Baaghi TV

Tag: طلحہ سید نقوی

  • ایم بی بی ایس کی فیلڈ — طلحہ سید نقوی

    ایم بی بی ایس کی فیلڈ — طلحہ سید نقوی

    ایم بی بی ایس کی فیلڈ ابھی تک باقیوں سے بہت بہتر ہے لیکن فلفور اس میں ریفارمز آنے چاہیں

    ایک سال پہلے 500 سیٹ آئی پی پی ایس سی جس پے دس ہزار لوگوں نے اپلائی کیا ہاں اگر یہ سیٹ آپ انجنئیرنگ کو دیں تو یہاں پچیس ہزار اور اگر کیمسٹری وغیرہ کو دیں تو ایک ایک لاکھ تک لوگ اپلائی کریں گے۔۔۔

    لیکن مسئلہ دیکھیں پی پی ایس سی ان 11000 لوگوں کے انٹرویو لے رہا ہے ٹیسٹ کی کوئی پالیسی نہیں پرانے خیالات پے جی رہے جب 100 سیٹ پے اسی لوگ اپلائی کرتے تھے

    سیٹیں یہاں منصفانہ نہیں جا رہی جس کا اثر رسوخ ہے وہ لے رہا ہے اگر یہ سیٹیں آپ انجنئیرنگ کو دیں تو ہم بہت خوش ہوں کیونکہ ہم ان سیٹوں پے بھی سیلکٹ ہوئے جو 10 آئی اور 4000 لوگوں نے اپلائی کیا الحمدللہ میں نے بھی بہت بار ان سیٹوں پے نا صرف ٹیسٹ دیا بلکہ ٹاپ بھی کیا۔۔۔۔

    آپ کے کنگ ایڈورڈ کے گریجوایٹ غیر منصفانہ تقسیم سے مارے مارے پھر رہے جبکہ بیرون ممالک یا کم نمبروں والے لوگ سفارشات پے مستقل ملازمت لے کر جا رہے ہیں.

    ایڈہاک کی سیٹیں فلفور ختم ہونی چاہیے اسکی جگہ کنٹریکٹ لاگو ہونا چاہیے ایڈہاک کا بنیادی مقصد مستقل سیٹوں کو کسی ملازم سے فلفور بھرنا تھا اور 2004 اور 2006 کی پالیسی ہے ایڈہاک پے ملازمین کو اچھی تنخواہ دی جاتی تھی تگنی جبکہ اب دیکھا جائے ایڈہاک کے انٹرویو تھے 10 سیٹوں پے چھ سو لوگ بلائے ہوئے تھے یہاں تذلیل الگ غیر منصفانہ تقسیم الگ اسکے بعد ہر چھ ماہ بعد دوبارہ کی خواری رینیوو کرواتے الگ۔۔۔

    اسکو ختم کر کے کنٹریکٹ لایا جائے اور پورے پنجاب میں پنجاب لیول پے یا ہر ڈسٹرکٹ کے ذمے باقاعدہ ٹیسٹ انٹرویو لے کر جاب دی جائے 10 سیٹوں پے محض 50 لوگوں کا حق ہے اور پچاس بھی وہ جو قابل ترین ہوں۔۔۔۔

    اس وقت وائے ڈی اے و دیگران اپنے سروس سٹرکچر کے لیے بھی کوشاں نہیں سب مل جھل کر پرائیوٹ کالج چلانے میں مشغول ہیں اپنے اور رشتے داروں کی سفارشات میں۔۔۔۔

    تحریری طور پے یہ پیغام بہت جگہ پہنچا چکا ہوں کہ فوراً سے پہلے اگر ہم چاہتے ہیں ایم بی بی ایس بچ جائے تو ریفارمز کی فوراً ضرورت ہے وگرنہ آپ کریم آف نیشن کو تباہ کر رہے ہیں اور تباہ کرنے والے غیر نہیں انکی اپنی تنظیمیں ہیں.

    جنکے یہ نعرے لگاتے رہے ہیں کلاسوں سے نکلوا کر
    ” میرے کفن پے لکھنا وائے ڈی اے”

  • انجنئیرنگ کا عروج — طلحہ سید نقوی

    انجنئیرنگ کا عروج — طلحہ سید نقوی

    2010 تک ایم بی بی ایس ایک عام سی ہی ڈگری ہوا کرتی تھی باقی ڈگریوں کی طرح جبکہ انجنئیرنگ 2004-2005 تک ایک عام سی ڈگری تھی.

    پھر یک دم انجنئیرنگ کا عروج آیا کیونکہ انجنئیرز کو بیرون ممالک اور اپنے ملک میں ایسی نوکریاں ملی مشرف کے دور میں کہ انجنئیرز کا قحط پڑھ گیا بندے مل نہیں رہے تھے اور پھر لوگوں نے دیکھا کہ یہ فیلڈ کرنی چاہیے پیسہ ہی پیسہ ہے ہوا یہ کہ 2008 کے بعد سے ہر بندے نے پرائیویٹ کالج کھولنا شروع کیے پانچ سال 2008 سے 2013 تک انجنئیرنگ فل عروج پے رہی تاریخ کے بڑے بڑے انٹری ٹیسٹ ہوئے اتنی تعداد کبھی اس سے پہلے شامل نا ہوئی تھی اور پھر حالات بدلے وقت بدلا نوکریاں نا ملی انجنئیر بدنام ہوئے پرائیویٹ بزنس بند ہوئے کالجز میں ان ٹیک ختم ہونا شروع ہوئی 2017 کے بعد سے اب 2022 ہیں انجنئیرنگ کے تقریباً تمام پرائیویٹ کالج بند ہوچکے ہیں اور بڑی یونیورسٹی جیسے کامسٹ وغیرہ میں بھی داخلے کم ہیں سب پریشان ہیں۔۔۔۔

    اب اس فیلڈ کو پھر عروج آئے گا 2023 کے بعد 2030 تک ممکنہ طور پے فیلڈ اوپر جائے گی ۔۔۔۔۔

    اسی طرح میڈیکل 2010 تک ایک نارمل ڈگری تھی لیکن وقت بدلا انجنئیرنگ سے سارا رش اٹھ کے میڈیکل پے آنے لگا 2013 کے بعد عروج شروع ہوا اور 2017 تک تمام انجنئیرنگ کالج میڈیکل کالج میں بدلنا شروع ہوئے جن جن کے انجنئیرنگ کالج تھے انہوں نے ایم بی بی ایس نا کروا سکے تو الائیڈ ہیلتھ اور نرسنگ وغیرہ شروع کردی نتیجہ یہ نکلا کہ بزنس سارا شفٹ ہوگیا میڈیکل پے اور اسکے گریجویٹ 300٪ بڑھ گے جہاں 100 بچہ نکلتا تھا اب 400 نکلنے لگا اور اب صورتحال یہ ہے کہ پرائیویٹ میڈیکل کالجز دو تین سال بعد بند ہونا شروع ہو جائیں گے ۔۔۔۔۔

    جو اس وقت عروج ہے وہ ہے کمپیوٹر سائنس کا ہر گلی میں ہر گھر میں ایک ادارہ کھل رہا ہے جو کمپیوٹر سائنس کی ڈگری کروا رہا ہے اگلے دو سال بعد انتہائی زوال جو شروع ہونا ہے وہ کمپیوٹر گریجوایٹس کا ہے جنکے پاس ڈگری ہوگی پر فری لانسنگ کے لیے کوئی سکل نہیں مارکیٹ میں نوکریاں نہیں ہونگی فری لانسر کی مارکیٹ یہ خراب کریں گے سستے میں کام کر کے شدید مسائل اس فیلڈ کو آنے والے ہیں۔۔۔

    سمجھدار لوگ اپنے بچوں کو انجنئیرنگ میں داخل کروائیں ایف ایس سی پری انجنئیرنگ کروائیں کیونکہ اسکا پھر عروج آنے والا ہے ہاں البتہ میڈیکل ابھی اپنے زوال کو جائے گا جب پرائیویٹ کالج سسٹین نہیں کر پائیں گے وہ بند ہونگے لوگ داخلہ لینا چھوڑیں گے تو تقریباً 10 سے 12 سے آٹھ سال بعد ایک بار پھر اس فیلڈ کا عروج آئے گا۔۔۔۔

    فلوقت اگر کوئی والدین اپنی جائیداد بیچ کر بچے کو پرائیویٹ ایم بی بی ایس کروانا چاہتے ہیں تو ان والدین سے بے وقوف اس دنیا میں کوئی بھی نہیں ہے ۔۔۔۔۔

    انہیں شدید غورو فکر کی ضرورت ہے.