Baaghi TV

Tag: ضمانت

  • سائفر کیس،جج چھٹی پر،عمران خان کی ضمانت کیس کی سماعت ملتوی

    سائفر کیس،جج چھٹی پر،عمران خان کی ضمانت کیس کی سماعت ملتوی

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت ،چئیرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس میں درخواست ضمانت پر سماعت 9 ستمبر تک ملتوی کر دی گئی

    جج ابو الحسنات کے رخصت پر ہونے کی وجہ سے سماعت بغیر کارروائی کے ملتوی کر دی گئی، آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج ابو الحسنات ذولقرنین 8 ستمبر تک رخصت پر ہیں

    گزشتہ سماعت اٹک جیل میں ہوئی تھی تو عمران خان کی لیگل ٹیم نے درخواست ضمانت دائر کی تھی،لیگل ٹیم نے تین درخواستیں دائر کیں ،چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت دائر کی گئی،وزارت قانون کا جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن غیر قانونی قرار دیکر کالعدم قرار دینے کی درخواست دائر کی گئی،چیئرمین پی ٹی آئی کا اوپن کورٹ میں ٹرائل کرنےکی درخواست بھی دائر کی گئی

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    واضح رہے کہ عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں سزا اسلام آباد ہائیکورٹ نے معطل کر دی ہے جس کے بعد عمران خان کو سائفر کیس میں اٹک جیل میں رکھا گیا ہے، عمران خان چودہ روزہ جوڈیشیل ریمانڈ پر ہیں، گزشتہ روزعمران خان نے بیٹوں سے بات کے لئے عدالت میں درخواست دائر کی، عمران خان نے اپنے وکیل عمیر اور شیراز احمد کی وساطت سے درخواست دائر کی جس میں کہا گیا کہ وہ اپنے بیٹوں قاسم خان اور سلیمان خان سے ٹیلی فون یا وٹس ایپ پر بات کرنا چاہتے ہیں ،

    جج خصوصی عدالت ابوالحسنات ذوالقرنین نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست منظور کرتے ہوئے سپرنٹنڈنٹ اٹک جیل کو بیٹوں سے والد کی ورچوئل ملاقات کرانے کی ہدایت کردی

    سلمان رشدی کا وکیل، عمران خان کا وکیل بن گیا

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    امریکی سائفر کے بیانیہ پر سیاست کرنے والا خود امریکیوں سے رحم کی بھیک مانگنے پر مجبور،

  • بشریٰ بی بی کی گرفتاری مطلوب ہے،تفتیشی،عدالت نے دی ضمانت

    بشریٰ بی بی کی گرفتاری مطلوب ہے،تفتیشی،عدالت نے دی ضمانت

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد ،بشری بی بی کے خلاف توشہ خانہ میں جعلی رسیدوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    بشری بی بی کی 12ستمبر تک عبوری ضمانت میں توسیع کر دی گئی،بشری بی بی ایڈیشنل سیشن جج طاہر عباس سپرا کی عدالت میں پیش ہوئیں، بشری بی بی اپنے وکلا سلمان صفدر،انتظار پنجوتھا، نعیم پنجوتھا کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئیں، تفتیشی افسر نے عدالت میں کہا کہ بشری بی بی کی گرفتاری مطلوب ہے،بشری بی بی کی ایف آئی اے کو آڈیو کی فرانزک کیلئے بھیجی ہوئی ہے،وکیل سپمان صفدر نے کہا کہ تین تین گھنٹے بلایا جاتا ہے اور بٹھائے رکھتے ہیں تفتیش کے دوران بتایا بھی گیا کہ آڈیو بشری بی بی کی نہیں،

    عدالت نے استفسار کیا کہ معاملہ رسیدوں کا ہے تو آڈیو کہاں سے آگئی ،ایف آئی آر کے مطابق کیس کو لے کر چلیں،تفتیشی افسر نے استدعا کی کہ بشری بی بی کی وائس میچنگ کیلئے وقت دیا جائے،عدالت نے کیس کی سماعت کے بعد بشریٰ بی بی کی ضمانت میں توسیع کر دی

    توشہ خانہ کیس،بشری بی بی نیب راولپنڈی آفس میں پیش
    توشہ خانہ کیس کی نیب تحقیقات ،عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی نیب راولپنڈی آفس میں کمبائنڈ انویسٹی گیشن ٹیم کے سامنے پیش ہو گئی ہیں ،بشری بی بی سے لاکٹ، چین، کانٹے، 2 انگوٹھیاں اور بریسلٹ لینے کے الزامات پر سوالات پوچھے جائیں گے، بشریٰ بی بی پر سونے اور ہیرے کا نیکلس، سونے اور ہیرے کا بریسلٹ، سونے اور ہیرے کی انگوٹھی،بندے اور بریسلٹ واچ لینے کا بھی الزام ہے، نیب حکام کے مطابق تحائف کی قیمت کا شفاف تخمینہ لگانے کیلئے انہیں توشہ خانہ میں جمع ہی نہیں کروایا گیا، نیب

    توشہ خانہ کیس میں اہلیہ بشریٰ بی بی کو آج نیب نے طلب کیا تھا جبکہ ذرائع مطابق بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ کیس کے سلسلے میں نیب راولپنڈی کی جانب سے طلب کیا گیا تھا ۔جبکہ نوٹیفکیشن میں بتایا گیا کہ بشریٰ بی بی نے 18 ستمبر 2020 کو ہیرے اور سونے کی انگوٹھی، بریسلٹ اور ہار حاصل کیا، لیکن وہ اسے اپنے اثاثوں میں درج کرنے میں ناکام رہی۔

    امریکہ کے خلاف تحریک چلانے والی پی ٹی آئی اب عمران خان کی رہائی کے لئے امریکہ سے ہی مدد مانگ لی

     اسد عمر نے سائفر کے معاملے پر ایف آئی اے میں پیش ہونے کا اعلان کیا 

    ریاستِ پاکستان کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی سازش بے نقاب, اپنے ہی پرنسپل سیکرٹری نے سازشی بیانیہ زمیں بوس کردیا

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

  • خدیجہ شاہ،عالیہ حمزہ سمیت دیگر کی کی ضمانت کی درخواستوں پر آیا فیصلہ

    خدیجہ شاہ،عالیہ حمزہ سمیت دیگر کی کی ضمانت کی درخواستوں پر آیا فیصلہ

    لاہور ہائیکورٹ نے خدیجہ شاہ,عالیہ حمزہ سمیت 97 افراد کی رہائی کی درخواست ضمانتوں پر فیصلہ سنا دیا

    دورکنی بنچ نے ضمانت کی درخواستیں واپس ٹرائل کورٹ کو بھیج دیں ،جسٹس عالیہ نیلم اور جسٹس اسجد جاوید گورال پر مشتمل دو رکنی بنچ نے محفوظ فیصلہ سنایا ،حکومت پنجاب کی مقدمات میں نئی دفعات شامل کرنے کی درخواست منظور کر لی گئی، عدالت نے کہا کہ مقدمات میں نئی دفعات شامل ہوچکی ہیں، ملزمان نئی دفعات کے مطابق شامل تفتیش ہوں، ملزمان نئی دفعات کے بعد ضمانت کےلیے ٹرائل کورٹ سے رجوع کریں،

    سپشل پراسیکوٹر فرہاد شاہ نے درخواست ضمانتوں کی مخالف کی، اور کہا کہ مقدمہ میں نئی دفعات لگا دی گئیں ہیں،زیادہ تر ملزمان ریمانڈ پر ہیں ۔مقدمہ کی تفتیش جاری ہے ۔

    پولیس نے خدیجہ شاہ کے خلاف درج مقدمے میں کورکمانڈر ہاؤس لاہور پر حملے سے متعلق الزامات عائد کئے ہیں،خدیجہ شاہ جیل میں ہیں، امریکی حکام نے بھی خدیجہ شاہ سے ملاقات کی ہے، خدیجہ شاہ نے ایک ویڈیو بیان جاری کر کے معافی بھی مانگی تھی، خدیجہ شاہ کو عدالت پیش کیا گیا تا ہم وہ خاموش رہیں اور سوالوں کے جواب نہیں دیئے ، خدیجہ شاہ نے خود تھانے میں پیش ہو کر گرفتاری دی تھی ،انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں تحریک انصاف کی خاتون رہنما خدیجہ شاہ کو پولیس نے پیش کیا تو اس موقع پر خدیجہ شاہ کے منہ پر کپڑا ڈالا گیا تھا، خدیجہ شاہ نے ہاتھ میں تسبح پکڑ رکھی تھی،

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    غیر ملکی سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی 

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

    عدالت نے خدیجہ شاہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کو مسترد کردیا

  • چوہدری پرویز الٰہی کا 2 دن کا جسمانی ریمانڈ منظور

    چوہدری پرویز الٰہی کا 2 دن کا جسمانی ریمانڈ منظور

    تحریک انصاف کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہیٰ کو انسداد دہشت گردی عدالت پہنچا دیا گیا

    پرویز الٰہی نے وکالت نامہ پر دستخط کر دیے ،انسداد دہشتگردی عدالت اسلام آباد ،چوہدری پرویز الہی کے خلاف تھانہ سی ٹی ڈی میں درج مقدمہ کا معاملہ ،اسلام آباد پولیس کی جانب سے چوہدری پرویز الہی کو عدالت کے روبرو پیش کر دیا گیا ،کیس کی سماعت ڈیوٹی جج شاہ رخ ارجمند نے کی،پرویز الہی کے وکلا کی جانب سے وکالت نامہ جمع کروا دیا گیا ،وکیل سردار عبدالرازق نے کہا کہ چوہدری صاحب کے خواہش تھی کہ میں خود اوپر کورٹ روم جاؤں گا،جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پرویز الہی صاحب کو بٹھا دیں،پولیس کی جانب سے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ مانگ لیا گیا

    پرویز الہٰی کے وکیل سردار عبدلرازق نے دلائل کا آغاز کر دیا گیا، وکیل نے کہا کہ پرویز الٰہی کے خلاف بہت ہی مضحکہ خیز مقدمہ بنایا ہے،پرویز الٰہی کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا،حال ہی میں پرویز الٰہی کو متعدد کیسز میں ڈسچارج کیاگیا لیکن دوبارہ گرفتار بھی کرلیا گیا،ڈپٹی کمشنر لاہور نے بھی پرویز الٰہی کو گرفتار کروایا،لاہور ہائیکورٹ میں پرویز الٰہی کی گرفتاری کے خلاف درخواست دائر کی،عدالت پرویز الٰہی کق ڈسچارج کرتی ہے، پولیس دوبارہ گرفتار کرلیتی ہےپرویز الٰہی کو نیب کے کیس میں بھی گرفتار کیا گیا،لاہور ہائیکورٹ نے فیصلے میں تحریر کیاکہ پرویز الٰہی کو گرفتار نہ کیا جائے، لاہور ہائیکورٹ نے فیصلہ دیاکہ پرویز الٰہی کو کسی بھی مقدمے میں گرفتار نہ کیاجائے،عدالت نے فیصلہ دیاپرویز الٰہی کو سیکیورٹی کے تحت گھر تک چھوڑا جائے،پرویز الٰہی اپنے گھر جارہےتھے اور انہیں اسلام آباد پولیس نے گرفتار کرلیا،اسلام آباد پولیس نے پرویز الٰہی کو اغوا کیا ہے،پولیس نے عدالتی احکامات کی دھجیاں اکھیڑی ہیں،لاہور ہائیکورٹ نے اٹک مجسٹریٹ کو حکم دیا کہ پرویز الٰہی کو لاہور ہائیکورٹ پیش کیا جائے ،پرویز الٰہی کے خلاف کوئی ایک واقعہ نہیں، گزشتہ تین ماہ سے گرفتار کیا جارہا،پرویز الٰہی کو پمز میں طبی معائنہ کروانے کے بہانے اسلام آباد لایاگیا اور جیل میں بند کردیا،اسلام آباد ہائیکورٹ نےکہا پرویز الٰہی کی گرفتاری بادی النظر میں غیر قانونی ہے،

    پرویز الٰہی نے دلائل کے حوالے سے اپنے وکیل کے کانوں میں سرگوشیاں بھی دوران سماعت جاری رکھیں،وکیل صفائی سردار عبد الرازق نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ لے کر پولیس لائنز گئے، پولیس نے میری گاڑی میں پرویز الٰہی کو بٹھایا، فیملی سے نہیں ملنے دیا،پولیس لائینز کے گیٹ پر پہنچے تو پرویز الٰہی کو اسلام آباد پولیس نے گرفتار کرلیا،پرویز الٰہی کے وکلاء کو گاڑی سے پولیس نے اتارا اور گرفتار کرکے تھانے لے گئے،پولیس نے نہیں بتایا کیوں پرویز الٰہی کو گرفتار کیا جارہا، وارنٹ بھی نہیں دکھائے ،پاکستان میں قانون کی دھجیاں بکھیری جا رہی ہیں،عدالتیں ریلیف دیتی ہیں، عدالتیں اخری امید ہیں ،پرویز الٰہی نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے ساری رات تھانے میں سونے نہیں دیا گیا، وکیل صفائی سردار عبد الرازق نے عدالت میں کہا کہ پرویز الٰہی سے سیاسی وابستگی تبدیل کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے،چیرمین پی ٹی آئی مارچ میں جوڈیشل کمپلیکس پہنچے، توڑپھوڑ کامقدمہ درج کیا گیامقدمے میں نامعلوم ملزمان کا نام شامل کیا گیا، پرویز الٰہی کا نام مقدمے میں نہیں،پرویز الٰہی چیرمین پی ٹی آئی کے پیشی والے دن لاہور میں موجود تھے،نامعلوم افراد مقدمے میں وہ ہوتے جن کی شناخت نہ ہو پارہی ہو،پرویز الٰہی دو بار وزیر اعلیٰ رہے، معروف سیاسی خاندان سے تعلق ہے، نامعلوم کیسے ہوسکتے؟ عام انسان کو بھی نظر آرہا کہ پرویز الٰہی کے خلاف ریاستی دہشتگردی کی جارہی،عدالتوں کو نہیں ماننا تو عدالتوں کو بند کردیں،پرویز الٰہی کے خلاف تمام کیسز ختم ہوگئے، دل نہیں بھرا تو دہشتگردی کا مقدمہ درج کردیا،وکیل سردار عبدلرازق نے پرویز الٰہی کو کیس سے ڈسچارج کرنے کی استدعا کر دی ،کہا کہ تین ماہ سے زیادہ عرصے سے پرویز الٰہی زیر حراست ہیں،پرویز الہی کے وکیل سردار عبدلرازق کے دلائل مکمل ہو گئے

    پرویز الٰہی کے دوسرے وکیل علی بخاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے فیصلہ کرنا کیا واقعی ریمانڈ کاکیس ہے یا سیاسی کیس ہے،لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے دیگر عدالتوں پر بھی نافذ ہوتے ہیں،پرویز الٰہی پولیس کی حراست میں ہی تھے، 24 گھںٹے میں تفتیشی افسر نے کیا کیا؟ پولیس کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا میں تفتیش کا کوئی زکر ہی نہیں پرویز الٰہی کے خلاف پولیس کے پاس کچھ تفتیش کرنے کے لیے ہے ہی نہیں ،عدالت کو دیکھنا ہوگا کیا واقعی پرویز الٰہی سے تفتیش درکار ہے بھی یا نہیں،ریمانڈ کسی وجہ سے درکار ہوگانا؟ ڈنڈا، گاڑی، ماچس برآمد کرنی ہوگی، کچھ ہے ہی نہیں مقدمے میں؟صورتحال ایسی ہے کہ کل وکلاء ایک دوسرے کی ضمانتیں کروا رہے ہوں گے،شاہ محمد قریشی کا میں وکیل تھا، اسی کیس میں ضمانت کنفرم ہوئی،قانون کے مطابق خود ہی مدعی اور قاضی نہیں ہوسکتے،پرویز الٰہی کی شناخت پریڈ کی بھی ضرورت نہیں، ملک انہیں جانتا ہے،قانون کے مطابق خود ہی وکیل اور خود ہی قاضی نہیں ہو سکتے،میں آج پہلی بار مل رہا ہوں لیکن میں انکو پہلے کا جانتا ہوں،وکیل علی بخاری کی جانب سے مختلف قانونی حوالے دیئے گئے،اور کہا گیا کہ سیکشن 167 میں لکھا ہے ملزم کو ڈسچارج کریں اور بانڈز عدالت میں جمع کروائیں،کوئی شواہد ہو تو پھر مجھے پھانسی لگا دیں لیکن کوئی شواہد ہیں ہی نہیں،وکیل صفائی علی بخاری نے پرویز الٰہی کو کیس سے ڈسچارج کرنے کی استدعا کردی، دلائل مکمل ہو گئے

    پروسیکیوٹرکے دلائل شروع ہوئے تو پروسکیوٹر نے کہا کہ اسلام آباد پولیس ڈپٹی کمشنر لاہور یا پنجاب پولیس کو ڈکٹیٹ نہیں کررہی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے دیگر مقدمے میں گرفتاری کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں دیا،پرویز الٰہی مارچ میں درج مقدمے میں اسلام آباد پولیس کو درکار تھے،ثبوتوں کو اکٹھا کرنا ہے، مخبر نے مدعی کو بتایا کہ پرویز الٰہی شامل تھے، ڈنڈا، گاڑیاں، مددگار افراد وغیرہ کے حوالے سے پرویز الٰہی کا جسمانی ریمانڈ درکار ہے،پرویز الٰہی کو قانون کے مطابق گرفتار کیا گیا ہے،

    وکیل سردار عبدلرازق نے عدالت میں کہا کہ انہوں نے خود بتایا کہ پرویز الٰہی موقع پر موجود نہیں تھے،اصل الزام چیرمین پی ٹی آئی،شاہ محمود قریشی اور دیگر پر تھا جنکی ضمانتیں کنفرم ہوگئی ہیں،6 ماہ پہلے مقدمہ درج ہوا اور آج تک انکو معلوم نہیں ہوا کہ پرویز الٰہی اس کیس میں ہیں،لاہور ہائیکورٹ کا حکم تھا کہ کوئی ادارہ انکو گرفتار نہ کرے،لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد یہ کیسے گرفتار کر سکتے ہیں ،ہائیکورٹ نے کہا پرویز الٰہی کو کسہ مقدمے میں گرفتار نہیں کرنا،پرویز الٰہی کی گرفتاری کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں توہین عدالت لی درخواست دائر کردی ہے

    عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جو اب سنا دیا گیا ہے، جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس میں چوہدری پرویز الہی کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا گیا، "تفتیش” کے لیے پرویز الٰہی دو روز کے لئے "پولیس” کے حوالے کر دیئے گئے،عدالت نے پرویز الہیٰ کو8 ستمبر کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا،

    عدالت نے ریمانڈ دیا تو پولیس اہلکار پرویز الہی کے پاس گئے اور کہا کہ ہمارے ساتھ چلیں آپ کا 2 روز کا ریمانڈ منظور ہوگیا ہے،پرویز الہی نے کہا کہ پہلے تحریری آرڈر لیکر آئیں،پولیس نے تحریری حکم نامہ پرویز الہی کے وکلا کو دکھا دیا ،پرویز الہی نے جج کی تصدیق کے بغیر باہر نہ جانے کا کہہ دیا ،ملزم کو لے جانے کے لیے سی ٹی ڈی اہلکار کمرہ عدالت پہنچ گئے

    مجھ سے کسی نے کیا ملاقات کرنی، میں ہی کسی سے ملاقات نہیں کرنا چاہتا،پرویز الٰہی
    اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے،پرویز الٰہی نے کمرہ عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے رات بھر تھانہ سی آئی اے میں رکھا گیا ہے، مجھ سے کسی نے کیا ملاقات کرنی، میں ہی کسی سے ملاقات نہیں کرنا چاہتا،زرداری نواز شہباز اپنا پیسہ لے آئیں تو ملک کے مالی حالات ٹھیک ہو جائیں،عمران خان صاحب کے ساتھ کھڑا تھا اور کھڑا رہوں گا، سوال کیا گیا کہ چوہدری صاحب کوئی پریس کانفرنس کرنے کا ارادہ تو نہیں ہے۔؟ جس کے جواب میں پرویز الہی نے کہا کہ بلکل نہیں

    واضح رہے کہ پرویز الہیٰ کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر رہائی کے بعد گزشتہ روز 5 ستمبر کو پولیس لائن سے ایک بار پھر گرفتار کرلیا گیا تھا سادہ لباس اہلکار پرویز الہیٰ کووکیل کی گاڑی میں گھرجاتے ہوئے گرفتار کرکے لے گئے،صدر پی ٹی آئی کو اسلام آباد پولیس کے انسداد دہشت گردی ڈویژن نے گرفتار کیا-

    ترجمان پولیس کا کہنا ہے کہ پرویزالہیٰ کو تھانہ سی ٹی ڈی میں درج مقدمہ نمبر 3/23 میں گرفتار کیا گیا پرویزالہیٰ کو جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس میں گرفتار کیا گیا ہے، 18 مارچ کو جوڈیشل کمپلیکس پر ہنگامہ آرائی کا مقدمہ پرویزالہیٰ کے خلاف ایس ایچ او تھانہ رمنا کی مدعیت میں درج ہوا تھا مقدمے میں انسداد دہشتگردی سمیت 11 دفعات شامل ہیں، اور جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس میں چوہدری پرویز الٰہی کی گرفتاری ڈالی گئی، جبکہ اٹھارہ مارچ جوڈیشل کمپلیکس پیشی پر ہنگامہ آرائی کا مقدمہ درج ہوا تھا اور چوہدری پرویز الٰہی کو گرفتار افراد کے ریکارڈ بیان گرفتار کیا گیا-

    پرویز الہی رہائی کے بعد دوبارہ گرفتار

    پولیس میری گاڑی بھی ساتھ لے گئی،پرویز الہی کے وکیل کا دعویٰ

    پولیس نے پرویز الٰہی کو دوبارہ گرفتار کرلیا

    پی ٹی آئی کی اندرونی لڑائیاں۔ فواد چوہدری کا پرویز الٰہی پر طنز

    خدشہ ہے کہ پرویز الٰہی کو گرفتار کر لیا جائیگا

    پرویز الہیٰ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ،

    پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ 

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو

  • چیئرمین پی ٹی آئی کی تکنیکی بنیاد پر ضمانت خارج کی گئی،وکیل

    چیئرمین پی ٹی آئی کی تکنیکی بنیاد پر ضمانت خارج کی گئی،وکیل

    اسلام آباد ہائیکورٹ: چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی چھ مقدمات میں عدم پیروی پر ضمانت کی درخواستیں خارج ہونے کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی

    سیشن عدالت نے چیرمین پی ٹی آئی کے چھ ضمانت کی درخواست عدم پیروی پر خارج کر دیں تھیں ،چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے پی ٹی آئی وکلا ایسوسی ایٹس کو روسٹرم آنے سے روک دیا ،چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جس نے دلائل دینے ہیں صرف وہی وکیل روسٹرم پر کھڑے ہوں ،

    چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدرنے دلائل دیئے اور کہا کہ متعلقہ عدالت میں چیئرمین پی ٹی آئی پیش ہوتے رہے ہیں،چیئرمین پی ٹی آئی کی تکنیکی بنیاد پر ضمانت خارج کی گئی،جب ملزم گرفتار ہوئے تو وہ خود سے پیش نہیں ہوسکتا، پھر ریاست کی زمہ داری ہے کہ وہ اپنی زمہ داری نبھائے،چیئرمین پی ٹی آئی اٹک جیل میں قید ہیں ، ایسا نہیں کہ چیئرمین پی ٹی آئی جان بوجھ کر عدالت میں پیش نہیں ہوئے ، چالیس کیسز میں چیئرمین پی ٹی آئی کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور ہو چکی ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کی عدم موجودگی کی وجوہات پر مبنی ہماری درخواست پر کوئی نوٹس جاری نہیں کیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسی نوعیت کی درخواست دو رکنی بینچ کے روبرو بھی زیر سماعت ہے ، دو رکنی بینچ کے روبرو یہ درخواست بھی سن لینگے ،کیس کی سماعت میں وقفہ کردیا گیا

    عمران خان کی ضمانت کی درخواستیں عدم پیروی خارج کرنے کے خلاف درخواستوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ جمعرات تک جواب طلب کر لیا

    عمران خان کو باہر بھیجنے سے متعلق مختلف ذرائع سے رابطے ہوئے، علیمہ خان

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    امریکہ کے خلاف تحریک چلانے والی پی ٹی آئی اب عمران خان کی رہائی کے لئے امریکہ سے ہی مدد مانگ لی

    ،جیل میں عمران خان کے بازوؤں کے پٹھے بہت کمزور ہو چکے ہیں 

    واضح رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے مختلف مقدمات میں ضمانتیں خارج ہونے والے مقدمات کو اسلام ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا ،چیرمین پی ٹی آئی نے اسلام آباد میں درج مختلف مقدمات میں ضمانت خارج ہونے پر ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا ،نو مئی سے متعلقہ مقدمات میں بھی ضمانت کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا، عمران خان نے جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیسز ، دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے کیس میں بھی ضمانت کے لیے ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا،چیرمین پی ٹی آئی کی دہشتگردی کے مقدمات اور توشہ خانہ جعلی سازی کیس سمیت 9 مقدمات میں عدم پیروی ضمانتیں خارج ہوئیں تھیں .چیرمین پی ٹی آئی کی جانب سے ضمانتیں خارج ہونے والے مقدمات کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ،درخواست میں عدالت سے پولیس کو ان مقدمات میں گرفتاری سے روکنے کی استدعا کی گئی ،عمران خان کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت سیشن کورٹ اور انسدادِ دہشت گردی عدالت کے ضمانت خارج کرنے کے فیصلے کالعدم قرار دے ،ہائیکورٹ ضمانت کی درخواستیں دوبارہ میرٹ پر سن کر فیصلہ کرنے کی ہدایت کرے

  • 190 ملین پاؤنڈ سکینڈل نیب تحقیقات،بابر اعوان کو ملا ریلیف

    190 ملین پاؤنڈ سکینڈل نیب تحقیقات،بابر اعوان کو ملا ریلیف

    احتساب عدالت: 190 ملین پاؤنڈ سکینڈل نیب تحقیقات،ڈاکٹر بابر اعوان کی عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی

    بابر اعوان کی گرفتاری کی ضرورت نہیں ، تفتیشی افسر کے بیان پر عبوری ضمانت کی درخواست نمٹا دی گئی ،نیب تفتیشی افسر عمر ندیم اور نیب پراسیکیوٹر سہیل عارف عدالت میں پیش ہوئے، ڈاکٹر بابر اعوان بھی عدالت میں پیش ہوئے، تفتیشی افسر عمر ندیم نے عدالت میں کہا کہ ڈاکٹر بابر اعوان کے تاحال کوئی وارنٹ جاری نہیں ہوئے ،احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کہا کہ نیب کے مطابق آپ کی گرفتاری درکار نہیں لہٰذا وارنٹ بھی نہیں،بابراعوان نے عدالت میں کہا کہ مجھے نوٹس موصول ہوا جس میں نیب نے طلبی کر رکھی تھی میں نے جواب بھیجا میرے پاس 190 ملین پاؤنڈ سے متعلق کوئی دستاویز نہیں میں باہر تھا دوسرا نوٹس نیب کی جانب سے مجھے موصول ہوا ، چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کوئی پیسہ لیا ہو تو نیب بتائے، کچھ کرپشن کی تو بتائیں،نیب کو دیکھنا چاہئے کہ کتنے طلبا اس وقت القادر یونیورسٹی میں پڑھ رہے ہیں،11سو ارب روپے کھا کر لوگ بھاگ گئے ہم پر الزام لگا یا جا رہا ہے کہ پیسے کھا گئے میں نے نیب کے دفتر میں بیان دیا،جواب دیا،نیب کا یہ کہنا کہ وارنٹ نہیں،تو یہ کوئی جواب نہیں، ایسا ہے تو ضمانت کنفرم کر دیں،نیب کو بھی معلوم ہے کہ جو میں نے جواب دیا ٹھیک دیا

    نیب پراسیکیوٹر نے عدالت میں کہا کہ بابراعوا ن کو صرف بطور گواہ بلایا گیا تھا،وارنٹ گرفتاری نہیں ہے،تفتیشی افسر میاں عمر ندیم کا بیان احتساب عدالت میں جمع کروا دیا گیا،بابراعوان نے کہا کہ نیب نے میرا جواب بھی بطور گواہ موصول کیا ہوا ہے، نیب سے پوچھیں میرے خلاف ثبوت ہے،ثبوت دکھائیں،ابھی ضمانت واپس لیتا ہوں، نیب کے ساتھ چلتا ہوں،مجھے نیب سے کوئی گلہ شکوہ نہیں، ان کی مجبوریاں معلوم ہیں،ان کو تجویز دیتا ہوں کہ جہلم جا کر ایک بار دیکھ لیں،احتساب عدالت نے تفتیشی افسر کے بیان کی روشنی میں بابراعوان کی درخواست ضمانت نمٹا دی، تفتیشی افسر نے کہاکہ بابراعوان کے وارنٹ نہیں ، صرف تفتیش کیلئے بلایا۔

    تفتیشی افسر کے بیان کے بعد عدالت نے بابر اعوان کی عبوری ضمانت کی درخواست نمٹا دی

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

    نیب 190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل کی تحقیقات کر رہا ہے، نیب نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان، شہزاد اکبر، زلفی بخاری،فیصل واوڈا سمیت دیگر کو بھی طلب کیا تھا،نیب نے اس کیس میں شیخ رشید کو بھی طلب کیا تھا، شہزاد اکبر،زلفی بخاری بھی طلبی کے باوجود پیش نہ ہوئے،فیصل واوڈا نیب میں پیش ہوئے تھے، اسکے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ مجھے نیب نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں طللب کیا تھا، مجھ سے بہت تفصیل سے سوالات ہوئے، اب تک بہت ذمہ داری کا مظاہرہ کرتا آیا ہوں، اپنی بات پر قائم ہوں ، قانون اپنا راستہ لے گا،کرپشن اسکینڈل میں سب سے زیادہ فائدہ لینے والا فیض حمید ہے، اس کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے، ابھی تک کسی نے فیض حمید کا نام تک نہیں لیا، شہراد اکبر اور دیگرکو فیض حمید نے باہر فرار کرایا، فیض حمید کی باقیات سینٹ میں موجود ہیں،

    نگران پنجاب حکومت نے صوبہ پنجاب میں فوری الیکشن کی مخالفت کر دی

     پاکستان کی اہم خاتون کو جسم فروشی کی پیشکش کی گئی ہے جس پر خاتون نے کھری کھری سنا دیں

    سفاک دیور نے بھابھی کو ہی جسم فروشی کے دھندے میں لگا دیا

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

    بیرون ملک سے لڑکی کی جسم فروشی کے لئے پاکستان سمگلنگ،عدالت نے کس کو کیا طلب؟

    کابینہ کی خصوصی کمیٹی کا ملک ریاض کو منتقل ہوئے 179 ملین پاؤنڈ معاملے پر غور

  • یاسمین راشد کی درخواست ضمانت پر دلائل طلب

    یاسمین راشد کی درخواست ضمانت پر دلائل طلب

    شیر پاؤ پل ہر ٹریفک بلاک کرکے اداروں کیخلاف تقریر اور جلاؤ گھیراؤ کا معاملہ ،تحریک انصاف کی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد کی بعد از گرفتاری درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی

    عدالت نے ڈاکٹر یاسمین راشد کی درخواست ضمانت پر مزید سماعت 9 ستمبر تک ملتوی کر دی ،عدالت نے وکلاء سے ڈاکٹر یاسمین راشد کی درخواست ضمانت پر دلائل طلب کر لیے،انسداد دہشت گردی عدالت کی جج عبہر گل خان نے سماعت کی ،

    ڈاکٹر یاسمین راشد نے جیل سے رہائی کیلیے درخواست ضمانت دائر کر رکھی ہے ،ڈاکٹر یاسمین راشد اور دیگر کیخلاف تھانہ سرور روڑ نے مقدمہ نمبر 97/23 درج کر رکھا ہے ،ڈاکٹر یاسمین راشد اور دیگر پر شیر پاؤ پل ہر ٹریفک بلاک کرکے اداروں کیخلاف تقریر اور جلاؤ گھیراؤ کا الزام ہے

    کرونا لاک ڈاؤن، گھر میں فاقے، ماں نے 5 بچوں کو تالاب میں پھینک دیا،سب کی ہوئی موت

    دس برس تک سگی بیٹی سے مسلسل جنسی زیادتی کرنیوالے سفاک باپ کو عدالت نے سنائی سزا

    شادی شدہ خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے بعد ملزمان نے ویڈیو وائرل کر دی

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات

    واضح رہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کارکنان نے فوجی تنصیبات پر ملک بھر میں حملے کئے تھے، شرپسند عناصر کو گرفتار کیا جا چکا ہے، گرفتار افراد کا کہنا ہے منظم منصوبہ بندی کے تحت حملے کئے گئے، شرپسند افراد نے ویڈیو بیان بھی جاری کئے ہیں جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ سب منصوبہ بندی کے تحت ہوا، پی ٹی آئی رہنما بھی گرفتار ہیں تو اس واقعہ کے بعد کئی رہنما پارٹی چھوڑ چکے ہیں

  • ایمان مزاری کو گرفتار کرنے سے قبل آگاہ کریں، عدالت کا حکم

    ایمان مزاری کو گرفتار کرنے سے قبل آگاہ کریں، عدالت کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری کو کسی بھی کیس میں گرفتاری سے قبل عدالت کو آگاہ کرنا لازم قرار دے دیا گیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے حکم جاری کر دیا ، اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ کسی بھی خفیہ ایف آئی آر میں گرفتاری سے قبل عدالت کو آگاہ کریں گے ،ایمان مزاری کی مقدمات تفصیلات فراہمی اور حفاظتی ضمانت درخواست پر سماعت ہوئی،ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل نے عدالت میں کہا کہ ہم نے صوبوں کو گزشتہ سماعت کے بعد لکھ دیا تھا ، مقدمات کی تفصیلات فراہمی کے لیے صوبوں کو فیکس اور واٹس ایپ بھی کر دیا پٹشنر کو ایسے بیانات نہیں دینے چاہییں ، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیس نمٹا رہے ہیں کوئی ایف آئی آر ہو تو آپ عدالت کو آگاہ کریں گے ، عدالت نے ہدایات کے ساتھ درخواست نمٹا دی

    واضح رہے کہ ایمان مزاری کو ایک اور مقدمہ میں جیل کے باہر سے گرفتارکیا گیا،ایمان مزاری کو اڈیالہ جیل سے رہا کیا گیا تھا، جس کے بعد اسلام آباد پولیس نے حراست میں لے لیا تھا، ایمان مزاری نے ضمانت کی درخواست عدالت میں دائر کی تھی جس پر عدالت نے ایمان مزاری کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا ایمان مزاری کو دو روز قبل رہا کیا جا چکا ہے،عدالت نے تحریری فیصلے میں کہا کہ ایس ایس پی آپریشنز کے مطابق اسلام آباد میں ایمان مزاری کے خلاف تین مقدمے درج ہیں ، اسلام آباد پولیس کے مطابق ایمان مزاری اسلام آباد کے دو مقدمات میں ضمانت پر ہے ،پٹشنر کی والدہ نے کہا تیسرے مقدمے میں ضمانت کی صورت میں پھر گرفتاری کا خدشہ ہے ، عدالت سے 16 مئی والے فواد چوہدری کیس کا آرڈر کرنے کی استدعا کی گئی۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے دو صفحات پر مشتمل تحریری حکم جاری کیا

    ریاست کو للکارنے والے علی وزیر،محسن داوڑ کی رکنیت ختم کی جائے، اسمبلی میں مطالبہ

    محسن داوڑ اور علی وزیر کا سی ٹی ڈی نے ریمانڈ مانگا تو عدالت نے بڑا حکم دے دیا

    پی ٹی ایم کے رہنما علی وزیر پر غداری کا مقدمہ بنایا جائے،ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

    ایک بیان کی بنیاد پر کیسے کسی کو نااہل کر دیں؟ علی وزیر نااہلی کیس میں الیکشن کمیشن کے ریمارکس

  • ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اٹک جیل سے پرویز الہی کو لیکر کل عدالت میں پیش ہوں

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اٹک جیل سے پرویز الہی کو لیکر کل عدالت میں پیش ہوں

    لاہور ہائیکورٹ: پرویز الٰہی کو بحفاظت گھر نہ پہچانے پر قیصرہ الہی کی توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی

    جسٹس امجد رفیق نے درخواست پر سماعت کی،وکیل طاہر نصر اللہ وڑائچ نے عدالت میں کہا کہ میں پرویز الٰہی کے ساتھ پچھلی نشست پر تھا،مال روڈ پر پولیس نے ایک بار گرفتاری کوشش کی،کینال روڈ پر تین سو نقاب پوش بندوں نے ہمیں روکا،جسٹس امجد رفیق نے استفسار کیا کہ کیا روٹ کو زیرو نہیں کرایا گیا تھا،وکیل نے کہا کہ چالیس سے پچاس گاڑیاں ہمارے آگے اور پیچھے تھیں ،تین گاڑیوں نے ہمیں روکا ہمارے گاڑی کے آگے بریک لگا دی گئی،جیسے ہی گاڑی رکی ڈی آئی جی آپریشن اترے،ڈی آئی جی عمران کشور نے خود دروازہ کھولا اور لوگوں کو اشارہ کیا گیا ۔جسٹس امجد رفیق نے استفسار کیا کہ کیا وہاں کوئی بحث بھی ہوئی ۔ وکیل نے کہا کہ میں نے مزاحمت کی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔

    جسٹس امجد رفیق نے استفسار کیا کہ کیا ان لوگوں کے پاس کوئی آرڈر تھا ۔ کیا وہ لوگ پولیس وردی میں تھے ۔وکیل نے کہا کہ سارے لوگ سول کپڑوں میں تھے۔ جسٹس امجد رفیق نے استفسار کیا کہ انہوں نے کوئی اسلحہ استعمال نہیں کیا ان سے پوچھا نہیں کہ تمھاری جرات کیسے ہوئی کورٹ کا آرڈر موجود ہے ۔ وکیل نے کہا کہ لطیف کھوسہ بوڑھے آدمی ہیں وہ کیا مزاحمت کرتے ۔ جسٹس امجد رفیق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ اپنے اپکو جوان سمجھ رہے ہیں ۔ جسٹس امجد رفیق کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہ گونج اٹھا،وکیل نے کہا کہ یہ سارا کام ایک منٹ میں ہوا ۔

    لاہور ہائیکورٹ نے دس بجے ڈی آئی جی آپریشنز علی ناصر رضوی اور ڈی آئی جی انوسٹی گیشن سمیت دیگر ذمے داران افسران کو طلب کر لیا ،آفس ہائی کورٹ نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض لگا دیا تھا.۔آفس ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ پرویز الٰہی کو اسلام آباد پولیس نے پکڑا ،بہتر ہے درخواست گزار اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرے۔

    کل پیش ہونے پر پولیس افسران کو توہین عدالت کے شوکاز نوٹس جاری کروں گا ،جسٹس امجد رفیق
    عدالتی حکم کے باوجود چوہدری پرویز الٰہی کی گرفتاری کا معاملہ ،ڈی آئی جی انویسٹیگیشن اور ڈی آئی جی آپریشن اور ایس ایس پی آپریشنز کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر دوبارہ سماعت ہوئی تو عدالت نے درخواست پر سماعت گیارہ بجے تک ملتوی کردی ،عدالت کے حکم پر ڈی آئی جی آپریشنز، ڈی ائی جی انوسٹی گیشن اورایس ایس پی آپریشنز پیش نہ ہوئے، انکی طرف سے ڈی ایس پی شاہد نے پیش ہو کر مہلت مانگی ،ڈی آئی جی آپریشنز اور ایس ایس پی آپریشنز کی طرف سے مہلت مانگی گئی ،ڈی ایس پی نے عدالت میں کہا کہ دونوں پولیس افسراں صوبہ سے باہر ہیں ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ دونوں افسران سے پوچھ لیں کہ وہ آج پیش ہوں گے یا کل ؟کل پیش ہونے پر پولیس افسران کو توہین عدالت کے شوکاز نوٹس جاری کروں گا آپ نے مناسب نہ سمجھا کہ آپ اسی وقت میرے پاس آجاتے

    عدالت نے توہین عدالت کے مرتکب پولیس افسران کو پیش ہونے کیلئے دوبجے تک کی مہلت دے دی،،عدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کو پولیس افسران کے دفاع سے بھی روک دیا ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب آپ کو پراسیکیوٹر مقرر کیا جائے گا تب آپ بتائیے گا کہ توہین کا جرم بنتا ہے یا نہیں،آئی جی پنجاب سمیت دیگر سے بھی 2 بجے جواب طلب کر لیا گیا ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کوئی پیش نہیں ہوتا تو عدم پیشی کی جو بھی جوہات ہیں لکھ کر آگاہ کیا جائے، عدالت جواب آنے کے بعد مناسب فیصلہ کرے گی،پراسیکیوٹر کا کام وکالت کرنا نہیں بلکہ انصاف کی فراہمی تک معاونت کرنا ہے عدالت نے سماعت دو بجے تک ملتو ی کر دی

    پرویز الہی گرفتاری توہین عدالت کا کیس،تیسری بار سماعت ہوئی، آئی جی پنجاب لاہور ہائیکورٹ پیش ہوئے،ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل غلام سرور نہنگ بھی عدالت پیش ہوئے ،ایس پی عمارہ بھی عدالت پیش ہوگئیں ،عدالت نے استفسار کیا کہ دونوں ڈی آئی جیز کہاں ہے۔ آئی جی پنجاب نے کہا کہ دونوں افسران کراچی میں ہیں، عدالت نے استفسار کیا کہ کیاں ان افسران کو عدالت کے فیصلے سے آگاہ کیا تھا؟ عدالت نے آئی جی پنجاب کو محکمانہ کارروائی کرنے کی ہدایت کردی ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت توہین عدالت کی کارروائی کرے گی۔جو لوگ لے کے گئے ہیں وہ کون سے تھے۔جو کچھ ہورہا ہے اس پر عدالت کوبڑا دکھ ہے

    آئی جی پنجاب نے عدالت میں کہا کہ میں ایک اہم میٹینگ چھوڑ کر آیا ہوں، میرا بندہ اگر زمہ دار ہوا تو میں خود آپ کے پاس لیکر آؤں گا،پرویز الٰہی کے ساتھ جو کچھ ہوا میں اسکی ذمہ داری لیتا ہوں، پرویز الہی کے ساتھ کچھ غیر قانونی نہیں ہوا میرے ڈی آئی جی اور ایس پی کا کوئی معاملہ نہیں، پرویز الہٰی کو اسلام آباد پولیس کو لے کر گئی، میں اسلام آباد پولیس کا ذمے دار نہیں ہوں۔میں پرویز الٰہی کے معاملہ کی از سر نو تحقیقات کرواؤں گا، پنجاب پولیس کے آفیسرز توہین عدالت کا سوچ بھی نہیں سکتے۔مجھے تحریری جواب جمع کروانے کے لیے مہلت دی جائے

    جسٹس امجد رفیق نے استفسار کیا کہ پرویز الٰہی اس وقت کہاں ہیں ؟ آئی جی پنجاب نے عدالت میں کہا کہ ہمیں بلکل نہیں پتہ پرویز الٰہی کہاں ہیں، جسٹس امجد رفیق نے کہا کہ آپ کو واقعی ہی پتہ نہیں،ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ ہمیں بالکل نہیں پتہ پرویز الہی کہاں ہیں؟ آئی جی اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کے جواب پر عدالت میں قہقہ لگ گیا آئی جی پنجاب نے عدالت میں کہا کہ پرویز الہی کے حوالے سے اس وقت اسلام آباد پولیس ہی بتا سکتی ہے ،جسٹس امجد رفیق نے کہا کہ پرویز الہی کو اٹک جیل میں رکھا گیا تھا اس لیے عدالت یہ کیس سن رہی ہے

    آئی جی پنجاب نے چوہدری پرویز الہی کی عدالتی حکم کے باوجود گرفتاری کرنے اور توہین عدالت کے معاملہ پر لاہور ہائیکورٹ کے جج امجد رفیق پر عدم اعتماد کرتے ہوئے کہا کہ آپ پرسنل ہوچکے ہیں ، لطیف کھوسہ نے عدالت میں کہا کہ
    آئی جی پنجاب کا یہ کہنا تھا کہ مجھے نہیں پتا کہ پرویز الہی کہاں ہیں یہ ایک صاف جھوٹ ہے،آئی جی پنجاب نے کہا کہ آئی جی پنجاب کھوسہ صاحب کی اس بات پر افسوس ہے ،عدالت نے کہا کہ آئی جی صاحب یہ غیر پارلیمانی لفظ نہیں ، جسٹس امجد رفیق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہاں کسی کو جانور کہہ دیں تو ناراض ہوجاتا ہے شیر کہیں توخوش ہوجاتا ہے

    عدالت نے درخواست پر سماعت کل تک کے لئے ملتوی کر دی ،عدالت نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن اٹک کو بیلف مقرر کر تے ہوے اٹک جیل سے پرویز الٰہی کو بازیاب کرا کر پیش کرنے کا حکم دے دیا ،عدالت نے آئی جی اسلام آباد کو توہیں عدالت کے نوٹس جاری کرتے ہوئے طلب کر لیا ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بادی النظر میں پولیس افسران نے کریمنل اور سول توہین عدالت کی ،عدالت نے آئی جی کے بیان کی روشنی میں معاملہ کی جوڈیشل اور محکمانہ تحقیقات کا حکم دے دیا ،عدالت نے کہا کہ کسی مجسٹریٹ کی اجازت کے بغیر پرویز الٰہی کو اٹھوایا گیا۔

    عدالت میں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب خالد اسحاق پیش ہونے اور جواب کے لیے 24 گھنٹے کی مہلت مانگی ،ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ پرویز الٰہی نے بیک وقت دو مختلف عدالتوں سے رجوع کیا ۔قانون میں بیک وقت دو عدالتوں سے رجوع کرنے کی گنجائش نہین ہے ۔حبس بجا کی درخواست پر مجھے رپورٹ فائل کرنے کے لیے مہلت دی جائے ،پرویز الٰہی پنجاب حکومت کی تحویل میں نہیں ہیں

    پرویز الٰہی کی رہائی،نیب نے انٹراکورٹ اپیل دائر کر دی
    دوسری جانب نیب نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کی رہائی اور کسی مقدمے میں گرفتار نہ کرنے کے فیصلے کیخلاف لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائرکردی ہے، نیب کی جانب سے دائر انٹراکورٹ اپیل میں پرویز الٰہی سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے، نیب اپیل میں کہا گیا ہے کہ سنگل بنچ نے نیب کا پورا موقف سنے بغیر پرویز الٰہی کی رہائی کا حکم دیا پرویز الٰہی کی گرفتاری قانونی تھی پرویز الٰہی ریمانڈ پر تھے سنگل بنچ نے حقائق کا درست جائزہ نہیں لیا اور رہائی کا حکم جاری کیا پرویز الٰہی کو کسی کیس میں گرفتار نہ کرنے کا حکم بھی قانونی طور پر درست نہیں ،

    جسٹس امجد رفیق نے پرویزالہی کی اہلیہ قیصرہ الہی کی حبس بجا کی درخواست پر سماعت کی ،درخواست میں نگران حکومت پنجاب ، چیف سیکرٹری .آٸی جی پنجاب سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ،درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ چوہدری پرویز الہی کو غیر قانونی طور پر گرفتار کیا گیا ہاٸی کورٹ نے چوہدری پرویز الہی کو نظر بند کرنے سے روکا تھا ۔ عدالتی حکم کے باوجود نظر بندی غیر قانونی ہے ،عدالت پرویز الہی کو پولیس کی غیر قانونی حراست سے بازیاب کرنے کا حکم دے ،

    علاوہ ازیں تحریک انصاف کے ترجمان نے پرویزالہیٰ کی گرفتاری پر سپریم کورٹ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی صدر کی فوری رہائی کے احکامات صادر کئے جائیں، اور پرویزالہیٰ کے صاحبزادے مؤنس الہیٰ کا کہنا تھا کہ عدالتی احکامات کا مذاق اڑاتے ہوئے میرے والد کو اغوا کرلیا گیا ہے

    جبکہ تحریک انصاف کے صدر پرویزالہیٰ کو  لاہور ہائی کورٹ نے رہا کرنے کا حکم دیا تھا، اور واضح کیا تھا کہ سابق وزیراعلیٰ کو اب کسی بھی مقدمے میں گرفتار نہ کیا جائے، تاہم اسلام آباد پولیس نے انہیں تھری ایم پی او کے تحت دوبارہ گرفتار کرلیا، پرویز الٰہی کو لاہور سے گرفتار کرکے اٹک جیل منتقل کر دیا گیا

    پولیس نے پرویز الٰہی کو دوبارہ گرفتار کرلیا

    پی ٹی آئی کی اندرونی لڑائیاں۔ فواد چوہدری کا پرویز الٰہی پر طنز

    خدشہ ہے کہ پرویز الٰہی کو گرفتار کر لیا جائیگا

    پرویز الہیٰ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ،

    پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ 

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو

  • پرویز الٰہی کی گرفتاری،توہین عدالت کی درخواست دائر

    پرویز الٰہی کی گرفتاری،توہین عدالت کی درخواست دائر

    عدالتی حکم کے باوجود چوہدری پرویز الٰہی کی گرفتاری کا معاملہ ،ڈی آئی جی انویسٹیگیشن اور ڈی آئی جی آپریشن کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی گئی،

    چوہدری پرویز الٰہی کی اہلیہ قیصرہ الٰہی نے لاہور ہائیکورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کی، داائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ لاہور ہائیکورٹ نے چوہدری پرویز الٰہی کی تمام کیسز میں ضمانت منظور کی، نیب حراست سے بازیاب کراکے چوہدری پرویز الٰہی کو رہا کرایا گیا عدالت نے ڈی آئی جی آپریشن اور ڈی آئی جی انویسٹیگیشن کو طلب کرکے تحریری حکم نامہ دیا، عدالت نے پولیس افسران کو بحفاظت گھر پہنچانے کا حکم دیادونوں پولیس افسران کی موجودگی میں چوہدری پرویز الٰہی کو اٹھایا گیا دونوں پولیس افسران نے عدالتی حکم کے برعکس چوہدری پرویز الٰہی کی حفاظت نہیں کی

    لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ عدالت ڈی آئی جی انویسٹیگیشن اور ڈی آئی جی آپریشن کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کرے

    دوسری جانب چوہدری پرویز الہی کو حبس بے جا میں رکھنے کے خلاف درخواست بھی داٸر کر دی گئی، حبس بے جا کی درخواست پرویزالہی کی اہلیہ قیصرہ الہی کی جانب سے داٸر کی گٸی ،درخواست میں نگران حکومت پنجاب ، چیف سیکرٹری ، آٸی جی پنجاب سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ، درخواست میں کہا کہ چوہدری پرویز الہی کو غیر قانونی طور پر گرفتار کیا گیا ،ہاٸی کورٹ نے چوہدری پرویز الہی کو نظر بند کرنے سے روکا تھا ،عدالتی حکم کے باوجود نظر بندی غیر قانونی ہے ،عدالت پرویز الہی کو پولیس کی غیر قانونی حراست سے بازیاب کرنے کا حکم دے ،

    علاوہ ازیں تحریک انصاف کے ترجمان نے پرویزالہیٰ کی گرفتاری پر سپریم کورٹ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی صدر کی فوری رہائی کے احکامات صادر کئے جائیں، اور پرویزالہیٰ کے صاحبزادے مؤنس الہیٰ کا کہنا تھا کہ عدالتی احکامات کا مذاق اڑاتے ہوئے میرے والد کو اغوا کرلیا گیا ہے

    جبکہ تحریک انصاف کے صدر پرویزالہیٰ کو  لاہور ہائی کورٹ نے رہا کرنے کا حکم دیا تھا، اور واضح کیا تھا کہ سابق وزیراعلیٰ کو اب کسی بھی مقدمے میں گرفتار نہ کیا جائے، تاہم اسلام آباد پولیس نے انہیں تھری ایم پی او کے تحت دوبارہ گرفتار کرلیا، پرویز الٰہی کو لاہور سے گرفتار کرکے اٹک جیل منتقل کر دیا گیا

    پولیس نے پرویز الٰہی کو دوبارہ گرفتار کرلیا

    پی ٹی آئی کی اندرونی لڑائیاں۔ فواد چوہدری کا پرویز الٰہی پر طنز

    خدشہ ہے کہ پرویز الٰہی کو گرفتار کر لیا جائیگا

    پرویز الہیٰ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ،

    پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ 

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو