Baaghi TV

Tag: ضیغم قدیر

  • زندوں کی قدر و منزلت کریں!!! — ضیغم قدیر

    زندوں کی قدر و منزلت کریں!!! — ضیغم قدیر

    کسی کی تعریف کرنے کے لئے ضروری نہیں کہ اسکے مرنے یا جُدا کا انتظار کیا جائے۔

    ایک بار پروفیسر جارڈرن پیٹرسن اس بات پہ رو پڑے تھے کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور وہ اس احساس میں مبتلا تھا کہ اس میں کسی چیز کی کمی ہے شائد اسی وجہ سے اس کی کوئی تعریف نہیں کرتا۔ بدلے میں پیٹرسن نے اسکی تعریف کی تو وہ شخص بلک بلک رویا۔ لوگ تعریف سننے کو ترستے یہاں فوت ہوجاتے ہیں۔

    ہمارا بہت بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم میں سے زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں کہ اگلے کی تعریف کرنے سے وہ شخص ان کے ساتھ اپنا برتاؤ بدل دے گا۔

    زیادہ تر گھریلو جھگڑوں کو آپ دیکھ لیں چاہے لو میرج ہو یا ارینج، شادی کے کچھ سالوں بعد لڑائیاں شروع ہوجاتی ہیں۔ کیوں؟

    کیونکہ دونوں ایکدوسرے کو پہلے کی طرح نہیں سراہتے ۔

    بہت سے انسانوں کو یہ قدرتی عادت ہوتی ہے کہ وہ خوشی کے موقعے پہ ناراض ہو جاتے ہیں۔ سائیکالوجیکلی اس مظہر کی کئی وجوہات ہوتی ہیں زیادہ تر بچپن کی احساس محرومیاں۔مگر یہ بات کسی بھی رشتے میں محبت کو کم کرنے کے لئے کافی سے بھی زیادہ ثابت ہوتی ہے۔

    بقول کچھ سائیکالوجسٹس ہم ایسے تعریف نا کرکے کسی کو خود اپنی ذات سے نفرت کرنا سکھا دیتے ہیں ۔ وہ لوگ یہ سمجھنا شروع ہوجاتے ہیں کہ ان میں کچھ قابل تعریف ہے ہی نہیں۔

    ہمارے معاشرے میں تو تعریف کا اسٹینڈرڈ ہی کافی گھٹیا ہے۔ اگر کسی کو کوئی پیارا لگ رہا ہو تو بجائے اس کی تعریف میں دو بول بولنے کے وہ اس پر کوئی تھرڈ کلاس جگت لگا دیتا ہے۔ جس پر اگلا بندہ شرمندہ شرمندہ سا ہوجاتا ہے۔

    بظاہر یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں۔ مگر یہ کلیئر کٹ ہے کہ کوئی بھی آپ کے دل کی بات نہیں جانتا۔ اگر آپ کسی کو یاد کر رہے ہیں تو آپ کو اگلے کو بتانا ہوگا۔ اگر کسی کو پیار کرتے ہیں تو اظہار کرنا ہوگا۔ سنا تھا کہ خدا بھی اظہار کے بغیر خود سے کی گئی محبت قبول نا کرے اور یہ بات بجا ہے۔

    اسی طرح کسی کی قبر کو آپ کی تعریف کی ہرگز ضرورت نہیں ہوتی۔ کسی کی غیر موجودگی کو آپ کی تعریف کی ہرگز ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر آپ اسکے سامنے ہوتے ہوئے اس کی دل آزاری کرتے ہیں تو آپ اسکی غیر موجودگی میں چاہے اس شخص کو حاتم طائی ثابت کردیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔

    ہاں

    ضرورت ہوتی ہے تو اس وقت جب وہ پاس ہوتا ہے۔ جب وہ چلا جاتا ہے تب آپ کا کچھ بھی اس تک نہیں پہنچتا۔ انفرادی طور پہ اس عادت کو ضرور اپنائیں۔ کبھی کبھار کی تعریف کرنا سیکھیں۔

    خاص کر اپنے بچوں کی تعریف کرنا شروع کریں۔ اس نے گنتی لکھنا شروع کی تو ایک چاکلیٹ لا دیں۔ چاہے پانچ والی لا کر دیں دیکھ لیجیے گا اگلی بار وہ نیا ٹاسک جلدی سیکھے گا ۔ بچوں میں ٹاسک پہ خوش ہونا بہت کامن ہوتا ہے اگر آپ ان میں موجود ریوارڈ سسٹم کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں تو انہیں گفٹ دینا سیکھیں۔

    اپنے ملازم کی تعریف کریں۔ تعریف میں چار پیسے زیادہ دیں۔ اگلی بار دیکھیے گا کہ کیسے وہ ڈیڑھ بندوں کا کام اکیلا انجام دیتا ہے۔ کیونکہ تعریف ایک مثبت پرفارمنس بوسٹر ہے۔

    اپنے فیورٹ شخص کی تعریف کریں۔ اگلی بار دیکھیئے گا کہ کیسے وہ آپ سے اپنا پیار دو سے تین گنا کرتا ہے۔ یہ ایک واہمہ ہی ہے کہ اگر آپ اپنے پسندیدہ شخص کی تعریف کریں گے تو وہ بگڑ جائے گا یا آپ کی قدر کرنا چھوڑ دے گا بلکہ اگر وہ قدر دان ہوا تو وہ آپ کی پہلے سے زیادہ قدر کرنے لگ جائے گا سو اپنے فیورٹ شخص کی تعریف کرنا شروع کریں یہ عادت آپکے رشتے کو مضبوط بنا دے گی۔

