Baaghi TV

Tag: ضمانت

  • سابق وزیر اعظم کے بھی حقوق ہیں ان کا بھی وقار ہے،وکیل لطیف کھوسہ

    سابق وزیر اعظم کے بھی حقوق ہیں ان کا بھی وقار ہے،وکیل لطیف کھوسہ

    اسلام آباد ہائیکورٹ ، سائفر کیس مقدمہ اخراج اور ٹرائل روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی، سردار لطیف کھوسہ نے دلائل دیئے ، ایف آئی اے نے سماعت کل تک ملتوی کرنے کی استدعا کردی،دوران سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کھوسہ صاحب یہ بتائیں کہ پاکستان میں امریکہ کی طرح دستاویزات ڈی کلاسیفائیڈ کرنے کا کوئی قانون موجود ہے ؟ لطیف کھوسہ نے عدالت میں کہا کہ اس سائفر کو تو وفاقی کابینہ نے ڈی کلاسیفائیڈ کردیا تھا ، اس ملک میں لیاقت علی خان کا قتل ہوا ، ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کے ساتھ بھی جو ہوا وہ آپ کے سامنے ہے ، یہ سائفر امریکہ میں سفیر اسد مجید نے دفتر خارجہ کو بھجوایا تھا ، میرے دوست کہیں گے سیاسی بات کر رہا ہے غزہ میں فلسطینیوں کا قتل عام جاری ہے اسرائیل کے پیچھے امریکہ ہے ، امریکہ کو ہم نے سپر پاور خدا مان لیا ہے ، امریکہ نے اس ملک کے وزیراعظم کو ہٹانے کے لیے دھمکی دی ، یہ تسلیم شدہ ہے یہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت تھی پاکستان نے امریکہ سے احتجاج کیا ، میں نے جب یہ کیس دیکھا تو حیران رہ گیا اس ملک کے خلاف سازش ہو رہی ہے اور وزیراعظم جو چیف ایگزیکٹو ہے وہ بول بھی نہیں سکتا ، بھٹو صاحب کو بھی مولوی مشتاق کی کورٹ میں جنگلے میں لا کر کھڑا کیا گیا تھا ، یہاں عمران خان کو بھی جنگلے میں لے کر آئے ، ان کو جیل میں بھی ڈر کس چیز کا ہے کیا خوف ہے وہ سابق وزیراعظم ہیں ، سابق وزیر اعظم کے بھی حقوق ہیں ان کا بھی وقار ہے ، یہ اعظم خان کا بیان لیکر آ گئے ہیں جو تین ہفتے لاپتہ رہا ، یہ کہنا کہ چیئرمین پی ٹی آئی سائفر لے گیا یہ مضحکہ خیز ہے ،

    وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ چیرمین پی ٹی آئی کو ایک ایسے آرڈر کے تحت گرفتار کیا گیا جس پر تاریخ تک نہیں تھی،سولہ اگست کو ایف آئی اے نے جسمانی ریمانڈ مانگا جسے ٹرائل کورٹ نے مسترد کر دیا، چیرمین پی ٹی آئی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا گیا ،عدالت کل چیرمین پی ٹی آئی پر فرد جرم عائد کرنے جا رہی ہے، چیرمین پی ٹی آئی نے بطور وزیراعظم اپنا قانونی اور آئینی حق استعمال کرتے ہوئے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا، سابق وزیراعظم نے اپنے آئینی حلف سے غداری نہیں کی، چیرمین پی ٹی آئی پر سائفر میں ردوبدل کا الزام بے بنیاد ہے، سائفر کا کوڈ ملزم نے نہیں بلکہ خود استغاثہ نے ایف آئی آر میں ظاہر کیا،38 ویں نیشنل سیکیورٹی کمیٹی میں فارن سیکریٹری کو طلب کیا گیا،فارن سیکریٹری نے سائفر کو کنفرم کیا ، ایک بات واضح ہے کہ بطور وزیراعظم میرے سامنے سائفر آیا ،خان صاحب سائفر کو ہائیئسٹ فارم نینشل سیکیورٹی کمیٹی میں لے کر گئے،نیشنل سکیورٹی کمیٹی نے سائفر کو بلیٹنٹ انٹرفیئرینس قرار دیا اور سخت ڈیمارش کرنے کا فیصلہ کیا ، پی ڈی ایم غلام رہنا چاہتی ہے تو رہے یہ ان کا سیاسی ہتھیار ہے ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ ، سائفر کیس مقدمہ اخراج کی درخواست میں سردار لطیف کھوسہ نے تحریری دلائل بھی عدالت میں جمع کرا دئیے،چیف جسٹس عامر فاروق نے سردار لطیف کھوسہ کے دلائل کا خلاصہ کچھ یوں بیان کیا ،” آپ نے دلائل میں تین نقاط عدالت کے سامنے رکھے ہیں ، پہلی بات آپ کہہ رہے ہیں آرٹیکل 248 کا استثنی حاصل ہے ، دوسری پوائنٹ آپ کا یہ ہے کہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ اور سیکشن 5 کا اطلاق نہیں ہوتا ، تیسرا پوائنٹ آپ کا یہ ہے کہ وزیر اعظم کی ذمہ داری تھی کہ پبلک کے ساتھ شئیر کرتے ” وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ ایک پوائنٹ یہ بھی ہے سائفر کابینہ میٹنگ میں ڈی کلاسیفائی ہو چکا تھا ،

    وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ سائفر کیس میں سیکشن 5 کا اطلاق نہیں ہوتا ،میں نے کہا سازش سے نکالا پی ڈی ایم کا موقف تھا عدم اعتماد کرکے نکالا ، سائفر میرے پاس نہیں ہے وہ موجود بھی وزارت خارجہ میں ہے ،انہوں نے ایف آئی آر میں کوڈ لکھا ہے انہوں نے خلاف ورزی کی ہے ، کس نے ان کو کہا تھا کوڈ ایف آئی آر میں لکھیں ،ٹرائل کورٹ نے آرڈر میں دھمکی بھی لگائی ہوئی ہے ، انگریزی تو جیسی بھی ہے میری بھی انگریزی ایسی ہے ، ٹرائل کورٹ کی انگریزی بھی ایسی ہی ہے ،انگریزی سب کی اسی طرح ہی ہے ،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کے دلائل کا خلاصہ یہ ہے نا ایکٹ کا اطلاق ہوتا ہے نا سیکشن 5 کا ؟ وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ جی بالکل نا ایکٹ کا اطلاق ہوتا ہے نا سیکشن 5 کا اطلاق ہوتا ہے ، یہ ممنوعہ جگہ نہیں ہے اگر ملک کے خلاف کوئی سازش ہو تو عوام کو بتانا وزیراعظم کا کام ہے ، یہاں انہوں نے بڑی آسانی سے اعلان کر دیا کہ سزا موت بھی ہو سکتی ہے ،

