Baaghi TV

Tag: طلحہ ملک

  • بامقصد نشست معاشرتی ترقی کی ضمانت،تحریر:طلحہ ملک

    بامقصد نشست معاشرتی ترقی کی ضمانت،تحریر:طلحہ ملک

    ماضی قریب کی بات ہے کہ لوگ اپنے روز مرہ معاملات سے فارغ ہو کر شام میں مل بیٹھا کرتے اور دن بھر کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے دوست احباب سے خوش گپیاں لگاتے، اب کی نسبت بہت اچھا دور تھا لوگ زیادہ پڑھے لکھے بھی نہ تھے مگر سلجھی ہوئی گفتگو کرتے بہت سے لوگ اپنی ان بیٹھکوں سے بہت کچھ سیکھتے باہم مل بیٹھنے سے جن تجربات اور مشاہدات کو اخذ کرتے انہیں لکھ لیا کرتے یا بہتر خوبیوں کو زندگی میں ڈھال لیا کرتے یوں ان کی یہ بیٹھکیں ان کے لیے مفید ثابت ہوا کرتیں

    وقت نے ایک دم سے کروٹ لی اور موبائل انٹرنیٹ کا دور آیا فلموں ڈراموں سے بچوں نے جو سیکھا اسے اپنی زندگی کا حصہ بنا لیا چائے ڈھابے کی جگہ سینیما گھروں یا پان سگریٹ کے اڈوں نے لے لی دن بھر کی تھکان اتارنے کے مقصد سے کی جانے والی باتوں کی جگہ گالی گلوچ اور فحش گوئی نے لے لی۔ دیکھا جائے تو اس زمانے اور اُس زمانے میں بہت زیادہ گیپ موجود نہیں اگرچے ہم نے اُن ڈھابوں پر لگی با مقصد بیٹھکوں جس نے بہت سے ادیب و شعرا کو جنم دیا میں شمولیت اختیار نہیں کی مگر ابھی ایسے لوگ موجود ہیں جنہوں نے ایسی مجالس سے استفادہ کیا ہے اور اپنی کامیابی کا لوہا منوایا ہے مگر افسوس اس بات پر ہے کہ نوجوان نسل نے اپنا مقابلہ اپنے سے بہتر لوگوں کے ساتھ کرنے کے لیے روایات کو ترک کر کے مادیت کو پسند کیا اور عام سادے اور کچے گھروں میں رہنے والے نوجوان بھی اسی پان شاپ یا کسی ایسی جگہ پر بیٹھنا پسند کرتے ہیں جہاں ان کی پہنچ بھی بہ مشکل ہوتی ہے شوق نوابوں والے اور عادتیں خرابوں والی اپنا لیتے ہیں ان میں عام طور پر ایسے نوجوان موجود ہیں جن کے والدین مذہبی گھرانے سے تعلق ہونے پر فخر محسوس کرتے ہیں اور صاحبزادہ گھر سے باہر امیروں کی بیٹھکوں میں بیٹھ کر شیشہ پینے، گلیوں میں آوارہ گردی کرنے پان تھوکنے اور قہقہے لگانے میں فخر محسوس کرتا ہے۔

    اگرچے زمانہ بدل چکا ہے اور اس زمانے کے ساتھ ترقی کرنا بھی ضروری ہے مگر ایسا نہیں کہ آپ اچھی اور بُری مجلس کی سوجھ بوجھ ہی نہیں رکھتے ہر دور میں اچھائی اور برائی کے پہلو موجود رہے ہیں آج اگر پان شاپس، سنوکر، ویڈیو گیمز یا دیگر اڈے موجود ہیں تو وہیں بہت سی ایسی جگہیں بھی موجود ہیں جو نوجوانوں کے مستقبل کے لیے بہترین تربیت گاہ بن سکتی ہیں اگر ہم کتاب لائبریری یا ای لائبریری کی بات نہ بھی کریں تو وقت گزاری کے لیے آج بھی ہر شہر میں چائے ڈھابے موجود ہیں بلکہ ہم دیکھتے ہیں کہ گذشتہ کچھ عرصے سے اس کا رجہان بڑھتا جا رہا ہے یہ بات ایک طرف تو خوش آئند بھی ہے مگر کسی حد تک مایوس کن بھی کہ اگر چند لوگ بیٹھ کر اچھی گفتگو کر بھی رہے ہوں تو وہ جلدی وہاں سے محض اس لیے اٹھ کر چلے جاتے ہیں کہ قریبی میز پر اونچی آواز سے یا تو کوئی میوزک چلا لے گا یا گالی گلوچ اور فحش گوئی شروع ہو جائے گی وغیرہ