    بس ایک بار ٹرائی کرکے دیکھیئے گا۔ کیونکہ ہم میں سے ہر کوئی اس احساس محرومی میں جی رہا ہوتا ہے کہ اس کو کوئی اپنا کبھی نہیں سراہتا جو کہ نہایت ہی غلط بات ہے۔

  • مغرب میں ہارمون تھیراپی اور بلوغت بلاک کرنے والی سرجریز کا ٹرینڈ — ضیغم قدیر

    مغرب میں ہارمون تھیراپی اور بلوغت بلاک کرنے والی سرجریز کا ٹرینڈ — ضیغم قدیر

    اس وقت مغرب میں ہارمون تھیراپی اور بلوغت بلاک کرنے والی سرجریز بہت ٹرینڈنگ ہیں جس میں ان بچوں کو جو اپنی بائیولوجیکل جنس سے ہم آہنگ نہیں ہیں انہیں سرجری سے گزارا جاتا ہے یا ہارمون بلاکر لگائے جاتے ہیں۔

    مطلب؟

    مطلب یہ کہ نو عمر بچے جو شروع سے ٹی وی پہ بار بار lgbtq+ چیزیں دیکھ رہے ہیں مطلب انہیں بچپن سے سکھایا جا رہا ہے کہ مرد کا مرد ہونا اسکے لئے جرم ہے عورت کا عورت ہونا، تو وہ اس بات کو سیریس لے کر اپنی بلوغت سے پہلے اپنے جسمانی جنسی اعضا کی نمو روکنے کے لئے ہارمون بلاکر لیتے ہیں۔ مطلب یہ کہ پہلے بچوں کو برین واش کیا جاتا ہے اور پھر پراڈکٹ بیچی جا رہی ہے۔ اور اس پر میڈیکل ایتھکس بھی اپلائی نہیں کی جا رہیں اور جو اس پر بات کرتا ہے اس کو خاموش کروا دیا جاتا ہے۔

    یہ ہارمون بلاکر کیا کرتے ہیں؟

    یہ ہارمون بلاکر بچیوں میں انکی چھاتیوں کو بڑھنے سے روکتے ہیں، بچوں میں ان کے مردانہ خصائص کے اظہار کو روکتے ہیں۔

    اور اس بارے میں حد سے زیادہ تنگ نظری پائی جا رہی ہے اگر آپ اس عمل کو غلط مانتے ہیں تو آپ ٹرانس فوبک کہلوائے جاتے ہیں، آپ کو نوکری سے نکال دیا جائے گا، باہر کے ملک سے آئے ہیں تو امیگریشن کینسل کرکے ملک سے بیدخل کر دیا جائے گا۔ چاہے آپ ڈاکٹر ہیں، سائنسدان ہیں یا صحافی، بلاتفریق اس پر زبان بندی کروا دی جاتی ہے۔

    اور واقعی میں ایسا ہو رہا ہے۔

    حالانکہ میڈیکل سائنس میں کسی قسم کے بھی جسمانی آرگن کو ٹرانسپلانٹ تک کرنے کے سخت سے سخت قانون ہیں مگر آپ ہارمون بلاکرز اور بریسٹ ریموول سرجری کے لئے ایک اپائنٹمنٹ لیکر سب کچھ کروا سکتے ہیں۔ اور سب سے زیادہ زور اس بات پہ دیا جاتا ہے کہ کم عمری میں ہی لڑکے اپنی ویسکٹومی کروا لیں مطلب خود کو ناکارہ کروائیں۔

    ہمارے ملک میں ٹرانسجینڈر بل امریکہ اور مغربی ممالک کا لال منہ دیکھ کر اپنا منہ لال کرنے کی طرف ایک قدم تو ہے ہی وہیں اسکے کلچرلی بہت بھیانک نتائج ہونگے۔

    کیوں؟

    کیونکہ ہمارے ہاں پہلے ہی مخلوط تعلیم اور رہن سہن پر پابندی ہے ایسے میں جب کم عمر ذہنوں کو بار بار بتایا جائے گا کہ ایک ہی جنس میں کشش محسوس کرنا اور اپنی جنس کو مخالف سمجھنا نارمل ہے تو یہ تباہی مغرب سے زیادہ بھیانک ہوگی۔

    ٹرانسجینڈر ایکٹ جس دن پاس ہوا تھا اس دن اس پہلو پہ بات کرتے ہوئے ہمارے کان لال ہو گئے تھے مگر کچھ سال بعد ان لوگوں کے لال ہونگے جو ابھی خاموش ہیں مگر انکا بیٹا جب صائم سے صائمہ بنے گا اور اپنی اصل بائیولوجیکل جنس قبول کرنے سے انکاری ہو جائے گا۔

    ہمارے ہاں ٹرانسجینڈ ایکٹ کے اثرات مغرب سے برے ہونگے اور آپ یہ بات نوٹ کر سکتے ہیں۔ یاد رہے یہ پوسٹ ٹرانس فوبک ہرگز نہیں بلکہ کلچرل اور میڈیکل پہلوؤں کو بتا رہی ہے۔

  • موروثی سیاست کا شکار پاکستان — ضیغم قدیر

    موروثی سیاست کا شکار پاکستان — ضیغم قدیر

    سعودی عرب پلاسٹک ویسٹ زیرو کرنے کے لئے شہریوں سے پرانے فونز لے رہا ہے اور ان کو ری فربش کرکے کم آمدنی والی جگہوں میں بچوں کو تعلیمی مقاصد کے لئے دینے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

