے خلاف لاہور ہائیکورٹ پنڈی بنچ میں سماعت ہوئی

    آر پی او راولپنڈی سید خرم علی عدالت میں پیش ہوئے،آر پی او نےشیخ رشید کی بازیابی کے لیے مزید ایک ہفتے کی مہلت مانگ لی ،عدالت نے آر پی او کو ایک ہفتے کی مہلت دیتے ہوئے سماعت جمعہ تک ملتوی کر دی ،سماعت لاہور ہائیکورٹ پنڈی بنچ کےجسٹس صداقت کی خان نے کی

    دوران سماعت شیخ رشید کے وکیل سردار عبدالرازق ایڈووکیٹ نے عدالت میں کہا کہ شیخ رشید کو پولیس اور سرکاری ایجنسیوں کے ہاتھوں اغوا ہوئے ایک ماہ اور تین دن ہوچکے ہیں،پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 10 کے تحت کسی شخص کو بغیر تحریری وجوہات بتائے گرفتار نہیں کیا جا سکتا،گرفتاری کے بعد چوبیس گھنٹوں میں عدالت میں پیش کرنا ہوتا ہے، مجودہ صورتحال تقاضا کرتی ہے کہ وزیر اعظم پاکستان سیکریٹری دفاع اور آئی جی پولیس کو طلب کرکے پوچھا جائے کہ یہ ملک میں کیا ہورہا ہے ،سینئر سیاستدانوں اور پارلیمنٹرین کو اغوا کرکے حبس بیجا میں رکھ کر پریس کانفرنس کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے ،کیا پاکستان میں آئین، قانون اور عدالتوں کی کوئی حثیت نہیں رہ گئی

    جسٹس صداقت علی خان نے آر پی او سے استفسارکیاکہ آپ نے اتنے دنوں میں کیا پراگریس کی ؟ آر پی او نے کہا کہ میں شیخ رشید کی بازیابی کی کوشش کررہا ہوں ، عدالت نے کہا کہ آپ کی کوششیں نظر نہیں آرہیں ، شیخ رشید کے وکیل نےکہا کہ یہ شیخ رشید سے پریس کانفرنس کروانا چاہتے ہیں، عدالت نے کہاکہآخری موقع دے رہا ہوں اگر شیخ رشید کو برآمد نہ کیا تو سخت احکامات دوں گا ج،عدالت نے سماعت ایک ہفتے کے لئے ملتوی کردی

    سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ،بنچ تاخیرکا شکار

    عدالت آنے والے لوگوں سے مہمان جیسا سلوک کریں،چیف جسٹس

    چیئرمین پی ٹی آئی کی بیٹوں سے ٹیلیفونک ملاقات نہ کروانے پر سپرنٹنڈنٹ اٹک جیل …

    خاتون پولیس اہلکار کے کپڑے بدلنے کی خفیہ ویڈیو بنانے پر 3 کیمرہ مینوں کے خلاف کاروائی

    جنسی طور پر ہراساں کرنے پر طالبہ نے دس سال بعد ٹیچر کو گرفتار کروا دیا

    عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کو بحریہ ٹاؤن سے گرفتار کیا گیا تھا، شیخ رشید کی رہائی کے لئے عدالت میں درخواست دائر کی گئی ہے،شیخ رشید کو ابھی تک عدالت پیش نہیں کیا جا سکا ،پولیس کا کہنا ہے کہ شیخ رشید ہمارے پاس نہیں ہیں،عدالت نےآج تیسری بار شیخ رشید کی بازیابی کے لئے پولیس کو مہلت دی ہے،

  • جناح ہائوس حملہ کیس، خدیجہ شاہ سمیت 6 ملزمان کی ضمانت منظور

    جناح ہائوس حملہ کیس، خدیجہ شاہ سمیت 6 ملزمان کی ضمانت منظور

    لاہور ہائیکورٹ: خدیجہ شاہ سمیت دیگر کی ضمانتوں کا معاملہ ،دورکنی بنچ نے درخواست ضمانتوں کو منظور کر لیا

    جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ محفوظ فیصلہ سنادیا،خدیجہ شاہ نے جناح ہاؤس جلاؤ گھیراؤ اور عسکری ٹاور کے مقدمے میں ضمانتیں دائر کی تھیں،دیگر ملزمان میں عثمان شریف ،محمد شہباز ،سلیمان قادری اور ارباز شامل ہیں،لاہور ہائی کورٹ کی جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے جناح ہاؤس اور عسکری ٹاور میں جلاو گھیراو کے مقدمات میں خدیجہ شاہ کی درخواست ضمانت کا محفوظ فیصلہ سنا دیا. خدیجہ شاہ نے اپنے وکیل بیرسٹر سمیرا کھوسہ ایڈوکیٹ کی وساطت سے دائر کررکھی تھی ،خدیجہ شاہ پر تھانہ سرور روڈ اور گلبرگ میں جلاو گھیراو کے مقدمات درج تھے

    پولیس نے خدیجہ شاہ کے خلاف درج مقدمے میں کورکمانڈر ہاؤس لاہور پر حملے سے متعلق الزامات عائد کئے ہیں،خدیجہ شاہ جیل میں ہیں، امریکی حکام نے بھی خدیجہ شاہ سے ملاقات کی ہے، خدیجہ شاہ نے ایک ویڈیو بیان جاری کر کے معافی بھی مانگی تھی، خدیجہ شاہ کو عدالت پیش کیا گیا تا ہم وہ خاموش رہیں اور سوالوں کے جواب نہیں دیئے ، خدیجہ شاہ نے خود تھانے میں پیش ہو کر گرفتاری دی تھی ،انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں تحریک انصاف کی خاتون رہنما خدیجہ شاہ کو پولیس نے پیش کیا تو اس موقع پر خدیجہ شاہ کے منہ پر کپڑا ڈالا گیا تھا، خدیجہ شاہ نے ہاتھ میں تسبح پکڑ رکھی تھی،

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

    عدالت نے خدیجہ شاہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کو مسترد کردیا

  • اسلام آباد ہائیکورٹ،سائفر کیس عمران خان کی ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    اسلام آباد ہائیکورٹ،سائفر کیس عمران خان کی ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی
    ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر رضوان عباسی عدالت پیش ہوئے، عمران خان کے وکیل کے دلائل مکمل ہو چکے ہیں،
    سائفر کیس میں اسپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ” قابل دست اندازی جرم پر ایف آئی آر کا اندراج بنتا ہے وفاقی حکومت نے سیکرٹری داخلہ کو کمپلینٹ داخل کرنے کی منظوری دی ، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت درج مقدمہ میں دس سال سے کم سزا والی دفعہ میں ضمانت ہو سکتی ہے دس سال سے زائد سزا والی سیکشن لگی ہو تو وہ ناقابل ضمانت ہے مقدمہ اخراج کی درخواست میں کھوسہ صاحب نے تسلیم کیا ہے لیکن ان کا کہنا ہے جرم نہیں بنتا ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ سائفر آرہے ہوں گے روٹ آف پریکٹس ہوں گے وہ سمجھا دیجئے گا ، یقینا وزارت خارجہ نے ایس او پیز بنائے ہوں گے وہ بتا دیجئے گا ، سائفر کے ذریعے جو بھی معلومات آرہی ہے کیا وہ آگے کمیونیکٹ نہیں کی جا سکتیں ؟ وکیل رضوان عباسی نے کہا کہ ” ایک کیٹگری میں آپ معلومات شئیر کر سکتے ہیں دوسری کیٹگری میں آپ نہیں کر سکتے یہ سائفر ٹاپ سیکرٹ تھا اس کو شئیر نہیں کیا جا سکتا تھا ، جس چینل سے سائفر آیا تھا اسی چینل نے واپس جانا تھا ، سائفر کی کاپی کو آخرکار ضائع ہونا تھا صرف اوریجنل کاپی نے رہنا تھا ، پٹیشنر کے وکیل نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن فائیو کی درست تعریف یا تشریح نہیں کی، عمران خان نے سائفر کی معلومات پبلک تک پہنچائیں جس کے وہ مجاز نہ تھے ” سیکرٹ ڈاکومنٹ پبلک کرنے پر بطور وزیر اعظم عمران خان کو آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت استثنا حاصل نہیں ،

    سائفر کیس میں عمران خان کو عمر قید یا سزائے موت سنائی جا سکتی ہے،ایف آئی اے سپشیل پراسیکیوٹر رضوان عباسی
    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سائفر آنے کے رولز آف پریکٹس ہوں گے، کچھ ایس او پیز بنائے ہوں گے، پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہاکہ سائفر کی دو کیٹگریز ہوتی ہیں جن میں سے ایک کی کمیونی کیشن کی جا سکتی ہے مگر دوسری کیٹگری کی نہیں،یہ سائفر دوسری کیٹگری کا سیکرٹ ڈاکومنٹ تھا جس کی معلومات پبلک نہیں کی جا سکتی تھیں، اس جرم کی سزا چودہ سال قید یا سزائے موت بنتی ہے ،سائفر کیس میں عمران خان کو عمر قید یا سزائے موت سنائی جا سکتی ہے،نعمان سائفر اسسٹنٹ کے پاس سائفر آیا ، ڈپٹی ڈائریکٹر عمران ساجد ، حسیب بن عزیز ، سابقہ سیکرٹری خارجہ سہیل محمود کا 161 بیان ہے ، شاموں قیصر وزیر اعظم ہاؤس میں سائفر آفیسر ، ڈی ایس پی ایم آفس حسیب گوہر کا 161 کابیان ہے ،ساجد محمود ڈی ایس وزیر اعظم آفس اور اعظم خان کا 161 کا بیان ہے ،اعظم خان کبھی بھی اس کیس میں ملزم نہیں تھے بلکہ وہ گواہ ہیں ان کے ایک اعتراض کی وضاحت کر دوں ، ان کے لاپتہ ہونے کی ایف آئی آر تھانہ کوہسار میں درج ہوئی تھی کچھ دنوں بعد انہوں نے اس کیس کے تفتیشی افسر سے رابطہ کیا کہا پیس آف مائنڈ کے لیے کچھ عرصہ کے لیے وہ کہیں چلے گئے تھے پھر انہوں نے 164 کا بیان مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کرایا

    عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کا بنیادی گواہ کون ہے ؟اسپیشل پراسیکیوٹر نے عدالت میں کہا کہ اعظم خان ، اسد مجید ، سہیل محمود بنیادی گواہ ہیں ،سائفر اسسٹنٹ نعمان کا 161 کا بیان اسپیشل پراسیکیوٹر نے عدالت میں پڑھا سائفر کیس میں ایف آئی اے نے تین ایکسپرٹس کی رائے بھی شامل کی ہے کہ اس ایکٹ کے عالمی سطح پر کیا اثرات ہو سکتے ہیں تین ایکسپرٹس میں اسد مجید خان ، سابق سیکرٹری خارجہ سہیل محمود اور وزارت خارجہ کے سابق ڈی جی USA فیصل نیاز ترمزی کا بیان بھی شامل ہے ،سائفر کو پبلک میں لہرانا سیاسی تھا یہ آفیشل فنگشن آرٹیکل 248 کے استثنی میں نہیں آتا

    اسپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی تقریر میں پڑھنا چاہوں گا ، میں اعظم خان کا بیان بھی پڑھنا چاہوں گا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا ضرورت ہے پڑھنے کی ؟ آپ ریکارڈ دے دیجیے گا میں دیکھ لوں گا ،سائفر کیس میں عمران خان کی درخواست ضمانت میں دلائل کے دوران اسپیشل پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی نے بھارتی عدالت کا فیصلہ پڑھا.عدالت نے استفسار کیا کہ بھارت کا آفیشل سیکریٹ ایکٹ ہے آپ کے پاس ؟ اسپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ 90 فیصد بھی ایکٹ ہمارا اور بھارت کا ایک جیسا ہے ،عدالت نے کہا کہ ہم نے بھی انہوں نے بھی کچھ ترامیم کیں ہیں ،اسپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ جن کیسز کے حوالے دیے ان میں زیادہ تر کلاسایفائیڈ ڈاکومنٹس کی معلومات لیک کرنے کے خدشات پر تھے،ان کیسز میں معلومات لیک کرنے کے ثبوت نہیں تھے مگر پھر بھی معلومات لیک ہونے پر سزائیں ہوئیں،
    اس کیس میں تو اعتراف جرم موجود ہے کہ سیکرٹ ڈاکومنٹ کی معلومات کو پبلک کیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ چالان جمع ہو چکا آپ نے گرفتار رکھ کر کیا کرنا ہے ؟ اسپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ ایسی ججمنٹ دینا چاہتا ہوں چالان جمع ہو چکا تھا ضمانت خارج ہوئی، رولز آف بزنس 1973 عدالت کے سامنے پڑھا گیا،اسپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ اگر عدالت تھوڑا وقت دے تو میں عدالتی معاونت کر دوں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آج ہی ختم کرنا ہے روزانہ اس کو لیکر نہیں بیٹھ سکتے، اسپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ سائفر سیکورٹی کے حوالے سے الگ سے رولز آف بزنس میں باب ہے،اگر کسی بیان سے پاکستان کے سپر پاور امریکا سے تعلقات متاثر ہوں تو یقینا اس کا کسی کو فائدہ بھی ہو گا،آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی وہ کر رہا ہے جو انتہائی ذمہ دار شخص ہونا چاہئے،اس متعلق معلومات تو وہ اپنی فیملی کے ساتھ بھی شیئر نہیں کر سکتا، یہ کیس بھی نہیں کہ اپنے فرینڈز کے درمیان بیٹھ کر معلومات شیئر کیں،وزارت خارجہ کے امریکہ میں افسر فیصل ترمذی کا بیان ریکارڈ کا حصہ ہے ، جس میں فیصل ترمذی کے بیان میں موجود ہے کیسے ایک ملک سائفر پبلک کرنے سے متاثر ہوا ، کیسے انہوں نے اس ایکٹ کو لیا ، کیسے دوسرے ملک کے تعلقات پر اثر ہوا پاکستان میں 23 مارچ کی او آئی سی کی میٹنگ میں امریکی وفد بطور ابزور بھی آیا ہوا تھا،انہوں نے سیاسی فائدے کے لئے سائفر کو استعمال کیا،سردار لطیف کھوسہ نے کہہ دیا اور تسلیم بھی کر لیا ہے اس وقت کے وزیر اعظم نے یہ سب کیا تھا،

    سائفر کیس میں ایف آئی اے اسپیشل پراسیکیوٹر نے اپنے دلائل مکمل کر لیے عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے جوابی دلائل شروع کر دیے، عمران خان کے وکیل کے دلائل مکمل ہوئے تو عدالت نے سائفر کیس میں عمران خان کی ضمانت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا

    خیال رہے کہ عمران خان نے بیرسٹر سلمان صفدر ایڈووکیٹ کی وساطت سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں سائفر گمشدگی کیس میں درخواست ضمانت دائر کی، جس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے استدعا کی گئی کہ انہیں ضمانت پر اٹک جیل سے رہا کیا جائے درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ استغاثہ نے بدنیتی پر مبنی مقدمہ درج کیا14 ستمبر کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت نے درخواست ضمانت مسترد کی خصوصی عدالت کی جانب سے بے ضابطگیوں اور استغاثہ کے متعدد تضادات کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔

    سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی ضمانتیں مسترد ہونے کا 7 صفحات کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا تھا،تفصیلی فیصلے میں عدالت نے کہا کہ ” عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف ناقابل تردید شواہد ہیں جو ان کا کیس سے لنک ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں ریکارڈ کے مطابق ملزمان آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن 5 اور 9 اور ناقابل ضمانت دفعات کے جرم کے مرتکب ٹھہرے ، ضمانتیں خارج کرنے کے لیے مواد کافی ہے ہمیں یہ مدنظر رکھنا چاہیے یہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا ٹاپ سیکرٹ کیس ہے آئندہ سماعت پر غیر متعلقہ افراد پر دوران سماعت پابندی ہو گی عدالتی ہداہت کے باوجود پٹشنرز کی جانب سے سرٹیفکیٹ نہیں دیا گیا میرٹ اور سرٹیفکیٹ دینے کے عدالتی آرڈر پر عمل نا کرنے کی وجہ سے ضمانت خارج کی جاتی ہے

    عدالت نے اپنے آرڈر میں ایف آئی اے پراسیکیوٹرز کے دلائل لکھتے ہوئے کہا ہے کہ ” پراسیکیوشن کے مطابق 161 کے بیانات کے مطابق عمران خان کی جانب سے سائفر کو غیر قانونی طور پر اپنے پاس رکھنا ثابت ہے اور انہوں نے غیر متعلقہ افراد کے سامنے سائفر معلومات گھما پھیرا کر شئیر کیں، جس نے بیرونی طاقتوں کو فائدہ پہنچایا اور پاکستان کی سیکیورٹی کو متاثر کیا ،

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • بشریٰ بی بی کہاں ہیں؟ عدالت،بشریٰ روسٹرم پر آئیں اور ضمانت منظور

    بشریٰ بی بی کہاں ہیں؟ عدالت،بشریٰ روسٹرم پر آئیں اور ضمانت منظور

    احتساب عدالت اسلام آباد ،بشریٰ بی بی کی توشہ خانہ، 190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل کیس میں درخواست ضمانت پر سماعت

    بشریٰ بی بی اپنے وکیل لطیف کھوسہ کے ہمراہ ڈیوٹی جج راجاجوادعباس کی عدالت پیش ہوئیں، وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ کافی عرصہ ہوگیا آپ کو دیکھا نہیں، ڈیوٹی جج راجاجوادعباس نے کہا کہ اب نارکوٹکس کی عدالت کا چارج مل گیاہے، وکیل لطیف کھوسہ نےکہا کہ جس دن احتساب عدالت نے درخواست ضمانت نمٹائی، اسی دن نیب نے نیا نوٹس بھیج دیا، ڈیوٹی جج راجاجوادعباس نے استفسار کیا کہ بشریٰ بی بی کہاں ہیں؟ ڈیوٹی جج راجاجوادعباس نے بشریٰ بی بی کو روسٹرم پر بلا لیا،بشریٰ بی بی روسٹرم پر آگئیں

    بشریٰ بی بی کی توشہ خانہ، 190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل کیس میں ضمانت منظور کر لی گئی،ڈیوٹی جج راجاجواد عباس نے 31 اکتوبر تک بشریٰ بی بی نے درخواست ضمانتین منظور کرلی ،ڈیوٹی جج راجاجوادعباس نے بشریٰ بی بی کی پانچ پانچ لاکھ روپے مچلکوں کے عوض ضمانتین منظور کرلی

    ریاستِ پاکستان کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی سازش بے نقاب, اپنے ہی پرنسپل سیکرٹری نے سازشی بیانیہ زمیں بوس کردیا

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،