Baaghi TV

Tag: طیب اردگان

  • پاکستانی طیب اردگان بننے کی کوششیں — نعمان سلطان

    پاکستانی طیب اردگان بننے کی کوششیں — نعمان سلطان

    ورلڈ کپ جیتنے کے بعد عمران خان اپنی مقبولیت کے عروج پر تھے ایسے عالم میں انہوں نے اپنی مرحومہ والدہ محترمہ شوکت خانم( جن کی کینسر کے مرض میں مبتلا ہونے کی وجہ سے موت ہوئی تھی) کو خراج تحسین پیش کرنے اور ان کے لئے صدقہ جاریہ کی نیت سے ان کے نام پر کینسر کے علاج کے لئے جدید سہولیات سے آراستہ ایک ہسپتال بنانے کا فیصلہ کیا، ظاہری بات ہے کہ ان کے پاس صرف نیک نیتی، جذبہ اور محدود وسائل تھے چنانچہ انہوں نے اس نیک کام کے لئے حکومت وقت اور عوام سے چندے کی درخواست کی اور حکومت اور عوام نے ان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کیا جسکی وجہ سے وہ عوام کے لئے جدید سہولیات سے آراستہ "شوکت خانم کینسر ہسپتال ” بنانے میں کامیاب ہو گئے اور اس کاوش پر عوام آج تک انہیں اچھے الفاظ میں یاد کرتی ہے ۔

    اپنے فلاحی منصوبے میں کامیابی کے بعد عمران خان کو یہ محسوس ہوا کہ اگر وہ فرد واحد ہو کر اتنا بڑا اور مہنگا ہسپتال بنانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں تو اگر انہیں اقتدار مل جائے تو وہ زیادہ آسانی اور سہولت سے عوام کی خدمت کر سکتے ہیں چنانچہ عمران خان نے سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا اس وقت کی سیاسی جماعتوں نے انہیں اپنے پلیٹ فارم سے سیاست شروع کرنے کی پیشکش کی لیکن اپنی خود اعتمادی اور عوامی مقبولیت کے بل بوتے پر انہوں نے کسی جماعت کے پلیٹ فارم کے بجائے اپنی ذاتی سیاسی جماعت بنا کر الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ۔

    لیکن جیسے دور کے ڈھول سہانے ہوتے ہیں ایسے ہی سیاست میں آ کر عمران خان کو معلوم ہوا کہ ذاتی مقبولیت کی بنا پر وہ انتخابات میں اپنی نشست تو جیت سکتے ہیں لیکن اپنی شخصیت کی بنیاد پر وہ اپنے ٹکٹ ہولڈر کو الیکشن میں کامیاب نہیں کرا سکتے وقت گزرنے کے ساتھ اپنے مشیروں کے مشوروں پر عمل کرتے ہوئے وہ 2013 کے الیکشن میں معقول تعداد میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے اس کے علاوہ ایک صوبے(خیبر پختون خواہ) میں اپنی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے اور پھر انہیں وزیر اعلیٰ خیبر پختون خواہ (پرویز خٹک) کی صورت میں وہ مشیر مل گیا جس نے انہیں اقتدار کی راہداریوں میں جانے کا اصل راستہ اور کن لوگوں کی خوشنودی حاصل کر کے اس راستے پر چلتے ہوئے اپنی منزل پر پہنچ سکتے ہیں بتا دیا، اور ان کے مشوروں پر عمل پیرا ہو کر آخر کار عمران خان 2018 کے الیکشن میں مرکز، پنجاب اور خیبر پختون خواہ میں اپنی حکومت بنانے میں اور بلوچستان میں مخلوط حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئے ۔

    حکومت میں آتے ساتھ ہی عمران خان کو وہ عزت اور توجہ دوبارہ ملنا شروع ہو گئی جو انہیں ورلڈ کپ جیتنے کے بعد ملی تھی اس کے علاوہ خوشامدی لوگ بھی، جن کی کل قابلیت برسرِ اقتدار ہر راہنما کی خوشامد کر کے فوائد حاصل کرنا تھا چنانچہ خوشامدی لوگ جوں جوں ان کے قریب آتے گئے مخلص دوستوں سے عمران خان کا فاصلہ بڑھتا چلا گیا اور اگر کسی نے ان کے کسی غلط فیصلے کی نشاندہی کر بھی دی تو عمران خان نے اس ساتھی سے مشورہ لینا چھوڑ دیا اور رفتہ رفتہ اپنی خوشامد سن کر وہ اس نہج پر پہنچ گئے کہ اپنی ذات کی نرگسیت کا شکار ہو گئے اور خود کو عقل کل سمجھنا شروع کر دیا جس کی وجہ سے ان سے کئی سیاسی طور پر غلط فیصلے ہوئے اور ان کے اعلیٰ حلقوں کے درمیان غلط فہمیاں اور پھر فاصلے پیدا ہونے لگے۔

    ترکی (ترکیہ) میں جناب طیب اردگان کے خلاف بغاوت، عوام اور محب وطن فوجی افسران کی مدد سے اس بغاوت کے خاتمے کی وجہ سے عمران خان کے ذہن میں یہ راسخ تھا کہ اگر حکمران عوام میں مقبول ہو تو کوئی دنیاوی طاقت اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی اور ان کے اردگرد موجود خوشامدی لوگوں نے انہیں یہ باور کرا دیا کہ اس وقت آپ اپنی عوامی مقبولیت کی معراج پر پہنچے ہوئے ہیں چنانچہ حد سے زیادہ خود اعتمادی کا شکار ہو کر عمران خان نے دیگر طاقتوں سے الجھنا شروع کر دیا، ان کے مخلص ساتھیوں نے انکو سمجھانے کی ہر ممکن کوشش کی اور دیگر طاقتوں اور ان کے درمیان پیدا ہونے والی خلیج کو دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن معاملات جیسے ہی بہتری کی طرف جاتے خوشامدی لوگ کوئی ایسی حرکت کر دیتے کہ معاملات دوبارہ خراب ہو جاتے اور آخرکار مقتدر طاقتوں اور عمران خان کے درمیان خلیج بڑھنے کا فائدہ پرانی سیاسی جماعتوں نے اٹھایا اور تحریک عدم اعتماد کے ذریعے حکومت کا خاتمہ کر دیا ۔

    عمران خان نے ہار ماننے کے بجائے میدان عمل میں اترنے کا فیصلہ کیا اور رجیم چینج کے نام پر عوام میں اپنا بیانیہ پیش کیا جس کو بھرپور عوامی پذیرائی ملی اور اس کے نتیجے میں ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی کو کامیابی حاصل ہوئی اور اکثریت حاصل کرنے کے باوجود وہ وزیر اعلیٰ کا الیکشن ہار گئے اور پھر عدالتی حکم سے پی ٹی آئی کا امیدوار وزیر اعلیٰ بنا، بھرپور عوامی مقبولیت اور اپوزیشن کے بارے میں عوامی غم و غصے کے باوجود ابھی تک عمران خان اپنے مطالبات (دوبارہ الیکشن) نہیں منوا سکے۔

    اس کی وجوہات کا تعین کرنے کے لئے جب انہوں نے اپنے مخلص ساتھیوں(پرویز خٹک، ذلفی بخاری اور دیگر ) کے ساتھ مشورہ کیا تو انہوں نے یہی مشورہ دیا کہ پاکستان میں فرد واحد صرف "اکائی ” ہے جو کہ اپنا یا کسی کا انفرادی طور پر تو فائدہ کر سکتا ہے لیکن مجموعی ملکی فائدے کے لئے تمام طاقت کے مراکز کو مل کے چلنا چاہیے تا کہ ہم اکائی سے” وحدت” بن سکیں، پانی کی منہ زور لہروں کے مخالف تیرنے سے آپ منزل پر نہیں پہنچتے بلکہ تھک کر راستے میں ہی ڈوب جاتے ہیں اس لئے عقلمندی کا تقاضہ پانی کی منہ زور لہروں کو اپنی کمزوری نہیں بلکہ طاقت بنانا ہے ۔

    اور سننے میں یہی آ رہا ہے کہ یہ بات عمران خان کی سمجھ میں آ گئی ہے اور انہوں نے پرویز خٹک اور ذلفی بخاری کو پی ٹی آئی اور دیگر طاقت کے مراکز کے درمیان غلط فہمیاں دور کرنے کی ذمہ داری دی ہے تاکہ تمام اداروں کے درمیان غلط فہمیاں دور کر کے عوامی لحاظ سے مقبول جماعت کے اقتدار میں آنے کا راستہ ہموار کیا جا سکے اور دوبارہ سے عوامی خدمت کا سفر وہیں سے شروع کیا جا سکے جہاں پر ختم ہوا تھا، امید ہے عمران خان بھی غلط فہمیاں دور ہونے کے بعد دوبارہ سے اپنی سیاسی غلطیوں کا اعادہ اور طیب اردگان بننے کی کوشش نہیں کریں گے کیونکہ طیب اردگان بننے کے لئے معیشت کو مضبوط کر کے اس کے ثمرات عوام تک پہنچانے ہوتے ہیں جس کی بنیاد پر وہ حکمران کے اخلاص کے قائل ہو کر ملکی ترقی کے لئے خطرہ بننے والی ہر رکاوٹ کے سامنے سینہ سپر ہوجاتے ہیں.