    ایف آئی آر میں لگائی گئی دفعات سے متعلق سردار لطیف کھوسہ نے پڑھا اور کہا کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں نگران حکومتیں چل رہی ہیں ،کیا ہم نے پاکستان کو سرزمین بے آئین بنادیا ہے ؟چیئرمین پی ٹی آئی کو آپ کی عدالت کے احاطے سے نو مئی کو گرفتار کیا گیا ،سپریم کورٹ نے گرفتاری کو غیر قانونی قرار دے کر چیئرمین پی ٹی آئی کی رہائی کا حکم دیا،
    اس کا تو کوئی ذکر نہیں کرتا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو عدالت کی حدود سے غیر قانونی گرفتار کیا گیا،نو مئی کو عدالت کی حدود میں عدالتی عملے وکلا کو مارا گیا ،پی ٹی آئی کے دس ہزار کارکنوں کو گرفتار کیا گیا اس پر تو کوئی بات نہیں کرتا ،آج کے دن سابق وزیر اعظم لیاقت علی خان کو قتل کیا گیا تھا ،آج کے دن میں آپ سے ،متجسس ہوں، درخواست کرتا ہوں، قوم آپ کی طرف انصاف کیلئے دیکھ رہی ہے ،کیس کی سماعت میں دو بجے تک کا وقفہ کردیا گیا

    سائفر کیس مقدمہ اخراج کی درخواست پر عمران خان کے وکیل سردار لطیف کھوسہ کے دلائل مکمل ہو گئے ،

    خیال رہے کہ عمران خان نے بیرسٹر سلمان صفدر ایڈووکیٹ کی وساطت سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں سائفر گمشدگی کیس میں درخواست ضمانت دائر کی، جس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے استدعا کی گئی کہ انہیں ضمانت پر اٹک جیل سے رہا کیا جائے درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ استغاثہ نے بدنیتی پر مبنی مقدمہ درج کیا14 ستمبر کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت نے درخواست ضمانت مسترد کی خصوصی عدالت کی جانب سے بے ضابطگیوں اور استغاثہ کے متعدد تضادات کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔

    سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی ضمانتیں مسترد ہونے کا 7 صفحات کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا تھا،تفصیلی فیصلے میں عدالت نے کہا کہ ” عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف ناقابل تردید شواہد ہیں جو ان کا کیس سے لنک ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں ریکارڈ کے مطابق ملزمان آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن 5 اور 9 اور ناقابل ضمانت دفعات کے جرم کے مرتکب ٹھہرے ، ضمانتیں خارج کرنے کے لیے مواد کافی ہے ہمیں یہ مدنظر رکھنا چاہیے یہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا ٹاپ سیکرٹ کیس ہے آئندہ سماعت پر غیر متعلقہ افراد پر دوران سماعت پابندی ہو گی عدالتی ہداہت کے باوجود پٹشنرز کی جانب سے سرٹیفکیٹ نہیں دیا گیا میرٹ اور سرٹیفکیٹ دینے کے عدالتی آرڈر پر عمل نا کرنے کی وجہ سے ضمانت خارج کی جاتی ہے

    عدالت نے اپنے آرڈر میں ایف آئی اے پراسیکیوٹرز کے دلائل لکھتے ہوئے کہا ہے کہ ” پراسیکیوشن کے مطابق 161 کے بیانات کے مطابق عمران خان کی جانب سے سائفر کو غیر قانونی طور پر اپنے پاس رکھنا ثابت ہے اور انہوں نے غیر متعلقہ افراد کے سامنے سائفر معلومات گھما پھیرا کر شئیر کیں، جس نے بیرونی طاقتوں کو فائدہ پہنچایا اور پاکستان کی سیکیورٹی کو متاثر کیا ،

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • سائفرکیس، ضمانت کا کیس الگ ہے اس کو الگ ہی سنا جانا ہے،چیف جسٹس

    سائفرکیس، ضمانت کا کیس الگ ہے اس کو الگ ہی سنا جانا ہے،چیف جسٹس

    سائفر کیس میں چیرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی،چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دیر سے آنے پر معذرت کرتا ہوں ،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ میرے 60 فیصد دلائل مکمل ہو گئے ہیں ،تینوں اسپیشل پراسیکیوٹرز عدالت میں پیش ہوئے،اسپیشل پراسکییوٹر راجہ رضوان عباسی، شاہ خاور اور ذوالفقار نقوی بھی روسٹرم پر موجود تھے،اسپیشل پراسکییوٹر رضوان عباسی نے جیل میں ٹرائل کے دوران نقول کی فراہمی کا معاملہ اٹھا دیا

    اسپیشل پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی نے کہا کہ جیل ٹرائل کے دوران چیئرمین پی ٹی آئی کے وکلاء نے نقول وصول کیں لیکن دستخط نہیں کیے،9 اکتوبر کو نقول ملزمان کو دیں گئیں،ملزمان کے وکلا نے کہا ہے کہ جیل سماعت کیلئے ان کی درخواست زیر التوا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جیل سماعت کیخلاف درخواست پر فیصلہ کل یا پیر کو آ جائے گا،اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ عدالت ان کیسز کو اکٹھا کرکے ہی سن لے، چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ضمانت کا کیس الگ ہے اس کو الگ ہی سنا جانا ہے،ٹرائل کے حوالے سے کوئی اسٹے آرڈر موجود نہیں، ٹرائل کورٹ نے ٹرائل اپنے لحاظ سے چلانا ہے، اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ یہ ٹرائل کو چلنے نہیں دے رہے،

    چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے اپنے دلائل کا آغاز کردیا ،وکیل سلمان صفدر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت یہ مقدمہ بنتا ہی نہیں ہے، سیکشن فائیو کا اطلاق مسلح افواج کے معاملے پر ہوتا ہے ، اس کیس میں کوئی نقشے کوئی تصویر اور قومی سلامتی کا مواد لیک نہیں کیا گیا ، آج سے پہلے کسی وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کے خلاف سیکریٹ ایکٹ کے تحت کارروائی نہیں ہوئی، یہ بہت بدنامی کی بات ہے، یہ قانون صرف فوجیوں کے لیے ہے، میں نے یہ سوال اٹھایا یہ کیس وزارت خارجہ نے کیوں نہیں کیا، وزارت داخلہ اس کیس میں فریق کیسے ہو سکتا ہے ؟ مارچ میں چیئرمین پی ٹی آئی نے ایک جلسے میں صفحہ لہرایا ، ایف آئی آر میں اسکا بھی ذکر نہیں ،
    اس کیس میں کہیں یہ ثابت نہیں کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے کوئی ملکی راز دشمن کیساتھ شیئر کیا ، یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ سائفر کی لینگویج پر ایک غیر ملکی سفیر کو ڈیمارش کیا گیا ، چیئرمین پی ٹی آئی سیاسی قیدی ہیں،ایف آئی آر میں لکھا ہے کہ سائفر کو ریکور کرنا ہے۔ان کے الزامات ہیں کہ سائفر کو اپنے پاس رکھا اور ٹوئسٹ کیا۔انہوں نے سائفر کو ریکور ہی نہیں کیا تو یہ کیسے پتہ چلا کہ اس کو ٹوئسٹ کیا۔ایف آئی آر میں نہیں بتایا گیا کہ یہ معاملہ کابینہ اجلاس اور نیشنل سکیورٹی کمیٹی میں رکھا گیا، سائفر والا معاملہ سپریم کورٹ میں بھی لے جایا گیا، میں حیران ہوں یہ اس معاملے کو کریمنل ڈومین کو کیسے لے آئے،

