Baaghi TV

Tag: طلباء

  • قوانین کی خلاف ورزی پر کارروائی:امریکا نے بھارتی طلباء کو خبردار کر دیا

    قوانین کی خلاف ورزی پر کارروائی:امریکا نے بھارتی طلباء کو خبردار کر دیا

    بھارت میں امریکی سفارتخانے نے امریکا میں زیر تعلیم بھارتی طلبہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی قوانین کی خلاف ورزی آپ کے اسٹوڈنٹ ویزا کیلئے سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔

    ایکس پر جاری کیے گئے اپنے بیان میں امریکی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ اگر گرفتار کیا گیا یا آپ کسی بھی قانون کی خلاف ورزی کی تو آپ کا ویزا منسوخ ہو سکتا ہے، آپ کو ملک بدر کیا جا سکتا ہے اور مستقبل میں امریکی ویزا کے لیے نااہل بھی قرار دیا جا سکتا ہے، لہٰذا قوانین کی پابندی کریں اور اپنے سفر اور تعلیمی مواقع کو خطرے میں نہ ڈالیں،امریکی ویزا استحقاق ہے، حق نہیں۔

    برطانیہ اور فرانس کا یوکرین میں فوج تعینات کرنے کا اعلان

    ایرانی صدر کا مظاہرین کیخلاف کارروائی نہ کرنے کا حکم ٰ

    امریکی فوج نے وینزویلا سے منسلک روسی آئل ٹینکر قبضے میں لےلیا ۔

  • مردان عبدالولی خان یونیورسٹی میں طلبہ بھاری فیس دینے پر مجبور

    مردان عبدالولی خان یونیورسٹی میں طلبہ بھاری فیس دینے پر مجبور

    عبدالولی خان یونیورسٹی مردان انتظامیہ کی جانب سے کالجز داخلہ فیسوں میں بےتحاشا اضافے کے خلاف تخت بھائی ملاکنڈ روڈ اسلامی جمعیت طلباء کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ہے۔ طلبہ نے ہاتھوں میں بینر اٹھا رکھے تھے اور عبدالولی خان یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف شدید نعرہ بازی کی،۔طلبہ کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کو داخلہ فیسوں میں اضافہ واپس لینا چاہئے،
    احتجاجی مظاہرے کی قیادت اسلامی جمعیت طلبہ مردان ڈویژن کے ناظم محمد انیس، مردان جنوبی کے ناظم زوار حسین، گورنمنٹ ڈگری کالج تخت بھائی کے ناظم اسامہ صادق اور دیگر کررہے تھے ۔ احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے خبردار کیا کہ اگر یونیورسٹی انتظامیہ نے فیسوں میں اضافے کا فیصلہ واپس نہیں لیا تو طلبہ تنظیم احتجاجی تحریک چلانے کے ساتھ اعلیٰ عدالتوں کا دروازہ کٹکھٹا ئیں گے ۔ انہوں نے کہا داخلہ فیسوں میں اضافہ غریب طلبہ اور طالبات پر تعلیم کے دروازے بند کروانے کے مترادف ہے۔ لہذا غریب عوام کو تعلیم جیسی روشنی سے محروم نہ کیا جائے،

  • "مکھڈی حلوہ” — اعجازالحق عثمانی

    "مکھڈی حلوہ” — اعجازالحق عثمانی

    کل عید ہوگی یا پرسوں؟۔ یہ بات گاؤں کے ہر دوسرے شخص کی زبان پر تھی۔ اس گفتگو کو مدتیں نہیں ہوئیں، بس ہمارے گاؤں میں بجلی، ٹی وی کا دور زرا دیر سے آیا۔ روزہ افطار کرتے ہی ، تمام مرد مغرب کی نماز کی ادائیگی کے لیے مسجد کی طرف جارہے تھے کہ اتنے میں آواز آئی وہ دیکھو چاند ۔۔۔۔۔

    نماز کے بعد سارا گاؤں مسجد کے صحن میں کھڑا چاند کو ڈھونڈنے میں مشغول ہے۔ اور میں گھر میں بیٹھا ریڈیو پر ہلال کمیٹی کے اعلان کے انتظار میں۔۔ بہر حال ہلال کمیٹی کے ڈھونڈنے سے پہلے ہی ہمارے گاؤں میں چاند ڈھونڈ لیا گیا تھا ۔

    مسجد کے سپیکر میں عید کے اعلان کی آواز کے ساتھ بچوں کی سرگوشیاں اور قہقہے بھی گونج رہے تھے۔ مگر تب بچوں کی خوشیوں سے اللہ ناراض نہیں ہوتا تھا ۔ اب تو مسجد میں کم سن پھولوں کی شرارتوں سے بھی مولوی صاحب کو اللہ کی ناراضی کا گمان ہوتا ہے ۔

    اور پھر مولوی صاحب کی ڈانٹ ڈپٹ سے وہ بچہ تاعمر مسجد جانے سے کتراتا ہے ۔ خیر موضوع تو عید ہے یہ رونا دھونا کسی اور تحریر کےلیے رکھ چھوڑتے ہیں ۔

    بچے گھروں کو دوڑ پڑتے ہیں ۔ اور اب وقت ہوا چاہتا ہے خواتین کی بے تحاشا مشقت کا۔ سب سے پہلے استری میں کوئلے ڈالنا۔۔۔ پھر مٹی کے تیل اور کوئلوں کی مدد سے گرم کی گئی استری سے کپڑے استری کرنا اور پھر آدھی رات حلوے کے ساتھ کھپ ڈالے رکھنا( بعض گھروں میں رسم حلوہ پکائی عید کے روز شام کو بھی ہوتی)۔۔۔۔کیونکہ میں ایک تلہ گنگیا ہوں تو ہماری سائیڈ پر مکھڈی حلوے کے بغیر عید اور دوسرے تہوار نامکمل سمجھے جاتے ہیں۔کڑاہی اور شپیتا لیے مائیں ، دادیاں حلوہ پکانے میں مشغول ہوجاتیں ہیں۔لڑکے کھیلنے میں۔۔ اور لڑکیاں مہندی لگانے میں۔۔

    کچھ گھروں میں عید کی صبح جبکہ بعض گھروں میں شام کے وقت پتلی سی روٹی میں مکھڈی حلوہ ڈال کر بیٹیوں ، بہنوں اور گاؤں کے سیپیوں (پرانے وقتوں میں کچھ لوگ جیسا کہ نائی، موچی ، میراثی کام کے بدلے دانے لیتے تھے ،اسے سیپی کہا جاتا) کو دیا جاتا جسے عرف عام میں ڈھاراڑی کہا جاتا۔ یہ کام عموماً بچوں کے حصے میں آتا اور یہیں سے عیدی جمع کرنے کے سلسلے کا آغاز بھی ہوتا۔

    اور پھر یوں ہوا کہ شہروں کی ہوا نےعید کے ان سب مناظر کو ہوا کر دیا۔ مگر کالج کے دور میں تقریبا دو سال پھر مکھڈی حلوہ کھانے کو ملتا رہا۔ سین کچھ یوں ہوا کہ ہم میٹرک کے بعد اعلی تعلیم کے لیے کلرکہار کے معروف تعلیمی ادارے ” سائنس کالج” چلے گئے ۔

    جس روز بھی بارش ہوتی،کالج میں موجود بابے طلباء کی کینٹین پر مکھڈی حلوہ کھانے کو ضرور ملتا۔کالج میں میرا دوست رفاص ، میرا گرائیں تھا اور بابا طالبان بھی، سو خوب حلوہ کھایا۔جب یہ تحریر لکھ رہا ہوں تو سرگودھا میں ہوں، چار سالوں میں ادھر مکھڈی حلوہ تو نہیں دیکھا۔ مگر سموسہ چاٹ کے اوپر کیلے ضرور دیکھے ہیں۔