Baaghi TV

Tag: طب

  • طب کی دنیا میں ایک اہم سنگ میل، پہلی بار مثانے کا کامیاب ٹرانسپلانٹ

    طب کی دنیا میں ایک اہم سنگ میل، پہلی بار مثانے کا کامیاب ٹرانسپلانٹ

    امریکا میں پہلی بار مثانے کا کامیاب ٹرانسپلانٹ کیا گیا ہے-

    یہ ٹرانسپلانٹ رونالڈ ریگن یو سی ایل اے میڈیکل سینٹر، کیلیفورنیا میں 41 سالہ مریض آسکر لارینزار پر کیا گیا جن میں کینسر اور گردے کی بیماری کے باعث مثانے اور گردے ناکام ہوچکے تھےسرجری کی مدت 8 گھنٹے تھی جس میں ٹیم کی قیادت ڈاکٹر نیما نصیری اور ڈاکٹر اندر بیر گل (یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا) نے کی۔

    اس پیچیدہ سرجری میں مریض کو ایک ہی مرحلے میں مثانہ اور گردہ دونوں ایک مردہ عطیہ دہندہ سے منتقل کیے گئے سرجری کے فوراً بعد مریض کے گردے نے پیشاب بنانا شروع کر دیا، اور وہ سات سال بعد پہلی بار قدرتی طریقے سے پیشاب کرنے کے قابل ہوا۔

    سکول کونسل کے انتخابات، ام حبیبہ صدر منتخب،حلف برداری کی تقریب

    یہ کامیابی ان مریضوں کے لیے امید کی نئی کرن ہے جو مثانے کی شدید خرابی کا شکار ہیں روایتی طور پر ایسے مریضوں کے لیے آنتوں کے حصے کو مثانے کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا، جو اکثر انفیکشن اور دیگر پیچیدگیوں کا باعث بنتا تھا۔

    پاکستان اور افغانستان کاتجارت، رابطہ کاری اور سکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق

  • 3 ہزار سے 2500 سال قبل مسیح مصر میں کینسر  کا علاج سرجری سے کرنے کی کوشش کی گئی،تحقیق

    3 ہزار سے 2500 سال قبل مسیح مصر میں کینسر کا علاج سرجری سے کرنے کی کوشش کی گئی،تحقیق

    ماہرین کا کہنا ہے کہ قدیم مصر میں لوگوں کی جانب سے کینسر کا علاج سرجری کے ذریعے کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔

    باغی ٹی وی : ایک نئی تحقیق میں ماہرین نے کینسر کے علاج کے قدیم ترین شواہد دریافت کیے اس سے قبل بھی ہزاروں برس پرانی تحریروں سے معلوم ہوا تھا کہ قدیم مصری طبی شعبے میں کافی پیشرفت کر چکے تھے اور متعدد امراض کو شناخت کرکے علاج کرتے تھے مگر اب پہلی بار معلوم ہوا ہے کہ وہ کینسر کا علاج کس طرح کرتے تھے۔

    Santiago de Compostela یونیورسٹی کی تحقیق کے دوران قدیم کھوپڑیوں کی جانچ پڑتال کے دوران کینسر زدہ زخموں کے گرد سرجری کے نشانات دریافت کیے گئے جرنل فرنٹیئرز این میڈیسن میں شائع تحقیق کے نتائج کے مطابق اس سے عندیہ ملتا ہے کہ قدیم مصری کینسر کے علاج کے لیے مختلف تجربات کرتے رہے تھے۔

    ایل پی جی کی قیمت میں کمی،مزید سستی ہونے کا امکان

    محققین نے بتایا کہ نتائج سے طبی تاریخ کے حوالے سے ہمارے علم میں تبدیلیاں آئی ہیں، یہ کینسر کی رسولی سے متعلق سرجری کے قدیم ترین شواہد ہیں، ایسا علاج کے لیے کیا گیا یا پوسٹ مارٹم کے لیے، ہمارے لیے مصدقہ طور پر کہنا ممکن نہیں، مگر یہ واضح ہے کہ انہوں نے اس مرض کے علاج کی کوشش کی تھی۔

    اس تحقیق کا مقصد یہ سمجھنا تھا کہ زمانہ قدیم میں کینسر کا کردار کیا تھا اور قدیم معاشروں میں یہ مرض کس حد تک پھیلا ہوا تھاانہوں نے 2 مصری کھوپڑیوں کی جانچ پڑتال کی جن میں سے ایک 2687 سے 2345 سال قبل مسیح کے عہد کی تھی جبکہ دوسری 663 سے 343 قبل مسیح کی تھی، پہلی کھوپڑی میں کینسر کی موجودگی کے شواہد ملے جن کے گرد سرجری کے نشانات بھی تھے۔

    رفح حملے کے بعد بھی اسرائیل سے متعلق پالیسی تبدیل کرنے کا ارادہ نہیں …

    محققین نے بتایا کہ یہ شواہد کینسر کی رسولی کی سرجری کا عندیہ دیتے ہیں اور یہ ثابت ہوتا ہے کہ قدیم مصریوں کی جانب سے اس مرض کو سمجھنے کی کوشش کی گئی تھی، دوسری کھوپڑی میں بھی کینسر کے ایک زخم کا نشان تھا اور محققین نے بتایا کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زمانہ قدیم میں بھی کینسر کافی عام تھا قدم مصری کینسر سے واقف تھے اور اس حوالے سے شواہد 3 ہزار سے 2500 سال قبل مسیح کے عہد کی تحریروں سے ملتے ہیں۔

    اے آئی ٹیکنالوجی کی مدد سے موسم کی درست پیشگوئی کرنا بھی ممکن

  • سال 2023 :طب کا نوبیل انعام امریکا سے تعلق رکھنے والے دو سائنسدانوں کو دینے کا اعلان

    سال 2023 :طب کا نوبیل انعام امریکا سے تعلق رکھنے والے دو سائنسدانوں کو دینے کا اعلان

    سال 2023 کے لیےطب کا نوبیل انعام امریکا سے تعلق رکھنے والے دو سائنسدانوں کو دینے کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: کیرولنسکا انسٹی ٹیوٹ میں نوبل اسمبلی نے آج ایوارڈ دینے کا فیصلہ کیا ہے فزیالوجی یا میڈیسن میں 2023 کا نوبل انعام مشترکہ طور پر کیٹالن کیریکو اور ڈریو ویس مین کو دیا جائے گا نیوکلیوسائیڈ بیس ترمیم کے بارے میں ان کی دریافتوں کے لیے جنہوں نے COVID-19 کے خلاف موثر mRNA ویکسینز کی ترقی کو قابل بنایا۔

    ہنگری نژاد امریکی بائیو کیمسٹ Katalin Karikó اور Drew Weissman کو کووڈ 19 کی وبا سے لڑنے کے لیے ایم آر این اے ویکسین تیار کرنے میں مدد فراہم کرنے پر نوبیل انعام سے نوازا گیا یہ دونوں امریکا کی پنسلوانیا یونیورسٹی سے تعلق رکھتے ہیں اور برسوں سے ایم آر این اے ٹیکنالوجی پر کام کر رہے تھے۔

    ان کے تحقیقی کام کے باعث کووڈ 19 کی وبا کے دوران ریکارڈ وقت میں زندگی بچانے والی ویکسینز تیار کرنے میں مدد ملی،یہ دونوں 1990 کی دہائی کے آخر میں ایک تحقیق کے دوران ملے تھے اور اس کے بعد انہوں نے مل کر ایم آر این اے ٹیکنالوجی کو مختلف امراض کے علاج کے طور پر جانچنے کے لیے کام شروع کیا۔

    50 ملین سے زائد امریکی ڈالرز گھروں میں چھپائے جانے کا انکشاف

    https://x.com/NobelPrize/status/1708780262883017166?s=20
    کووڈ کی وبا کے موقع پر ان دونوں سائنسدانوں کے تحقیقی کام کو مختلف کمپنیوں نے استعمال کیا تاکہ لوگوں کو کورونا وائرس سے تحفظ فراہم کر سکیں اور دسمبر 2020 میں اولین ایم آر این اے ویکسین متعارف کرائی گئی صرف امریکا میں ہی ایم آر این اے ویکسینز کی 65 کروڑ سے زائد خوراکیں استعمال کرائی جاچکی ہیں۔

    واضح رہے کہ 3 اکتوبر کو فزکس، 4 اکتوبر کو کیمسٹری اور 5 اکتوبر کو ادب کے نوبیل انعام کا اعلان کیا جائے گا امن کے نوبیل انعام کا اعلان 6 اکتوبر جبکہ معیشت کا نوبیل انعام 9 اکتوبر کو دیا جائے گا۔

