Baaghi TV

Tag: طیارہ حادثہ

  • کولمبیا میں طیارہ حادثہ، 15 افراد ہلاک

    کولمبیا میں طیارہ حادثہ، 15 افراد ہلاک

    شمال مشرقی کولمبیا میں ایک طیارہ حادثے کا شکار ہو گیا، جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار تمام 15 افراد ہلاک ہو گئے۔

    سرکاری فضائی کمپنی ساتینا کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں ایک مقامی قانون ساز بھی شامل تھے،بیچ کرافٹ 1900 کا 2 انجنوں پر مشتمل ٹربو پوپ طیارہ دوپہر سے قبل وینزویلا کی سرحد پر واقع شہر کوکوٹا سے اوکانیا کے لئے روانہ ہوا تھا،جو ایک مختصر پرواز تھی،فضائی ٹریفک کنٹرول کا طیارے سے پرواز کے 12 منٹ بعد رابطہ منقطع ہو گیا، حادثے کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی اور طیارے کا ایمرجنسی بیکن بھی فعال نہیں ہوا تھا۔

    ایئرلائن کی جانب سے جاری کی گئی مسافروں کی فہرست کے مطابق مقامی قانون ساز ڈیوجینس کوئنٹیرو، ان کے عملے کے ارکان، اور کارلوس سالسیڈوبھی طیارے میں سوار تھے، جو مارچ میں ہونے والے انتخابات سے قبل کانگریس کے امیدوار تھے۔

    پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان 14 سال بعد براہ راست فضائی رابطہ بحال

    حادثہ جس علاقے میں پیش آیا وہ ایک پہاڑی خطہ ہے جہاں کوکا کے پودے کاشت کیے جاتے ہیں، جو کوکین کی تیاری میں استعمال ہوتے ہیں،اس علاقے میں نیشنل لبریشن آرمی اور کولمبیا کی انقلابی مسلح افواج کے ایک باغی دھڑے سمیت متعدد غیر قانونی مسلح گروہ سرگرم ہیں۔

    شرجیل میمن کا تابش ہاشمی کے بیان پر شدید ردعمل

  • جنوبی کوریا :جیجو ایئر کے طیارہ حادثے کی تحقیقات میں شواہد سامنے آگئے

    جنوبی کوریا :جیجو ایئر کے طیارہ حادثے کی تحقیقات میں شواہد سامنے آگئے

    جنوبی کوریا میں دسمبر 2024 میں پیش آنے والے جیجو ایئر کے مہلک طیارہ حادثے کی تحقیقات میں شواہد سامنے آئے ہیں-

    روئٹرز کو تحقیقات سے واقف ایک ذریعے نے بتایا ہے کہ کاک پٹ وائس ریکارڈر، کمپیوٹر ڈیٹا اور حادثے کی جگہ سے ملنے والے انجن سوئچ سمیت شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ پائلٹس نے دائیں انجن کے بجائے بائیں (کم متاثرہ) انجن کو بند کیا، جو لینڈنگ سے قبل پرندے سے ٹکر کے بعد کیے گئے ہنگامی اقدامات کا حصہ تھا۔

    ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر روئٹرز کو بتایا کہ تحقیقاتی حکام کے پاس ٹھوس شواہد اور بیک اپ ڈیٹا موجود ہے، اس لیے اس نتیجے میں تبدیلی کا امکان نہیں‘، تاحال اس حوالے سے کوئی سرکاری رپورٹ جاری نہیں کی گئی ہےایک حکومتی ذریعے کے مطابق طیارے سے برآمد شدہ انجنوں کے معائنے سے معلوم ہوا کہ حادثے اور پرندے سے ٹکر سے پہلے انجنوں میں کوئی خرابی نہیں تھی۔

    یہ حادثہ 29 دسمبر کو جنوبی کوریا کے موآن ایئرپورٹ پر پیش آیا تھا، جب بینکاک سے آنے والا بوئنگ 737-800 طیارہ رن وے پر پھسلنے کے بعد بیرونی دیوار سے ٹکرا کر تباہ ہوگیا تھا، اس حادثے میں 181 میں سے صرف 2 افراد زندہ بچے تھے اور یہ جنوبی کوریا کی سرزمین پر اب تک کا سب سے مہلک فضائی حادثہ ثابت ہوا۔

    مسلم لیگ ن کے حافظ عبدالکریم 243ووٹ لیکر سینیٹر منتخب

    بریفنگ میں موجود تیسرے ذریعے کے مطابق متاثرہ مسافروں کے اہلِ خانہ کو ہفتے کے روز دی گئی بریفنگ میں تحقیقاتی ٹیم نے بتایا کہ دائیں انجن پر پرندہ ٹکرانے سے شدید نقصان ہوا تھا، لیکن شواہد بتاتے ہیں کہ پائلٹس نے بائیں، یعنی کم متاثرہ انجن کو بند کیا جنوبی کوریا کے میڈیا اداروں ایم بی این اور یونہاپ نے بھی ہفتے اور اتوار کو اسی رپورٹ کے حوالے سے آگاہ کیا تھا۔

    حادثے کی تحقیقات کرنے والے ادارے، ایوی ایشن اینڈ ریلوے ایکسیڈنٹ انویسٹیگیشن بورڈ (اے آر اے آئی بی) نے فوری طور پر اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جبکہ بوئنگ نے تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے اے آر اے آئی بی سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا جبکہ انجن بنانے والی کمپنی سی ایم ایف انٹرنیشنل نے بھی فوری جواب نہیں دیا۔

