Baaghi TV

Tag: ضمنی الیکشن

  • تحریک لبیک پاکستان ضمنی انتخابات کے نتائج مسترد کر دیئے

    تحریک لبیک پاکستان ضمنی انتخابات کے نتائج مسترد کر دیئے

    تحریک لبیک پاکستان کے امیر حافظ سعد حسین رضوی نے پنجاب میں ضمنی انتخابات کے نتائج کو یکسر مستردکرتے ہوئے مرکزی مجلس شوریٰ کا آج ہنگامی اجلاس طلب کرلیا۔اجلاس میں آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاروت کی جائے گی۔

    حافظ سعد حسین رضوی نے کہا کہ سارا دن ہمارے امیدواروں اور پولنگ ایجنٹ کو تنگ کیا گیا۔جن حلقوں میں تحریک لبیک کی پوزیشن مضبوط تھی وہاں ووٹ ہی کاسٹ نہیں کرنے دیے گئے۔پی پی 140 اور پی پی 237 میں الیکشن کمیشن کے نمائندے خود ووٹ کاسٹ کرتے رہے سارا دن الیکشن کمیشن سے ہمارے امیدوار ایکشن لینے کا مطالبہ کرتے رہے لیکن الیکشن کمیشن ٹال مٹول کرتا رہا۔

    بلخصوص لاہور میں پولنگ ایجنٹوں کو پولنگ اسٹیشنوں میں بیٹھنے کی اجازت ہی نہیں دی جارہی تھی۔ ہماری خواتین پولنگ ایجنٹوں سے الیکشن کے نتائج سے پہلے ہی فارم 45 پردستخط کروائے گئے۔

    سعد حسین رضوی نے اداروں سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ آپ بتائیں پاکستان کو آئی ایم ایف کا مقروض کس نے کیا؟ ملک کو معاشی مسائل سے دوچار کس نے کیا؟ غریب عوام پر مہنگائی،بے روزگاری اور فاقہ کشی کے پہاڑ کس نے توڑے؟جہاں سے دھاندلی کی پلاننگ اور ڈیوٹیاں لگائی گئی ہیں ہمیں سب پتہ ہے۔

    حافظ سعد حسین رضوی نے کہا کہ عمران خان الیکشن سے پہلے نتائج کا اعلان کرتا پھر رہا تھا۔نیوٹرل نے عمران خان کو پہلے سے ہی ون سائیڈ ڈ نتائج دے دیے۔الیکشن پہلے کوئی نتائج کا اعلان کیسے کر سکتا ہے۔ انشاء اللہ مجلس شوریٰ کے اجلاس کے بعد سب حقائق سامنے لائیں گے اورآئند ہ کے لائحہ عمل بھی دینگے۔

  • ضمنی الیکشن ، شہبازشریف نے لاہوراور بلاول نے کراچی میں اجلاس بلا لیا

    ضمنی الیکشن ، شہبازشریف نے لاہوراور بلاول نے کراچی میں اجلاس بلا لیا

    پنجاب اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں شکست کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اہم اجلاس جاری ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت لاہور میں اہم اجلاس منعقد کیا جا رہا ہے . جس میں وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز، سردار ایاز صادق، سعد رفیق اور عطا اللہ تارڑ شامل ہیں،ذرائع کے مطابق اجلاس میں ضمنی انتخابات کے نتائج اور آئندہ کے سیاسی حالات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    خیال رہے کہ پنجاب اسمبلی کی 20 نشستوں پر ضمنی انتخابات کے اب تک کے نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف 11 نشستوں پر کامیاب قرار پائی ہے جبکہ ن لیگ ایک ہی سیٹ جیت سکی ہے۔ن لیگ نے ضمنی انتخابات میں شکست بھی تسلیم کرلی ہے.

    دوسری طرف چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی(سی ای سی) کا ہنگامی اجلاس آج طلب کرلیا۔ ترجمان پیپلز پارٹی کے مطابق سی ای سی کا اجلاس آج شام 4 بجے بلاول ہاؤس کراچی میں طلب کیا گیا ہے۔ترجمان کے مطابق یہ ایک ہائبرڈ میٹنگ ہوگی جس میں شرکاء ذاتی طور پر اور بذریعہ ویڈیو کانفرنس شریک ہوں گے۔
    ذرائع کے مطابق اجلاس میں ضمنی الیکشن کے نتائج کے بعد پیدا ہونے والی ملک کی سیا سی صورتحال پر مشاورت کی جائے گی .

  • ضمنی الیکشن ،لاہور کی 3 سیٹوں پر پی ٹی آئی کامیاب

    ضمنی الیکشن ،لاہور کی 3 سیٹوں پر پی ٹی آئی کامیاب

    تحریک انصاف کے منحرف اراکین کے ڈی سیٹ ہونے سے خالی ہونے والی 20 نشستوں پر ضمنی انتخاب کے لیے پولنگ کا وقت ختم ہو نے کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل مکمل ہو گیا ہے۔

    20 نشستوں میں لاہور کی 4، راولپنڈی کی ایک، خوشاب کی ایک، بھکر کی ایک، فیصل آباد کی ایک، جھنگ کی 2، شیخوپورہ کی ایک، ساہیوال میں ایک، ملتان میں ایک، لودھراں میں 2، بہاولنگر میں ایک، مظفر گڑھ میں 2، لیہ میں ایک اور ڈیرہ غازی خان کی ایک نشست شامل ہے۔

    اب تک کے غیرحتمی غیر سرکاری نتائج کےمطابق لاہور کے تین حلقوں میں پاکستان تحریک انصاف پنے کامیابی حاصل کر لی ہے.

    غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے پی پی 167 سے امیدوار چودھری شبیر گجر نے فتح حاصل کی، انہوں نے 40206 ووٹ حاصل کیے، جبکہ مسلم لیگ ن کے امیدوار نذیر چوہان 26535 ووٹ حاصل کر سکے۔

    لاہور میں پنجاب اسمبلی کے حلقے پی پی 158 کی نشست پی ٹی آئی کے نام رہی اور میاں محمد اکرم عثمان کامیاب قرار پائے۔ حلقے کے مکمل 151 پولنگ اسٹیشنز کے غیرسرکاری و غیر حتمی نتائج کے مطابق پی ٹی آئی امیدوار نے 36888 ووٹ لیکر فتح حاصل کی جبکہ ن لیگ کے رانا احسن 31447 ووٹ لے سکے۔

    پنجاب اسمبلی کے حلقے پی پی 170 میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدوار ظہیر عباس کھوکھر 24688 ووٹ حاصل کر کے کامیاب ہو گئے ، جبکہ مسلم لیگ ن کے امیدوار محمد امین ذوالقرنین نے 17519ووٹ حاصل کر کے دوسرے نمبر پر رہے.

    غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پی پی 168 میں مسلم لیگ ن کے امیدوار ملک اسد کھوکھر 26169 ووٹ لیکرکامیاب رہے جبکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدوار ملک نواز اعوان 15767 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

    غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق شیخوپورہ، پی پی 140 میں پی ٹی آئی نے میدان مار لیا،شیخوپورہ،پی ٹی آئی کے خرم شہزاد ورک 49734 ووٹ لیکر جیت گئے،شیخوپورہ،پی ٹی آئی کے خرم شہزاد ورک 49734 ووٹ لیکر جیت گئے.شیخوپورہ،ن لیگ کے میاں خالد محمود 32812 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے.

    الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے مطابق 20 حلقوں میں کُل 3 ہزار 131 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے، مردانہ پولنگ اسٹیشنز کی تعداد 731، خواتین کے لیے 700 جبکہ 1700 مشترکہ پولنگ سٹیشنز قائم کیے گئے ہیں۔

  • ضمنی الیکشن،جھگڑے، ڈنڈوں کا استعمال، پولیس کی ہوائی فائرنگ،کئی زخمی و گرفتار

    ضمنی الیکشن،جھگڑے، ڈنڈوں کا استعمال، پولیس کی ہوائی فائرنگ،کئی زخمی و گرفتار

    پنجاب کے 14 اضلاع میں صوبائی اسمبلی کی 20 نشستوں پر پولنگ جاری ہےجب کہ صوبے میں امن و امان کے قیام کیلیے دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے، بیس نشستوں پر مجموعی طور پر 175 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے جبکہ پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن کے درمیان کانٹے دار مقابلے کی توقع ہے۔ ان حلقوں میں رجسٹرڈ ووٹرز کی مجموعی تعداد 45 لاکھ 79 ہزار 898 ہے۔

    پولنگ کے لیے 3 ہزار 131 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں جن میں سے 1900 پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے، ضمنی انتخاب میں امن و امان کے پیش نظر صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے۔
    پولنگ کے دوران بعض حلقوں میں چند ناخوشگوار واقعات بھی پیش آئے۔ مخالفین نے ایک دوسرے پر ڈنڈے سوٹوں سے حملے کئے،تاہم پولیس کو منتشر کرنے کیلئے ہوائی فائرنگ کرنا پڑی۔ڈیرہ غازی خان کے حلقہ پی پی 288 میں ووٹرز گتھم گتھا ہو گئے، ڈنڈوں کے ساتھ ایک دوسرے پر حملے کئے۔ جھنگ میں اٹھارہ ہزار ی میں پی ٹی آئی اور ن لیگ کے کارکن آمنے سامنے آئے ،کچھ وقت کیلئے الیکشن کا عمل بند بھی ہوا تاہم پولیس کی ہوائی فائرنگ کے بعد کارکن منتشر ہو گئے۔راولپنڈی میں پنجاڑ کے پولنگ اسٹیشن پر سیاسی کارکنوں میں لڑائی جھگڑا ہوا۔پی پی 158 میں ن لیگ اور پی ٹی آئی کارکنان کے درمیان مارکٹائی.پی پی 158 میں یوسی دھرم پورہ پولنگ اسٹیشن میں اندر جانے پر پی ٹی آئی اور ن لیگ کے کارکن آمنے سامنے آئے۔ پی پی 158 میں ہی جھگڑے کے دوران ن لیگ کے کارکن کا سر پھٹ گیا ، زخمی کارکن نے الزام عائد کیا کہ جمشید اقبال چیمہ کے کہنے پر اُسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

    وزیر داخلہ پنجاب عطاء اللہ تارڑ نے پی پی 158 لاہور میں جھگڑے کا نوٹس لیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے جمشید اقبال چیمہ اور سعید مہیس نے تشدد کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے کارکن کا سر پھاڑدیا۔ وزیر داخلہ نے جمشید اقبال چیمہ اور سعید مہیس کی گرفتاری کا حکم دے دیا۔ پولیس نے پولنگ سٹیشن ایری گیشن کینال پر مسلم لیگ ن کے ایک کارکن کا سر پھٹنے پر پی ٹی آئی کے کارکن رانا نعیم کو گرفتار کرلیا۔

    اسی حلقے میں یو سی دھرم پورہ کے پولنگ اسٹیشن پر پی ٹی آئی اور ن لیگ کے کارکان کے درمیان لڑائی ہوئی۔ پی ٹی آئی پولنگ ایجنٹ نے پولیس پر جانبداری کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ پولیس ن لیگ کے کارکان کو اندر جانے کی اجازت دے رہی ہے، جبکہ میں پولنگ ایجنٹ ہوں لیکن مجھے روکا جا رہا ہے ، لڑائی اس بات پر ہوئی۔

    اسی حلقے میں شہریوں نے ووٹ کا علاقہ تبدیل کرنے کی شکایت کی۔ نئی آبادی گڑھی شاہو کے رہائشی ثقلین اور یاسر محمود کا کہنا ہے کہ میں پی ٹی آئی کا سپوٹر ہوں ہمارا علاقہ ووٹ تبدیل کردیا گیا۔ شالیمار 148 کے علاقے میں ہمارا ووٹ منتقل کردیا جہاں پولنگ ہی نہیں ہورہی۔ انہوں نے کہا کہ حلقہ 158 میں پی ٹی آئی کے تمام ووٹرز کے ووٹ حلقہ148 میں پھینک دیے گئے۔

    پولیس نے لاہور کے صوبائی حلقے پی پی 167 میں وفاقی کالونی ایفا اسکول پولنگ اسٹیشن سے پی ٹی آئی کے 15 کارکن گرفتار کرلیے۔ حلقے سے پی ٹی آئی کے امیدوار شبیر گجر نے الزام عائد کیا ہے کہ کارکن پرامن طور پر موجود تھے، بلاوجہ گرفتار کیا۔ انہوں نے کہا کہ جوہر ٹاون پولیس نے کارکنوں کو پی ٹی آئی کے کیمپ سے حراست میں لیا۔

    پی ٹی آئی اور لیگی کارکنوں کے ہنگامے کے باعث پولنگ کا عمل کچھ دیر کےلیے رک گیا اور پولنگ اسٹیشن 60 میں ووٹرز کو اندر جانے سے روک دیا گیا۔ تحریک انصاف کے امیدوار ملک نواز اعوان نے بھی پولنگ اسٹیشن کا دورہ کیا۔

    بستی سیدن شاہ پولنگ اسٹیشن کے سامنے سے مسلح شخص کو گرفتار کرلیا گیا جس کی شناخت عبدالرحمان کے نام سے ہوئی۔ اس کے قبضے سے منی رائفل برآمد کرلی گئی۔ ملزم عبدالرحمان ڈاکٹر معارف نامی شہری کا پرائیوٹ گارڈ ہے۔ ستوکتلہ پولیس نے حلقہ پی پی 170 کے پولنگ اسٹیشن اسمارٹ اسکول ویلنیشا ٹاؤن کے باہر سے 3 افراد کو گرفتار کرلیا۔ پولیس کے مطابق ملزمان میں اصغر، محمد حسین اور شوکت علی شامل ہیں، جن کے قبضے سے 2 جدید رائفلز، 6 میگزین اور درجنوں گولیاں برآمد ہوئی ہیں.