    اومان 2040 تک مکمل طور پہ ڈیجیٹل ملک بننے جا رہا ہے وہیں امارات اور قطر وغیرہ اس بات کا اعادہ رکھتے ہیں کہ اپنے ملک کو ٹورازم اور تیل کیساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کی مدد سے بھی سپورٹ کریں۔

    دہلی میں اس سال سے آپ ب فارم سے لیکر ڈومیسائل تک ایپلی کیشن پہ ایک کلک کیساتھ گھر بیٹھے انہیں بنوانے کی سروسز لے سکتے ہیں۔ دہلی کے تمام سکول اس وقت ڈیجٹلائز کئے جا چکے ہیں یا جا رہے ہیں۔ وہیں دہلی میں آپ 200 یونٹ سے کم بجلی بالکل مفت حاصل کر سکتے ہیں۔

    کینیا کی سپیس ایجنسی 2017 میں بنی اور اس سال وہ چین کیساتھ خلائی اسٹیشن پہ جائے گی جہاں وہ مختلف طرح کی تحقیقات میں حصہ لے گی۔ یاد رہے یہ پروگرام 2008 میں لانچ کردہ کینیا وژن 2030 کا حصہ ہے۔ اس کے تحت کینیا سائنس اور ٹیکنالوجی میں آگے بڑھنے کا سفر جاری رکھنے کا قدم شامل رکھتا تھا اور اب واقعی آگے بڑھ رہا ہے۔

    یہ دنیا کے کچھ ان ممالک کے پیرا میٹر ہیں جنہیں ہم چنگڑ، چوڑہا یا پھر جاہل سمجھتے ہیں اور یہ سب بہت کچھ اچیو کر رہے ہیں۔

    جبکہ ہمارے ہاں ایک خاندان تیس سال حکمرانی کرنے کے بعد دل کے مرض کے علاج کے لئے لندن جاتا ہے سرجریوں کے لئے لندن جاتا ہے سرکاری تفریحات کے لئے لندن جاتا ہے وہیں دوسرا خاندان جو آزادی سے لیکر اب تک سندھ پر قابض ہے اس کا سربراہ بیمار ہو کر پرائیوٹ ہسپتال میں داخل ہوتا ہے اسکے لئے ائیر ایمبولینس تیار کھڑی رہتی ہے کہ کہہں باہر علاج کے لئے نا جانا پڑ جائے وہیں اسی کے ایک شہر میں ایک عورت اپنا بچہ لئے رو رہی ہوتی ہے کہ اس کو کوئی ڈاکٹر نہیں مل رہا ہے۔

    مہنگی بجلی کی وجہ سے ٹیکسٹائل ملز کے ملازم بے روزگار ہو رہے ہیں اور ان کی تعداد پچاس لاکھ بتائی جا رہی ہے اور ان کو بے روزگار کرنے والے کہہ رہے تھے کہ عمران خان نے روزگار نہیں پیدا کئے تھے۔ شائد عمران خان ان پچاس لاکھ ٹیکسٹائل کے ملازموں کو سرکاری دفاتر میں پٹواری یا چپڑاسی بھرتی کرتا تب ہی یہ روزگار کہلواتے۔ روز کا ملک میں ایک ہی رونا ہے کہ ہمیں دو خاندان اور ایک ادارہ کھا گیا اور یہ اگلے سو سال تک جاری رہے گا۔

  • ایک میچ کہ کھلاڑی کو سٹار مت بنائیں — ضیغم قدیر

    ایک میچ کہ کھلاڑی کو سٹار مت بنائیں — ضیغم قدیر

    شارٹ ویڈیوز دیکھنے والے ینگسٹر جانتے ہونگے کہ اکثر شارٹس میں استعمال ہونے والے گانے بہت ہی عمدہ ہوتے ہیں مگر جب ہم اوریجنل مکمل گانا سنتے ہیں تو دل گالیاں دینے کو کرتا ہے۔

    بالکل یہی حساب قومی کرکٹ ٹیم کیساتھ ہوتا ہے۔ کوئی بڑے پیج کا ایڈمن ایک شارٹ میچ دیکھ لیتا ہے جس میں کوئی پلئیر اچھا کھیل رہا ہے اور پھر کمپین شروع ہو جاتی ہے کہ اس کو کھلاؤ۔

    اور یوں اس کھلاڑی کی بکواس گیم دیکھ کر ہم جیسے شائقین کڑھتے رہتے ہیں۔

    خوشدل شاہ برا کھلاڑی نہیں مگر اس کو ڈومیسٹک اور لیگ میچز کھلانے چاہیں۔ اس غریب نے ایک میچ میں اچھی سینچری بنائی تھی اور شائد ایک ٹورنامنٹ اچھا کھیلا تھا کمپین چلی کہ خوشدل شاہ ٹیم کا حصہ ہونا چاہیے۔ ہر یوٹیوبر کرکٹر نے زور دیا ٹیم میں آیا تو پرچی بن گیا۔

    شان مسعود، عزم خان، حیدر علی ان کے بارے میں باقاعدہ کمپینز چلی ہیں کہ یہ مہا توپ کھلاڑی ہیں ان کو کھلائیں مگر ہر بار انہوں نے ثابت کیا ہے کہ ان کو کیوں نہیں کھلانا چاہیے ہے۔

    آجکل خیر سے شرجیل خان کا چرچا کسی نے چلوا دیا ہے ساتھ ساتھ عماد وسیم اور شعیب ملک کا بھی کارڈ کھیلا جا رہا ہے حالانکہ یہ پہلے ورلڈکپس میں کیا کر چکے ہیں سب کو معلوم ہے۔ اب اگر ایک ایک ٹورنامنٹ انکا اچھا گزر گیا ہے تو پھر سے ان کو ہم پر لوگ عذاب بنوا کر نازل کروانا چاہتے ہیں۔

    دوسری طرف انڈیا کا سوریا کمار یادو ہے۔ سکائی کو بارہ سال لگے انڈین نیشنل ٹیم میں آنے کے لئے، اس دوران اس نے بہترین فرسٹ کلاس کھیلی، تین سال آئی پی ایل میں پانی پلایا اور پھر موقعہ ملا اور اب جاکر قومی ٹیم کا حصہ بنا ہے اور شروع سے اب تک اس کی پرفارمنس بہترین رہی ہے۔

    یہی حساب حارث رؤف کا ہے حارث نے دو سال باہر بیٹھ کر میچ دیکھے پھر دوبئی لیگ اور پھر لاہور قلندر سے پرفارمنس شروع کی اور اب تک چلتا ہی جا رہا ہے۔ وہیں باقی ایک ایک ٹورنامنٹ والے کھلاڑی جن میں مجارٹی مڈل آرڈر میں ہے وہ ہمیں ہر میچ میں مایوس اور ذلیل کرتے ہیں جس پر ہر میچ میں دل خون کے آنسو روتا ہے۔ مگر ان کے ٹیم میں لانے کے قصوروار وہی ہیں جو آج ان کو پرچی پرچی کہہ رہے ہیں۔

    ابھی ورلڈکپ میں یہی ٹیم ہوگی لیکن میری امید فقط بابر، رضوان، فخر، افتخار، حارث، شاہین اور شاداب سے جڑی ہے باقی پرچیوں کو دیکھنے کا بھی دل نہیں کرے گا نا کرتا ہے۔ وہیں ایک ٹورنامنٹ کے کھلاڑی کو ہیرو بنا کر پیش کرنے والوں کو اتنا ہی کہونگا کہ

    Don’t make one match sensation a super star.

  • مرد استاد اور طالبات — ضیغم قدیر

    مرد استاد اور طالبات — ضیغم قدیر

    اگر آپ کی بیٹی آپ کو کہتی ہے کہ وہ اپنے فون پہ اپنے کسی مرد ٹیچر سے روزانہ یا ہفتہ وار بات کر رہی ہے تو اس پر نگرانی شروع کریں اور اس مرد ٹیچر کو پہلی فرصت میں بلاک کروائیں.

    ایک استاد کے لئے کسی طالب علم کو متاثر کرنا سب سے آسان کام ہوتا ہے اور اگر یہ کم عمر بچیاں ہوں تو بات بالکل حلوہ بن جاتی ہے موبائل فون آنے کے بعد سے انکے لئے نو عمر بچیاں آسان شکار بن چکی ہیں.

    یہ لوگ آسان شکار کی تلاش میں کم عمر بچیوں سے روابط بنانے سے نہیں جھجکتے حالانکہ ان کی بیٹیوں کی عمریں بھی ان بچیوں جتنی ہی ہوتی ہیں.

    اور مجھے شرم آتی ہے کہ ایسی بات کر رہا ہوں لیکن،

    پاکستان میں مرد ٹیچرز کی ایک بڑی تعداد اپنی فی میل سٹوڈنٹس کو اپنے لئے ایک آسان شکار سمجھ کر انہیں پھنسانے کے چکر میں رہتے ہیں. اور ایسے کئی کیسز میں اپنے سامنے دیکھ چکا ہوں اسلامیات کا ٹیچر، اخلاقیات کا ٹیچر، بائیو کا، فزکس کا غرضیکہ سبجیکٹ کا نام لیں میں کردار بتا دوں کہ فلاں جگہ فلاں ٹیچر کو اپنی فیمیل سٹوڈنٹ سے غلط تعلقات بناتے ہوئے دیکھا ہے.

    ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی حرکت پہ شرمندہ تک نہیں ہوتے ہیں اور پکڑے جانے پہ ڈھٹائی سے کہتے ہیں کہ قصور بچی کا ہے انکا نہیں اور انکے کولیگ کسی قسم کی کاروائی نہیں کرواتے کیونکہ بعد میں انکے پول بھی وہ شخص کھول سکتا ہے.

    بے غیرتی کی اس کیٹیگری میں عمر کا بھی کوئی پیمانہ نہیں ستر سال کے مذہبی ٹیچر سے لیکر 20-30 سال کے لبرل نوجوان ٹیچر تک سب اس حمام میں ننگے نظر آتے ہیں.

    اس لئے اپنی بچی کے منہ سے اگر آپ کسی مرد ٹیچر کی ضرورت سے زیادہ تعریف سن رہے ہیں، بچی ہر روز اور ہر وقت اسکی تعریف کرتی ہے اور اس کے آپکی بچی پہ احسانات بھی ہو رہے ہیں اور موبائل سے روابط بھی ہیں تو آسانی سے سمجھ جائیں کہ وہ ٹیچر کسی شکار کی تلاش میں ہو سکتا ہے.

    ہمارے معاشرے کا یہ شرمناک پہلو جس دن دیکھا اس دن مجھے حد سے زیادہ افسوس ہوا مگر یہ ایک حقیقت ہے حتیٰ کہ کولیگ ٹیچر بھی جانتے ہیں کہ کس ٹھرکی کی آجکل کس سٹوڈنٹ پہ نظر ہے اور وہ اس کو آفس میں کب بلا رہا ہے.

    ہمارے ہاں اس ٹاپک کو ٹابو سمجھا جاتا ہے اور مائیں بچیوں کو نہیں بتاتی کہ آپ سے کیسی حرکت بیہودہ ہوسکتی ہے اور کیسے اگلے شخص کو لمٹس میں رکھنا چاہیے مگر یہ باتیں بچیوں کو سمجھانا بہت ضروری ہیں اس سے پہلے کہ وہ کسی کا شکار بنیں.

    اس تحریر کا مقصد سب ٹیچرز کو برا بھلا کہنا ہرگز نہیں، ہر مرد ٹیچر ایسا ہو ضروری نہیں، مگر میں نے چند ہی شریف مرد ٹیچر دیکھے ہیں مجارٹی کا سکینڈل ضرور دیکھ رکھا ہے اور یہ باتیں میرے ذاتی مشاہدے کی ہیں سو اس کی بنیاد پہ اپنا مؤقف بتا رہا ہوں۔ آپکا میری رائے سے یا میرا آپکی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

  • ایک صد انچاس روپے کی بچت!!! — ضیغم قدیر

    ایک صد انچاس روپے کی بچت!!! — ضیغم قدیر

    ایک ہمارے ابا لوگوں کا زمانہ تھا شادی کے بعد بیوی کو خط لکھتے تھے اور خط چونکہ دادی اماں نے پڑھ کر سنسر اپرو کرنے کے بعد آگے دینا ہوتا تھا تو زبان کافی مہذب رکھنا پڑتی تھی۔

    بعد از سلام امید کرتا ہوں آپ خیریت سے ہونگی۔ یہ ہفتہ بھی اچھا گزرا، تنخواہ کے چھ صد روپے اسی ہفتے منی ڈرافٹ کر دوں گا۔ اس میں سے چار صد روپے آپ اماں کو دے دیجیے گا، ایک صد آپ کا خرچ جبکہ ایک کو آپ غلے میں ڈال دیجیے گا کہ پلاٹ کی کمیٹی کے پیسے پورے ہو جائیں، انشاءاللہ ڈیڑھ سال بعد حاجی صاحب سے بیس مرلے کا پلاٹ جو کہ مبلغ بارہ ہزار نو سو چورانوے کا سکہ رائج الوقت کے مطابق بن رہا ہے وہ لے لیں گے۔

    سلام عرض ہے۔

    ایک ہماری جنریشن ہے۔

    رات ایک بجے فون پہ بات شروع ہوتی ہے کہ بےبی نے تھانے میں تیا تھایا؟ اب اگر بے بی کی اماں جو خط میں فقط منی ڈرافٹ ڈسکس کرنے کی عادی تھی وہ یہ سب پڑھ لیں تو بے ساختہ چھترول کریں کہ ٹٹ پینی دیا کس تھانے چوں کٹ کھا آیا ایں؟ اس سے بات چلتی چلتی سیریلیک کے فلیور تک آ جاتی ہے۔ کہ جانو آپ بلو والا سیریلیک اس بار دو کاٹن ایکسٹر لانا، اب جانو کو بھی پتا ہے کہ یہ سیریلیک بچے کی صحت پہ نہیں بچے والی کی صحت پہ ہی لگنا ہے مگر لانا مجبوری ہوتی ہے۔

    اور

    پھر تنخواہ یوں تقسیم ہوتی ہے۔ امی یہ پانچ ہزار آپ کا، بیس ہزار بل کا، اور یہ تیس ہزار ہم دونوں کے چپس اور پزے برگر کھانے کا۔

    افسوس کہ ہماری جنریشن ایک صد انچاس روپے بھی بچت کے لئے نہیں بچا پاتی۔

  • پھر بھی خوش نہیں!!! — ضیغم قدیر

    پھر بھی خوش نہیں!!! — ضیغم قدیر

    1960 کے بعد سے خواتین میں خوش رہنے کی شرح خطرناک رفتار سے کم ہوئی ہے۔ نیشنل بیور آف اکنامک ریسرچ نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکہ میں اس بات کے باوجود کہ خواتین کو حقوق مل رہے ہیں، نوکریاں مل رہی ہیں، امن حاصل ہے ان میں پھر بھی خوش رہنے کی شرح حد سے زیادہ کم ہو گئی ہے۔

    وجہ؟

    اگر ہم بائیولوجیکلی دیکھیں تو کیرئر کا سٹریس ارتقائی ہسٹری میں کبھی بھی کسی خاتون کا گول رہا ہی نہیں ہے۔ عورتیں اس بات کے لئے ہارڈ وائرڈ ہیں کہ وہ کم سے کم فزیکل یا مینٹل سرگرمیوں میں شریک ہو سکیں۔

    اس میں قصور کس کا تھا؟

    اوورآل یہ باہمی رضامندی سے کیا گیا ایک فیصلہ تھا جس میں اولاد کی بہترین پرورش کے لئے مرد نے روزی ڈھونڈنا چنا تو عورت نے گھر رہنا۔ انسان اگر ایسا کرنا نا چنتے تو آج ہم ایسے نا ہوتے۔ یہ لاکھوں سال کا ارتقاء اب ہماری رگ رگ میں چھپا ہمیں ڈستا رہتا ہے۔ اس کی وجہ عورتوں کی بائیولوجی نکل آتی ہے۔

