Baaghi TV

Tag: طالبان حکومت

  • افغانستان میں 679 کتابوں پر پابندی، 18 مضامین بھی نصاب سے خارج

    افغانستان میں 679 کتابوں پر پابندی، 18 مضامین بھی نصاب سے خارج

    طالبان حکومت نے افغانستان کی جامعات میں آزادی اظہارِ رائے پر نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے 679 کتابوں پر پابندی لگا دی ہے، جن میں 140 خواتین مصنفین اور 310 ایرانی مصنفین کی تصانیف شامل ہیں۔

    قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ نے برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ افغان وزارتِ اعلیٰ تعلیم کے نائب اکیڈمک ڈائریکٹر ضیا الرحمٰن اریوبی نے ملک بھر کی جامعات کو خط ارسال کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ علما اور ماہرین کی کمیٹی نے ان کتابوں کو شریعت کے منافی قرار دیا۔ساتھ ہی ملک میں 18 جامعاتی مضامین پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے، جن میں سے 6 کا تعلق خواتین سے تھا، جیسے کہ صنفی ترقی اور ابلاغ میں خواتین کا کردار۔ مزید 201 دیگر کورسز کا بھی جائزہ جاری ہے۔

    رپورٹ کے مطابق زیادہ تر وہ کتابیں پابندی کی زد میں آئی ہیں جو آئینی قانون، اسلامی سیاسی تحریکیں، انسانی حقوق، خواتین کے مطالعے اور مغربی سیاسی نظریات جیسے موضوعات پر لکھی گئی تھیں۔ کتابوں کی مکمل فہرست تاحال جاری نہیں کی گئی تاہم مزید پابندیوں کا امکان ہے۔افغانستان میں خواتین پر عائد قدغن دنیا کی سخت ترین پابندیوں میں شمار ہوتی ہیں۔ لڑکیوں کو پرائمری کے بعد تعلیم سے روک دیا گیا ہے اور گھروں سے باہر نکلتے وقت چہرہ ڈھانپنا لازمی ہے۔ انہی سخت پالیسیوں کے باعث دنیا کے بیشتر ممالک طالبان حکومت کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں، اب تک صرف روس نے جولائی میں طالبان کو باضابطہ تسلیم کیا ہے۔

    پابندی شدہ کتابوں میں 310 ایرانی مصنفین کی تصانیف بھی شامل ہیں۔ وزارتِ تعلیم کی کمیٹی کے ایک رکن نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ اقدام ایرانی مواد کو نصاب سے نکالنے کے لیے کیا گیا ہے۔ حالیہ عرصے میں افغان شہریوں کی ایران سے جبری بے دخلی پر طالبان حکومت اور تہران کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں۔

    ایک افغان پروفیسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایرانی کتابیں جامعات کے لیے نہایت اہمیت رکھتی ہیں کیونکہ یہی افغانستان اور عالمی علمی برادری کے درمیان بنیادی ربط کا ذریعہ ہیں۔

    اردو الفاظ استعمال کرنے پر بھارتی ٹی وی چینلز کو نوٹسز

    ایشیا کپ: پاک بھارت ٹیمیں دوبارہ آمنے سامنے، اینڈی پائی کرافٹ ہی ریفری مقرر

    بھارت کو بڑا دھچکا،ٹرمپ کا ایچ ون بی ویزا فیس 1 لاکھ ڈالر مقرر کرنے کا فیصلہ

    پاکستان کا نیوکلیئر پاور پروگرام بہتر رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے،آئی اے ای اے

  • طالبان حکومت کا افغانستان میں انٹرنیٹ پر سخت کریک ڈاؤن، فائبر آپٹک کنکشن منقطع

    طالبان حکومت کا افغانستان میں انٹرنیٹ پر سخت کریک ڈاؤن، فائبر آپٹک کنکشن منقطع

    طالبان حکومت نے انٹرنیٹ تک رسائی پر کریک ڈاؤن مزید سخت کرتے ہوئے کئی صوبوں میں فائبر آپٹک کنکشن منقطع کر دیے ہیں۔ طالبان حکام کے مطابق یہ اقدام ملک میں ’برائی کے خاتمے‘ کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