    دوسری طرف چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے بیان میں کہا ہے کہ انتحابی عمل میں اگر حالات خراب کرنے کی کوشش کی گئی تو سخت ایکشن ہو گا، گڑ بڑ میں ملوث امیدواروں کی نااہلی بھی ہوسکتی ہے۔ ترجمان کے مطابق الیکشن کمیشن کنٹرول روم کو ووٹرزاورسیاسی کارکنان کے درمیان لڑائی جھگڑے سے متعلق 6 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 3 کو فوری حل کر لیا گیا۔ حکام معاملات کو کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔

    پی پی 272 میں سیاسی کارکنوں کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے ،جس پرالیکشن کمیشن نے مظفر گڑھ سے تحریک انصاف کے ورکرز کی مبینہ گرفتاری کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ ڈی آر او، آر او اور مانیٹرنگ آفس سے رپورٹ طلب کرلی۔

    سی سی پی او لاہور بلال کمیانہ نے کینال روز ایرگیشن آفس الیکشن بوتھ پر ہونے والی لڑائی کے مقام کا دورہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پولنگ کا عمل پرامن ہورہا ہے، جھگڑے میں پی ٹی آئی کے ایک کارکن کا سر پھٹا تھا اسے ہسپتال شفٹ کردیا ہے جبکہ ایس پی کینٹ لاہور نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پولنگ اسٹیشن کے باہر جھگڑا ہوا اور زخمی ہونے والے ورکر کو ہسپتال بھجوادیا گیا ہے۔

    راولپنڈی میں حلقہ پی پی 7 میں متعدد پولنگ اسٹیشنز پر میڈیا کوریج پر پابندی لگا دی گئی ۔ پریزائیڈنگ افسران نے میڈیا کو پولنگ بوتھ تک جانے کی اجازت نہیں دی اور صحافیوں کو الیکشن کمیشن کے ایکریڈیشن کارڈز کے باوجود روکا گیا۔

    ضمنی انتخاب کے دوران امن و امان یقینی بنانے کیلئے پولیس کی چھٹیاں منسوخ کردی گئی ہیں جبکہ پولیس کے ساتھ رینجرز کو بھی سڑکوں پر آنے کی ہدایت کی گئی ہے علاوہ ازیں فوج کو اسٹینڈ بائی پوزیشن پر تیار رکھا گیا ہے۔ پاک فوج کے دستے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے کوئیک ری ایکشن فورس کے طور پر فرائض انجام دیں گے۔

    وزارت داخلہ میں ضمنی الیکشن کے موقع پر مانیٹرنگ سیل قائم کردیا گیاہے،مانیٹرنگ سیل صوبائی حکومتوں کے کنٹرول سینٹرز اور وفاقی قانون نافذ کرنے والے اداروں کیساتھ منسلک ہے، یہاں سے انتخابی حلقوں میں امن و امان کے حوالے سے مسلسل نگرانی کی جائے گی۔

  • ضمنی الیکشن، انتخابی مہم کا وقت ختم،لاہور، بھکراورملتان میں رینجرز تعینات کرنے کا فیصلہ

    ضمنی الیکشن، انتخابی مہم کا وقت ختم،لاہور، بھکراورملتان میں رینجرز تعینات کرنے کا فیصلہ

    پنجاب اسمبلی کے 20 حلقوں میں ضمنی الیکشن کیلئے انتخابی مہم کا وقت ختم ہو گیا، انتخابی مہم ختم ہونے سے قبل مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف نے بھرپور انتخابی مہم چلائی، پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے انتخابی مہم کے آخری روز فیصل آباد اور لاہور میں انتخابی جلسوں سے خطاب کیا جبکہ مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے لاہور اور ملتان میں انتخابی جلسوں سے خطاب کیا۔الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ تمام جماعتیں اور امیدوار 15 جولائی کی رات انتخابی مہم ختم کردیں، مقررہ وقت کے بعد جلسہ جلوس کارنر میٹنگز پر پابندی ہوگی۔الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔پنجاب اسمبلی ضمنی انتخابات کے سلسلے میں جاری انتخابی مہم ختم ہو گئی.

     

    لاہورنواز شریف کا تھا،ہے اور رہے گا،مریم نواز

     

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب اسمبلی کی 20 نشستوں پر ضمنی انتخاب 17 جولائی کو ہوگا۔ پی پی 7راولپنڈی، پی پی83 خوشاب،پی پی90 بھکر ، فیصل آباد کے حلقہ پی پی 97 ، جھنگ میں حلقہ پی پی125 ،127 اور شیخوپورہ میں پی پی 140 پر ضمنی انتخاب ہوگا۔اس کے علاوہ لاہور کی نشست پی پی 158، 167، 168 اور پی پی 170 پر ضمنی انتخاب ہوگا جبکہ ساہیوال میں پی پی202 ، پی پی217 ملتان، لودھراں کے حلقہ پی پی 224 اور 228 پر ضمنی الیکشن ہوگا۔بہاولنگر میں پی پی 237 اور مظفر گڑھ کے 3 حلقوں پی پی 237، 272، 273 پرضمنی انتخاب ہوگا۔ لیہ کے حلقہ پی پی 282 اور ڈیرہ غازی میں پی پی 288 پر بھی ضمنی انتخاب کا میدان سجے گا۔

    17 جولائی کا الیکشن نہیں جہاد ہے،عمران خان

    پنجاب میں 20 سیٹوں پر ضمنی الیکشن کے لیے امیدواروں کی جانب سے جوڑ توڑ کا سلسلہ جاری ہے۔پنجاب کے 20 حلقوں میں ضمنی انتخاب کے لیے امیدوار ووٹروں کو منانے کے لیے آخری جتن کر رہے ہیں اور وعدے قسموں کا کھلا استعمال کیا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب ضمنی انتخابات کے دوران ماحول سازگار رکھنے کے لیے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے چیف سیکرٹری، آئی جی پنجاب اور متعلقہ اداروں کو ضمنی انتخابات کے دوران پر امن ماحول کو یقینی بنانے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت اجلاس میں کہا گیا کہ الیکشن کے دوران اسلحہ بردار اکٹھے کرنے والے امیدوار کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائےگی۔ پولنگ کے دوران شر پسند عناصر سے متعلق قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تحریری طور پر آگاہ کرنےکی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

