Baaghi TV

Tag: طلبا

  • بنگلہ دیش،طلبا کی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے قبل ہی پارلیمنٹ تحلیل

    بنگلہ دیش،طلبا کی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے قبل ہی پارلیمنٹ تحلیل

    بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے عبوری انتظامیہ کی تشکیل کے لیے پارلیمنٹ کو تحلیل کر دیا ہے

    بنگلہ دیشی صدر شہاب الدین نے طلبا کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائن سے قبل ہی پارلیمنٹ کو تحلیل کر دیا ہے،بنگلہ دیشی صدر نے تینوں مسلح افواج کے سربراہان، مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور طلبا تحریک کے رہنماؤں سے ہونے والی ملاقات کے بعد پارلیمنٹ کو تحلیل کیا ہے

    علاوہ ازیں بنگلہ دیش میں یکم جولائی سے 5 اگست تک طلبا تحریک اور مختلف مقدمات میں حراست میں لیے گئے افراد کو بھی رہا کرنے کا عمل شروع ہو گیا ہے

    دوسری جانب بنگلہ دیش کے نوبیل انعام یافتہ ماہر اقتصادیات ڈاکٹر محمد یونس نے عبوری حکومت کا مشیر بننے کی پیشکش قبول کرلی،انکے ترجمان کے مطابق ڈاکٹر محمد یونس پیرس میں ہیں وہ طبی معائنہ کروانے گئے ہیں جس کے بعد وہ فوری بنگلہ دیش واپس آئیں گے،شیخ حسینہ واجد کی حکومت نے ڈاکٹر یونس پر 190 مقدمات قائم کیے تھے اور وہ اس وقت ضمانت پر ہیں

    قبل ازیں بنگلہ دیش میں طلبا تحریک کے رہنماؤں نے صدر محمد شہاب الدین کو پارلیمنٹ تحلیل کرنے کیلئے چند گھنٹوں کی مہلت دی تھی،برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش میں جاری تحریک کے دورا ن طلبا نے سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو پیغام میں کہا کہ وہ بنگلہ دیش میں آگ لگانے کے واقعات اور فرقہ ورانہ تشدد کی مذمت کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کو تحریک کو ہائی جیک کرنے سے روکنا ہوگا،طلبہ نے بنگلادیشی صدر سے مطالبہ کیا کہ وہ 3 بجے تک پارلیمنٹ کو تحلیل کردیں اور ان کے دیے گئے ناموں پر مشتمل عبوری حکومت بنائی جائے، طلبہ نے عبوری حکومت کے لیے نوبیل انعام یافتہ ڈاکٹر یونس کا نام دیا ہے جب کہ دیگر نام آج دیے جائیں گے، بنگلہ دیش کے آرمی چیف بھی آج طلبہ رہنماؤں سے ملاقات کریں گے۔

    طلبا تحریک کے کوآرڈنیٹر محمد ناہد اسلام، آصف محمود اور ابوبکر مجومدار نے کہا ہے کہ محمد یونس بنگلہ دیش میں عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر ہوں گے .

    حسینہ کی حکومت کا تختہ الٹنے والے یہی نوجوان اب ملک کو درست سمت کی طرف لے کر جائیں گے، ڈاکٹر محمد یونس ن
    دوسری جانب بنگلہ دیش کے نوبیل انعام یافتہ ڈاکٹر محمد یونس نے حسینہ واجد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد ملک کو آزاد قرار دے دیا،ڈاکٹر یونس کا کہنا تھا کہ ملک میں جاری تشدد کے بعد شیخ حسینہ واجد کے خاتمے سے بنگلادیش اب ایک آزاد ملک ہے،جب تک حسینہ واجد ملک میں تھیں ہم ایک مقبوضہ ملک میں تھے کیونکہ وہ ایک مقبوضہ فورس، ڈکٹیٹر اور فوجی جنرل کی طرح رویہ رکھتی تھیں اور ہر ایک ایک چیز پر کنٹرول چاہتی تھیں لیکن آج بنگلادیش کا ہر شہری خود کو آزاد محسوس کررہا ہے،ملک میں مظاہرین کی جانب سے تشدد اور احتجاج شیخ حسینہ کے خلاف غصے کا اظہار تھا، شیخ حسینہ کی حکومت کا تختہ الٹنے والے یہی نوجوان اب ملک کو درست سمت کی طرف لے کر جائیں گے اور اس کی سربراہی کریں گے

    حسینہ واجد کی ساڑھی بیوی کو پہنا کر وزیراعظم بناؤں گا،شہری

    بنگلہ دیش میں ایک ماہ سے جاری پرتشدد مظاہروں اور ان میں سیکڑوں ہلاکتوں کے بعد بنگلادیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد استعفیٰ دے کر بھارت فرار ہوگئی ہیں،

    حسینہ واجد بھارت میں خفیہ،محفوظ مقام پر،لندن یا فن لینڈ جائیں گی

    شیخ حسینہ واجد کے بیٹے صجیب واجد نے والدہ کی سیاست کو خیر باد کہنے کی تصدیق کر دی

    شیخ حسینہ واجد نے استعفی دے کر ملک چھوڑ دیا 

    بنگلہ دیش،پاکستانی طلبا پھنس گئے، والدین کی وزیراعظم سے اپیل

    بنگلہ دیش: 105 افراد کی ہلاکت کے بعد کرفیو نافذ، فوج طلب کرلی گئی

  • حسینہ واجد بھارت میں خفیہ،محفوظ مقام پر،لندن یا فن لینڈ جائیں گی

    حسینہ واجد بھارت میں خفیہ،محفوظ مقام پر،لندن یا فن لینڈ جائیں گی

    بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم حسینہ واجد نےبرطانیہ میں سیاسی پناہ کی درخواست کر دی۔

    بھارتی اخبار دی ہندو کے مطابق حسینہ نے لندن میں سیاسی پناہ مانگی ہے، اطلاعات کے مطابق بھارت نے حسینہ واجد کو پناہ دینے سے انکار کر دیا تھا،وہ گزشتہ روز بنگلہ دیش سے فرار ہو کر بھارت پہنچی تھیں، بھارت میں اجیت دوول نے حسینہ واجد سے ملاقات کی تھی،حسینہ واجد کو خفیہ مقام پر بھارت میں رکھا گیا ہے، حسینہ واجد کی سیکورٹی بھی سخت کی گئی ہے،حسینہ واجد دہلی میں ہیں، اجیت دوول سے ملاقات کے بعد بھارتی وزیر خارجہ نے بھارتی وزیراعظم مودی کو ساری صورتحال سے آگاہ کیا تھا،حسینہ واجد کو لندن میں سیاسی پناہ کی اجازت مل گئی تو وہ بھارت سے لندن یا پھر فن لینڈ جائیں گی،حسینہ سے نئی دہلی میں اپنی بیٹی صائمہ واجد سے ملاقات کا بھی امکان ہے، حسینہ واجد کا بیٹا امریکا میں ہے،

    بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم حسینہ واجد جب بنگلہ دیش سے فرار ہوئیں اس وقت مظاہرین حسینہ واجد کے گھر میں گھس چکے تھے، مظاہرین نے حسینہ واجد کے گھر میں موجود سامان کو مال غنیمت سمجھ کر اٹھایا جس کے ہاتھ میں جو آیا ساتھ لے کر گیا، شہریوں کی تصویریں بھی وائرل ہوئی ہیں جس میں شہریوں کے ہاتھوں میں مختلف سامان نظر آیا ہے، کوئی بکرا، کوئی بطخ، کوئی صوفہ سیٹ، کوئی قرآن مجید، حتیٰ کی حسینہ واجد کی ساڑھیاں بھی مظاہرین لے اڑے.

    حسینہ واجد کے مستعفی ہونے اور ملک سے فرار ہونے کے بعد صدر نے پارلیمنٹ تحلیل کردی ہے، بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے شیخ حسینہ کے ملک چھوڑنے کے چند گھنٹوں بعد ہی جنوری 2024 کے انتخابات کے بعد تشکیل پانے والی پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کا اعلان کردیا ہے،

    حسینہ حکومت کے خاتمے کے بعد مظاہرین نے جیسور میں عوامی لیگ کے ضلعی سیکرٹری جنرل شاہین چکلا دار کے ہوٹل کو بھی آگ لگا دی

    بنگلہ دیشن میں عبوری حکومت بنانی ہے تو اس کا خاکہ ہم دیں گے،طلبا رہنما
    بنگلہ دیش کے طالب علم رہنماؤں نے کہا ہے کہ فوج کی حمایت یافتہ حکومت قبول نہیں، ملک میں عبوری حکومت بنانی ہے تو اس کا خاکہ ہم دیں گے،بنگلہ دیش کے طلباء رہنماؤں ناہید اسلام، آصف محمود اور ابوبکر مازوم دار نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ عبوری حکومت کا خاکہ اگلے چوبیس گھنٹوں میں جاری کردیا جائے گا جو کہ نوبیل انعام یافتہ ڈاکٹر محمد یونس کے زیر قیادت ، طلبہ پہلے ہی ڈاکٹر یونس سے بات کرچکے ہیں اور انہوں نے عبوری حکومت میں کردار پر آمادگی ظاہر کردی ہے، دیگر آج دیے جائیں گے،عبوری قومی حکومت میں سول سوسائٹی سمیت سب کی نمائندگی یقینی ہوگی۔دوسری جانب ڈاکٹر محمد یونس کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ شیخ حسینہ واجد نے شیخ مجیب الرحمان کی میراث تباہ کردی تھی، بنگلہ دیش اب آزاد ہوگیا ہے

    بنگلہ دیش کی فوج نے آج سے ملک میں کرفیو اٹھانے اور تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان کر دیا ہے،بنگلہ دیش میں آج صبح اسکول کھل گئے ہیں تاہم کلاس رومز خالی ہیں،اساتذہ تعلیمی اداروں میں پہنچ گئے لیکن طلبا نہیں پہنچے،

    بنگلہ دیشی عوام اقوام متحدہ کے زیرِ قیادت مکمل اور آزاد تحقیقات کے مستحق ہیں،برطانیہ
    برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے بنگلہ دیش کے حالات کا اقوام متحدہ کے تحت تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے،برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیشی عوام اقوام متحدہ کے زیرِ قیادت مکمل اور آزاد تحقیقات کے مستحق ہیں، برطانیہ بنگلہ دیش کا پُرامن اور جمہوری مستقبل یقینی بنانے کیلئے اقدامات دیکھنا چاہتا ہے بنگلہ دیش میں تمام فریقین امن کی بحالی کیلئے، تشدد اور مزید ہلاکتیں روکنے میں تعاون کریں۔

    بنگلہ دیشی آرمی چیف کا چین کی جانب جھکاؤ ہے، حسینہ کو ایک برس قبل بتایا گیا تھا
    دوسری جانب بھارتی اخبار میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حسینہ واجد کو اس بات سے آگاہ کیا تھا کہ بنگلہ دیشی آرمی چیف کا چین کی جانب جھکاؤ ہے، بھارتی نیشنل سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ نے جون 2023ء میں حسینہ واجد کو آگاہ کیا تھا،بنگلہ ددیشی آرمی چیف نے مظاہرین کو روکنے کے بجائے وزیراعظم کو الٹی میٹم دیا، خالدہ ضیاء کی رہائی سے واضح ہے کہ اسلام پسند سیاست میں آگے آئیں گے۔

    حسینہ واجد سروسز چیف پر برسیں،سروسز چیفس نے "حسینہ” کو کیا کہا تھا؟
    حسینہ واجد بنگلہ دیش سے کیسے فرار ہوئیں اور آخری وقت میں کیا کرنا چاہتی تھیں بنگلہ دیش کے اخبار نے تفصیلات لکھی ہیں،بنگلہ دیش کے اخبار پروتم آلو کے مطابق حسینہ واجد مظاہرین کی خلاف طاقت کا استعمال کرنا چاہتی تھی اور انہوں نے پیر سے کرفیو اس وقت کرنے کے احکامات دیے تھے لیکن 9 بجے کے قریب مظاہرین نے کرفیو توڑنا شروع کر دیا اس پر حسینہ واجد نے تین سروسز چیف اور پولیس کے انسپیکٹر جنرل کو وزیراعظم ہاؤس میں طلب کیا،اجلاس کے دوران حسینہ واجد سروسز چیف پر برس پڑیں اور کہا کہ مظاہرین کے خلاف خاطرخواہ اقدامات نہیں کیے جا رہے ، بکتر بند گاڑیوں پر چڑھنے والے مظاہرین کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جا رہی،اس دوران سروسز چیف اور آئی جی نے حسینہ واجد کو سمجھانے کی کوشش کی کہ حالات کنٹرول سے باہر ہو گئے ہیں،اجلاس کے دوران حسینہ کا اپنے بیٹے سے بھی رابطہ ہوا اور انہوں نے والدہ کو سمجھایا،حسینہ واجد اقتدار فوج کے حوالے کرنے کو تیار نہیں تھی اور انہوں نے سروس سروسز چیف کو یاد دلایا کہ ان کی تقریریں انہوں نے ہی کی ہیں تاہم خاندان سے صلاح و مشورے کے بعد حسینہ واجد استعفی دینے کو تیار ہو گئیں
    ،اقتدار چھوڑنے سے پہلے وہ ایک تقریر ریکارڈ کرانا چاہتی تھیں لیکن حسینہ کو آگا کیا گیا کہ مظاہرین وزیراعظم ہاؤس کی طرف بڑھ رہے ہیں اور انہیں وہاں پہنچنے میں 45 منٹ سے زیادہ نہیں لگیں گے اگر مظاہرین پہنچ گئے تو حسینہ واجد کو بھاگنے کا موقع نہیں ملے گا۔

    بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کے قریبی افسران بھی بھارت جانے کےلیے بیتاب
    حسینہ واجد کے بھارت فرار ہونے کے بعد بنگلہ دیش میں ان سرکاری افسروں کی شامت آگئی ہے جو عوامی لیگ کے 15 سالہ اقتدار کے دوران حسینہ واجد کے قریب رہ کر مزے کرتے رہے، بھارتی میڈیا کے مطابق بنگلہ دیش کے شہری ایسے افسران کو تلاش کر رہے ہیں جو حسینہ واجد کے قریبی تھے،وہ افسران اپنی شناخت چھپا رہے ہیں اور کئی افسران نے حسینہ واجد کی طرح فی الفور بھارت جانے کا فیصلہ کیا ہے لیکن وہ نہیں جا سکتے کیونکہ بھارت نے سرحد بند کر دی ہے،کئی سرکاری افسران نے ڈھاکہ میں بھارتی ہائی کمیشن سے رابطہ کرکے استدعا کی ہے کہ پاسپورٹ یا ویزا نہ ہونے کی صورت میں بھی انہیں بھارت میں داخل ہونے دیا جائے کیونکہ اگر وہ اپنے ملک میں کسی ٹولے کے ہتھے چڑھ گئے تو زندہ نہیں بچیں گے،بنگلہ دیش کے اندر ڈھاکہ ایئر پورٹ بند ہے، پروازیں منسوخ کی جا چکی ہیں، ریلوے بھی بند ہے،