    جیجو ایئر نے کہا ہے کہ وہ اے آر اے آئی بی کی تحقیقات میں مکمل تعاون کر رہا ہے اور سرکاری نتائج کا انتظار کر رہا ہے۔

    اپنے ملک کے سفارتکار بنیں ، شرمندگی نہ بنیں ، شاہد آفریدی

    متاثرین کے اہل خانہ اور جیجو ایئر کے پائلٹس یونین نے مطالبہ کیا ہے کہ تحقیقات میں اس بند کے کردار پر بھی توجہ دی جائے، جس کے بارے میں ماہرین نے کہا ہے کہ اس کی موجودگی سے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔

    پائلٹس یونین نے اے آر اے آئی بی پر الزام لگایا ہے کہ وہ عوام کو گمراہ کر رہا ہے، کیونکہ دونوں انجنوں میں پرندے کی باقیات ملی تھیں اور صرف بائیں انجن کو درست قرار دینا تکنیکی طور پر بے بنیاد ہےحادثے کو محض پائلٹ کی غلطی قرار دینا قبل از وقت اور غیر سائنسی ہے، کیونکہ فضائی حادثات میں متعدد عوامل کردار ادا کرتے ہیں، اور اب تک کوئی ایسا ثبوت پیش نہیں کیا گیا جو یہ ثابت کرے کہ حادثہ صرف پائلٹس کی غلطی کی وجہ سے ہوا۔

    یونین نے الزام عائد کیا کہ تحقیقاتی ادارہ ’تنظیمی ذمہ داری‘ کے بارے میں خاموش ہےمتاثرہ خاندانوں کی نمائندگی کرنے والے ایک ادارے نے بیان میں کہا کہ مجوزہ پریس ریلیز میں بعض جملے ایسے تھے جن سے تاثر ملتا ہے کہ جیسے حتمی نتیجہ اخذ کر لیا گیا ہے، حالانکہ اب بھی تمام پہلوؤں کی وضاحت ضروری ہے۔

    کسی قاتل کے لیے کوئی ہمدردی نہیں،وزیراعلیٰ بلوچستان

    واضح رہے کہ جیجو ایئر کی پرواز ہنگامی لینڈنگ کرتے ہوئے موآن ایئرپورٹ کے رن وے سے آگے نکل گئی تھے اور مٹی کے ایک بند سے جا ٹکرائی جہاں نیوی گیشن کا سامان موجود تھا، اس سے آگ بھڑک اٹھی اور جزوی دھماکا بھی ہوا تھا۔

  • ائیر انڈیا حادثہ:پائلٹ کے ڈپریشن اور دماغی مسائل میں مبتلا ہونے کا انکشاف

    ائیر انڈیا حادثہ:پائلٹ کے ڈپریشن اور دماغی مسائل میں مبتلا ہونے کا انکشاف

    بھارتی شہر احمد آباد میں طیارہ حادثے میں ہلاک ہونے والے پائلٹ کے دماغی مسائل اور ڈپریشن میں مبتلا ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

    گزشتہ ماہ 12 جون کو ایک بوئنگ 787-8 طیارہ (فلائٹ AI 171) احمد آباد کے سردار ولبھ بھائی پٹیل بین الاقوامی ہوائی اڈے سے ٹیک آف کے فوراً بعد گر کر تباہ ہو گیاتھا جس میں 260 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں 229 مسافر، عملے کے 12 ارکان اور آس پاس کے 19 افراد شامل تھے اس حادثے میں ایک مسافر معجزانہ طور پر بچ گیا،جب کہ طیارے میں گجرات کے سابق وزیراعلیٰ روپانی بھی سوار تھے تاہم اب اس حوالے سے انکشاف ہو اہے کہ پائلٹ کو دماغی مسائل اور ڈپریشن کا مسئلہ تھا-

    برطانوی روزنامہ ٹیلی گراف کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ تفتیش کاروں کو دیئے گئے میڈیکل ریکارڈ کے مطابق طیارے کا پائلٹ ڈپریشن اور دماغی صحت کے دیگر مسائل میں مبتلا تھا 56 سالہ کیپٹن سُمیت سبھروال بدقسمت ائیر انڈیا طیارے کے لیڈ پائلٹ تھےحالیہ 3 سے 4 برسوں کے دوران کیپٹن سُمیت سبھروال نے ذہنی صحت کے مسائل کے سبب میڈٰیکل چھٹیاں بھی لی تھیں ‘۔

    انڈین ایوی ایشن کے سیفٹی ایکسپرٹ موہن رنگاناتھن نے ٹیلی گراف کو بتایا کہ مجھے کئی پائلٹس نے بتایا تھا کہ کیپٹن سُمیت سبھروال ذہنی مسائل کا شکار تھے، سبھروال نے 2022 میں اپنی والدہ کے انتقال کی چھٹیاں بھی لی تھیں جبکہ ان کے بوڑھے والد کی دیکھ بھال کا ذمہ بھی سُمیت کے ذمے ہی تھا-