    صوبائی وزیر داخلہ عطا اللہ تارڑ کی زیر صدارت امن و امان اور ضمنی الیکشن کے دوران سکیورٹی صورتحال کے حوالے سے اجلاس منوقد ہوا. ئی وزیر داخلہ عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ اسلحہ رکھنا اور اس کی نمائش پر دفعہ 144 کا نفاذ عمل میں لایا جا چکا ہے،الیکشن کے دوران کسی کو اسلحہ رکھنے کی اجازت نہ ہوگیی،اسلحہ سے پاک کمپین کے دوران پولیس نے بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کیا ،دھاندلی کا الزام لگانے والے اب افسران کو دھمکیاں دینے پر اتر آئے ہیں، تحریک انصاف یقینی شکست دیکھ کر لوگوں کو بدامنی پر اکسا رہی ہے ،امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنانے کے لیے علی امین گنڈا پور اور مقبول گجر کے پنجاب داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے ۔پنجاب حکومت کی اطلاعات تھیں اور الیکشن کمیشن کی طرف سے بھی خط موصول ہوا ہے کہ علی امین گنڈا پور اور مقبول گجر پنجاب میں پرتشدد کاروائیاں کرنا چاہتے ہیں،پنجاب میں پرامن ،صاف اور شفاف انتخابات کو یقینی بنایا جائے گا.اسلحہ کے خلاف مکمل کریک ڈاؤن کیا جائے گا ، بد امنی پھیلانے والے عناصر سے قانون آہنی ہاتھوں سے نمٹے گا ۔ تحریک انصاف کے مسلح جتھے اپنی سازش میں ناکام ہوں گے ۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب اسمبلی کے 20 حلقوں میں 17 جولائی کو ہونے والے ضمنی الیکشن کی تیاریاں آخری مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں۔ذرائع کا بتانا ہے کہ الیکشن کمیشن نے 20 حلقوں کے لیے 47 لاکھ 30 ہزار 600 بیلٹ پیپرز چھاپے گئے ہیں جبکہ ایک لاکھ 53 ہزار657 اضافی بیلٹ پیپرز بھی چھاپے گئےہیں۔

    ذرائع الیکشن کمیشن کے مطابق ضمنی الیکشن کے لیے بیلٹ پیپرز اور فارمز کی ریٹرننگ افسران کو ترسیل شروع کر دی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے آر اوز کے مجاز نمائندوں کو بیلٹ پیپرز وصولی کے لیے طلب کیا ہوا ہے، تمام بیلٹ پیپرز کی چھپائی اسلام آباد میں ہوئی، تمام بیلٹ پیپرز سخت سکیورٹی میں متعلقہ حلقوں میں پہنچائے جائیں گے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق 17 جولائی کو ہونے والے ضمنی انتخابات کے لئے لاہور کے 4 حلقوں سمیت بھکراورملتان میں رینجرز تعینات کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کے مطابق یہ تمام حلقے انتہائی حساس ہیں اس لئے سکیورٹی میں رینجرز کو ڈالا گیا ہے، پاک فوج کو 4 حساس حلقوں میں تعینات کرنے کی درخواست دی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملتان، بھکر اور لاہور کے حلقے انتہائی حساس ہیں، تمام انتخابی حلقوں میں پولیس کے ساتھ رینجرز بھی تعینات ہو گی۔

    دوسری جانب رپورٹ کے مطابق ضمنی انتخاب کے محاذ پر پی پی 158 کا حلقہ سیاسی طورپر انتہائی متحرک نظر آرہا ہے، تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کے امیدواروں کے درمیان کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے، سیاسی جماعتوں کے ووٹ بینک کے ساتھ ساتھ امیدواروں کا اپنا اثرو رسوخ اہم کردار ادا کرے گا۔

    پی پی 158 واحد حلقہ ہے جہاں ڈی سیٹ ہونے والے سابق صوبائی وزیر علیم خان مقابلے میں نہیں، تحریک انصاف نے میاں اکرم عثمان اور مسلم لیگ ن نے رانا احسن شرافت کو انتخابی اکھاڑے میں اتار دیا.پی پی 158 کے حلقے میں ٹوٹل آباد ی تین لاکھ 64 ہزار 205 ہے، کل ووٹر ایک لاکھ 95 ہزار 777 ہیں، مرد ووٹرز ایک لاکھ پانچ ہزار دو سو انہتر جبکہ خواتین ووٹرز نوے ہزار پانچ سو آٹھ ہیں، پی پی 158 میں گلبر گ ، گلدشت کالونی، اپرمال، شاد مان ،شاہ جمال، دھر م پورہ ،گڑھی شاہو اورصدر کے علاقے شامل ہیں،اس حلقہ کے عوام مسائل بارے شکایات کرتے نظر آتے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کی انتخابی مہم کے سلسلے میں اس حلقے میں پارٹی چیئرمین عمران خان بھی ایک ورکر کنونشن سے خطاب کرچکےہیں جبکہ مسلم لیگ ن کے امیدار رانا احسن شرافت کی مہم میں لیگی رہنما بھی پیش پیش ہیں۔ سابق صوبائی وزیرعلیم خان ڈی سیٹ ہونے کے بعد الیکشن تو نہیں لڑ رہے لیکن رانا احسن کے ساتھ مکمل تعاون ضرور کر رہے ہیں۔لاہور ہی کے حلقہ پی پی 167 میں مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے.

    پنجاب کے ضمنی انتخابات میں خوشاب کے حلقے پی پی 83 نے خاص اہمیت حاصل کر لی ہے۔پاکستان تحریک انصاف کے ناراض کارکن ملک حامدمحمود ڈھل ٹوانہ جبکہ مسلم لیگ ن کے سابقہ ممبر صوبائی اسمبلی ملک محمد آصف بھاءاپنی اپنی پارٹیوں کی جانب سے ٹکٹ جاری نہ کیے جانے پر آزاد حیثیت سے میدان میں اتر رہے ہیں۔حلقہ پی پی 83 خوشاب میں ووٹوں کی کل ووٹوں کی تعداد 3 لاکھ 22 ہزار 428 ہے۔ جس میں مرد ووٹروں کی تعداد ایک لاکھ 68 ہزار 279 ہے جبکہ اس حلقہ میں خواتین ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ 54 ہزار149 ہے۔ اس حلقے میں ٹوٹل پولنگ اسٹیشنز کی تعداد 215 ہےجس میں53 خواتین کے پولنگ اسٹیشنز ہیں اور53 ہی مردوں کے لیے وقف کیے گئے ہیں اور 109 مشترکہ پولنگ اسٹیشنز ہیں۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے حلقے میں قائم کیے جانے والے پولنگ بوتھ کی کل تعداد 626 ہے جن میں سے 328 مردوں کیلئے اور 298 خواتین کیلئے مختص کیے گئے ہیں۔ خوشاب کے حلقے پی پی 83 میں سات آزاد امیدواروں سمیت 10 امیدوار انتخابی میدان میں مدِ مقابل ہوں گے۔حلقہ پی پی 83 سے کسی بھی خاتون امیدوار نے انتخابی میدان میں حصہ نہیں لیا۔

    مسلم لیگ ن نے ملک امیر حیدر سنگھا کو میدان میں اتارا ہے۔ ملک امیر حیدر سنگھا منحرف سابق ایم پی اے ملک غلام رسول سنگھا کے بھائی ہیں۔ اس حلقے میں تحریک انصاف نے ملک حسن اسلم اعوان کو مقابلے کے لیے میدان میں اتارا ہے، جن کا بطور امیدوار یہ پہلا الیکشن ہے۔ملک حسن اسلم خان خوشاب سابق وفاقی وزیر تجارت و سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ملک نعیم خان اعوان مرحوم کے بھانجے ہیں اور پی ٹی آئی کے موجودہ مستعفی ایم این اے ملک اعوان کے چھوٹے بھائی ہیں۔تحریک لبیک پاکستان نے اپنے فعال کارکن زمرد عباس خان کو ٹکٹ جاری کیا ہے۔

    پاکستان تحریک انصاف کو جھنگ میں بڑا دھچکا لگ گیا، مخدوم فیصل صالح حیات نے مسلم لیگ ن کے امیدواروں کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ مخدوم فیصل صالح حیات نے جھنگ آمد پر پی پی 125 فیصل حیات جبوانہ اور پی پی 127 مہر اسلم بھروانہ کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا اور الیکشن مہم میں بھرپور کردار ادا کرنے کا عزم بھی کیا۔

    واضح رہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کو ووٹ دینے والے تحریک انصاف کے 25 منحرف اراکین کو الیکشن کمیشن کی جانب سے ڈی سیٹ کیے جانے کے بعد 20 حلقہ میں ضمنی انتخاب 17 جولائی کو ہوگا جب کہ 5 مخصوص نشستوں پر الیکشن کمیشن نوٹیفکیشن جاری کر چکا ہے۔

    زرائع کے مطابق پنجاب میں عام انتخابات سے قبل 17 جولائی کو صوبائی اسمبلی کی 20 نشستوں پر سیاسی جماعتوں میں ایک ایسا سیاسی معرکہ ہونے جا رہا ہے جو کہ ناصرف پنجاب میں سیاسی بحران کو ختم کرے گا بلکہ اگلے وزیراعلیٰ کا انتخاب بھی انہی سیٹوں پر منحصر ہے۔ ان ضمنی انتخابات میں ملک کی دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق راولپنڈی جو کہ ماضی میں مسلم لیگ ن کا مضبوط قلعہ سمجھا جاتا تھا، مگر گزشتہ انتخابات میں مسلم لیگ کو اصل ضرب اسی ضلع سے پڑی تھی اور مسلم لیگ ن کو اپنے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی شکست سمیت بڑے بڑے اپ سیٹ کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس مرتبہ راولپنڈی کے حلقہ پی پی 7 سے چھ امیدواران انتخابی میدان میں اتر رہے ہیں۔ حلقہ پی پی 7 میں کل 3 لاکھ 35 ہزار 295 ووٹ رجسٹرڈ ہیں، جن میں سے ایک لاکھ 71 ہزار 464 مرد ووٹرز جبکہ ایک لاکھ 63 ہزار 831 خواتین ووٹرز حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ حلقہ پی پی 7 راولپنڈی کے اہم علاقوں کہوٹہ،کلرسیداں، مٹور ، نرڑ، بیور، نارہ، کلر سیداں شہر، چوآخالصہ اور دوبیرن کلاں پر مشتمل ہے۔ پی پی 7 میں دو بڑی برادریوں راجپوت اور اعوان کا اثر رسوخ ہے

    اس حلقے میں قومی اسمبلی کا حلقہ این اے 57آتا ہے جس میں صداقت علی عباسی ایم این اے ہیں جبکہ مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما شاہد خاقان عباسی کا تعلق بھی اسی حلقے سے ہے اور وہ کھل کر راجہ صغیر کی حمایت اور مہم چلا رہے ہیں۔ گزشتہ ا لیکشن میں مسلم لیگ ن کی اس حلقے میں کاررکردگی زیادہ متاثر کن نہیں تھی اور وہ یہاں سے قومی اور صوبائی اسمبلی کی سیٹیں ہار گئی تھیں۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے حلقے میں کل 266 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں، جن میں سے 36 مردوں، 35 خواتین اور195 مشترکہ پولنگ اسٹیشن ہیں، جبکہ قائم کیے جانے والے پولنگ بوتھ کی تعداد 789 ہے ، جن میں سے 396 مردوں اور 393 خواتین کے لیے مختص ہیں۔

    پاکستان مسلم لیگ ن نے راجہ صغیر احمد کو انتخابی میدان میں اتارا ہے، جو دوسری مرتبہ انتخابی عمل میں قسمت آزمانے جارہے ہیں۔ راجہ صغیر احمد نے 2018ء کے عام انتخابات میں اس حلقے سے آزاد حیثیت سے کامیابی حاصل کی تھی، جس کے بعد انہوں نے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی، ان کے مقابلے میں تحریک انصاف نے تجربہ کار سیاست دان کرنل (ر) محمد شبیر اعوان پر انحصار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
    دیگر جماعتوں کی بات کی جائے تو جماعت اسلامی پاکستان نے تنویر احمد جبکہ تحریک لبیک پاکستان نے منصور ظہور کو ایک بار پھر آزمانے کا فیصلہ کیا ہے۔ تحریک لبیک کے امیدوار کو تحصیل کلرسیداں اور کہوٹہ میں کافی پزیرائی مل رہی ہے۔ اس حلقے میں لوگ ووٹ برادری اور شخصیت کو دیکھ کر ڈالتے ہیں۔

    پی پی 7 میں تحریک لبیک پاکستان جو کہ اپنی انتخابی مہم بھی زور و شور سے چلا رہی ہے اس حلقے میں حیران کن نتائج دینے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اس کے امیدوار منصور ظہور نے 2018 کے عام انتخابات میں 15 ہزار 68 ووٹ حاصل کیے تھے۔ پی پی 7 سے کسی بھی خاتون امیدوار نے انتخابی میدان میں حصہ نہیں لیا۔

    کل مسالک کے علماء بورڈ کے مرکزی قائدین نے پنجاب کے ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی کے امیدواروں کی حمایت کا اعلان کر دیا۔

    پاکستان تحریک انصاف سینٹرل پنجاب کے جنرل سیکرٹری حماد اظہر نے سیکرٹری اطلاعات سینٹرل پنجاب عندلیب عباس اور کل مسالک علماء بورڈ کے چیئرمین مولانا مخدوم عاصم محمود کے ہمراہ پارٹی دفتر جیل روڈ میں پریس کانفرنس کرتے ھوئےکہاکہ میں شکریہ ادا کرتا ہوں علما کرام کا جنہوں نے ہماری حمایت کا علان کیا۔

    پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اسد عمر نے کہا ہے کہ صوبائی مشینری استعمال کر کے الیکشن میں دھاندلی کی کوشش کی جارہی ہے، حمزہ شہباز پہلے دن سے غیر آئینی وزیراعلیٰ ہیں ،ہمارے امیدواروں کو نامعلوم نمبرز سے فون کالز آرہی ہیں۔

    سابق وفاقی وزیر اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اسد عمر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حمزہ شہباز پہلے دن سے غیر قانونی وزیر اعلیٰ ہے لیکن ہم نے ضمنی الیکشن کے نتائج آنے تک انہیں وزیراعلیٰ مان لیا۔ سپریم کورٹ نے کہا تھا حمزہ شہباز نے کسی طور پر انتظامی طور پر اثر انداز نہیں ہونا ہے۔انہوں نے کہا کہ حمزہ شہباز کی حیثیت نگراں وزیراعلیٰ سے زیادہ نہیں ہے جبکہ ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کی جانب سے پٹواریوں کے پاس کالیں جا رہی ہیں، ڈی پی او جھنگ کے خلاف پہلے ہی تحریک جمع تھی کیونکہ ضمنی الیکشن شیڈول کے بعد انہیں خلاف قانون ڈی پی او جھنگ لگا دیا گیا۔

    اسد عمر نے کہا کہ پولیس ہمارے لوگوں کے خلاف پرچے کاٹ رہی ہے جبکہ ڈپٹی کمشنر، ڈی سی او لیہ اور ایس ایچ او چیچہ وطنی کے خلاف بھی شکایات آ رہی ہیں، یہ لوگ جو کام کر رہے ہیں وہ قانون اور الیکشن قواعد کی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ ضمنی الیکشن میں دھاندلی کی پوری کوشش کی جا رہی ہے، غیر قانونی کام کرنے والے افسروں کو اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔

  • ملک کی  75 سالہ تاریخ میں قوم اتنی بیدار نہیں تھی، عمران خان

    ملک کی 75 سالہ تاریخ میں قوم اتنی بیدار نہیں تھی، عمران خان

    ملک کی 75 سالہ تاریخ میں قوم اتنی بیدار نہیں تھی، عمران خان
    فیصل آباد میں تحریک انصاف کا جلسہ، عمران خان جلسہ گاہ پہنچ گئے

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم یہ میچ جیت جائیں گے، میں ابھی سے آپ کو مبارکباد دیتا ہوں،اللہ نے میری قوم میں شعور پیدا کیا ہے،17تاریخ کو ایک جاگی ہوئی قوم ووٹ ڈالے گی،قوم جانتی ہے اس ملک میں بیرونی سازش ہوئی،30سال سے دو خاندان اس ملک کو لوٹ رہے تھے کرپشن کیسز ان کے دور میں بنے ہوئے تھے، آخری گیند تک ان چوروں کا مقابلہ کروں گا میں 1100 ارب روپے ان چوروں کوہضم کر نے نہیں دوں گا،80ہزار پاکستانی امریکہ کی جنگ میں مارے گئے آج بھی اس جنگ کی وجہ سے ہمارے لوگ شہید ہو رہے ہیں، ایک ٹیلی فون کا ل پر اس وقت کے سربراہ نے گھٹنے ٹیک دیئے،ہم کسی سے دشمنی نہیں ،سب سےاچھے تعلقات چاہتے ہیں ہم غلامی کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے،آپ میری ٹیم اور میں آپ کا کپتان ہوں مقابلہ کرنا آتا ہے،

    فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روزمیں کرنے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    فارن فنڈنگ کیس، فیصلہ 30 روز میں کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

    قبل ازیں گزشتہ روز ڈیرہ غازی خان میں نمائندہ باغی ٹی وی ڈاکٹر غلام مصطفیٰ کے مطابق پی ٹی آئی کے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ عزت دینے پر ڈیرہ غازی خان والوں کا شکر گزار ہوں، ڈی جی خان پنجاب کا سب سے زیادہ پسماندہ علاقہ ہے، عثمان بزدار کو وزیراعلیٰ بنایا تاکہ آپ لوگوں کی مدد کرسکے، میری کوشش تھی پسماندہ علاقے سے ایسا وزیراعلیٰ آئے جس کو غریب کا درد ہو، عثمان بزدار میں عاجزی تھی، شہباز شریف کی طرح شوبازی نہیں کرتا تھا، عثمان بزدار ڈرامے نہیں کرتا تھا، میرا چیلنج ہے جو کام بزدارنے کیا کبھی ڈی جی خان میں اتنا کام نہیں ہوا۔

    پی ٹی آئی چیئرمین کا کہنا تھا کہ امریکی انڈرسیکرٹری دھمکی دیتا ہے اگر عمران کونہ ہٹایا تو مشکلات آئیں گی، عدلیہ سے پوچھتا ہوں اس سے بڑی توہین 22 کروڑ لوگوں کی اور کیا ہوسکتی ہے، یہ عمران خان کو دھمکی نہیں بلکہ 22 کروڑ کی توہین ہے، مراسلے کو کابینہ اور نیشنل سکیورٹی کونسل، پارلیمنٹ کے سامنے رکھا، سپیکر نے سائفر چیف جسٹس کو بھجوایا، صدر مملکت نے مراسلہ چیف جسٹس کو انکوائری کے لیے بھجوایا، ہماری حکومت چلی گئی اور اس سے زیادہ میں کیا کرسکتا تھا؟۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ سے سوال پوچھتا ہوں، جب صدر مملکت نے چیف جسٹس کو مراسلہ بھیجا تھا تو کیا آپ کو انویسٹی گیشن نہیں کرنا چاہیے تھی، آپ نے رات کو 12 بجے عدالتیں کھول لیں، ملک کے وزیراعظم کو دھمکی دے کر ہٹا دیا گیا اور کچھ نہیں ہوا؟ محترم چیف جسٹس یہ تو پتا کراتے ڈونلڈ لو نے کس کو پیغام دیا؟ ڈونلڈ لو نے کس کو پیغام دیا،عمران کو ہٹاؤ، انویسٹی گیشن کرائیں؟ اگر انکوائری نہیں کرائیں گے تو آئندہ ہمارا کوئی بھی وزیراعظم امریکا کے آگے کھڑا نہیں ہوسکے گا، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ چیری بلاسم امریکا کے آگے کھڑا ہوگا، امریکا کو چیری بلاسم جیسے وزیراعظم چاہئیں، شہباز شریف تو پہلے ہی گھٹنوں پر گرا ہے کہ ہم بھکاری ہیں۔

    سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت نے غریب گھرانوں کو 10 لاکھ کا ہیلتھ کارڈ دیا، پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہیلتھ کارڈ دیئے گئے،یہ نوجوانوں کے مستقبل کا الیکشن ہے، یہ چور، ڈاکو اور امریکا کے بوٹ پالش کرنے والوں کو شکست دینے کا وقت ہے، یہ وقت امپورٹڈ حکومت کو شکست دینے کا ہے، نوجوان، بہنوں نے گھر، گھر جا کر لوگوں کو باہر نکالنا اور دھاندلی کو روکنا ہے، ہر پولنگ سٹیشن پر 10 دلیر نوجوان پہرہ دیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ڈی جی خان والوں بتاؤ لوٹوں کو شکست دینے کے لیے تیار ہو، لوٹا ضمیر فروش ہوتا ہے، لوٹا غسل خانوں میں ہوتا ہے، ضمیر فروش، بکاؤ مال اپنے حلقے کے لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیںِ، شہباز شریف نے پیسے دے کر لوٹوں کو خریدا، ان کا کہنا تھا کہ ہمارے نبی ﷺ نے کسی کو یہ نہیں کہا تھا کہ ہم بھکاری ہیں، ہم اپنے پیارے نبی ﷺ کے امتی ہیں، ہم اللہ کے سوا کسی کے سامنے نہیں جھکیں گے، کرپٹ دو خاندان 32 سال سے ملک کا پیسہ چوری کر کے خون چوس رہے ہیں، اوورسیز پاکستانیوں کے پیسوں سے ملک چل رہا ہے۔عمران خان کی تقریرکے دوران ڈیزل، ڈیزل کے نعرے لگ گئے جس پر انہوں نے کہا کہ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہو، شہباز شریف ڈیزل کی قیمت کم کرو، آج دنیا میں پٹرول کی قیمتیں کم ہو رہی ہیں، ہماری حکومت میں 150 روپے لٹر اور آج 250 روپے تک ہے، تم سے تو مشرف بہتر تھا اس نے صرف تمہیں این آر او دے کرغلطی کی، آصف زرداری، نواز شریف پہلے ایک دوسرے کو چور اور آج دونوں اکٹھے ہیں، اتوار والے دن نواز شریف، زرداری اور فضل الرحمان کی وکٹ بھی گراؤں گا

  • میری جان بھی قربان ہو جائے کبھی ان چوروں کو تسلیم نہیں کروں گا، عمران خان

    میری جان بھی قربان ہو جائے کبھی ان چوروں کو تسلیم نہیں کروں گا، عمران خان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہم نے ان کیخلاف حقیقی آزاد ی کی جنگ کیلئے جدوجہد کرنی ہے ،

    ضنی الیکشن کے حوالہ سے انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ میں یہ پوچھتا ہوں جو یہاں سے ایم پی بند کر کیوں ہر بار لوٹا ہوتا ہے،نظریہ ایک انسان کو قبلہ دیتا ہے ہم اللہ کے سوا کسی کے سامنے نہیں جھکتے، جب ایک انسان کا نظریہ نہیں ہوتا تو جہاں سے پیسے ملے وہ ادھر جاتا ہے گھر گھر جا کر آپ نے بتانا ہے کہ یہ الیکشن نہیں جہاد ہے یہ چور30 سال سے اس ملک کا خون چوس رہا ہے، میں ان چوروں کیخلاف جہاد کرنے آیا تھا،یہاں کے میر جعفر اور میر صادق کے ساتھ مل کرانہوں نے منتخب حکومت کو گرائی، یہ لوگوں کو ڈرا دھمکا رہے ہیں، ہم کبھی بھی ان امریکہ کے غلاموں کو تسلیم نہیں کریں گے، میرے اوپر15 ایف آئی آر کاٹی ہیں،میری جان بھی قربان ہو جائے کبھی ان چوروں کو تسلیم نہیں کروں گا، آپ نے یہاں کے مقامی لوٹوں کو شکست دینی ہے، جھوٹ بولنے والی شہزادی ان کی الیکشن مہم چلا رہی ہے، انہوں نے11ارب روپے کا ڈاکا مارا ہے،

    کیا میں نے کوئی قتل کیا کوئی جوا خانہ بنایا؟ احسن اقبال کا عدالت میں بیان

    نیب کی غفلت سے میرا بازو مستقل ٹیڑھا ہو گیا، احسن اقبال نیب اور حکومت پر برس پڑے

    عمران خان کا کہنا تھا کہ مریم نواز کہتی ہیں لندن تو کیا میری پاکستان میں بھی پراپرٹی نہیں ہے،لندن کے سب سے مہنگے علاقے میں 4 محلات مریم نواز کے نام نکلے، یہ چوری کر کے پیسے باہر لے کر جاتے ہیں، امریکی سازش میں یہاں کے میر جعفر اور میر صادق بھی ملوث تھے، یہ الیکشن تو نہیں جیت سکتے ، ان کا ایک ہی پروگرام ہے دھاندلی کرنے کا،چیف الیکشن کمشنر سچ بتائیں کتنی بار حمزہ اور مریم کے پاس گئے تھے،دھاندلی کے تیاری کے ساتھ وہ لوگوں میں خوف پھیلا رہے ہیں، انہوں نے دھاندلی کرنے کا پروگرام بنا رکھا ہے

  • ضمنی الیکشن، سلمان رفیق کے بعد اویس لغاری بھی وزارت سے مستعفی

    ضمنی الیکشن، سلمان رفیق کے بعد اویس لغاری بھی وزارت سے مستعفی

    وفاقی وزیر ایاز صادق اور صوبائی وزیر سلمان رفیق کے بعد صوبائی وزیر اویس لغاری نے بھی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ صوبائی وزیر اویس لغاری کی جانب سے استعفے دئیے جانے کی تصدیق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹرپر کی گئی۔

    ٹویٹر پر اپنا استعفی وزیراعلیٰ پنجاب کو ارسال کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ میں صوبائی وزیر بنائے جانے پر حمزہ شہباز شریف کا مشکور ہوں، میں ذاتی وجوہات کی بناء پر عہدہ چھوڑ رہا ہوں۔ اسی لیے میری درخواست ہے میرا استعفیٰ قبول کیا جائے۔ میں پاکستان مسلم لیگ ن کے لیے ہر وقت موجود ہوں گے۔

    ضمنی انتخابات :پی ٹی آئی 18سیٹیں جیتے گی:ان شااللہ ::فواد چوہدری

    قبل ازیں دو روز قبل ضمنی اتنخاب کی مہم چلانے کے لیے وفاقی وزیر سردار ایاز صادق اور صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق نے وزارتوں سے استعفے دیئے تھے۔سردار ایاز صادق نے وزارت سے استعفی دیتے ہوئے کہا کہ ذاتی وجوہات کی بناء پر مستعفی ہو رہا ہوں، اپنا استعفیٰ وزیراعظم شہباز شریف کو بھجوا دیا، پارٹی کی مضبوطی کے لیے کام کرتا رہوں گا،صوبائی وزیر سلمان رفیق نے بھی استعفیٰ دیا تھا، انہوں نے اپنا استعفیٰ وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف کو بھجوا دیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف نے سلمان رفیق کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے۔

    مسلم لیک ن کے وزراء نے الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کی پابندی کی وجہ سے استعفے دیئے ہیں اور اب متعلقہ ارکان اسمبلی ضمنی انتخابات کیلئے بھرپور الیکشن کمپین چلائیں گے، تحریک انصاف کے رہنماوں کی جانب بار ہا اعتراض کیا جارہا تھا کہ مسلم لیگ ن کے وزراء ضمنی الیکشن میں مداخلت کر رہے ہیں اور امیدواروں کی الیکشن کمپین چلا رہے ہیں جو الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے.