    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ یہ معاملہ چار فورمز پر رکھا گیا اور بعد میں ایف آئی آر درج کر لی گئی ، کابینہ اجلاس، نیشنل سیکورٹی کمیٹی میٹنگ اور سپریم کورٹ میں بھی معاملہ ڈسکس ہوا،یہ معاملہ دو مرتبہ نیشنل سیکورٹی کمیٹی کے پاس گیا،
    اس کے متن کے اوپر فارن ڈپلومیٹ کو بلا کر احتجاج کیا گیا، پراسیکیوشن کے سائفر کیس میں بہت سے لنکس مسنگ ہیں۔ سوموٹو کیس میں سائفر کا سارا معاملہ ڈسکس ہوا ، سپریم کورٹ میں اس کو کہیں نہیں کہا گیا کرمنل ایکٹ ہوا ہے۔
    نیشنل سیکورٹی کمیٹی کے پاس گیا کابینہ کے پاس گیا انہوں نے نہیں بتایا ،سائفر کی جو لینگوئیج ہے وہ قابل مذمت ہے نیشنل سیکورٹی کمیٹی میٹنگ کا لب لباب تھا ،سائفر کی زبان کے استعمال پر احتجاج کیا گیا ،سات مارچ 2022 کو سائفر وصول ہوا ،عدالت نے استفسار کیا کہ سائفر امریکہ سے وصول ہوا ؟ اسپیشل پراسیکیوٹرنے کہا کہ پاکستان ہائی کمیشن امریکہ سے وصول ہوا ،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ 27 مارچ کا یہ کہتے ہیں بتایا نہیں لہرایا ایف آئی آر میں نہیں ہے، نیشنل سکیورٹی کمیٹی میٹنگ میں اس کے سامنے رکھا گیا ،9 اپریل 2022 کو کابینہ کی میٹنگ میں ڈی کلاسیفائیڈ کیا گیا ، چیف جسٹس ، اسپیکر ، صدر کے پاس بھیجا گیا ،

    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ پراسیکیوشن کا کیس ہے کہ سائفر سات مارچ 2022 کو آیا اور گیارہ مارچ تک پٹیشنر کے پاس رہا، گیارہ اپریل کو شہباز شریف نے بطور وزیر اعظم حلف لیا، وزیراعظم کی سربراہی میں 24 اپریل کو نیشنل سیکورٹی کمیٹی کی میٹنگ ہوئی،پانچ ماہ بعد کابینہ ایف آئی اے کو آگاہ کرتی ہے کہ سائفر وزیراعظم ہاؤس سے غائب ہے،ایف آئی اے چھ دن بعد اس معاملے پر انکوائری سٹارٹ کر دیتی ہے،اگر سائفر وزیراعظم ہاؤس میں تھا تو کیا شہباز شریف اس کیس میں ملزم ہیں؟ انہیں شامل تفتیش کر کے بیان لیا گیا؟ نیشنل سیکورٹی کمیٹی کی میٹنگ سائفر کے بغیر کیوں کی گئی تھی؟ ایف آئی اے کا کیس ہے 33 دن سائفر عمران خان کے پاس رہا جبکہ یہی سائفر سابق وزیراعظم شہباز شریف کے پاس 169 دن رہا کیا شہباز شریف اس کیس میں ملزم ہیں ؟ کیا شہباز شریف کا بیان ریکارڈ کیا گیا ؟

    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ریکارڈ مینٹین کرنا اس کے آفس کی ذمہ داری ہوتی ہے ،اگر یہ کرمنل ایکٹ اعظم خان کو معلوم تھا تو وہ مدعی کیوں نہیں ؟اعظم خان 15 اگست کو ملزم ٹھہرتے ہیں ، پھر اعظم خان لاپتہ ہوتے ہیں پریشر دھمکی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ، یہ ڈاکومنٹری ثبوتوں کا کیس ہے کہاں ہیں وہ دستاویزات ؟ فزیکل ریمانڈ تو ان کو ملا نہیں ،نیشنل سکیورٹی کمیٹی میٹنگ کی پریس ریلیز عدالت کے سامنے پڑھی گئی ،وکیل نے کہا کہ میں صرف ضمانت کے کیس پر دلائل دے رھا ہوں کہ یہ مزید انکوائری کا کیس ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ
    کیا کابینہ کے میٹنگ منٹس سپریم کورٹ کے سامنے تھے ؟ اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ کابینہ کے میٹنگ منٹس بھی کلاسیفائیڈ ہوتے ہیں ،سپریم کورٹ کے سامنے بھی پریس ریلیز ہی تھیں وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ جب پراسیکیوشن کے پاس کچھ نا ہو تو پھر شریک ملزمان کے بیانات کا سہارا لیا جاتا ہے ،اعظم خان کا بیان انہوں نے شامل کیا ہے حالانکہ وہ ایف آئی آر میں نامزد ہے ،عدالت اس معاملے سے آگاہ ہے کہ اعظم خان کے لاپتہ ہونے پر ایف آئی آر درج ہوئی تھی ،بیرسٹر سلمان صفدر نے اعظم کی گمشدگی کی ایف آئی آر عدالت میں پیش کردی اور کہا کہ قانون کے مطابق ایسے بیان کی کوئی حیثیت نہیں جو غیر قانونی حراست کے دوران دیا گیا ہو، ریکارڈ کی دیکھ بھال پرنسپل سیکرٹری کی ذمہ داری ہوتی ہے ، الزام ہے کہ سابق وزیر اعظم سائفر کو اپنے ساتھ لے گئے ،ایسی صورتحال میں تو اس مقدمے کا مدعی اعظم خان کو ہونا چاہئیے تھا ،

    سائفر کیس عمران خان کی درخواست ضمانت پر سماعت ، سلمان صفدر کے دلائل مکمل ہو گئے، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ عدالت پلیز آج ضمانت پر فیصلہ کر دے ، پیر کے روز ٹرائل کورٹ فرد جرم عائد کرنے لگے ہیں ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا جب دلائل مکمل ہو جائیں گے دو تین دن فیصلے میں لگیں گے جتنا وقت آپ کو دیا ہے اتنا وقت پراسیکیوشن کو بھی دوں گا