    امیر ہیبت اللہ اخوندزادہ کی ہدایت پر گزشتہ دو دن کے دوران متعدد علاقوں میں تیز رفتار انٹرنیٹ مکمل طور پر بند ہو چکا ہے، جس سے ہزاروں افراد متاثر ہوئے ہیں۔صوبہ بلخ کے ترجمان عطااللہ زاہد نے تصدیق کی کہ صوبے میں فائبر آپٹک انٹرنیٹ مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ برائی کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے، تاہم رابطے کے لیے متبادل ذرائع فراہم کیے جائیں گے۔

    رپورٹ کے مطابق بلخ میں اب صرف ٹیلی فون نیٹ ورک کے ذریعے انٹرنیٹ دستیاب ہے، جو غیر مستحکم اور اکثر معطل رہتا ہے۔ اسی نوعیت کی بندش بدخشاں، تخار، قندھار، ہلمند اور ارزگان میں بھی دیکھی گئی ہے۔

    کاروباری حلقوں اور عوام کی تشویش

    کابل میں ایک نجی انٹرنیٹ کمپنی کے ملازم نے بتایا کہ فائبر آپٹک افغانستان میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی ہے لیکن اس پابندی کی اصل وجوہات واضح نہیں۔قندھار میں سنگ مرمر کے کاروبار سے وابستہ تاجر عطا محمد نے کہا کہ اگر دبئی اور بھارت کے کلائنٹس کو بروقت ای میل کا جواب نہ دیا جا سکا تو کاروبار بند ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں پوری رات نہیں سو سکا۔یہ پابندی تاحال ننگرہار میں نافذ نہیں کی گئی، تاہم صوبائی ترجمان نے عندیہ دیا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں یہ فیصلہ پورے افغانستان میں لاگو کر دیا جائے گا۔

    ترجمان نے کہا کہ حالیہ مطالعات سے ظاہر ہوا ہے کہ آن لائن ایپلیکیشنز نے معیشت، سماج، ثقافت اور مذہب پر منفی اثرات ڈالے ہیں اور معاشرے کو اخلاقی بگاڑ کی طرف لے جا رہی ہیں۔

    یاد رہے کہ 2024 میں طالبان حکومت نے 9 ہزار 350 کلومیٹر پر مشتمل فائبر آپٹک نیٹ ورک کو ایک ’ترجیحی منصوبہ‘ قرار دیا تھا، جو سابق امریکی حمایت یافتہ حکومتوں کے دور میں تعمیر ہوا تھا۔ اس نیٹ ورک کو افغانستان کو دنیا سے جوڑنے اور غربت کم کرنے کا ذریعہ قرار دیا گیا تھا۔

    گڈو اور سکھر بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، کچے کے علاقے زیرِ آب

    وزیرِ اعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات

    مشعال حسین ملک کا کشمیری رہنما پروفیسر عبدالغنی بٹ کو شاندار خراجِ عقیدت

  • طالبان حکومت نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق رپورٹ مسترد کر دی

    طالبان حکومت نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق رپورٹ مسترد کر دی

    افغانستان کی طالبان حکومت نے اقوام متحدہ کی جانب سے انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر جاری کردہ رپورٹ کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

    طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کابل میں غیر ملکی خبر رساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یو این رپورٹ میں جن افراد کا حوالہ دیا گیا ہے، وہ حقائق پر مبنی نہیں ہو سکتے۔انہوں نے کہا کہ ممکن ہے کہ یہ افراد افغان حکومت کے مخالف ہوں یا جان بوجھ کر پروپیگنڈا اور افواہیں پھیلانا چاہتے ہوں، اور اس مقصد کے لیے افغانستان میں موجود اقوام متحدہ کے امدادی مشن (UNAMA) کو استعمال کر رہے ہوں۔

    اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ طالبان حکام ایران اور پاکستان سے وطن واپس آنے والے افغان شہریوں کے ساتھ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہے ہیں۔تاہم طالبان حکومت نے ان الزامات کو بے بنیاد اور جانبدار قرار دیتے ہوئے انکار کیا ہے کہ افغان حکومت پناہ گزینوں یا وطن واپس آنے والوں کے ساتھ کسی قسم کا امتیازی سلوک روا رکھ رہی ہے۔