    5 اگست کو احتجاج کی کال پر پی ٹی آئی کی مرکزی اور پنجاب قیادت میں اختلافات

    دوسری جانب ائیر انڈیا نے سُمیت سبھروال کی دماغی صحت سے متعلق رپورٹس پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا ہے تاہم ائیر لائن کی پیرنٹ کمپنی ٹاٹا گروپ کے ترجمان نے تصدیق کی کہ پائلٹ کے ریکارڈ کو بھی تبدیل کیا جاچکا ہے گزشتہ برس ستمبر میں کام پر آنے سے قبل پائلٹ کا میڈیکل ٹیسٹ کیا گیا ہوگا جس کے بعد ہی پائلٹ کو کام پر واپس آنے کے لیے کلیئرنس دی گئی ہوگی-

    ادھر طیارہ گرنے کے واقعے کی تفتیش کے طریقۂ کار پر بھارتی پائلٹس ایسوسی ایشن نے تحفظات کا اظہار کر کے حادثے کی تحقیقات میں شفافیت کا مطالبہ کردیا ہے پائلٹس ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے لیے مناسب ماہرین کو شامل نہیں کیا گیا،جبکہ حادثے میں مرنے والوں کے ورثاء نے بھی غیر جانب دارانہ تحقیقات اور ذمہ داروں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا ہے-

    پاکستان اور روس کے درمیان آئندہ ماہ مال بردار ٹرین چلانے کا اعلان

    بھارتی وزیر مملکت برائے سول ایوی ایشن مرلی دھر موہول نے کہا کہ بلیک باکس کو ڈی کوڈ کرنے کے لیے دوسرے ممالک بھیجنے کی ضرورت نہیں تھی، طیارہ گرنے سے متعلق حتمی رپورٹ آنے تک کسی نتیجے پر پہنچنا درست نہیں ہوگا۔

    واضح رہے کہ بھارتی شہر احمد آباد میں مسافر طیارے کو حادثہ دونوں انجنوں کو ایندھن سپلائی بند ہونے کے باعث پیش آیا بھارت کے ایئر کرافٹ ایکسیڈینٹ انویسٹی گیشن بیورو کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق ایندھن کنٹرول کرنے والے دونوں سوئچز ایک سیکنڈ کے فرق سے یکے بعد دیگرے "CUTOFF” پوزیشن میں چلے گئے تھے ایندھن کی سپلائی منقطع ہونے سے انجن بند اور جہاز نیچے آنے لگا، کاک پٹ ریکارڈنگ میں ایک پائلٹ کو دوسرے سے پوچھتے سنا گیا کہ اس نے ’کٹ‘ کیوں کیا؟ تو دوسرے پائلٹ نے جواب دیا کہ اس نے ایسا نہیں کیا۔

    24 اور 26 نومبر کے 14 مقدمات میں عمر ایوب کی ضمانت خارج ، گرفتار کرنیکا حکم

  • پی آئی اے طیارہ حادثہ،بچ  جانیوالے مسافر کی  آپ بیتی کی تقریب رونمائی

    پی آئی اے طیارہ حادثہ،بچ جانیوالے مسافر کی آپ بیتی کی تقریب رونمائی

    پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کے 2020 کے طیارہ حادثہ کے زندہ مسافر ظفر مسعود نے آپ بیتی پر سیٹ نمبر سی ون کے عنوان سے کتاب لکھ دی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ممتاز بینکار ظفر مسعود کی کتاب "سیٹ ون سی” کی کراچی میں تقریب رونمائی ہوئی، مسعود ظفر نے اپنی کتاب کے حوالے سے بتایاکہ کتاب لکھنے کا خیال اس طرح آیا کہ یہ حادثہ بہت منفرد اور سبق آموز تھا۔انہوں نے کہاکہ اللہ نہ کرے اس طرح کے حادثے کا کسی کو سامنا کرنا پڑے، کتاب کے اندر میں نے اپنے تجربات لوگوں کے ساتھ شیئر کیے ہیں کہ لوگوں کو بتاؤں کہ اس وقت کیا احساسات ہوتے ہیں جب آپ موت کے اتنے قریب ہوتے ہیں، کس طرح سے آپ کی زندگیاں تبدیل ہوتی ہیں اور زندگی میں ہماری کیا ترجیحات ہونی چاہییں،میں نے جن چیزوں کا ذکر کیا، ہو سکتا ہے، اس میں سے کچھ چیزیں ایسی ہوں کہ ان کو لوگ خود سے جوڑ پائیں اور یہ ہی میرا کتاب لکھنے کا مقصد ہے.

    ظفر مسعود نے کہا میں نے یہ کتاب بطور حقیقی واقعے کے لکھی، کوشش کی اس میں جذبات کم ڈالوں کہ اس سے متاثرہ خاندانوں کے جذبات مجروح نہ ہوں، اس لیے کہیں نہ کہیں یہ کتاب کچھ لوگوں کے جذبات کو بھڑکا سکتی ہے، اس کے لیے میں معذرت خواہ ہوں۔ میں نے کوشش کی ہے کہ اس کتاب سے کوئی ہرٹ نہ ہو، یہ کسی کے لیے ٹراما کا باعث نہ بنے، یہ بہت زیادہ جذباتی کردینے والا واقعہ تھا۔

    یاد رہے کہ 22 مئی 2020 کو پی آئی اے کا لاہور سے کراچی آنے والا طیارہ گر کر تباہ ہوگیا تھا، جس کے نتیجے میں جہاز کے عملے سمیت 97 افراد جاں بحق ہوگئے تھے جبکہ 2 افراد معجزانہ طور پر بچ گئے تھے، جن میں ایک ظفر مسعود اور دوسرا مسافر زبیر شامل تھا۔

    کراچی، رواں سال نا تجربہ کار ڈرئیوروں نے 262 خاندان اجاڑ دیے

    اپووا خواتین کانفرنس میں باغی ٹی وی کی نور فاطمہ کو ملا اعزازی ایوارڈ

    وزیرِ اعظم کی بلاول بھٹو کو پارٹی چیئرمین منتخب ہونے پر مبارکباد

    اپووا کی سالانہ پانچویں خواتین کانفرنس،خواتین میں ایوارڈز تقسیم

  • امریکا میں چھوٹے طیارے کو حادثہ، ہلاکتوں کی تعداد 7 ہوگئی

    امریکا میں چھوٹے طیارے کو حادثہ، ہلاکتوں کی تعداد 7 ہوگئی

    فلاڈیلفیا : امریکا میں چھوٹا طیارہ گرنے کے حادثے میں ماں اور بچے سمیت ہلاک افراد کی تعداد 7 ہوگئی۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق گزشتہ روز امریکی ریاست پنسلوینیا کے شہر فلاڈیلفیا میں شاپنگ مال کے قریب ایک چھوٹا طیارہ گرنے کا واقعہ پیش آیا تھا یہ چھوٹا طیارہ ایک میڈیکل ٹرانسپورٹ جہاز تھا جو عمارتوں پر گر کر تباہ ہوگیا تھا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق طیارے میں 6 افراد سوار تھے، طیارہ ایک مریض بچے کو والدہ کے ہمراہ لے جا رہا تھا، جبکہ طیارے میں 2 پائلٹ، ایک ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل اسٹاف موجود تھاحادثے میں مرنے والے تمام افراد ہی میکسیکن نیشنل تھے جبکہ حادثے میں ایک علاقہ مکین سمیت 7 افراد ہلاک ہوگئے، اس کے علاوہ 19 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جو اسپتال میں زیر علاج ہیں۔

    اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ خیبر پختونخوا کی تشکیل نو کا فیصلہ

    ریاستی اور مقامی انتظامیہ کے عہدیداروں نے بتایا کہ یہ حادثہ جمعے کو رات گئے فلاڈیلفیا کے گنجان آباد علاقے میں پیش آیا تاہم ہلاکتوں کی تعداد کے حوالے سے حتمی رپورٹ سامنے نہیں آئی ہےسوشل میڈیا پر عینی شاہدین کی جانب سے دی گئی اطلاعات میں بتایا گیا کہ لاشوں کے ٹکڑے سڑک پر آگرے اور قریبی گھروں کے اندر بھی گرے ہیں۔

    ادھر میکسیکو کی حکومت نے بیان میں کہا کہ طیارے میں سوار تمام افراد میکسیکو کے شہری تھے۔

    زمین سے عنقریب ٹکرانے والے سیارچے کی نگرانی شروع

    جیٹ ریسکیو ایئرایمبولینس کے شعبے کارپوریٹ اسٹریٹجی میں کام کرنے والی عہدیدار شائے گولڈ نے بتایا کہ بیمار بچہ ایک لڑکی تھی اور وہ واپس اپنے گھر ٹیجوانا جا رہے تھے مگر حادثے کا شکار ہوگئے اور ان کے ساتھ طیارے میں ان کی والدہ بھی سوار تھیں ہم اس طرح کے حادثات پر انتہائی افسردہ ہیں، یہ عملہ انتہائی تجربہ کار تھا، ہم ایک بہترین ایئرایمبولینس کمپنی ہیں اور سالانہ 600 سے 700 پروازیں ہوتی ہیں۔

    امریکی ریاست پینسلوینیا کے گورنر جوش شپیرو نے جائے حادثہ پر پریس کانفرنس میں بتایا کہ ہم جانتے ہیں کہ اس خطے میں نقصان ہوگا اور ہم اس حادثے کے متاثرین کے اہل خانہ سے یک جہتی کرتے ہیں اور ان کے لیے دعا گو ہیں۔

    وفاقی وزیر داخلہ اور اسپیکر قومی اسمبلی کی ملاقات، ملک کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا کہ پینسلوینیا کے شہر فلاڈیلفیا میں طیارے کے حادثے پر بہت افسوس ہوا، مزید معصوم جانیں چلی گئیں تاہم ہمارے عہدیداروں امدادی کام میں مصروف ہیں۔

    واضح رہے کہ چند روز قبل بھی واشنگٹن میں مسافر جہاز اور ہیلی کاپٹر ٹکرانے کا واقعہ پیش آیا تھا، طیارے اور ہیلی کاپٹر میں موجود تمام 67 افراد کو مردہ تصور کیا گیا ہے۔

    حکومت کا بجلی کے نرخوں میں نمایاں کمی کا فیصلہ

  • جنوبی کوریا طیارہ حادثہ "بلیک باکس”  میں‌چار منٹ قبل ریکارڈنگ رک گئی تھی،انکشاف

    جنوبی کوریا طیارہ حادثہ "بلیک باکس” میں‌چار منٹ قبل ریکارڈنگ رک گئی تھی،انکشاف

    جنوبی کوریا میں گزشتہ ماہ پیش آنے والے طیارہ حادثے کی تحقیقات کرنے والے حکام نے کہا ہے کہ حادثے کے شکار مسافر بردار طیارے کے فلائٹ ریکارڈرز اس وقت کام کرنا بند کر چکے تھے جب طیارہ موان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر رن وے پر زمین سے ٹکرا کر پھٹ گیا۔ اس حادثے میں 170 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

    جنوبی کوریا کے حکام، جو اس ملک کے گزشتہ تین دہائیوں میں سب سے مہلک ہوائی حادثے کی تحقیقات کر رہے ہیں، یہ امید کر رہے تھے کہ "بلیک باکسز” سے ملنے والی معلومات یہ وضاحت فراہم کریں گی کہ 29 دسمبر کو بنکاک سے روانہ ہونے والی جیجو ایئر کی پرواز 7C 2216 موان ایئرپورٹ پر زمین سے کس طرح ٹکرا گئی تھی اور آگ کی لپیٹ میں آ گئی تھی۔اس حادثے میں 179 مسافر اور عملے کے ارکان ہلاک ہوئے، جبکہ دو افراد زندہ بچ گئے تھے۔تاہم جنوبی کوریا کی وزارتِ نقل و حمل نے ہفتہ کے روز کہا کہ بوئنگ 737-800 کے کاک پٹ وائس ریکارڈر (CVR) اور فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر (FDR) تقریباً چار منٹ قبل کام کرنا بند کر چکے تھے۔

    وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ ڈیوائسز ریکارڈنگ کیوں روک چکے تھے اور وزارت اس بات کا تعین کرنے کے لیے کام کرے گی۔

    بیان میں مزید کہا گیا، "CVR اور FDR ڈیٹا حادثے کی تحقیقات کے لیے اہم ہیں، لیکن حادثے کی تحقیقات مختلف ڈیٹا کے تجزیے کے ذریعے کی جاتی ہیں، اس لیے ہم حادثے کے اصل سبب کی درست شناخت کے لیے اپنی بھرپور کوشش کریں گے۔”کاک پٹ وائس ریکارڈر کو ابتدائی طور پر مقامی سطح پر تجزیہ کیا گیا اور بعد میں اسے امریکہ بھیجا گیا تاکہ اس کا مزید جائزہ لیا جا سکے۔ وزارت نے بتایا کہ فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر، جو نقصان پہنچا ہوا تھا اور اس میں کنیکٹر غائب تھا، گزشتہ ہفتے تجزیے کے لیے امریکہ کے نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ بھیجا گیا، کیونکہ جنوبی کوریا کے حکام نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ وہ اس ڈیوائس سے ڈیٹا نکالنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔

    یہ حادثہ 1997 کے بعد جنوبی کوریا کا سب سے مہلک فضائی حادثہ ہے، جب کورین ایئر لائنز کا بوئنگ 747 گوام کے جنگل میں گر کر تباہ ہو گیا تھا جس میں 228 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

    اب تک حادثے کی وجہ واضح نہیں ہو سکی ہے اور تحقیقات میں کئی ماہ لگنے کی توقع ہے۔حادثے کی ویڈیوز میں دکھایا گیا کہ جب طیارہ ایمرجنسی لینڈنگ کر رہا تھا تو نہ پیچھے کا لینڈنگ گیئر نظر آ رہا تھا اور نہ ہی سامنے کا۔ایمرجنسی لینڈنگ سے پہلے پائلٹ نے میڈے کال کی اور "پرندے کا ٹکراؤ” اور "گھومنا” جیسے الفاظ استعمال کیے، حکام کا کہنا ہے کہ کنٹرول ٹاور نے پائلٹ کو علاقے میں پرندوں کی موجودگی سے آگاہ کیا تھا۔ فضائی ماہرین کے مطابق بہت سے ایئرپورٹس پر رن وے کے قریب اس طرح کی تعمیرات نہیں پائی جاتیں۔جنوبی کوریا کی پولیس نے گزشتہ ہفتے جیجو ایئر کے دفتر اور موان ایئرپورٹ کے آپریٹر پر چھاپے مارے تھے اور تحقیقات کے سلسلے میں یہ کارروائیاں کی تھیں،

    جنوبی کوریا طیارہ حادثہ، 181 میں سے دو افراد زندہ کیسے بچے

    جنوبی کوریا طیارہ حادثہ،ایئر پورٹ پر لواحقین کی آہ و بکا،141 لاشوں کی شناخت

  • جنوبی کوریا طیارہ حادثہ، 181 میں سے دو افراد زندہ کیسے بچے

    جنوبی کوریا طیارہ حادثہ، 181 میں سے دو افراد زندہ کیسے بچے

    3 روز قبل جنوبی کوریا کے موان انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر جیجو ائیر کا ایک طیارہ حادثے کا شکار ہوگیا، جس کے نتیجے میں 179 افراد ہلاک ہو گئے۔ تاہم خوش قسمتی سے دو مسافربچ جانے میں کامیاب ہو گئے۔

    حادثہ اس وقت پیش آیا جب جیجو ائیر کا طیارہ موان ائیرپورٹ کے قریب گر کر تباہ ہو گیا۔ طیارے میں کل 181 مسافر سوار تھے، جن میں سے صرف 2 مسافر زندہ بچ سکے۔ ان دونوں مسافروں کی شناخت 32 سالہ خاتون "لی” اور 25 سالہ "وون” کے طور پر کی گئی ہے۔ جیجو ائیر کے سی ای او نے میڈیا کو بتایا کہ طیارہ حادثے کی وجوہات ابھی تک غیر واضح ہیں اور ابتدائی تحقیقات میں طیارے میں کسی قسم کی خرابی کے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں۔ سی ای او نے مزید کہا کہ اس حادثے کا کوئی سابقہ ریکارڈ نہیں تھا اور کمپنی اس سانحے پر گہرے افسوس کا اظہار کرتی ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، دونوں زندہ بچ جانے والے مسافر طیارے کے "ایمپنیج” (دُم والے حصے) میں موجود تھے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ طیارے کے اس حصے کو حادثے کے بعد زخمی حالت میں نکالا گیا تھا۔ دونوں متاثرین کو سر اور بازو پر چوٹیں آئی ہیں لیکن ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

    وائس آف امریکا کی ایک رپورٹ کے مطابق، طیارے کے پچھلے حصے میں موجود مسافر اس لئے بچ گئے کیونکہ یہ حصہ حادثے کے دوران نسبتاً زیادہ محفوظ رہتا ہے۔ 2015 میں امریکی جریدے ٹائم میگزین نے ایک مطالعے میں جہاز کے دُم والے حصے کو کمرشل پروازوں کے لئے محفوظ ترین حصہ قرار دیا تھا۔ اس مطالعے کے مطابق، طیارہ حادثے میں جہاز کی پچھلی نشستوں پر اموات کی شرح 32 فیصد، وسطی نشستوں پر 39 فیصد اور سامنے کی نشستوں پر 38 فیصد رہتی ہے۔

    یہ حادثہ جنوبی کوریا کی تاریخ میں 1997 کے بعد سے کسی بھی جنوبی کوریائی ائیر لائن کا بدترین حادثہ ہے۔ 1997 میں ہونے والے ایک اور طیارہ حادثے میں 200 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے، جو کہ اس علاقے کی ہوا بازی کی تاریخ کا ایک سنگین حادثہ تھا۔

    قازقستان میں ہونے والے ایک اور فضائی حادثے کا موازنہ کیا جا سکتا ہے جس میں آذربائیجان کا ایک مسافر طیارہ گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ اس حادثے میں بھی 38 افراد ہلاک ہوئے تھے، جب کہ 29 افراد زندہ بچ گئے تھے۔ زندہ بچ جانے والے افراد بھی طیارے کے پچھلے حصے میں موجود تھے۔

    جنوبی کوریا میں ہونے والے اس حادثے نے پورے خطے میں صدمے کی لہر دوڑ دی ہے۔ اگرچہ خوش قسمتی سے دو مسافر بچ گئے ہیں، تاہم اس سانحے میں 179 افراد کی ہلاکت نے پورے ملک کو غم میں ڈبو دیا ہے۔ حادثے کی تفصیلی تحقیقات جاری ہیں تاکہ اس کی وجوہات کو سامنے لایا جا سکے اور آئندہ کے لئے حفاظتی تدابیر میں مزید بہتری لائی جا سکے۔

    جنوبی کوریا طیارہ حادثہ،ایئر پورٹ پر لواحقین کی آہ و بکا،141 لاشوں کی شناخت

    ایک دن میں تیسرا فضائی حادثہ، طیارہ رن وے سے اترگیا

    طیارہ حادثہ، روس نے آذربائیجان سے معافی مانگ لی

  • وزیراعظم شہباز شریف کا  جنوبی کوریا میں طیارہ حادثے پر اظہارِ افسوس

    وزیراعظم شہباز شریف کا جنوبی کوریا میں طیارہ حادثے پر اظہارِ افسوس

    اسلام آباد: وزیرِ اعظم شہباز شریف نے جنوبی کوریا میں طیارہ حادثے میں قیمتی جانی انسانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں شہباز شریف نے کہا کہ جنوبی کوریا کے موان انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر ہوئے المناک حادثے کا جان کر دلی دکھ ہوا، حادثے میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، ہم دکھ کی اس گھڑی میں کورین عوام اور حکومتِ جمہوریہ کوریا کے ساتھ ہیں۔

    یاد رہے کہ جنوبی کوریا کے موان ایئرپورٹ پر لینڈنگ کے دوران مسافر طیارے کو حادثہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں 120 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے طیارے کو حادثہ لینڈنگ گیئر میں خرابی کے باعث پیش آیا طیارہ رن وے سے اتر کر اطراف میں لگی باڑ سے ٹکرا گیا، جس سے طیارے میں آگ لگ گئی، اب تک 96 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ طیارے میں عملے سمیت مجموعی طور پر 181 افراد سوار تھے۔زخمیوں اور لاشوں کو اسپتال منتقل کیے جانے کا عمل جاری ہے۔

    جنوبی کوریا، لینڈنگ کے دوران مسافر طیارہ حادثے کا شکار، 85 افراد ہلاک

    سوشل میڈیا پر زیر گردش ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جیجو ائیر کا طیارہ لینڈنگ کے لیے گراؤنڈ پر اترا لیکن پھر رکے بغیر بیرئیر سے جا ٹکرایا اور تباہ ہو گیا ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حادثے کے بعد طیارے میں آگ بھڑک اٹھی اور دھواں آسمان پر پھیل گیافائر بریگیڈ کے عملے کو حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کی آگ بجھاتے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

    ایوی ایشن ذرائع کے مطابق موان ائیرپورٹ پر حادثے کا شکار بوئنگ 737 طیارہ 15 سال پرانا تھا، یہ طیارہ جیجو ائیر کی پرواز 7C-2216 بنکاک سے موان پہنچا تھا اور حادثے کا شکار اسی بدقسمت طیارے نے پرواز 7C-2215 کے طور پر دوبارہ بنکاک جانا تھا-

    اسرائیلی وزیراعظم کی طبیعت ناساز ، اسپتال منتقل

    سی ای او جیجو ائیر کا کہنا ہےطیارہ حادثے کی وجوہات ابھی تک غیر واضح ہیں، طیارے کی خرابی کے کوئی ابتدائی شواہد نہیں ملے، گرنے والےطیارے کے حادثات کا کوئی سابقہ ریکارڈ نہیں تھا، طیارہ حادثےپر معذرت خواہ ہیں۔

    ذرائع کے مطابق موان انٹرنیشنل ائیرپورٹ سے اپ اینڈ ڈاؤن کی یومیہ لگ بھگ 16 پروازیں آپریٹ ہوتی ہیں، حادثے کے بعد اوساکا، ٹوکیو، جیجو سے موان کی 5 پروازیں منسوخ کر دی گئیں جبکہ موان سے ٹوکیو، اوساکا، جیجو، تائی پے، بنکاک روانگی کی 7 پروازیں منسوخ ہیں۔

    اوور سیز پاکستانیوں نے 31 فیصد زیادہ پیسے بھیج کر سول نافرمانی کی کال مسترد کردی، مریم اورنگزیب

    جنوبی کوریا پولیس اور امدادی اداروں کے 6 سے زائد ہیلی کاپٹر موان ائیرپورٹ پر موجود ہیں جن کے ذریعے زخمیوں یا لاشوں کو اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔ موان ائیرپورٹ کی تعمیر 1997 میں شروع ہوئی اور 9 نومبر 2007 کو کھولا گیا موان ائیرپورٹ گوانگجو، موکپو اور ناجو کے شہریوں کو سفری سہولیات فراہم کرتا ہے، موان ائیرپورٹ سے سالانہ 543247 مسافر استفادہ کرتے ہیں، موان ائیرپورٹ کا انتظام کوریا ائیرپورٹس کارپوریشن کے ذریعے کیا جاتا ہے۔

    معیشت کیلئے سب کو ایک پیج پر آنا پڑے گا، وفاقی وزیر خزانہ

  • طیارہ حادثہ: آذربائیجان کے رکن پارلیمنٹ کا روس سے معافی کا مطالبہ

    طیارہ حادثہ: آذربائیجان کے رکن پارلیمنٹ کا روس سے معافی کا مطالبہ

    قازقستان میں آذربائیجان کے مسافر طیارے کو پیش آنے والے حادثے کے بعد آذربائیجان کے رکن پارلیمنٹ راسم موسیٰ بیوف نے روس سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس کو اس حادثے کی مکمل ذمہ داری قبول کرنی چاہیے اور حادثے میں متاثر ہونے والوں کے لیے فوری طور پر قانونی کارروائی کی جانی چاہیے۔

    آذربائیجان کے رکن پارلیمنٹ راسم موسیٰ بیوف نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ "روس کو اس حادثے کی مکمل ذمہ داری قبول کرنی چاہیے، اور اس کے بعد اس میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جانی چاہیے۔ اس کے علاوہ، جو افراد اس حادثے میں متاثر ہوئے ہیں، انہیں فوری طور پر معاوضہ فراہم کیا جائے۔”دوسری جانب روسی پارلیمنٹ کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے اس واقعے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ "طیارہ حادثے کی تحقیقات جاری ہیں اور جب تک تحقیقات مکمل نہیں ہو جاتی، ہم کسی قسم کا تبصرہ نہیں کر سکتے۔ اس حوالے سے معلومات صرف روسی ایوی ایشن حکام کی طرف سے فراہم کی جا سکتی ہیں۔”

    یہ حادثہ 25 دسمبر کو پیش آیا، جب آذربائیجان کے ایئر لائن کا ایک مسافر طیارہ باکو سے چیچنیا کے شہر گروزنی کے لیے روانہ ہوا تھا۔ طیارہ قازقستان کے شہر اکتاو میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ روسی فیڈرل ایوی ایشن ایجنسی کے سربراہ دیمتری یادروف نے اس حادثے کی تحقیقات کے حوالے سے کہا کہ "حادثے کے دن گروزنی میں پیچیدہ صورتحال تھی۔ اس دن یوکرین کے لڑاکا ڈرون گروزنی اور ویلادیکاوکاز پر حملے کر رہے تھے، جس سے ایوی ایشن کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی تھی۔”

    روسی میڈیا نے بتایا کہ حادثے کے روز صبح کے وقت تین لڑاکا ڈرونز کو روکا گیا تھا۔ اس کے برعکس، آذربائیجانی حکام کا کہنا ہے کہ گروزنی کے ایئرپورٹ کے قریب دو پینٹسر ایئر ڈیفنس سسٹم نصب کیے گئے ہیں، اور ان کا خیال ہے کہ ممکنہ طور پر آذربائیجان کا مسافر طیارہ ان پینٹسر ایئر ڈیفنس سسٹم کا نشانہ بن گیا۔

    آذربائیجان کے حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ ممکنہ طور پر ایک حادثہ تھا جس میں طیارہ پینٹسر ایئر ڈیفنس سسٹم کا نشانہ بن گیا، جو کہ روسی دفاعی نظام کا حصہ ہے۔ یہ سسٹم دشمن طیاروں اور دیگر فضائی خطرات کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