    اسپیشل پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی نے دلائل کا آغاز کر دیا ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ شروع کریں سوا چار بجے تک ، پھر آئندہ دلائل ہوں گے ،اسپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ ” قانون کے پرانے ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کا عمل نہیں ہو گا 1960 میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ کو آرمی ایکٹ کا حصہ بنا دیا گیا اگر وہ چاہییں تو فوجی عدالتوں میں بھی ٹرائل ہو سکتا ہے لیکن یہ ضروری نہیں "، عدالت نے استفسار کیا کہ کوئی وزیر اعظم ، صدر ، گورنر آتے ہیں کیا پوری زندگی وہ آفیشل سیکرٹ کو ظاہر نہیں کر سکتے؟اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ بالکل پوری زندگی وہ ڈسکلوز نہیں کر سکتے،یہ ایسا ڈاکومنٹ ہے جس کو آپ اپنے پاس نہیں رکھ سکتے وہ واپس جانا ہے، یہ سیکریٹ ڈاکومنٹ تھا ڈی کلاسیفائیڈ بھی نہیں ہوا اور ہو بھی نہیں سکتا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چالان کے ساتھ جو ڈاکومنٹ ہیں کیا سائفر کی کاپی اس کے ساتھ منسلک ہے، اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ چالان کے ساتھ سائفر کی کاپی نہیں لگ سکتی ،گواہوں کے بیانات بھی ہیں وزارت خارجہ سے متعلق بھی گواہ ہیں،عدالت نے استفسار کیا کہ نا کوڈڈ نا ہی ڈی کوڈڈ سائفر چالان کا حصہ ہے؟ اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ سیکریٹ ہونے کی وجہ سے اس کو چالان ہے ساتھ منسلک کر نہیں سکتے،

    سائفر کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کر دی گئی، اسپیشل پراسیکیوٹر دلائل جاری رکھیں گے

    خیال رہے کہ عمران خان نے بیرسٹر سلمان صفدر ایڈووکیٹ کی وساطت سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں سائفر گمشدگی کیس میں درخواست ضمانت دائر کی، جس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے استدعا کی گئی کہ انہیں ضمانت پر اٹک جیل سے رہا کیا جائے درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ استغاثہ نے بدنیتی پر مبنی مقدمہ درج کیا14 ستمبر کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت نے درخواست ضمانت مسترد کی خصوصی عدالت کی جانب سے بے ضابطگیوں اور استغاثہ کے متعدد تضادات کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔

    سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی ضمانتیں مسترد ہونے کا 7 صفحات کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا تھا،تفصیلی فیصلے میں عدالت نے کہا کہ ” عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف ناقابل تردید شواہد ہیں جو ان کا کیس سے لنک ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں ریکارڈ کے مطابق ملزمان آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن 5 اور 9 اور ناقابل ضمانت دفعات کے جرم کے مرتکب ٹھہرے ، ضمانتیں خارج کرنے کے لیے مواد کافی ہے ہمیں یہ مدنظر رکھنا چاہیے یہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا ٹاپ سیکرٹ کیس ہے آئندہ سماعت پر غیر متعلقہ افراد پر دوران سماعت پابندی ہو گی عدالتی ہداہت کے باوجود پٹشنرز کی جانب سے سرٹیفکیٹ نہیں دیا گیا میرٹ اور سرٹیفکیٹ دینے کے عدالتی آرڈر پر عمل نا کرنے کی وجہ سے ضمانت خارج کی جاتی ہے

    عدالت نے اپنے آرڈر میں ایف آئی اے پراسیکیوٹرز کے دلائل لکھتے ہوئے کہا ہے کہ ” پراسیکیوشن کے مطابق 161 کے بیانات کے مطابق عمران خان کی جانب سے سائفر کو غیر قانونی طور پر اپنے پاس رکھنا ثابت ہے اور انہوں نے غیر متعلقہ افراد کے سامنے سائفر معلومات گھما پھیرا کر شئیر کیں، جس نے بیرونی طاقتوں کو فائدہ پہنچایا اور پاکستان کی سیکیورٹی کو متاثر کیا ،

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • خدیجہ شاہ کی درخواست ضمانت پر فیصلہ آ گیا

    خدیجہ شاہ کی درخواست ضمانت پر فیصلہ آ گیا

    لاہور ہائیکورٹ نے خدیجہ شاہ کی عسکری ٹاور اور جناح ہائوس حملہ کیسز میں ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جو اب سنا دیا گیا ہے،عدالت نے دو مقدمات میں خدیجہ شاہ کی ضمانت منظور کر لی

    لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے فیصلہ جاری کیا ،دو ملزمان روبینہ اور قاسم کی ضمانتیں بھی منظور کر لی گئیں ۔عدالت نے فیصلے میں کہا کہ احتجاج کرنا ہماری سوسائٹی کا کلچر ہے ایک لیڈر کال دے تو لوگ احتجاج کیلئے نکلتے ہیں احتجاج کرنے سے کسی کو نہیں روکا جا سکتا ،کیا خدیجہ شاہ ایف آئی آر میں نامزد ہے ۔

    دوران سماعت سپیشل پراسیکیوٹر نے عدالت میں کہاکہ خدیجہ شاہ کا نام ایف آئی آر میں نامزد نہیں ان پر ریاست کیخلاف نعرے بازی کا الزام ہے شناخت پریڈ کے بعد ان کا بیان ریکارڈ کیا گیا ،لوگوں کو اکساتی رہیں اپنے اکاﺅنٹ سےتصاویر بھی اپ لوڈ کیں

    عدالت نے استفسار کیا کہ خدیجہ شاہ کے بیان میں غیر قانونی بات کیا ہے یہ کہنا کہ ماﺅں بہنوں کی عزت محفوظ نہیں کیا غیر قانونی بات ہے ۔عدالت نے متعلقہ ریکارڈ نہ پیش کرنے پر برہمی کا بھی اظہار کیا .عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جو اب سنا دیا گیا ہے،

    پولیس نے خدیجہ شاہ کے خلاف درج مقدمے میں کورکمانڈر ہاؤس لاہور پر حملے سے متعلق الزامات عائد کئے ہیں،خدیجہ شاہ جیل میں ہیں، امریکی حکام نے بھی خدیجہ شاہ سے ملاقات کی ہے، خدیجہ شاہ نے ایک ویڈیو بیان جاری کر کے معافی بھی مانگی تھی، خدیجہ شاہ کو عدالت پیش کیا گیا تا ہم وہ خاموش رہیں اور سوالوں کے جواب نہیں دیئے ، خدیجہ شاہ نے خود تھانے میں پیش ہو کر گرفتاری دی تھی ،انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں تحریک انصاف کی خاتون رہنما خدیجہ شاہ کو پولیس نے پیش کیا تو اس موقع پر خدیجہ شاہ کے منہ پر کپڑا ڈالا گیا تھا، خدیجہ شاہ نے ہاتھ میں تسبح پکڑ رکھی تھی،

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

    عدالت نے خدیجہ شاہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کو مسترد کردیا

     

  • سائفر کیس،عمران خان کی درخواست ضمانت پر سماعت جمعرات تک ملتوی

    سائفر کیس،عمران خان کی درخواست ضمانت پر سماعت جمعرات تک ملتوی

    اسلام آباد ہائیکورٹ: سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی،
    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی،چیئرمین پی ٹی آئی کی اہلیہ بشری بی بی کمرہ عدالت پہنچ گئیں ،چیئرمین پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان بھی کمرہ عدالت پہنچ گئی ،چیئرمین پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم کمرہ عدالت پہنچ گئی،پٹیشنر چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر عدالت میں پیش ہوئے،سپیشل پراسیکیوٹرز راجہ رضوان عباسی، ذوالفقار عباس نقوی اور شاہ خاور بھی عدالت میں پیش ہوئے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے،

    چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے دلائل کا آغاز کردیا،وکیل سلمان صفدر نےسائفر کیس کی ایف آئی آر پڑھ کر سنا ئی.چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صرف 2 لوگ روسٹرم پر رہیں باقی بیٹھ جائیں ،عمران خان کی درخواست ضمانت پر اوپن کورٹ میں سماعت کا آرڈر دیا ہے، اگر کوئی ایسی چیز آتی ہے جو حساس ہو تو پھر دونوں وکلا کی مشاورت سے ان کیمرہ دلائل سنیں گے،شاہ خاور ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہم کورٹ کی معاونت کرتے ہوئے بتا دیا کریں گے کہ فلاں بیان کا یہ حصہ کورٹ صرف خود پڑھ لے، ‘

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل کا آغاز کر دیا ،وکیل نے کہا کہ اس ایف آئی آر کا ہر کالم اہم ہے، سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر کمپلیننٹ ہیں، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت یہ مقدمہ درج کیا گیا،اب میں ایف آئی آر کے متن پر آتا ہوں، چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو اس ایف آئی آر میں ملزم نامزد کیا گیا، الزام ہے کہ ذاتی مقاصد کے حصول کے لیے کلاسیفائیڈ ڈاکومنٹ کے حقائق کو ٹوئسٹ کیا گیا،ایف آئی آر کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی نے سیکرٹری اعظم خان کو میٹنگ منٹس تیار کرنے کا کہا ،سائفر کو غیر قانونی طور پر پاس رکھنے اور غلط استعمال کرنے کا الزام عائد کیا گیا،کہا گیا کہ اسد عمر اور محمد اعظم خان کے کردار کو تفتیش کے دوران دیکھا جائے گا،ایف آئی اے نے سیکرٹری داخلہ کے ذریعے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا،عدالت نے استفسار کیا کہ مقدمہ کے چالان میں کتنے افراد کو ملزم بنایا گیا ہے؟ بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ چالان میں سابق وزیراعظم اور سابق وزیر خارجہ کو ملزم بنایا گیا ہے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ سائفر کوڈڈ فارم میں آتا ہے، دہلی اور واشنگٹن سے آ رہے ہوں گے، انہیں ڈی کوڈ کرنے کا کیا طریقہ ہوتا ہے؟بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت میں کہا کہ ہر ایمبیسی میں ایسے تربیت یافتہ افراد ہوتے ہیں جو سیکرٹ کوڈز سے واقفیت رکھتے ہیں، سائفر فارن آفس میں آتا ہے، ڈی کوڈ ہونے کے بعد اس کی کاپیز بنتی ہیں،سائفر کی کاپیز پھر آرمی چیف سمیت چار آفسز میں تقسیم ہوتی ہیں،یہ سیکرٹ ڈاکومنٹ کی سیکرٹ کمیونی کیشن ہوتی ہے،

    آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے سیکشن پانچ اے کی سزا 14 سال اور سزا ئےموت ہے ،وکیل چیئرمین پی ٹی آئی

    سپیشل پراسیکیوٹر ذوالفقار عباس نقوی نے کہا کہ فارن سیکرٹری کی ڈومین ہوتی ہے کہ سائفر کس کس کو بھجوانا ہے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کوئی سٹینڈرڈ پریکٹس نہیں کہ کس کس آفس کو لازمی جاتا ہے؟سپیشل پراسیکیوٹر شاہ خاور نے کہا کہ جی، یہ اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ سائفر کا پیغام کس نوعیت کا ہے، آخر میں اوریجنل سائفر رہ جاتا ہے، ڈی کوڈڈ ٹیکسٹ نہیں، بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ آفیشل سکریٹ ایکٹ 1923 کا سو سال پرانا قانون ہے، اس ایکٹ کے اندر کسی جگہ سائفر کا ذکر نہیں ،کہوٹہ پلانٹ کی تصاویر لے کر دشمن ملک کو دے دوں، اس پر لگتا ہے آفیشل سیکرٹ ایکٹ، آفیشل سیکرٹ ایکٹ میں چودہ سال قید یا موت کی سزا ہے،کسی دشمن ملک سے سائفر شیئر نہیں کیا، قومی سلامتی کے حوالے سے ایسا کچھ نہیں کیا، چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ دشمن ملک کس کو کہیں گے؟ عموما جنگ کے موقع پر ہوتا ہے کہ یہ فلاں دشمن ملک ہے. وکیل نے کہا کہ یہاں کلبھوشن جادھو، ابھی نندن یا کہوٹہ پلانٹس کے نقشے بنانے کا واقعہ نہیں ہے، پہلے یہ قانون پڑھا اور پھر کہانی لکھ کر تمام وہی الفاظ شامل کر دیے گئے، اس قانون کو بہتر کرنے کی کبھی ضرورت پیش نہیں آئی، اب اس میں ترمیم کر کے سائفر کو شامل کیا گیا، کوشش کی گئی کہ تبدیلی لے آئیں مگر اس کا اطلاق اس ایف آئی آر پر نہیں ہو سکتا،بدنیتی کی بنا پر قانون میں نئی ترمیم کی گئی،آفیشل سیکریٹ ایکٹ میں ترامیم چیلنج بھی کی جا چکی ہیں، سو سال میں اس قانون میں ترمیم نہیں کی گئی، ایف آئی آر درج ہونے کے بعد اس قانون میں ترمیم کی گئی،مجھے نئے قانون میں کوئی چیز ایسی لگی جو غلط ہو، جو تبدیلی قانون میں آئی وہ اس ایف آئی آر میں دیکھ بھی نہیں سکتے، سابق وزیراعظم اور وزیر خارجہ جو باہر سے پڑھے ہوں انکو نہیں پتا ہو گا کیا کرنا ہے، چیف جسٹس عامرفاروق نے استفسار کیا کہ دنیا میں ایسا کوئی سائفر کے حوالے سے کیس ہوا ہے، سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر شائد کوئی کیس چل رہا ہے اس متعلق ؟
    سلمان صفدر کی جانب سے سکریٹ ایکٹ سے متعلق مختلف فیصلوں کے حوالے دیئے گئے،اور کہا گیا کہ ماضی میں کبھی بھی صرف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ٹرائل نہیں ہوا، ہمیشہ آرمی ایکٹ، نیوی یا ایئر فورس کے قوانین کے ساتھ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا اطلاق کیا گیا، یہ کیسز آرمی افسران کے خلاف ڈیفنس معاملات میں چلائے گئے

    چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل کی جانب سے سات مختلف کیسز کے حوالہ جات پیش کیے گئے،وکیل نے کہا کہ اس کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری کو دو ماہ ہو گئے ہیں،چیئرمین پی ٹی آئی کو سائفر کیس میں پندرہ اگست کو گرفتار کیا گیا تھا،
    پٹیشنر ایک سیاسی قیدی ہے، بیس سے زائد مقدمات میں ضمانت ملی کیونکہ وہ کیسز بدنیتی کی بنیاد پر بنائے گئے تھے، چیئرمین پی ٹی آئی کی عمر 71 سال ہے، بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں، سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، سیاسی مخالفین کی ایما پر مقدمات درج کیے گئے،چالیس کیسز صرف اسلام آباد اور دو سو کے قریب ملک بھر میں مقدمات درج کیے گئے،جس مقدمے میں ٹرائل کورٹ ایک دن کا بھی فزیکل ریمانڈ نا دے تو یہ بھی ضمانت کا گروانڈ ہے ،پراسیکیوشن نے ٹرائل کے فزیکل ریمانڈ نا دینے کے فیصلے کو چیلنج نہیں کیا ،میرے سے کسی قسم کی کوئی ریکوری نہیں ہوئی ،فزیکل ریمانڈ نا دینے کا ٹرائل کورٹ کا فیصلہ حتمی شکل اختیار کر چکا ہے ،16 اگست کو دئیے جانے والے ریمانڈ کے وقت نا ہماری حاضری ہے نا ہمیں پتہ چلا ،16 اگست کا ریمانڈ ہمیں 30 اگست کو پتہ چلا ،چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت پر سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی گئی

    خیال رہے کہ عمران خان نے بیرسٹر سلمان صفدر ایڈووکیٹ کی وساطت سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں سائفر گمشدگی کیس میں درخواست ضمانت دائر کی، جس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے استدعا کی گئی کہ انہیں ضمانت پر اٹک جیل سے رہا کیا جائے درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ استغاثہ نے بدنیتی پر مبنی مقدمہ درج کیا14 ستمبر کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت نے درخواست ضمانت مسترد کی خصوصی عدالت کی جانب سے بے ضابطگیوں اور استغاثہ کے متعدد تضادات کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔

    سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی ضمانتیں مسترد ہونے کا 7 صفحات کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا تھا،تفصیلی فیصلے میں عدالت نے کہا کہ ” عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف ناقابل تردید شواہد ہیں جو ان کا کیس سے لنک ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں ریکارڈ کے مطابق ملزمان آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن 5 اور 9 اور ناقابل ضمانت دفعات کے جرم کے مرتکب ٹھہرے ، ضمانتیں خارج کرنے کے لیے مواد کافی ہے ہمیں یہ مدنظر رکھنا چاہیے یہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا ٹاپ سیکرٹ کیس ہے آئندہ سماعت پر غیر متعلقہ افراد پر دوران سماعت پابندی ہو گی عدالتی ہداہت کے باوجود پٹشنرز کی جانب سے سرٹیفکیٹ نہیں دیا گیا میرٹ اور سرٹیفکیٹ دینے کے عدالتی آرڈر پر عمل نا کرنے کی وجہ سے ضمانت خارج کی جاتی ہے

    عدالت نے اپنے آرڈر میں ایف آئی اے پراسیکیوٹرز کے دلائل لکھتے ہوئے کہا ہے کہ ” پراسیکیوشن کے مطابق 161 کے بیانات کے مطابق عمران خان کی جانب سے سائفر کو غیر قانونی طور پر اپنے پاس رکھنا ثابت ہے اور انہوں نے غیر متعلقہ افراد کے سامنے سائفر معلومات گھما پھیرا کر شئیر کیں، جس نے بیرونی طاقتوں کو فائدہ پہنچایا اور پاکستان کی سیکیورٹی کو متاثر کیا ،

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • آشیانہ ریفرنس،شہباز شریف کی بریت کی درخواست پر دلائل

    آشیانہ ریفرنس،شہباز شریف کی بریت کی درخواست پر دلائل

    احتساب عدالت لاہور ،سابق وزیراعظم شہباز شریف سمیت دیگر کے خلاف آشیانہ ریفرنس پر سماعت ہوئی

    عدالت میں وکلاء نے شہباز شریف سمیت دیگر کی بریت کی درخواستوں پر دلائل دیئے،عدالت میں سابق ڈی جی ایل ڈی اے احد خان چیمہ پیش ہوئے،شہباز شریف کی جانب سے انکے نمائندے انوار حسین ایڈووکیٹ نے حاضری مکمل کروائی ،احتساب عدالت کے جج ملک علی ذوالقرنین اعوان نے سماعت کی،

    وکیل امجد پرویز نے کہا کہ ایک نامعلوم شخص کی شکایت پر آشیانہ اقبال کی انکوائری شروع ہوئی۔قصے کہانیوں کی بنیاد پر ریفرنس بنایا گیا، سیاسی بنیادوں پر کیس بنایا گیا،جج نے امجد پرویز سے استفسار کیا کہ ریفرنس میں الزامات کیا کیا ہیں وہ پڑھ کر سنائے جائیں ؟وکیل امجد پرویز نے کہا کہ ریفرنس میں بتایا گیا کہ من پسند افراد کو میرٹ سے ہٹ کر ٹھیکے دیے گئے، احد چیمہ نے بطور ڈی جی ایل ڈی اے آشیانہ اقبال پروجیکٹ کی منظوری دی، پروجیکٹ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت شروع کیا گیا ،پروجیکٹ میں ترقیاتی کام سپارکو ڈویلپرز اور بسمہ اللہ انجینرنگ نے کیا،نیب تحقیقات کے دوران کرپشن کے شواہد نہیں ملے،

    عدالت نے شہباز شریف سمیت دیگر کی بریت کی درخواستوں پر وکلا کو دلائل جاری رکھنے کی ہدایت کردی ،احتساب عدالت کے جج ملک علی ذوالقرنین اعوان نے ریفرنس پر سماعت کی ،عدالت نے سماعت 28 اکتوبر تک ملتوی کردی

    واضح رہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں شہباز شریف کو بےگناہ قرار دے دیا تھا نیب نے شہباز شریف کی بریت کی درخواست پر جواب میں لاہور کی احتساب عدالت میں رپورٹ جمع کرا دی تھی رپورٹ کے مطابق آشیانہ ہاؤسنگ کے ٹھیکے دینے کے عمل میں بدعنوانی کے کوئی ثبوت نہیں ملے۔

    شہباز شریف اور احد چیمہ سمیت دیگر نے ناکافی شواہد کی بنیاد ہر بریت کی درخواستیں دائر کر رکھیں ہیں، وکلاء ملزمان کا کہنا ہے کہ سیاسی انتقام کا نشانہ بننے کیلیے یہ ریفرنس بنایا گیا گواہان عدالت میں بیان دے چکے ہیں کہ شہباز شریف نے آشیانہ اقبال ہاوسنگ سکیم میں کسی قسم کی کوئی بے ضابطگی نہیں کی ہے. نیب سپلیمنٹری تفتیشی رپورٹ میں ملزمان کیخلاف کرپشن کے شواہد نہیں ملے

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    نیب نے وزیر اعظم شہباز شریف کو آشیانہ ہاؤسنگ سکینڈل میں کلیئر قرار دیا ہے، نیب کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آشیانہ ہاؤسنگ میں شہبازشریف کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال کے کوئی ثبوت نہیں ملے آشیانہ سکینڈل میں شہباز شریف کے خلاف بدنیتی کا کوئی پہلو بھی ثابت نہیں ہوتا ، آشیانہ ہاؤسنگ کے ٹھیکے دینے کے عمل میں بدعنوانی کے کوئی ثبوت نہیں ملے آشیانہ پراجیکٹ شروع کرتے وقت سرکاری خزانے کوکوئی نقصان نہیں پہنچا نہ ہی شہباز شریف نے کوئی فوائد حاصل کیے اور نہ ہی کسی پبلک آفس ہولڈر نے کسی قسم کا کوئی فائدہ لیا

  • صحافی خالد جمیل کیس،ایف آئی اے کو چالان جمع کروانے کی ہدایت

    صحافی خالد جمیل کیس،ایف آئی اے کو چالان جمع کروانے کی ہدایت

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد،صحافی خالدجمیل کے خلاف سوشل میڈیا پر بغاوت پر اکسانے کا کیس کی سماعت ہوئی،

    سول جج شبیر بھٹی نے ایف آئی اے کو چالان جمع کروانے کی ہدایت کردی ،عدالت نے 11 نومبر تک ایف آئی اے کو چالان جمع کروانے کی ہدایت کردی ،صحافی خالدجمیل ضمانت بعد از گرفتاری پر رہائی پر ہیں

    گزشتہ سماعت پر اسپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے صحافی خالد جمیل کی 50 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض درخواست ضمانت منظور کی تھی، عدالت کی جانب سے ضمانت کے احکامات جاری ہونے کے بعد خالد جمیل کو اڈیالہ جیل سے رہا کر دیا گیا تھا،

    عدالت پیشی کے موقع پر صحافی خالد جمیل کا کہنا تھا کہ آئین کی بحالی قانونی کی بالادستی کیلے کھڑے رہیں گے ،میری پہلی اور آخری محبت میرا وطن ہے

    واضح رہے کہ خالد جمیل کو  ایف آئی اے نے گرفتار کیا تھا،صحافی خالد جمیل کیخلاف ایف آئی آر میں سوشل میڈیا سے متعلق قانون پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ یعنی ’پیکا 2016‘ کی ترمیم شدہ دفعہ 20 بھی شامل ہے جو سوشل میڈیا پر غلط اور فیک خبریں پھیلانے سے متعلق ہے یہ ناقابل ضمانت جرم قرار دیا گیا ہے جس پر زیادہ سے زیادہ 5 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے

    سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار

    بیوی، ساس اورسالی کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے الزام میں گرفتارملزم نے کی ضمانت کی درخواست دائر

    سپریم کورٹ کا سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر قابل اعتراض مواد کا نوٹس،ہمارے خاندانوں کو نہیں بخشا جاتا،جسٹس قاضی امین

    ‏ سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف غصے کا اظہار کرنے پر بزرگ شہری گرفتار

    سکھر کے سینئر صحافی جان محمد مہر کو گولیاں مار دی گئی ہیں،

    جان محمد مہر کے قاتلوں کی عدم گرفتاری پر صحافیوں کا احتجاجی مظاہرہ

    جان محمد مہر کے قتل کے خلاف17 اگست کو ملک گیر احتجاج کا اعلان

  • پہلے کہتے تھے کیوں نکالا، اب کہیں گے مجھے کیوں بلایا،حلیم عادل شیخ

    پہلے کہتے تھے کیوں نکالا، اب کہیں گے مجھے کیوں بلایا،حلیم عادل شیخ

    انسداد دہشت گردی عدالت،9 مئی کو فیروز آباد تھانے کی حدود میں ہنگامہ آرائی اور جلاؤ گھیراؤ کا کیس ،عدالت نے پی ٹی آئی رہنماء حلیم عادل شیخ اور راجہ اظہر کی ضمانت منظور کرلی

    عدالت نے حلیم عادل شیخ اور راجہ اظہر کو ایک ایک لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دے دیا،عدالت نے پی ٹی آئی رہنماء خرم شیر زمان کی عبوری ضمانت میں توثیق کردی ،پولیس کا کہنا تھا کہ حلیم عادل شیخ و دیگر پر ہنگامہ آرائی ،جلاو گھیراؤ سمیت متعدد الزامات ہیں ،عدالت نے کیس کی مزید سماعت 23 اکتوبر تک ملتوی کردی ،حلیم عادل شیخ مبینہ ٹاؤن تھانے کے کیس میں عدالتی ریمانڈ پر جیل میں ہیں

    حلیم عادل شیخ نے ملیر کورٹ میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈالر سستا ہو رہا ہے، مہنگائی اوپر جا رہی ہے، سمجھ سے باہر ہے ،کل نواز شریف نے بوریا بستر باندھا ہے ،مریم کا پاپا چور ہے ، چاچا چور ہے،، چوروں کا نعرہ اب ان کا انتظار کرے گا، ملک میں آئیں یہ اب عوام بتائے گی انھیں ،پہلے کہتے تھے کیوں نکالا، اب کہیں گے مجھے کیوں بلایا،ان لوگوں نے ملک کو چالیس سال برباد کیا ہے ،کل بول رہے تھے لوگ لندن میں احتجاج کیوں کرتے ہیں ،میاں صاحب پھر آپ کیوں لندن میں سیاست کر رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ حلیم عادل شیخ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کیا گیا تھا، مقدمہ میمن گوٹھ تھانے میں شہری محمد امان کی مدعیت میں درج کیا گیا،مدعی مقدمہ کے مطابق حلیم عادل شیخ نے پراپرٹی کے معاملے میں جعلسازی اور دھوکا دہی کی، 400 پلاٹس کی رقم چھ کروڑ ادا کرنے کے بعد پتا چلا کہ ہاؤسنگ اسکیم ہی نہیں تھی،مدعی کا الزام ہے کہ حلیم عادل شیخ سے رابطہ کیا تو جان سے مارنے کی دھمکی دی۔

