Baaghi TV

Tag: طیب اردوان

  • وینزویلا کے عوام کے ساتھ کھڑے رہیں گے،ترک صدر

    وینزویلا کے عوام کے ساتھ کھڑے رہیں گے،ترک صدر

    ترکیے کے صدر رجب طیب اردوان کا کہنا ہے کہ ترکیے وینزویلا کے عوام کے ساتھ کھڑا رہے گا۔

    کابینہ اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے صدر اردوان نے کہا کہ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ٹیلی فونک گفتگو میں واضح طور پر آگاہ کیا ہے کہ وینزویلا کو صدر نکولس مادورو کی معزولی کے بعد عدم استحکام کی طرف نہیں دھکیلا جانا چاہیےترکیے وینزویلا کے عوام کے ساتھ کھڑا رہے گاماضی میں صدر مادورو اور وینزویلا کے عوام نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ ترک قوم کے دوست ہیں۔

    ترک صدر نے خبردار کیا کہ ممالک کی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی عالمی سطح پر سنگین مسائل کو جنم دے سکتی ہے انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اصولوں پر مبنی بین الاقوامی نظام کا تحفظ نہایت ضروری ہے۔

    دوسری جانب اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری انتونیو گوتریس نے امریکا کے وینزویلا پر حملے اور اہلیہ سمیت صدر کی گرفتاری پر تشویش کا اظہار کیا ہے اس تشویش کا اظہار اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے وینزویلا میں امریکا کی فوجی کارروائی پر بلائے گئے سلامتی کونسل کے اجلاس میں کیا۔

    بھارتی وفد نے مجھےخالدہ ضیاء کا جنازہ پڑھنے سے روکنے کی کوشش کی،سردار ایاز صادق

    انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ 3 جنوری کو وینزویلا میں امریکی حملے اور صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے عمل میں بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی پاسداری نہیں کی گئی، امریکا نے یہ حملہ کرکے اقوامِ متحدہ کے بنیادی اصولوں کو نظر انداز کیا جن میں ریاست کی خودمختاری، سیاسی آزادی اور سرحدی سالمیت شامل ہیں۔

    انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت کسی بھی ریاست کے خلاف طاقت یا دھمکی کا استعمال سخت ممنوع ہے جسے 3 جنوری کی کارروائی کے دوران نظرانداز کیا گیا بین الاقوامی امن و سلامتی کے تحفظ کے لیے چارٹر اور دیگر قانونی فریم ورکس کا احترام ضروری ہے۔

    جاپان:مچھلی90 کروڑ روپے میں نیلام

    سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ جامع، پرامن اور جمہوری مکالمے کے ذریعے حل تلاش کریں اور قانون کی حکمرانی کو فوقیت دیں،انتو نیو گوتریس نے مطالبہ کیا کہ بین الاقوامی امن و سلامتی کا تحفظ اسی وقت ممکن ہے جب تمام ممالک چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی پابندی کریں۔

    واضح رہے کہ امریکی افواج نے ہفتے کے روز وینزویلا کے دارالحکومت پر بمباری کرتے ہوئے صدر مادورو کو حراست میں لے کر امریکا منتقل کیا جہاں ان پر مقدمہ چلایا جارہا ہے،صدر مادورو نے پیر کے روز نیویارک کی ایک عدالت میں منشیات اسمگلنگ کے الزامات میں خود کو بے قصور قرار دیا۔

    ،پنجاب میں فنڈز کے استعمال میں شفافیت کو یقینی بنایا گیا،مریم نواز

  • عالمی دنیا  کو دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے حکمت عملی بنانا ہوگی، شہباز شریف

    عالمی دنیا کو دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے حکمت عملی بنانا ہوگی، شہباز شریف

    وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ عالمی دنیا کو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی بنانا ہوگی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ترکیہ میں صدرطیب اردوان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئےشہباز شریف کا کہنا تھا کہ طیب اردوان ایک دوراندیش اوروژنری لیڈرہیں، 2010کےسیلاب میں ترکیہ صدر نےپاکستان کا دورہ کرکےمتاثرین سےبھرپوریکجہتی کا مظاہرہ کیا اور سیلاب کےدوران پاکستان کی بھرپورمدد کی۔ شانداراستقبال پرصدر ترکیہ اور ترک عوام کا شکرگزارہوں، طیب اردوان سےملاقات پرخوشی ہوئی،ان کی قیادت میں ترکیہ نےشاندارترقی کی۔

    شہباز شریف نے کہا کہ غزہ میں50ہزارمعصوم جانوں کےضیاع کی شدید مذمت کرتےہیں، غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتےہیں، مسئلہ کشمیرپرترکیہ کی غیرمتزلزل حمایت پرمشکورہیں، شمالی قبرص کےمعاملےپرترکیہ کےموقف کی حمایت کرتےہیں۔ ہم نےمختلف شعبوں میں مشترکہ منصوبےشروع کرنے پر اتفاق کیا ہے، انسداد دہشت گردی کے لیے ترکیہ کے تعاون کے مشکورہیں، دونوں ملکوں میں توانائی، کان کنی، معدنیات اورآئی ٹی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پراتفاق ہوا۔

    شہباز شریف نے مزید کہا کہ وقت آگیا ہےکہ دہشت گردی کےخلاف مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی، قیام امن کےلیےاقوام عالم کودہشت گردی سےنمٹنےکےلیےحکمت عملی بنانا ہوگی۔

    طیب اردوان

    اس موقع پر ترکیہ کے صدرطیب اردوان نے کہا کہ وزیراعظم شہبازشریف کوترکیہ آمد پرخوش آمدید کہتا ہوں،دفاعی شعبےمیں پاکستان سے مل کر مشترکہ منصوبےشروع کرنا چاہتےہیں ،عالمی امورپردونوں ملکوں کےخیالات میں مکمل ہم آہنگی ہے۔ باہمی رابطےمضبوط دوستی کی علامت ہیں،پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے، ہر قسم کی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی کوششوں کی حمایت کرتےہیں۔طیب اردوان نے مزید کہا کہ دونوں ملک آزاد اورخودمختارفلسطینی ریاست کی حمایت کرتے ہیں۔

  • حماس کے  ایک ہزار سے زائد ممبران ترکیہ کے اسپتالوں میں زیر علاج ہیں،ترک صدر

    حماس کے ایک ہزار سے زائد ممبران ترکیہ کے اسپتالوں میں زیر علاج ہیں،ترک صدر

    استنبول: ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہےکہ فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے ایک ہزار سے زائد ممبران ترکیہ کے اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

    باغی ٹی وی : یونان کے وزیراعظم کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے طیب اردوان نے کہاکہ جب آپ حماس کو دہشتگرد تنظیم کہتے ہیں تو ہمیں دکھ ہوتا ہے، ہم حماس کو دہشتگرد تنظیم نہیں سمجھتے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق پریس کانفرنس کے بعد ترکیہ کے ایک حکومتی نمائندے نے نام نا ظاہر کرنے کی شرط پر صدر کے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ صدر طیب اردوان کی بات کا مطلب یہ تھا کہ غزہ سے تعلق رکھنے والے ایک ہزار فلسطینی شہریوں کا ترکیہ میں علاج کیا جارہا ہے، جن لوگوں کے علاج کے متعلق ترکیہ کے صدر نے بات کی وہ صرف حماس کے فائٹرز کے بارے میں نہیں تھی بلکہ وہ غزہ کے عام شہریوں سے متعلق تھی۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج کے غزہ میں حملے تیز کرنے کے ردعمل میں فلسطینی مزاحمتی گروپوں کی صیہونی فوج سے شدید جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہیں۔

    ہمیں اپنے دفاع کے لیے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں ہے،اسرائیل کاا مر یکا …

    فلسطینی مزاحمتی تنظیموں سے جھڑپوں میں 50 اسرائیلی فوجی زخمی ہوگئے جبکہ ڈرون حملے سے اسرائیلی ٹینک بھی تباہ کردیا گیا رفح میں اقوام متحدہ کی گاڑی پر اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے فلسطینی ڈرائیور شہید اور غیر ملکی امدادی اہلکار زخمی ہوگیا ادھر دنیا بھر میں مظلوم فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے، ایمسٹرڈیم یونیورسٹی میں پولیس کی طلبہ مظاہرین کے خلاف کارروائی کے بعد جامعہ کا عملہ بھی طلبہ کی حمایت میں کھڑا ہوگیا مصر میں امریکی جامعہ کے طلبہ نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے اسرائیلی کمپنیوں کے بائیکاٹ کے نعرے لگادئیے۔