    یہ حادثہ اب بین الاقوامی سطح پر ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے، اور اس کے بعد تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع ہونے کی توقع ہے۔ آذربائیجان اور روس کے درمیان اس واقعے کے حوالے سے سیاسی و سفارتی سطح پر مزید بات چیت ہو سکتی ہے، اور اس کا اثر دونوں ممالک کے تعلقات پر بھی پڑ سکتا ہے۔اس وقت تک، طیارہ حادثے کی تحقیقات جاری ہیں، اور متاثرین کے اہل خانہ کی جانب سے انصاف اور معاوضے کے مطالبات بڑھتے جا رہے ہیں۔

    آذربائیجان طیارہ حادثہ،دوسرا بلیک باکس مل گیا

    آذربائیجان کے مسافر طیارے کا بلیک باکس مل گیا، تحقیقات کا آغاز

    آذربائیجان ،طیارہ مبینہ میزائل حملے کا نشانہ بنا، دعویٰ

    آذربائیجان طیارہ حادثہ،62 میں سے 26 افراد زندہ بچ گئے

  • پی آئی اے طیارہ حادثہ،چار سال بعد لبنانی نژاد امریکی شہری والد کے سامنے کیلئے عدالت پہنچ گیا

    پی آئی اے طیارہ حادثہ،چار سال بعد لبنانی نژاد امریکی شہری والد کے سامنے کیلئے عدالت پہنچ گیا

    کراچی میں 2020 میں قومی ایئر لائن پی آئی اے طیارے کو پیش آنے والے حادثے کی تحقیقات اور والد کے سامان کے لیے لبنانی نژاد امریکی نے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا ہے

    عدالت نے پی آئی اے، سول ایوی ایشن اتھارٹی اور دیگر کو نوٹس جاری کر کے فریقین سے تفصیلی جواب طلب کر لیا، درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ امریکا سے بیٹے کو بلا کر ڈی این اے کے بعد لاش حوالے کر دی گئی تاہم سامان نہیں دیا گیا، حادثے بعد کی صورتحال کے بارے میں پی آئی اے کے کوئی رولز ہیں اور نہ ہی کوئی ایس او پیز،سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عقیل احمد عباسی نے سوال کیا کہ معلومات حاصل کر کے کیا کرنا چاہتے ہیں؟ وکیل نے کہا کہ صرف حادثے کی معلومات اور جاں بحق شہری کا سامان حاصل کرنا چاہتے کوئی معاوضہ نہیں چاہیے۔ سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عقیل احمد عباسی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایسا نہ ہو کہ ہم آج حکم نامہ جاری کریں کل پی آئی اے پرائیویٹ ہو جائے۔،درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ معلومات حاصل کرنا ہمارا حق یے، حادثے سے متعلق معلومات فراہم کی جائیں.

    لبنانی شہری نے سندھ ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اپنایا کہ مئی 2020 میں پی آئی اے کا طیارہ کراچی میں گر گیا تھا، طیارے میں میرے والد عبدالفتح الہٰی بھی سفر کر رہے تھے جو جاں بحق ہوئے تھے، تین سال بعد حادثے سے متعلق رپورٹ تو جاری کی گئی ہے وجہ نہیں بتائی گئی، حادثے کے بعد کسی کی لاش کسی اور کے ورثاء کو دے دی گئی، جاں بحق لبنانی نژاد امریکی شہری کی لاش بھی کسی اور کے حوالے کردی گئی تھی.

    قبل ازیں کراچی میں 4سال قبل پی آئی اےکی پروازپی کے8303کے حادثےکی حتمی رپورٹ جاری کردی گئی ، رپورٹ ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بورڈ نے جاری کی جس کے مطابق حادثہ واضح طورپرانسانی غلطی کی وجہ سے پیش آیا، ایئرٹریفک کنٹرولرنے4مرتبہ پائلٹ کولینڈنگ سے روکتے ہوئےبتایا اونچائی بہت زیادہ ہے،پانچویں مرتبہ ایئر ٹریفک کنٹرولر نے لینڈنگ کی اجازت دے دی۔انجن رن وے سے ٹکرانے اور شعلے نکلنے کے بارے میں ایئر ٹریفک کنٹرولر نے پائلٹ کو نہیں بتایا،دونوں انجن رن وے ٹکرانے کی وجہ سے متاثر ہوئے،دونوں انجنوں کو لبریکینٹ آئل فراہم کرنے والا نظام خراب ہو گیا جس کی وجہ سے دونوں انجن بند ہو گئے،انجن بند ہونے سے طیارہ حادثہ کا شکار ہو گیا،دونوں پائلٹس اور ا یئر ٹریفک کنٹرولرز میں رابطے اور ہم آہنگی کا فقدان تھا، حادثہ کی انتظامی ذمہ دار ی پی آئی اے اور پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی پر بھی عائد ہوتی ہے۔

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    طیارہ حادثہ، رپورٹ منظر عام پر آ گئی، وہی ہوا جس کا ڈر تھا، سنئے مبشر لقمان کی زبانی اہم انکشاف

    جنید جمشید سمیت 1099 لوگوں کی موت کا ذمہ دار کون؟ مبشر لقمان نے ثبوتوں کے ساتھ بھانڈا پھوڑ دیا

    اے ٹی سی کی وائس ریکارڈنگ لیک،مگر کیسے؟ پائلٹ کے خلاف ایف آئی آر کیوں نہیں کاٹی؟ مبشر لقمان نے اٹھائے اہم سوالات

    کراچی میں پی آئی اے طیارے کا حادثہ یا دہشت گردی؟ اہم انکشافات

    طیارے کا کپتان جہاز اڑانے کے قابل نہیں تھا،مبشر لقمان کھرا سچ سامنے لے آئے