Baaghi TV

Tag: ضمیرفروش

  • ضمیرفروشوں سےموبائل بھی ضبط توٹویٹراکاونٹ بھی یرغمال:راجہ ریاض کا ٹویٹراکاونٹ کوئی اورچلا رہا ہے

    ضمیرفروشوں سےموبائل بھی ضبط توٹویٹراکاونٹ بھی یرغمال:راجہ ریاض کا ٹویٹراکاونٹ کوئی اورچلا رہا ہے

    اسلام آباد:ضمیرفروشوں سےموبائل بھی ضبط توٹویٹراکاونٹ بھی یرغمال:راجہ ریاض کا ٹویٹراکاونٹ کوئی اورچلا رہا ہے،اطلاعات کے مطاق پچھلے چند دنوں سے سندھ ہاوس سے آنے والی خبروں میں بتایا گیا تھا کہ وہ ارکان اسمبلی جنہوں نے اپنے ضمیربیچ دیئے ہیں ان سے موبائل چھین لیئے گئے تھے اور ان کی ہر کال کی ریکارڈنگ بھی کی جارہی ہے
    ادھر ابھی یہ خبریں‌گردش کررہی تھیں کہ انکشاف ہوا کہ ضمیرفروشوں میں سے کچھ ایسے بھی ارکان اسمبلی ہیں جن کے ٹویٹراکاونٹ بھی ضبط کرلیئے گئے ہیں اور ان میں راجہ ریاض اس وقت سرفہرست ہیں جن کا ٹویٹر اکاونٹ وہ چلا رہے ہیں جو اس کام کے لیے پہلے ہی مشہور ہیں

    ادھر اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ راجہ ریاض جن کو اپنے جی میل اکاونٹ کا پتہ نہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ٹویٹر اکاونٹ کا بھی نہیں‌پتہ ، سندھ ہاوس سے کچھ ایسے پیغامات آرہے ہیں کہ راجہ ریاض کو اپنے ٹویٹرآئی ڈی بھی نہیں پتہ کہ کیا ہے

    یہ بھی بتایا جارہا ہےکہ راجہ ریاض جن کوپہلے بولنے میں اتنی مہارت نہیں تھی اب ٹویٹرپیج پرطرح طرح کے شاندارطنزیہ اور بڑے عجیب ٹویٹس پیغامات شیئر کررہے ہیں آخر اس کی کیا وجہ ہے ، اس حوالےسے معلوم ہوا ہے کہ راجہ ریاض کے پیج کو ایک خاص شخصیت کے حکم پر آپریٹ کیاجارہا ہے اور یہ شخصیت ن لیگ کی مرکزی شخصیت ہے

    یاد رہے کہ اس سے پہلےبھی انکشافات ہوئے تھے کہ پی ٹی آئی کے ساتھ بے وفائی کرنے والے ارکان اسمبلی جن کوضمیرفروش کا نام بھی دیا جارہا ہے اس وقت اس عورت کی طرح زندگی گزار رہے ہیں جس پرشک کی وجہ سے اس کے گھروالے موبائل بھی چھین لیتے ہیں‌، بالکل ایسی ہی کیفیت اس وقت ان ضمیرفروش ارکان اسمبلی کودرپیش ہے

    معتبرذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان ارکان اسمبلی کے کردار پربھی ان لوگوں‌کو شک ہے جنہوں نے وفاداریاں خریدی ہیں اور وہ ان ارکان اسمبلی کو کسی سے بات کرنے کی اجازت نہیں دے رہے سوائے ان کے جو پہلے اجازت لیتے ہیں اور پھرجس سے بات کرنی ہواس کے نمبر کی ویری فکیشن کرتے ہیں‌

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس وقت ان ارکان اسمبلی کے موبائل فون سندھ ہاوس میں ایک اہم شخصیت کے پاس ہیں

    ادھر ذرائع نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہےکہ ان ارکان اسمبلی کو ان کے گھروالوں سے بھی رابطہ کرنے کے لیے پہلے تصدیق کروانا پڑتی ہے ، اس کےساتھ ساتھ اس جگہ ایسی ڈیوائسز کا بھی استعمال کیا جارہا ہے جوہرآنے اور جانے والی کال کوریکارڈ کرتی ہیں اورپھریہ سارا ڈیٹا ذمہ داران تک شیئر کیا جاتا ہے