    یاد رہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے مسلم لیگ ن کے صوبائی وزیر داخلہ عظاء اللہ تارڑ کو بھی پی ٹی آئی کی جانب سے ضمنی الیکشن کی کمپین کرنے کے الزام میں طلب کر چکا ہے

  • حکومتی طاقت کے باوجود تحریک انصاف ضمنی الیکشن میں کامیاب ہوں گی،شاہ محمود

    حکومتی طاقت کے باوجود تحریک انصاف ضمنی الیکشن میں کامیاب ہوں گی،شاہ محمود

    پی ٹی آئی کے رہنما اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ضمنی انتخابات میں حکومتی مشینری استعمال ہو رہی ہے، الیکشن کمیشن کو تحریری طور پر شکایت کی ہے۔شاہ محمود قریشی نے چشتیاں میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی طاقت کے استعمال کے باوجود تحریک انصاف کے امیدوار کامیاب ہوں گے۔

    مریم اورنگزیب نے دیا عمران خان کو آئینہ دیکھنے کا مشورہ

    شاہ محمود کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کے پاس کوئی ایجنڈا نہیں، ایک ماہ میں پیٹرول، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے معاشی حالات سنگین صورت اختیار کر گئے ہیں، اللّٰہ نہ کرے پاکستان میں سری لنکا جیسے حالات پیدا ہو جائیں۔

    شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستانی قوم عمران خان کا بیانیہ تسلیم کر چکی ہے، پہلے سازش کے تحت مداخلت پھر عدم اعتماد کے ذریعے شب خون مارا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے امیدوار لوٹوں کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں۔ عام انتخابات میں تحریک انصاف بھاری اکثریت سے کامیاب ہوگی۔

     

    شوہر سے لڑ کر بیوی بھی سیاست دان بن جاتی ہے، خورشید شاہ

     

    علاوہ ازیں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جن کے پاس طاقت تھی وہ کرپشن کو بُری چیز نہیں سمجھتے تھے، کون سی طاقت تھی اس ملک میں جو کرپٹ لوگوں کو سزا دینے سے روکتی تھی۔ضمنی الیکشن کے حوالے سے لودھراں میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی چیئر مین نے کہا کہ ملک پر دو ڈاکو آئے ہیں، ایک زرداری اور دوسرا شریف خاندان ہے، کراچی میں زیادہ بارش ہوئی ہے، قوم کی توجہ کراچی پر دینے لگا ہوں، کراچی پاکستان کا معاشی دارالحکومت ہے، 14 سال سے ڈاکو کراچی میں بیٹھا ہوا ہے، شہر کھنڈر بن گیا ہے، عثمان بزدار نے لاہور میں زیر زمین ٹینک بنائے، بارش کا پانی کھڑا نہیں ہوتا۔ زرداری اور مراد علی شاہ کے خلاف مقدمات تیار تھے، سندھ کا پیسہ چوری ہو کر دبئی جاتا ہے، انہوں نے کبھی نہیں سوچا، کراچی میں بارش کے پانی کے لیے کچھ کرنا ہے۔ جب تک زرداری ڈاکو سندھ پر قابض ہے صوبہ ترقی نہیں کر سکتا۔

  • ضمنی الیکشن میں دھاندلی ہوئی تو حالات سری لنکا کی طرح ہوں گے،شاہ محمود قریشی

    ضمنی الیکشن میں دھاندلی ہوئی تو حالات سری لنکا کی طرح ہوں گے،شاہ محمود قریشی

    ملتان: سابق وزیر خارجہ اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ضمنی الیکشن میں دھاندلی ہوئی تو حالات سری لنکا کی طرح ہوں گے۔

    باغی ٹی وی : سابق وزیر خارجہ اور پی ٹی آئی کے رہنما شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے پیٹرول اورگیس کی قیمتوں میں اضافہ کردیا جبکہ گھی، آئل اوردیگراشیا کی قیمتوں میں اضافہ اور مہنگائی آسمان پرپہنچ چکی ہےملکی معیشت اس وقت شدید دباؤ میں ہےاور ٹیکسٹائل شعبےکوبند کر دیا گیا ہےجس سے مہنگائی کا مزید طوفان پیدا ہو گا۔

    بارشوں سے ہونےوالی تباہی پربہت دُکھ ہوا ہے:حکومت بھی ناکام ہوگئی:عمران اسمٰعیل

    شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ملک میں مہنگائی کی ذمہ دارحکومت ہے اور حکمران اپنی سمت درست کریں ضمنی الیکشن شفاف ہونا چاہیے لیکن اگر ضمنی الیکشن میں دھاندلی ہوئی تو حالات سری لنکا کی طرح ہوں گے۔

    سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ زین قریشی کی شکایت پر آر او نے تفتیش کی مسلم لیگ ن کے امیدوار سرکاری اہلکاروں کی موجودگی میں میٹنگ کر رہے تھے اس وقت پوری قوم کی نظریں الیکشن کمیشن پر لگی ہوئی ہیں۔

    قبل ازیں سندھ بھر میں بارشوں کی صورتحال پر سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل نے بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ سندھ بھر میں بارشوں سے ہونے والے نقصان پر افسردہ ہیں، کراچی میں بارشوں کے بعد انتظامیہ اور سندھ حکومت غائب ہوچکی ہے۔

    سیاست میں گالم گلوچ اور تشدد کے کلچر کو ختم کرنا ہوگا:سراج الحق

    انہوں نے کہا تھا کہ سڑکوں پر پانی جمع ہے، لوگ ٹریفک پھنسے ہوئے ہیں، کئی نالے الٹے بہنا شروع ہوچکے ہیں، شہر کراچی پر سیاست کرنے والے گھروں میں چھپ کر بیٹھے ہیں پی ٹی آئی نے کراچی کے نالے صاف کروائے جس سے عوام کو رلیف ملا، سندھ حکومت نے ان نالوں کی دوبارہ صفائی نہیں کرائی، کراچی کے لوگوں کو پیپلزپارٹی ووٹ نہ دینے کی سزا دے رہی ہے۔

    سابق گورنر سندھ نے کہا تھا کہ سڑکیں تالاب بن چکی ہیں مگر نااہل ایڈمنسٹریٹر اور انتظامیہ غائب ہے، سندھ حکومت صرف شہر کراچی سے بھتہ کلیکشن کا کام احسن طریقے سے کرسکتی ہے۔

    لاہور: میو اسپتال سے ادویات چوری کے الزام میں 7 ملازمین کیخلاف مقدمہ درج