    حزب اللہ کے شمالی اسرائیل میں میزائل حملے،چار اسرائیلی فوجی زخمی

  • سیلاب سے شدید متاثر پاکستان کی مدد کی جائے: اردوان کی عالمی برادری سے اپیل

    سیلاب سے شدید متاثر پاکستان کی مدد کی جائے: اردوان کی عالمی برادری سے اپیل

    نیویارک :ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ میں عالمی برادری سے اپیل کرتا ہوں کہ سیلاب سے شدید متاثر پاکستان کی اس نازک موقع پر مدد کی جائے۔

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کو 75 سال ہو چکے ہیں آزاد ہوئے، بدقسمتی ہے دونوں ممالک کے درمیان ابھی تک امن قائم نہ ہو سکا۔ ہماری دعائیں ہیں دونوں ممالک کے درمیان مستقل امن آئے اور اس کے اثرات مقبوضہ کشمیر میں بھی دیکھنے کو ملیں۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو سیلاب سے شدید متاثر ہوا ہے، اس شدید سیلاب کے بعد ہم نے انسانی ہمدردی کے طور پر اپنے برادر ملک کی مدد کی ہے اور مزید کوششیں جاری ہیں، میں عالمی برادری سے اپیل کرتا ہوں کہ سیلاب سے شدید متاثرہ ملک پاکستان کی اس نازک موقع پر مدد کی جائے۔

    افغانستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ افغانستان کو بہت سارے مسائل کا سامنا ہے، گزشتہ 50 سال سے افغانستان حالت جنگ میں ہے اور تنازعات کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے، اس وقت برادر ملک میں غربت سمیت بہت سارے مسائل ہیں ، دوست ملک کو چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، ہم افغانستان میں بھائیوں کے ساتھ ہیں۔عبوری حکومت مسائل سے نکلنے کے لیے کوشاں ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں ہماری مشترکہ قسمت کا متاثر کرنے والے امتحانات کے خلاف مشترکہ ایجنڈے کے ذریعے کارروائی کرنے کی ضرورت ہے ۔ زیادہ منصفانہ دنیا کے لئے اقوام متحدہ کی تنظیم نو کی ضرورت ہے۔ دنیا پانچ سے عظیم تر ہے اور زیادہ منصفانہ دنیا کے لیے ہم اپنی جدوجہد کو جاری رکھیں گے۔ دہشت گرد تنظیموں کے خلاف ترکیہ کو جو کچھ کرنے کی ضرورت ہے وہ کرتا رہے گا اور اس سے دستبردار نہیں ہوگا۔ واضح کردوں ہم دہشت گردی کے خلاف تمام ممکنہ اقدام اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔

    ترک صدر کا کہنا تھا کہ عراق کے حالات کا ناجائز فائدہ اٹھانے والے دہشت گرد تنظیمیں ترکیہ کو نشانہ بنانے والی کسی بھی کاروائی کو کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دے گا۔ ترکیہ کا اپنے اتحادیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں یکجہتی کی توقع کرنا اس کا فطری حق ہے۔

    رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ یونان کا تارکین وطن پر ظلم و ستم میں اضافہ ہوا ہے، اس ملک نے بحر ایجیئن کو غیر قانونی اور لاپرواہی کے ساتھ پناہ گزینوں کے قبرستان میں تبدیل کردیا ہے۔

    انہوں نے تصاویر دکھاتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ہفتے 9 -ماہ کے شیر خوار بچے عاصم، 4 سالہ عبد الوحم اور اس کے اہل خانہ، یونانی کوسٹ گارڈ فورسز کی جانب سے کشتیاں ڈبوی جانے کے نتیجے میں جاں بحق ہوگئے۔

    ایتھنز انتظامیہ کی اشتعال انگیزی اور پیدا کردہ کشیدگی کو ایک طرف رکھتے ہوئے ترکیہ کے ساتھ تعاون کرنے کی اپیل کرنے والے صدر ایردوان نے شمالی قبرصی ترک جمہوریہ کو سرکاری طور پر تسلیم کرنے کی دعوت دی۔

    مشرق وسطی میں دو ریاستوں پر مشتمل حل کی حمایت کا اعادہ کرنے والے اردوان نے القدس میں غیر قانونی بستیوں کی تعمیر کو روکنے، فلسطینیوں کی زندگی اور املاک کی حفاظت کو یقینی بنانے اور آزاد فلسطین ریاست کا مطالبہ کیا جس کا دارالحکومت مشرقی القدس ہو۔

    انہوں نے آذربائیجان اور آرمینیا کے مابین عمل کی حمایت کرتے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آذربائیجان کی مقبوضہ سرزمین کو آزاد کروانے سے مستقل امن کےقیام کے لیے ایک تاریخی کھڑکی کھل گئی ہے۔

    صحافیوں کے خلاف مقدمات، شیریں مزاری میدان میں آ گئیں، بڑا اعلان کر دیا

    سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

    جتنی ناانصافی اسلام آباد میں ہے اتنی شاید ہی کسی اور جگہ ہو،عدالت

    اسلام آباد میں ریاست کا کہیں وجود ہی نہیں،ایلیٹ پر قانون نافذ نہیں ہوتا ،عدالت کے ریمارکس

  • امریکہ کوہرصورت مشرق وسطیٰ خصوصا مشرقی فرات سےنکلناہوگا:آستانہ اجلاس

    امریکہ کوہرصورت مشرق وسطیٰ خصوصا مشرقی فرات سےنکلناہوگا:آستانہ اجلاس

    تہران :امریکہ کوہرحال میں مشرق وسطیٰ خصوصا مشرقی فرات سےنکلنا ہوگا:آستانہ اجلاس کااعلامیہ جاری کردیا گیا ہے ، اس حوالے سے ایرانی صدر سید ابراہیم رئیسی نے کہا ہے کہ مشرقی فرات کے علاقے میں امریکہ کی موجودگی کا کوئی جواز نہیں ہے اور امریکہ کو ہر حال میں اس علاقے سے نکلنا ہوگا۔

     

    سہ فریقی سربراہی اجلاس:تہران بنےگا میزبان: طیب اردوان،ولادی میرپوتن

    تہران میں آستانہ سربراہی کانفرنس کے ساتویں دور کے اختتام کے بعد ہونے والی پریس کانفرنس میں ایران کے صدرسید ابراہیم رئیسی نے ان مذاکرات میں روس اور ترکی کے صدور کی شرکت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ نشست کے دوران شام کی موجودہ حکومت کی قانونی حیثیت اور اقتدار اعلی پر زور دیا گیا۔

    صدر ایران نے مزید کہا کہ شام میں دریائے فرات کے مشرقی علاقوں میں امریکہ کی موجودگی کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہے اورامریکی افواج کو ہر حال میں ان علاقوں کو چھوڑنا ہوگا۔ انہوں نے شام کے تمام علاقوں پر اس ملک کی مرکزی حکومت کے اقتدار اعلی پر زور دیا۔

    ایرانی اور روسی صدر سہ فریقی اجلاس میں شرکت کے لیے انقرہ میں

    سید ابراہیم رئیسی نے کہا کہ آستانہ سربراہی اجلاس کے شرکا کی اس نشست میں دہشت گردی کے مقابلے اور اس سلسلے میں تمام ممالک کے تعاون پر بھی اتفاق ہوا۔

    روس کے صدر ولادیمیر پوتین نے بھی اس موقع پر آستانہ مذاکرات کے سربراہوں کی ملاقات اور بات چیت کو شام کے مسئلہ کے حل کے لئے انتہائی مفید اور موثر قرار دیا۔ پوتین نے اس نشست کے اختتامی بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تینوں ممالک نے شام کے حالات کو معمول پر لانے کے لئے مستحکم تعاون پر زور دیا ہے اور اس بات پر بھی سب کا اتفاق ہے کہ شام کے بحران کا حل صرف اور صرف سیاسی طریقے سے ممکن ہے۔

    پوتین نے مزید کہا کہ اس مقصد کے لئے ایرانی اور ترک حلیفوں سمیت شام کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کے ساتھ تعاون جاری رہے گا اور اس کمیٹی کے فیصلوں پر عملدرآمد کے عزم کا اعادہ کیا جاتا ہے

    پاکستان، ترکی ،آذربائیجان میں سہ فریقی ملاقات :آج اہم فیصلے متوقع

    مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران ترک صدر رجب طیب اردوغان نے بھی آستانہ نشست کے شرکا کے درمیان تعاون جاری رہنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ علاقے کے مستقبل میں علیحدگی پسندوں اور دہشت گردوں کے لئے کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔

  • خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان سےترکی کےصدر رجب طیب اردوغان کا ٹیلیفونک رابطہ

    خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان سےترکی کےصدر رجب طیب اردوغان کا ٹیلیفونک رابطہ

    انقرہ :سعودی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبد العزیز آل سعود اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے ٹیلیفونک رابطہ میں خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

    نیوز چینل کے مطابق ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے سعودی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے انہیں عید کی مبارکباد دی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے فروغ اور خطے میں ہونے والی تبدیلیوں کے بارے تفصیلی گفتگو کی ہے.

    ترک صدر رجب طیب اردوان 2 روزہ دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے۔

    یہ رابطہ اس وجہ سے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ آئندہ دنوں میں ایک طرف تو امریکی صدر جوبایڈن سعودی عرب کا دورہ کر رہے ہیں جبکہ ترک صدر رجب طیب اروغان اور روسی صدر ولادیمیر پوتین آئندہ ہفتے ایران پہنچ رہے ہیں. آئندہ ہفتے ایران، روس اور ترکی کے صدور کا خطے کے حالات کے بارے تہران میں اہم اجلاس ہونے جا رہا ہے۔

    یاد رہے کہ چند دن پہلے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ترک صدر رجب طیب اردوان کے ساتھ بات چیت کے لیے کئی برسوں میں پہلی مرتبہ ترکی کا دورہ کیا تھا جس کا مقصد سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد دونوں ممالک کے درمیان خراب تعلقات کو مکمل طور پر معمول پر لانا ہے۔

    ترک صدر رجب طیب اردوان اورشہبازشریف کی ملاقات:مشترکہ پریس کانفرنس بھی کی

    غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق اپریل میں رجب طیب اردوان نے علاقائی طاقتوں کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کے لیے ایک ماہ کی طویل مہم کے بعد سعودی عرب کا دورہ کیا تھا، ان کے دورہ سعودی عرب کے مقاصد میں استنبول میں جمال خاشقجی کے 2018 کے قتل کے مقدمے کو ختم کرنا بھی شامل تھا۔

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا تاریخی دورہ ترکی، طیب اردوان سے ملاقات

    ترک صدر نے اپنے دورے کے دوران ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ ون آن ون ملاقات کی تھی جس کے دوران انہوں نے بات چیت میں سعودی عرب کی جانب سے سرمایہ کاری کے امکانات کو وسعت دینے کی کوشش کی تاکہ ترکی کی مشکلات سے دوچار معیشت کو بحال کرنے میں مدد حاصل کی جائے۔

  • سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا تاریخی دورہ ترکی، طیب اردوان سے ملاقات

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا تاریخی دورہ ترکی، طیب اردوان سے ملاقات

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ترک صدر رجب طیب اردوان کے ساتھ بات چیت کے لیے کئی برسوں میں پہلی مرتبہ ترکی کا دورہ کیا جس کا مقصد سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد دونوں ممالک کے درمیان خراب تعلقات کو مکمل طور پر معمول پر لانا ہے۔

     

    غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق اپریل میں رجب طیب اردوان نے علاقائی طاقتوں کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کے لیے ایک ماہ کی طویل مہم کے بعد سعودی عرب کا دورہ کیا تھا، ان کے دورہ سعودی عرب کے مقاصد میں استنبول میں جمال خاشقجی کے 2018 کے قتل کے مقدمے کو ختم کرنا بھی شامل تھا۔

     

    ترک صدر نے اپنے دورے کے دوران ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ ون آن ون ملاقات کی تھی جس کے دوران انہوں نے بات چیت میں سعودی عرب کی جانب سے سرمایہ کاری کے امکانات کو وسعت دینے کی کوشش کی تاکہ ترکی کی مشکلات سے دوچار معیشت کو بحال کرنے میں مدد حاصل کی جائے۔

    رجب طیب اردوان نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ وہ اور ریاض کے بااختیار رہنما شہزادہ محمد بن سلمان انقرہ میں ہونے والی بات چیت کے دوران اس بات پر تبادلہ خیال کریں گے کہ وہ دونوں ممالک کے تعلقات کو کس اعلیٰ سطح تک لے جا سکتے ہیں۔

    سینئر ترک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز سے گفتگو کرتےہوئے بتایا کہ اس دورے سے دونوں ممالک کے درمیان بحران سے قبل جیسے تعلقات کی مکمل طور پر بحالی کی امید ہے جس سے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا۔

     

    سینئر ترک عہدیدار نے کہا کہ ترکی کے گرتے ہوئے زر مبادلہ کے ذخائر کو بحال کرنے میں مدد کرنے کی صلاحیت کی حامل ممکنہ کرنسی سویپ لائن پر بات چیت اور مذاکرات اتنی تیزی سے آگے نہیں بڑھ رہے جس رفتار سے ان میں پیش رفت ہونی چاہیے تھی اور اس معاملے پر رجب طیب اردوان اردگان اور شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان ہونے والی ون آن ون ملاقات میں بات چیت کی جائے گی۔

    سینئر ترک عہدیدار نے دورے کی تفصیلات سے متعلق مزید بتایا کہ شہزادہ محمد بن سلمان کے دورے کے دوران توانائی، معیشت اور سیکیورٹی سے متعلق معاہدوں پر دستخط کیے جائیں گے جب کہ سعودی سرمایہ کاروں کی جانب سے ترکی میں سرمایہ کاری سے متعلق منصوبہ بھی زیر غور ہے۔

     

    سعودی ولی عہد کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب کہ ترکی کی معیشت لیرا کی قدر میں کمی اور مہنگائی کی شرح 70 فیصد سے زیادہ بڑھ جانے کی وجہ سے بری طرح دباؤ کا شکار ہے۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سعودی مالی حمایت اور غیر ملکی کرنسی رجب طیب اردوان کو جون 2023 تک انتخابات سے قبل حمایت حاصل کرنے میں مدد دے سکتی ہے

  • سعودی ولی عہد محمد بن سلمان 22 جون کو ترکی کا دورہ کریں گے

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان 22 جون کو ترکی کا دورہ کریں گے

    سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان 22 جون کو ترکی کا دورہ کریں گے، ایک سینئر ترک اہلکارکا کہنا ہے کہ جمال خاشجی کے قتل کے بعد دوملکوں کے درمیان پہلی بارحالات کے بہترہونے کی اُمید پیدا ہوئی ہے، محمد بن سلمان کے اس دورے کو بہت اہمیت دی جارہی ہے

    ادھر اس حوالےسے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ استنبول میں سعودی قونصل خانے کے اندرجمال خاشقجی کے وحشیانہ قتل کے بعد شہزادہ محمدبن سلمان کا ترکی کا یہ پہلا دورہ ہے،جمال خاشجی کے قتل نے دونوں ملکوں کےدرمیان حالات کو بہت زیادہ کشیدہ کردیا تھا

    عہدیدار نے کہا کہ دورے کی تفصیلات کا اعلان "ہفتے کے آخر میں” کیا جائے گا۔

    عہدیدار نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کی قیادت اس اہم دورے کے دوران کئی معاہدوں پر دستخط کریں گے، جن کے دارالحکومت انقرہ میں ہونے کی امید ہے، لیکن مقام کی تصدیق ہونا باقی ہے۔

    ترک صدر رجب طیب اردگان پہلے ہی اپریل کے آخر میں سعودی عرب کا دورہ کر چکے ہیں، جہاں انہوں نے مکہ جانے سے قبل محمد بن سلمان سے ملاقات کی تھی۔

    سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے اس وقت اس دورہ کو خوش آئند قراردیتے ہوئے کہا تھا کہ برف پگھلنا شروع ہوگئی ہے ، اس موقع پر دونوں ملکوں کی قیادت نے "سعودی ترک تعلقات اور انہیں تمام شعبوں میں ترقی دینے کے طریقوں کا جائزہ لیا۔”

    گستاخانہ خاکے، فرانس کے خلاف ردعمل میں سعودی عرب کی پاکستان اور ترکی کے موقف کی…

    یاد رہے کہ غیرملکی میڈیا نے اس وقت یہ الزام عائد کیا تھا کہ سعودی ایجنٹوں نے اکتوبر 2018 میں مملکت کے استنبول قونصل خانے میں خاشقجی کو قتل کر کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، اس کی باقیات کبھی نہیں ملیں۔

    اردگان نے پہلے کہا تھا کہ سعودی حکومت کی "اعلیٰ ترین قیادت ” نے قتل کا حکم دیا تھا اور ترکی نے اس کیس کی بھرپور طریقے سے پیروی کرتے ہوئے، تحقیقات کا آغاز کیا اور بین الاقوامی میڈیا کو قتل کی گھناؤنی تفصیلات سے آگاہ کر کے سعودیوں کو ناراض کیا۔

    سعودی عرب اورترکی میں شدید اختلافات،سعودی عرب کے ترکی پرالزامات اورترکی کےسعودی…

    ترکی کے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات پہلے ہی کشیدہ تھے کیونکہ اس نے خلیجی ریاست پر ریاض کی زیرقیادت ناکہ بندی کے دوران قطر کی حمایت کی تھی لیکن خاشقجی کے قتل کے بعد تین سال تک تعلقات منجمد رہے۔

    سعودی عرب نے اس وقت ترکی کی معیشت پر دباؤ ڈالتے ہوئے ترکی کی درآمدات کا غیر سرکاری بائیکاٹ کیا تھا۔اب صدارتی انتخابات سے ایک سال قبل مہنگائی اور مہنگائی کے بحران کے ساتھ اردگان خلیجی ممالک سے حمایت حاصل کر رہے ہیں۔

    سعودی عرب اور ترکی ایک ہونے جارہے ، اہل اسلام کے لیے خوشی کی خبر

  • ترک صدر رجب طیب اردوان 2 روزہ دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے۔

    ترک صدر رجب طیب اردوان 2 روزہ دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے۔

    جمال خاشقجی قتل کے بعد ترک صدر کا پہلا دورہ سعودی عرب، اردوان جدہ پہنچ گئے ،اطلاعات کے مطابق غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق ترکی کے صدر رجب طیب اردوان سعودی فرمانروا شاہ سلمان کی دعوت پر جمعرات کو 2 روزہ دورے پر جدہ پہنچے۔

    رپورٹس کے مطابق ترک صدارتی دفتر سے جاری بیان میں کہاگیا ہے کہ ترک صدر سعودی حکام سے ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات بحالی پر تبادلہ خیال کریں گے جبکہ دورہ سعودیہ کے دوران ترکی کیساتھ تعاون بڑھانے پر بات چیت ہوگی۔

    خبررساں ایجنسی کے مطابق ترک صدر نے2017 کے بعد سعودی عرب کا پہلا دورہ کیا ہے کیوں کہ 2018 میں سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے۔

    یاد رہے کہ کل سعودی عرب آنے سے پہلے طیب اردوان نے کہا تھا کہ

    ترک صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ ترکی قانون کی حکمرانی رکھنے والی ریاست ہے اور اس میں انصاف آزاد ہے۔ انہوں نے غیزی پارک مظاہروں کے مقدمات میں تاجر عثمان کاوالہ کو سنائی جانے والی عمر قید کی سزا کے حوالے سے اندرونی اور بیرونی تنقید کو مسترد کر دیا۔

    صدر ایردوان نے افطار ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "ٹھیک ہے، ایک مخصوص شخص بارے تازہ ترین عدالتی فیصلے نے کچھ حلقوں کو پریشان کر دیا ہے۔ تو یہ آدمی کون ہے؟۔ یہ شخص ترکی کا ‘سوروس’ ہے۔ اور غیزی پارک کے واقعات کا پس پردہ کوآرڈینیٹر ہے۔ ہماری عدلیہ نے اس کے بارے اپنا حتمی فیصلہ دیا ہے جس کی وجہ سے کچھ حلقوں پریشان ہیں”۔

    صدرایردوان نے جارج سوروس کا حوالہ دیا، یہ ایک ارب پتی تاجر تھا جو مبینہ طور پر مقبول تحریکوں میں اپنے سرمایہ کے ذریعے اثر انداز ہوتا تھا۔ اس کی وجہ سے گزشتہ دہائیوں میں جارجیا اور یوکرائن میں منتخب حکومتوں کا خاتمہ ہوا۔ استنبول کی ایک عدالت نے اسی طرح کی ایک ترک شخصیت عثمان کاوالہ کو عمر قید اور سات دیگر مدعا علیہان کو 2013ء کے غیزی مظاہروں کے ذریعے حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کرنے پر 18 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ ترکی، امریکہ، یورپی یونین اور کونسل آف یورپ اور ترکی کی حزب اختلاف کی جماعتوں نے اس عدالتی سزا کی مخالفت کی ہے۔

  • ترک صدر کی توہین قابل سزا، گرفتاریاں شروع

    ترک صدر کی توہین قابل سزا، گرفتاریاں شروع

    ترک حکام نے ایسے 1 لاکھ 60 ہزار معاملات کی تفتیش شروع کر دی ہے، جن میں ملکی صدر کی ممکنہ توہین کی گئی۔