    ادھر سندھ ہاوس سے انتہائی ذمہ داران ذرئع کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ آصف علی زرداری پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کو ن لیگ کی طرف جانے سے روکنے کے لیے تمام حربے استعمال کررہے ہیں ، یہ بھی کہا جارہا ہے کہ آصف علی زرداری کی طرف سے بڑی بڑی پیشکشیں بھی جاری ہیں اور کہا گیا کہ پی پی کے ٹکٹ پرالیکشن لڑیں اور الیکشن کے اخراجات بھی پی پی قیادت پیش کرے گی

    اس سلسلے میں جو کوششیں کی جارہی ہیں اس کےلیے وہ لوگ فرنٹ مین پر کام کررہےہیں جنہوں نے سینیٹ الیکشن میں ووٹ لینے کے لیے اہم کردار ادا کیا تھا

    ادھر ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ سندھ ہاوس میں موجود ارکان اسمبلی میں سےاکثروہ ہیں جنہوں نے سینیٹ الیکشن میں پی پی سے فائدہ لے کرووٹ پی پی سینیٹرز کو دیا ، ان کے فائدہ لینے کے ثبوت اور ویڈیوز بھی ان کے پاس ہیں اور وہ لوگ ان استمعال شدہ ممبران کو پرانے ثبوتوں کی وجہ سے بلیک میل کرکے اپنے کیمپ میں بٹھا رکھے ہیں

    ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ 11 ارکان اسمبلی اگرعمران خان کے خلاف اعتماد کا ووٹ نہیں دیتے تو اگلے الیکشن میں یہ پی پی کی طرف سے انتخابات میں حصہ لیں گے ،

  • ارکان اسمبلی کی ضمیرفروشی نے قوم کے سرشرم سے جھکا دیئے:آرٹیکل 63 اے رنگ دکھائےگا:اعتزاز احسن

    ارکان اسمبلی کی ضمیرفروشی نے قوم کے سرشرم سے جھکا دیئے:آرٹیکل 63 اے رنگ دکھائےگا:اعتزاز احسن

    لاہور:ارکان اسمبلی کی ضمیرفروشی نے قوم کے سرشرم سے جھکا دیئے:آرٹیکل 63 اے رنگ دکھائےگا:اطلاعات کے مطابق پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 63 اے اس کے خلاف لگتا ہے جو اپنی پارٹی کے خلاف ووٹ دے اور کوئی بھی رکن اسمبلی ووٹ سے پہلے نا اہل نہیں ہوسکتا۔

    لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی کے سابق سینیٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ اسلام آباد میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے اور جو کچھ نہیں ہو رہا وہ بھی سب کے سامنے ہے۔

    پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما اعتزاز احسن نے تحریک عدم اعتماد پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی رکن اسمبلی ووٹ سے پہلے نا اہل نہیں ہوسکتا اور آرٹیکل 63 اے صرف اس کے خلاف لگتا ہے جو اپنی پارٹی کے خلاف ووٹ دے تاہم ان کا ووٹ پارلیمنٹ میں تسلیم کیا جاتا ہے اور الیکشن کمیشن کے نااہل کرنے تک ووٹ ڈالنے والا ممبر رہتا ہے۔

    اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ چند روز قبل ایک بڑا سنگین معاملہ سامنے آیا اور کہا گیا کہ اسلام آباد میں ہونے والا او آئی سی اجلاس کو کو روک دیں گے تاہم پھر حکومت نے بہت اچھا فیصلہ کیا کہ او آئی سی کے حوالے سے حکومت پر دباؤ ڈالنے سے گریز کیا۔

    پی پی رہنما نے مزید کہا کہ آپ نے دیکھا ہے کہ چند روز قبل پی ٹی آئی کے رہنما راجہ ریاض کیا کہہ رہے تھے کہ ہمارے پاس 24 بندے موجود ہیں اور ساتھ یہ بھی کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے پاس اتنی ٹکٹس نہیں ہیں جتنے بندے موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تو سودے بازی ہورہی ہے، آپ پیسے پر بک جاو یا پھر الیکشن ٹکٹ پر ، کہلائی گی تو یہ سودے بازی ہی۔ان کا کہنا تھا کہ ضمیرفروشی سے پاکستانیوں کے سرشرم سے جھک گئے

    واضح رہے تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر اپوزیشن کی حمایت کرنے پر پاکستان تحریک انصاف نے 14 ارکان قومی اسمبلی کو اظہارِ وجوہ کے نوٹسز جاری کیے ہیں جب کہ 63 اے کی تشریح کے لیے حکومت نے سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس فائل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