    اگر اب ایسی بیٹھکوں کا رواج عام ہو ہی رہا ہے تو ہمیں چاہیے کہ دیگر لغویات اور فضولیات کی بیٹھکوں کے عوض ان کو اپنا لیا جائے اور اکٹھے بیٹھ کر فضول مباحثے اور سیاست کی بجائے ملکی مفاد میں مثبت گفتگو کی جائے کاروبار کی بہتری کے لیے مشاورتیں کی جائیں ادب و آداب والی مجالس کو دوبارہ بحال کیا جائے تو کم از کم یہ جو چند سال کا خلا آیا ہے شاید یہ پُر ہو سکے

  • پاکستان کے با اثر حلقے میں دینی تربیت کا  فقدان، اس کا حل اور فوائد — طلحہ ملک

    پاکستان کے با اثر حلقے میں دینی تربیت کا فقدان، اس کا حل اور فوائد — طلحہ ملک

    پاکستان کی بنیادوں میں ایک بڑے مذہبی طبقے کا خون پسینہ موجود ہے تاریخ کے اُس موڑ پر جب بتوں کو پوجنے اور ایک اللہ کی عبادت کرنے والوں کے درمیان ایک بَرّی لکیر کھینچی گئی کہ جس کی زد میں آ کر بوڑھوں، بچوں،خواتین اور نوجوانوں نے ملک و قوم کے ایمان کی سلامتی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا یہ قربانیاں کہنے کو تو نا قابلِ فراموش ہیں مگر حقیقت ہے کہ انہیں بتدریج فراموش کیا جاتا رہا ہے ملک کو حاصل کرنے کے بنیادی نظریات، دینی اخلاقیات، قومی و ملی جذبات جب اگلی نسل میں منتقل ہوئے تو ان کی حدت ماند پڑ گئی، یہ نسل اسلام اور پاکستان کی اس حد تک اہمیت کو نہ سمجھ سکی کہ جس قدر اس سرزمین کو حاصل کرنے والے جانتے تھے یوں ہی یہ دوسری نسل بھی اب بزرگ یعنی با اثر ہوگئی۔

    کوئی اگر اپنے خاندان کا بزرگ ہے تو اس کی قائم کی گئی روایات اس کے مختصر خاندان پر لاگو ہو جاتی ہیں، کوئی علاقے اور برادری کی بااثر شخصیت ہے تو وہ اپنے رسوم و رواج کا اطلاق اپنے اس حلقے پر کرتا ہے، کسی بھی خاندان، حلقے، سرکاری و غیر سرکاری ادارے کے سربراہ کی بات بھی اس کی شخصیت کی طرح با اثر ہوتی ہے خواہ وہ غلط ہی کیوں نہ ہو! بقول واصف علی واصف “پیغمبر کی بات باتوں کی پیغمبر جبکہ بادشاہ کی غلطی غلطیوں کی بادشاہ ہوتی ہے” لہٰذا خاندان کے سربراہ کا تربیت یافتہ ہونا ایک پورے خاندان کے تربیت یافتہ ہوجانے کی نوید سناتا ہے۔۔ مگر افسوس کہ پاکستان میں دینی رجحانات کے حاملین ناپید ہوتے جا رہے ہیں جبکہ شرعی حدود پھلانکنے اور ہندوانہ رسمیں عام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ مثلاً شادی بیاہ کے مواقع پر ہندوانہ روایات کا اہتمام، یا پڑھے لکھے حلقے میں تلاوت نعت سے شروع ہونے والی تقاریب میں ناچ گانے، سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں سرِ عام رشوت وغیرہ ان شرعی جرائم کے چند بنیادی اجزاء میں شامل ہوتے ہیں۔

    اگر وقت یوں ہی گزرتا رہا اور کوئی راہنما شخصیت یا ادارہ ان با اثر سمجھی جانے والی شخصیات کی تربیت کے لیے نہ متحرک ہوا تو کہیں حقیقی با اثر شخصیات کی سخت گرفت نہ ہو جائے! ایسے افراد اور ادارے وقت کی اہم ضرورت ہیں کہ جو بزنس کلاس، اعلیٰ تعلیم یافتہ کلاس، چھوٹے بڑے سرکاری افسران اور خاندان کے بڑوں تک رسائی حاصل کر کے انہیں دینی تعلیمات و احکامات سے آگاہ کریں۔ اگرچہ ہم اپنے اطراف میں نظر دوڑائیں تو ہمیں چند ایک گِنے چُنے دینی ادارے نظر آتے ہیں کہ جو دینی تعلیمات عوام الناس تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں لیکن ایسے حالات میں عام نوجوانوں اور افسران بالا کی دینی تربیت کرنے والے اداروں کی اشد ضرورت ہے،

  • قاصدِ آشتی!!! — طلحہ ملک

    قاصدِ آشتی!!! — طلحہ ملک

    فضائی آلودگی؛نقصانات اور حل:

    آب و ہوا ہر جاندار کی زندگی کی ضمانت ہے آلودہ فضائی ماحول انسانوں کے لیے مضرِ صحت ہے ہوا کی آلودگی یعنی گندگی بعض اوقات تو پاک صاف علاقوں میں بھی واقع ہو جاتی ہے جس کی بنیادی وجہ موسمی تبدیلی ہوتی ہے عام طور پر ہر شخص کے مشاہدے میں یہ بات ہو گی کہ موسم کی تبدیلی خرابئ صحت کا باعث بنتی ہے تبدیلی کے اس مختصر عرصہ میں عموماً نزلہ زکام بخار اور گلا خراب جیسی شکایات ہر دوسرے فرد کو رہتی ہیں، فضائی آلودگی کی دیگر وجوہات میں ٹریفک کا دھواں، بھٹیوں کا دھواں، کارخانوں اور مِلوں کے زہریلے گیس وغیرہ شامل ہیں جو پلاسٹک، کچرا، ربڑ کے ٹائر اور دیگر ضائع مواد جلانے سے پیدا ہوتے ہیں۔

    یہ زہریلے گیس قدرتی ہوا میں شامل ہو کر فضاء کو آلودہ کر دیتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ حکومتوں کے بس میں ہو تو وہ سانس لینے پر بھی ٹیکس لگا دیں یہاں یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ یہ ٹیکس تو مِل مالکان عوام پر لگا ہی چکے ہیں جس میں حکومت برابر کی شریک ہے۔

    ہم ہسپتالوں کا جائزہ لیں تو یہاں مریضوں کی کُل تعداد کا نصف سے زائد حصہ فضائی آلودگی کی وجہ سے ان شفا خانوں کا مستقل گاہک ہے۔ اصل میں یہ کم علم غریب عوام حسبِ استطاعت اپنی سانس کا ٹیکس ادا کرنے قطاروں میں کھڑے، ویل چیئرز پر بیٹھے یا بے بس لیٹے ہوئے ہوتے ہیں۔

    فضائی آلودگی کے نقصانات سے حکومتی ادارے اور کارخانے دار لا علم تو نہیں مگر بے پرواہ ضرور ہیں۔ لیکن یاد دہانی عرض کیے دیتا ہوں کہ صحت کے عالمی اداروں کے مطابق مبینہ طور پر تمام بیماریوں کی بڑی وجہ فضا میں موجود زہریلے ذرات ہوتے ہیں کہ جن سے پھیپھڑوں کے کینسر اور دمے جیسے بڑے امراض سمیت اعصاب کی کمزوری دماغ پر برے اثرات جگر کے فیل ہونے اور چند چھوٹے امراض الٹی آنا، چکر آنا گلا خراب اور خشک کھانسی وغیرہ شامل ہیں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ ہر سال دنیا بھر میں صرف فضائی آلودگی کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد 70 لاکھ سے زائد ہے میری معلومات کے مطابق گذشتہ ایک دہائی میں پاکستان کے فضائی آلودگی والے شہروں میں ماہِ اکتوبر اور نومبر میں ہائی الرٹ اور ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے ان مہینوں میں موسمی تبدیلی تو خرابئ صحت کی بڑی وجہ بنتی ہی ہے مگر فیکٹریوں سے نکلنے والے دھوئیں اور ان سے پیدا ہونے والی زہریلی گیسیں صحت مند افراد کے لیے بھی مضر ثابت ہوتی ہیں اور شہر بھر کے اسپتالوں اور نجی کلینکس پر شہریوں کا جمِ غفیر موجود رہتا ہے ایسے حالات میں بے بس انتظامیہ روز اخبارات میں چند آلودگی پھیلانے والی فیکٹریوں کو سیل کرنے کی فوٹو لگا کر عوام الناس کے جذبات کو تسکین پہنچانے کی نیم کامیاب کوشش کرتی ہے مگر کارخانے دار چند روپیوں کے عوض غریب کے سانس پر ٹیکس لگانے کا اجازت نامہ دوبارہ حاصل کر لیتے ہیں اور پھر پورا سال آزادی سے انتظامیہ کی سرپرستی میں آلودگی پھیلانے کا کام بخوبی سر انجام دیتے ہیں۔

    یاد رہے یہ ایسے ملک کی حالت ہے کہ جنہیں اس بات کا بخوبی علم ہے کہ گذشتہ کچھ سالوں سے ان کا ملک دنیا بھر میں فضائی آلودگی میں اول یا دوم رہا ہے، کراچی، لاہور، گوجرانوالہ اور بہاولپور وغیرہ پاکستان کے نہیں بلکہ دنیا بھر کے آلودہ ترین شہروں میں شمار ہو جاتے ہیں کیا خوب ہو کہ قبل از وقت ان معاملات پر ایمرجنسی بنیادوں پر ان مشکلات کے حل کے لیے کام کر لیا جائے .

    چند سرکاری افسر جو اپنے فرائض کو انجام دینے کے لیے حکومتی حکم ناموں کا بھی انتظار نہیں کرتے ایسے لوگ آج بھی ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں اچھے آفیسرز اپنے فرائض پر کبھی کمپرومائز نہیں کرتے وہ مسئلے کا حل تلاش کرتے ہیں اور عمل درآمد کے لیے ہر ممکن کوشش کر جاتے ہیں۔

    ٹریفک پولیس بھی اگر ایمانداری کے ساتھ پورا سال لوگوں کو ذہریلے دھوئیں کے مضر اثرات سے آگاہ کرے اور خلاف ورزی کرنے والے کو مناسب جرمانہ کرے اسی طرح دیگر ایسے عوامل جو ماحول کی آلودگی کا سبب بن رہے ہیں حکومتی سطح پر اس کی آگاہی مہم پورا سال چلائی جائے اور عوام الناس کو درخت لگانے کے فوائد سے آگاہ کیا جائے، درخت لگانے کے لیے جا بجا سہولتیں دی جائیں اور ان لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جائے تو فضائی آلودگی کے شدید ترین نقصانات سے کافی حد تک بچا جا سکتا ہے جس میں بہر صورت عوام الناس کے تعاون کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔

  • 6 ستمبر 1965 کی مہمان نوازی — طلحہ ملک

    6 ستمبر 1965 کی مہمان نوازی — طلحہ ملک

    وتعز من تشاء وتذل من تشاء پر ایمان رکھنے والی قوم پر بے ایمان بے دین بد مذہب قوم کا یوں بھونڈے انداز میں حملہ آور ہونا ان کی ہمیشہ کے لیے ذلت اور ندامت کا باعث بن گیا۔ 6 ستمبر 1965 کا دن پاکستانیوں میں بحثیت قوم ایمان، اتحاد، تنظیم کا ایک بہترین نمونہ تھا اتنی بڑی فوج کا چھوٹی سی فوج پر اچانک حملہ آور ہونا اور پاکستان کو مکمل تیاری کے ساتھ چاروں طرف سے گھیرنے کا منصوبہ بنانا پاکستان کے وجود پر خدا نہ خواستہ کاری ضرب ثابت ہو سکتا تھا.

    دشمن بحری فوج کا مکمل تیاری کے ساتھ شکار کے قریب ترین پہنچنا، فضائیہ کا اپنے دشمن (پاکستان) پر کمان تان کر رکھنا اور برّی فوج کے اچانک پیٹھ پر وار کا فوری مقابلہ شاید صرف پاکستانی قوم ہی کر سکتی تھی کیونکہ اس قوم کے لیڈر نے اعلان کر دیا تھا کہ لا الہٰ پر ایمان رکھنے والو! آج تمہارے ایمان کا امتحان ہے “کلمے کا ورد کرتے جاؤ آگے بڑھتے جاؤ اور دشمن کو بتا دو کہ اس نے کس قوم کو پکارا ہے” پھر یوں ہوا کہ شہری اور دیہاتی، عام اور خاص ہر چھوٹا بڑا دشمن کے جنگی ہتھیاروں کی طرف بڑھتا گیا یہاں بعض کے ہاتھوں پر بندوقیں اور مختلف ہتھیار تھے مگر ایک ہتھیار تھا جو مشترکہ طور پر سب کے پاس موجود تھا وہ تھا دِل میں ایمان، یہی وجہ ہے کہ نہتے شہری بھی دشمن کی طرف یوں بڑھے کہ ان کے ہاتھوں میں اُن سے بڑے ہتھیار موجود ہیں.

    مگر جائزہ لیا جائے دشمن قوت کا تو ان کے پلید ارادے اتنے مضبوط تھے کہ اس روز ہندوستانی فوج کے متکبر کمانڈر انچیف نے اعلان کیا کہ وہ آج شام جیت کی خوشی میں لاہور کے جم خانہ میں شراب کی محفل سجائیں گے اس کے اس اعلان کے بعد دنیا کی سب سے بہترین میزبان قوم نے عالمی شہرتِ یافتہ مہمان نواز فوج کے ساتھ مل کر ایسی شراب پلائی کہ ان کے اکثر فوجی اس کے ذائقے کو طبیعت پر بوجھل محسوس کرتے ہوئے اپنے ناپاک عزائم کے ساتھ ہی واصلِ جہنم ہو گئے۔ مہمان نوازوں میں اساتذہ، طلبہ، علماء اور غیور شہریوں اور دیہاتیوں کی کثیر تعداد موجود تھی جب کہ فرنٹ پر لڑنے والے مجاہدوں نے شراب نوشی کے نشے میں دھت دشمن کے ناپاک ارادوں کو ناکام بناتے بناتے خود شہادت کا جام تک نوش کر لیا پاکستانی قوم، بحری و برّی فوج اور ائیر فورس کے نوجوانوں کے کارنامے ذکر کرنا چاہوں تو کسی ایک پر بھی لکھنے کا حق ادا نا کر سکوں.

    سب نے مل کر اپنے اپنے شعبے میں دشمن پر ایسا رعب طاری کیا کہ دشمن میلی آنکھ سے دیکھنے کا ارادہ بھی اس ڈر سے نہیں کرتا کہ اس کی آنکھ سلامت نہ رہے گی۔ پاکستان بحثیت قوم پوری دُنیا پر اپنی ایک الگ پہچان رکھتا ہے آزادی سے لے کر 2022 کے سیلاب تک پاکستان نے شدید تر آزمائشوں کا سامنا ایک مضبوط قوم بن کر کیا ہے۔

    جب بھی مصیبت آئے تو سب ایک ہو جاتے ہیں قائد کا یہی فرمان تھا اللہ پر ایمان، آپس میں اتحاد اور ایک منظم انداز میں چل کر ہم ہمیشہ کامیابی حاصل کر سکیں گے اور کبھی بھی ندامت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ پاکستانی قوم ہمیشہ میجر عزیز بھٹی، کیپٹن سرور، میجر طفیل، میجر اکرم، راشد منہاس، شبیر شریف، محمد حسین، نائک محمد محفوظ، شیر خان اور حوالدار لالک جان جیسے شہداء کی طرح اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیشہ تیار ہے.

    اور یاد رہے یہ قوم اللہ کی نصرت کے ساتھ ہر ناپاک ارداے کو مٹی میں ملانے کی طاقت رکھتی ہے اب جس کسی کو میلی نگاہ سے پاکستان کی طرف دیکھنا ہو وہ پہلے 6 ستمبر والی مہمان نوازی کا مطالعہ کرنے کی جسارت ضرور کرے۔

  • جو کچھ بھی تمہارے پاس ہے اسے بچا لو اسے ضائع مت کرو — طلحہ ملک

    جو کچھ بھی تمہارے پاس ہے اسے بچا لو اسے ضائع مت کرو — طلحہ ملک

    گذشتہ دو تین برس سے پاکستان کو سخت ترین مشکلات کا سامنا ہے کبھی عالمی وباء کی مشکلات تو کبھی قحط سالی کی کیفیت نے پاکستان کو جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے ملک بھر میں مڈل کلاس کا معاشی مشکلات نے گھیرا تنگ کر رکھا ہے جبکہ آپ اور میں اس بات سے واقف ہیں کہ پاکستان کے بہت بڑے علاقے اس وقت شدید پانی کی لپیٹ میں ہیں سیلاب سے ملک کے بڑے اہم ترین علاقوں میں تباہی کی ایسی تاریخ رقم ہو رہی ہے کہ کوئی نیک دِل اس تاریخ کا مطالعہ شروع کر دے تو اس کا دِل پھٹ جائے۔۔

    اس تاریخ میں وہ پڑھے گا کہ ایک طبی کیمپ جو قحط زدہ علاقے میں لگایا گیا تھا سے ایک بھوکے شخص نے آ کر ادویات کو کھانا سمجھ کر پیٹ بھرنے کی خاطر کھایا تھا۔ اگر اس قاری میں آگے پڑھنے کی ہمت ہوئی تو وہ یہ بھی جانے گا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندان بھوک کے لیے بِلک رہا تھا کسی امیر زادے کے وہاں پہنچنے پر یہاں ایک روتی ہوئی بچی سے سوال کیا گیا کیا چاہیے بیٹا! بتاؤ جو مانگو گی ملے گا۔۔

    سسکیوں اور آہوں میں دس سیکنڈ بعد دو جھٹکوں میں آواز نکلی رو-ٹی

    آہ۔۔ یہ وہ قوم تھی جس کے قومی شاعر نے کہا تھا
    اخوت اس کو کہتے ہیں چبھے کانٹا جو کابل میں
    تو ہندوستاں کا ہر پیر و جواں بیتاب ہو جائے

    مؤرخ سیاسی لیڈروں کا کردار لکھے گا تو وہ اپنی قوم کو بتائے گا کہ کرسی کی جنگ معمول کے مطابق جاری تھی اقتدار کے لئے الیکشنز کی کمپین اور جلسے جلوس کی بھرمار تھی۔۔

    وہ ملاں جن کی دوڑ مسیت تک تھی پھر وہی اپنے چند نیک دل ساتھیوں کے ساتھ حکومت کے علاوہ وہاں بے سہاروں کے لیے کار ہائے نمایاں سر انجام دے رہے تھے۔۔

    مصنف حالِ دل بیان کرے گا کہ بھوکے کے پیٹ تک کھانا بعد میں پہنچتا تھا مگر اس کی تصویر انٹرنیٹ پر پہلے وائرل کر دی جاتی تھی۔۔

    جس دین نے ایثار کا جذبہ سکھایا تھا اس نے یہ بھی بتایا تھا کہ ابو طلحہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اگر بھوکے مہمان کو کھانا کھلایا تھا تو اسے یہ بھی محسوس نہیں ہونے دیا کہ خود ابو طلحہ بھوکے رہ گئے ہیں۔۔ وہاں کوئی نہ تھا جسے انہوں نے خوش کرنا تھا مگر اللہ تو عرش پر بیٹھا ہی راضی ہو گیا تھا اس نے رہتی دُنیا تک کے لوگوں کو بتا دیا کہ “یہ لوگ اپنی جانوں پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ خود بھوکے رہ جائیں”

    میں اگر اچھے بستر پر آرام سے سونے لگوں تو میرے سامنے وہ کھلے آسمان تلے بیٹھے لوگوں کے چہرے کیوں نہیں آتے! میں کیوں ان کی اس بے چینی کو محسوس نہیں کر پاتا جو رات کو وہ سوتے وقت محسوس کرتے ہیں کہ ان کے پاس رہنے کے لیے جو ایک چھت تھی وہ تباہ ہو چکی۔ میرے حلق سے عمدہ کھانے کیسے اتر رہے ہیں کہ میرے بھائی وہاں بے یار و مددگار بھوکے ایک وقت کی روٹی کی آس لگائے بیٹھے ہیں
    مجھے اس بچی کی سسکیوں بھری آواز میں روٹی کا مطالبہ کرتے ہوئے الفاط بھی کیسے زندہ رکھے ہوئے ہیں۔۔ مجھے اور آپ کو کائنات کی جس ہستئ مقدس نے تربیت دی ہے وہ تو خود بھوکے رہ کر اوروں کو کھلاتے تھے اور فرماتے تھے جو دے دیا ہے وہی بچا لیا ہے۔۔
    تو میرے پیارے عزیزو! وقت ہے جو کچھ بھی تمہارے پاس ہے اسے بچا لو اسے ضائع مت کرو.

  • باغی تحریری مقابلہ – اول تحریر – ” 1947 سے 2022 تک پاکستان کے 75 سالوں کا احوال میری نظر میں” — طلحہ ملک

    باغی تحریری مقابلہ – اول تحریر – ” 1947 سے 2022 تک پاکستان کے 75 سالوں کا احوال میری نظر میں” — طلحہ ملک

    حضرت آدم علیہ السلام کے پیدا ہونے سے ہی انسان نے زندگی میں اپنے مسائل کو پرکھنے اور ان کے حل کے لیے جستجو کی ہے۔ مختلف عقائد اور نظریات پر آزادی سے پہرہ دینے کے لیے مختلف قوموں نے جنم لیا۔ پاکستان بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جو 14 اگست 1947 میں دُنیا کے نقشے پر ایک آزاد اسلامی ریاست کے نام پر وجود میں آیا آئیے پچھتر سالہ پاکستان کے سیاسی، سماجی، مذہبی، علمی اور دفاعی سمیت دیگر اہم پہلوؤں کا مختصر جائزہ لیتے ہیں۔

    انگریز اور ہندو پاکستان بننے کے حق میں نہیں تھے تقسیمِ ہند کا مسودہ پیش لرتے وقت برطانوی وزیرِاعظم لارڈ اٹیلی نے کہا تھا "ہندوستان تقسیم ہو رہا ہے لیکن مجھے امید ہے یہ تقسیم زیادہ دیر تک نہیں رہے گی اور جلد یہ دونوں ممالک جنہیں ہم الگ کر رہے ہیں ایک ہو جائیں گے” لیکن انہیں یہ معلوم نہ تھا کہ پاکستان محض ایک زمینی خطہ نہیں بلکہ ایک نظریاتی قوم ہے کہ جس کے متعلق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمہ اللہ نے قائد اعظم محمد علی جناح کو 1937ء میں لکھے گئے خط میں واضح کیا کہ "اگر ہندوستان کے مسلمانوں کا مقصد سیاسی جدوجہد سے محض آزادی اور اقتصادی بہبود ہے اور حفاظتِ اسلام اس کوشش کا حصہ نہیں تو مسلمان اس مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے لہٰذا قائدِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے ایک عظیم لیڈر کا کردار ادا کرتے ہوئے عوام کو اسلامی نظریے کو حاصل کرنے کے لیے ایک قوم بنایا نہ کے ایک خطے کے حصول کے لیے۔

    13 اگست 1947 کی رات 12 بجے برصغیر کے معروف براڈکاسٹر مصطفیٰ علی ہمدانی نے آل انڈیا ریڈیو پر آزادی کا اعلان کرتے ہوئے کہا

    "بسم اللہ الرحمن الرحیم، السلام و علیکم 13 اور 14 اگست 1947ء کی درمیانی شب 12 بجے پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس طلوع صبح آزادی”

    یوں قوم کو آزاد اسلامی ریاست "پاکستان” کی خوشخبری سُنا دی گئی اب یہ صرف ایک عام خطہ نہ تھا بلکہ مسلم امت کی ایک بہت بڑی آزاد ریاست تھی۔

    کسی بھی جمہوری ریاست کے چار بنیادی ستون مقننہ انتظامیہ عدلیہ اور ذرائع ابلاغ ہوتے ہیں اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بہت سارے اہم ترین بل کثرتِ رائے سے پاس ہوئے تاکہ اگر پاکستان میں یہ قوانین نہ بنائے جاتے تو ملک شدید اختلافات کی زد میں ہوتا ان قوانین میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کا قانون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیّین ہونے کا قانون صدر اور وزیر اعظم کے مسلمان ہونے سمیت کئی قوانین شامل ہیں جو کہ پاکستان کے ایک اسلامی ریاست ہونے کی ترجمانی کرتے ہیں انتظامیہ ان قوانین کی خلاف ورزی پر متحرک کردار ادا کر کے ریاست کو فسادات سے محفوظ رکھنے کی کوشش میں لگی رہتی ہے جبکہ عدلیہ قوانین پر عمل درآمد کر کے جزاء و سزا کو عمل میں لاتی ہے تاکہ ملک میں اعتدال کو قائم رکھا جائے، چوتھا ستون یعنی ذرائع ابلاغ چھوٹے مسائل سے لے کر قومی و ملی مسائل کو با اختیار لوگوں تک پہنچا کر اپنے فرائض سر انجام دیتے ہیں ان چار ستونوں کے ساتھ ایک اہم ترین کردار دفاعی اداروں کا ہے جو ریاست کی چھت کا کردار ادا کرتے ہیں اور دفاعی حدود پر اپنی جان ہتھیلی میں رکھ کر قوم کی حفاظت کی ذمہ داری کے فرائض سر انجام دیتے ہیں اور قوم کو اپنے ذاتی گھر کی طرح کا تحفظ دینے میں اپنا زبردست کردار ادا کرتے ہیں۔

    بات کی جائے معاشی پہلو کی تو قیمتی زمینی ذخائر اور باصلاحیت ہنر مند لوگ کسی بھی مستحکم معیشت کے ضامن ہوتے ہیں پاکستان کو ابتدائی طور پر ہنر مند لوگوں کی کمی کا سامنا رہا تھا مختلف شعبوں میں ترقی کرنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر روابط سے اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کی جاتی رہی پاکستانیوں نے غیر ملکیوں کی مدد سے ہنر سیکھے اور خوب محنت کر کے ابتدائی طور پر ملکی معیشت کو مضبوط سہارا دیا زراعت اور دیگر شعبوں میں کثرتِ محنت کے نتیجے میں خوب ترقی حاصل کی تاہم ترقی کے اس سفر میں سیاسی عدم استحکام ہمیشہ معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی ثابت ہوا یوں تاحال پاکستان باوجود باہنر افراد اور زمینی ذخائر کے عالمی سطح پر اپنی مضبوط معیشت کو منوانے میں ناکام رہا ہے حالانکہ پاکستان ذرائع ابلاغ کی بدولت دنیا کے معاشی نظام سے خوب واقف رہا ہے مگر اپنی معیشت کو اس کے مطابق نہ ڈھال سکا۔

    ذرائع ابلاغ نے ہر دور میں اپنا اہم ترین کردار ادا کیا ہے مگر مواصلاتی ترقی نے اس کی اہمیت میں بے حد اضافہ کر دیا ہے۔ میڈیا کو بہت سارے ممالک میں اظہارِ خیال کی کھلی آزادی ہے جبکہ چند ممالک میں میڈیا پر بہت سی پابندیاں عائد ہیں یاد رہے میڈیا کی زبان باندھ دی جائے یا اس کی بیڑیاں کھول دی جائیں دونوں طریقے ہی نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔ زبان بندی سے میڈیا صرف وہ پیغام پہنچاتا ہے جس کا اسے پابند کیا جاتا ہے جبکہ آزاد میڈیا اکثر اوقات ملکی دفاع کے لیے خطرناک ثابت ہوتا ہے پاکستان میں آزاد میڈیا پر وقفے وقفے سے پابندیاں لگتی آئی ہیں ان پابندیوں میں کالم نگار بھی کسی دوسرے کے ہاتھ سے لکھتا اور صحافی بھی کسی اور کی زبان بولتا تھا جبکہ اب آزاد میڈیا کی حیثیت سے ہر اخبار یا ٹی وی چینل ذاتی مفاد کی خاطر اکثر مخصوص سیاسی پارٹیوں کی حمایت یا مخالفت کرتے رہتے ہیں.

    ملکی سطح پر اگر ان کی تعلیم و تربیت کا خاص اہتمام کیا جائے تو عوام سنسنی خیزی کے جذبات اور انتشار سے محفوظ رہ سکتے ہیں
    تعلیم و تربیت کے ہی پہلو کا سطحی جائزہ لیا جائے تو کسی بھی ملک کا منظم تعلیمی سسٹم اور نصاب اس ملک کے روشن مستقبل کی توثیق یا تردید کرتا ہے پاکستان کی بیشتر آبادی غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی بسر کر رہی ہے جس وجہ سے تمام بچے ابتدا سے ہی تعلیم کی طرف نہیں آتے یا ابتدائی تعلیم کے دوران ہی چھوڑ جاتے ہیں مگر پھر بھی بحثیتِ قوم پاکستان میں تعلیم کے ساتھ ایک خاص لگاؤ اور دلچسپی برقرار ہے ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں دو لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں پندرہ لاکھ پینتیس ہزار اساتذہ کرام چار کروڑ دس لاکھ سے زائد بچوں کو تعلیم مہیا کر رہے ہیں تعلیم مہیا کرنے والے ان اداروں میں چالیس ہزار سے زائد چھوٹے بڑے مدرسے اور دینی درسگاہیں بھی شامل ہیں مگر اس سب کے با وجود حیرت انگیز طور پر پاکستان کا نظامِ تعلیم دنیا کے جدید تعلیمی تقاضوں سے نہ ہونے کے برابر مطابقت رکھتا ہے جس کا اندازہ اس بات سے بخوبی ہوتا ہے کہ دنیا بھر میں بہتر تعلیمی نظام کے ممالک میں پاکستان اس وقت ایک سو پچیسویں نمبر پر موجود ہے تحقیق کرنے والے ادارے نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے نظام تعلیم کا مطلب تعلیم کا نظام نہ ہونا ہے۔ بنیادی طور پر اچھے نصاب اور عملی تربیت کا فقدان اس تنزلی کی بڑی وجوہات ہیں ہمارے نظامِ سیاست نے ملک کے ہر شعبے کی ساکھ کو دیمک زدہ کر کے رکھ دیا ہے۔

    پاکستان کا سیاسی منظر نامہ بڑا غیر مستحکم ہے کہا جاتا ہے کہ پاکستان کو کبھی وفادار لیڈر نہیں ملا اگر ملا تو اس کی قدر نہیں کی گئی آزادی کے بعد جلد ہی پاکستان کو نظر لگ گئی تھی پہلے ہی وزیرِ اعظم کو شہید کر دیا گیا ابتدا سے آج تک میرا ملک سیاسی عدم استحکام کا شکار رہا ہے کبھی صدارتی نظام رائج کر دیا جاتا رہا اور کبھی مارشل لاء کا قانون نافذ کر دیا جاتا کبھی سرپرستِ مملکت کو پھانسی پر لٹکا دیا جاتا تو کبھی جبراً جلا وطن کر دیا جاتا اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جمہوریت کے ساتھ کچھ با اثر پاکستان دشمنوں کی طرف سے پہلے دن سے قوم اور قومی راہنماؤں کا یوں مذاق اڑایا جاتا رہا ہے اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔ اگر کوئی قوم کی نبض پر ہاتھ رکھنے والا لیڈر آئے کہ جس کے کہنے پر پوری قوم ملکی مفاد کے لیے یک جان ہو جائے ایسے لیڈر کو بھی استعمال کیا جاتا ہے اس میں نہ صرف غیر ملکی مداخلت شامل ہے بلکہ پس پردہ ہمارے ہی سیاستدان استعمال ہوتے ہیں۔

    اگر مزید پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا جائے تو ہر پہلو پر ایک مدلل طویل تحریر مرتب ہوگی مگر اب چند اصلاحی اختتامی سطور پر اکتفا کروں گا کہ پاکستانی قوم لا الہ کے مشن پر آزاد ہوئی تھی اسے لا الہ کے حقیقی مشن پر قائم رہنے دیا جائے ان کے نیک جذبات کی قدر کی جائے قوم کو سیاسی سماجی سطح پر منتشر نہ کیا جائے بارڈرز پر کھڑی فوج کا احترام کیا جائے اسپتالوں میں پڑے مریضوں سے ہمدردی کی جائے نوجوان لڑکے لڑکیوں کے قیمتی ہنر کی کی قدر کی جائے تعلیم و تربیت کا عالمی اسلامی اصولوں پر اہتمام کر کے اس تک عام آدمی کی رسائی کو ممکن بنایا جائے ذرائع ابلاغ محض ریٹنگ کی خاطر قوم کو منتشر نہ کریں سیاست دان اگر پاکستان کے حق میں تقریریں کرتے ہیں تو اس سے کہیں بہتر ہے اپنے کام کو بحسنِ خوبی سر انجام دیں تا کہ تقاریر سے مطمئن کرنے کی نوبت ہی پیش نہ آئے آج ہمیں 1947 کی آزادی کے جذبات سے آگاہ رہنے کے لیے آباؤ اجداد کی تاریخ کا مطالعہ کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ اپنے نیک جذبات کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے اور اپنی تمام تر خدمات سے پاکستان کو دن دگنی رات چگنی ترقی دینے میں اہم کردار ادا کر سکیں.

    وطن کے جاں نثار ہیں وطن کے کام آئیں گے
    ہم اس زمیں کو ایک روز آسماں بنائیں گے