    باغی ٹی وی : رپورٹ کے مطابق ترک صدر رجب طیب ارگان کے بارے میں توہین آمیز جملے بولنے والوں کی گرفتاریاں شروع کر دی گئی ہیں اس ضمن میں چھتیس تفتیشی کیس جاری ہیں اور اب تک چار افراد کو حراست میں بھی لیا جا چکا ہے جبکہ چار کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کیے جا چکے ہیں انہی میں سے ایک سوئمنگ چیمپیئن دریا بُوئیکن جُو بھی ہیں، جو اب عدالتی کارروائی کے منتظر ہیں ان کی رکنیت کو ترک سوئمنگ فیڈریشن نے مستقل طور پر معطل کر رکھا ہے-

    ابوظبی ولی عہد اورترک صدر کی ملاقات،یو اے ای اور ترکی کے درمیان 13 معاہدوں اور یاداشتوں پر دستخط

    بُوئیکن نے کہا تھا کہ صدر اردگان کو کورونا ہو گیا ہے، اور انہیں دعاوں کی ضرورت ہے، کھلاڑی نے یہ بھی کہا تھا کہ انہوں نے اپنے علاقے کے لوگوں میں بانٹنے کے لیے بیس برتن حلوے کے تیار کرائے ہیں۔ان کلمات پر انہیں توہین کے الزامات کا سامنا ہے اور اگر ان پر توہین ثابت ہو جاتی ہے تو انہیں چار برس تک قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

    یاد رہے ترکی میں ملکی صدر کے بارے میں توہین آمیز کلمات ادا کرنا ایک فوجداری جرم ہے جو ارگان کے صدر بننے سے بھی کئی سال قبل سے نافذ ہے۔ لیکن ان سے پہلے کے صدور نے اس قانون کا زیادہ استعمال نہیں کیا ان سے قبل تین صدور عبد اللہ گُل، احمد نجد سیزر اور سلیمان ڈیمرل کے ادوار میں درج کیے جانے والے ایسے مقدمات کی تعداد محض 1ہزار 1 سو 69 تھی۔

    صدر اردوان کے 8 سالہ دورہ حکومت میں 1 لاکھ 60 ہزار توہین کے واقعات میں کی تفتیش شروع کی گئی، جن میں سے انتالیس ہزار افراد جو جلد ہی عدالت میں پیش کیا جائے گا-

    بھارت کا اپنے شہریوں کو یوکرین چھوڑنے کا مشورہ

    استنبول یونیورسٹی کے قانون کے پروفیسر کے مطابق اب تک 13 ہزار مقدمات میں فیصلے سنائے جا چکے ہیں، جن میں 3 ہزار 600 افراد کو سزائیں سنائی گئیں اور ساڑھے پانچ ہزار کو عدالتوں نے بری کر دیا ہے پروفیسر یہ بھی کہنا ہے کہ ان مقدمات میں عدالتوں کی جانب سے ایسے افراد کو بھی سزائیں سنائی گئیں، جن کی عمریں ان کے خلاف فیصلے سنائے جانے کے وقت اٹھارہ برس سے بھی کم تھیں۔ ایسے سزا یافتہ افراد کی تعداد سو سے زائد بنتی ہے۔

    ترکی: ’بسم اللہ‘ کی خطاطی سے مزین 19 کروڑ سال پرانا سنگ مرمر پتھردریافت

    اس وقت ترکی میں یہ سوال بھی زیرِ بحث ہے کہ ملکی صدر رجب طیب ایردوآن کے بارے میں کوئی بات کرنا بھی ان کی تذلیل تصور کی جا سکتی ہے ایسے حکومتی اقدامات کے تناظر میں ترک عوام میں یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ آیا ایسے عام بول چال کے جملے آزادئ اظہار کے منافی ہیں اور یہ ملکی صدر کی بے عزتی کا سبب ہیں۔ اب ان معاملات کا فیصلہ ترک عدالتوں کو کرنا ہے۔

    ترک وزارتِ انصاف کے مطابق صدر اردوان کی توہین کرنے کے 3 ہزا1ر تفتیشی کیسز کا عمل سن 2020 میں شروع کیا گیا تھا۔ یہ بھی بتایا گیا کہ توہین آمیز جملوں کی ادائیگی پر تفتیشی عمل سن 2014 میں شروع کیا گیا۔ یہ وہی سال تھا جب رجب طیب اردوان نے منصبِ صدارت سنبھالا تھا۔

    اسرائیلی وزیراعظم بحرین کے پہلے سرکاری دورے پر پہنچ گئے