    لیکن حالیہ 60 برسوں میں باوجود اس بات کے کہ خواتین آزاد زندگی گزار رہی ہیں ان کے لئے خوش رہنے کے مواقعے کم ہوتے جا رہے ہیں اسی طرح اگر ایک خاتون ہی صرف گھر کو پال رہی ہیں تو ان کے لئے زندگی ایک کھٹن سفر بنتی جا رہی ہے۔ اخلاقی طور پہ وہ عظیم کام کر رہی ہیں مگر بائیولوجیکلی خود پر ظلم ڈھا رہی ہیں۔

    میں خود خواتین کے کیرئر بنانے کے حق میں ہوں لیکن یہ تحقیق آج مجھے بھی حیران کر چکی ہے کہ واقعی میں کیرئر کی ٹینشن، ورک پریشر اور خاندان سنبھالنے کی ذمہ داریاں ان کو خوشیوں سے دور لیجا چکی ہیں۔

    اسکے علاوہ ایک اور تحقیق یہ بھی ہے کہ 30 سال کی عمر کے بعد خواتین کی جاب پرفارمنس کا گراف تیزی سے نیچے گر جاتا ہے اور اس بات کی وجہ بھی مردانہ سماج نہیں بلکہ ان کا ہارمونل سسٹم ہے۔

    اب اسکا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ آن ایوریج خواتین کی سبجیکٹو خوش رہنے کی شرح مردوں سے حد سے زیادہ کم ہو چکی ہے۔ جہاں نوکریوں میں آج جینڈر گیپ ختم ہو رہا ہے تو وہیں بائیولوجیکل جینڈر گیپ یہاں پہ بڑھ چکا ہے۔

  • اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) — ضیغم قدیر

    اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲) — ضیغم قدیر

    اگر مجھے یہ پوچھا جائے کہ ضیغم قرآن پاک میں سے تمہاری پسندیدہ آیت کونسی ہے تو میں لا محالہ آنکھیں بند کئے پڑھ دونگا کہ

    اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ(۶۲)

    کیونکہ قرآن پاک میں میری موسٹ فیورٹ آیت یہی ہے۔ میرے نزدیک یہ آیت آیت نہیں ایک فلسفہ حیات ہے۔

    وہ فلسفہ حیات جسے سمجھتے ہوئے ہم اکثر عمریں بیتا دیتے ہیں۔ لیکن ہم وہ باتیں سمجھ نہیں پاتیں۔ لیکن اکثر لوگوں کیساتھ یہ ہوتا ہے کہ ان کو کچھ بتانے والے بتا جاتے ہیں اور وہ جہاں عمر بھر کی محنت کرنے سے بچ کر ایک چیز سیکھ جاتے ہیں تو وہیں ان کو بہت سی ایسی غلطیوں سے بچنے کا موقعہ مل جاتا ہے۔

    یہ آیت کیا ہے؟

    یہ آیت دراصل ایک درس ہے۔ زندگی جینے کا درس، اس کا سادہ ترجمہ یہی ہے کہ انہیں نا خوف ہوتا ہے نا وہ غمگین ہوتے ہیں مطلب انہیں کوئی غم یا اندیشہ نہیں ہوتا ہے۔

    لیکن یہاں خوف کس کا ہوتا ہے اور اندیشہ کیونکر لاحق ہو جاتا ہے یہ جاننا بہتر ہے اور یہ دو سال پہلے ایک کال ڈسکشن پہ جاننے کی کوشش ہوئی۔

    بتانے والے نے بتایا کہ غم ہمیشہ ماضی کا ہوتا ہے۔ وہ غم جو ہمیں ڈراتا ہے، ماضی کی باتوں سے، ان لمحوں سے جو ناپسندیدہ ہوں، جو ہماری چاہ سے ہٹ کر گزرے ہوں یا وہ امکانات جو ہماری دسترس میں نا آسکے ان کا پچھتاوا ہوتا ہے۔ یہ غم ہمیں ساری زندگی ایک پنجرے میں مقید کئے رکھتا ہے۔

    بہتے ایسے ہوتے ہیں جو اپنے ماضی سے نہیں نکل سکتے ان کو انکا ماضی اپنے سحر میں جکڑے ڈستا ہے بالکل ویسے ہی جیسے کہانیوں میں آپ نے سنا ہوگا کہ کوبرا آپ کو ہپناٹائز کرکے ڈستا ہے۔ یہ ماضی بھی آپ کو ہپناٹائز کرتا ہے اور پھر تب تک ڈستا ہے جب تک موت نہیں آ جاتی۔ آپ کا ہر لمحہ تکلیف میں گزرتا ہے ہر سیکنڈ کرب میں گزرا سیکنڈ ہوتا ہے۔

    وہیں جن میں یہ غم نہیں ہوتا ان میں خوف ہوتا ہے۔ خوف کس چیز کا ہو سکتا ہے؟ اور مستقبل ہی کیوں اس خوف کی بہترین تفسیر ہو سکتا ہے؟ اس لئے کہ یہ بھی ساحر ہے، غم سے بڑا ساحر، جو آپ کو مقید کئے رکھتا ہے ان اندیشوں میں جو نا ہوئے واقعات کو اپنی لپیٹ میں لیکر آپ کی سانس تنگ کر رہے ہوتے ہیں ان لمحات کے اندیشے جو کبھی ہو ہی نہیں سکتے، یہ اگر مگر کیسے کی سوچ ہے جو ان اندیشوں کی بنیاد رکھتی ہے۔