  • جمال خاشقجی کے قتل کے بعد طیب اردگان کا پہلی مرتبہ دورہ سعودی عرب کا اعلان

    جمال خاشقجی کے قتل کے بعد طیب اردگان کا پہلی مرتبہ دورہ سعودی عرب کا اعلان

    ترکی کے صدر رجب طیب اردگان جمعرات کو سعودی عرب جائیں گے، ایک اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا، ریاض کے ناقد جمال خاشقجی کے 2018 میں استنبول کے قونصل خانے میں قتل کے بعد اپنے پہلے دورے میں سعودی عرب جارہے ہیں‌۔

    یہ دو روزہ دورہ استنبول کی ایک عدالت کی جانب سے اس بہیمانہ قتل سے منسلک 26 سعودی مشتبہ افراد کی غیر حاضری میں مقدمے کی سماعت روکنے کے فیصلے کے بعد ہوا ہے، کیس کو سعودی عرب منتقل کر دیا گیا ہے۔

    59 سالہ صحافی کو 2 اکتوبر 2018 کو استنبول میں سعودی قونصل خانے کے اندر ایک بہیمانہ قتل میں قتل کر دیا گیا جس نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔

    ترکی نے قتل کی تحقیقات پر دباؤ ڈال کر ریاض کو ناراض کیا، جس کے بارے میں اردگان نے کہا کہ سعودی حکومت کی "اعلیٰ ترین سطح” پر حکم دیا گیا تھا۔

    دو سنی علاقائی طاقتوں کے درمیان تعلقات تیزی سے بگڑ گئے اور سعودی عرب نے غیر سرکاری طور پر ترکی کی معیشت پر دباؤ ڈالنے اور ترکی کی اہم درآمدات کا بائیکاٹ کرنے کی کوشش کی۔

    استنبول کے مقدمے کی سماعت ترکی میں اقتصادی بحران کے ایک نئے دور کے دوران معطل کر دی گئی تھی، جو کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور موسم سرما میں سڑکوں پر ہونے والے احتجاجی مظاہروں کا شکار ہے جس نے اگلے سال ہونے والے عام انتخابات سے قبل اردگان کی مقبولیت کو نقصان پہنچایا تھا۔

    ترکی اب توانائی کی دولت سے مالا مال خلیجی ممالک سے مالی امداد کا ڈھول پیٹ رہا ہے جن کے ساتھ عرب بہار کی بغاوتوں کے بعد اس کی دہائی میں اختلاف رہا ہے۔

    اردگان پہلے ہی مصر اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کر چکے ہیں، جس نے ترکی کے لیے ایک نئے سرمایہ کاری پیکج پر اتفاق کیا ہے۔

    ایک ترک اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ اردگان سے اپنے دورہ ریاض کے دوران کوئی باضابطہ اعلان کرنے کی توقع نہیں ہے۔

    عہدیدار کا کہنا ہے کہ اردگان سعودی عرب کے شاہ سلمان سے ملاقات کرنے والے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ امکان ہے کہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان مذاکرات میں شرکت کرنے والے وفد میں شامل ہوں گے۔

     

    حکومتی دباؤ مسترد:امریکا میں سابق پاکستانی سفیر ڈٹ گئے:عمران خان کے موقف کی تائید…

  • ارطغرل غازی نے دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے، تحریر طہ منیب

    ارطغرل غازی ترکی کی ایک معروف ڈرامہ سریل ہے جو ترکی کے سرکاری چینل ٹی آر ٹی کی پروڈکشن ہے، تین سو سے زائد اقساط اور پانچ سیزنز پر مبنی یہ سیریل خلافت عثمانیہ کی بنیاد رکھنے والے ترک قائی قبیلے ایک سردار ارطغرل غازی کی زندگی کے نشیب و فراز ، سازشوں و چالوں اور بیک وقت عیسائیوں، منگولوں اور اندرونی سازشوں کا مقابلہ کرکے ترک ریاست کے قیام کی کہانی ہے جو بعد ازاں اسکے تیسرے بیٹے عثمان کے نام سے ایک ترک ریاست سے بڑھ کر خلافت عثمانیہ کی بنیاد پر منتج ہوتی ہے۔ کورلش عثمان کے نام سے ایک نئی سیریز ارطغرل کا تسلسل ہے اور اسکے بیٹے عثمان کی زندگی پر بنائی گئی ہے جسکا پہلا سیزن ٹی آر ٹی ترک سرکاری چینل پر دکھایا جا رہا ہے۔

    ارطغرل اسلامی روایات جہاد، عدل و انصاف اور دیگر شعائر کی ترجمانی کرتا فلم و ڈرامہ انڈسٹری کا شاہکار ہے، جس نے دنیا بھر میں مقبولیت کے ریکارڈ توڑے ہیں۔ متعدد تراجم اور سب ٹائٹلز کے ساتھ چوبیس سے زیادہ ممالک کے سرکاری و غیر سرکاری چینلز پر دکھایا جانے والا یہ ڈرامہ ہالی وڈ انڈسٹری پر بم بن کر گرا ہے۔ نیویارک ٹائمز تک کو آرٹیکل لکھنا پڑ گیا کہ ترکی اس ڈرامے کو بنیاد بنا کر خلافت عثمانیہ تجدید نو پر گامزن ہے۔ سعودیہ عرب، متحدہ عرب امارات نے فتویٰ کی بنیاد پر سرکاری طور پر ارطغرل کو بین کیا جبکہ بھارت نے بھی بین کیا ہے۔

    ارطغرل یوٹیوب چینل پرصرف دو ہفتوں میں ایک ملین سبسکرائبرز

    چند ماہ قبل وزیراعظم پاکستان کی ترک صدر طیب ارگان سے ملاقات کے بعد ارطغرل کے اردو ترجمہ کی پاکستانی سرکاری چینل پی ٹی وی پر آن ائر کرنے کی خواہش کا اظہار کیا جو تسلیم کیا گیا، ٹی آر ٹی ارطغرل پی ٹی وی کے نام سے رمضان سے چند دن قبل یوٹیوب پر ایک نیا چینل بنایا اور روزانہ کی بنیاد پر شام سات بج کر پینتالیس منٹ پر نئی قسط اپلوڈ کی جاتی ہے جس کی ری پیٹ رات اور اگلے دن بارہ بجے دکھائی جاتی ہے۔ ارطغرل اردو کا یوٹیوب چینل مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کرتے ہوئے صرف دو ہفتوں میں ایک ملین سبسکرائبرز کا عدد عبور کر چکا ہے جبکہ یوٹیوب پر ورلڈ ریکارڈ ایک مہینے میں چھے اعشاریہ چھے ملین سبسکرائبرز کا ہے، اب پی ٹی وی کا اگلا ہدف یقیناً پچیس اپریل تک چھے ملین سے زائد سبسکرائبرز لے کر ورلڈ ریکارڈ بنانے کا ہے یہ ہدف مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔ اس مقبولیت نے پی ٹی وی کے مردہ گھوڑے میں جان ڈال دی ہے جو گزشتہ ایک دہائی سے زوال کا شکار تھا۔

    پی ٹی وی کی پروموشنل ٹویٹ

    یوٹیوب پر اب تک اپلوڈ کی گئی ہر قسط کے ویوز ملینز میں ہیں

    ارطغرل ڈرامہ سیریل یوٹیوب پر اب تک اپلوڈ ہوئی تمام چودہ اقساط میں ہر ایک کے ویوز ملینز میں ہیں۔ ارطغرل غازی ٹویٹر پاکستان پر اب تک متعدد بار ٹرینڈنگ ٹاپک بن چکا ہے اس وقت بھی ٹاپ ٹرینڈ ارطغرل سے متعلق ہی ہے۔ #ErtugrulYoutubeRecord ۔فیس بک پر گزشتہ دو ہفتوں سے ارطغرل زیر بحث ہے، جہاں ارطغرل کے حامیوں کی بڑی تعداد اس کے فوائد و ثمرات گنوا رہی ہے وہاں فریق مخالف بھی فتاویٰ اور دیگر دلائل کے ہمراہ میدان میں ہے۔ ٹک ٹاک پاکستان پر بھی ہر دوسری ویڈیو کا عنوان ارطغرل ہی ہے۔

    پی ٹی وی کا یوٹیوب ریکارڈ ٹویٹر پر بھی ٹاپ ٹرینڈ

    جہاں پاکستان کے بہت سے معروف لوگوں حمزہ علی عباسی و دیگر نے اسکی حمایت کی اور دیکھنے کی درخواست کی وہاں لالی وڈ انڈسٹری کے کچھ بڑے نام جیسا کہ شان شاہد نے اسکی مخالفت کی اور اپنے ہیروز پر کام کرنے کی تجویز دی۔قطع نظر اختلافات کے ارطغرل غازی ڈرامہ سیریل اس سے بہت بہتر ہے جو پروڈکشن پاکستانی اور انڈین ڈرامہ و فلم انڈسٹری پیدا کر رہی ہے۔