Baaghi TV

Tag: طارق عزیز

  • جنرل پرویز مشرف  کے پرنسپل سیکرٹری مرحوم طارق عزیز کے اعزاز میں تعزیتی ریفرنس

    جنرل پرویز مشرف کے پرنسپل سیکرٹری مرحوم طارق عزیز کے اعزاز میں تعزیتی ریفرنس

    اسلام آباد: سابق قومی سلامتی کے مشیر اور اس وقت کے صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف کے پرنسپل سیکرٹری مرحوم طارق عزیز کے اعزاز میں جمعہ کو اسلام آباد کلب میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ جناب طارق عزیز انکم ٹیکس سروس کے ایک سینئر سرکاری افسر تھے اور 81 سال کی عمر میں انتقال کرگئے، وہ خدمت اور بے مثال ایمانداری، پیشہ ورانہ قابلیت کی وجہ سے قابل احترام تھے۔

    دوست احباب، ساتھی، خاندان اور کاروباری برادری اور سیاست سے تعلق رکھنے والی نامور شخصیات بشمول رانا سیرت، سمریہ قاضی، پروین ق آغا، سلمان نبی، سعید اختر، فریدہ امجد، طارق صادق، عمر کامران، عبدالشکور، عبدالجلیل، شریف احمد، سید اعجاز۔ شاہ، ظفر بختاوری، محبوبہ رزاق، عاطف عارف شیخ، ظاہر کلیم، برادرم خالد عزیز، پوتے میکائیل ایلین، سلیمان، بیٹیاں طاہرہ عزیز اور ہاجرہ عزیز، جاوید ظفر اور شمیم ​​احمد نےریفرنس میں شرکت کی.

    خراج تحسین پیش کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ جناب طارق عزیز نے قانون کی حکمرانی کے لیے وقف زندگی گزاری اور انہوں نے کیریئر کی ہر پوزیشن کو بہتر بنا کر چھوڑ ا۔

    مقررین نے طارق عزیز مرحوم کے انتقال کو ناقابل تلافی نقصان قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ بہت مہربان اور اچھے ساتھی اور دوست تھے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی روح کو جوار رحمت میں جگہ دے اور سوگوار خاندان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔انہوں نے لواحقین سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔ ریفرنس کا اہتمام انکم ٹیکس گروپ کے سینئر افسران نے کیا تھا۔

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

  • طارق عزیز وفات  پا گئے

    طارق عزیز وفات پا گئے

    سابق صدر مملکت پرویز مشرف کے پرنسپل سیکریٹری طارق عزیز آج بروز اتوار 18 ستمبر کو انتقال کرگئے۔طارق عزیز کئی ماہ سے علیل اور اسلام آباد کے اسپتال میں زیر علاج تھے۔ وہ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری سمیت کئی اہم عہدوں پر فائز رہے۔

    طارق عزیز بطور مشیر کے بھی سابق صدر مشرف کے ہمراہ ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔ انہوں نے نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے سیکریٹریٹ کے عہدے سے اس وقت استعفیٰ دیا جب سابق صدر مشرف نے 18 اگست 2008 کو صدارت سے استعفیٰ دیا تھا۔

    سابق انکم ٹیکس افسر، پرویز مشرف کے کالج کے دوست تھے۔ دونوں نے ایک ساتھ ایف سی کالج لاہور سے تعلیم حاصل کی۔سال 2002 کے عام انتخابات سے پہلے اور بعد میں ‘وفادار’ امیدواروں کی فہرست تیار کرنے/ انہیں مجبور کرنے میں بھی طارق عزیز پیش پیش رہے۔

    پرویز مشرف کے قریبی حلقوں میں وہ واحد شخص تھے جنہوں نے پرویز مشرف کو ریفرنڈم میں نہ جانے کا مشورہ دیا تھا۔

    سابق وائس چیف جنرل یوسف کا دعویٰ ہے کہ بھارت کے ساتھ بیک چینل ڈپلومیسی جس کی سربراہی پرویز مشرف کے بااعتماد ساتھ طارق عزیز نے کی تھی وہ فوج کو اعتماد میں لیے بغیر کی گئی تھی۔

    ذرائع اس بات کا بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ اس وقت کے سیکریٹری طارق عزیز مبینہ طور پر بے نظیر بھٹو اور پرویز مشرف کے درمیان ہونے والے معاہدے کے اہم کھلاڑیوں میں سے ایک تھے۔ وہ طارق عزیز ہی تھے جنہوں نے بنیادی طور پر مشرف کو اس طرح کی ڈیل کیلئے راغب کیا تھا۔وہ لاہور ریس کلب کے سربراہ بھی رہے۔

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    باغی ٹی وی بلوچستان کے سیلاب متاثرین کی آواز بن گیا ہے.

  • آج طارق عزیز کی دوسری برسی منائی جا رہی ہے

    آج طارق عزیز کی دوسری برسی منائی جا رہی ہے

    ادیب، شاعر ،کالم نگار اور اداکار طارق عزیز جن کو ہم سے بچھڑے دو سال بیت چکے ہیں لیکن وہ اپنے مداحوں کے دلوں میں آج بھی زندہ ہیں ان کی آج دوسری برسی منائی جا رہی ہے۔طارق عزیز نے جو بھی کام کیا اس میںان کو کامیابی ملی۔ ریڈیو پاکستان سے اپنے کیرئیر کا آغازکیا کئی سال تک صداکاری کی پھر جب 1964میں ٹی وی آیا تو طارق عزیز ٹی وی پر آگئے ان کو پاکستان ٹیلی ویژن کے پہلے اناﺅنسر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے ۔ستر کی دہائی میں نیلام گھر شروع ہو ا جو کئی دہائیاں چلتا رہا اس پروگرام نے طارق عزیز کی شہرت کو امر کر دیا،

    انہیںمہنگے ترین اینکر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے،میزبانی کو نئی جہتوں سے متعارف کروانے والے طارق عزیز نے فلموں میں بھی قسمت آزمائی یہاں بھی انہیں شہرت اور کامیابی ملی۔ طارق عزیز نے اُس وقت کے بڑے ناموں کے ساتھ کام کیا ان کی پہلی فلم میں ہی انہوں نے زیبا اور وحید مراد کے ساتھ کام کیا ۔ان کی تقریبا فلمیں کامیاب رہیں ۔انہوں نے شاعری بھی کی کالمز بھی لکھے ،انکی پنجابی شاعری اور کالمز کا مجموعہ شائع ہو چکا ہے ۔طارق عزیز کو ادب سے بہت زیادہ لگاﺅ تھا اس چیز کی جھلک ان کی گفتگو میں بھی نظر آتی تھی ،ان کو اگر ادب کا درخشندہ ستارہ کہیں تو بے جا نہ ہو گا ۔طارق عزیز نے عملی سیاست میں بھی حصہ لیا اور سیاسی کیرئیر پاکستان پیپلز پارٹی سے شروع کیا اس کے بعد الیکشن بھی لڑا ۔دیکھتی آنکھوں سنتے کانوں کہنے والا دنیا سے رخصت تو ہو گیا لیکن پرستاروں کے دِلوں میں اپنی گہری یادیں چھوڑ گیا۔

  • "یوں لگتا ہے جیسے وقت تھم گیا ہو” چند گھنٹے قبل ٹویٹ کرنے والے طارق عزیز کیلئے وقت تھم گیا از طہ منیب

    "یوں لگتا ہے جیسے وقت تھم گیا ہو” چند گھنٹے قبل ٹویٹ کرنے والے طارق عزیز کیلئے وقت تھم گیا از طہ منیب

    خواہش تھی کہ طارق عزیز مرحوم کے ساتھ ملاقات ہو، بس سستی کی وجہ سے ملاقات رہ گئی، جانے والے کہاں رکتے ہیں، انکے پروگرام نیلام گھر سے بچپن کی یادیں وابستہ ہیں، کیا خوبصورت، ادب، معلومات ، مزاح سے بھرپور پروگرام ہوتا تھا جو دہائیوں تک یاد رہے گا۔ اپنے مخصوص انداز "دیکھتی آنکھوں، سنتے کانوں کو طارق عزیز کا سلام پہنچے” سے پروگرام کا آغاز کرنے والے طارق عزیز آج کچھ دیر قبل چل بسے۔ 1936 کو جالندھر میں پیدا ہوئے ، قیام پاکستان پر پاکستان تشریف لائے ، اداکار ، میزبان ، ادیب ، سیاستدان جیسے متعدد کرداروں کے حوالے پہچان بنائی۔ بڑی سنجیدہ اور باوقار شخصیت کے مالک تھے۔

    ابو نے 1997 کی الیکشن مہم کا ایک واقعہ سنایا کہ الیکشن سے قبل نواز شریف کا دورہ ملتان تھا، جلسہ گاہ قلعہ کہنہ قاسم باغ کھچا کھچ بھرا ہوا تھا ، میں بھی اس جلسے میں تھا ، طارق عزیز کی دس منٹ کی تقریر نے مجمع جما بھی دیا تھا اور تقریر ختم ہوتے ہی پنڈال خالی ہونا شروع ہوگیا جیسے عوام نواز شریف نہیں طارق عزیز کو سننے آئی ہو، جبکہ نواز شریف سٹیج پر موجود تھے، نواز شریف کی اپیل پر طارق عزیز دوبارہ مائک پر آئے کچھ منٹ مزید گفتگو کی۔

    پی ٹی وی کی نشریات کے آغاز کا اعزاز آپکو حاصل ہے، طارق عزیز نے 1974 میں نیلام گھر نامی کوئز پروگرام کا آغاز کیا جو تقریباً چار دہائیوں تک جاری رہا۔ 1997 تا 1999 مسلم لیگ کی طرف سے دو سال ایم این اے بھی رہے۔ اٹھارہ گھنٹے قبل ٹویٹر پر ٹویٹ کی کہ یوں لگتا ہے جیسے وقت تھم گیا ہے اور اٹھارہ گھنٹوں بعد واقعی وقت تھم گیا۔ موت ایک حقیقت ہے، سال دو ہزار بیس بہت جان لیوا ثابت ہوا ہے، جہاں لوگوں کی بڑی تعداد وبا کی وجہ سے موت کی آغوش میں گئی وہاں بڑے بڑے نام بھی اس سال داغ مفارقت دے گئے ، طارق عزیز مرحوم بھی انہیں میں سے ایک ہیں ، اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے۔ آمین