    میکسیکو میں چرچ کی چھت گرنے سے 10 افراد ہلاک

  • موت کے قریب پہنچنے پر انسان کن تجربات کا سامنا کرتا ہے؟

    موت کے قریب پہنچنے پر انسان کن تجربات کا سامنا کرتا ہے؟

    امریکامیں ہونے والی نئی تحقیق میں ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ موت کے قریب پہنچنے پر لوگوں کی نگاہوں کے سامنے ان کی زندگی کسی فلم کی طرح گزرتی ہے۔

    باغی ٹی وی : نیویارک یونیورسٹی کے گروسمین اسکول آف میڈسین کی تحقیق میں ایسے 567 افراد کو شامل کیا گیاتھا جن کی حرکت قلب تھم گئی تھی مگر طبی امداد کے بعد وہ زندگی کی جانب واپس لوٹ آئے۔

    موت کاایک وقت مقررہے:عمرے پرجانےوالاپاکستانی شہری دومنٹ دل کی دھڑکن بند…

    محققین نے بتایا کہ موت کے منہ پر پہنچنے والے افراد نے زندگی کی جانب واپس لوٹنے کے بعد مختلف تجربات شیئر کیے تحقیق میں ہر 5 میں سے ایک فرد نے موت کے منہ میں پہنچنے کے بعد مختلف تجربات کو رپورٹ کیا۔

    محققین کے مطابق ان افراد کا کہنا تھا کہ ہمارا شعور کا کام کررہا تھا اور انہیں ایسا تجربہ ہوا جیسے انہوں نے دوبارہ زندگی گزار لی ہو۔

    موت کے منہ میں پہنچنے کے بعد ان افراد نے بتایا کہ انہیں جسم سے الگ ہونے کا تجربہ ہوا، ڈاکٹروں کو بچانے کی کوشش کرتے دیکھا مگر کوئی تکلیف محسوس نہیں ہوئی، جبکہ اپنی زندگی کے اقدامات، ارادوں اور دیگر افراد کے بارے میں مقاصد کا تجزیہ کرنے کا موقع بھی ملا۔

    محققین کے مطابق لوگوں کو ہونے والے تجربات خواب، واہمے یا تصور کا دھوکا نہیں تھے بلکہ یہ حقیقی تجربات ہیں جن کا سامنا ہمیں مرتے وقت ہوتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ موت کے قریب پہنچنے والے افراد اپنی زندگی، مقاصد اور اقدامات کا گہرائی میں جاکر بامقصد تجزیہ کرتے ہیں، یعنی ایک بار پھر خیالات میں اپنی زندگی دوبارہ جی لیتے ہیں۔

    اسمارٹ فونز مختلف الرجیز کا شکار بناکر بیمار بھی کرسکتے ہیں،تحقیق

    تحقیق کے دوران دماغی مانیٹرنگ سسٹمز کو بھی مریضوں پر استعمال کیا گیا تھا اور زندگی کی جانب لوٹ آنے والے مختلف دماغی لہروں کو دریافت کیا گیایہ دماغی لہریں عام طور پر اس وقت دیکھنے میں آتی ہیں جب لوگ شعوری طور پر کچھ تجزیہ کررہے ہوتے ہیں یا پرانی یادیں ذہن میں اجاگر ہوتی ہیں۔

    ایم ڈی، پی ایچ ڈی، مطالعہ کے اہم تفتیش کار انتہائی نگہداشت کے معالج،NYU Langone اور Health کے شعبہ طب میں ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر کے ساتھ ساتھ تنظیم کے اہم نگہداشت اور بحالی کی تحقیق کے ڈائریکٹر سیم پارنیا کہتے ہیں کہ یہ یاد کیے گئے تجربات اور دماغی لہر کی تبدیلیاں نام نہاد قریب قریب موت کے تجربے کی پہلی علامتیں ہو سکتی ہیں، اور ہم نے انہیں پہلی بار ایک بڑے مطالعے میں پکڑا ہے

    انہوں نے کہا کہ ہمارے نتائج اس بات کا ثبوت پیش کرتے ہیں کہ موت کے دہانے پراور کوما میں رہتے ہوئے،لوگ ایک منفرد باطنی شعوری تجربے سے گزرتے ہیں، جس میں پریشانی کے بغیر آگاہی بھی شامل ہے۔

    نتائج سے یہ عندیہ بھی ملتا ہے کہ موت کے وقت بھی انسانی شعور مکمل طور پر کام کرنا نہیں چھوڑتا۔

    محققین کی جانب سے اب اس حوالے سے تحقیق کو مزید آگے بڑھایا جائے گا۔

    بچپن میں پریشان کن اور برے حالات جوانی میں امراض قلب کا باعث بن سکتے ہیں ،تحقیق

  • انگور — حکیم حبیب الرحمن کمبوہ

    انگور — حکیم حبیب الرحمن کمبوہ

    انگور کا شمار قدرت کی بہترین نعمتوں میں کیا جاتا ہے ۔

    شائد اسی لیے قرآن مجید میں اسے عنب کے نام سے گیارہ مختلف آیات میں ذکر کیا گیا ہے ۔

    انگور کی درجنوں جنگلی قسمیں دنیا کے مختلف خطوں میں پائی جاتی ہیں ۔

    اس لیے حتمی طور پر یہ کہنا کہ انگور کا اصلی وطن کون سا ہے ممکن نہیں ۔

    اس کے باوجود سائنس دانوں کا خیال ہے کہ انگور کا اصلی وطن آرمینیا اور آذربائجان کا پہاڑی علاقہ ہو سکتا ہے ۔

    اس علاقہ کی آب وہوا بہت اچھی ہے اور غالباً یہیں سے انگور کی کاشت کا فن عام ہو کر ایران مصر اور عرب تک پھیل گیا ۔

    یہ قیاس آرائیاں تین ہزار سال قبل مسیح سے تعلق رکھتی ہیں کیونکہ روایات کے مطابق حضرت نوح علیہ السلام کے دور میں کاشت کیا گیا انگور دریافت ہو چکا تھا ۔

    اس طرح کھجور کے بعد انگور کی تاریخ ہی پھلوں میں سب سے قدیم مانی جاتی ہے ۔

    آج انگور کی آٹھ ہزار قسمیں تیار کی جا چکی ہیں
    ۔
    ان میں سے چند عمدہ اور اچھی قسموں کی کاشت اٹلی فراس روس اسپین ترکی ایران افغانستان جاپان شام الجیریا مراکش اور امریکہ میں کی جا رہی ہیں ۔

    انگور کی عالمی پیداوار کا تقریباً نصف حصہ پورپی ممالک پیدا کر رہے ہیں ۔

    انگور کا شمار اہم پھلوں میں ہوتا ہے ۔

    انسانی صحت کی بحالی کے لیے انگور قدرت کا انمول تحفہ ہے ۔

    انگور کے دانے مٹر سے لے کر آلو بخارے تک جسامت رکھتے ہیں ۔

    انگور زرد کالے سرخ سبز اور نیلے رنگ کے ہوتے ہیں ۔

    انگور اپنے قیمتی غذائی اجزاء کی بدولت زبردست غذائی اہمیت رکھتا ہے ۔

    اس میں پائی جانے والی وفر مقدار میں شکر زیادہ تر گلوکوز پر مشتمل ہوتی ہے ۔

    انگور میں پایا جانے والا گلوکوز مختلف اقسام میں شرح یعنی 15 سے 25 فیصد تک موجود ہوتا ہے ۔

    انگور فوری طور پر جسم کو حرارت اور توانائی مہیا کرتا ہے ۔

    گلوکوز پہلے سے ہضم شدہ غذا ہے جو معدے میں پہنچنے کے فوراً بعد خون میں جذب ہو جاتی ہے ۔

    غذائی صلاحیت:
    انگور کے 100 گرام میں 92 فیصد رطوبت 0.7 فیصد پروٹین 0.1 فیصد چکنائی 0.2 فیصد معدنی اجزاء اور 7 فیصد کاربوہائیڈریٹ پائے جاتے ہیں ۔

    جبکہ انگور میں پائے جانے والے معدنی اور حیاتین اجزاء کا تناسب اس طرح ہوتا ہے ۔

    کیلشیم 20 ملی گرام فاسفورس 20 ملی گرام آئرن 0.25 ملی گرام وٹامن سی 31 ملی گرام اور وٹامن بی کمپلیکس وٹامن اے اور وٹامن بی کی بھی کچھ مقدار پائی جاتی ہے ۔

    100 گرام انگور میں 32 کیلوریز ہوتی ہیں ۔

    شفاء بخش قوت اور طبی خواص:
    انگور کی شفاء بخش طبی افادیت کا تعلق اس میں پائی جانے والی گلوکوز کی فراوانی ہے ۔

    انگور بحالی صحت کو بڑی تیزی سے ممکن بناتا ہے ۔

    عام کمزوری بخار اور ضعف ہضم کے مریضوں کے لیے انگور بہت اچھی غذا ہے ۔

    قبض سے چھٹکارا پانے کے لیے روازنہ 350 گرام گرام انگور کھانا ضروری ہے ۔

    اگر تازہ انگور دستیاب نہ ہوں تو کشمش کو کچھ دیر پانی میں بھگو رکھنے کے بعد استعمال کیا جا سکتا ہے ۔

    انگور بد ہضمی کا خاتمہ کرتے ہیں اور بہت کم وقت میں معدے کی خراش اور گرمی دور کرتے ہیں ۔

    دل کی بیماری میں انگور کامیاب علاج ہے ۔

    انگور دل کو تقویت دیتے ہیں دل کے درد اور تیز دھڑکن کا خاتمہ کرتے ہیں ۔

    اگر انگور کو مریض کچھ دن اکلوتی غذا بنائے رکھے تو مرض پر بہت تیزی سے قابو پایا جاسکتا ہے ۔

    دل کے دورے کے بعد مریض کو انگور کا رس پلانا بہت مفید ثابت ہوتا ہے ۔

    یہ مریض کو دل کی تیز دھڑکن اور سنگین نتائج سے محفوظ رکھتا ہے ۔

    خوب پکے ہوئے انگوروں کا رس درد شقیقہ آدھے سر کا درد میں تسکین بخش ہے ۔

    انگور میں پانی اور پوٹاشیم کی کافی مقدار پائی جاتی ہے ۔

    اسی وجہ سے یہ منفرد قسم کی پیشاب آور صلاحیت رکھتے ہیں ۔

    مثانے اور گردوں کی پتھری کا خاتمہ کرتے ہیں اور گردوں کی سوزش دور کرتے ہیں۔

  • صحت کے شعبے میں قصور وار کون ؟؟  تحریر: غنی محمود قصوری

    صحت کے شعبے میں قصور وار کون ؟؟ تحریر: غنی محمود قصوری

    ملک پاکستان میں صحت کے شعبے میں بڑی لوٹ مار کا بازار گرم ہے جس سے اس شعبہ کی حالت ابتر ہے جس کی دو وجوہات ہیں
    1 ایم بی بی ایس ڈاکٹرز کی کمی
    2 پیرامیڈیکس کی ذاتی محدود پریکٹس کی ممانعت
    کسی بھی شعبے میں گھر پڑھنے کیساتھ چھوٹا موٹا کاروبار کر کے آپ اپنا روزگار شروع کر سکتے ہیں اور اپنی تعلیم کے اخراجات نکال سکتے ہیں جبکہ ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر بننے کیلئے ایف ایس سی کرنے کے بعد کسی میڈیکل کالج میں داخلہ لینا لازم ہے اور پانچ سال تک کالج اٹینڈ کرنا بھی لازم ہے
    جس کیلئے بڑا سخت میرٹ ہوتا ہے جو طالب علم میرٹ کی بنا پر سرکاری میڈیکل کالجز میں داخلہ نہیں لے پاتے وہ پھر پرائیویٹ کالجز کا رخ کرتے ہیں کیونکہ وہاں کم نمبروں والے کو بھی آسانی سے داخلہ مل جاتا ہے
    پرائیویٹ کالجز کی پانچ سالہ فیس 50 سے 90 لاکھ ہے جو کہ کوئی غریب پوری زندگی بھر بھی نہیں کما سکتا.
    یوں غریب طالبعلم بچے اپنے حق سے محروم رہ جاتے ہیں
    ہمارے ملک میں ڈسپنسر ایک سالہ کورس کر کے ڈاکٹر کی معاونت کرتا ہے امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی دور دراز علاقوں میں جہاں ڈاکٹرز میسر نہیں وہاں پیرامیڈیکس ڈاکٹرز کی جگہ کام کرتے جبکہ ہمارے ہاں ایک سالہ کورس ڈسپنسر کرنے والا اتائی ڈاکٹر کہلواتا ہے حالانکہ یہی اتائی ہمارے ڈی ایچ کیو،ٹی ایچ کیو،آر ایچ سی اور بی ایچ یو میں ایک ماہر ڈاکٹر کی طرح انجیکشن بھی لگاتے ہیں نسخہ بھی تجویز کرتے ہیں دوائی بھی دیتے ہیں مگر سرکاری ہسپتالوں کے بعد یہی کوالیفائڈ ڈسپنسر اپنے نجی کلینک کھولنے پر اتائی کہلواتے ہیں افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ملک میں پرائس کنٹرول کا کوئی نظام نہیں سرکاری ہسپتال کا ایم بی بی ایس ڈاکٹر اپنے نجی کلینک میں کم از کم فیس 500 روپیہ لے رہا ہے جبکہ سپیشلسٹ ڈاکٹرز کی فیس ہزاروں روپیہ ہے اور دوائی جو میڈیکل سٹور سے خریدنی ہے وہ الگ جبکہ مزدور کی دیہاڑی 700 روپیہ ہے یہی کوالیفائڈ ڈاکٹرز اپنے سرکاری ہسپتالوں میں کسی غریب کی بات سننے کے روادار نہیں ہوتے ایک غریب انسان بخار کی دوائی لینے سرکاری ہسپتال جائے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ پرچی بنوانے سے اپنی بھاری آنے پر معائنہ کروا کر دوائی حاصل کرنے تک کم از کم ٹائم 3 گھنٹے جبکہ مزدور کی مزدوری کا ٹائم صبح 7 بجے شروع ہو جاتا ہے اور ہمارے ان سرکاری ہسپتالوں کا ٹائم 8 بجے یعنی کہ اگر کوئی 60 سے 70 روپیہ کی دوائی سرکاری ہسپتال سے لینے جائے تو اسے اپنے 700 روپیہ سے ہاتھ دھونے پڑینگے ویسے تو گورنمنٹ کی طرف سے ہر یونین کونسل کی سطح پر ایک بی ایچ یو ہسپتال ہوتا ہے جس میں دفتری اوقات کے بعد بھی ایل ایچ ڈبلیو یعنی لیڈی ہیلتھ ورکر اپنے گھروں میں فرسٹ ایڈ میڈیسن کیساتھ موجود ہوتی ہیں مگر افسوس کہ ان کو بھی صرف پیراسیٹامول ،فولک ایسڈ اور کنڈومز کے علاوہ کچھ بھی نہیں ملتا جبکہ یہی پیراسیٹامول ہر گھر میں موجود ہوتی ہے
    کچھ عرصہ قبل سٹیرائیڈ اور اینٹی بائیوٹک کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا مگر آج جلد آرام اور اپنے نجی کلینک کی رینکنگ بڑھانے کے علاوہ میڈیکل سٹورز سے کمیشن حاصل کرنے کے چکر میں ہمارے یہ پانچ سالہ تربیت یافتہ ڈاکٹرز ڈبل ٹرپل اینٹی بائیوٹکس میڈیسن تک دینے سے گریز نہیں کرتے اگر کوئی ٹرپل نا بھی دے تو ڈبل تو لازم ہے جیسے کہ انجیکشن میں سیفٹرائیکزون سوڈیم تو لازمی جز ہے جبکہ گولیوں میں ،کو اماکسی سلین،سیفراڈون اور سیفیکزائم وغیرہ بلا ضروت دی جاتی ہے
    ایک جانب تو گورنمنت نے چوروں ڈاکوءوں کے خلاف کریک ڈاون کا اعلان کر رکھا ہے جبکہ دوسری جانب ان ایم بی بی ایس ڈاکٹرز کی بے جا لوٹ مار بداخلاقی اور ناجائز آمدن پر خاموش بھی ہے بلکہ پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی آڑ میں ان کو مذید تحفظ حاصل ہو گیا ہے کیونکہ ڈسپنسر اور دیگر شارٹ ہیلتھ کورسز والے کوئی بھی ذاتی پریکٹس نہیں کر سکتے جس سے بہت سے کوائیک یعنی اتائی کاروبار چھوڑ چکے ہیں جس کے نتیجے میں لوگوں نے ذاتی طور پر ادویات کا استعمال شروع کر دیا ہے جو کہ سخت حیران کن بات ہے کم ازکم ڈسپنسر ایک سال ہسپتال میں دوران کورس ،ڈرپ ،انجیکشن اور پیشاب کی نالی لگانا سیکھ جانے کے علاوہ بہت سی ادویات بارے پڑھ کر ہسپتال میں عملی طور پر ڈاکٹرز کیساتھ تجربہ بھی حاصل کر چکا ہوتا ہے لہذہ گورنمنٹ کو ان پیرامیڈیکس کے بارے سوچنا ہوگا ورنہ غریب اپنی صحت کا دشمن تو پھر بنا ہی ہے.

  • دنیا میں تیزی سی بڑھتا ہوا منافع بخش بزنس …. محمد فہد شیروانی

    دنیا میں تیزی سی بڑھتا ہوا منافع بخش بزنس …. محمد فہد شیروانی

    پودوں کو کئی ہزار سالوں سے صحت اور طبی فوائد حاصل کرنے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔یہاں تک کہ دنیا کے وہ علاقے جہاں جدید ادویات دستیاب ہیں وہاں بھی دیسی اور روایتی طریقہ علاج کے استعمال میں نہ صرف دلچسپی بڑھ رہی ہے بلکہ اس کو جدید طریقہ علاج پر فوقیت دی جا رہی ہے۔ لوگ "ایلوپیتھک” دوائیاں چھوڑ کر دیسی اور روایتی طریقہ علاج کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت دنیا کے 62 فیصد لوگ دیسی طریقہ علاج کا استعمال کر رہے ہیں۔ مارکیٹ میں دیسی ادویات کی مانگ میں اضافے کی وجہ سے پوری دنیا کی فارماسوٹیکل انڈسڑی اس وقت ہر بل دوائیں بنانے کے لئے مجبور ہو چکی ہے اور تقریباً ہر ملٹی نیشنل فارماسوٹیکل کمپنی کی ہر بل ادویات اس وقت مارکیٹ میں موجود ہیں جو اس بات کا واضح اور منہ بولتا ثبوت ہے دنیا دیسی طریقہ علاج کی طرف واپس لوٹ رہی ہے۔
    "ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن” کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق اس وقت ہربل ادویات کا بزنس 60 ارب امریکی ڈالرز تک جا پہنچا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کابل میڈیسن آہستہ آہستہ پوری دنیا میں اپنی جگہ بنا چکی ہے اور ہیلتھ فورمز میں اس کو باقاعدہ موضوع بحث بنایا جاتا ہے۔ اس وقت لاکھوں امریکی ڈالرز ہربل ادویات کی ریسرچ پر خرچ کئے جا رہے ہیں ۔ افریقی میں موجود 80 فیصد آبادی اس وقت ہربل ادویات کا استعمال کر رہی ہے ۔
    ہربل اور دیسی طریقہ علاج کی ڈیمانڈ کے سامنے بلین ڈالرز کی فارما انڈسٹری اس وقت لاچار و بے بس نظر آتی ہے۔ "ایلوپیتھک” ادویات کی قیمتوں میں آئے دن ہونے والے ہو شربا اضافے اور اس کے "سائیڈ افیکٹ” لوگوں کو اس سے دور کرتے جا رہے ہیں۔
    ہربل ادویات کا استعمال بڑھنے کی مندرجہ ذیل وجوہات نظر آتی ہیں۔
    – عام ادویات کی نسبت کم قیمت ہونا
    – انتہائی کم مضر اثرات ہونا
    – جسم میں موجود مدافعتی نظام کو فعال کرنا
    – قدرتی طور پر شفایاب ہونا
    – ادویات کا کیمیکل وغیرہ سے پاک ہونا
    "گلوبل ہربل میڈیسن مارکیٹ” کی 2019 میں کی گئی ریسرچ کے مطابق ہربل میڈیسن مارکیٹ عالمی سطح پر سب سے زیادہ مستحکم صنعت بننے کی توقع کی جارہی ہے کیونکہ اس کی گزشتہ سالوں سے اس کے استعمال میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے. تیزی سے بڑھتی ہوئی ہربل میڈیسن کی طلب مارکیٹ میں ترقی کو فروغ دینے میں مدد دے رہی ہے اسی وجہ بزنس ادارے اور بزنس شخصیات کا رحجان ہربل میڈیسن کی پروڈکشن کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اور اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ 2025 تک ہربل میڈیسن کا بزنس دنیا کے اہم ترین بزنس میں شمار ہونے لگے گا ۔