    نیویارک میں بنگلہ دیش کے قونصل خانے سے شیخ مجیب کی تصاویر مظاہرین نے ہٹا دیں
    شیخ حسینہ واجد کے خلاف بنگلہ دیش سے شروع ہونے والے مظاہرے امریکہ پہنچ گئے۔ رپورٹ کے مطابق خالدہ ضیا کی جماعت بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کے حامیوں نے نیویارک میں بنگلہ دیش کے قونصل خانے پر دھاوا بول دیا۔ مظاہرین نے عمارت سے شیخ مجیب الرحمان کی تصاویر ہٹا دیں۔ قونصل خانے کا عملہ مظاہرین کو روکنے میں ناکام رہا۔

    بنگلہ دیش کے سابق وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ملک سے فرار کی ناکام کوشش ،گرفتار کر لیا گیا
    ڈھاکا:بنگلہ دیش کے سابق وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ملک سے فرار کی ناکام کوشش ہو گئی ہے،سابق وزیر کو ڈھاکا ایئرپورٹ پر حراست میں لے لیا گیا،محمد حسن محمود کو بنگلہ دیش کی فوج نے پرواز میں ملک سے فرار ہونے کی کوشش کرتے ہوئے گرفتار کر لیا ، وہ دوسرے ہائی پروفائل وزیر ہیں جنہیں آج گرفتار کیا گیا ہے۔ بنگلہ دیش پولیس کے ایک متنازعہ ڈی آئی جی کو بھی آج پہلے فوج نے حراست میں لے لیا تھا۔

    شیخ حسینہ واجد کے بیٹے صجیب واجد نے والدہ کی سیاست کو خیر باد کہنے کی تصدیق کر دی

    شیخ حسینہ واجد نے استعفی دے کر ملک چھوڑ دیا 

    بنگلہ دیش،پاکستانی طلبا پھنس گئے، والدین کی وزیراعظم سے اپیل

    بنگلہ دیش: 105 افراد کی ہلاکت کے بعد کرفیو نافذ، فوج طلب کرلی گئی

  • بنگلہ دیش،طلبا کی سول نافرمانی تحریک،100 ہلاکتیں،ہزاروں گرفتار

    بنگلہ دیش،طلبا کی سول نافرمانی تحریک،100 ہلاکتیں،ہزاروں گرفتار

    بنگلہ دیش میں کوٹی سسٹم مخالف طلبا کی جانب سے سول نافرمانی تحریک کے اعلان کے بعد ہونے والے پرتشدد احتجاج میں ہلاکتوں کی تعداد 100 ہو گئی ہے

    میڈیا رپورٹس کے مطابق بنگلہ دیش میں سول نافرمانی کی تحریک چلانے والے طلبا نے بنگلہ وزیراعظم حسینہ واجد سے مستعفی‌ہونے کا مطالبہ کیا ہے اور سخت ترین کرفیو ہونے کے باوجود ڈھاکہ کی طرف مارچ کا اعلان کیا ہے،طلباکے ساتھ جھڑپوں میں اب تک 100 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، ڈاکٹرز اور پولیس نے ان ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے،پولیس اور مظاہرین کے درمیان تازہ جھڑپیں بھی ہوئیں جن میں پولیس نے آنسو گیس اور دیگر ہلکے ہتھیاروں کا استعمال کیا جس میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں، حکام نے کرفیو والے علاقوں میں انٹرنیٹ بھی بند کردیا ہے اور ایک ہفتے میں کم ازکم 11 ہزار افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے

    اتوار کے روز دارالحکومت ڈھاکا اور شمالی اضلاع میں ہلاکتیں ہوئیں جب کہ پولیس حکام کا بتانا ہےکہ مظاہرین نے سراج گنج کے علاقے میں پولیس پر بھی حملہ کیا کوٹہ سسٹم کے خلاف جولائی سے شروع ہونے والے احتجاج میں پرتشدد واقعات کے نتیجے میں اب تک سینکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں

    ملکی صورتحال پر بنگلہ دیشی وزیراعظم حسینہ واجد کا کہنا ہے کہ جو لوگ احتجاج کے نام پر یہ سب تباہی کررہے ہیں وہ طالب علم نہیں جرائم پیشہ افراد ہیں، عوام کو ان کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنا چاہیے ،

    بھارت کا پڑوسی ملک شیخ حسینہ حکومت کے استعفے کے مطالبے پر بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ جب حکمران عوامی لیگ نے بنگلہ دیش میں استحکام بحال کرنے کے لیے مظاہرین کو دبانے کی کوشش کی تو پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جس میں ایک کے بعد ایک ہلاکتیں ہوئیں۔ بنگلہ دیش میں آخری اطلاعات تک 100 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ مرنے والوں میں 14 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ اتوار کو مرنے والوں کی تعداد 98 سے بڑھ کر پیر کی صبح 100 سے زیادہ ہو گئی۔ کئی زخمی بھی ہوئے۔

    مظاہروں کو روکنے کے لیے پیر سے بدھ تک ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔ عوامی حکومت نے کہا کہ یہ فیصلہ ملک کے عوام کے تحفظ کے لیے ہے۔طلبہ کی اس تحریک کو ’’مارچ ٹو ڈھاکہ‘‘ کا نام دیا گیا۔ ان کا واحد مطالبہ شیخ حسینہ حکومت کا استعفیٰ ہے۔اتفاق سے بنگلہ دیش یونیورسٹی ٹیچرز یونین بھی شیخ حسینہ حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرے گی۔ یونیورسٹی ٹیچرز یونین کا مطالبہ ہے کہ شیخ حسینہ کی حکومت مستعفی ہو کر ذمہ داری داخلی حکومت کو سونپے۔

    دوسری جانب بنگلہ دیش میں امن وامان کی ابتر صورتحال کے حوالے سے بنگلادیش میں پاکستانی ہائی کمشنر سید احمد معروف کا کہنا ہے کہ بدلتی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، پاکستانی شہریوں کی حفاظت ہمارا اولین فرض ہے، اپنے شہریوں خصوصاً زیر تعلیم طلبہ سے مسلسل رابطے میں ہیں، ہائی کمیشن کے حکام بنگلا دیش کی انتظامیہ سے بھی رابطے میں ہیں، بدلتی صورتحال سے طلبہ و طالبات کو بھی مسلسل آگاہ رکھا جارہا ہے، صورتحال خراب ہونا شروع ہوئی تو طلبا کو فوری ہائی کمیشن پہنچنےکا کہا ہےجو طلبہ ہائی کمیشن نہیں پہنچ سکے ان کے ساتھ ٹیلیفون پر رابطہ ہے، پاکستانی طلبہ سے کہا ہےکہ اپنے کمروں تک محدود رہیں، پاکستانی طلبہ موجودہ صورتحال سے اپنے آپ کو الگ رکھیں بنگلہ دیش میں زیر تعلیم 144 طلبہ میں سے ایک تہائی پہلے ہی وطن واپس پہنچ چکے ہیں،

    بنگلہ دیش،پاکستانی طلبا پھنس گئے، والدین کی وزیراعظم سے اپیل

    بنگلہ دیش: 105 افراد کی ہلاکت کے بعد کرفیو نافذ، فوج طلب کرلی گئی

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے بھی پرامن مظاہرین کے خلاف تشدد کی مذمت کی ہے،

     بنگلہ دیش میں یونیورسٹیوں کو غیر معینہ مدت کے لئے مدت کر دیا گیا 

  • دہلی،بارشی پانی سے تہہ خانے میں تین طلبا کی موت،کوچنگ سنٹر کا مالک گرفتار

    دہلی،بارشی پانی سے تہہ خانے میں تین طلبا کی موت،کوچنگ سنٹر کا مالک گرفتار

    بھارت میں شدید بارش، کوچنگ سنٹر میں پانی بھر جانے سے دو خواتین طلبا سمیت تین ہلاک ہو گئے ہیں

    واقعہ دہلی میں پیش آیا،دہلی کے علاقے اولڈ راجندرنگر میں کوچنگ سنٹر کے تہہ خانے میں پانی جمع ہونے سے تین طلبا کی موت ہو گئی ہے، طلبا خود کو پانی سے نکالنے کی کوشش کر تے رہے لیکن انہیں ناکامی ہوئی،واقعہ ہفتہ کی شب پیش آیا، طلبا جب کوچنگ سنٹر آئے تو وہ بے خبر تھے کہ یہاں کیا ہونے والا ہے،اچانک بارش ہوئی اور بارشی پانی تہہ خانے میں داخل ہو گیا،اس دوران کچھ طلبا تہہ خانے سے باہر نکل آئے اور کچھ پھنس گئے، جب پانی تہہ خانے میں گیا تو 30 سے 35 طلبا موجود تھے، اسی دوران ایک گاڑی گزری ،سڑک پر تین فٹ سے زیادہ پانی تھا، گاڑی گزرنے سے پانی شدید تیزی کے ساتھ تہہ خانے میں بھرنا شروع ہو گیا،موقع پر موجود طلبا کا کہنا تھاکہ پانی داخل ہونے سے کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے تھے، پانی داخل ہونے کی وجہ سے طلبا شدید پریشانی کا شکار ہوئے،جو نکل سکتے تھے وہ نکلے لیکن تین طلبا پھنس گئے، جن میں دو خواتین طلبا بھی شامل تھیں، انہوں نے پانی سے نکلنے کی کوشش کی، مدد مانگی لیکن کوئی مدد کو نہ پہنچ سکا اور تینوں کی موت ہو گئی.

    بھارتی میڈیا کے مطابق طلبا کو راؤ کوچنگ انسٹی ٹیوٹ سے ملحقہ عمارت کے تہہ خانوں میں پڑھایا جاتا ہے، وہاں لائبریری ہے ، طلباء 3500 روپے ممبر شپ فیس لی جاتی ہے لیکن وہاں حفاظتی انتظامات نہیں ہیں،تہہ خانے میں لائبریری کا صرف ایک دروازہ ہے۔ داخلہ فنگر پرنٹ کے ذریعے ہوتا ہے۔ بجلی کی خرابی یا کسی خرابی کی صورت میں ان دروازوں سے باہر نکلنا مشکل ہو جاتا ہے طلباء کو اے سی، وائی فائی جیسی چھوٹی سہولتوں کا لالچ دے کر موت کے منہ میں پہنچایا جاتا ہے

    واقعہ کے بعد راشٹریہ پرواسی منچ نے دہلی حکومت اور کوچنگ سینٹر کے مالکان کے خلاف دہلی ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے تو وہیں طلبا احتجاج کر رہے ہیں، دہلی پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے اور راؤ آئی اے ایس اسٹڈی سرکل کے مالک اور کوآرڈینیٹر کو گرفتار کر لیا ہے،تہہ خانے میں پانی بھرنے سے اتر پردیش سے تعلق رکھنے والی شرییا یادو، تلنگانہ کی تانیا سونی اور کیرالا کے نوین ڈالوِن کی موت نے طلبا کو مشتعل کردیا ،دہلی کی حکومت پر بارش کے نتیجے میں ہونے والی تباہ کاری سے نپٹنے کے موثر اقدامات نہ کرنے کا الزام عائد کیا جارہا ہے،دہلی کی حکومت نے طلبہ کے شدید احتجاج پر شہر بھر میں بیسمنٹ میں قائم 13 کوچنگ سینٹر سیل کردیے ہیں۔

    لاہور دا پاوا، اختر لاوا طویل لوڈ شیڈنگ اور مہنگے بجلی بلوں پر پھٹ پڑا

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    لاہور میں کئی علاقوں میں بجلی غائب،لیسکو حکام لمبی تان کر سو گئے

    ایک مکان کابجلی بل 10 ہزار،ادائیگی کیلیے بھائی لڑ پڑے،ایک قتل

    مہنگی بجلی، زیادہ تر آئی پی پیز پی ٹی آئی رہنماؤں کی ملکیت نکلیں

    4 آئی پی پیز کو بجلی کی پیداوار کے بغیر ماہانہ 10 ارب روپے دیے جا رہے ، گوہر اعجاز

    بجلی کا بل کوئی بھی ادا نہیں کرسکتا، ہر ایک کے لئے مصیبت بن چکا،نواز شریف

    حکومت ایمرجنسی ڈکلیئر کر کے بجلی کے بحران کو حل کرے۔مصطفیٰ کمال

    سرکاری بجلی گھر بھی کیپسٹی چارجز سے فائدہ اٹھا رہے ہیں،سابق وزیر تجارت کا انکشاف

    عوام پاکستان پارٹی کے جنرل سیکرٹری مفتاح اسماعیل کا وزیرا عظم سے بجلی کے معاملے پر نوٹس لینے کی اپیل

  • بنگلہ دیش،پاکستانی طلبا پھنس گئے، والدین کی وزیراعظم سے اپیل

    بنگلہ دیش،پاکستانی طلبا پھنس گئے، والدین کی وزیراعظم سے اپیل

    بنگلہ دیش میں کرفیو،احتجاج، کشیدہ صورتحال، پاکستانی طلبا بھی پھنس گئے، پاکستانی طلبا کے اہلخانہ نے وزیراعظم شہباز شریف سے مدد کی اپیل کی ہے

    بنگلہ دیش میں کشیدہ صورتحال کی وجہ سے پاکستان طلبا کے والدین پریشان ہیں، بنگلہ دیش میں کرفیو نافذ ہے، موبائل، انٹرنیٹ سروس بند ہے، رابطے نہ ہونے کی وجہ سے طلبا کے اہلخانہ پریشانی میں مبتلا ہیں، طلبا کے والدین نے پاکستانی وزیراعظم سے مدد کی اپیل کی ہے ،وزیراعظم کو لکھے گئے خط میں‌والدین کا کہنا تھا کہ ہمارے بچے سارک کوٹہ کے تحت بنگلہ دیش کےکالجوں میں زیر تعلیم ہیں، بنگلہ دیش بالخصوص ڈھاکا اور ملحقہ شہروں میں کرفیو نافذ ہے، بنگلہ دیشی حکومت نے تمام طلباء کو ہاسٹلز سے نکال دیا ہے، ہمارے بچے بنگلا دیش میں ہاسٹلز کے احاطے میں محصور ہیں ،پاکستانی طلبہ کی محفوظ اور جلد از جلد واپسی کو یقینی بنایا جائے، پاکستانی طلبہ کے لیےکھانے پینےکی اشیاء کا بندوبست کیا جائے، طلبہ سے رابطہ نہ ہونا اہلخانہ کے لیے افسوسناک اور تشویشناک ہے، طلبہ سے رابطہ یقینی بنایا جائے۔

    دوسری جانب ترجمان دفترخارجہ کا کہنا ہےکہ بنگلہ دیش میں تمام پاکستانی طلبہ محفوظ ہیں،ڈھاکا میں ہمارا مشن تمام طلبہ سے رابطے میں ہے، ہمارے ڈپٹی ہیڈ آف مشن نے چٹاگانگ کا دورہ کرکے طلبہ سے ملاقات کی ہے، ہائی کمیشن نے طلبہ کو محفوظ مقامات پر جگہ دی ہے، محفوظ مقامات میں سفیر کی رہائش گاہ اور کچھ دیگر مقامات شامل ہیں

    واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں سرکاری ملازمتوں کےکوٹہ سسٹم کے خلاف طلبہ کے احتجاج میں شدت آگئی ہے، احتجاج پر قابو پانے کے لیے ملک بھر میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے اور امن و امان کی خلاف ورزی کرنے والوں کو دیکھتے ہی گولی مارنےکا حکم دے دیا گیا ہے، 5 روز سے جاری پُرتشدد مظاہروں میں اموات کی تعداد 123 ہوگئی ہے

    ہفتے کے روز بنگلہ دیشی شہروں میں فوجی گشت کر رہے تھے تاکہ طلباء کے مظاہروں کی وجہ سے بڑھتی ہوئی شہری بدامنی کو روکا جا سکے، حکومتی کرفیو کی خلاف ورزی کرنے والے مظاہرین پر پولیس نے فائرنگ کی ہے،پولیس اور ہسپتالوں کی طرف سے رپورٹ کیے گئے متاثرین کی اے ایف پی کی گنتی کے مطابق، اس ہفتے کے تشدد میں اب تک کم از کم 123 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، اور 15 سال کے اقتدار میں رہنے کے بعد وزیر اعظم شیخ حسینہ کی آمرانہ حکومت کے لیے ایک یادگار چیلنج ہے۔

    بنگلہ دیش میں ایک سرکاری کرفیو آدھی رات کو نافذ ہوا اور وزیر اعظم کے دفتر نے اس وقت فوج تعینات کرنے کو کہا جب پولیس مظاہرین کو روکنے میں ناکام رہی،بنگلہ دیشن کی مسلح افواج کے ترجمان شہادت حسین نے اے ایف پی کو بتایا، "امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے فوج کو ملک بھر میں تعینات کیا گیا ہے۔”نجی نشریاتی ادارے چینل 24 نے رپورٹ کیا کہ کرفیو اتوار کی صبح 10:00 بجے (0400 GMT) تک نافذ رہے گا۔

    بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کی سڑکیں صبح کے وقت تقریباً سنسان ہو چکی تھیں، فوجی دستے پیدل اور بکتر بند گاڑیوں میں وسیع شہر میں گشت کر رہے تھے۔لیکن دن کے آخر میں رام پورہ کے رہائشی محلے میں ہزاروں لوگ سڑکوں پر لوٹ آئے، پولیس نے ہجوم پر فائرنگ کی اور کم از کم ایک شخص کو زخمی کر دیا۔52 سالہ مظاہرین نذر اسلام نے جائے وقوعہ پر اے ایف پی کو بتایا، "ہماری پیٹھ دیوار کی طرف ہے۔” "ملک میں انارکی چل رہی ہے… وہ لوگوں پر پرندوں کی طرح گولی چلا رہے ہیں۔”

    پولیس کے ترجمان فاروق حسین نے اے ایف پی کو بتایا کہ "لاکھوں افراد” نے جمعے کو دارالحکومت بھر میں پولیس سے لڑائی کی تھی۔ "کم از کم 150 پولیس افسران کو ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔”مظاہرین نے کئی پولیس بوتھوں کو نذر آتش کر دیا بہت سے سرکاری دفاتر کو نذر آتش کیا گیا اور توڑ پھوڑ کی گئی۔”

    ڈھاکہ میڈیکل کالج ہسپتال کے عملے نے اے ایف پی کو بتایا کہ ہفتے کے روز مزید دو پولیس اہلکار ہلاک ہوئے، جب کہ انتہائی نگہداشت میں داخل چار افراد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ڈھاکہ کے مضافات میں واقع صنعتی قصبے ساور میں دو اور مظاہرین مارے گئے، جو بنگلہ دیش کی ملبوسات کی برآمدات کا ایک بڑا مرکز ہے۔انعام میڈیکل کالج ہسپتال کے ترجمان زاہد الرحمان نے اے ایف پی کو بعد میں ہونے والی ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے مزید کہا کہ "نو افراد گولیوں کے زخموں کے ساتھ یہاں آئے”۔

    مظاہروں کو منظم کرنے والے مرکزی گروپ اسٹوڈنٹس اگینسٹ ڈسکریمیشن کے ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ جمعے سے اس کے دو رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    بنگلہ دیش کی وزیراعظم حسینہ نے اتوار کو ایک سفارتی دورے کے لیے روانہ ہونا تھا لیکن تشدد میں اضافے کی وجہ سے انہوں نے ایک ہفتے کے لئے منصوبہ موخر کر دیا، ان کے پریس سیکرٹری نعیم الاسلام خان نے اے ایف پی کو بتایا، "حسینہ نے موجودہ صورتحال کی وجہ سے اپنے اسپین اور برازیل کے دورے منسوخ کر دیے ہیں۔”

    بنگلہ دیش: 105 افراد کی ہلاکت کے بعد کرفیو نافذ، فوج طلب کرلی گئی

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے بھی پرامن مظاہرین کے خلاف تشدد کی مذمت کی ہے،

     بنگلہ دیش میں یونیورسٹیوں کو غیر معینہ مدت کے لئے مدت کر دیا گیا 

  • بنگلہ دیش، پرتشدد احتجاج،39 ہلاکتیں،25سو زخمی،ایک صحافی بھی مارا گیا

    بنگلہ دیش، پرتشدد احتجاج،39 ہلاکتیں،25سو زخمی،ایک صحافی بھی مارا گیا

    بنگلہ دیش میں کوٹہ سسٹم کے خلاف مظاہرے،جھڑپیں جاری،39افرادجاں بحق ہو گئے

    پولیس نےمظاہرین پر لاٹھی چارج اورشیلنگ کی ،25 سو سےزائد افرادزخمی ہو گئے ہیں، جاں بحق افراد میں ڈھاکہ ٹائمز کا صحافی بھی شامل ہے، مشتعل مظاہرین نے سرکاری ٹی وی کی عمارت کو آگ لگادی ،بنگلہ دیش میں تمام نیوز چینلز کی نشریات بند ، کمیونی کیشن بلیک آؤٹ کر دیا گیا،بنگلادیش میں تاحکم ثانی موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی،تعلیمی ادارے بند، بنگلہ دیش بھر میں سڑکیں اور ریلوے ٹریک بلاک کر دیئے گئے،مظاہرین نے ملازمتوں میں فوجی خاندانوں کے لیے 30 فیصد کوٹہ سسٹم ختم کرنے کا مطالبہ کیا، بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے مظاہرین کے مطالبات تسلیم کرنے سے انکار کر دیا،بنگلہ دیش میں 3 کروڑ سے زائد نوجوان بیروزگار ہیں،

    170 ملین کی آبادی والے ملک بنگلہ دیش کا باقی دنیا سے رابطہ منقطع ہوئے 8 گھنٹے گزر چکے ہیں۔ بنگلہ دیش میں حکام نے سیکورٹی فورسز اور طلباء کے درمیان پرتشدد جھڑپوں کے بعد پورے ملک میں سیلولر نیٹ ورک اور انٹرنیٹ سروس بند کر دی ہے، بنگلہ دیش میں سڑکوں پر لاٹھیوں، ڈنڈوں اور پتھروں کے ساتھ مظاہرین گھوم رہے ہیں،ریلوے، گاڑیاں بند کر دی گئی ہیں،

    بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ نے سرکاری ٹی وی پر خطاب کیا تو مظاہرین اور مشتعل ہو گئے، مظاہرین نے سرکاری ٹی وی کے دفتر کو جلا دیا، ڈھاکہ ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ان کا ایک رپورٹر مہندی حسن ڈھاکہ میں جھڑپوں کی کوریج کے دوران جاں بحق ہو گیا ہے، مظاہرین نے ڈھاکہ میں کینیڈا یونیورسٹی کے کیمپس میں بھی پرتشدد مظاہرہ کیا، یونیورسٹی کی چھت پر 60 پولیس اہلکار پھنسے ہوئے تھے جنہیں ہیلی کاپٹر کی مدد سے بچا یا گیا،

    اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بنگلہ دیش کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مظاہرین کو کسی بھی قسم کے خطرے یا تشدد کے خلاف تحفظ فراہم کرے،پرامن طریقے سے مظاہرہ کرنے کا اہل ہونا ایک بنیادی انسانی حق ہے اور حکومت کو ان حقوق کا تحفظ کرنا چاہیے،امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے بھی پرامن مظاہرین کے خلاف تشدد کی مذمت کی ہے،

    ٹرمپ پر حملہ،ایران پر الزام لگ گیا،ایران کی تردید

    اوہائیو،ریپبلکن نیشنل کنونشن کے باہر فائرنگ سےچاقو بردار شخص ہلاک

    گولی لگنے سے میرا کان کا حصہ کٹ گیا ،ٹرمپ

    ڈونلڈ ٹرمپ پر قائم مقدمہ عدالت نے کیا خارج

    ٹرمپ سے قبل کن اہم شخصیات پر ہوئے حملے؟

    ہمیشہ سے کہیں زیادہ اب متحد ہونے کی ضرورت ہے،ٹرمپ

    صدر مملکت اور وزیر اعظم کاسابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر انتخابی ریلی کے دوران حملے کی شدید مذمت

    انتخابات نہیں جیت سکتے، جوبائیڈن کو پیغام مل گیا

  • اوکاڑہ یونیورسٹی،غیر اخلاقی ویڈیو وائرل،  کیمرہ مین پر مقدمہ درج

    اوکاڑہ یونیورسٹی،غیر اخلاقی ویڈیو وائرل، کیمرہ مین پر مقدمہ درج

    اوکاڑہ یونیورسٹی کی چھت پر طالب علم جوڑے کی نازیبا ویڈیو وائرل ہونے کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے مقدمہ درج کروا دیا

    مقدمہ ڈپٹی رجسٹرار وقار کی مدعیت میں تھانہ سٹی رینالہ خورد میں مقدمہ درج کیا گیا،درج مقدمے میں کہا گیاکہ 12 جولائی کو اوکاڑہ یونیورسٹی کا طالب علم علی رضارولنمبر 1021 اور دو کیمرہ آپریٹر علی شان اے ایس سٹوڈیو اور سومیہ اور چند نامعلوم افراد بغیر اجازت یونیورسٹی میں آئے،اور ڈرون کیمرہ کے ذریعے باہمی مشاورت کے بعد غیر قانونی طور پر غیر اخلاقی ویڈیوز بنائیں،اور انہیں سوشل میڈیا پر وائرل کر دیا،جس کی وجہ سے نہ صرف اعلیٰ تعلیمی ادارے کا نام بدنام ہوا بلکہ طلبا و طالبات میں خوف و ہراس پھیل گیا،لہذا طالب علم علی رضا سمیت دیگر کے خلاف کاروائی کی جائے

    اوکاڑہ یونیورسٹی کے واقعہ کی ویڈیو اور تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی تھیں، صارفین نے مختلف تبصرے بھی کئے تھے، صحافی امجد حسین بخاری نے ایکس پر ایف آئی آر کی کاپی شیئر کرتے ہوئے کہا کہ اوکاڑہ یونیورسٹی میں غیر اخلاقی سرگرمیوں کی ڈرون کیمرے سے ویڈیو بنانے والے کیمرہ مین اور سٹوڈنٹ پر مقدمہ درج

    https://x.com/AmjadHBokhari/status/1814001637079548321

    ایک صارف ارسلان جٹ نے لکھا کہ عجیب ملک ہے جرم کرنے والے کو نہیں بلکہ جرم کرنے والے کو ایکسپوز کرنے پر ہی سزا ملتی ہے،،،یونیورسٹی آف اوکاڑہ میں جن سٹوڈنٹس نے غیر اخلاقی حرکت کی ان کی بجائے جس نے کیمرہ سے ویڈیو بنائی اسے یونیورسٹی سے نکال کر الٹا ایف آئی آر درج کروا دی گئی ہے

    ایک صارف نے لکھا کہ یونیورسٹی آف اوکاڑہ میں کرپشن، غیر اخلاقی حرکات، بلیک میلنگ اور آئس کی فروخت عروج پر رہتی ہے۔کیونکہ رینالہ خورد کا صحافتی مافیا ان کی پشت پناہی کرتا ہے۔پچھلے دنوں ایک جوڑے کی ویڈیو منظر عام پر آئی تھی یونیورسٹی انتظامیہ نے بجائے اپنی منجی تھلے ڈانگ پھیرنے کے ویڈیو بنانے والوں پر مقدمہ درج کروا دیا ہے۔ہے نا مزے کی بات؟اسے ذرا آگے پہنچائیں شاید کسی کے کان پر جوں رینگ ہی جائے

    صحافی جمیل فاروقی کہتے ہیں کہ سلام ہے اس بھائی کو جو یونیورسٹی آف اوکاڑہ کی چوٹی پہ "باجی جان ” کو انتہائی تندہی سے دانت صاف کرنے کا طریقہ بتا رہا ہے آپ خوامخواہ ہر بات میں کیڑے نکالتے ہیں ، میرے حساب سے ایک آدھ پرائیڈ آف پرفارمنس ادھر بھی ہوجائے

    بشریٰ بی بی کو زہر دے کر عمران خان کو جھکانے کی کوشش کی جارہی ہے،زرتاج گل

    کھانے میں زہر،کوئی ثبوت ہے؟ صحافی کے سوال پر بشریٰ بی بی "لال” ہو گئیں

    توشہ خانہ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطل 

    زلفی بخاری میری بیٹیوں کو کالز کرتا ہے، خاور مانیکا عدالت میں پھٹ پڑے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    عمران خان کا سوشل میڈیا اڈیالہ جیل سے ہی آپریٹ ہو رہا ،شرجیل میمن کا دعویٰ

  • بنگلہ دیش،پر تشدد مظاہروں میں چھ طلبا ہلاک،تعلیمی ادارے بندے

    بنگلہ دیش،پر تشدد مظاہروں میں چھ طلبا ہلاک،تعلیمی ادارے بندے

    بنگلہ دیش میں طلبا کا احتجاج شدت اختیار کر گیا،پرتشدد جھڑپوں کے دوران چھ طلبا ہلاک ہو گئے ہیں جنکی نماز جنازہ ادا کر دی گئی ہے، طلبا کی موت کے بعد بنگلہ دیش میں یونیورسٹیوں کو غیر معینہ مدت کے لئے مدت کر دیا گیا ہے

    پولیس کا کہنا ہے کہ سرکاری ملازمتوں کے کوٹے پر ہونے والے احتجاج کے درمیان حریف طلباء گروپوں میں پرتشدد جھڑپوں میں کم از کم 6 مظاہرین ہلاک ہو گئے،جبکہ سینکڑوں افراد زخمی ہوئے ہیں،یونیورسٹی کے طلباء کی حکمران عوامی لیگ کی حمایت کرنے والےاحتجاج مخالف مظاہرین کے ساتھ لاٹھیوں اور پتھروں سے لڑائی کے درمیان پولیس نے آنسو گیس استعمال کی اور اور ربڑ کی گولیاں چلائیں ، طلبہ نے اپنے ساتھیوں ہلاکت پر ریلوے اور بڑی شاہراہیں بلاک کر دی ہیں اور مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے،طلباء کا مطالبہ ہے کہ سرکاری نوکریاں میرٹ پر دی جائیں اور صرف 6 فیصد کوٹہ جو اقلیتوں اور معذور افراد کے لئے مختص ہے اسے برقرار رکھا جائے۔

    بنگلہ دیش میں مظاہرین کی پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں اب تک جن 6 چھ افراد کی موت ہوئی، ان کا تعلق ڈھاکہ، چٹاگانگ اور شمال مغربی رنگ پور سے ہے ،ہلاک ہونے والوں میں 3 طلبا بھی شامل ہیں۔ ریزرویشن کے خلاف زیادہ تر تحریکیں یونیورسٹی کیمپس میں چل رہی ہیں،یونیورسٹیوں کے اطراف پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے

    اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بنگلہ دیش کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مظاہرین کو کسی بھی قسم کے خطرے یا تشدد کے خلاف تحفظ فراہم کرے،پرامن طریقے سے مظاہرہ کرنے کا اہل ہونا ایک بنیادی انسانی حق ہے اور حکومت کو ان حقوق کا تحفظ کرنا چاہیے،امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے بھی پرامن مظاہرین کے خلاف تشدد کی مذمت کی ہے،

    بنگلہ دیش میں اس ماہ تقریبأ روزانہ ہونے والےمظاہروں میں کوٹہ سسٹم کے خاتمے کا مطالبہ کیا جارہاہے جس میں سول سروس کی نصف سے زیادہ پوسٹیں مخصوص گروپوں کے لیے ریزروڈ ہیں، جن میں پاکستان کے خلاف 1971 کی جنگ آزادی کے ہیروز کے بچے بھی شامل ہیں،

    چٹاگانگ میڈیکل کالج اسپتال کے ڈائریکٹر محمد تسلیم الدین نے اے ایف پی کو بتایا، تینوں کو گولیوں کے زخم آئے تھے، 35 زخمی ہسپتال لائے گئے ہیں،

    انسپکٹر بچو میا نے اے ایف پی کو بتایا کہ ڈھاکہ کالج کے باہر ایک طالب علم کو ہلاک کر دیا گیا اور کم از کم 60 افراد زخمی ہوئے،منگل کو کچھ اہم شاہراہوں کو مظاہرین نے بلاک کر دیا، حکام نے ڈھاکہ اور چٹاگانگ سمیت پانچ بڑے شہروں میں نیم فوجی بنگلہ دیش بارڈر گارڈ (بی جی بی) فورس کو تعینات کر دیا ہے۔

    ناقدین کا کہنا ہے کہ اس اسکیم سے حکومت کے حامی گروپوں کے بچوں کو فائدہ ہوتا ہے جو 76 سالہ وزیر اعظم شیخ حسینہ کی پشت پناہی کرتے ہیں

    بدھ کو ڈھاکہ یونیورسٹی اور ملک کے دیگر مقامات پر مظاہرے ہوئے کیمپس میں پولیس تعینات تھی، جبکہ نیم فوجی سرحدی دستے ڈھاکہ اور دیگر بڑے شہروں کی سڑکوں پر گشت کر رہے تھے،کوٹہ سسٹم کو 2018 میں عارضی طور پر عدالتی حکم کے بعد روک دیا گیا تھا، جس کے بعد 2018 میں بڑے پیمانے پر طلباء کے احتجاج کی ایک لہر سامنے آئی تھی لیکن پچھلے مہینے، بنگلہ دیش کی ہائی کورٹ نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا،

    بنگلہ دیش میں پاکستانی طلبا کو اپنی حفاظت یقینی بنانے کی ہدایت
    دوسری جانب بنگلہ دیش میں احتجاج کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بیان جاری کیا ہے جس میں بنگلہ دیش میں مقیم طلبا کو کہا گیا ہے کہ وہ اپنی حفاظت یقینی بنائیں اور اپنے کمرو‌ں سے باہر نہ نکلیں،دفتر خارجہ کے مطابق پاکستانی ہائی کمیشن نے طلبہ کو اپنی حفاظت کے لیے ہر ممکن احتیاط برتنےاور احتجاج سے دور رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کیمپس میں رہنے والوں کو اپنے ہاسٹل کے کمروں میں رہنے کا مشورہ دیا ہے،وہیں پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بنگلہ دیش میں پاکستانیوں کی خیریت معلوم کرنے کے لیے بنگلہ دیش میں پاکستانی ہائی کمشنر سید معروف سے ٹیلی فون پر بات کی اور وہاں مقیم پاکستانیوں بالخصوص ڈھاکہ کے کیمپس میں مقیم طلبہ کی فلاح و بہبود کا خیال رکھنے کی ہدایت کی،سفیر سید معروف نے وزیر خارجہ کو سیکیورٹی کی صورتحال اور بنگلہ دیش میں پاکستانیوں کی خیریت کو یقینی بنانے کے لیے ہائی کمیشن کی جانب سے کیے گئے اقدامات سے آگاہ کیا اور کہا کہ سفارت خانے نے مصیبت میں مبتلا افراد کی سہولت کے لیے ایک ہیلپ لائن کھولی ہے،اسحاق ڈار نے پاکستان کے ہائی کمشنر کو بنگلہ دیش میں مقیم پاکستانیوں بالخصوص ڈھاکہ کے کیمپس میں مقیم طلبہ کی فلاح و بہبود کا خیال رکھنے کی ہدایت کی، انہوں نے سفیر سید معروف کو مشورہ دیا کہ وہ پاکستانی طلبہ کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مقامی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں رہیں۔

  • دینی مدارس کے طلبہ عصری تعلیم میں بھی بازی لے گئے

    دینی مدارس کے طلبہ عصری تعلیم میں بھی بازی لے گئے

    دینی مدارس کے طلبہ عصری تعلیم میں بھی بازی لے گئے،فیڈرل بورڈ میں اسلام آباد کے کسی سرکاری یا پرائیویٹ اسکول کی پوزیشن نہیں آئی صرف ایک پوزیشن دینی مدرسہ کے طالب علم نے حاصل کی، پوزیشن حاصل کرے والے مدرسہ ادارہ علوم اسلامی نے فیڈرل بورڈ میں پوزیشنز کی نصف سنچری کراس کرلی،ملتان بورڈ کی میٹرک کی تینوں پوزیشنیں بھی دینی مدارس کے طلبہ نے حاصل کیں،ساہیوال،راولپنڈی، بہاولپور سمیت دیگر علاقوں کے دینی مدارس کے طلبہ و طالبات بھی پوزیشن حاصل کرنے والوں میں شامل ہیں

    دینی مدارس کے محنتی اور باصلاحیت طلبہ عصری تعلیم میں بھی اسکولز کالجز کے طلبہ سے بازی لے گئے- فیڈرل بورڈ کی طرف سے جاری کردہ نتائج کے مطابق اسلام آباد شہر کے کسی بھی سرکاری یا پرائیویٹ اسکول کالج نے میٹرک میں پوزیشن حاصل نہیں کی سب پوزیشنز دیگر شہروں اور کینٹ ایریاز کے فیڈرل بورڈ سے ملحقہ اداروں کے حصے میں آئیں جبکہ اسلام آباد سے صرف ایک پوزیشن دینی مدرسہ ادارہ علوم اسلامی کے طالب علم محمد انس نے حاصل کی-محمد انس کی پوزیشن سے ادارہ علوم اسلامی کی فیڈرل بورڈ میں گزشتہ چند برسوں کے دوران حاصل کردہ پوزیشنز کی مجموعی تعداد 51 ہو گئی ہے یوں ادارہ علوم اسلامی نے فیڈرل بورڈ میں پوزیشن حاصل کرنے کا ریکارڈ برقرار رکھا اور نصف سنچری کا ہدف کراس کر لیا ہے-

    یاد رہے کہ ادارہ علومِ اسلامی وفاق المدارس العربیہ پاکستان سے ملحق دینی مدرسہ ہے جس کی بنیاد نامور عالم دین مفکر اسلام مولانا فیض الرحمن عثمانی نے رکھی تھی اور ان کی وفات کے بعد مولانا عبداللہ اقبال کی سربراہی میں منتظمہ کمیٹی اس ادارے کا انتظام و انصرام سنبھالے ہوئے ہے-صرف ادارہ علوم اسلامی ہی نہیں بلکہ اسلام آباد کے دیگر جن مدارس میں عصری تعلیم کا اہتمام ہے ان کے طلبہ نے بھی فیڈرل بورڈ میں امتیازی نمبروں سے کامیابی حاصل کی ہے-

    یاد رہے کہ ملتان بورڈ کے میٹرک آرٹس گروپ کی پہلی تینوں پوزیشنز بھی مدارس کے طلبہ نے حاصل کی ہیں جن میں سے پہلی پوزیشن وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظم اعلی مولانا محمد حنیف جالندھری کے ادارے جامعہ خیر المدارس ملتان کے طالب علم منصب ریاض نے جبکہ مولانا جالندھری کے قریبی عزیز مولانا قاری محمد طیب حنفی کے ادارے جامعہ حنفیہ بوریوالا کے دو طلبہ ذوہیب اصغر اور محمود احمد نے بالترتیب دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کی ہے-ملتان کے علاوہ ساہیوال اور دیگر اضلاع کے مدارس کے طلبہ نے بھی اپنے اپنے بورڈز میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے- صرف طلبہ ہی نہیں بلکہ اس دوڑ میں حافظات بچیوں کا نام بھی شامل ہے چنانچہ راولپنڈی بورڈ میں اقرا حفاظ سکندری اسکول آفندی کالونی کی حافظہ نائمہ فاروقی نے راولپنڈی بورڈ میں تیسری پوزیشن حاصل کی ہے جبکہ بہاولپور بورڈ میں مدرسة البنات صادق آباد کی عرفہ تقی نے دوسری پوزیشن حاصل کی ہے- ساہیوال بورڈ میں پہلی پوزیشن جامعة المدینہ کے طالب علم افضال نے،جامعہ دارالحدیث دیپالپور کے امیر حمزہ نے دوسری اور جامعة الفرقان اوکاڑہ کے محمد فیضان نے تیسری پوزیشن حاصل کی- بہاولپور بورڈ میں جامعہ صادقیہ عباسیہ کے طالب علم حافظ عبدالروف نے پہلی پوزیشن حاصل کی-

    واضح رہے کہ کچھ عرصے سے اکثر دینی مدارس نے اپنی مدد آپ کے تحت دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم کا سلسلہ بھی شروع کر رکھاہے اور تمام مدارس شاندار تعلیمی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کا مدارس کی طرف رجوع بہت بڑھ گیا ہے اور لوگ بچوں کو معیاری تعلیم کے ساتھ ساتھ مثالی ماحول اور دینی تربیت کے لیے مدارس اور دینی اداروں کا رخ کرنے لگے ہیں-

    وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظم اعلی مولانا محمد حنیف جالندھری کا کہنا ہے کہ دینی مدارس کے طلبہ کے ساتھ اگر امتیازی رویہ ختم کیا جائے اور انہیں تعلیم کے ساتھ ساتھ دیگر شعبہ جات میں بھی یکساں مواقع میسر آئیں تو وہ زندگی کے ہر شعبہ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرسکتے ہیں-مولانا جالندھری نے مختلف علاقوں کے بورڈز میں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ اور ان کے اداروں کے ذمہ داران کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے تمام مدارس کے منتظمین سے کہا ہے کہ وہ معیار تعلیم پر خصوصی توجہ دیں اور مزید بہتر سے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کریں-

    فیصلے سے ثابت ہوا کہ لاڈلہ ازم آج تک برقرار ہے ، شرجیل انعام میمن

    سپریم کورٹ فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کا چیف الیکشن کمشنر کیخلاف کاروائی کا مطالبہ

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں،پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں، سنی اتحاد کونسل کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    کچھ ججز دانا ہوں گے، میں اتنا دانا نہیں، پاکستان کو ایک بار آئین کے راستے پر چلنے دیں، چیف جسٹس

    نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟ چیف جسٹس

    انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے، جسٹس اطہر من اللہ

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ،ملک ایک اور آئینی بحران سے دوچار

    حکومت کو کوئی خطرہ نہیں،معاملہ تشریح سے آگے نکل گیا،وفاقی وزیر قانون

    سپریم کورٹ کا فیصلہ، سیاسی جماعتوں کا ردعمل،پی ٹی آئی خوش،حکومتی اتحاد پریشان

  • یونیورسٹی طلبا کی ساتھی طلبا کے ساتھ "بدفعلی” کی کوشش،مقدمہ درج

    یونیورسٹی طلبا کی ساتھی طلبا کے ساتھ "بدفعلی” کی کوشش،مقدمہ درج

    راولپنڈی، بارانی زرعی یونیورسٹی کے دو طلبا کے ساتھ جنسی زیادتی، بدفعلی، طلبا نے مقدمہ درج کروا دیا

    راولپنڈی کے تھانہ صادق آباد میں یونیورسٹی طالب علم عبدالرحمان کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا، درج مقدمہ میں کہا گیا کہ میں دوسرے سمسٹر کا طالب علم ہوں،چار جولائی کو رات دس بجے جناح ہاسٹل میں اپنے دوست عبداللہ کے ہمراہ موجود تھا،عبداللہ بھی دوسرے سمسٹر کا طالب علم ہے، اسی دوران انیب خان اور اسکا دوست منیب جو آٹھویں سمسٹر کے ہیں،زبردستی کمرے میں آئے اور ہمیں جنسی ہراساں کرنا شروع کر دیا،مجھے جنسی تعلق پر آمادہ کرنے لگے میں نے انکار کیا تودونوں نے تھپڑ مارے، انیب نے اپنی شلوا ر اتار کر اپنا نفس میرے ہاتھ میں پکڑا دیا،اور جان سے مارنے کی دھمکی دیتے ہوئے مجھ سے زبردستی مشت زنی کروائی،اور آئندہ بدفعلی کی دھمکی دی،ان دونوں نے میرے دوست عبداللہ کے ساتھ بھی یہی حرکت کی تھی لیکن وہ خاموش ہو گیا تھا،آئے روز یہ ہمیں دھمکی دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ جنسی تعلق قائم کرو ورنہ بدنام کر دیں گے،ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے، پولیس نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے.

    دوسری جانب یونیورسٹی انتظامیہ نے معاملے کی تحقیقات کے لیے 5 رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دی ہے، انکوائری کمیٹی میں ڈاکٹر عرفان یوسف، یاسر حفیظ، طارق مختار، بدر نسیم اور غلام حسین بابر شامل ہیں،انکوائری کمیٹی 7 روز میں رپورٹ یونیورسٹی انتظامیہ کو پیش کرے گی اور انکوائری کمیٹی کی سفارشات پر طالبعلموں کو بلیک لسٹ اور یونیورسٹی سے فارغ کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

    بچے سے بدفعلی،مولانا کی رہائی کیخلاف پولیس کا عدالت جانےکا فیصلہ

    بچے سے بدفعلی کی کوشش، غیر قانونی پنچایتوں کا دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا،پولیس

    اڈیالہ جیل میں قیدیوں کی ساتھی قیدی کے ساتھ بدفعلی،جان بھی لے لی

    چکوال،مدرسے کے دو اساتذہ کی 15 طلبا کے ساتھ بدفعلی

    معروف مدرسے کے مہتمم کی طالب علم کے ساتھ زیادتی 

    ناجائز تعلقات سے منع کرنے پر بیوی نے شوہر کو مردانہ صفت سے محروم کر دیا

    لاہورپولیس کا نیا کارنامہ،نوجوان کو برہنہ سڑکوں پر گھمایا، تشدد سے ہوئی موت

    خاتون کو غیرت کے نام پر قتل کرنے والے دوملزمان گرفتار

    واش روم میں نہاتی خاتون کی موبائل سے ویڈیو بنانے والا پولیس اہلکار پکڑا گیا

    گھناؤنا کام کرنیوالی خواتین پولیس کے ہتھے چڑھ گئیں

    پشاور کی سڑکوں پر شرٹ اتار کر گاڑی میں سفر کرنیوالی لڑکی کی ویڈیو وائرل

    دولہا کے سب ارمان مٹی میں مل گئے، دلہن نے کیوں کیا اچانک انکار؟