Baaghi TV

Tag: طالبان رہنما

  • نئی امریکی انتظامیہ  کی طالبان رہنماؤں کے سروں کی قیمتیں مقرر کرنے کی دھمکی

    نئی امریکی انتظامیہ کی طالبان رہنماؤں کے سروں کی قیمتیں مقرر کرنے کی دھمکی

    واشنگٹن: نئی امریکی انتظامیہ نے طالبان رہنماؤں کے سروں کی قیمتیں مقرر کرنے کی دھمکی دے دی۔

    باغی ٹی وی : امریکی انتظامیہ نے افغانستان میں امریکی شہریوں کو قید کیے جانے پر برہمی کا اظہار کیاوزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا افغانستان میں قید امریکیوں کی تعداد پچھلے اندازوں سے کہیں زیادہ ہونے کا خدشہ ہے، یہ سچ ہوا تو طالبان کی اعلیٰ قیادت کے سروں کی بڑی قیمت مقرر کرنا ہوگی، طالبان کی اعلیٰ قیادت کے سروں کی قیمت اسامہ بن لادن پر رکھی گئی رقم سے بھی زیادہ رقم لگائیں گے۔

    واضح رہے کہ بائیڈن انتظامیہ نے ٹرمپ کے آنے سے چند روز پہلے افغانستان کے ساتھ قیدیوں کا تبادلہ کیا تھا۔

    موسمیاتی تبدیلی، ڈیٹا پروٹیکشن اور معاشی عدم مساوات اس دور کے چیلنج ہیں،بلاول

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 14 بڑے فیڈرل اداروں کے انسپکٹرز جنرل ہٹا دیئے جن انسپکٹرز جنرل کو فارغ کیا ہے ان میں سے محکمہ دفاع، محکمہ خارجہ اورٹرانسپورٹیشن کے انسپکٹرزجنرل شامل ہیں،انسپکٹرزجنرل کوہٹانے کیلئے کانگریس کو30 روزہ نوٹس کی شرط پوری نہیں کی گئی، قانون کے مطابق سینیٹ سے توثیق شدہ افراد کوہٹانے کیلئے نوٹس دینا ضروری تھا۔

    علاوہ ازیں صدر ٹرمپ نے سابق صدر جان ایف کینیڈی کے قتل کی خفیہ دستاویزات سامنے لانے کا بھی حکم دے دیا ہے

    لاس اینجلس کے جنگلات میں لگی آگ بجھنے کی امید

    ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آئندہ چار سال آرام نہیں کروں گا بلکہ کام کر کے امریکا کو پھر ایک عظیم ملک بناؤں گاجرائم پیشہ تارکین وطن کو امریکا تباہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گےامیگریشن حکام اب غیر قانونی تارکین وطن کو حراست میں لے رہے ہیں جوبائیڈن پر تنقید کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ سابق امریکی صدر نے سرحدیں کھولیں جس کی وجہ سے کئی امریکی شہری قتل ہوئے۔

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ سعودی عرب سے امریکا میں مزید سرمایہ کاری کرنے کو کہیں گے، عالمی ادارہ صحت میں دوبارہ شمولیت اختیار کرنے سے متعلق بھی ٹرمپ نے اظہار خیال کیا۔

    دہشتگردی صرف پاکستان کی جنگ نہیں ،سب کی مشتر کہ لڑائی ہے،محسن نقوی

    صدر ٹرمپ کی جانب سے سابق صدر جان ایف کینیڈی کے قتل کی خفیہ دستاویزات سامنے لانے کا بھی حکم دے دیا گیا اوول آفس میں حکم نامے پر دستخط کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ لوگ برسوں سے اس کا انتظار کر رہے ہیں ٹرمپ کے حکم نامہ کے تحت ضرور ی ہے کہ جے ایف کینیڈی کی فائلوں کو مکمل طور پر جاری کیا جائے 20 جنوری 2025 امریکیوں کے لیے یوم آزادی کا دن تھا۔

    سابق ٹی وی میزبان اور تجزیہ کار نے امریکی وزیر دفاع کا عہدہ سنبھال لیا

    واضح رہے کہ صدارت کا عہدے سنبھالتے ہی ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق امریکی صدرجوبائیڈن کے دور اقتدار میں جاری کردہ 78 صدارتی حکمناموں کو منسوخ کردیا،وائٹ ہاؤس کا باقاعدہ مکین بنتے ہی ٹرمپ نے اپنے نئے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے بہت سی ایگزیکٹو سمریوں، صدارتی یادداشتوں اورپالیسی ترجیحات سے متعلق درجنوں حکمناموں پر دستخط کئے ہیں۔

  • کابل: طالبان کے ایک سینئر رہنما نے والد کےقاتل کو معاف کرکے پھانسی سے بچا لیا

    کابل: طالبان کے ایک سینئر رہنما نے والد کےقاتل کو معاف کرکے پھانسی سے بچا لیا

    کابل: افغانستان میں طالبان کے ایک سینئر رہنما گل محمد نے والد کے قاتل کو معاف کرکے پھانسی سے بچا لیا-

    باغی ٹی وی : افغان میڈیا کے مطابق طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ ابھی تک قندھار میں کسی نامعلوم مقام پر رہائش پذیر ہیں اور وہیں سے اپنے احکامات جاری کرتے ہیں امیرِ طالبان ملا ہبت اللہ اخوندزادہ کے حکم پر قتل سمیت سنگین جرائم کے مرتکب ملزمان کو جرم ثابت ہونے کے بعد شرعی سزائیں دی جا رہی ہیں جن میں سرعام پھانسی دینا، سنگسار کرنا، کوڑے مارنا اور چوروں کے ہاتھ کاٹنا بھی شامل ہیں۔

    سگی خالہ کو قتل کرکےلاش کے10ٹکڑے کردیئے

    رواں ماہ دو افراد کو سرعام سزائے موت دی جا چکی ہیں۔ جن میں سے ایک سزا میں مقتول بیٹے کے والد نے قاتل کو سرعام گولی مالی مار کر ہلاک کیا سزا پر عمل درآمد کے وقت طالبان کے اعلیٰ عہدیدار بھی موجود تھے۔

    تاہم آج صوبے جوزجان میں طالبان کے ڈپٹی گورنر گل محمد نے اپنے والد مفتی عبد الوہاب زاہد کے قاتل عبدالغفور کو اللہ کی رضا کے لیے معاف کرتے ہوئے کہا کہ اس سے دو قبیلوں کے درمیان 30 سال سے جاری تنازع ختم ہوجائے گا معاف کردینا بڑی نیکی ہے سپریم کورٹ کے حکم پر قاتل کوعنقریب پھانسی دی جانی تھی تاہم لواحقین کی جانب سے معافی ملنے پر قاتل کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

    افغانستان کے ٹنل میں آئل ٹینکردھماکے سے پھٹ گیا؛ 19 جاں بحق اور 32 زخمی

    واضح رہے کہ طالبان رہنما کے والد مفتی عبدالوہاب کو 1991 میں مویشیوں کی خرید و فروخت کے معاملے میں تنازع پیدا ہونے پر قتل کیا گیا تھا قتل کے فوری بعد قاتل عبد الغفور کو حراست میں لے لیا گیا تھا تاہم کچھ عرصے بعد رہائی مل گئی تھی لیکن اس پر مقتول کے قبیلے نے شدید احتجاج کیا اور یوں یہ معاملہ دو قبیلوں کے درمیان جھگڑے کا سبب بن گیا تھا۔