رواں سال چین سے ٹکرانے والے طاقتور ترین طوفان ’باوی‘ نے تائیوان کے بعد چین کے مشرقی ساحلی علاقوں میں بھی تباہی مچا دی ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق طوفان باوی ہفتہ کی رات چین کے مشرقی صوبے ژی جیانگ کے ساحلی شہر یوہوان سے ٹکرایا، جس کے بعد اس نے وینژو کے علاقے یوئیکنگ میں دوسری بار لینڈ فال کیاموسمیاتی ماہرین کے مطابق اگرچہ طوفان کی شدت کم ہو کر ٹراپیکل اسٹورم کی سطح پر آ گئی ہے، تاہم آئندہ چند روز کے دوران مشرقی اور شمالی چین میں موسلا دھار بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کا خدشہ ہے، جس سے سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور شہری علاقوں میں پانی جمع ہونے کے خطرات بڑھ گئے ہیں،چینی حکام نے طوفان کی آمد سے قبل صوبہ ژی جیانگ سمیت مختلف علاقوں سے تقریباً 20 لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔
ریاستی نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق صرف یوئیکنگ شہر میں 1,300 سے زائد درخت گر گئے، جن میں سے 700 سے زیادہ جڑوں سمیت اکھڑ گئے کئی علاقوں میں سڑکیں زیر آب آ گئیں، جبکہ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بڑے بڑے پتھر شاہراہوں پر آ گرے، ریسکیو ٹیموں نے بھا ری مشینری اور چین سا استعمال کرتے ہوئے سڑکوں سے گرے ہوئے درخت ہٹانے اور نکاسی آب کا کام شروع کر دیا ہے۔
یوہوان کے ساحلی قصبے کانمین کے رہائشیوں نے بتایا کہ طوفان کے باعث گھروں میں پانی داخل ہو گیا اور پوری رات جاگ کر صورتحال کا مقابلہ کرنا پڑا، مقامی دکانداروں کے مطابق کئی عمارتوں، دکانوں اور املاک کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
اس سے قبل طوفان باوی تائیوان سے بھی ٹکرایا تھا، جہاں تیز ہواؤں اور شدید بارشوں کے باعث متعدد علاقے متاثر ہوئے، تائیوان کے محکمہ فائر سروس کے مطابق 134 افراد زخمی ہوئے، تاہم کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی طوفان کے باعث تائیوان میں 137 بین الاقوامی اور 62 اندرون ملک پروازیں منسو خ کی گئیں، جبکہ چین کے صوبہ ژی جیانگ میں 327 پروازیں اور متعدد ٹرین سروسز معطل کر دی گئیں،شنگھائی میں بھی 1,620 ٹرینیں اور 684 پرواز یں منسوخ کر دی گئیں، جس سے لاکھوں مسافر متاثر ہوئے۔
ماہرین موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ طوفان کمزور پڑ رہا ہے، لیکن اس کا وسیع نظام کئی سو کلومیٹر اندرونِ ملک تک شدید بارشیں برسا سکتا ہے، جس کے باعث آنے والے دنوں میں سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور شہری علاقوں میں پانی جمع ہونے کے خدشات برقرار رہیں گے رواں سال ایل نینو موسمی رجحان کے باعث چین کو مزید شدید موسمی حالات اور طاقتور طوفانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے ہنگامی امدادی کارروائیاں مزید مشکل ہو سکتی ہیں۔