    اب یہاں وہ لوگ کون ہیں جو یہ خوف نہیں رکھتے، یہ غم نہیں رکھتے؟ یہ لوگ دراصل خدا کے پسندیدہ لوگ ہیں۔ وہ لوگ جنہیں قرب خداوندی حاصل ہے وہ ماضی کے خوف سے مبرا اور مستقبل کے اندیشوں سے خالی ہو کر جیتے ہیں۔

    انہیں غم نہیں ہوتا کہ ماضی کیا گزرا ہے اور خوف نہیں ہوتا کہ مستقبل کیسا ہووے گا۔ وہ اس غم سے نکل چکتے ہیں کہ کاش ایسا کیا ہوتا تو ایسا ہو جاتا اور وہ اس اندیشے سے چھٹکارہ پا چکے ہوتے ہیں کہ اگر یوں ہو جائے تو۔ وہ بس حال میں جیتے ہیں وہ حال جو ماضی کے پچھتاوں اور مستقبل کے اندیشوں سے پاک ہو۔ وہ ایک پرسکون حال میں جیتے ہیں جس میں مستقبل کی تیاری تو ہوتی ہے مگر خوف نہیں ہوتا۔ وہ ایک پرسکون زندگی جی رہے ہوتے ہیں۔

    مجھے نہیں معلوم کون کتنا خدا کے قریب ہے اور کون نہیں نا ہی مجھے یہ جاننے کی تمنا ہے مگر مجھے اتنا علم ضرور ہے کہ یہ آیت ایک گتھی سلجھا چکی تھی وہ گتھی جو زندگی کی ڈوروں نے الجھا کے رکھی ہوئی تھی۔ مستقبل یا ماضی کے اندیشوں اور خوف سے آزاد ہو کر جینا ہی اصل جینا ہے۔

  • رشوت کے نئے انداز — ضیغم قدیر

    رشوت کے نئے انداز — ضیغم قدیر

    یونیورسٹی گیا تو مجھے رشوت کی اس نئی قسم کا پتا چلا، سکالرشپ ان بچوں کو ملتی ہے جن کے والدین فوت ہو گئے ہوں یا پھر جن کی آمدن بیس ہزار سے کم ہو۔ مگر یہ سکالرشپ لگوانے سے لیکر چیک پاس کروانے تک آپ کو مختلف آفسز میں رشوت دینا پڑتی ہے۔ اور وہ فخر سے لیتے ہیں۔ یہ واقعہ ایک دوست کیساتھ پیش آیا۔

    اسی طرح زندگی میں پہلی بار ہسپتال انیس سال کی عمر میں گیا۔ وہاں یہ پتا چلا کہ مریض کے ہوش میں آنے کے بعد نرس کو رشوت دینا رشوت دینا نہیں نرس کو سپورٹ کرنا کہلواتا ہے۔ اور یہ ضروری ہے ورنہ اس بات کا کسی کو علم نہیں کہ نرس کب کونسا سوئچ آف کرکے آپ کے مریض کی علالت لمبی کر دے۔ لیکن ہم نے نرس کو ایک پیسہ بھی نا دیا اور اسی شام کو واپس آگئے۔

    ڈاکٹرز نے رشوت لینے کا دوسرا طریقہ یہ بھی ڈھونڈا ہے کہ یہ سرکاری ہسپتالوں میں آنے والے مریضوں کو جانور سے برا ٹریٹ کرتے ہیں مگر وہیں اگر یہ مریض ان کے نجی کلینک یا ہسپتال میں دو ہزار کی پرچی لیکر آئے تو یہ اس کو اپنا والد محترم بھی تسلیم کر لیتے ہیں۔

    ایک جاننے والے جو کہ "ادارے” کے تھے وہ نہروں کو کشادہ کرنے اور پل بنانے وغیرہ جیسے امور کی انسپیکشن پہ مامور تھے وہ ٹھیکیدار سے انسپیکشن پاس کرنے کا ایک بریف کیس لیتے تھے اب چاہے نہر بیس فٹ گہری کی بجائے دس فٹ گہری کرکے آبادی سیلاب میں ڈوب جائے ان کو پرواہ نہیں تھی کیونکہ وہ ہر مہینے نئی فارچنر افورڈ کر سکتے تھے۔

    پولیس والوں کا اگر رشوت لینے کا ارادہ ہو تو وہ سب سے پہلے آپ سے کاغذات کا پوچھیں گے اگر وہ ہیں تو آپ سے وہ ہیلمٹ پہ چلان کا کہیں گے اگر وہ پہنا ہے تو ڈرائیونگ لائسنس کا پوچھیں گے اگر آپ کے پاس وہ بھی ہے تو یہ آپ پر ڈبل سواری کا چلان کرنے کی دھمکی دیں گے اور پھر سو روپے لیکر چھوڑ بھی دیں گے۔ میں نے پہلی بار سو روپے رشوت یہاں دی تھی۔

    بہت سے ممالک نے میڈیکل ٹیسٹ کی پابندی اس لئے لگائی ہے کہ یہاں کی بیماریاں جو کہ وہاں سے ختم کو چکی ہیں دوبارہ نا جا سکیں۔ مگر ہمارے جوان رشوت لیکر وہ ٹیسٹ بھی کلئیر کروا سکتے ہیں۔

    کبھی کبھی اس تعفن زدہ ماحول سے دم گھٹنے لگ جاتا ہے سو دو سو جیسی معمولی رقم جسے ہمارے بچے روزانہ جیب خرچ میں لیتے ہیں وہ بھی یہاں بطور رشوت سرعام دینا پڑتی ہے۔

  • پاک بھارت کرکٹ ٹاکرہ اور سوشل میڈیا — ضیغم قدیر

    پاک بھارت کرکٹ ٹاکرہ اور سوشل میڈیا — ضیغم قدیر

    سوشل میڈیا کمال کی جگہ ہے یہاں منٹوں میں کوئی ہیرو بن جاتا ہے تو منٹوں میں ولن، ایسے میں جذباتی تبصرے کافی مزے کے ملتے ہیں۔

    ایک بھائی صاحب کہتے ہیں رضوان اگر کھڑا رہتا تو پاکستان میچ ہار جاتا، مگر میں کہتا ہوں اگر رضوان بیٹھ جاتا تو بھی پاکستان ہار جاتا کیونکہ اسکے اکہتر رن صدقے میں نہیں گئے ٹیم کے سکور کارڈ میں گئے ہیں۔

    ایک بھائی بولے سب ٹھیک ہے مگر انگریزی اچھی نہیں تھی، اس پر دل سے صدا آئی کہ پانٹ کے IELTS کے 8 بینڈ اگر کرکٹ میں کام آنا ہوتے تو وہ شاداب کی اردو میں گرامر کی غلطیاں نکال کر چھکا بن جاتے۔ کھلاڑی یہاں اے بی سی سنانے نہیں آئے کھیلنے آئے ہیں انگلش سننی ہے تو فاکس نیوز لگا لیں۔

    ایک اور بھائی نے پچھلے میچ میں مشورہ دیا تھا کہ حارث رؤف جیسا بیکار کھلاڑی ٹیم میں رکھنا فضول ہے۔ اب آج ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر حارث رؤف کو حسن علی کی طرح شادیوں والا ورتاوا(ویٹر) رکھ لیتے تو انڈیا کے رنز کس پھپھی کے پتر نے روکنا تھے؟ تہاڈی؟

    اور تو اور فخر سے کیچ ڈراپ ہوا وہ پچھلی مس فیلڈنگ کی وجہ سے انڈرپریشر ہونے پہ ہوا، بیٹنگ میں خرابی کے پیچھے بھی یہی وجہ ہے کہ بار بار کیمرہ ہائی لائٹ بہت انڈر پریشر کرتی ہے۔ مگر وہ کہہ رہے ہیں کہ فخر کو ٹیم سے نکالنا چاہیے اچھا انکی مان لیں کیونکہ ان کے پاس بارش میں کینچوے پکڑنے کا عالمی ریکارڈ ہے سو مان لیں بھائی کی۔

    اور تو اور کچھ کہہ رہے ہیں کہ جیت تو گئے ہیں مگر کیا فائدہ آخری اوور میں آخری گیند تک میچ لیکر گئے تھے، اب مجھے معلوم نہیں کہ بھائی محلے میں گلی ڈنڈے میں کتنی سنچریاں بناتے تھے مگر سوری ٹو سے پائین اگے انڈیا دی ٹیم سی تہاڈی خالہ دا ٹنڈا منڈا نئیں سی۔

    نسیم شاہ پر تبصرہ پڑھنے کو ملتا ہے کہ ابھی بچہ ہے اس لئے ٹیم میں نہیں رکھنا چاہیے، چلیں جی باقیوں کی مان رہے تو آپ کی بھی مان لیتے ہیں جب اس کے پوتے کی شادی ہو گی تب اس کو کھیلا لیں گے آپ فکر نا کریں۔ رہی بات نئے ٹیلنٹ کی تو اس کا کیا۔ آپکا مشورہ ہے کہ نئے کھلاڑی میچور ہونے چاہیں تو پھر آئندہ سے کھلاڑیوں کی کرکٹ کی بجائے بچوں کی تعداد دیکھ کر ٹیم بنا لیں گے۔

    اوپر سے یہ وسیم اکرم بھی ٹیم کی کپتی ساس ہے۔ بندہ اس سے پوچھے پائی تم کمنٹری مخالف ٹیم کی طرف سے کیوں کر رہے ہو؟ ساتھ والا کمنٹیٹر کہتا ہے کہ واؤ واٹ آ شاٹ بائی نواز، اب وسیم پائی اس پہ کہتے ہیں کہ اگر لیگ پہ کھیل لیتا تو چھکا تین میٹر لمبا ہو سکتا تھا۔ مجھے تو وسیم پائی بھی مخالفوں کا بندہ لگتا ہے اسکی کمنٹری سن کر بہت غصہ آتا ہے۔ بھائی کبھی ساس نا بننے کی بھی کوشش کر لیا کرو۔

    ٹیم تو جیت گئی مگر آج جو جلن دیکھنے کو ملی اسکا الگ مزہ آ رہا ہے۔ مزید جلن تب ہو گی جب اگلے میچ کا سکواڈ بھی سیم ہی ہوگا۔ ہم تو محض انٹرٹینمنٹ ہی لے سکتے ہیں ہمارے کہنے سے ٹیمز نہیں بدل سکتیں لیکن ہم سب کے فیورٹس الگ الگ ہو سکتے ہیں جیسے اوپر والوں کے ہیں جن پر مذاق کیا ہے۔