Baaghi TV

Tag: ظالم

  • مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوج نے بارہمولہ میں ایک صوفی بزرگ کا مزارجلا کر خاکسترکردیا

    مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوج نے بارہمولہ میں ایک صوفی بزرگ کا مزارجلا کر خاکسترکردیا

    سرینگر:مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوج نے بارہمولہ میں ایک صوفی بزرگ کا مزارجلا کر خاکسترکردیا،اطلاعات کے مطابق غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ضلع بارہمولہ کے علاقے نوشہرہ میں ایک صوفی بزرگ کا مزار جل کر خاکستر ہوگیا۔

    ایک سرکاری عہدیدارنے بتایا کہ آگ نے سید سخی رحم اللہ علیہ کے مزار کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور کچھ ہی عرصے میں یہ عمارت جو بنیادی طور پر لکڑی کی بنی ہوئی تھی، جل کرخاکستر ہوگئی۔مقامی لوگوں کی کوششوں کے باوجود جنہیں بعد میں آگ بجھانے والے عملے نے مدد فراہم کی، ڈھانچے کو نہیں بچایا جاسکا۔

    سرکاری عہدیدار نے بتایا تاہم مشترکہ کوششوں سے آگ کو قریبی عمارتوں تک پھیلنے سے روکا گیا۔ آگ لگنے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی۔

    ادھر غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے اتوار کو جیل میں نظربند انسانی حقوق کے معروف کارکن خرم پرویز کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق خرم پرویزکوجو سرینگر میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم جموں و کشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی کے کوآرڈینیٹر ہیں، بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے گزشتہ سال 22نومبر کو گرفتار کیا تھا اور ان کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون یواے پی اے کے تحت جھوٹا مقدمہ درج کیا تھا۔

    قابض حکام نے بتایا کہ این آئی اے کے اہلکاروں نے پہلے سے درج ایک کیس کے سلسلے میں سرینگر کے علاقے سوناوار میں انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا اور تلاشی لی۔تحقیقاتی ادارے کو بھارتی پولیس اور پیراملٹری فورسزکی مدد حاصل تھی۔

    اس سے قبل نئی دہلی میںاین آئی اے کی خصوصی عدالت کے جج پروین سنگھ نے خرم پرویز کو ایک جھوٹے مقدمے میں عدالتی تحویل میں دیکر جیل بھیج دیاتھا۔

  • بھارت مقبوضہ کشمیر میں خواتین کی آبروریزی کو جنگی ہتھیار کے طورپراستعمال کر رہاہے:کشمیری رہنما

    بھارت مقبوضہ کشمیر میں خواتین کی آبروریزی کو جنگی ہتھیار کے طورپراستعمال کر رہاہے:کشمیری رہنما

    سرینگر: بھارت مقبوضہ کشمیر میں خواتین کی آبروریزی کو جنگی ہتھیار کے طورپراستعمال کر رہاہے:کشمیری رہنما ،اطلاعات کے مطابق بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماوں نے افسوس کا اظہار کیا ہے کہ بھارت کشمیریوں کی تذلیل اور انکی جدوجہدآزادی کو دبانے کے لیے کشمیری خواتین کی عصمت دری کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

    حریت رہنماوں نے 1991 کے کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری کی شدید مذمت کی اور اسے جموں و کشمیر کی تاریخ کا سب سے المناک واقعہ قرار دیا۔ انہوں نے ایسے تمام واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تاکہ ملوث بھارتی فوجیوں کو سزا دی جا سکے۔ بھارتی فوجیوں نے23 فروری 1991 کی رات کو ضلع کپواڑہ کے علاقے کنن پوش پورہ میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران تقریباً سو خواتین کی اجتماعی عصمت دری کی تھی۔

    کل جماعتی حریت کانفرنس کے نائب چیئرمین غلام احمد گلزار نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ کنن پوش پورہ میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے اجتماعی عصمت دری ایک شرمناک فعل ہے جس کی دنیا کے تمام انسانوں کو مذمت کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات کے مجرم سزائے موت کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموںوکشمیرکے لوگوں کا بھارتی عدلیہ پر سے اعتماد ختم ہو چکا ہے اور وہ ایسے دلخراش واقعات میں انصاف کی توقع نہیں رکھتے۔

    غلام احمد گلزار نے اجتماعی عصمت دری کے تمام متاثرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور کشمیریوں کی جاری مزاحمتی تحریک کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل اور بین الاقوامی فوجداری عدالت پر زور دیا کہ وہ کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری جیسے انسانیت کے خلاف سنگین جرائم پر بھارت کے خلاف کارروائی کرے اور مجرموں کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لائے۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما مولوی بشیر احمد عرفانی نے سرینگر میں ایک بیان میں افسوس کا اظہار کیا کہ کنن پوش پورہ سانحہ کے متاثرین کو تین دہائیوں سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود انصاف فراہم نہیں کیا گیا۔

    حریت رہنما محمد یوسف نقاش نے سرینگر میں اپنے بیان میں کہا کہ کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری کشمیری خواتین کو تحریک آزادی سے دور رکھنے کے لیے بھارتی حکام کی طرف سے رچی گئی ایک سوچی سمجھی سازش تھی۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کی رہنما زمرودہ حبیب نے سرینگر میں ایک بیان میں اس اندوہناک واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار اور کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری کیس کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا

    حریت رہنما یٰسمین راجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی اور فاشزم کی ایک واضح مثال ہے۔۔حریت رہنما عبدالصمد انقلابی نے سرینگر میں ایک بیان میں کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی خواتین کو بھارتی فورسز اہلکاروں کے ہاتھوں عصمت دری، جنسی زیادتی اور چھیڑ چھاڑ کی ہولناکیوں کا سامنا ہے

    کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموںوکشمیر شاخ کی رہنما، شمیم شال نے اسلام آباد میں ایک بیان میں کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری کے متاثرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ ہر سال 23 فروری کشمیریوں کو مقبوضہ جموںوکشمیرمیں بھارتی فوجیوں کی طرف سے کی جانے والی ایک بھیانک حرکت کی یاد دلاتا ہے۔

  • لندن میں خالصتان ریفرنڈم توامریکی سینٹ میں سکھوں کی نسل کشی ُ کی مذمتی قراردادمتفقہ طورپر منظور

    لندن میں خالصتان ریفرنڈم توامریکی سینٹ میں سکھوں کی نسل کشی ُ کی مذمتی قراردادمتفقہ طورپر منظور

    نیوجرسی:لندن میں خالصتان ریفرنڈم توامریکی سینٹ میں سکھوں کی نسل کشی ُ کی مذمتی قراردادمتفقہ طورپر منظور اطلاعات کے مطابق امریکہ کی شمال مشرقی ریاست نیو جرسی کی سینیٹ نے متفقہ طور پر ایک مذمتی قرارداد میں بھارت کی طرف سے 1984میں سکھوں کے قتل عام کو نسل کشیُ قرار دیتے ہوئے امریکی صدر اور دیگر حکام سے اس سلسلے میں آواز بلند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سینیٹر سٹیفن ایم سوینی کی طرف سے پیش کی گئی قرارداد امریکی صدر اور نائب صدر، امریکی سینیٹ کے اکثریتی اور اقلیتی لیڈروں ،امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر اور اقلیتی لیڈر اور کانگریس کے ہر رکن کو بھجوائی جائیگی ۔

    قرارداد میں کہاگیا ہے کہ بھارتی پنجاب کی سکھ برادری نے جس کے ارکان سو برس قبل ہجرت کر کے امریکہ آگئے امریکہ اور نیو جرسی کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔سکھوں کی نسل کشی یکم نومبر 1984کو نئی دلی میں بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد جھارکھنڈ، مدھیہ پردیش، ہریانہ، اتراکھنڈ، بہار، اتر پردیش، مغربی بنگال، ہماچل پردیش، راجستھان، اڑیسہ، جموں و کشمیر، چھتیس گڑھ، تریپورہ، تامل ناڈو، گجرات، آندھرا پردیش، کیرالہ، اور مہاراشٹرریاستوں میں شروع ہو ئی۔

    قرارداد میں سکھ مذہب کو دنیا کا پانچواں بڑا مذہب قرار دیا گیا ہے جس کے دنیا بھر میں تقریبا تیس کروڑ نوے لاکھ ماننے والے ہیں جن میں سے دس لاکھ امریکہ میں مقیم ہیں۔قرارداد کے مطابق تین دن تک جاری رہنے والی سکھوں کی نسل کشی میں تیس ہزار سے زائد سکھوں کو بے دردی سے قتل کیا گیا۔قرارداد میں16اپریل 2015کو کیلیفورنیا کی ریاستی اسمبلی کی طرف سے متفقہ طور پر منظور کی گئی ایک قراردادکا حوالہ دیاگیا ہے جس میں بھارتی حکومت کی طرف سے سکھوں کے منظم قتل عام کا اعتراف کیا گیاہے۔

    قرارداد میں 1984کے سکھ نسل کشی کے دوران اپنی جانیں گنوائیں۔17اکتوبر 2018کو پنسلوانیا کی دولت مشترکہ کی جنرل اسمبلی نے متفقہ طور پر قرارداد HR-1160منظور کی جس میں نومبر 1984میںسکھوںپر ظلم و تشدد کو نسل کشی ُ قرار دیا گیا۔

    قرارداد میں کہاگیا ہے کہ عینی شاہدین، صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی طرف سے اکٹھے کئے گئے شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار براہ راست اور بالواسطہ طریقوں سے سکھوں کے قتل عام میں ملوث تھے اور وہ یہ سلسلہ بند کرانے میں ناکام رہے۔2011میں بھارتی ریاست ہریانہ کے علاقوں ہوند چلر اور پٹودی کے دیہات میں اجتماعی قبریںدریافت ہوئی ہیں۔

    نئی دہلی کے تلک وہار محلے کی "بیوہ کالونی” میں آ بھی ہزاروں سکھ خواتین انصاف کی منتظر ہیںجن کی اجتماعی عصمت دری کی گئی اور ان کے شوہر، والد اور بیٹوں کو قتل کردیا۔سکھوں کے قتل عام میں زندہ بچ جانیوالی آخر کار ہجرت کر کے امریکہ چلے گئے اور انہوں نے فریسنو، یوبا سٹی، سٹاکٹن، فریمونٹ، گلینروک، پائن ہل، کارٹریٹ، نیو یارک سٹی اور فلاڈیلفیا میں سکونت اختیار کی اور بڑی سکھ برادریاں قائم کیں۔

    1984میں پورے بھارت میں ریاستی سرپرستی میں سکھوں پر وحشیانہ ظلم و تشدد اور انکے قتل عام کا اعتراف ، انصاف اور احتساب کی جانب ایک اہم اور تاریخی قدم ہے، جودیگر ممالک کی حکومتوں کیلئے ایک مثال بھی ہے ۔ریاست نیو جرسی کی سینیٹ کی طرف سے منظور کی گئی قرارداد امریکی صدر اور نائب صدر، امریکی سینیٹ کے اکثریتی اور اقلیتی لیڈروں ،امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر اور اقلیتی لیڈر اور کانگریس کے ہر رکن کو بھجوائی جائیگی ۔