    ترجمان کا کہنا تھا کہ افغان حکومت اپنی سرزمین پر موجود تمام شہریوں کے ساتھ مساوی سلوک پر یقین رکھتی ہے اور اقوام متحدہ کو چاہئے کہ وہ غیر جانب دار اور حقائق پر مبنی رپورٹس جاری کرے۔

    اسرائیلی پارلیمنٹ کی متنازعہ قرارداد، عرب و اسلامی ممالک کی شدید مذمت

    ایف بی آر آفس میں سونا، چاندی اور کرنسی سمیت 43 اشیاء کی خرد برد کا انکشاف

    چین، بھارت میں نہیں، امریکا میں ملازمتیں پیدا کریں،ٹرمپ کا کمپنیوں کو انتباہ

  • طالبان حکومت کا عید پر بڑا اعلان،مغرب نواز افغانوں کے لیے عام معافی

    طالبان حکومت کا عید پر بڑا اعلان،مغرب نواز افغانوں کے لیے عام معافی

    طالبان حکومت نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر افغانستان چھوڑ کر بیرون ملک جانے والے مغرب نواز افغانوں کے لیے عام معافی کا اعلان کر دیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق افغانستان کے وزیراعظم محمد حسن اخوند نے کہا ہے کہ اُن تمام افغان شہریوں کے لیے عمومی معافی جاری کی جا رہی ہے جو سابق مغرب نواز حکومت کے زوال کے بعد ملک چھوڑ کر چلے گئے تھے۔انہوں نے اعلان کیا کہ ایسے تمام افراد کو وطن واپسی کی دعوت دی جاتی ہے اور حکومت کی جانب سے مکمل یقین دہانی کرائی جاتی ہے کہ ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی اور نہ ہی کسی قسم کی دشمنی روا رکھی جائے گی۔

    وزیراعظم محمد حسن اخوند نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ وطن واپس آنے والوں کو رہائش، بنیادی سہولیات اور مکمل تعاون فراہم کیا جائے تاکہ وہ نئے سرے سے زندگی کا آغاز کر سکیں۔طالبان حکومت کو امید ہے کہ یہ اقدام ان افغان شہریوں کی واپسی کا سبب بنے گا جو غیر یقینی حالات، سیکیورٹی خدشات یا بین الاقوامی دباؤ کے باعث ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے تھے۔

    واضح رہے کہ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک جانب امریکا میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ افغان شہریوں پر ممکنہ سفری پابندیوں کا عندیہ دے چکے ہیں، جبکہ دوسری طرف پاکستان میں افغان مہاجرین کو ملک چھوڑنے کی دھمکیوں کا سامنا ہے۔

    تنقید پر عظمیٰ بخاری کا ردعمل، سندھ حکومت کو ’بچے جمورہ‘ قرار دے دیا

    پاکستان کے ساحلی علاقوں میں معمولی نوعیت کے زلزلے

    پنجاب کا بجٹ 13 جون کو پیش ہوگا، تعلیم کے لیے 110 ارب روپے مختص

    اسرائیل کی مکمل جوہری دستاویزات حاصل کرلیں،ایران کا دعویٰ

    بھارت نے سکھ یاتریوں کو پاکستان آنے سے روک دیا، واہگہ بارڈر پر علامتی استقبال کی تیاریاں

  • سہ فریقی ملاقات،افغانستان کا پاکستان اور چین سے ’باہمی احترام اور تعمیری روابط‘ کا مطالبہ

    سہ فریقی ملاقات،افغانستان کا پاکستان اور چین سے ’باہمی احترام اور تعمیری روابط‘ کا مطالبہ

    افغانستان کی طالبان حکومت نے پاکستان اور چین سے باہمی احترام اور تعمیری روابط پر مبنی تعلقات قائم رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق یہ بیان کابل میں افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی سے پاکستان اور چین کے خصوصی ایلچیوں کی ملاقات کے بعد افغان وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کیا گیا۔ اس ملاقات میں پاکستان کے خصوصی ایلچی محمد صادق اور چین کے یو شیاویونگ نے شرکت کی۔ ملاقات تین ملکی (سہ فریقی) فورم کے تحت ہوئی جو 2017 میں قائم کیا گیا تھا، اور اس کا مقصد افغانستان، پاکستان اور چین کے مابین سیاسی، سیکیورٹی اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینا ہے۔

    افغان وزارت داخلہ کے مطابق، سراج الدین حقانی نے کہ "اسلامی امارت علاقائی تعلقات کو اہم سمجھتی ہے اور ہمارے نقطہ نظر سے اقتصادی، سیاسی اور علاقائی افہام و تفہیم صرف باہمی احترام اور تعمیری روابط سے ممکن ہے۔ دونوں ممالک کے نمائندوں نے افغانستان کے ساتھ اچھے ہمسائیگی کے تعلقات کو فروغ دینے اور تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ملاقات کے دوران طے پایا کہ سہ فریقی مذاکرات کا چھٹا وزارتی دور کابل میں منعقد کیا جائے گا، جس سے فورم کے تحت جاری تعاون کا سلسلہ برقرار رہے گا۔

    علاوہ ازیں، پاکستان میں تعینات افغان سفیر نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہ”اس ملاقات کا مقصد اسلام آباد میں ہونے والے پانچویں سہ فریقی مذاکرات کی پیش رفت کا جائزہ لینا، آئندہ کابل میں منعقدہ چھٹے دور کی تیاری کرنا، اور سہ فریقی تعاون کو مزید مستحکم بنانا تھا۔” وفود نے علاقائی استحکام، باہمی احترام اور مضبوط سفارتی بنیادوں پر تعمیری روابط کے عزم کا اعادہ کیا۔

    چین اور پاکستان کے خصوصی ایلچیوں نے کابل میں افغان وزیر تجارت نورالدین عزیزی سے ملاقات کی، جس میں تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے، سرمایہ کاری کے فروغ اور مشترکہ منصوبوں کے آغاز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔افغان وزارت تجارت کے جاری کردہ بیان کے مطابق ملاقات کا مقصد افغانستان، پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینا، مشترکہ صنعتی پارکس اور خصوصی اقتصادی زونز کے قیام، اور برآمدی پروسیسنگ مراکز کے آغاز جیسے عملی اقدامات پر غور کرنا تھا۔

    چینی اور پاکستانی ایلچیوں کی افغان وزیر تجارت نورالدین عزیزی سے بھی ملاقات

    ملاقات میں یہ تجاویز بھی زیر غور آئیں:
    افغانستان میں مشترکہ صنعتی پارکس کا قیام
    خصوصی اقتصادی زونز کی تشکیل
    سہ فریقی تجارتی میلوں کا انعقاد
    چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے امدادی مراکز
    تینوں ممالک کے درمیان بینکنگ تعلقات کو فروغ دینا

    بیان کے مطابق وزیر تجارت نورالدین عزیزی نے پاکستان اور چین کے نمائندوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا:
    "اسلامی امارت کی پالیسی معیشت پر مبنی ہے، اور ہم باہمی مفادات کے تناظر میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے پالیسی سازی اور عملی اقدامات کر رہے ہیں۔”انہوں نے اس موقع پر چینی اور پاکستانی ہم منصبوں کو افغانستان کے باضابطہ دورے کی دعوت بھی دی، تاکہ باہمی تعاون کو مزید مستحکم کیا جا سکے اور تجارتی مذاکرات کو عملی شکل دی جا سکے۔

  • افغان طالبان  نے 34 ملین ڈالر کی 9 منزلہ تجارتی عمارت  بنا لی

    افغان طالبان نے 34 ملین ڈالر کی 9 منزلہ تجارتی عمارت بنا لی

    طالبان حکومت نے کابل کے وسط میں 9 منزلہ تجارتی مرکز کا افتتاح کردیا۔

    افغان میڈیا کے مطابق دہائیوں سے جنگ زدہ کابل میں تجارتی، معاشی اور اقتصادی سرگرمیوں کا آغاز ہوگیا۔طالبان حکومت نے تین سال سے بھی کم وقت میں کثیر المنزلہ کمرشل بلڈنگ بنا کر سب کو حیران کردیا۔34 ملین ڈالر کی لاگت سے تیار کیے گئے تجارتی مرکز میں 1300 سے زائد دکانیں ہیں۔ 1,800 سے زائد گاڑیوں کی پارکنگ کی گنجائش ہے اور ایک بڑی مسجد بھی ہے۔طالبان حکام نے بتایا کہ اس منصوبے کے لیے زمین ریاست فراہم کی جب کہ اسے سن اسکائی گلوبل کمپنی نے تعمیر کیا۔

    اس منصوبے سے حاصل ہونے والی آمدنی کا 30 فیصد طالبان حکام کو اور 70 فیصد سرمایہ کاروں کو دیا جائے گا۔طالبان وزیراعظم کے دفتر کے چیف آف اسٹاف عبدالوٰسی خادم نے کہا کہ اس تجارتی مرکز میں بینکوں، کرنسی ایکسچینج آفس اور دیگر کاروباری اداروں کے لیے مخصوص جگہیں بھی فراہم کی گئی ہیں۔خیال رہے کہ طالبان حکومت بین الاقوامی معیار کی ایک جدید تیل ریفائنری قائم کرنے کا ارادہ بھی رکھتی ہے جس کی ابتدائی سرمایہ کاری 25 ملین ڈالر ہوگی اور اس کا حجم بڑھ کر 35 ملین ڈالر تک پہنچ جائے گا۔

    واٹس ایپ میں رنگا رنگ چیٹ تھیمز کا اضافہ

    وفاقی حکومت کے قرض میں اضافے کا سلسلہ جاری

    سونا عام آدمی کی پہنچ سے دور ہونے لگا، قیمت میں پھر بڑا اضافہ

  • روس جلد افغان حکومت کو تسلیم کر سکتا ہے

    روس جلد افغان حکومت کو تسلیم کر سکتا ہے

    افغانستان کی طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کی طرف روس نے بڑا اقدام لیا ہے، روسی پارلیمنٹ نے ایک ایسے قانون کے حق میں ووٹ دے دیا جس سے طالبان کو ماسکو کی کالعدم دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نکالنے کی راہ ہموار ہوگی۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق روس کی انٹرفیکس نیوز ایجنسی نے بتایا کہ پارلیمنٹ کے ایوان زیریں، ڈوما نے اس سلسلے میں تین ضروری بلز میں سے پہلے بل کی منظوری دے دی۔اس وقت کوئی بھی ملک طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کرتا جس نے اگست 2021 میں اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا جب امریکا کی زیر قیادت افواج نے 20 سال کی جنگ کے بعد افراتفری میں ملک سے انخلا کیا تھا۔تاہم روس بتدریج طالبان کے ساتھ اپنے تعلقات استوار کر رہا ہے، جس کے بارے میں صدر ولادیمیر پیوٹن نے جولائی میں کہا تھا کہ اب وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارے اتحادی ہیں۔ماسکو، افغانستان سے لے کر مشرق وسطیٰ تک کے ممالک میں موجود عسکریت پسند گروپوں کو اپنے لیے ایک بڑا سیکیورٹی خطرہ سمجھتا ہے، جہاں روس نے رواں ہفتے شام کے صدر بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کے ساتھ ایک اہم اتحادی کھو دیا ہے۔یاد رہے کہ مارچ میں مسلح افراد نے ماسکو کے باہر ایک کنسرٹ ہال میں حملے میں 145 افراد کو ہلاک کر دیا تھا جس کی ذمہ داری عسکریت پسند گروپ داعش نے قبول کی تھی۔ امریکی حکام نے کہا تھا کہ ان کے پاس انٹیلی جنس معلومات ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ اس حملے کی ذمہ دار گروپ کی افغان شاخ داعش خراسان (داعش کے) ہے۔مغربی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت کو بین الاقوامی سطح پر وسیع پیمانے پر تسلیم کیے جانے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ گروپ کا خواتین کے حقوق کے حوالے سے قدامت پسندانہ رویہ ہے۔لڑکیوں اور خواتین کے لیے ہائی اسکول اور یونیورسٹیاں بند کر دی ہیں اور مرد سرپرست کے بغیر ان کی نقل و حرکت پر پابندیاں لگا دی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اسلامی قانون کی تشریح کے مطابق خواتین کے حقوق کا احترام کرتے ہیں۔واضح رہے کہ افغانستان میں روس کی اپنی پیچیدہ اور خون آلود تاریخ ہے۔ سوویت فوجوں نے دسمبر 1979 میں ایک کمیونسٹ حکومت کو سہارا دینے کے لیے ملک پر حملہ کیا، لیکن مجاہدین کے خلاف ایک طویل جنگ میں وہ ناکام ہو گئے۔سوویت رہنما میخائل گورباچوف نے 1989 میں اپنی فوج کو نکال لیا تھا، اس وقت تک تقریباً 15 ہزار سوویت فوجی ہلاک ہو چکے تھے۔

    پاک بحریہ کی رائل عمان اور اسپین کے ساتھ مشترکہ مشقیں

    بھارت کو دھچکا،بنگلہ دیش نے انٹرنیٹ فراہمی کا معاہدہ کیا منسوخ

    طاہر اشرفی کی خدمات ہر حکومت کیلئے ہوتیں،انکو جواب نہیں دوں گا، کامران مرتضیٰ

  • خواتین کو کام کرنے کی اجازت نہیں ملی تو مئی میں افغانستان چھوڑ دیں گے،اقوام متحدہ

    خواتین کو کام کرنے کی اجازت نہیں ملی تو مئی میں افغانستان چھوڑ دیں گے،اقوام متحدہ

    کابل: اقوامِ متحدہ نے طالبان حکومت کو وارننگ دی ہےکہ اگر خواتین عملے کو کام کرنے کی اجازت نہیں ملی تو مئی میں تمام آپریشن بند کرکے افغانستان سے واپس چلے جائیں گے۔

    باغی ٹی وی : بین الاقوامی میڈیا کے مطابق افغانستان میں اقوام متحدہ نے اپنا مشن جاری رکھنے پر نظرِثانی کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ افغانستان میں امدادی کام خواتین عملے کو کام کرنے کی اجازت ملنے سے مشروط ہے۔

    میڈیا کے سامنے عتیق ،اشرف کو قتل کرنیوالے ملزمان کا جسمانی ریمانڈ منظور

    اقوامِ متحدہ نے طالبان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے خواتین عملے کو کام کرنے کی اجازت دی جائے خواتین عملہ نہ ہونے کی وجہ سے دور دراز علاقوں میں امدادی کاموں کی انجام دہی میں مشکلات کا سامنا ہے۔

    واضح رہے کہ طالبان نے رواں ماہ کے آغاز میں اقوام متحدہ کے لیے کام کرنے والی خواتین پر پابندی عائد کردی تھیں۔ 600 خواتین عملے میں سے اکثریت مقامی خواتین کی تھی جو اقوام متحدہ کے امدادی مشن میں خدمات انجام دے رہی تھیں۔

    گوگل نے اے آئی ٹیکنالوجی پر کام شروع کر دیا

    اقوامِ متحدہ کا افغانستان میں مشن کی میعاد 5 مئی کو ختم ہورہی ہے جس میں توسیع کا امکان تھا تاہم طالبان کی جانب سے خواتین عملے پر پابندی کے بعد اقوام متحدہ نے مشن جاری رکھنے کو خواتین کو کام کرنے کی اجازت سے مشروط کردیا۔

  • پاکستان کے راستے بھارتی گندم اورادویات آج افغانستان جائیں گی،ترجمان دفتر خارجہ

    پاکستان کے راستے بھارتی گندم اورادویات آج افغانستان جائیں گی،ترجمان دفتر خارجہ

    پاکستان کے راستے بھارتی گندم اور ادویات کی افغانستان ترسیل ہوگی

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بھارتی امداد اٹاری واہگہ سرحد سے براستہ طورخم افغانستان پہنچائی جائے گی،پاکستان آنے والے 41 افغان ٹرک کی پہلی کھیپ آج واپس افغانستان روانہ ہو گی،افغان ٹرک اٹاری واہگہ پر بھارتی گندم کی کھیپ لوڈ کرنے کے بعد افغانستان پہنچیں گے،پاکستان انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی باآسانی ترسیل کے لیے فریقین سے رابطے میں ہے، پاکستان نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بھارت کو امداد افغانستان پہنچانے کی اجازت دی،

    افغانستان میں انسانی بحران کے بعد طالبان حکومت نے عالمی اداروں سے اپنے منجمد اثاثوں کی بحالی کی درخواست کی تھی، اسی دوران اقوام متحدہ نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اگر بروقت افغانستان کی مدد نہ کی گئی تو وہاں پر حالات خراب ہوسکتے ہیں،لہٰذا تمام ممالک افغانستان کی مدد کریں۔

    اقوام متحدہ کی طرف سے اپیل کے بعد پاکستان سمیت تمام ممالک نے امداد فوری طور پر افغانستان بھیجی جبکہ بھارت نے 50ہزار میٹرک ٹن گندم سمیت دیگر اشیاء دینے کی پیشکش کی تھی اور یہ اشیاء پاکستان کے راستے افغانستان جانا تھی۔

    وزیراعظم عمران خان نے کابینہ اجلاس کے دوران اس پیشکش کو منظور کرتے ہوئے انسانی ہمدردی کے تحت یہ گندم پاکستان کے راستے افغانستان تک پہنچانے کا عزم کیا تھا۔دوسری طرف کابل سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ افغان حکومت نے وزیراعظم عمران خان کے اس فیصلے پرپاکستان اور کپتان دونوں کا شکریہ ادا کیا ہے ، یہ بھی کہا گیا ہے کہ افغان حکومت پاکستان کی افغان قوم کے لیے قربانیوں اورخدمات کی تہہ دل سے معترف اور مشکور ہے

    ‏ سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف غصے کا اظہار کرنے پر بزرگ شہری گرفتار

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    فیس بک، ٹویٹر پاکستان کو جواب کیوں نہیں دیتے؟ ڈائریکٹر سائبر کرائم نے بریفنگ میں کیا انکشاف

    ٹویٹر پر جعلی اکاؤنٹ، قائمہ کمیٹی اجلاس میں اراکین برہم،بھارت نے کتنے سائبر حملے کئے؟

    بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

    بھارت ، سال کے ابتدائی چار ماہ میں کی 808 کسانوں نے خودکشی

    سال 2020 کا پہلا چائلڈ پورنوگرافی کیس رجسٹرڈ،ملزم لڑکی کی آواز میں لڑکیوں سے کرتا تھا بات

    سائبر کرائم ونگ کی کاروائی، چائلڈ پورنوگرافی میں ملوث تین ملزمان گرفتار

    سائبرکرائم کے ملزم پکڑنے کیلئے ہمارے پاس یہ چیز نہیں،ڈائریکٹر سائبر کرائمز نے ہاتھ کھڑے کر دیئے

    پاکستان میں سائبر کرائم میں مسلسل اضافہ،ہراسمنٹ کی کتنی شکایات ہوئیں درج؟

    لینڈ مافیا کے ساتھ ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کی ملی بھگت،عدالت کا بڑا حکم

    اس سے قبل اکتوبر کے اوائل میں روس کے دارالحکومت ماسکو میں مذاکرات کے دوران بھارتی وفد نے طالبان حکومت کے رہنماؤں سے غیررسمی ملاقات کی تھی اور کہا تھا کہ وہ اسلام آباد سے درخواست کریں کہ وہ پاکستان کے راستے بھارت سے افغانستان گندم لے جانے کی اجازت دیں۔

    جس کے بعد امیر خان متقی نے معاملے کو نومبر میں دورہ اسلام آباد کے دوران اٹھایا تھا اور وزیراعظم عمران خان نے انہیں یقین دلایا تھا کہ پاکستان اس درخواست کا جائزہ لے گا۔