    سندھ میں لڑکیوں سے برہنہ پریڈ ،اجتماعی زیادتی واقعہ پر عدالت نے نوٹس لے لیا

    لڑکیوں سے برہنہ پریڈ کروانے کے دو ملزم عدالت پیش

    لڑکیوں سے برہنہ پریڈ،اجتماعی زیادتی کا واقعہ، ایم ایل او پر بھی لگ گیا گھناؤنا الزام

    برہنہ پریڈ،اجتماعی زیادتی کیس، متاثرہ لڑکیاں عدالت پیش،بیان ریکارڈ کروا دیا

    برہنہ پریڈ،اجتماعی زیادتی کیس،لڑکیوں نے ڈر کے مارے گاؤں چھوڑ دیا

  • انسدادِدہشتگردی عدالت،عمران خان کی ضمانت کی تین درخواستیں سماعت کیلئے مقرر

    انسدادِدہشتگردی عدالت،عمران خان کی ضمانت کی تین درخواستیں سماعت کیلئے مقرر

    اسلام آباد: انسدادِدہشتگردی عدالت اسلام آباد،اےٹی سی نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی تین درخواستِ ضمانتوں پر سماعت 16 اکتوبر کو مقرر کردی

    اےٹی سی جج ابوالحسنات ذوالقرنین 16 اکتوبر کو تینوں درخواستوں پر سماعت کریں گے ،چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف تھانہ کھنہ میں ایک، تھانہ بارہ کہو میں دو مقدمات درج ہیں ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلےکی روشنی میں چیئرمین پی ٹی آئی کی خارج شدہ درخواستیں دوبارہ مقرر کی گئیں ،چیئرمین پی ٹی آئی کی عدم حاضری پر اے ٹی سی نے تینوں درخواستِ ضمانتیں خارج کردی تھیں

    واضح رہے کہ عمران خان کو عدالت نے توشہ خانہ کیس میں سزا سنائی تھی تا ہم اسلام آباد ہائیکورٹ نے سزا معطل کر دی، جس کے بعد عمران خان کو سائفر کیس میں گرفتار کر لیا گیا، عمران خان اٹک جیل میں تھے جہاں سے انہیں اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا، عمران خان اڈیالہ جیل میں جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

  • فرخ حبیب کی درخواست پر سماعت نہ ہو سکی

    فرخ حبیب کی درخواست پر سماعت نہ ہو سکی

    لاہور ہاٸیکورٹ: پی ٹی آئی رہنما فرخ حبیب کی بازیابی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    فاضل جج کی رخصت کی بنا پر درخواست پر سماعت نہ ہو سکی ،اگلی سماعت کا تعین آفس ہائی کورٹ کرے گا،عدالت نے آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کر رکھی ہے ،جسٹس شکیل احمد خان نے فرخ حبیب کی بازیابی کیلئے دائر درخواست پر سماعت کرنا تھی

    درخواست فرخ حبیب کے بھئی نے ابوذر سلمان نیازی ایڈووکیٹ کے توسط سے دائر کی ،درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ فرخ حبیب کو گوادر میں ان کے گھر سے پنجاب پولیس کے اہلکار ساتھ لے گئے،فرخ حبیب ان کے بھائی اور چار ساتھیوں کو گھر سے اٹھایا گیا ، عدالت فرخ حبیب اور ان کے ساتھیوں کو بازیاب کروانے کا حکم دے ،

    واضح رہے کہ فرخ حبیب کے خلاف پنجاب کے کئی تھانوں میں مقدمے درج ہیں، فرخ حبیب عدالتوں کو مطلوب تھے، پیش نہیں ہو رہے تھے اور روپوش تھے، نو مئی کے مقدمات میں بھی فرح حبیب کا نام شامل ہے،ایف آئی اے میں بھی فرخ حبیب کے خلاف تحقیقات چل رہی ہیں، اینٹی کرپشن نے پی ٹی آئی رہنما فرخ حبیب کو اینٹی کرپشن فیصل آباد ریجن نے گزشتہ 20 مارچ کو صبح 10 بجے طلب کیا تھا لیکن بار بار بلانے پر بھی وہ تفتیشی افسر کے سامنے پیش نہیں ہوئے تھے۔

    میرے کپڑے اتارے گئے،مجھے ننگا کیا گیا ،ویڈیو بنائی گئی،نیب کے پاس لیڈیز اسٹاف بھی نہیں،طیبہ گل کا انکشاف

    چیئرمین نیب کی ویڈیو لیک کرنیوالوں کے خلاف ریفرنس دائر

    چیئرمین نیب کے خلاف خبر پر پیمرا ان ایکشن، نیوز ون کو نوٹس جاری، جواب مانگ لیا

  • محمد خان بھٹی کے جسمانی ریمانڈ نہ دینے کے فیصلے کے خلاف درخواست

    محمد خان بھٹی کے جسمانی ریمانڈ نہ دینے کے فیصلے کے خلاف درخواست

    لاہور ہائیکورٹ ،محمد خان بھٹی کے جسمانی ریمانڈ نہ دینے کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے وکلاء کو دلائل کے لیے طلب کرلیا ،عدالت نے سماعت 29 ستمبر تک ملتوی کردی ،جسٹس شہرام سرور چوہدری نے پراسکیوٹر جنرل کی درخواست پر سماعت کی ،لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ جوڈیشل مجسٹریٹ اور ایڈیشنل سیشن جج لاہور نے محمد خان بھٹی کا جسمانی ریمانڈ دینے کی درخواستوں کو مسترد کیا محمد خان بھٹی سے تفتیش کرنی ہے عدالت جسمانی ریمانڈ کی درخواست منظور کرے عدالت جوڈیشل مجسٹریٹ اور ایڈیشنل سیشن جج کے فیصلے کو کالعدم قرار دے

    لاہور ہائیکورٹ ،پنجاب اسمبلی کے سیشن الاونس میں بدعنوانیوں کا مقدمہ ،سابق سیکرٹری کوارڈینیشن رائے ممتاز حسین کی درخواست ضمانت بعدازگرفتاری منظور کرلی گئی،عدالت نے دس لاکھ روپے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کی ،جسٹس شہرام سرور چوہدری نے رائے ممتاز کی درخواست پر سماعت کی ،رائے ممتاز حسین نے ضمانت بعدازگرفتاری اپنے وکیل کی وساطت سے دائر کررکھی تھی ،اینٹی کرپشن نے رائے ممتاز حسین سمیت دیگر کے خلاف مقدمہ درج کررکھا ہے

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو