Baaghi TV

Tag: ضمانت

  • عدالت پیشی، عمران خان بھی وہیل چیئر پر آ گئے

    عدالت پیشی، عمران خان بھی وہیل چیئر پر آ گئے

    اسلام آباد ہائیکورٹ، سابق وزیر اعظم عمران خان کی 7 مقدمات میں ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سماعت کی ،سابق وزیر اعظم عمران خان لیگل ٹیم کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر، شاہ محمود قریشی، فواد چوہدری، سیف اللہ نیازی کمرہ عدالت میں موجود تھے علی محمد خان، علی نواز اعوان، بابر اعوان، عامر کیانی، ملائکہ بخاری عمران اسماعیل بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے،

    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ آج باہر سیکشن 154 کا بیہیمانہ استعمال کیا جارہا ہے،ہمیں آج کچھ برا ہونے کا گمان ہورہا ہے، ہمارے علم میں جتنے مقدمات ہیں سب میں ضمانت کی درخواست دے چکے ہیں، اگر کوئی خفیہ ایف آئی آر ہے تو اس سے متعلق جاننا ہمارا حق ہے، ڈویژن بنچ نے کہا تھا کہ آپ ٹرائل کورٹ سے براہ راست رجوع کریں، کچھ وجوہات کی وجہ سے ہم ڈائریکٹ ٹرائل کورٹ نہیں گئے، درخواست گزار کی پیشی پر آج بھی پولیس کی جانب سے ہراساں کیا گیا،چیف کمشنر اور آئی جی کو بلایا جائے کہ بار بار ایسا کیوں ہورہا ہے ؟ ہم عدالت پرامن طریقے سے آتے ہیں مگر پولیس جان بوجھ کرہراساں کرتی، سپولیس سے پوچھا جائے کہ اگر کوئی مقدمہ اور درج ہے اور ابھی تک بتایا نہیں تو وہ بتائے،مقدمات کی تفصیلات آپ ہی کی درخواست پر آپ کو مل گئی ہے، میرا موکل عدالتی حکم پر آج ویل چیئر پر عدالت پیش ہوئے ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے آبزرویشن دی تھی کہ ہم آپ کو حفاظتی ضمانت دیتے ہیں، آپ متعلقہ عدالت چلے جائیں، آپ اب تک شامل تفتیش بھی نہیں ہوئے، ہم نے پہلی سماعت سے آپ کو باور کرایا ہوا تھا کہ آپ کو حفاظتی ضمانت دیں گے،وکیل سلمان صفدر نے کہا ہے کہ ہم آج انسداد دہشت گردی عدالت پیش ہونا چاہتے تھے مگر سیکورٹی کی وجہ سے پیش نہیں ہوئے، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم آپکی ضمانت میں توسیع کرتے ہیں مگر آپکو ٹرائل کورٹ پھر بھی جانا ہوگا، وکیل سلمان صفدرنے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں کریمنل کیسسز سے متعلق سب کچھ واضح ہے، ہم ایک مہینے سے کہہ رہے ہیں کہ بیان لیں لے مگر یہ نہیں لے رہے، سلمان صفدر

    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ سات مختلف مقدموں میں 7 مختلف تفتیشی افسران کے پاس سات مختلف تاریخوں پر ہم کیسے پیش ہوں؟ تفتیش جوائن کرنے کا کوئی دن مقرر کر دیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ آج اسلام آباد میں موجود ہیں نہ؟ تفتیشی بھی سارے موجود ہیں، ان کو بیان ریکارڈ کرا دیں،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ہم یہاں 7 ضمانتوں میں آئے ہیں اور ہم شامل تفتیش ہونا چاہتے ہیں، ہم ان تمام مقدمات میں ایک وقت پر پیش ہونا چاہتے ہیں، ہم ابھی انکو جواب دیتے ہیں، عدالت نے کہا کہ ایسا نہیں ہوتا کہ آپ تحریری جواب دیں، آپ جاکر طریقہ کار کو فالو کریں،

    ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت میں کہا کہ عمران خان کی جانب سے جو میڈیکل سرٹیفکیٹ دی گئی وہ جعلی ہے،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے میڈیکل سرٹیفکیٹ منظور نہ کرتے ہوئے بلایا ہے، فواد چوہدری نے کہا کہ سابق وزیراعظم زخمی حالت میں عدالت میں پیش ہوگئے، 121 کیسسز میں لاہور ہائی کورٹ نے فل کورٹ بنایا ہے،عدالت نےفواد چوہدری اور جہانگیر جدون کی باتوں پر برہمی کا اظہار کیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ
    اگر ایسا آپ لوگ کررہے تو ہم ججمنٹ دیں گے، عدالت نے عمران خان کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا ،

    فواد چوہدری نے کہا کہ یہ حکومت نے جو انتظامات کیے ہیں یہ سکیورٹی کیلئے کم، ڈرانے کیلئے زیادہ ہیں،چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اب ہم آرڈر پاس کریں گے، فواد چوہدری نے شکوہ کیا کہ عمران خان سابق وزیر اعظم ہیں، ان کی گاڑی اندر نہیں آنے دی گئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کو ریلیف دے رہے ہیں آپ نہیں لینا چاہتے تو ایسا ہی سہی، چیف جسٹس عامر فاروق اور میاں گل حسن اورنگ زیب پر مشتمل بینچ اُٹھ گیا ،ججز کمرہ عدالت سے ججز چیمبر میں چلے گئے ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سات مقدمات میں 10 روز کیلئے عمران خان کی حفاظتی ضمانت منظور کرلی ،دو مقدمات میں عبوری ضمانت میں 9 مئی تک توسیع کردی ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کو انسداد دہشت گردی عدالت سے رجوع کی ہدایت کر دی،

    عمران خان اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئے ،عمران خان کی گاڑی اسلام آباد ہائی کورٹ کے گیٹ پر موجود ہے،تحریک انصاف کی جانب سے عمران خان کی گاڑی گیٹ کے اندر لیجانے کی درخواست دی گئی ،عمران خان کی گاڑی کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے میں داخلے کی اجازت نہیں ملی عمران خان مرکزی گیٹ سے وہئیل چیئر کے ذریعے عدالت میں گئے عمران خان کو گاڑی سے اتارنے کے لئے حفاظتی شیلڈ بنائی گئی

    عمران خان نے کمرہ عدالت میں غیر رسمی گفتگو کی، صحافی نے سوال کیا کہ امریکیوں کے ساتھ میٹنگز ہو رہی ہیں، عمران خان نے جواب دیا کہ ستائیس سال ہو گئے، ہم ہر ملک سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں، لاہور ہائیکورٹ میں پانچ رکنی بینچ جو نام بتایا ہے جس سے جان کو خطرہ ہے،اس کا نام لوں گا تو اخبار نام نہیں چھاپے گا، اسی لیے میں اس کو ڈرٹی ہیری کہتا ہوں، کیئر ٹیکر گورنمنٹ وہ چلا رہا ہے،

    صحافی نے سوال کیا کہ بلاول کے انڈیا کے دورے پر کمنٹ کر دیں، جس پر عمران خان کا کہنا تھا کہ ان کے لیے کشمیر کا ایشو نہیں ہے؟ دوستی سب سے چاہتے ہیں کسی کی غلامی نہیں چاہتے،امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں غلامی نہیں چاہتے،

    پی ٹی آئی رہنماؤں عمر ایوب اور فیاض الحسن چوہان نے اسلام آباد ٹول پلازہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان کی بڑی تعداد آج عمران خان کے استقبال کے لیے پہنچی ہے،عمر ایوب کا کہنا تھا کہ امپورٹڈ حکومت نے عمران خان کے خلاف سازش کی، اللہ نے عمران خان کو بچایا، ان کو سمجھ نہیں لگ رہی کہ عمران خان کو کیسے ہینڈل کریں ،پچھلی پیشی پر غیر قانونی طور پر ہمارے 23 کارکنان کو گرفتار کیا گیا، اس وقت پنجاب اور خیبر پختونخوا کی حکومتیں غیر قانونی ہیں، ان کے احکامات نہیں ماننے چاہیئے ،فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ یہ بوکھلاہٹ کا شکار ہیں ، چوہدری پرویز الٰہی کے گھر پر حملے کی کوئی ذمہ داری لینے کے لیے تیار نہیں، میں چوہدری پرویز الٰہی کے گھر پر حملے کی شدید مزمت کرتا ہوں آج ہم اپنے قائد عمران خان کے استقبال کے لیے پہنچے ہیں، عمران خان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جو بیمار ہونے کے باوجود عدالتوں کے احترام میں پیش ہو رہے ہیں،

    عمران خان زمان پارک سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیشی کے لئے روانہ ہوئے،عمران خان کے ساتھ مسرت جمشید ، شبلی فراز کے ساتھ سئینر رہنما موجود تھے،عمران خان کے ہمراہ پی ٹی آئی کارکنان بھی موجود تھے، عمران خان وہیل چیئر پرگھر سے نکلے اور انہوں نے ویڈیو پیغام ریکارڈ کروایا،اسکے بعد وہ قافلے کے ہمراہ اسلام آباد عدالت پیشی کے لئے روانہ ہو گئے،

    تحریک انصاف کے رہنماؤں کو جب بھی عدالتیں طلب کرتی ہیں یا انکو گرفتار کیا جاتا ہے تو وہ وہیل چیئر پر آ جاتے ہیں، تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کو بھی جب گرفتار کیا گیا تھا وہ وہیل چیئر پر عدالت میں پیش ہوتے تھے، تا ہم جب ایک بار انہیں کہا گیا کہ ضمانت ہو گئی ہے تو وہ وہیل چیئر کی بجائے چل کر آئے اور اس کے بعد اگلے ہی روز عدالت میں پھر وہیل چیئر پر آئے، اب عمران خان نے بھی وہیل چیئر پر سفر کا اغاز کر دیا ہے

    عمران خان نے اسلام آباد روانگی سے قبل ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ چار چیزوں پر میں آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں میرے پاؤں ہر ورم (سوجن) ہے عدالت نے طلب کیا ہے اس کے باوجود جا رہا ہوں،

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم عدالتوں کا احترام کرتے ہیں ،دوسرے لوگ جو ہر وقت حرکتیں کرتے ہیں ہم ان جیسے نہیں،کچھ دن پہلے میں لاہور ہائیکورٹ کو صاف کہا ہے کہ مجھے دو بار قتل کرنے کی کوشش کی ہے جس کو ہم ڈرٹی ہیری کہتے ہیں، اب مراد سعید کو بھی یہ لوگ دہشت گرد کہہ رہے ہیں ہے اگر مراد سعید کو کچھ ہوا تو اس کے پیچھے ڈرٹی ہیری ہوگا،اگر مجھے کچھ ہوا تو اس کے پیچھے بھی ڈرٹی ہیری ہوگا،میں سب کو کال دے رہا ہوں آپ سب نے پرسوں ہفتے کے روز اپنے گھروں سے مغرب کے وقت نکلنا ہے،

    میڈیا رپورٹس کے مطابق شوکت خانم کے میڈیکل بورڈ نے عمران خان کو مکمل آرام کا مشورہ دیا تھا، میڈیکل بورڈ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اگر عمران خان نے آرام نہ کیا تو عمران خان کی متاثرہ ٹانگ میں سوجن بڑھ سکتی ہے اور سوجن بڑھنے سے انفیکشن کا خطرہ ہے سوجن سے انفیکشن ہوا تو دوبارہ آپریٹ کرنا پڑے گا، میڈیکل بورڈ کی جانب سے عمران خان کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ غیر معمولی نقل و حرکت سے پرہیز کریں اور متاثرہ ٹانگ پر دباؤ ڈالنے سے پرہیز کریں

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو

    زمان پارک، اسلحہ ملا،شرپسند عناصر تھے،آئی جی سب دکھائینگے،وزیر داخلہ

    اس بار تو پولیس نے آپ پر ڈکیتی کی دفعہ بھی لگا دی ہے

  • پی ٹی آئی کا  انتہائی خطرناک کھیل، مراد سعید نے کیا عدالت سے رجوع

    پی ٹی آئی کا انتہائی خطرناک کھیل، مراد سعید نے کیا عدالت سے رجوع

    تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر مراد سعید نے بھی لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا

    مراد سعید نے عبوری ضمانت اور زیر تفتیش تمام کیسز کی تفصیلات فراہم کرنے کی استدعا کر دی ،مراد سعید نے تحریک انصاف کے تمام رہنماؤں کے کیسز کی تفصیلات کی فراہمی اور گرفتاری سے روکنے کی استدعا بھی کر دی ،مراد سعید کی درخواست میں وفاقی حکومت، آئی جی پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختون خوا کو فریق بنایا گیا ہے ،مراد سعید نے ڈی جی ایف آئی اے اور چیئرمین نیب کو بھی فریق بنایا ہے

    مراد سعید کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں تحریک انصاف کے رہنماؤں کے خلاف مسلسل مقدمات کا اندراج کررہی ہیں، تحریک انصاف کے رہنماوں کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے،تحریک انصاف کے رہنماوں کے خلاف کارروائیاں آئین و قانون کے خلاف ہیں،

    دوسری جانب تحریک انصاف کی رہنما ڈاکٹر شیریں مزاری نے مراد سعید کی ممکنہ گرفتاری یا حملے پر رد عمل میں کہا ہے کہ واضح طور پر یہ بہت سے ممالک کی ایجنسیوں کے نفسیاتی سیاہ، "گندے” آپریشن کا حصہ ہے، عمران خان نے گزشتہ روز لاہور ہائی کورٹ کے 5 رکنی بینچ کو بتایا کہ ان پر وزیر آباد اور اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس پر 2 قاتلانہ حملے کی منصوبہ بندی کی تھی اب مراد سعید اور دیگر رہنما بھی انکے ٹارگٹ میں شامل ہو گئے ہیں،

    واضح رہے کہ ٹویٹر پرصحافی وقار ستی نے ٹویٹ کی ہے جس میں انہوں نے کہا کہ انتہائی خطرناک کھیل ،باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ پی ٹی آئی اپنے ایک یا دو سیاسی رہنماؤں کے خلاف جھوٹےاور مصنوعی فلیگ آپریشن کی منصوبہ بندی کر رہی ہے،ایسی صورت میں فوڈ پوائزننگ یا کسی بھی پارٹی لیڈر کی ٹارگٹ کلنگ یا اسے زخمی کیا جاسکتا ہے۔ پی ٹی آئی کی اس ممکنہ سازش کو حقیقت بنانے کےلیے آسان ہدف مراد سعید ہوسکتےہیں ۔واضح رہےکہ پی ٹی آئی نے پہلے ہی اپنی قیادت اور کارکنوں کوملک گیر ہڑتال /احتجاج کی تیاری کرنےکی ہدایات دے رکھی ہیں ان کی کوشش ہے کہ کسی صورت ایسا کوئی واقعہ رونماہو جائےجو حالات کومذید گھمبیر بنا دے۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ یہ منصوبہ مستقبل میں ملک میں مزید افراتفری پھیلانے کے لیے ہے تاکہ اسٹیبلشمنٹ کو دباؤ میں لایا جائے،مذاکرات کو ناکام بنایا جائے اورسپریم کورٹ سےاپنے حق میں فیصلہ لیا جائے ذرائع نے یہ بھی بتایاہےکہ پی ڈی ایم کا ایک وفاقی کابینہ کا رکن وفاقی حکومت کی تمام اندرونی معلومات پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کے ساتھ شیئر کر رہا ہے۔ جس کا نام جلد سامنے آنے والاہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کاسیکرٹری داخلہ و خارجہ کو ارشد شریف کے اہلخانہ سے رابطے کا حکم

    کیسوں کی تفصیلات آنے تک مراد سعید کی گرفتاری سے روکنے کا حکم

    گلگت میں چھپا ہوں، رانا ثنا سے ڈر لگتا ہے،مراد سعید

    ٹویٹر پر صارف حجاب رندھاوا نے لکھا کہ اگر یہ سچ ہے کہ مُلک کی ایک بڑی اپوزیشن سیاسی جماعت فالس فلیگ آپریشن کرنے جا رہی ہے تو یہ انتہائی خوفناک ہے مراد سعید کو تحفظ دیا جانا بہت ضروری ہے ۔

    https://twitter.com/Hijabrandhawa1/status/1653484232122028036

  • غلط بیانی کی تو عدالت اپنا حکم سنائے گی، عدالت کا اظہار برہمی

    غلط بیانی کی تو عدالت اپنا حکم سنائے گی، عدالت کا اظہار برہمی

    لاہور ہائیکورٹ، حفاظتی ضمانت کے باوجود پرویز الہی کی رہائش گاہ پر آپریشن کا معاملہ ، ایڈیشنل ڈی جی وقاص کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی

    ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت میں کہا کہ اینٹی کرپشن گوجرانوالہ کے مقدمے میں پولیس گرفتاری کے لئے رہائش گاہ گئی۔ عدالت نے کہا کہ اگرمقدمہ درج تھا تو سرچ وارنٹ کدھرہیں۔ سرکاری وکیل نے عدالت میں کہا کہ ہمارے پاس صرف مقدمہ کی کاپی تھی۔ عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک تو عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی اور دوسرا عدالتی حکم سے متعلق الفاظ کہے۔ ایڈیشنل ڈی جی اینٹی کرپشن نے عدالت میں کہا کہ میں تو توہین عدالت کرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کان کھول کرسن لیں اگر غلط بیانی کی تو عدالت اپنا حکم سنائے گی۔

    عدالتی حکم پر ایڈیشنل ڈی جی کےالفاظ کی ویڈیو عدالت میں سنوا دی گئی ،ایڈیشنل ڈی جی نے عدالت میں کہا کہ اگر میرا غلط بیانی کرنا ثابت ہوجائے تو خود کو عدالت کے رحم وکرم پرچھوڑوں گا۔ عدالت نے ڈی جی اینٹی کرپشن سمیت اینٹی کرپشن کے تین مزید افسروں کوتوہین عدالت کےشوکازنوٹس جاری کردئیے عدالت نے تمام افسرون کو کل ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا

    عدالت نے تینوں افسروں کے جواب جمع نہ کرانے پر سخت اظہار برہمی کیا، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جواب جمع نہ کرانا تو ایک اور توہین عدالت ہے۔ ایڈیشنل ڈی جی وقاص حسن نے عدالت سے غیر مشروط معافی مانگ لی ،عدالت نے شوکاز نوٹس کا تحریری جواب داخل کرنے کے لئے ایڈیشنل ڈی جی کو کل تک موقع دے دیا

    پولیس چھاپہ،کوئی نہ آیا، پولیس کے جاتے ہی پرویز الہیٰ سے یکجہتی کیلئے گھر کا دورہ

    اس بار تو پولیس نے آپ پر ڈکیتی کی دفعہ بھی لگا دی ہے

    پرویز الہیٰ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ،

    پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ 

  • پرویز الٰہی عدالت پیش، درخواست ضمانت پر آیا فیصلہ

    پرویز الٰہی عدالت پیش، درخواست ضمانت پر آیا فیصلہ

    ضمنانت ملنے کے باوجود سابق وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہیٰ کمرہ عدالت میں موجود ہیں وکیل کا کہنا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے،

    وکیل پرویز الٰہی کا کہنا ہے کہ ہمیں خدشہ ہے کہ پرویز الٰہی کو گرفتار کر لیا جائیگا ، عدالتی تحریری حکم لے کر عدالت سے جائینگے،باہر اینٹی کرپشن اور پولیس کی ٹیم گرفتاری کے لیے موجود ہیں پرویز الہی کمرہ عدالت میں موجود ہیں اور تحریری حکم کا انتظار کر رہے ہیں،

    سابق وزیر اعلی پنجاب پرویز الٰہی کی لاہور ہائی کورٹ میں پیشی ہوئی ہے ،لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی کی حفاظتی ضمانت 15 مئی تک منظور کرلی ،عدالت نے چوہدری پرویز الہی کو متعلقہ عدالت رجوع کرنے کی ہدایت کردی ،وکیل نے عدالت میں کہا کہ اینٹی کرپشن کے درج مقدمے میں حفاظتی ضمانت ہائیکورٹ سے منظور ہوئی، روزانہ کی بنیاد پر مقدمات درج کیے جارہے ہیں،عدالت نے ریمارکس دیتے وئے کہا کہ اگر کوئی اور نیا مقدمہ درج ہوا ہے اس حفاظتی ضمانت دوبارہ دائر کریں، جسٹس اسجد جاوید گھرال نے چوہدری پرویز الٰہی کی درخواست پر سماعت کی

    پرویز الٰہی نے عدالت پیشی کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ محسن نقوی یہ سب کروا رہا ہے، میرے گھر پر جو کچھ ہوا اس کے ذمہ دار محسن نقوی ہیں

    پولیس چھاپہ،کوئی نہ آیا، پولیس کے جاتے ہی پرویز الہیٰ سے یکجہتی کیلئے گھر کا دورہ

    اس بار تو پولیس نے آپ پر ڈکیتی کی دفعہ بھی لگا دی ہے

    پرویز الہیٰ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ،

    پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ 

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو

    دوسری جانب گزشتہ شب پرویز الہیٰ کو ایک بار پھر گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی ، پولیس نے لاہور کے بعد گجرات میں بھی چھاپہ مارا، پولیس نے پرویز الہٰی اور ان کے کزن چوہدری وجاہت حسین کے گھر نت ہاؤس پر بھی چھاپہ مارا ہے اور ملازمین کی طرف سے گھر کے دروازے کھولے جانے کے باوجود پولیس اہلکار دیواریں پھلانگ کر گھر کے اندر داخل ہوئے اور تمام کمروں کی تلاشی لی تاہم پرویز الہیٰ کو گرفتار نہیں کیا جا سکا

  • عمران خان کیخلاف ملک بھر میں درج مقدمات کی تفصیلات جمع

    عمران خان کیخلاف ملک بھر میں درج مقدمات کی تفصیلات جمع

    عمران خان کے خلاف 121 مقدمات کے اخراج کا معاملہ ،عمران خان کمرہ عدالت میں پہنچ گٸے

    عمران خان کے وکلا بھی کمرہ عدالت میں موجود ہیں عمران خان کی پیشی پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں، غیر متعلقہ افراد کو عدالت میں داخلے سے روک دیا گیا پولیس کی بھاری نفری احاطہ عدالت میں تعینات ہے،

    لاہور ہائیکورٹ میں عمران خان کیخلاف 121 مقدمات کے اخراج کے لیےدرخواست پر سماعت ہوئی جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی لارجر بنچ میں جسٹس عالیہ نیلم، جسٹس طارق سلیم شیخ شامل ہیں دیگر ججز میں جسٹس انوار الحق پنوں اور جسٹس امجد رفیق بھی شامل ہیں

    عمران خان کیخلاف ملک بھر میں درج مقدمات کی تفصیلات جمع کروا دی گئی، عمران خان کیخلاف اسلام آباد میں 31 لاہور میں 30 فیصل آباد مین 14 بھکر، میں 4 شیخوپورہ 3 گجرانوالہ میں 2 جہلم میں 3 اٹک میں 4 راولپنڈی میں 10،اٹک،میں 4 بہاولپور میں 5 مقدمات درج ہیں،

    جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے آپکی درخواست پڑھی ہے ،پٹیشن اچھی ڈرافٹ کی گئی ہے ۔
    لیکن درخواست میں زیادہ تر پی ٹی آئی کی کارکردگی کے بارے میں لکھا ہے ۔ جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پٹیشن کے پیرا 7 سے آگے پڑھیں کیوں کہ اس سے پیچھے تو آپ نے درخواستگزار کے بارے میں ہی بتایا ہے ۔ کیا 121 ایف آئی آر تمام میں عمران خان نامزد ہیں ۔ بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ عدالت مجھے 15 منٹ کا وقت دے میں اپنا سارا کیس عدالت کے سامنے رکھ دیتا ہوں ۔وکیل عمران خان نے کہا کہ حکومت طاقت کا غلط استعمال کرتے ہوئے عمران خان کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے ۔ عمران خان کو سیاسی بنیادوں پر مقدمات درج کیے جا رہے ہیں،جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ مقدمات کو خارج کروانا چاہتے ہیں وہ نکات بیان کریں ،وکیل بیرسٹر سلیمان صفدر نے عدالت میں کہا کہ عمران خان کے خلاف ایک ہی مدعی کے تحت مقدمات درج کیے جارہے ہیں ،وکیل عمران خان نے کہا کہ پولیس کی مدعیت میں مقدمات درج کیے جارہے ہیںجو بھی واقعہ ہوتا ہے مقدمہ عمران خان پر درج کیا جاتا ہے اسکی مثالیں موجود ہیں ظل شاہ قتل کیس ،وزیر آباد حملہ کیس ارشد شریف قتل کیس سمیت دیگر مقدمات کی مثالیں موجود ہیں

    جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کیسز کی نشاندھی کریں ،جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ جنرل باتیں کررہے ہیں وکیل عمران خان نے کہا کہ کیسز ڈسچارج ہورہے ہیں ضمانتیں ہورہی ہیں کوالٹی تو اس سے پتہ چل جاتی ہے ایک روٹ لگا ہوا ہے، کراچی، کوئٹہ، اسلام آباد، بھکر سمیت ملک بھر میں مقدمات درج ہے، ایسا لگتا ہے کہ کوئی بس سروس ہے جس نے ملک بھر جانا ہے، جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ روٹ پہلی مرتبہ نہیں لگا بدقسمتی سے اس سے پہلے بھی ہوچکا ہے، وکیل نے کہا کہ یہ کیس 71 سالہ شخص کا ہے جو پاکستانی شہری ہے ۔ ہر روز ضمانت لینا پڑتی ہے جو ممکن نہیں ہے ،جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ مقدمات کا اخراج چاہتے ہیں تو نکات کی نشاندہی کریں ۔ سلمان صفدر نے کہا کہ عمران خان پر وزیر آباد میں حملہ ہوا ہر کیس میں پولیس ہی مدعی بنتی ہے ۔ 140 مقدمات ہیں پولیس بتائے کس میں عمران خان کی گرفتاری کی ضرورت ہے ۔ایک واقعے پر ایک سے زیادہ مقدمات درج کرنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے ۔یہ سب سیاسی بنیادوں پر ہو رہا ہے تاکہ الیکشن نہ ہوں اور کیمپین نہ کی جا سکے۔ ایک ایسا مقدمہ ہے جس میں 2500 افراد کے خلاف کیس بنایا گیا لیکن اس کیس میں صرف عمران خان نے ضمانت لی ۔ میں نے زندگی میں کبھی نہیں دیکھا کہ 3 ماہ میں 140 مقدمات درج ہوگئے ہوں،ابتک ہم نے 25 مقدمات میں ضمانت لے لی ہے،عمران خان کیخلاف انہیں کوئی فنانشل کرپشن نہیں ملی،اسکے بعد انہوں نے فوجداری مقدمات درج کر دئیے دہشت گردی، غداری، مزہبی، مشورہ ،اقدام قتل سمیت سنگین دفعات کو مقدمات کا حصہ بنایا گیا ہے،

    عمران خان روسٹرم پر آ گئے، جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواستگزار کو سمن بھیجا گیا لیکن سمن کی تعمیل نہیں ہونے دی گئی کیا رکاوٹ نہیں ڈالی گئی ۔سمن تعمیل کی راہ میں رکاوٹ کا ایک اور پرچہ ہو گیا ۔جسٹس عالیہ نیلم نے عمران خان کے وکیل سے سوال کیا کہ کیا وارنٹ کے تعمیل والے دن کوئی پولیس افسر زخمی نہیں ہوا ۔ وکیل عمران خان نے کہا کہ پولیس افسر زخمی ہوا ہو گا ۔ جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ اگر پولیس افسر زخمی ہوا ہو گا تو اس بارے انوسٹی گیشن درکار ہے انوسٹی گیشن افسر بتائے گا کہ کیا ہوا اس لیے انوسٹی گیشن ہونے دیں ۔ وکیل عمران خان نے کہا کہ عمران خان کو بطور سابق وزیر اعظم سیکیورٹی بھی نہیں دی گئی ۔کاغذوں میں عمران خان کو سیکیورٹی دے گئی گئی ہے حقیقت میں نہیں ملی ۔ جھوٹے کیسز میں انصاف لینے جان ہتھیلی پر رکھ کر روز عدالت آتے ہیں ۔جسٹس علی باقر نجفی نے استفسار کیا کہ جب سے کیس لارجر بینچ کے سامنے لگا ہے کوئی نئی ایف آئی آر ہوئی ہے ۔ وکیل عمران خان نے کہا کہ نہیں ۔ جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری وکیل صاحب اس صورتحال میں عدالتیں خاموش تماشائی نہیں بن سکتی ہے ایک ایسا شخص جس پر زندگی بھر کوئی مقدمہ نہ ہو اقتدار سے نکلتے ہی اتنے مقدمات کیون درج ہوگئے ، عدالت نے پنجاب حکومت کے وکیل سے سوال کیا کہ کیا عمران خان کو انتخابات سے دور رکھنے کے لیے آیسا ہورہا ہے ؟

    بیرسٹر سلمان صفدر نے کہاکہ جب وزیر آباد کا ملزم پکڑا تو کس نے اسکا اقبالی بیان لے کر ٹی وی پر چلایا۔ جب سے نگران حکومت ائی ہمیں سیکیورٹی نہیں ملتی۔ ہم جان ہتھیلی پر رکھ کر عدالت میں آتے ہیں ، جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپکی ساری باتیں ٹاک شو کے لیے اچھی ہونگی۔ لیکن میں تو قانونی نکات ہی مرتب نہیں کر پا رہا۔اپ کو اس درخواست میں ترمیم کرکے اسے قانون کے دائرہ میں لانا چاہیے۔ بیرسٹر سلمان صفد نے کہا کہ میں پہلے ہی ترمیم کر چکا ہوں۔ میں نے مقدمات کے اخراج کی استدعا نکال دی۔ صرف ضمانت لینا ممکن نہیں رہا۔ جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ انفرادی طور پر کیسیز کی نشاندھی کریں جن پر آپکو اعتراض ہے۔ جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ ابھی تک آپکے دلائل عمومی ہیں ۔ جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ سلمان صفدر صاھب آپ ٹو دی پوائینٹ بات کرتے ہیں۔ آج بھی ایسے ہی کریں۔عمران خان کے خلاف کتنے کیسیز ہیں۔ وکیل عمران خان نے کہا کہ عمران خان نے اب تک 25 کیسیز میں ضمانت لی ہے۔ ان میں دہشتگردی کی دفعات اور اعانت جرم کی دفعات کا زیادہ استعمال کیا گیا ہے۔ جسٹس مس عالیہ نیلم نے استفسار کیا کہ آپ نے کیسیز کا اخراج نہیں مانگا ہوا۔ اگرآپ اخراج مقدمات مانگتے تو آفس کا اعتراض لگ جاتا۔ جسٹس انوارالحق پنوں نے عمران خان کے وکیل سے استفسار کیا کہ تو آپ اب چاہتے کیا ہیں۔جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ بیرسٹر سلمان ، پہلے اپ اپنے دلائل مکمل کر لیں پھر لاء افسر سے سوالات پوچھیں گے۔

    عمران خان نے عدالت کے سامنے چند گزارشات کی استدعا کردی، جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ کیا آپ اپنے وکیل سے مطمن نہیں ہیں، عمران خان نے عدالت میں کہا کہ سلمان صفدر بہترین کیس پیش کر رہے ہیں،عمران خان نے عدالت میں کہا کہ آج میں عدالت کو کہا رہا ہوں انہوں نے مجھے قتل کرنا ہے میں آج یہ بات تیسری مرتبہ کر رہا ہوں، مجھے 2 مرتبہ قتل کرنے، کی کوشش کی گئی، پہلے وزیر آباد اور اسکے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ پیشی کے دران کوشش ہوئی، میں جب بھی گھر سے باہر نکلنے کی کوشش کرتا ہوں تو مارنے کی کوشش کرتے ہیں،

    لاہور ہائیکورٹ نے عمران خان کو تمام مقدمات میں شامل تفتیش ہونے کا حکم دے دیا ، بینچ نے ہدایت کی کہ جمعے کے روز 2 بجے عمران خان پولیس تفتیش جوائن کریں ۔پنجاب حکومت تفتیش مکمل کر کے 8 مئی تک مکمل رپورٹ عدالت میں جمع جائے ۔ عدالت نے سماعت پیر تک ملتوی کر دی عدالت نے عمران خان اور وکلاء کو کیسز میں شامل تفتیش ہونے سے متعلق لائحہ عمل طے کرنے کی ہدایت کر دی

    سابق وزیراعظم عمران خان نے 121 مقدمات کو خارج کرانے کیلئے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا لاہور ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں سیکرٹری داخلہ، وزارت قانون، دفاع، سیکرٹری کیبنیٹ ڈویژن، چیف سیکرٹری، آئی جی پنجاب، اینٹی کرپشن، نیب، ایف آئی اے، وزیر اعظم، پیمرا اور الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ ملک میں مجھ پر 121 ایف آئی آر درج کی گئیں، مقدمات کوئٹہ، کراچی، اسلام آباد اور لاہور میں درج کیےگئے ہیں، نگران صوبائی حکومت کی جانب سے انتقامی کاروائیاں کی گئی ہیں تحریک انصاف کے سپورٹرز اوررہنماؤں کو نظربند اور گرفتار کیا جا رہا ہے-درخواست میں استدعا کی گئی ہےکہ درخواست کےفیصلے تک عدالت درج مقدمات میں کارروائی روکنےکا حکم دے پہلے سے درج مقدمات میں تادیبی کارروائی سے روکا جائے، عدالت بغیرنوٹس فوجداری کارروائی کرنے سے روکنے کا حکم جاری کرے

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

     عمران خان جھوٹے بیانیے پر سیاست کر رہے ہیں،

    رمضان میں ماہواری میں عورت کیا کرے؟

  • فلم سے لوگ مرعوب نہیں ،نفرت اور مزاحمتی جذبہ پیدا ہو گا،اعتزاز احسن

    فلم سے لوگ مرعوب نہیں ،نفرت اور مزاحمتی جذبہ پیدا ہو گا،اعتزاز احسن

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر قانون دان اعتزاز احسن نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ کے گھر کا دورہ کیا ہے

    اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ آئی جی جانتا ہے کہ اس نے نگران حکومت کے ساتھ رخصت ہو جانا ہے ،عمران خان کے گھر جاتے ہیں اُس وقت جب وہ اسلام آباد ہوتا ہے، پرویز اٰلہی کے ساتھ بھی وہی رسم دہرائی گئی ہے ،یہ جو ساری واردات ہے پولیس کی جب چلی ہے تو اس سے لوگوں کو زیادہ آگاہی ملی ہے، اس بربریت اور فاشزم سے حکومت اور اس کے اتحادیوں کو نقصان ہوا ہے، اس فلم سے لوگ مرعوب نہیں ہوں گے،اس کے خلاف نفرت اور مزاحمتی جذبہ پیدا ہو گا،یہ حالات مزید خرابی کا باعث بنیں گے،ان کی منشا ہے کہ یہ مذاکرات سے نکل جائیں،مذاکرات سے نکلنے پر حکومت موقف اپنائے گی کہ یہ مذاکرات سے نکل گئے، یہ عمران خان کو ٹائٹ سپاٹ میں لانا چاہتے ہیں،اس میں منصوبہ تو نہیں ہے جس سے کچھ حاصل کرنا ہے،اگر 2 مئی کو ادھر سے بائیکاٹ ہو جائے تو سارا 14 مئی کے انتخابات کا حکم متاثر ہو گا، الیکشن کمیشن کہہ رہا ہے کہ ہمارے پاس کاغذ نہیں ہیں، یہ کوشش کر رہے ہیں کہ عدالت کو مجبور کر دیں کہ نوے دن کیلئے انتخابات ملتوی کروا دیں،

    اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ لاہور ہائیکورٹ سے ضمانت موجود تھی لیکن پولیس کو خبر نہیں تھی، اگر ہائیکورٹ کا حکم اعلان ہو جائے تو وہ لکھنے کی ضرورت نہیں، عدالت عظمی کا عدالت عالیہ کا حکم پر ہر کوئی پابند ہوتا ہے اگر وہ اعلان کر دیا جائے،اگر سپریم کورٹ اپنے آرڈر کو خود نہیں بدلتی تو پھر الیکشن 14 مئی کو ہی ہوں گے،میری پرویز الہٰی سے ملاقات نہیں ہوئی کیونکہ وہ گھر پر موجود نہیں سرکاری مشینری ٹیکس دہندہ عوام کے ماتحت ہونی چاہئیے یہ سوال تو قیام پاکستان سے پہلے سے پوچھا جا رہا ہے جب تک شہری ریاست جبر کی مشینری کو اپنے ماتحت نہیں کرتے ایسا ہوتا رہے گا،میں تو کافی عرصے سے کہہ رہا ہوں اسٹیبلشمنٹ کبھی نیوٹرل نہیں ہوتی،چوہدری پرویز الٰہی کے گھر ضمانت کے باوجود انکے گھر چھاپہ مارا گیا ،حکومت نے آرڈر دے دیا اس کے آرڈرز کی کاپی آئے بغیر صرف احکامات پر ہی عملدرآمد کرنا ضروری ہے،جو ساری کاروائی جو ہوئی ہے اس پر کاروائی ہو سکتی ہے،

    پولیس چھاپہ،کوئی نہ آیا، پولیس کے جاتے ہی پرویز الہیٰ سے یکجہتی کیلئے گھر کا دورہ

    اس بار تو پولیس نے آپ پر ڈکیتی کی دفعہ بھی لگا دی ہے

    پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ 

    ،عدالت نے دو ملزمان کے خلاف مقدمہ ختم کر دیا 

    تحریک انصاف کے‌صدر چودھری پرویز الہیٰ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ،پولیس کی جانب سے سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے، پرویز الہٰی کے گھر پر چھاپے کے دوران مزاحمت کرنے پر پولیس نے پرویز الہٰی سمیت 50 سے زائد نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا مقدمہ انسپکٹر اینٹی کرپشن کی مدعیت میں درج کیا گیا،

  • عمران خان کیخلاف 121 مقدمات،درخواست سماعت کیلئے مقرر

    عمران خان کیخلاف 121 مقدمات،درخواست سماعت کیلئے مقرر

    عمران خان کیخلاف 121 مقدمات درج کرنے کیخلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر کر دی گئی

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس باقر علی نجفی کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ 25 مئی کو سماعت کرے گا۔ لارجر بینچ میں جسٹس عالیہ نیلم، جسٹس طارق سلیم شیخ، جسٹس انوارالحق اور جسٹس امجد رفیق شامل ہیں۔سابق وزیراعظم عمران خان نے 121 مقدمات کو خارج کرانے کیلئے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا

    لاہور ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں سیکرٹری داخلہ، وزارت قانون، دفاع، سیکرٹری کیبنیٹ ڈویژن، چیف سیکرٹری، آئی جی پنجاب، اینٹی کرپشن، نیب، ایف آئی اے، وزیر اعظم، پیمرا اور الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ ملک میں مجھ پر 121 ایف آئی آر درج کی گئیں، مقدمات کوئٹہ، کراچی، اسلام آباد اور لاہور میں درج کیےگئے ہیں، نگران صوبائی حکومت کی جانب سے انتقامی کاروائیاں کی گئی ہیں تحریک انصاف کے سپورٹرز اوررہنماؤں کو نظربند اور گرفتار کیا جا رہا ہے-درخواست میں استدعا کی گئی ہےکہ درخواست کےفیصلے تک عدالت درج مقدمات میں کارروائی روکنےکا حکم دے پہلے سے درج مقدمات میں تادیبی کارروائی سے روکا جائے، عدالت بغیرنوٹس فوجداری کارروائی کرنے سے روکنےکا حکم جاری کرے۔

    جو عدالتی فیصلے پر عمل نہیں کرے گا وہ نااہل ہو جائے گا،اعتزاز احسن

    چیف جسٹس سمیت سپریم کورٹ کے 8 ججز کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر

    مستحکم افغانستان خطے میں امن کیلئے ضروری

  • عمران خان کی تین مئی تک عبوری ضمانت منظور

    عمران خان کی تین مئی تک عبوری ضمانت منظور

    افسران کیخلاف بغاوت پر اُکسانے کا کیس ،عمران خان کی تین مئی تک عبوری ضمانت منظور کر لی گئی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی ایک لاکھ مچلکوں کی عوض ضمانت منظور کرلی ،عمران خان کی تھانہ رمنا میں درج غداری کے مقدمہ میں ضمانت منظورکی گئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے عمران خان کی درخواست پر سماعت کی،ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ عمران خان خود کہتے ہیں اب عدالت آئیں اور بعد میں کہتے ہیں سیکورٹی خدشات ہیں،وکیل عمران خان نے کہا کہ عدالت سے استدعا ہے تمام کیسز ایک ساتھ ہی رکھے جائیں،ایف ایٹ کچہری میں قتل بھی ہو گیا ادھر کیسے پیش ہوں،ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ عمران خان کی درخواست آتی ہے اور سماعت کیلئے مقرر ہو جاتی ہے، کسی اللہ دتہ کی درخواست کو بھی عمران خان کی طرح ٹریٹ کیا جانا چاہیے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کبھی ایسا ہوا کہ آپ کسی اللہ دتہ کیلئے پیش ہوئے ہوں؟

    سلمان صفدر نے عدالت میں کہا کہ مئی میں عدالتوں کی منتقلی کا عمل ہوگا تو وقت چاہیے ہوگا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالتوں کی منتقلی کا مسئلہ ہمارا ہے آپکا نہیں ، عدالت نے فریقین کو نوٹسسز جاری کر دیئے،عدالت نےعمران خان کو شامل تفتیش ہونے کی ہدایت کر دی،عدالت نےعمران خان کے وکلاء سے آئندہ سماعت پر درخواست کے قابل سماعت ہونے پر دلائل طلب کر لئے،عدالت نے عمران خان کی 3 مئی تک حفاظتی ضمانت منظور کرلی

    قبل ازیں حریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئے ،اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچنے پر عمران خان کی گاڑی کو احاطہ عدالت داخل ہونے سے روک دیا گیا، عمران خان کے ہمراہ پارٹی رہنما ،کارکنان بھی موجود تھے، عمران خان کے وکلا کی جانب سے عمران خان کی گاڑی کو عدالتی احاطے میں داخلےکی اجازت کے لیے درخواست دائرکردی گئی ، جس میں کہا گیا کہ عمران خان سابق وزیر اعظم ہیں ان کی جان کو خطرات ہیں ان کی گاڑی کو عدالتی احاطےمیں داخلےکی اجازت دی جائے، عمران خان کی گاڑی کو اندر جانے کی اجازت نہیں ملی جس کے بعد عمران خان پیدل عدالت گئے، اس موقع پر عمران خان کے گرد اہلکاروں نے حفاظتی شیلڈ اٹھا رکھی تھیں

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو

    زمان پارک، اسلحہ ملا،شرپسند عناصر تھے،آئی جی سب دکھائینگے،وزیر داخلہ

    اس بار تو پولیس نے آپ پر ڈکیتی کی دفعہ بھی لگا دی ہے

  • عمران خان کی اسلام آباد کی عدالت میں پیشی

    عمران خان کی اسلام آباد کی عدالت میں پیشی

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئے

    اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچنے پر عمران خان کی گاڑی کو احاطہ عدالت داخل ہونے سے روک دیا گیا، عمران خان کے ہمراہ پارٹی رہنما ،کارکنان بھی موجود تھے، عمران خان کے وکلا کی جانب سے عمران خان کی گاڑی کو عدالتی احاطے میں داخلےکی اجازت کے لیے درخواست دائرکردی گئی ، جس میں کہا گیا کہ عمران خان سابق وزیر اعظم ہیں ان کی جان کو خطرات ہیں ان کی گاڑی کو عدالتی احاطےمیں داخلےکی اجازت دی جائے، عمران خان کی گاڑی کو اندر جانے کی اجازت نہیں ملی جس کے بعد عمران خان پیدل عدالت گئے، اس موقع پر عمران خان کے گرد اہلکاروں نے حفاظتی شیلڈ اٹھا رکھی تھیں

    عمران خان کی پیشی کے موقع پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں عمران خان کی آمد سے قبل کمرہ عدالت خالی کرا یا گیا اورکمرہ عدالت کو بم ڈسپوزل اسکواڈ نے کلیئرکیا ڈرون کیمروں کے ذریعے بھی ہائیکورٹ کی سکیورٹی مانیٹرنگ کی جارہی ہے

    عمران خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ پیشی کے موقع پر میڈیا سے غیر رسمی بات کی ہے،عمران خان نے شاہ محمود قریشی اور فواد چوہدی کی موجودگی میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ ان دونوں کو کہہ رہا ہوں اگر حکومت فوری اسمبلی توڑ کر الیکشن کراتی ہے تو ہی مذاکرات ہوں گے، اگر وہ دوبارہ وہی ستمبر اکتوبر کی بات کرتے ہیں تو کوئی ضرورت نہیں، اب بال حکومت کے کوٹ میں ہے،ایک دن الیکشن کرانے ہیں تو کرائیں، 14 مئی کی تاریخ گزر گئی تو آئین ٹوٹ جائے گا ،ہم قانون کے مطابق چل رہے ہیں ،مذاکرات ایک جیسے لوگ کرتے ہیں،وہ قانون شکنی کر رہے ہیں،وہ اور ہم ایک جیسے نہیں،آج یہاں توہین ڈرٹی ہیری کیلئے آیا ہوں کیا اس سے ساری دنیا میں مذاق نہیں اڑے گا۔عمران خان نے جنرل باجوہ اور کشمیر سے متعلق حامد میر کے بیان پر جواب میں کہا کہ مجھے اس سے بھی زیادہ چیزیں پتہ ہیں مگر یہ نیشنل سکیورٹی کا مسئلہ ہے، میں نہیں چاہتا کوئی انٹرنیشنل خبر بن جائے اور ملک کا نقصان ہو ، جنرل ریٹائرڈ باجوہ خود کہتا کہ عمران خان خطرناک ہے،

    قبل ازیں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان عدالت پیشی کے لئے لاہور سے اسلام آباد روانہ ہوئے ،عمران خان ایک قافلے کی شکل میں لاہور سے اپنی رہائشگاہ سے روانہ ہوئے، عمران خان موٹروے سے اسلام آباد گئے، زمان پارک سے روانگی کے وقت کارکنان نے عمران خان کے حق میں نعرے لگائے،

    عمران خان پر عسکری حکام پر الزامات کے تناظر میں بغاوت پر اکسانے کا کیس ہے ان کے خلاف مجسٹریٹ کی مدعیت میں تھانہ رمنا میں مقدمہ درج کیا گیا تھا، عمران خان نے حفاظتی ضمانت کروا رکھی تھی جو 26 اپریل کو ختم ہو چکی ہے،

    عمران خان کے وکلا نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست ضمانت دائر کرتے ہوئے آج ہی درخواست ضمانت پر سماعت کی استدعا کی ہے ،عمران خان کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ شدید سکیورٹی تھریٹس ہیں جس کی وجہ سے دوبارہ قاتلانہ حملہ ہوسکتا ہے عدالت ٹرائل کورٹ کے بجائے خود عبوری ضمانت منظور کرے ،

    دوسری جانب ترجمان اسلام آباد کیپیٹل پولیس کا کہنا ہے کہ عمران خان کی عدالت پیشی پر مؤثر سکیورٹی اقدامات کیے جائیں گے، ایف آئی آر قانون کے مطابق درج ہوتی ہیں جن کا فیصلہ عدالت کرتی ہے قانون کی نظر میں کسی کو کوئی امتیازی حیثیت حاصل نہیں، امید ہے کہ عمران خان اور ان کے ساتھی عدالت پیشی پرقانون کا احترام کریں گے۔

    عمران خان کے خلاف تھانہ رمنا میں مجسٹریٹ کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا تھا، درج ایف آئی آر کے مطابق چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے انٹرویو میں حساس ادارے کے آفیسر سے متعلق نازیبا الفاظ کا استعمال کیا۔ حساس اداروں کے مختلف افسران کے نام لے کر انہیں بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔ایف آئی آر میں کہا گیا کہ عمران خان مذموم ارادوں کے مقاصد کے لیے سوشل میڈیا کا بھی سہارا لیتے ہیں۔ عمران خان کا یہ عمل ملک و ریاست کی سالمیت کے لیے خطرہ ہے۔ مقدمے کے مطابق عمران خان نے اپنی تقاریر سے فوج، مختلف گروہوں اور طبقوں میں انتشار پھیلایا ہے عمران خان نے اپنی تقریرمیں فوجی افسران کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کیے انہوں نے فوجی افسران اوران کے اہلخانہ کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا

    عمران خان موو کرتے ہیں تو انکے ساتھ سیکیورٹی ہوتی ہے؟حکومت سے جواب طلب

    اس بار تو پولیس نے آپ پر ڈکیتی کی دفعہ بھی لگا دی ہے

    زمان پارک، اسلحہ ملا،شرپسند عناصر تھے،آئی جی سب دکھائینگے،وزیر داخلہ

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے

  • جلاﺅ گھیراﺅ، پولیس پر تشدد کیس، پی ٹی آئی رہنما عدالت پیش

    جلاﺅ گھیراﺅ، پولیس پر تشدد کیس، پی ٹی آئی رہنما عدالت پیش

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور کی انسداد دہشتگردی عدالت میں جلاﺅ گھیراﺅ اور پولیس پر تشدد مقدمہ کیس کی سماعت ہوئی،

    انسداد دہشتگردی عدالت کی جج عبہر گل نے کیس کی سماعت کی ،تحریک انصاف کے رہنماؤن یاسمین راشد، اسد عمر، عمیر نیازی، مسرت چیمہ، فرخ حبیب نے حاضری مکمل کرائی،جے آئی ٹی کے سربراہ آفتاب پھلروان بھی عدالت میں پیش ہوئے،جج انسداد دہشتگردی عدالت نے استفسار کیا کہ تفتیش میں کیا پراگرس ہے؟ سربراہ جے آئی ٹی نے عدالت میں کہا کہ فرخ حبیب ، مسرت چیمہ نے تفتیش جوائن نہیں کی، وکیل مسرت چیمہ نے کہا کہ ہم نے جے آئی ٹی کو چیلنج کیا ہوا ہے،جج عبہر گل نے کہا کہ اگر جے آئی ٹی ختم بھی ہو جاتی ہے تو بیان تو ریکارڈ کرانا ہے ،عدالت نے اسد عمر، فرخ حبیب اوردیگر کی عبوری ضمانت میں 6 مئی تک توسیع کرتے ہوئے کہا کہ 6 مئی کو کیس سن کے فیصلہ کریں گے عدالت نے مسرت چیمہ اور فرخ حبیب کو آج ہی شامل تفتیش ہونے کی ہدایت کردی

    عدالت پیشی کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنما فرح حبیب کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ سے جعلی قراردادیں منظور کی جارہی ہیں،ن اورش کی لڑائی اتنی بڑھ چکی، لگتا ہے شہبازشریف کو نااہل کروانا چاہتے ہیں یہ شکست کے خوف سے انتخابات سے بھاگ رہے ہیں،سپریم کورٹ کے فیصلے پر اگر عمل نہ ہوا تو سڑکوں پر فیصلے ہوں گے اگر اب یہ الیکشن نہیں کرواتے تو پھر کبھی الیکشن نہیں ہوں گے ،آئین کو پاﺅں تلے روندنے کی اجازت نہیں دیں گے

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    ویڈیو آ نہیں رہی، ویڈیو آ چکی ہے،کپتان کا حجرہ، مرشد کی خوشگوار گھڑیاں

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

    عمران خان پرلاٹھیوں کی برسات، حالت پتلی، لیک ویڈیو، خواجہ سرا کے ساتھ

    عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا