Baaghi TV

Tag: طاہر محمود

  • پرئنگ مینٹس سے ملاقات — طاہر محمود

    پرئنگ مینٹس سے ملاقات — طاہر محمود

    کالے بھونڈوں اور چھپکلیوں کو بھگانے کےلیے سپرے کر رہا تھا صبح صبح کھڑکی کے پاس ، کہ دفعتاً ٹڈا سا نظر آیا۔ سوچا صحن میں گھاس ہے تو آ گیا ہو گا مگر جب دھیان سے دیکھا تو یہ praying mantis تھا ۔ فوراً سپرے روکا۔ شکر ہے ابھی اس پہ سپرے نہیں ہوا تھا۔ ہتھیلی آگے کی تو یہ دفاعی پوزیشن میں آ گیا ۔ دوستانہ انداز میں ٹچ کیا اور ہتھیلی آگے کی تو باقی دنیا کی طرح اسے بھی ہماری شرافت پہ یقین آ گیا اور ہتھیلی پہ بیٹھ گیا۔ مقصد یہ تھا کہ ہوا میں موجود سپرے کے ذرات سے اسے نقصان نہ پہنچے۔

    اسے گلاب کے پودے پہ بٹھایا اور واپس آیا تو دیکھا برآمدے میں پر پھیلائے ،نہایت غصیلے انداز میں ایک اور مینٹس میرا منتظر تھا۔ اپنے ساتھی کو نہ پا کر سخت برہم تھا اور غالباً مجھ پہ شک کر رہا تھا۔ اسے چمکارا ۔ دوستی کا ہاتھ بڑھایا تو آہستہ آہستہ وہ بھی پاس آ گیا۔ اسے بھی وہیں اس کی بیگم پاس گلاب پہ چھوڑا کہ چل کاکا عیاشی کر۔ گلاب کے مخملیں بستر پہ ۔ مگر دونوں شاید آپس میں ناراض تھے۔ منہ بنائے دور دور رہے ذرا سے۔

    سکول کا ٹائم بھی قریب ہی تھا ۔ جانے لگا تو خیال آیا کہ ذرا جوڑے کے "حالات ” بھی دیکھتے جائیں ۔ اگرچہ پرائیویٹ معاملات میں دخل دینا نامناسب بات ہے مگر یہ ہم پاکستانیوں کا پرانا شیوہ۔ آپ نے غلام عباس کا افسانہ ” اوور کوٹ ” تو پڑھ رکھا ہو گا۔ اوور کوٹ والا نوجوان بھرے بازار ، اردگرد کےلوگوں ، اشیاء وغیرہ سے بےنیاز نظر آتا اور کسی پہ نگاہ ِ غلط انداز نہیں ڈالتا مگر اک موٹے پیندے اور لمبے بالوں والی لڑکی اور ساتھی لڑکے کی گفتگو سننا شروع کر دیتا ۔ اور پھر ان کے پیچھے یوں تیزی سے جاتا کہ ٹرک کا پتہ بھی نہیں چلتا اور مر جاتا۔ ویسے نصابی کتب میں یہ مکالمہ نہیں ہے۔ یوں بھی افسانوں کا ختنہ کرنے کے بعد ہی انہیں شامل نصاب کیا جاتا۔ احمد ندیم قاسمی کا فسانہ دیکھ لیں مولوی ابل والا۔

    بات دور نکل گئی۔ تو میں پھر قریب پہنچا ۔ دیکھا کہ ایک ہی موجود ۔ تلاش کیا مگر نہ ملا ۔ کمرے میں آ کے کپڑے تبدیل کرنے لگا تو حضرت بائیں کندھے پہ کراماً کاتبین کی طرح موجود۔ لو جی ۔۔۔۔ایہہ تے سچ مچ یاری دے چکراں اچ اے۔ واپس چھوڑا۔ دونوں نمونوں کو ایک پھول پہ بٹھایا بلکہ ان کی پپیاں جپھیاں بھی کروائیں زبردستی ۔ کچھ دیر بعد خدا حافظ کہنے گیا انہیں تو اب دونوں الگ الگ پھولوں پہ تھے۔ ارینج میرج ٹائپ جوڑے کی طرح۔ سخت مایوسی ہوئی۔

    پرئنگ مینٹس کا تعلق حشرات کے mantodea آرڈر سے ہے۔ اب تک اس کے 30 خاندان اور2400 انواع دریافت ہو چکیں ۔ خوراک کے معاملے میں گوشت خور ہیں کٹّر قسم کے ۔ نان ویجیٹیرین ۔ تمام حشرات میں ان کی نظر سب سے تیز ہوتی۔ ماہر شکاری اور نہایت ہمت والے۔ کبھی مقابل سے گھبراتے نہیں ۔ چھوٹے مینڈک ، چھوٹی چھپکلیاں، چھوٹے سانپ ، کیڑے مکوڑے وغیرہ کا شکار کرتے اور منٹوں میں کتر ڈالتے انہیں۔ اگلے بازوؤں پہ کانٹے نما سی چیز ہوتی سخت سی۔ شکار کو جکڑ لیتے۔ زندہ جاندار کھاتے ، مردہ نہیں ۔ حشرات میں یہ واحد ہیں جو اپنا سر انسان انسان کی طرح دائیں بائیں گھما سکتے۔ اوسط عمر ایک سال ہوتی۔

    پرندے اور چھپکلیاں ان کا شکار کرتیں ۔ اور بعض اقسام کی بھڑیں بھی ۔ مقابلہ خوب کرتے۔ یوٹیوب پہ سرچ کر سکتے ۔ تکونی سر اور دعا کی طرح اٹھے ہاتھ ہوتے ان کے ۔ یہ کسی چیز کو کاٹ بھی سکتے اور چبا بھی سکتے۔

    ایک اور خاص بات ، کہ اگر مادہ کسی وجہ سے غذائی قلت کا شکار ہو جائے تو اپنے مجازی خدا کا سر کھا جاتی ہے۔ یہ عادت ویسے تمام ماداؤں میں مشترکہ ہے ۔۔۔سر کھانے کی ۔ نر ایسا کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔

  • چھوڑ کے تیرا دامن رحمت, آقا ہم سے بھول ہوئی ہے!!! — طاہر محمود

    چھوڑ کے تیرا دامن رحمت, آقا ہم سے بھول ہوئی ہے!!! — طاہر محمود

    یہ وقت ہمیں کہاں لے آیا کہ بارود پھٹے تو تکبیر کا نعرہ لگے۔ مساجد و امام بارگاہوں کی صفیں لہو رنگ ہوں تو ہمارا عشق نکھرتا ۔ مندر اور کلیسا میں آگ جلے تو ہمارے ایمان کو جلا ملتی۔ اقلیتوں کی جان خطرے میں ڈالتے تو ہمارا اسلام خطرے سے نکلتا۔ ہم بھٹے میں جلتی لاشوں کی راکھ بنتی ہڈیوں پہ تقدیس رسالت کا قصر تعمیر کرتے۔ غیرمسلم بچی کے ننگے سر پہ چادر ڈالنے کی بجائے جبری نکاح کرنے میں ہمارا من تسکین پاتا۔ جلتے لاشے کے ساتھ تصاویر ہمارے عشق رسول کی سند ہوتیں۔

    رسول اللہ ﷺ ! ہم شرمندہ ہیں۔

    اہل کلیسا نے آپ کے نہیں, ہمارے کردار کے خاکے بنائے۔

    ہمارے خطیبوں کی شعلہ نوائیوں اور جعلی محدثین کی فسانہ طرازیوں کے کارٹون بنے۔ ان میں عکس تمہاری بےداغ سیرت کا نہیں, ہمارے اعمال بد کا ہے۔ تمہیں تو دشمن نے صادق و امیں کہا, ہمِیں ننگ نکلے کہ کوئی اعتبار کو تیار نہیں۔

    ہم تو بھول گئے کہ تو رحمة اللعالمین ہے۔ تو منبع جود و سخا ہے۔ تو مصدر عطا ہے۔ ہم نے مرنے مارنے اور گلے اتارنے سے کم پہ بات نہیں کی۔ سہیل بن عمرو تیرے نام سے رسول اللہ مٹاتا ہے۔ دریدہ دہنی کرتا ہے۔ جب وہ گرفتار ہوتا ہے تو عمر بن خطاب اس کے دانت توڑنے کی اجازت طلب کرتا ہے مگر یہ کیا ! ارشاد ہوتا ہے کہ میرے رب نے چہرے بگاڑنے والا بنا کر نہیں بھیجا۔ یہ وہ نبی تو نہیں جس سے ہمیں اپاہج خطیبوں نے روشناس کروایا۔

    اہل مکہ خون کے پیاسے ہیں۔ غلہ کی کمی ہے۔ مگر ثمامہ بن اثال کو حکم ملتا ہے کہ کسی صورت غلہ نہ روکو۔ ہم تو بھوکے ننگے ہو کر بھی بائکاٹ سے کم پہ راضی نہیں۔ اب یہ کیا ! ابو سفیان آیا ہے۔ مکہ میں قحط ہے۔ مدینہ کیوں آیا بھلا, نبی سے دعا کروانے ۔ کہتا ہے, اے محمد! تیری قوم ہلاک ہو رہی ہے ۔ نبی دعا بھی کرتا ہے۔ تحفے اور اجناس سے بھی نوازتا ہے ۔
    ہائے کیا کیا سبق بھلا بیٹھے ہم ۔

    عیسائی آئے ہیں ۔ عبادت کا وقت ہے۔ وہ جگہ ڈھونڈنے لگتے تو مسجد نبوی کا صحن حاضر ملتا ہے۔ ہمارے زعماء نے مسجد کو مسلک بنا دیا۔ ارے وہ بدو کدھر ہے! جسے کل مارنے دوڑے تھے صحابہ ۔ کہ گستاخ ہے۔ آ گیا۔ اس کو اونٹ بھی عطا کرو۔ مال مویشی بھی دو۔

    وارفتگی میں تیری شان بلند کرتا ہے اور تو اس بات پہ خوش, کہ جہنم سے بچ گیا۔ مگر تیرے فقیہ تو توبہ کا موقع دینے کے سزاوار بھی نہیں۔

    کچرا پھینکنے والی بڑھیا کی روایت ہمارے خطباء کے نزدیک ضعیف سہی, مگر طائف کے پتھروں والی تو قوی روایت ہو گی۔ اے اللہ کے نبی, انہیں تباہ کر دیا جائے۔ نہیں ۔ یہ تو جانتے نہیں میں کون ہوں۔ احد میں پتھر لگتے۔ چہرہ لہولہان۔ زبان پہ دعا, اے اللہ یہ لوگ مجھے جانتے ہی نہیں۔ ہدایت دے انہیں۔

    خامہ بشکستیم و لب بستیم از تعریف دوست

    کیا کیا سناؤں, کیا کیا لکھوں۔ تیرے حلم پہ, تیرے کرم پہ, تیری عطا پہ, تیرے عفو پہ, تیری رحمت پہ, تیری شان کریمی پہ ۔ تیری محبت پہ, تیری بندہ نوازی پہ, تیرے تبسم کی عادت پہ, تیرے معاف کر دینے کی خصلت پہ, تیرے نور بصیرت پہ ۔

    یا رسول اللہ! طائف والوں بھی تجھے نہ پہچانا۔ پتھر مارنے والے بھی تجھے نہ پہچانتے تھے۔ خاکے بنانے والے بھی تجھ سے ناواقف ہیں۔ مگر اے اللہ کے رسول, پہچانتے تو ہم بھی نہیں تجھے ۔ ہم بھی تیری شان رحیمی سے ناواقف ہیں۔ ہم تیرے نام پہ بےگناہوں کی جانیں لے سکتے ہیں ۔ تیرے دیے عفو و حلم کا سبق بھول چکے۔

    مسلماں آں فقیرے کج کلاہے
    رمید از سینہء او سوز و آہے
    دلش نالد, چرا نالد, نداند
    نگاہے یارسول اللہ, نگاہے

  • مسلمانوں کی اقسام اور بریانی کے فرقے — طاہر محمود

    مسلمانوں کی اقسام اور بریانی کے فرقے — طاہر محمود

    اے ایمان والو ! بے شک تم پہ اتوار کو بریانی اسی طرح فرض کی گئی ہے جیسے رمضان میں پکوڑے۔

    مسلمانوں اور بریانی کی بہت سی اقسام ہیں۔ فرق بس مسالوں کا ہے ۔ کچھ میں تیکھا پن زیادہ ، کچھ کے بنانے کا طریقہ الگ ۔ کچھ نرے ویجیٹیرین ٹائپ ۔ سادہ ۔ رنگ برنگے ۔ کچھ تہہ در تہہ ۔ پھر برتنوں کے فرق سے ذائقہ اور خوشبو بھی بدل جاتی ۔ ہر فرقے کے نائی اور ہر پکوان سینٹر کے مولانے کا طریقہ بھی جدا ۔ اور دونوں کے نزدیک انہی کی ریسیپی مستند ، سینہ بہ سینہ اور الہامی ہوتی۔ اگر کسی اور فرنچائز سے بریانی یا عقیدہ لیا جائے تو یہ برا مان جاتے ۔ ہر اک نے بڑا سا بورڈ لگایا ہوا جس پہ جلی حروف سے بریانی یا اسلام لکھا ہوا ہے اور کاؤنٹر پہ موٹا سا سیٹھ خشمگیں نظروں سے رہگیروں کو تکتا ہے۔

    جعلساز بھلا کب پیچھے رہتے ؟ جیسے لاہور میں گندے مندے پلاؤ میں ذرا سا بریانی مسالا ڈال کے دم لگاتے وقت زردہ رنگ ڈال دیا جاتا اور اسے بریانی کہا جاتا۔ ویسے ہی دو چار نعرے ایجاد کر کے بعض قاتل، دہشت گرد اور ڈاکو بھی خود کو خالص مسلمان کہتے۔ دونوں میں سے کسی پہ اعتراض کیا جائےتو لاہوریے آستینیں چڑھا کے اور ڈاکو جتھے بنا کے لڑنے مرنے کو آ جاتے۔ غریب مسافر ہو یا مسلمان۔ ہاں میں ہاں ملا کے ، پیسے دے کے جان بخشوانی پڑتی۔ چاہے ہزار ہزار میں ہی سہی۔

    ابتدا میں جب اسلام اور بریانی نازل ہوئے تو اجزائے ترکیبی بڑے واضح اور سادہ تھے۔ دونوں زود ہضم تھے۔ عمل کرنا اور بنانا آسان ۔ جیسے جیسے اسلام کا نور اور بریانی کی خوشبو چار دانگ عالم میں پھیلے۔ قبول عام ہوا ۔ چند ہی سالوں میں اک بڑا فرقہ الگ ہوا اور اپنی شناخت ہی الگ بنا لی۔ گوشت اور چاول وہی تھے مگر نام ” پلاؤ” تھا۔ اس کے معتقدین بھی کثیر بن گئے ۔ ( فرقے کا نام آپ کی سوجھ بوجھ پہ چھوڑ دیتے ) ۔

    جب دیگر بلاد و امصار میں بریانی اور اسلام پہنچے تو وہاں کے باسیوں نے ان دونوں پہ نت نئے تجربات کیے اپنے اپنے ٹیسٹ کے مطابق۔ پہلے یہ صرف بریانی اور اسلام تھے ۔ اب بریانی صرف بریانی نہ رہی بلکہ بمبئی بریانی ، کراچی بریانی ، وائٹ ویجیٹیبل بریانی ،انڈہ بریانی ، بیف بریانی ، مٹن بریانی ، تکہ بریانی ،قیمہ بریانی ،صفوی بریانی ،تہاری بریانی ، کلیانی بریانی ، کوفتہ بریانی ، فِش بریانی ، حیدرآبادی بریانی ، کچے گوشت کی بریانی ، جھینگا بریانی کے نام سے جانی جانے لگی۔ اسی طرح اسلام اب شیعہ ، اثنا عشری ،نصیری ، سنی ، بریلوی، دیوبندی ،مقلد ،غیر مقلد ، وہابی ، حیاتی ،مماتی ، رضوی ، درودی ، بارودی ، ناصبی ، تفضیلی ، غامدی وغیرہ کے ٹیگ سے جانا جاتا ہے۔

    البتہ پاک و ہند میں جب بریانی اور اسلام پہنچے تو دونوں میں مسالا جات اتنے تیز کر دیے گئے کہ اب اوپر نیچے سے دھواں نہ نکلے تو سواد نہیں آتا۔ عربوں کے بقول تو برصغیرے کلمہ پڑھ کے نرے باؤلے ہی ہو گئے ۔( دروغ بر گردن ِ یوسفی ) ۔ خود عرب میں ان دنوں اسلام اور بریانی "مندی” کا شکار ہیں۔ باقی پسماندہ جگہوں پہ آلو اور مذہب کا چلن زیادہ ہے۔

    باقی اب ہمارا دعوٰی ہے کہ ہم سے بریانی کھائیں یا اسلام سیکھیں۔ دونوں معدے پہ گراں نہ گزریں گے۔ نہ ہی پیٹ میں باؤ گولا یا دماغ میں آتش گولا بننے کے امکانات ہیں۔ تاہم ریسیپی سینہ بہ سینہ چلے گی اور پلیٹ حسینہ بہ حسینہ ۔