الیکشن کمیشن کے مطابق چئیرمین تحصیل کونسل حویلیاں، ایبٹ ٓباد اور تحصیل کونسل متھرا، پشاور کی خالی نشستوں پر ضمنی بلدیاتی انتخابات کے لئے کاغذات نامزدگی جمع کرانیوالے امیدواروں کی فہرست جاری کردی گئ،
الیکشن کمیشن کے مطابق پشاور متھرا تحصیل چئیرمین کی نشست کے لئے 15 اور حویلیاں کی چئیرمین کی نشست کے لئے 10 امیدواروں نے کاغذات جمع کرائے۔
کاغذات نامزدگیوں کی جانچ پڑتال 14جولائی سے 16جولائی 2023 کو ہوگی۔کاغذات کی منظوری اور مسترد ہونے کے خلاف اپیلیں 17جولائی سے 18جولائی 2023 تک داخل کی جاسکیں گی۔ ان اپیلوں پر فیصلہ 20جولائی 2023 تک کیا جائیگا
الیکشن کمیشن نے کہا کہ امیدواروں کی نظرثانی شدہ فہرست 21جولائی 2023کو جاری کی جائیگی، اور امیدوار اپنے کاغذات نامزدگی 22جولائی 2023 تک واپس لے سکیں گے۔ اسکے علاوہ 23جولائی 2023 کو امیدواروں کی حتمی فہرست جاری کرکے ان کو انتخابی نشانات الاٹ کئے جائیں گے۔
جبکہ پولنگ 6 اگست کو ہوگی۔ جسکے بعد 8اگست 2023 کو ریٹرننگ افسران کی جانب سے ختمی نتیجے کا اعلان کیا جائے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری ضابطہ اخلاق کے مطابق ان اضلاع میں سرکاری ملازمین کی ترقیوں اور تبادلوں پر پابندی عائدکی گئی ہے۔
وزیراعظم، سپیکر/ڈپٹی سپیکر قومی و صوبائی اسمبلی، وفاقی اور صوبائی وزراء سمیت عوامی نمائیندوں کا ان کونسلوں میں انتخابات تک جانے اور وہاں ترقیاتی منصوبوں کے اعلانات پر پابندی ہوگی۔
Tag: ضمنی

کے پی کے خالی نشستوں پر ضمنی بلدیاتی انتخابات کے لئے کاغذات نامزدگی کی فہرست جاری کردی گئ،

کرم این اے 45:ضمنی الیکشن میں تحریک انصاف نے میدان مارلیا
پشاور:خیبرپختونخوا کے ضلع کرم میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 45 پر ضمنی انتخاب میں تحریک انصاف نے میدان مارلیا۔اس حلقے سے پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان بھاری لیڈ سے کامیاب ہوگئے ہیں
غیر ختمی غیر سرکاری تنائج کے مطابق چیئرمین تحریک انصاف عمران خان 20 ہزار 748 ووٹ لے کر جیت گئے جبکہ حکمران اتحاد کے حمایت یافتہ جے یو آئی امیدوار جمیل خان 12 ہزار 718 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔
ضمنی انتخاب کے لئے پولنگ کا عمل صبح 8 بجے شروع ہوا جو شام 5 بجے تک بلا تعطل جاری رہا۔ این اے 45 کی نشست پر پاکستان تحریک انصاف کے رکن فخر زمان کے مستعفی ہونے سے خالی ہوئی تھی۔
حلقے میں کل رجسٹرڈ ووٹرزکی تعداد ایک لاکھ 98 ہزار618 ہیں جن میں سے مرد ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ 11 ہزار349 ہے جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد87 ہزار 269 ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق حلقے میں کل 143 پولنگ اسٹشنز قائم کئے گئے تھے۔
خیال رہے کہ تحریک انصاف کی وفاقی حکومت کے خاتمے کے بعد خیبر پختونخوا میں ہونے والے تمام ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی ہی کامیاب ہوئی ہے۔

پنجاب اسمبلی کے 3 حلقوں میں ضمنی الیکشن، پی ٹی آئی ن لیگ کی دو سیٹیں لے اُڑی
لاہور:پنجاب اسمبلی کےتین حلقوں میں ضمنی الیکشن کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج سامنے آگئے۔ ضمنی الیکشن میں بڑا اپ سیٹ ہو گیا۔ صوبائی اسمبلی کے تین حلقوں میں مسلم لیگ ن کی دو سیٹیں پی ٹی آئی جیت گئی جبکہ شیخوپورہ کی اپنی سیٹ بچانے میں ن لیگ کامیاب ہوگئی۔
پی پی 139 شیخوپورہ
غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پی پی 139 شیخوپورہ سے مسلم لیگ ن کے چودھری افتخار بھنگو 36435 ووٹ لیکر کامیاب ٹھہرے، پی ٹی آئی کے ابو بکر شرقپوری 34973 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔
یاد رہے کہ 2018ءکے عام انتخابات میں یہ سیٹ پاکستان مسلم لیگ ن نے جیتی تھی، اس وقت لیگی امیدوار جلیل احمد شرقپوری نے فتح کو گلے لگایا تھا، پنجاب میں نمبر گیم کی صورتحال کے دوران انہوں نے ن لیگ سے استعفیٰ دیدیا تھا اور پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔ جس کے بعد ان کی جگہ پر ٹکٹ جلیل شرقپوری کے کزن ابو بکر شرقپوری کو دیا تھا۔
پی پی 209 خانیوال:
پی پی 209 خانیوال میں عمران خان کا بلا چل گیا۔غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پی پی 209 کے ضمنی الیکشن پاکستان تحریک انصاف نے تقریباً چودہ ہزار کی ووٹوں کی برتری سے جیت لیا ۔ پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار محمد فیصل خان نیازی 71586 ووٹ لیکر کامیاب ٹھہرے جبکہ پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار چودھری ضیاء الرحمان نے 57864 ووٹ لیکر دوسری پوزیشن حاصل کی تھی۔
واضح رہے کہ 2018ء کے عام انتخابات میں پی پی 209 خانیوال سے پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار محمد فیصل خان نیازی نے 55214 ووٹ لیکر کامیابی حاصل کی تھی، پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار عبدالرزاق خان 38937 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے تھے۔
پی پی 241 بہاولنگر
پی پی 241 بہاولنگر میں بھی عمران خان کے کھلاڑی نے چھکا مار دیا۔پی پی 241 میں پاکستان تحریک انصاف نے پاکستان مسلم لیگ ن کو تقریبا 9 ہزار سے زائد ووٹوں سے شکست دیدی۔
پی ٹی آئی کے امیدوار ملک مظفر خان اعوان نے 57537 ووٹ لیکر فتح حاصل کی جبکہ مسلم لیگ ن کے امیدوار امان اللہ ستار باجوہ نے 48650 ووٹ حاصل کیے۔
خیال رہے کہ 2018ء کے عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار کاشف محمود نے 48543 ووٹ لیکر کامیابی حاصل کی تھی ، پی ٹی آئی کے امیدوار ملک محمد مظفر خان نے 44184 ووٹ لیکر دوسری پوزیشن حاصل کی تھی تاہم جعلی ڈگری کی پاداش میں کاشف محمود کو نا اہل کر دیا گیا تھا۔

ملک کے 11 حلقوں میں ضمنی انتخاب کا دنگل آج سجے گا:کانٹے دارمقابلوں کی توقع
اسلام آباد:قومی اور صوبائی اسمبلی کے 11 حلقوں میں ضمنی انتخاب کا دنگل آج اتوار 16 اکتوبر کو سجے گا، جس کے انتظامات مکمل کرلیے گئے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سیکیورٹی انچارجز کو بھی پریزیڈائیڈنگ افسران کی طرح مجسٹریٹ کے اختیارات دے دیئے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ملک کے 11 حلقوں میں ضمنی انتخابات کیلئے تیاریاں مکمل کرلیں، قومی اسمبلی کے 8 اور 3 صوبائی حلقوں پر پولنگ صبح 9 سے شام 5 بجے تک ہوگی، جس میں مجموعی طور پر 44 لاکھ 88 ہزار سے زائد ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔
قومی اسمبلی کے جن حلقوں پر ضمنی انتخاب ہوگا ان میں خیبرپختونخوا کے 3، کراچی کے 2 اور پنجاب کے 3 حلقے شامل ہیں جبکہ تینوں صوبائی نشستیں پنجاب اسمبلی کی ہیں۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق ضمنی انتخابات میں 24 لاکھ 60 ہزار مرد اور 20 لاکھ 28 ہزار خواتین ووٹرز ووٹ ڈالیں گی، گیارہ حلقوں میں 2 ہزار 937 پولنگ اسٹیشنز اور 9 ہزار 869 پولنگ بوتھ قائم کئے گئے ہیں، تمام حلقوں میں 747 پولنگ اسٹیشنز انتہائی حساس اور 694 حساس قرار دیئے گئے ہیں۔
میری قوم کے بچوں کو اسکولوں میں سیرت النبیﷺ پڑھانے کی ضرورت ہے،عمران خان
الیکشن کمیشن کے مطابقق ان 11 حلقوں میں 100 امیدواران میدان میں ہیں، ووٹرز اپنی اپنی باری پر ووٹ کاسٹ کرسکیں گے جبکہ حاملہ خواتین، خواجہ سرا، معذور اور بزرگ ووٹرز کو پہلے ترجیح دی جائے گی۔ای سی پی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ بلا خوف و خطر ووٹ ڈالنے پولنگ اسٹیشنز پر آئیں۔
تمام انتخابی عمل کی نگرانی چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ خود کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی کو قانون کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جائے گی، ہنگامہ آرائی یا پولنگ میں مداخلت کرنے پر فوری کارروائی ہوگی۔الیکشن کمیشن نے سیکیورٹی اداروں کے متعلقہ انچارجز کو مجسٹریٹ کے اختیارات تفویض کر دیے۔
الیکشن کمیشن نے سیکیورٹی اداروں کو اہم ہدایات جاری کر دیں۔ الیکشن کمیشن حکام کے مطابق ہدایات وزارت داخلہ کی فراہم کردہ رپورٹس کی روشنی میں جاری کی گئی ہیں۔
پاکستان میں مہنگائی، بیروزگاری میں خطرناک حد تک اضافہ:معاملات مزید خراب ہوسکتے…
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق پولنگ کے دن سیکیورٹی کے تین حصار رکھے گئے ہیں، پولیس پہلے، رینجرز، ایف سی دوسرے اور فوج تیسرے سیکیورٹی حصار کیلئے موجود رہے گی۔ پاک فوج، رینجرز اور ایف سی کے ڈیوٹی انچارجز کو مجسٹریٹ درجہ اول کے اختیارات حاصل ہوں گے۔
ووٹرز کو ہر صورت پُرامن اور محفوظ ماحول کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کردی گئی۔ الیکشن کمیشن حکام کا کہنا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے باہر بے ضابطگیوں کی اطلاع پریذائڈنگ افسر کو دینا سیکیورٹی عملے کی ذمہ داری ہوگی۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق پریذائڈنگ افسر کے کارروائی نہ کرنے پر متعلقہ سیکیورٹی انچارج مجسٹریٹ کا اختیار استعمال کرسکے گا۔

ضمنی انتخابات کے لیے فوج کی تعیناتی کی منظوری
اسلام آباد: کراچی میں ہونے والے بلدیاتی اور گیارہ حلقوں میں ضمنی انتخابات کے لیے وزارت داخلہ نے رینجرز، فوج اور ایف سی کی تعیناتی کی منظوری دیدی۔ پاک فوج کوئیک رسپانس فورس کے طور پر تعینات ہو گی جس کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
پاکستان میں مہنگائی، بیروزگاری میں خطرناک حد تک اضافہ:معاملات مزید خراب ہوسکتے…
وزارت داخلہ کی طرف سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا گیا، جاری کردہ مراسلہ کے مطابق قومی اسمبلی کے 8 اور پنجاب اسمبلی کے 3 حلقوں میں پاک فوج کوئیک رسپانس فورس کے طور پر تعینات ہوگی رینجرز یا ایف سی کے اہلکار تمام پولنگ سٹیشنز کے باہر تعینات ہونگے۔
وزارت داخلہ کی طرف سے جاری کردہ مراسلہ کے مطابق ضمنی انتخابات کے لئے تعیناتیاں 15 تا 17 اکتوبر تک ہونگی، الیکشن کمیشن کی ڈیمانڈ کے مطابق اہلکار فراہم کئے جائیں گے۔
میری قوم کے بچوں کو اسکولوں میں سیرت النبیﷺ پڑھانے کی ضرورت ہے،عمران خان
مراسلہ کے مطابق کراچی ڈویژن کے تمام 7 اضلاع میں 23 اکتوبر کو شیڈول بلدیاتی انتخابات کے لئے بھی فوج کیو آر ایف پر ہو گی، سندھ رینجرز کے اہلکار کراچی ڈویژن کے تمام پولنگ اسٹیشنز کے باہر تعینات ہونگے، الیکشن کمیشن اجلاس میں وزارت دفاع اور افواج پاکستان کے نمائندے نے فوج ایف سی اور رینجرز تعینات کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔
آئی ایم ایف سے کیے گئے وعدے پورے کریں گے:وزیرخزانہ اسحاق ڈار
یاد رہے کہ این اے 22 مردان، این اے 24 چارسدہ، این اے 31 پشاور، این اے 237 ملیر کراچی ، این اے 239 کورنگی کراچی، این اے 108 فیصل آباد، این اے 118 ننکانہ صاحب، این اے 157 ملتان، پی پی 139 شیخوپورہ، پی پی 241 بہاولنگر، پی پی 209 خانیوال میں ضمنی انتخابات 16 اکتوبر کو شیڈول ہیں۔

الیکشن کمیشن نے ملک بھر میں قومی اور صوبائی سطح پر تمام ضمنی الیکشن ملتوی کر دیئے
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے ملک بھر میں قومی اور صوبائی سطح پر تمام ضمنی الیکشن ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان کا اہم اجلاس چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں منعقد ہوا، اجلاس میں ممبران الیکشن کمیشن ، سیکرٹری الیکشن کمیشن اور الیکشن کمیشن کے سینئر افسران نے شرکت کی۔
اجلاس میں سیکرٹری الیکشن کمیشن نے الیکشن کمیشن کو بریف کیا کہ پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا کی درج ذیل حلقہ جات میں الیکشن کمیشن نے ضمنی انتخابات کے لیے شیڈول دیا ہوا ہے جس کے مطابق پولنگ 11 ستمبر، 25 ستمبر اور 2 اکتوبر 2022ء کو ہو گی۔
جن حلقوں میں الیکشن ملتوی ہوئے ہیں ان میں این اے 157، پی پی 139 شیخوپورہ، پی پی 241 بہاولنگر، این اے 22 مردان، این اے 24 چارسدہ، این اے 31 پشاور، این اے 45 کرم، این اے 108 فیصل آباد، این اے 118 ننکانہ، این اے 237 کراچی، این اے 239 کراچی، این اے 246 کراچی، پی پی 209 خانیوال کے حلقے شامل ہیں۔
سیکرٹری الیکشن کمیشن نے بتایا کہ حالیہ تباہ کارشوں اور سیلاب سے سندھ، خیبرپختونخوا اور جنوبی پنجاب میں سیلاب کی تباہ کاریوں کی وجہ سے ذرائع آمدورفت مخدوش ہو چکے ہیں، عمارات تباہ ہو گئی ہیں، ٹرانسپورٹ کا نظام درہم برہم ہیں، اور قومی ایمرجنسی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ تمام قومی ادارے جن میں پولیس، پاک، فوج، رینجرز سمیت دیگر الیکشن ڈیوٹی میں تعینات کیے گئے تھے، سیلاب متاثرین میں خوراک کی ترسیل اور وبائی امراض کے پھیلاؤ کی وجہ سے ضروری امدادی کارروائیوں اور متاثرین کی محفوظ مقامات پر آباد کاری میں انتہائی حد تک مصروف ہیں، الیکشن کمیشن نے 23 اگست کو وزارت داخلہ کو ضمنی انتخابات کے پر امن انتخابات کے لیے پاک فوج، رینجرز سمیت دیگر کی خدمات حاصل کی تھیں، تاکہ پر امن انتخابات کروائے جا سکیں، لیکن تاحال مذکورہ قومی ایمرجنسی کی وجہ سے الیکشن کے انعقاد کے لیے ان کی تعیناتی کی یقین دہانی نہیں کروائی گئی۔ مزید برآں خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال کشیدہ ہے جہاں پر حالیہ دنوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے کیے گئے ہیں جس سے قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا ہے۔
ترجمان کے مطابق وزارت داخلہ نے جو فیڈ بیک دیا ہے اس میں کہا گیا ہے پاک فوج، رینجرز، ایف سی ملک میں سیلاب زدگان کی امدادی کارروائیوں، اندرونی سکیورٹی اور دہشتگردی کی کارروائیوں کی روک تھام میں مصروف ہیں، اسی طرح ملٹری اتھارٹیز نے بھی سیلابی قومی سانحہ کا حوالہ دیا ہے جس کی وجہ سے وزیراعظم نے نیشنل فنڈ بھی قائم کیا ہے اور عالمی طور پر امداد کی اپیل کی گئی ہے تاکہ اس قومی سانحہ سے نمٹا جا سکے اور کہا کہ فوج، رینجر اور ایف سی امدادی کارروائیوں میں مصروف ہے لہٰذا ان حالات کی وجہ سے امدادی کارروائیوں سے واپس بلانا اور پر امن الیکشن کے انعقاد کے لیے دستیابی مشکل ہے۔
بیان کے مطابق صوبائی الیکشن کمیشن سندھ، خیبرپختونخوا اور پنجاب نے بھی موجودہ حالات میں ضمنی انتخابات کے انعقاد کو ناممکن قرار دیا اور بتایا کہ مختلف سرکاری عمارتوں میں سیلاب متاثرین کو رکھا گیا ہے اور جہاں سے امدادی خوراک کی ترسیل بھی کی جا رہی ہے جو کہ پولنگ سٹیشنوں کے لیے مختص کی گئی تھیں۔
ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق تمام صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے تمام حلقوں میں ضمنی انتخابات کی صرف پولنگ تاریخوں کو ملتوی کیا جاتا ہے، باقی مراحل الیکشن کمیشن کے مطابق مکمل ہوں گے اور حالات کی بہتری اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی دستیابی پر الیکشن کمیشن جلد نئی پولنگ کی تاریخوں کا اعلان کیا جائے گا۔

این اے 245 :پی ٹی آئی رہنما فردوس شمیم نقوی کومنہ کی کھانی پڑی
کراچی:این اے 245 :پی ٹی آئی رہنما فردوس شمیم نقوی کومنہ کی کھانی پڑی ،اطلاعات کے مطابق سوشل میڈیا پراس وقت ایک ویڈیو گردش کررہی ہے جس میں کراچی کے حلقہ این اے 245 میں ہونے والی ضمنی انتخاب میں پولنگ کے دوران پی ٹی آئی رہنما فردوس شمیم نقوی کی پولنگ اسٹیشن کے اندرموجودگی پرسخت احتجاج کیا جارہا ہے
اس حوالےسے منظرعام پرآنے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پی ٹی آئی رکن اسمبلی فردوس شمیم نقوی ایک پولنگ اسٹیشن کے اندرآتے ہیں دھر لیے جاتے ہیں اوراس دوران دوسری پارٹی کے ورکرز فردوش شمیم نقوی کو پولنگ اسٹیشن کے اندرآنے پرآڑے ہاتھوں لیتے ہیں ،
سولجر بازار کے پولنگ اسٹیشن پر پی۔ٹی- آئی کے فردوس شمیم نقوی بلا جواز پولنگ اسٹیشن میں جاکر عملے کو ہراساں کر رہیں تھے جس پہ عوام نے فردوس شمیم کی درگت بنادی
یہ سیاسی ورکرز فردوس شمیم نقوی کے سامنے کھڑے ہوکربار بار یہ کہتے ہیں کہ یہ پی ٹی آئی کے ممبرصوبائی اسمبلی فردوس شمیم نقوی ہیں جن کوپولنگ اسٹیشن کے اندرجانے کا کوئی حق نہیں مگرپھر بھی وہ پولنگ اسٹیشن میں جاکراثرانداز ہونے کی کوشش کررہے ہیں اس دوران فردوس شمیم نقوی بھی بحث کرتےہیں اوریوں یہ بحث شدت اختیار کرجاتی ہے ،
اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ فردوس شمیم نقوی اس کشمکش کے دوران اپنی گاڑی میں بیٹھ کروہاں سے چلے جاتے ہیں
اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ دوسری سیاسی جماعت کے ورکروں کا کہنا تھا کہ فردوس شمیم نقوی کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ پولنگ اسٹیشن کے اندر جائیں ،ویسے بھی وہ اس علاقے سے تعلق نہیں رکھتے ، اس لیے ان کی اس طرز عمل کی مخالفت کی گئی
یاد رہے کہ قومی اسمبلی کے حلقے اين اے دو سو پينتاليس ( NA 245 ) ميں ضمنی اليکشن آج بروز اتوار 21 اگست کو ہو رہا ہے، جس کیلئے پولنگ کے وقت کا آغاز ہوگيا، جو بغیر کسی وقفے کے شام 5 بجے تک جاری رہے گی۔
ايم کيوايم، پی ٹی آئی، پی ایس پی، ٹی ایل پی اور فاروق ستار سميت پندرہ اميدواروں ميں سخت مقابلہ متوقع ہے۔ ضمنی انتخاب میں 8 آزاد امیدوار بھی حصہ لے رہے ہیں، جس میں فاروق ستار بھی شامل ہیں۔
واضح رہے کہ یہ نشست پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کے رہنما ڈاکٹر عامر لياقت کے انتقال کے باعث خالی ہوئی تھی

این اے 245 ، ضمنی الیکشن کیلئے پولنگ مکمل،پی ٹی آئی کے محمود مولوی آگے
کراچی کے حلقہ این اے 245 پر ضمنی انتخاب میں پولنگ کا وقت ختم وتے ہی ووٹوں کی گنتی شروع کردی گئی۔ کراچی کےحلقہ این اے 245 کے100 پولنگ اسٹیشنزکےغیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق تحریک انصاف کےمحمود مولوی10471 ووٹ لے کر پہلے نمبر پرہیں،ایم کیو ایم کےمعیدانور 3857 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر اورٹی ایل پی کےمحمدعلی رضا 3058 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پرہیں.
الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ تین پولنگ اسٹیشن پر ایک گھنٹے کا اضافی وقت دیا گیا ہے، پی ایس 143،144اور 56 کیلئے پولنگ وقت میں ایک گھنٹہ کا اضافہ کیا گیا ہے۔الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ دو پولنگ اسٹیشن گارڈن اور ایک محمود آباد میں ہے۔
اس سے قبل این اے 245 کی نشست پر ضمنی الیکشن کے لیے پولنگ صبح 8 بجے شروع ہوئی اور بغیر کسی وقفہ شام 5 بجے تک جاری رہی ۔ ضمنی انتخاب کے میدان میں 17 امیدوار موجود ہیں۔ پی ٹی آئی نے محمود باقی مولوی اور ایم کیو ایم نے معید انور کو میدان میں اُتارا ہے جبکہ ٹی ایل پی کے محمد احمد رضا اور پی ایس پی کے سید حفیظ الدین مقابلے میں ہیں۔ پیپلز پارٹی اور جے یو آئی ف ایم کیو ایم کے امیدوار کی حمایت کا اعلان کرچکی ہیں۔
ایم کیو ایم سے ناراضگی کے بعد ڈاکٹر فاروق ستار این اے 245 کے ضمنی انتخاب میں آزاد اُمیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑ رہے ہیں، این اے 245 پر 2018 کے عام انتخابات میں پی ٹی آئی کے عامرلیاقت حسین نے ایم کیو ایم کے ڈاکٹر فاروق ستار کو شکست دی تھی۔
واضح رہے کہ قومی اسمبلی کی نشست پی ٹی آئی کے ڈاکٹر عامر لیاقت کے انتقال کے باعث خالی ہوئی تھی۔ضمنی انتخاب کے لیے 263 پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے ہیں جس میں 60 حساس اور 203 انتہائی حساس ہیں جبکہ کوئی بھی نارمل نہیں ہے۔ فوج اور رینجرز کوئیک رسپانس فورس کے طور پر موجود ہیں، پولیس نے بھی امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے جامع سیکورٹی پلان بنایا ہے۔
حلقے میں مجموعی ووٹرز کی تعداد 5 لاکھ 15 ہزار 33 ہے، 2 لاکھ 74 ہزار 987 مرد اور 2 لاکھ 40 ہزار 16 خواتین ہیں۔کراچی پولیس چیف جاوید عالم اوڈھو کا کہنا ہے کہ 263 پولنگ اسٹیشنز پر 6 ہزار سے زائد کی نفری سیکیورٹی فراہم کررہی ہے، 1048 پولنگ بوتھ ہیں جنہیں محفوظ کرنا ہے، ہر پولنگ اسٹیشن پر ایک افسر اور 10 جوان تعینات ہیں۔ضمنی انتخاب کے لیے الیکشن کمیشن اسلام آباد میں مرکزی کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے۔
پاک سر زمین پارٹی (پی ایس پی) کے چیئرمین مصطفیٰ کمال نے الزام عائد کیا ہے کہ آج کراچی میں جاری ضمنی انتخاب کے لیے پولنگ اسٹیشنز میں ایم کیو ایم پاکستان کے کارکن بیٹھے ہوئے ہیں، جنہیں پریزائیڈنگ افسر بنایا گیا ہے۔کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ یہ سب ایم کیو ایم کی فرمائش پر کیا جا رہا ہے، نومبر میں اہم فیصلے ہونے ہیں اس لیے کھلی چھٹی دی گئی ہے، نومبر گزر گیا تو پھر ہنی مون ٹائم ختم ہو جائے گا، دسمبر آئے گا تو یہ سب جیلوں میں ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مختلف کارکنوں کے گھروں پر چھاپہ مارا گیا اور بدتمیزی کی گئی، پی ایس پی اخلاقی طور پر یہ الیکشن جیت چکی ہے۔مصطفیٰ کمال کا یہ بھی کہنا ہے کہ اپنی مرضی کا نتیجہ لینے کے لیے یہ ڈرامہ کیا جارہا ہے۔
دوسری جانب الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ایک سیاسی جماعت کے سربراہ نے ایم کیو ایم کے کارکنوں کو پریزائیڈنگ افسر لگانے کا بے بنیاد الزام لگایا ہے۔الیکشن کمیشن نے یہ بھی کہا ہے کہ تمام پریذائیڈنگ افسران سرکاری ملازم ہیں، ان کی تعیناتی قانون کے مطابق ہے۔
اس سے قبل کراچی کے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 245 میں آج ضمنی انتخاب میں ووٹنگ جاری ہے تاہم پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عمران اسماعیل نے پولنگ مکمل ہونے سے قبل ہی دھاندلی کا الزام لگا دیا۔کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا تھا کہ پولنگ اسٹیشنوں پر پہنچنے والا سامان معلوم نہیں محفوظ ہاتھوں میں ہے یا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن جانب داری کا مظاہرہ کر رہا ہے، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کو پیپلز پارٹی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ نشست آپ کی ہے۔اس پریس کانفرنس میں پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنوں نے صحافیوں سے بدتمیزی کی۔
پی ٹی آئی کارکنان نے چینلز کے مائیک اٹھا کر سیلفیز لینے کی کوشش کی، صحافیوں کے منع کرنے پر کارکنان نے بدتمیزی، ہاتھا پائی اور گالم گلوچ بھی کی۔عمران اسماعیل نے مختلف پولنگ کیمپ کا دروہ بھی کیا۔

ضمنی الیکشن:پی ٹی آئی16سیٹوں پرکامیاب،ن لیگ کی 3نشستیں،جبکہ ایک آزادامیدوارکامیاب
لاہور: سابق وزیراعظم عمران خان کا بیانیہ جیت گیا، غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق 20 میں سے 16سیٹوں پر پی ٹی آئی، 3 پر مسلم لیگ ن جبکہ ایک پر آزاد امیدوار کامیاب ہوا۔ ایک پر تحریک انصاف کو برتری حاصل ہے۔
ان 20 نشستوں میں لاہور کی 4، راولپنڈی کی ایک، خوشاب کی ایک، بھکر کی ایک، فیصل آباد کی ایک، جھنگ کی 2، شیخوپورہ کی ایک، ساہیوال میں ایک، ملتان میں ایک، لودھراں میں 2، بہاولنگر میں ایک، مظفر گڑھ میں 2، لیہ میں ایک اور ڈیرہ غازی خان کی ایک نشست شامل ہے۔
غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج
پی پی 7 راولپنڈی:
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کرنل (ر) شبیر اعوان 68902 ووٹ لیکر آگے جبکہ پاکستان مسلم لیگ ن کے راجہ صغیر احمد 68744 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔

2018ء کے عام انتخابات میں راجہ صغیر احمد نے بطورِ آزاد امیدوار فتح حاصل کی اور بعد میں تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔ انہوں نے ن لیگ اور پی ٹی آئی کے راجہ محمد علی اور غلام مرتضیٰ ستی کو شکست دی تھی۔
پی پی 83 خوشاب:
پاکستان تحریک انصاف نے ضمنی الیکشن کے دوران پی پی 83 کی نشست بھی جیت لی۔
غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پی پی 83 خوشاب میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدوار حسن اسلم نے کامیابی حاصل کی، انہوں نے 48475 ووٹ حاصل کیے۔
آزاد امیدوار اسلم بھاء نے 41752 ووٹ حاصل کر کے دوسری پوزیشن حاصل کی۔
2018ء کے عام انتخابات میں آزاد امیدوار ملک غلام رسول سنگھا کامیاب ہوئے تھے اور پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوئے تھے، انہوں نے مسلم لیگ ن کے امیدوار محمد آصف ملک، آزاد امیدوار ملک ظفر اللہ خان بگٹی اور تحریک انصاف کے گل اصغر خان کو زیر کیا تھا۔
پی پی 90 بھکر:
غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے عرفان اللہ نیازی 68982 ووٹ لیکر کامیاب ہوئے، جبکہ مسلم لیگ ن کے امیدوار سعید اکبر نوانی 59856 لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔
2018ء کے جنرل الیکشن میں آزاد امیدوار سعید اکبر خان نوانی نے فتح حاصل کی اور پی ٹی آئی میں شامل ہوئے، انہوں نے ن لیگ کے عرفان اللہ خان نیازی اور پی ٹی آئی کے احسان اللہ کو شکست دی تھی۔
پی پی 97 فیصل آباد:
غیر حتمی اور غیرسرکاری نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدوار علی افضل ساہی 44550 ووٹ لیکر آگے جبکہ مسلم لیگ ن کے محمد اجمل چیمہ 37016 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔
2018ء کے جنرل انتخابات میں انہی امیدواروں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہوا تھا، اجمل چیمہ نے بطورِ آزاد امیدوار فتح حاصل کر کے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی تھی۔
پی پی 125 ، 127جھنگ:
غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اعظم چیلہ نے 82382 ووٹ حاصل کیے اور فتح حاصل کی جبکہ پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار فیصل حیات جبوانہ نے 52128 ووٹ لیکر دوسری پوزیشن حاصل کی۔
پی پی 127 میں غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدوار مہر نواز بھروانہ نے 69986 ووٹ حاصل کر کے فتح کو گلے لگایا جبکہ مسلم لیگ ن کے امیدوار مہر اسلم بھروانہ نے 46825 ووٹ حاصل کیے۔
2018ء کے جنرل انتخابات میں پی پی 125 سے آزاد امیدوار فیصل حیات جبوانہ نے فتح سمیٹی تھی اور میاں اعظم چیلہ کو شکست دی تھی جبکہ پی پی 127 سے بھی آزاد امیدوار مہر محمد اسلم بھروانہ نے مہر محمد نواز بھروانہ کو پچھاڑا تھا۔
پی پی 140 شیخوپورہ:
غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار خرم شہزاد ورک نے 49 ہزار 734 ووٹ حاصل کیے جبکہ مسلم لیگ ن کے امیدوار میاں خالد محمود نے 32 ہزار 812 ووٹ حاصل کر کے دوسری پوزیشن حاصل کی۔
2018ء کے جنرل الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار میاں خالد محمود نے مسلم لیگ ن کے امیدوار یاسر اقبال کو شکست دی تھی۔
پی پی 158لاہور
پی پی 158 سے پاکستان تحریک انصاف کے اکرم عثمان نے 37463 ووٹ لیکر کامیابی حاصل کی، ن لیگ کے امیدوار رانا احسن شرافت 13906 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔
پی پی 167لاہور
غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے پی پی 167 سے امیدوار چودھری شبیر گجر نے فتح حاصل کی، انہوں نے 40206 ووٹ حاصل کیے، جبکہ مسلم لیگ ن کے امیدوار نذیر چوہان 26535 ووٹ حاصل کر سکے۔
پی پی 168لاہور
غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پی پی 168 میں مسلم لیگ ن کے امیدوار ملک اسد کھوکھر 25685 ووٹ لیکر پہلے نمبر پر رہے جبکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدوار 15 ہزار 81 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔
پی پی 170 لاہور
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدوار ظہیر عباس کھوکھر نے 23969 ووٹ حاصل کر کے کامیاب ٹھہرے، جبکہ مسلم لیگ ن کے امیدوار محمد امین ذوالقرنین نے 14916 ووٹ حاصل کیے۔
2018ء میں صوبائی دارالحکومت لاہور کے چار حلقوں میں مسلم لیگ ن کے امیدواروں کا جوڑ پاکستان تحریک انصاف کے امیدواروں سے پڑے گا۔ چاروں حلقوں میں پی ٹی آئی نے فتح حاصل کی تھی، تاہم حمزہ شہباز کو ووٹ دینے کی پاداش میں تمام امیدوار ڈی سیٹ ہو گئے ہیں۔
پی پی 202 چیچہ وطنی
پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار میجر (ر) غلام سرور نے 61 ہزار 989 ووٹ حاصل کر کے کامیاب ٹھہرے، جبکہ پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار نعمان لنگڑیال نے 59167 ووٹ حاصل کیے۔
2018ء کے جنرل الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار ملک نعمان لنگڑیال نے ن لیگ کے شاہد منیر کو 13 ہزار کی ووٹوں سے شکست دی تھی۔
پی پی 217 ملتان
غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق 122 پولنگ سٹیشنوں میں پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کے امیدوار مخدوم زین قریشی نے 46427 ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار محمد سلمان نعیم 40285 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔
واضح رہے کہ فاتح امیدوار زین قریشی سابق وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے صاحبزادے ہیں۔
محمد سلمان نعیم پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے منحرف رکن تھے اور جہانگیر ترین گروپ کے حصے ہونے کے باعث وزارتِ اعلیٰ کے الیکشن میں حمزہ شہباز کو ووٹ دینے کے باعث ڈی سیٹ ہوئے تھے۔
خیال رہے کہ 2018ء کے جنرل الیکشن میں بطورِ آزاد امیدوار محمد سلمان نعیم نے تحریک انصاف کے وائس چیئر مین شاہ محمود قریشی کو شکست دی تھی اور جہانگیر ترین کے توسط سے پی ٹی آئی میں شامل ہوئے تھے، ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ پی ٹی آئی کے دیرینہ کارکن تھے تاہم ان کو ٹکٹ نہیں دیا گیا جس کے باعث یہ آزاد امیدوار میدان میں اُترے تھے۔
پی پی 224، 228 لودھراں:
پی پی 228 لودھراں میں آزاد امیدوار رفیع الدین بخاری نے کامیابی حاصل کی، انہوں نے 42719 ووٹ حاصل کیے۔ پی ٹی آئی کے کیپٹن (ر) عزت جاوید 34 ہزار 635 ووٹ لے کر دوسرے جبکہ مسلم لیگ ن کے نذٰیر احمد بلوچ 30 ہزار 841 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر رہے۔
پی پی 224 لودھراں سے پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار عامر اقبال شاہ 69265 ووٹ لیکر کامیاب ہوئے جبکہ مسلم لیگ ن کے امیدوار زوار حسین وڑائچ 55748 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔
2018ء کے جنرل الیکشن میں دونوں حلقوں زوار حسین وڑائچ نے ن لیگ کے رہنما محمد عامر اقبال شاہ اور نذیر احمد خان نے مسلم لیگ ن کے سیّد محمد رفیع الدین بخاری کو پچھاڑا تھا، پی ٹی آئی کے دونوں فاتح امیدوار اب ضمنی الیکشن میں ن لیگ کے پلیٹ فارم سے حصہ لے رہے ہیں۔
پی پی 237 بہاولنگر:
غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار فدا حسین وٹو نے 61248 ووٹ حاصل کیے اور کامیابی کو گلے لگایا، پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار سیّد آفتاب رضا نے 25227 ووٹ حاصل کیے۔۔
2018ء کے جنرل الیکشن میں آزاد امیدوار فدا حسین نے پاکستان تحریک انصاف کے محمد طارق عثمان کو شکست دی تھی، اور بعد میں جہانگیر ترین خان کے توسط سے پی ٹی آئی میں شامل ہوئے تھے۔
پی پی 272، 273 مظفر گڑھ:
پی پی 272 میں پاکستان تحریک انصاف کے معظم جتوئی 49823 ووٹ لیکر فاتح ٹھہرے جبکہ زہرہ باسط بخاری 42995 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔
پی پی 273 میں پاکستان مسلم لیگ ن کے سبطین رضا 21795 ووٹ لیکر آگے تحریک انصاف کے یاسر عرفات جتوئی 21625 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔
2018ء کے بائی الیکشن کے دوران زہرہ بتول نے کامیابی حاصل کی تھی، انہوں نے آزاد امیدوار سیّد ہارون احمد بخاری کو ہرایا تھا جبکہ پی پی 273 میں پاکستان تحریک انصاف کے سبطین رضا بخاری نے آزاد امیدوار رسول بخش کو پچھاڑا تھا۔
پی پی 282 لیہ:
پاکستان تحریک انصاف کے قیصر عباس مگسی 43922 ووٹ حاصل کر کے کامیاب ٹھہرے جبکہ لالہ طاہر رندھاوا 29715 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔
2018ء کے الیکشن میں آزاد امیدوار لالہ طاہر رندھاوا نے پی ٹی آئی کے قیصر عباس خان کو شکست دیکر فتح حاصل کی تھی۔
پی پی 288 ڈی جی خان :
ضمنی الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) نے ڈیرہ غازی خان میں ن لیگ کو پچھاڑ دیا۔
پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار سیف الدین کھوسہ نے 56 ہزار 857 ووٹ لیکر کامیابی حاصل کی جبکہ مسلم لیگ ن کے امیدوار عبد القادر کھوسہ نے 33 ہزار 254 ووٹ حاصل کیے۔
2018ء کے جنرل الیکشن کے دوران اس حلقے میں محسن عطاء خان کھوسہ نے بطورِ آزاد امیدوار کامیابی حاصل کی تھی اور پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی تھی۔

ضمنی الیکشن، انتخابی مہم کا آج آخری دن،لاہور، بھکراورملتان میں رینجرز تعینات کرنے کا فیصلہ
پنجاب اسمبلی کے 20 حلقوں میں ضمنی الیکشن کیلئے آج انتخابی مہم کا آخری دن ہے، رات 12 بجے کے بعد انتخابی مہم پر پابندی ہوگی۔الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ تمام جماعتیں اور امیدوار آج رات انتخابی مہم ختم کردیں، رات 12 بجے کے بعد جلسہ جلوس کارنر میٹنگز پر پابندی ہوگی۔الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔پنجاب اسمبلی ضمنی انتخابات کے سلسلے میں جاری انتخابی مہم آج رات 12 بجے ختم ہو جائے گی۔
عمران خان سیاسی وفاداریاں بدلنے والے کیساتھ کھڑے کر لوٹوں کو ووٹ نہ دینے کا کہتے رہے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب اسمبلی کی 20 نشستوں پر ضمنی انتخاب 17 جولائی کو ہوگا۔ پی پی 7راولپنڈی، پی پی83 خوشاب،پی پی90 بھکر ، فیصل آباد کے حلقہ پی پی 97 ، جھنگ میں حلقہ پی پی125 ،127 اور شیخوپورہ میں پی پی 140 پر ضمنی انتخاب ہوگا۔اس کے علاوہ لاہور کی نشست پی پی 158، 167، 168 اور پی پی 170 پر ضمنی انتخاب ہوگا جبکہ ساہیوال میں پی پی202 ، پی پی217 ملتان، لودھراں کے حلقہ پی پی 224 اور 228 پر ضمنی الیکشن ہوگا۔بہاولنگر میں پی پی 237 اور مظفر گڑھ کے 3 حلقوں پی پی 237، 272، 273 پرضمنی انتخاب ہوگا۔ لیہ کے حلقہ پی پی 282 اور ڈیرہ غازی میں پی پی 288 پر بھی ضمنی انتخاب کا میدان سجے گا۔
آئین توڑنے والوں کے خلاف غداری کا مقدمہ چلنا چاہیے،مریم نواز
پنجاب میں 20 سیٹوں پر ضمنی الیکشن کے لیے امیدواروں کی جانب سے جوڑ توڑ کا سلسلہ جاری ہے۔پنجاب کے 20 حلقوں میں ضمنی انتخاب کے لیے مہم کا آج آخری دن ہے جس کے لیے امیدوار ووٹروں کو منانے کے لیے آخری جتن کر رہے ہیں اور وعدے قسموں کا کھلا استعمال کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ضمنی انتخابات کے دوران ماحول سازگار رکھنے کے لیے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے چیف سیکرٹری، آئی جی پنجاب اور متعلقہ اداروں کو ضمنی انتخابات کے دوران پر امن ماحول کو یقینی بنانے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت اجلاس میں کہا گیا کہ الیکشن کے دوران اسلحہ بردار اکٹھے کرنے والے امیدوار کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائےگی۔ پولنگ کے دوران شر پسند عناصر سے متعلق قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تحریری طور پر آگاہ کرنےکی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
صوبائی وزیر داخلہ عطا اللہ تارڑ کی زیر صدارت امن و امان اور ضمنی الیکشن کے دوران سکیورٹی صورتحال کے حوالے سے اجلاس منوقد ہوا. ئی وزیر داخلہ عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ اسلحہ رکھنا اور اس کی نمائش پر دفعہ 144 کا نفاذ عمل میں لایا جا چکا ہے،الیکشن کے دوران کسی کو اسلحہ رکھنے کی اجازت نہ ہوگیی،اسلحہ سے پاک کمپین کے دوران پولیس نے بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کیا ،دھاندلی کا الزام لگانے والے اب افسران کو دھمکیاں دینے پر اتر آئے ہیں، تحریک انصاف یقینی شکست دیکھ کر لوگوں کو بدامنی پر اکسا رہی ہے ،امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنانے کے لیے علی امین گنڈا پور اور مقبول گجر کے پنجاب داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے ۔پنجاب حکومت کی اطلاعات تھیں اور الیکشن کمیشن کی طرف سے بھی خط موصول ہوا ہے کہ علی امین گنڈا پور اور مقبول گجر پنجاب میں پرتشدد کاروائیاں کرنا چاہتے ہیں،پنجاب میں پرامن ،صاف اور شفاف انتخابات کو یقینی بنایا جائے گا.اسلحہ کے خلاف مکمل کریک ڈاؤن کیا جائے گا ، بد امنی پھیلانے والے عناصر سے قانون آہنی ہاتھوں سے نمٹے گا ۔ تحریک انصاف کے مسلح جتھے اپنی سازش میں ناکام ہوں گے ۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب اسمبلی کے 20 حلقوں میں 17 جولائی کو ہونے والے ضمنی الیکشن کی تیاریاں آخری مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں۔ذرائع کا بتانا ہے کہ الیکشن کمیشن نے 20 حلقوں کے لیے 47 لاکھ 30 ہزار 600 بیلٹ پیپرز چھاپے گئے ہیں جبکہ ایک لاکھ 53 ہزار657 اضافی بیلٹ پیپرز بھی چھاپے گئےہیں۔
ذرائع الیکشن کمیشن کے مطابق ضمنی الیکشن کے لیے بیلٹ پیپرز اور فارمز کی ریٹرننگ افسران کو ترسیل شروع کر دی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے آر اوز کے مجاز نمائندوں کو بیلٹ پیپرز وصولی کے لیے طلب کیا ہوا ہے، تمام بیلٹ پیپرز کی چھپائی اسلام آباد میں ہوئی، تمام بیلٹ پیپرز سخت سکیورٹی میں متعلقہ حلقوں میں پہنچائے جائیں گے۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق 17 جولائی کو ہونے والے ضمنی انتخابات کے لئے لاہور کے 4 حلقوں سمیت بھکراورملتان میں رینجرز تعینات کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کے مطابق یہ تمام حلقے انتہائی حساس ہیں اس لئے سکیورٹی میں رینجرز کو ڈالا گیا ہے، پاک فوج کو 4 حساس حلقوں میں تعینات کرنے کی درخواست دی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملتان، بھکر اور لاہور کے حلقے انتہائی حساس ہیں، تمام انتخابی حلقوں میں پولیس کے ساتھ رینجرز بھی تعینات ہو گی۔
دوسری جانب رپورٹ کے مطابق ضمنی انتخاب کے محاذ پر پی پی 158 کا حلقہ سیاسی طورپر انتہائی متحرک نظر آرہا ہے، تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کے امیدواروں کے درمیان کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے، سیاسی جماعتوں کے ووٹ بینک کے ساتھ ساتھ امیدواروں کا اپنا اثرو رسوخ اہم کردار ادا کرے گا۔
پی پی 158 واحد حلقہ ہے جہاں ڈی سیٹ ہونے والے سابق صوبائی وزیر علیم خان مقابلے میں نہیں، تحریک انصاف نے میاں اکرم عثمان اور مسلم لیگ ن نے رانا احسن شرافت کو انتخابی اکھاڑے میں اتار دیا.پی پی 158 کے حلقے میں ٹوٹل آباد ی تین لاکھ 64 ہزار 205 ہے، کل ووٹر ایک لاکھ 95 ہزار 777 ہیں، مرد ووٹرز ایک لاکھ پانچ ہزار دو سو انہتر جبکہ خواتین ووٹرز نوے ہزار پانچ سو آٹھ ہیں، پی پی 158 میں گلبر گ ، گلدشت کالونی، اپرمال، شاد مان ،شاہ جمال، دھر م پورہ ،گڑھی شاہو اورصدر کے علاقے شامل ہیں،اس حلقہ کے عوام مسائل بارے شکایات کرتے نظر آتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کی انتخابی مہم کے سلسلے میں اس حلقے میں پارٹی چیئرمین عمران خان بھی ایک ورکر کنونشن سے خطاب کرچکےہیں جبکہ مسلم لیگ ن کے امیدار رانا احسن شرافت کی مہم میں لیگی رہنما بھی پیش پیش ہیں۔ سابق صوبائی وزیرعلیم خان ڈی سیٹ ہونے کے بعد الیکشن تو نہیں لڑ رہے لیکن رانا احسن کے ساتھ مکمل تعاون ضرور کر رہے ہیں۔لاہور ہی کے حلقہ پی پی 167 میں مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے.
پنجاب کے ضمنی انتخابات میں خوشاب کے حلقے پی پی 83 نے خاص اہمیت حاصل کر لی ہے۔پاکستان تحریک انصاف کے ناراض کارکن ملک حامدمحمود ڈھل ٹوانہ جبکہ مسلم لیگ ن کے سابقہ ممبر صوبائی اسمبلی ملک محمد آصف بھاءاپنی اپنی پارٹیوں کی جانب سے ٹکٹ جاری نہ کیے جانے پر آزاد حیثیت سے میدان میں اتر رہے ہیں۔حلقہ پی پی 83 خوشاب میں ووٹوں کی کل ووٹوں کی تعداد 3 لاکھ 22 ہزار 428 ہے۔ جس میں مرد ووٹروں کی تعداد ایک لاکھ 68 ہزار 279 ہے جبکہ اس حلقہ میں خواتین ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ 54 ہزار149 ہے۔ اس حلقے میں ٹوٹل پولنگ اسٹیشنز کی تعداد 215 ہےجس میں53 خواتین کے پولنگ اسٹیشنز ہیں اور53 ہی مردوں کے لیے وقف کیے گئے ہیں اور 109 مشترکہ پولنگ اسٹیشنز ہیں۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے حلقے میں قائم کیے جانے والے پولنگ بوتھ کی کل تعداد 626 ہے جن میں سے 328 مردوں کیلئے اور 298 خواتین کیلئے مختص کیے گئے ہیں۔ خوشاب کے حلقے پی پی 83 میں سات آزاد امیدواروں سمیت 10 امیدوار انتخابی میدان میں مدِ مقابل ہوں گے۔حلقہ پی پی 83 سے کسی بھی خاتون امیدوار نے انتخابی میدان میں حصہ نہیں لیا۔
مسلم لیگ ن نے ملک امیر حیدر سنگھا کو میدان میں اتارا ہے۔ ملک امیر حیدر سنگھا منحرف سابق ایم پی اے ملک غلام رسول سنگھا کے بھائی ہیں۔ اس حلقے میں تحریک انصاف نے ملک حسن اسلم اعوان کو مقابلے کے لیے میدان میں اتارا ہے، جن کا بطور امیدوار یہ پہلا الیکشن ہے۔ملک حسن اسلم خان خوشاب سابق وفاقی وزیر تجارت و سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ملک نعیم خان اعوان مرحوم کے بھانجے ہیں اور پی ٹی آئی کے موجودہ مستعفی ایم این اے ملک اعوان کے چھوٹے بھائی ہیں۔تحریک لبیک پاکستان نے اپنے فعال کارکن زمرد عباس خان کو ٹکٹ جاری کیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کو جھنگ میں بڑا دھچکا لگ گیا، مخدوم فیصل صالح حیات نے مسلم لیگ ن کے امیدواروں کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ مخدوم فیصل صالح حیات نے جھنگ آمد پر پی پی 125 فیصل حیات جبوانہ اور پی پی 127 مہر اسلم بھروانہ کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا اور الیکشن مہم میں بھرپور کردار ادا کرنے کا عزم بھی کیا۔
واضح رہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کو ووٹ دینے والے تحریک انصاف کے 25 منحرف اراکین کو الیکشن کمیشن کی جانب سے ڈی سیٹ کیے جانے کے بعد 20 حلقہ میں ضمنی انتخاب 17 جولائی کو ہوگا جب کہ 5 مخصوص نشستوں پر الیکشن کمیشن نوٹیفکیشن جاری کر چکا ہے۔
زرائع کے مطابق پنجاب میں عام انتخابات سے قبل 17 جولائی کو صوبائی اسمبلی کی 20 نشستوں پر سیاسی جماعتوں میں ایک ایسا سیاسی معرکہ ہونے جا رہا ہے جو کہ ناصرف پنجاب میں سیاسی بحران کو ختم کرے گا بلکہ اگلے وزیراعلیٰ کا انتخاب بھی انہی سیٹوں پر منحصر ہے۔ ان ضمنی انتخابات میں ملک کی دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق راولپنڈی جو کہ ماضی میں مسلم لیگ ن کا مضبوط قلعہ سمجھا جاتا تھا، مگر گزشتہ انتخابات میں مسلم لیگ کو اصل ضرب اسی ضلع سے پڑی تھی اور مسلم لیگ ن کو اپنے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی شکست سمیت بڑے بڑے اپ سیٹ کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس مرتبہ راولپنڈی کے حلقہ پی پی 7 سے چھ امیدواران انتخابی میدان میں اتر رہے ہیں۔ حلقہ پی پی 7 میں کل 3 لاکھ 35 ہزار 295 ووٹ رجسٹرڈ ہیں، جن میں سے ایک لاکھ 71 ہزار 464 مرد ووٹرز جبکہ ایک لاکھ 63 ہزار 831 خواتین ووٹرز حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ حلقہ پی پی 7 راولپنڈی کے اہم علاقوں کہوٹہ،کلرسیداں، مٹور ، نرڑ، بیور، نارہ، کلر سیداں شہر، چوآخالصہ اور دوبیرن کلاں پر مشتمل ہے۔ پی پی 7 میں دو بڑی برادریوں راجپوت اور اعوان کا اثر رسوخ ہے
اس حلقے میں قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 57آتا ہے جس میں صداقت علی عباسی ایم این اے ہیں جبکہ مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما شاہد خاقان عباسی کا تعلق بھی اسی حلقے سے ہے اور وہ کھل کر راجہ صغیر کی حمایت اور مہم چلا رہے ہیں۔ گزشتہ ا لیکشن میں مسلم لیگ ن کی اس حلقے میں کاررکردگی زیادہ متاثر کن نہیں تھی اور وہ یہاں سے قومی اور صوبائی اسمبلی کی سیٹیں ہار گئی تھیں۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے حلقے میں کل 266 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں، جن میں سے 36 مردوں، 35 خواتین اور195 مشترکہ پولنگ اسٹیشن ہیں، جبکہ قائم کیے جانے والے پولنگ بوتھ کی تعداد 789 ہے ، جن میں سے 396 مردوں اور 393 خواتین کے لیے مختص ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ ن نے راجہ صغیر احمد کو انتخابی میدان میں اتارا ہے، جو دوسری مرتبہ انتخابی عمل میں قسمت آزمانے جارہے ہیں۔ راجہ صغیر احمد نے 2018ء کے عام انتخابات میں اس حلقے سے آزاد حیثیت سے کامیابی حاصل کی تھی، جس کے بعد انہوں نے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی، ان کے مقابلے میں تحریک انصاف نے تجربہ کار سیاست دان کرنل (ر) محمد شبیر اعوان پر انحصار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
دیگر جماعتوں کی بات کی جائے تو جماعت اسلامی پاکستان نے تنویر احمد جبکہ تحریک لبیک پاکستان نے منصور ظہور کو ایک بار پھر آزمانے کا فیصلہ کیا ہے۔ تحریک لبیک کے امیدوار کو تحصیل کلرسیداں اور کہوٹہ میں کافی پزیرائی مل رہی ہے۔ اس حلقے میں لوگ ووٹ برادری اور شخصیت کو دیکھ کر ڈالتے ہیں۔پی پی 7 میں تحریک لبیک پاکستان جو کہ اپنی انتخابی مہم بھی زور و شور سے چلا رہی ہے اس حلقے میں حیران کن نتائج دینے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اس کے امیدوار منصور ظہور نے 2018 کے عام انتخابات میں 15 ہزار 68 ووٹ حاصل کیے تھے۔ پی پی 7 سے کسی بھی خاتون امیدوار نے انتخابی میدان میں حصہ نہیں لیا۔
کل مسالک کے علماء بورڈ کے مرکزی قائدین نے پنجاب کے ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی کے امیدواروں کی حمایت کا اعلان کر دیا۔
پاکستان تحریک انصاف سینٹرل پنجاب کے جنرل سیکرٹری حماد اظہر نے سیکرٹری اطلاعات سینٹرل پنجاب عندلیب عباس اور کل مسالک علماء بورڈ کے چیئرمین مولانا مخدوم عاصم محمود کے ہمراہ پارٹی دفتر جیل روڈ میں پریس کانفرنس کرتے ھوئےکہاکہ میں شکریہ ادا کرتا ہوں علما کرام کا جنہوں نے ہماری حمایت کا علان کیا۔
پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اسد عمر نے کہا ہے کہ صوبائی مشینری استعمال کر کے الیکشن میں دھاندلی کی کوشش کی جارہی ہے، حمزہ شہباز پہلے دن سے غیر آئینی وزیراعلیٰ ہیں ،ہمارے امیدواروں کو نامعلوم نمبرز سے فون کالز آرہی ہیں۔
سابق وفاقی وزیر اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اسد عمر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حمزہ شہباز پہلے دن سے غیر قانونی وزیر اعلیٰ ہے لیکن ہم نے ضمنی الیکشن کے نتائج آنے تک انہیں وزیراعلیٰ مان لیا۔ سپریم کورٹ نے کہا تھا حمزہ شہباز نے کسی طور پر انتظامی طور پر اثر انداز نہیں ہونا ہے۔انہوں نے کہا کہ حمزہ شہباز کی حیثیت نگراں وزیراعلیٰ سے زیادہ نہیں ہے جبکہ ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کی جانب سے پٹواریوں کے پاس کالیں جا رہی ہیں، ڈی پی او جھنگ کے خلاف پہلے ہی تحریک جمع تھی کیونکہ ضمنی الیکشن شیڈول کے بعد انہیں خلاف قانون ڈی پی او جھنگ لگا دیا گیا۔
اسد عمر نے کہا کہ پولیس ہمارے لوگوں کے خلاف پرچے کاٹ رہی ہے جبکہ ڈپٹی کمشنر، ڈی سی او لیہ اور ایس ایچ او چیچہ وطنی کے خلاف بھی شکایات آ رہی ہیں، یہ لوگ جو کام کر رہے ہیں وہ قانون اور الیکشن قواعد کی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ ضمنی الیکشن میں دھاندلی کی پوری کوشش کی جا رہی ہے، غیر قانونی کام کرنے والے افسروں کو اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔










