Baaghi TV

Tag: طلبہ تنظیم

  • جامعہ ملیہ اسلامیہ میں  آر ایس ایس سے وابستہ تنظیموں کے پروگرام کیخلاف طلبہ کی جانب سے احتجاج

    جامعہ ملیہ اسلامیہ میں آر ایس ایس سے وابستہ تنظیموں کے پروگرام کیخلاف طلبہ کی جانب سے احتجاج

    جامعہ ملیہ اسلامیہ (JMI) میں آر ایس ایس (RSS) سے وابستہ تنظیموں کے پروگرام کے خلاف طلبہ کی جانب سے احتجاج کی خبریں سامنے آئی ہیں۔

    آر ایس ایس نے آج منگل کو جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی میں ‘یووا کمبھ’ (یوتھ کنکلیو) کا انعقاد کیا ہے۔ اس پروگرام کے خلاف کئی طلبہ تنظیمیں احتجاج کررہی ہیں۔ طلبہ نے یونیورسٹی کیمپس میں احتجاج کیا۔ این ایس یو آئی سے وابستہ طلبہ نے اس تقریب کے خلاف زبردست مظاہرہ کیا۔

    (آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن) جامعہ ملیہ اسلامیہ میں AISA اور دیگر ترقی پسند طلبہ تنظیموں نے یونیورسٹی میں آر ایس ایس کی موجودگی کی سختی سے مخالفت کرتے ہوئے کیمپس میں منعقدہ "یووا کمبھ” کے عنوان سے آر ایس ایس کے پروگرام کے خلاف احتجاج کیا ہے

    اے آئی ایس اے نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ آر ایس ایس اس بینر تلے مختلف یونیورسٹیوں میں اس طرح کی تقریبات کا انعقاد کرتی ہے، جو قوم کی تعمیر اور ترقی کے سو سال کی میراث کا دعویٰ کرتی ہے۔ اے آئی ایس اے نے دلیل دی کہ آر ایس ایس – جس نے آزادی کی جدوجہد میں کوئی کردار ادا نہیں کیا اور یہاں تک کہ انگریزوں کے ساتھ کھل کر تعاون کیا – آج صرف اپنی طاقت کو مستحکم کرنے کے لیے "قوم پرستی کا کارڈ” کھیل رہی ہے بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ہمارے شہیدوں اور آزادی کے جنگجوؤں کی وراثت – جنہوں نے ایک جمہوری، سیکولر ہندوستان کے لیے جدوجہد کی – آج آر ایس ایس کے خلاف متحد ہے، چاہے وہ جامعہ میں ہو یا کہیں اور۔

    انہوں نے آر ایس ایس کو کھلی دعوت دینے پر جامعہ کی انتظامیہ پر بھی تنقید کی جبکہ مبینہ طور پر ترقی پسند گروپوں کو تعلیم، جمہوریت اور آئینی اقدار پر پروگرام منعقد کرنے کی اجازت دینے سے انکار کیا مظاہرین نے مزید دعویٰ کیا کہ آر ایس ایس فرقہ وارانہ ایجنڈے کو فروغ دیتا ہے جو کہ تفرقہ انگیز ہے اور اس لیے جامعہ ملیہ اسلامیہ یا کسی دوسرے تعلیمی ادارے میں اس کی کوئی جگہ نہیں ہے،احتجاجی طلبہ نے یونیورسٹی انتظامیہ سے کیمپس میں ایسی تنظیموں کی موجود گی پر روک لگانے اور جامعہ کی شناخت کو برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا

    احتجاج کے دوران، طلباء تنظیموں بشمول AISA اور دیگر طلباء تنظیموں نے نعرے لگائے اور اس تقریب اور اس کے پیغام رسانی کی مخالفت کرنے والے پوسٹرز آویزاں کیے، اس بات پر زور دیا کہ وہ کیمپس میں ایسے پروگراموں کی اجازت نہیں دیں گے انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ جہاں آزادی پسندوں نے ہندوستان کی آزادی کے لیے اپنی جانیں قربان کیں، ان کے مطابق آر ایس ایس نے قومی تحریک کے برعکس کام کیا۔

    صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے دہلی پولیس کے جوانوں کو جامعہ میں تعینات کیا گیا ہے سیکورٹی فورسز یونیورسٹی کے احاطے کے اندر اور باہر دونوں جگہ چوکسی برقرار رکھے ہوئے ہیں، جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے گیٹ نمبر ایک کے باہر دہلی پولیس اور ریپڈ ایکشن فورس (آر اے ایف) کے اہلکاروں کی ایک بڑی نفری کو تعینات کیا گیا ہے، جب کہ این ایس یو آئی کے طلباء یونیورسٹی کیمپس کے اندر احتجاج کرتے ہوئے دیکھے جا رہے ہیں۔

    دریں اثناء جامعہ انتظامیہ نے الزامات یا جاری احتجاج پر کوئی سرکاری ردعمل جاری نہیں کیا ہے مظاہرے جاری رہنے کے باعث کیمپس میں صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔

  • جامعہ کراچی میں طلبا کا مطالبات کے حق میں احتجاج جاری

    جامعہ کراچی میں طلبا کا مطالبات کے حق میں احتجاج جاری

    جامعہ کراچی میں طلبہ تنظیم کی جانب سے اسٹوڈنٹس کو درپیش مسائل پر چھٹے روز بھی شیخ الجامعہ کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرہ جامعہ میں بھاری فیسیں، پوائنٹس کی کمی، اور بنیادی سہولیات کے فقدان کے باعث کیا گیا۔

    طلباوطلبات نے احتجاج کرتے ہوئے اپنے مطالبات کے ساتھ وی سی آفس کے باہر دھرنا دے دیا اور شدید نعرے بازی کی، طلبہ تنظیم کے رہنماؤں نے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی سے مذاکرات کیے جو کہ جزوی طور پر قبول کیے گئے جبکہ طلبہ تنظیم نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور احتجاج کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے کل جامعہ میں سرکاری دفاتر کے کام بند کرنے کی دھمکی دے دی۔اسلامی جمعیت طلبہ اور طلبہ الائنس جامعہ کراچی کی جانب سے طلباوطلبات نے چھٹے روز بھی وی سی آفس کے باہر بھرپور احتجاج کیا اور شدید نعرے بازی کی، اس سے قبل طلبہ نے احتجاج کے دوران پوائنٹس روک دیے جس سے طلباوطلبات کو پریشانی کا سامنا ہوا۔مظاہرین نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے واپسی کے پوائنٹس کا آپریشن روک دیا جس کی وجہ سے طلبہ اپنے طور پر گھر پہنچے، مظاہرین کا کہنا تھا اب مزید خاموش نہیں رہا جائے گا اپنے حق کے لیے آواز اٹھائیں گے، ہاتھوں میں کلاسز کی ابتر صورتحال اور بھاری فیسوں کے خلاف بینرز اٹھا کر مظاہرین نے نعرے لگائے۔

    طلبہ رہنماؤں نے اپنا چارٹر آف ڈیمانڈ وائس چانسلر کو پیش کیا مذاکرات کے بعد طلبہ تنظیم نے اپنا موقف اختیار کیا کہ وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے جزوی طور پر مطالبات منظور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، لیٹ فیس میں پچاس فیصد اضافے والا مطالبہ ماننے سے انکار کردیا ہے ، مسئلے کا حل دینے کے بجائے حکومتی نمائندوں سے بات کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔آج جامعہ کراچی کی کینٹینز بند کی ہیں کل جامعہ کراچی کی ورکنگ نہیں ہونے دیں گے، انتظامیہ ہمیں مجبور نہ کرے جب تک ہمارے مطالبات منظور نہیں ہوتے ہم سراپا احتجاج رہیں گے۔مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ لیٹ فیس میں پچاس فیصد کا اضافہ سمیت امتحانات کی فیس کو فی الفور ختم کیا جائے، ری ایڈمیشن کے نام پر طلبہ سے پانچ ہزار روپے لیے جا رہے ہیں اس عمل کو ختم کیا جائے اور خستہ حال پوائنٹس کی فل فور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے۔

    بونیر میں پولیس وین کے قریب بم دھماکا، 4 اہلکار زخمی

    ڈی آئی خان،سکھر ائیرپورٹس منصوبے جلد از جلد شروع کئے جائیں، گورنر خیبرپختونخوا

    حکومت سندھ کی ڈاکٹر شاہنواز قتل کی تحقیقات کیلئے ہائی کورٹ سے باضابطہ درخواست