Baaghi TV

Tag: ظاہر جعفر

  • نور مقدم قتل نظرثانی کیس:ملزم  ظاہر جعفر نے قتل تسلیم کرلیا

    نور مقدم قتل نظرثانی کیس:ملزم ظاہر جعفر نے قتل تسلیم کرلیا

    سپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس کے مرکزی مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت کے خلاف دائر نظرثانی درخواست مسترد کرتے ہوئے سنائی گئی سزا برقرار رکھی ہے۔

    جسٹس اشتیاق ابراہیم، جسٹس صلاح الدین پہنور اور دیگر ججز پر مشتمل بینچ نے کیس کی سماعت کی، سماعت کے بعد مختصر فیصلہ سناتے ہوئے ظاہر جعفر کی نظرثانی درخواست خارج کردی، دورانِ سماعت ملزم کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت کے روبرو تسلیم کیا کہ نور مقدم کے ساتھ ظلم ہوا وہ مقتولہ نور مقد م کے اہلِخانہ سے معذرت خواہ ہیں اور ان کے دلائل کا مرکز قتل کےوقت ظاہر جعفر کی ذہنی حالت ہے، ملزم کی ذہنی حالت کا جائزہ لینا ضروری ہے-

    وکیلِ صفائی نے عدالت کو بتایا کہ وہ یہ مؤقف اختیار نہیں کر رہے کہ ان کے مؤکل نے قتل نہیں کیا، تاہم ان کا کہنا ہے کہ وقوعے اور ٹرائل کے دورا ن ظاہر جعفر کی ذہنی حالت درست نہیں تھی،ظاہر جعفر بائی پولر ڈس آرڈر، شیزو فر ینیا اور ڈپریشن کی ادویات استعمال کرتا رہا ہے اور جیل میں بھی اس کا علاج جاری رہا۔

    سماعت کے دوران بینچ کے ارکان نے استفسار کیا کہ ایسا طبی ریکارڈ پیش کیا جائے جس سے ثابت ہو کہ ملزم کا علاج کب شروع ہوا، کس ڈاکٹر نے کیا اور وقوعے کے وقت اس کی ذہنی کیفیت کیا تھی ؟عدالت نے ملزم کی تعلیمی زندگی اور طبی تاریخ سے متعلق ریکارڈ کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

    وکیلِ صفائی کی جانب سے لندن کے ہارلے اسٹریٹ کلینک کا ایک خط بھی عدالت میں پیش کیا گیا، تاہم بینچ نے اس خط کی تاریخ اور اس کی قانونی حیثیت سے متعلق سوالات اٹھائے۔

    جسٹس صلاح الدین پہنور نے مزید کہا کہ دفاع کا مؤقف ہے کہ مجرم کو اپنی مرضی کا وکیل نہیں ملا، تاہم یہ بات حیران کن ہے کہ ایک جانب مرضی کا وکیل نہ ملنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب لندن سے طبی دستاویزات حاصل کر لی گئیں۔

    خواجہ حارث نے مزید کہا کہ ہم نے ٹرائل کے دوران مجرم کے معائنے کیلئے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی استدعا کی جو مسترد ہوئی، سپریم کورٹ میں مرکزی کیس میں بھی میڈیکل بورڈ کیلئے متفرق درخواست دائر کی تھی۔

    جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس ہاشم کاکڑ نے مجرم کے وکیل سے استفسار کیا کہ فرض کریں ہم مان لیتے ہیں مجرم کی ذہنی حالت درست نہیں تھی، تو اس صورت حال میں نظرثانی میں کیا ریلیف چاہتے ہیں، اگر ڈرگ ٹیسٹ بھی ہوجاتا تو آپکو اسکا کیا فائدہ ہوتا۔

    اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ میری استدعا ہے کہ ماضی کے فیصلوں کی روشنی میں عدالت نظرثانی میں میرٹس دیکھ سکتی ہےسپریم کورٹ اپنے فیصلوں میں دوبارہ ٹرائل کا حکم دے چکی ہے، میں دوبارہ ٹرائل کی نہیں بلکہ سزا میں رعایت کی استدعا کرتا ہوں، سزا موت دیتے وقت عدالت کو مکمل حقائق کو سامنے رکھنا چاہیے تھا۔

    جسٹس ہاشم کاکڑ نے جواباً کہا کہ خواجہ حارث صاحب اگر شروع میں ہی آپ جیسے وکیل کی خدمات لی جاتی تو مجرم کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا، ہم کب سے آپکو سن رہے ہیں کچھ تو گریس کا مظاہرہ کریں، تین گھنٹوں سے آپ نے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا ہوا ہے۔

    خواجہ حارث کی جانب سے نظر ثانی اپیل پر سماعت پیر ملتوی کرنے کی استدعا کی گئی تھی جسے عدالت نے مسترد کرتے ہوئے مختصر وقفے کے بعد دلائل جاری رکھنے کا حکم دیا۔

    وقفے کے بعد عدالت نے کیس کی کارروائی آگے بڑھائی جس دوران وکیل صفائی نے دلائل جاری رکھے فریقین کے دلائل سننے کے بعد سپریم کورٹ نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے ظاہر جعفر کی سزائے موت کے خلاف دائر نظرثانی درخواست مسترد کردی، جس کے بعد نور مقدم قتل کیس میں اس کے خلاف سزائے موت کا فیصلہ برقرار رہے گا۔

    واضح رہے کہ 27 سالہ نور مقدم کو 20 جولائی 2021 کو اسلام آباد کے پوش علاقے میں واقع ایک گھر میں قتل کیا گیا تھ اس کیس میں جرم ثابت ہونے پر اسلام آباد کی مقامی عدالت نے 24 فروری 2022 کو ظاہر جعفر کو سزائے موت سنائی تھی۔ بعد ازاں مجرم نے سپریم کورٹ میں سزا کے خلاف اپیل دائر کی جسے 20 مئی 2025 کو عدالت نے مسترد کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا اس کے بعد مجرم کی جانب سے نظر ثانی اپیل دائر کی گئی جس پر آج سپریم کورٹ نے 4 گھنٹے تک سماعت کی۔ مجرم ظاہر جعفر کی جانب سے خواجہ حارث نے دلائل دیے جبکہ نور مقدم کے والدین کی جانب سے پیروی ایڈووکیٹ شاہ خاور نے کی۔

  • نور مقدم کیس: سزا یافتہ مجرم ظاہر جعفر نے نظرثانی درخواست دائر کردی

    نور مقدم کیس: سزا یافتہ مجرم ظاہر جعفر نے نظرثانی درخواست دائر کردی

    نورمقدم کیس میں سزا یافتہ مجرم ظاہر زاکر جعفر نے نظرثانی درخواست دائر کردی۔

    سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ عدالت نے ملزم کی ذہنی حالت کا تعین نہیں کرایا، سپریم کورٹ میں میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی درخواست دی، سپریم کورٹ نے اس متفرق درخواست پر فیصلہ نہیں دیا۔

    درخواست میں کہا گیا کہ سزائے موت دینے کیلئے ویڈیو ریکارڈنگ پر انحصار کیا گیا، ویڈیوز ٹرائل کے دوران درست ثابت بھی نہیں کی گئیں، ملزم کو ویڈیو ریکارڈنگز فراہم بھی نہیں کی گئیں، ٹرائل کے دوران کبھی وہ ویڈیوز چلا کر بھی نہیں دیکھی گئیں۔

    نظرثانی اپیل سینئر وکیل خواجہ حارث کے ذریعے دائر کی گئی، درخواست میں کہا گیا کہ فیصلے پر نظرثانی کی ٹھوس وجوہات موجود ہیں، عدالت اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے۔

    پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں تاریخی اضافہ ریکارڈ

    واضح رہے کہ مئی 2025 میں سپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس میں ملزم ظاہر جعفر کی اپیل مسترد کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا، جسٹس ہاشم کاکڑ نے مختصر فیصلہ سنایا تھاجسٹس ہاشم کاکڑ نے مختصر فیصلے میں قرار دیا تھا کہ ظاہر جعفر کے خلاف قتل کی دفعات میں سزائے موت برقرار رکھی ہے، ریپ کیس میں سزائے موت عمر قید میں تبدیل کردی گئی ہے، جب کہ اغوا کے مقدمے میں 10 سال قید کو کم کرکے ایک سال کر دیا گیا ہے، عدالت نے نور مقدم کے اہل خانہ کو معاوضے کی ادائیگی کا حکم بھی برقرار رکھا تھا عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ ظاہر جعفر کے مالی جان محمد اور چوکیدار افتخار نے جتنی سزا کاٹ لی، وہ کافی ہے، شریک ملزمان کو عدالت کا تحریری فیصلہ آنے کے بعد رہا کردیا جائے۔

    مدرسے میں زہریلا کھانا کھانے سے 9 بچوں کی حالت غیر،ایک جاں بحق

  • نورمقدم کے قاتل ظاہر جعفر سے امریکی حکام کی اڈیالہ جیل میں ملاقات

    نورمقدم کے قاتل ظاہر جعفر سے امریکی حکام کی اڈیالہ جیل میں ملاقات

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں انتہائی بے دردی کے ساتھ نور مقدم کو قتل کرنے والے سفاک قاتل سے امریکی سفارتخانے کے عملے نے جیل میں ملاقات کی ہے

    اسلام آباد میں امریکی سفارت خانہ کے عملہ کا اڈیالہ جیل کا دورہ کیا،امریکی سفارتی خانہ کے وفد کو مجرم ظاہر جعفر تک قونصلر رسائی دی گئی،امریکی سفارت خانہ کے 3رکنی وفد کی مجرم ظاہر جعفر سے ڈپٹی سپریٹنڈنٹ روم میں ملاقات کروائی گئی،امریکی سفارت خانہ کے وفد میں مائیکل مرفی ،اسامہ حنیف اور نوید غازی شامل تھے،ملاقات ختم ہونے پر امریکی سفارت خانہ کا وفد اڈیالہ جیل سے واپس اسلام آباد روانہ ہو گیا،

    مجرم ظاہر جعفر سابق سفارت کار کی بیٹی نور مقدم کے قتل کیس میں عدالتی سزا کے بعد قید ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل ہوئی تو اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلے میں کہا ہے کہ مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت برقرار رہے گی،ظاہر جعفر کی ریپ کے جرم میں 25 سال قید کی سزا بھی سزائے موت میں تبدیل کر دی گئی،

    مقامی عدالت نے نور مقدم قتل کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو سزائے موت سنائی تھی، ایڈیشنل سیشن جج عطاء ربانی نے فیصلہ سنایا تھا،عدالت نے شریک ملزمان ظاہر جعفر کے ملازمین جمیل اور افتخار کو دس دس سال قید کی سزا سنائی ،عدالت نے ملزم کے والدین کو بری کر دیا،عدالت نے تھراپی ورکس ملازمین کو بھی بری کر دیا تھا

    نور مقدم کو بے نور کرنے والا آزادی کی تلاش میں،انصاف کی خریدوفروخت،مبشر لقمان ڈٹ گئے

    نور مقدم کیس اور مبشر لقمان کو دھمکیاں، امریکہ کا پاکستان سے بڑا مطالبہ، ایک اور مشیر فارغ ہونے والا ہے

    جب تک مظلوم کوانصاف نہیں مل جاتا:میں پیچھے نہیں ہٹوں‌ گا:مبشرلقمان بھی نورمقدم کے وکیل بن گئے

    آج ہمیں انصاف مل گیا،نور مقدم کے والد کی فیصلے کے بعد گفتگو

    انسانیت کے ضمیرپرلگے زخم شاید کبھی مندمل نہ ہوں،مریم نواز

    مبارک ہو، نور مقدم کی روح کو سکون مل گیا، مبشر لقمان جذباتی ہو گئے

    نور مقدم کیس میں سیشن کورٹ کا فیصلہ خوش آئند ہے ،اسلامی نظریاتی کونسل

  • نور مقدم کو بے نور کرنے والا آزادی کی تلاش میں،انصاف کی خریدوفروخت،مبشر لقمان ڈٹ گئے

    نور مقدم کو بے نور کرنے والا آزادی کی تلاش میں،انصاف کی خریدوفروخت،مبشر لقمان ڈٹ گئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کہانی سفاک درندے، سفاک خاندان، مظلوم عورت کی ہے، یہ کہانی پاکستان میں ہر اس عورت کی ہے جو مظلوم ہے، میں درندے کا ذکر کر رہا ہوں، شہید نورمقدم کا ذکر کر رہا ہوں، درندے کی درخواست منظور ہو گئی ہے اسکو رہائی مل جائے گی اور وہ امریکہ چلا جائے گا

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ہماری بے حسی بحیثیت قوم نور مقدم اور ہر لڑکی کے ظلم کا حصہ بنتی ہے جب ہم اسکے لئے آواز نہ اٹھائیں، جب ہمارے وجود سے عورتیں خوفزدہ رہیں، جب معاشرے میں مرد جلاد کا رخ اختیار کرے، اور جب عورت بھیڑ بکری کی طرح استعمال کیا جائے، ایسی داستانیں تقریبا ہر گھر میں ملتی ہیں، شاہ خاور پاکستان کا ایک معتبر نام ہیں، قابل احترام ہیں، شاہ خاور پہلے دن سے نورمقدم کا کیس لڑ رہے ہیں، انہوں نے اس کیس میں کسی قسم کی فیس نہیں لی،انہوں نے پہلے دن عہد کیا کہ پیسوں کے لئے نہیں بلکہ بیٹی کے لئے کیس لڑ رہا ہوں، جیل میں درندے کو بڑی سہولیات ملی ہوئی ہیں، گھر سے کھانا آ رہا ہے، سگریٹ جا رہے ہیں، ملاقاتی آ رہے ہیں، اگر کسی سیاسی قیدی کے ساتھ ایسا کرتے تو سمجھ آتی لیکن درندے کے ساتھ ایسا کیوں؟

    مبشر لقمان کا کہناتھا کہ انکی اپیل ،ظاہر جعفر کی درخواست سپریم کورٹ میں جمع ہو چکی ہے اور کسی وقت بھی سماعت ہو سکتی ہے، اسکے دلچسپ گراؤنڈ ہیں، 25 صفحات پر اپیل ہے، جو ان کی گزارشات ہیں وہ آسان الفاظ میں بتاؤں گا،پہلے ا سلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرتے ہوئے کہا کہ عدالتوں نے ٹرائل میں شواہد کا جائزہ نہیں لیا، بنیادی خامیوں‌کی نشاندہی نہیں کی گئی، غلطیوں سے بھر پور ایف آئی آر پر سزا ملی، مقتول نور مقدم کی گمشدگی ،ایف آئی آر میں اہم معلومات کو چھوڑ دیا گیا ،ایف آئی آر سنی سنائی باتوں پر دی گئی، یعنی نور مقدم نے گھر سے جانے کی اجازت نہیں لی، نہ ہی دوستوں کا نام بتایا، دونوں عدالتوں میں اس پر آبزرویشن نہیں دی گئی، میں پہلے سے ہی کہہ رہا ہوں کہ بچی کو مار دیا، عصمت دری کی، اسکو ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا، اس پر کیا گزری میں اور آپ سوچ بھی نہیں سکتے،یہ اب اسکے کردار پر انگلی اٹھا رہے ہیں

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ہمارا مرا ہوا معاشرہ ہے، دس ہزار سے زائد بچیوں‌کو تیزاب سے جھلس دیا گیا مگر کسی تیزاب پھینکنے والے کو سزا نہیں ہوئی، صرف ایک کو ہوئی کیونکہ کیس میڈیا پر آ گیا تھا.

    نور مقدم کیس اور مبشر لقمان کو دھمکیاں، امریکہ کا پاکستان سے بڑا مطالبہ، ایک اور مشیر فارغ ہونے والا ہے

    جب تک مظلوم کوانصاف نہیں مل جاتا:میں پیچھے نہیں ہٹوں‌ گا:مبشرلقمان بھی نورمقدم کے وکیل بن گئے

    آج ہمیں انصاف مل گیا،نور مقدم کے والد کی فیصلے کے بعد گفتگو

    انسانیت کے ضمیرپرلگے زخم شاید کبھی مندمل نہ ہوں،مریم نواز

    مبارک ہو، نور مقدم کی روح کو سکون مل گیا، مبشر لقمان جذباتی ہو گئے

    نور مقدم کیس میں سیشن کورٹ کا فیصلہ خوش آئند ہے ،اسلامی نظریاتی کونسل

  • نور مقدم قتل کیس، ملزمان کی اپیلوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے سنایا فیصلہ

    نور مقدم قتل کیس، ملزمان کی اپیلوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے سنایا فیصلہ

    اسلام آباد ہائیکورٹ نور مقدم قتل کیس میں اپیلوں پر فیصلہ سنا دیا

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق اور جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان پر مشتمل بینچ نے ملزمان کی سزاؤں کیخلاف اپیلوں پر فیصلہ محفوظ کیا تھا جو اب سنا دیا گیا ہے، عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت برقرار رہے گی،عدالت نے ملزمان کی اپیلیں خارج کر دی ہیں شریک مجرموں محمد افتخار اور جان محمد کی سزا کے خلاف اپیلیں بھی خارج کر دی گئیں ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے21 دسمبر2022 کوفیصلہ محفوظ کیا تھا،ظاہر جعفر کی ریپ کے جرم میں 25 سال قید کی سزا بھی سزائے موت میں تبدیل کر دی گئی،

    واضح رہے کہ مقامی عدالت نے نور مقدم قتل کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو سزائے موت سنائی تھی، ایڈیشنل سیشن جج عطاء ربانی نے فیصلہ سنایا تھا،عدالت نے شریک ملزمان ظاہر جعفر کے ملازمین جمیل اور افتخار کو دس دس سال قید کی سزا سنائی ،عدالت نے ملزم کے والدین کو بری کر دیا،عدالت نے تھراپی ورکس ملازمین کو بھی بری کر دیا تھا

    قبل ازیں نور مقدم قتل کیس کے مرکزی مجرم ظاہر جعفر کی سزا بڑھانے کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی اپیل دائر کردی گئی ہے مدعی مقدمہ شوکت مقدم نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں موقف اپنایا کہ مجرم جان محمد اور افتخار کی سزا بھی بڑھانے کی اپیل کی جبکہ شوکت مقدم کے وکیل شاہ خاور نے تین اپیلیں دائر کیں اپیل میں استدعا کی گئی کہ مجرم ظاہر جعفر کے خلاف ڈیجیٹل شواہد موجود ہیں، ٹرائل کورٹ نے کم سزا دی، مجرموں کی سزا قانون کے مطابق بڑھائی جائے

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں گیارہ ملزمان کے خلاف اپیل دائر کی گئی،گیارہ ملزمان میں سے نو ملزمان کو بری کیا گیا جبکہ دو ملزمان کوکچھ دفعات کے تحت سزا نہیں دی گئی جان محمد اور افتخار کی اپیل الگ ہے،جن دفعات میں انکو سزا نہیں دی گئی انکو مزید سزا دینے کی اپیل کی گئی ہے

    نور مقدم کیس اور مبشر لقمان کو دھمکیاں، امریکہ کا پاکستان سے بڑا مطالبہ، ایک اور مشیر فارغ ہونے والا ہے

    جب تک مظلوم کوانصاف نہیں مل جاتا:میں پیچھے نہیں ہٹوں‌ گا:مبشرلقمان بھی نورمقدم کے وکیل بن گئے

    آج ہمیں انصاف مل گیا،نور مقدم کے والد کی فیصلے کے بعد گفتگو

    انسانیت کے ضمیرپرلگے زخم شاید کبھی مندمل نہ ہوں،مریم نواز

    مبارک ہو، نور مقدم کی روح کو سکون مل گیا، مبشر لقمان جذباتی ہو گئے

    نور مقدم کیس میں سیشن کورٹ کا فیصلہ خوش آئند ہے ،اسلامی نظریاتی کونسل

  • نور مقدم قتل کیس،ظاہر جعفر کی امریکی شہریت ریکارڈ پر لانے کی درخواست مسترد

    نور مقدم قتل کیس،ظاہر جعفر کی امریکی شہریت ریکارڈ پر لانے کی درخواست مسترد


    نور مقدم قتل؛مرکزی ملزم کی امریکی شہریت ریکارڈ پر لانے کی درخواست مسترد

    نور مقدم قتل کیس میں مرکزی ملزم کی جانب سے امریکی شہریت کو ریکارڈ کا حصہ بنانے کی درخواست مسترد کردی گئی۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے ساتھ نور مقدم قتل کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کی درخواست کی سماعت کی، جس میں غیر ملکی شہریت کی دستاویزات ریکارڈ پر رکھنے کی استدعا کی گئی تھی۔

    عدالت نے ظاہر جعفر کے وکیل کے دلائل سننے کے بعد بھی رجسٹرار آفس کے اعتراضات برقرار رکھے، جس میں کہا گیا تھا کہ فیصلہ محفوظ ہو چکا ہے، اب کوئی نئی درخواست نہیں سنی جا سکتی۔ دوران سماعت مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ یہ بات ریکارڈ پر آنی چاہیے کہ ظاہر جعفر غیر ملکی شہریت رکھتا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    روسی رکن پارلیمنٹ اور صدر پیوٹن کے نقاد کی بھارت میں پراسرار ہلاکت
    خواتین پرپابندیاں،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا طالبان حکومت سے پالیسیاں بدلنے کا مطالبہ
    افسانہ نویس و ناول نگار اور مترجم قیصر نذیر خاورانتقال کرگئے.

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ غیر ملکی شہری ہونا ریکارڈ پر آبھی جائے تو کیا فرق پڑے گا؟۔ اگر ظاہر جعفر امریکی شہری ہے تو کیا ہوا؟ کیا آپ امریکی شہری بتا کر کوئی رعایت لینا چاہتے ہیں؟کیا آپ چاہتے ہیں کوئی بھی باہر سے آئے اور بندہ مار کر چلا جائے؟۔ کیا آپ پاکستان کو ایسے لوگوں کی جنت بنانا چاہتے ہیں؟ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے کہ پہلے بھی واضح کر چکے ہیں کہ اس کیس میں یہاں پاکستان کا قانون چلے گا۔ عدالت نے امریکی شہریت کو ریکارڈ کا حصہ بنانے کی درخواست مسترد کردی۔

    نور مقدم کیس اور مبشر لقمان کو دھمکیاں، امریکہ کا پاکستان سے بڑا مطالبہ، ایک اور مشیر فارغ ہونے والا ہے

    جب تک مظلوم کوانصاف نہیں مل جاتا:میں پیچھے نہیں ہٹوں‌ گا:مبشرلقمان بھی نورمقدم کے وکیل بن گئے

    آج ہمیں انصاف مل گیا،نور مقدم کے والد کی فیصلے کے بعد گفتگو

    انسانیت کے ضمیرپرلگے زخم شاید کبھی مندمل نہ ہوں،مریم نواز

    مبارک ہو، نور مقدم کی روح کو سکون مل گیا، مبشر لقمان جذباتی ہو گئے

    نور مقدم کیس میں سیشن کورٹ کا فیصلہ خوش آئند ہے ،اسلامی نظریاتی کونسل

    قبل ازیں نور مقدم قتل کیس کے مرکزی مجرم ظاہر جعفر کی سزا بڑھانے کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی اپیل دائر کردی گئی ہے مدعی مقدمہ شوکت مقدم نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں موقف اپنایا کہ مجرم جان محمد اور افتخار کی سزا بھی بڑھانے کی اپیل کی جبکہ شوکت مقدم کے وکیل شاہ خاور نے تین اپیلیں دائر کیں اپیل میں استدعا کی گئی کہ مجرم ظاہر جعفر کے خلاف ڈیجیٹل شواہد موجود ہیں، ٹرائل کورٹ نے کم سزا دی، مجرموں کی سزا قانون کے مطابق بڑھائی جائے

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں گیارہ ملزمان کے خلاف اپیل دائر کی گئی،گیارہ ملزمان میں سے نو ملزمان کو بری کیا گیا جبکہ دو ملزمان کوکچھ دفعات کے تحت سزا نہیں دی گئی جان محمد اور افتخار کی اپیل الگ ہے،جن دفعات میں انکو سزا نہیں دی گئی انکو مزید سزا دینے کی اپیل کی گئی ہے

  • نورمقدم کیس،سی سی ٹی وی فوٹیج پیش کرنے کا حکم

    نورمقدم کیس،سی سی ٹی وی فوٹیج پیش کرنے کا حکم

    نور مقدم قتل کیس میں مجرمان کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے سماعت کی ،مدعی شوکت مقدم اپنے وکیل شاہ خاور کے ہمراہ عدالت کے سامنے پیش ہوئے ،مرکزی مجرم ظاہر جعفر اور شریک مجرم افتخار کے وکلا دلائل مکمل کر چکے ہیں سزا یافتہ مجرم مالی جان محمد کے وکیل کامران مرتضیٰ نے دلائل دئیے، وکیل کامران مرتضیٰ نے کہا کہ تسلیم شدہ ہے کہ وقوعہ کا کوئی چشم دید گواہ نہیں ، سی سی ٹی وی فوٹیج دو دن کی ہے مگر اس کا کچھ حصہ نکالا گیا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مکمل سی سی ٹی وی فوٹیج بھی دستیاب اور کورٹ ریکارڈ پر موجود ہے، وکیل کامران مرتضیٰ نے کہا کہ فوٹیج دیکھنے کے بعد اس کے نوٹس نہیں بنائے گئے ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر 34 منٹس کی وڈیو کے نوٹس بنانے شروع کریں تو بہت سی چیزیں رہ جائیں گی، جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کل کو آپ کہیں گے کہ نوٹس میں یہ نہیں لکھا گیا کہ دیوار کا رنگ کیسا تھا؟ فوٹیج موجود ہے اور ہم نے دیکھنا ہے کہ ٹرائل کورٹ نے کیا نتیجہ اخذ کیا،کیا سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ کی کوئی ججمنٹ ہے سی سی ٹی وی فوٹیج کے نوٹس بنانا ضروری ہے ؟اگر ایسی کوئی ججمنٹ ہے تو اس متعلق بتا دیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ ڈی وی آر کو دیکھنے کا کیا طریقہ کار اختیار کیا جائے؟ سی سی ٹی وی فوٹیج مال خانے میں ہو گی، اسے پیش کرنے کا آرڈر کر دیتے ہیں، جس روز سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھی جائے گی تو اس روز پروسیڈنگ ان کیمرا ہو گی،

    عدالت نے تھانہ کوہسار کے محرر کو کل سی سی ٹی وی فوٹیج پیش کرنے کا حکم دے دیا،عدالت نے رجسٹرار آفس کو کل کورٹ میں وڈیو چلانے کے انتظامات کرنے کی ہدایت کر دی

    نور مقدم کیس اور مبشر لقمان کو دھمکیاں، امریکہ کا پاکستان سے بڑا مطالبہ، ایک اور مشیر فارغ ہونے والا ہے

    جب تک مظلوم کوانصاف نہیں مل جاتا:میں پیچھے نہیں ہٹوں‌ گا:مبشرلقمان بھی نورمقدم کے وکیل بن گئے

    آج ہمیں انصاف مل گیا،نور مقدم کے والد کی فیصلے کے بعد گفتگو

    انسانیت کے ضمیرپرلگے زخم شاید کبھی مندمل نہ ہوں،مریم نواز

    مبارک ہو، نور مقدم کی روح کو سکون مل گیا، مبشر لقمان جذباتی ہو گئے

    نور مقدم کیس میں سیشن کورٹ کا فیصلہ خوش آئند ہے ،اسلامی نظریاتی کونسل

    قبل ازیں نور مقدم قتل کیس کے مرکزی مجرم ظاہر جعفر کی سزا بڑھانے کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی اپیل دائر کردی گئی ہے مدعی مقدمہ شوکت مقدم نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں موقف اپنایا کہ مجرم جان محمد اور افتخار کی سزا بھی بڑھانے کی اپیل کی جبکہ شوکت مقدم کے وکیل شاہ خاور نے تین اپیلیں دائر کیں اپیل میں استدعا کی گئی کہ مجرم ظاہر جعفر کے خلاف ڈیجیٹل شواہد موجود ہیں، ٹرائل کورٹ نے کم سزا دی، مجرموں کی سزا قانون کے مطابق بڑھائی جائے

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں گیارہ ملزمان کے خلاف اپیل دائر کی گئی،گیارہ ملزمان میں سے نو ملزمان کو بری کیا گیا جبکہ دو ملزمان کوکچھ دفعات کے تحت سزا نہیں دی گئی جان محمد اور افتخار کی اپیل الگ ہے،جن دفعات میں انکو سزا نہیں دی گئی انکو مزید سزا دینے کی اپیل کی گئی ہے

  • نور مقدم نے نکلنے کی کوشش کی تو افتخار نے کیوں روکا؟ عدالت کا استفسار

    نور مقدم نے نکلنے کی کوشش کی تو افتخار نے کیوں روکا؟ عدالت کا استفسار

    اسلام آباد ہائیکورٹ ، نور مقدم کیس میں دائر اپیلوں پر سماعت13 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی

    سزا یافتہ مجرم چوکیدار افتخار کے وکیل کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دلائل دیئے گئے،وکیل نے کہا کہ افتخار کی وقوعہ کی جگہ پر موجودگی ثابت ہے لیکن وہ ملازم ہے افتخار گھریلو ملازم ہے اس کو کچھ بھی معلومات نہیں تھیں، عدالت نے استفسار کیا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں آپ کا کردار آیا ہے؟ وکیل نے کہا کہ چوکیدار کا کام ہی دروازہ کھولنا اور بند کرنا ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ جب نور مقدم نے وہاں سے نکلنے کی کوشش کی تو افتخار نے کیوں روکا؟گھریلو ملازم ہونے کا مطلب یہ نہیں مالک کوئی غیر قانونی کام کہے گا تو وہ کر لے گا، وکیل نے کہا کہ نور مقدم کا اس گھر مستقل آنا جانا تھا،

    عدالت نے کہا کہ ظاہر جعفر زبردستی نور مقدم کو گھر کے اندر لے گیا افتخار گیٹ پر موجود تھا بنیادی طور پر ٹرائل کورٹ کی فائنڈنگ ڈی وی آر کی بنیاد پر ہیں، وکیل نے کہا کہ چوکیدار 20 ہزار ماہانہ تنخواہ لیتا تھا ،وہ مالک کے دوست کو ٹچ بھی نہیں کر سکتا،عدالت نے کہا کہ ڈی وی آر کے مطابق نور مقدم نے کہا کہ مجھے جانے دو، اس نے نہیں جانے دیا، سی سی ٹی وی کے مطابق اگر نور مقدم جانا چاہ رہی تھی چوکیدار نے روکا تو کیا یہ اغوا نہیں ؟ اسلام آباد ہائیکورٹ نے اسٹیٹ کونسل کو ڈی وی آر سے متعلق آگاہ کرنے کی ہدایت کردی، عدالت نے سٹیٹ کونسل کو ہدایت کہ ڈی وی آر فراہمی کے لیے آرڈر پاس کردیں گے، وکیل نے کہا کہ افتخار نے نور مقدم کو روکا نہیں بلکہ گیٹ بند کیا ہے، عدالت نے کہا کہ ضروری نہیں کوئی مرضی سے آئے تو وہ اغوا نہیں ہو سکتا،اغوا اس وقت شروع ہو جاتا ہے جب کسی کو غیر قانونی وہاں سے نکلنے سے روک دیا جائے

    نور مقدم کیس اور مبشر لقمان کو دھمکیاں، امریکہ کا پاکستان سے بڑا مطالبہ، ایک اور مشیر فارغ ہونے والا ہے

    جب تک مظلوم کوانصاف نہیں مل جاتا:میں پیچھے نہیں ہٹوں‌ گا:مبشرلقمان بھی نورمقدم کے وکیل بن گئے

    آج ہمیں انصاف مل گیا،نور مقدم کے والد کی فیصلے کے بعد گفتگو

    انسانیت کے ضمیرپرلگے زخم شاید کبھی مندمل نہ ہوں،مریم نواز

    مبارک ہو، نور مقدم کی روح کو سکون مل گیا، مبشر لقمان جذباتی ہو گئے

    نور مقدم کیس میں سیشن کورٹ کا فیصلہ خوش آئند ہے ،اسلامی نظریاتی کونسل

    قبل ازیں نور مقدم قتل کیس کے مرکزی مجرم ظاہر جعفر کی سزا بڑھانے کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی اپیل دائر کردی گئی ہے مدعی مقدمہ شوکت مقدم نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں موقف اپنایا کہ مجرم جان محمد اور افتخار کی سزا بھی بڑھانے کی اپیل کی جبکہ شوکت مقدم کے وکیل شاہ خاور نے تین اپیلیں دائر کیں اپیل میں استدعا کی گئی کہ مجرم ظاہر جعفر کے خلاف ڈیجیٹل شواہد موجود ہیں، ٹرائل کورٹ نے کم سزا دی، مجرموں کی سزا قانون کے مطابق بڑھائی جائے

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں گیارہ ملزمان کے خلاف اپیل دائر کی گئی،گیارہ ملزمان میں سے نو ملزمان کو بری کیا گیا جبکہ دو ملزمان کوکچھ دفعات کے تحت سزا نہیں دی گئی جان محمد اور افتخار کی اپیل الگ ہے،جن دفعات میں انکو سزا نہیں دی گئی انکو مزید سزا دینے کی اپیل کی گئی ہے

  • نور مقدم قتل کیس،ملزم ظاہر جعفر کے وکیل نے عدالت میں دیئے دلائل

    نور مقدم قتل کیس،ملزم ظاہر جعفر کے وکیل نے عدالت میں دیئے دلائل

    نور مقدم قتل کیس ،ملزم ظاہر جعفر کی سزا کیخلاف اپیل پر سماعت ہوئی

    ملزم ظاہر جعفر کے وکیل عثمان کھوسہ نے عدالت میں دلائل دیئے،ملزم کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پولیس حکام 9 بجے موقع پر پہنچے تھےجبکہ ایف آئی آرسواگیارہ درج ہوئی،مقتولہ نور مقدم کا پوسٹ مارٹم اگلی صبح نو بجے ہوا، ایف آئی آر کا مطلب فرسٹ انفارمیشن رپورٹ ہے، مقدمہ فوری درج ہونا چاہیے، یہاں شوکت مقدم کو مدعی بننے کی بھی ضرورت نہیں تھی، پولیس فوری مقدمہ درج کر سکتی تھی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ہماری پولیس ایف آئی آر درج کرنے میں کیوں تاخیر کرتی ہے؟ وکیل نے کہا کہ مدعی شوکت مقدم نے سی سی ٹی وی وڈیو دیکھ کر مرکزی ملزم کے والدین کو چار دن بعد نامزد کیا جو کراچی تھے، تھراپی ورکس کا سی ای او 73 سال کا ہے جو امریکا میں تھا مگر اسے بھی ملزم بنا دیا گیا، دو ہزار تین سے تھراپی ورکس کا شیزوفرینیا کا مریض تھا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عام شہری پولیس والوں کے ہاتھوں مجبور ہوتا ہے، وہ جس طرف موڑ دیتے ہیں وہ مجبور ہوتا ہے،پولیس والے خود کہتے ہیں کہ آپ یوں لکھیں یا کہیں، ورنہ بات نہیں بنے گی،پولیس والوں کا بس چلے تو یہ ہر کیس میں للکارا بھی ڈالیں،

    ملزم کے وکیل نے کہا کہ ایف آئی آر میں قتل کا وقت 10 بجے بتایا گیا تھا جبکہ پوسٹ مارٹم میں 12:10 وقوعہ کا وقت بتایا گیا، نور مقدم کی والد یا والدہ سے 19 نہیں بلکہ 20 جولائی 2021 کو بات ہوئی نور مقدم کی اپنی والدہ سے 20 جولائی کی صبح پونے گیارہ بجے بات ہوئی جس کے بعد بتایا جاتا ہے کہ فون بند ملا،اگر والدہ کا بیان آ جاتا تو پتہ چلتا کہ دونوں کی آپس میں کیا بات ہوئی؟بیس جولائی کی شام جب بھاگنے کی کوشش کی تو اس وقت بھی موبائل فون نور مقدم کے ہاتھ میں تھا، پراسیکیوشن کو تمام شواہد کی وضاحت کی ضرورت پیش آ رہی ہے،اس کیس میں شواہد کی کڑیاں ایک دوسرے سے ملتی نظر نہیں آ رہیں،

    نور مقدم کیس اور مبشر لقمان کو دھمکیاں، امریکہ کا پاکستان سے بڑا مطالبہ، ایک اور مشیر فارغ ہونے والا ہے

    جب تک مظلوم کوانصاف نہیں مل جاتا:میں پیچھے نہیں ہٹوں‌ گا:مبشرلقمان بھی نورمقدم کے وکیل بن گئے

    آج ہمیں انصاف مل گیا،نور مقدم کے والد کی فیصلے کے بعد گفتگو

    انسانیت کے ضمیرپرلگے زخم شاید کبھی مندمل نہ ہوں،مریم نواز

    مبارک ہو، نور مقدم کی روح کو سکون مل گیا، مبشر لقمان جذباتی ہو گئے

    نور مقدم کیس میں سیشن کورٹ کا فیصلہ خوش آئند ہے ،اسلامی نظریاتی کونسل

    قبل ازیں نور مقدم قتل کیس کے مرکزی مجرم ظاہر جعفر کی سزا بڑھانے کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی اپیل دائر کردی گئی ہے مدعی مقدمہ شوکت مقدم نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں موقف اپنایا کہ مجرم جان محمد اور افتخار کی سزا بھی بڑھانے کی اپیل کی جبکہ شوکت مقدم کے وکیل شاہ خاور نے تین اپیلیں دائر کیں اپیل میں استدعا کی گئی کہ مجرم ظاہر جعفر کے خلاف ڈیجیٹل شواہد موجود ہیں، ٹرائل کورٹ نے کم سزا دی، مجرموں کی سزا قانون کے مطابق بڑھائی جائے

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں گیارہ ملزمان کے خلاف اپیل دائر کی گئی،گیارہ ملزمان میں سے نو ملزمان کو بری کیا گیا جبکہ دو ملزمان کوکچھ دفعات کے تحت سزا نہیں دی گئی جان محمد اور افتخار کی اپیل الگ ہے،جن دفعات میں انکو سزا نہیں دی گئی انکو مزید سزا دینے کی اپیل کی گئی ہے

  • نورمقدم کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیلیں اگست کی بجائے 14 ستمبر کو سماعت کیلئے مقرر

    نورمقدم کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیلیں اگست کی بجائے 14 ستمبر کو سماعت کیلئے مقرر

    نور مقدم قتل کیس میں اپیلیں 14 ستمبر کو سماعت کے لیے مقررکر دی گئیں

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس نے کاز لسٹ جاری کردی جسٹس عامر فاروق اور جسٹس ارباب محمد طاہر پر مشتمل بنچ سماعت کرے گا عدالت نے رجسٹرار ہائی کورٹ کو پیپر بکس کی تیاری کا حکم دے رکھا ہے ،نور مقدم کیس کی سماعت اگست کے پہلے ہفتے تک ملتوی ہوئی تھی جبکہ رجسٹرار آفس نے اپیلیں 14 ستمبر کو سماعت کے لیے مقرر کردیں ،ظاہر جعفر ، افتخار اور جان محمد نے سزا اور مدعی مقدمہ نے عصمت آدم ، ذاکر جعفر ، جمیل ، تھراپی ورکس کے افراد کی بریت چیلنج کر رکھی ہے

    قبل ازیں نور مقدم قتل کیس کے مرکزی مجرم ظاہر جعفر کی سزا بڑھانے کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی اپیل دائر کردی گئی ہے مدعی مقدمہ شوکت مقدم نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں موقف اپنایا کہ مجرم جان محمد اور افتخار کی سزا بھی بڑھانے کی اپیل کی جبکہ شوکت مقدم کے وکیل شاہ خاور نے تین اپیلیں دائر کیں اپیل میں استدعا کی گئی کہ مجرم ظاہر جعفر کے خلاف ڈیجیٹل شواہد موجود ہیں، ٹرائل کورٹ نے کم سزا دی، مجرموں کی سزا قانون کے مطابق بڑھائی جائے

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں گیارہ ملزمان کے خلاف اپیل دائر کی گئی،گیارہ ملزمان میں سے نو ملزمان کو بری کیا گیا جبکہ دو ملزمان کوکچھ دفعات کے تحت سزا نہیں دی گئی جان محمد اور افتخار کی اپیل الگ ہے،جن دفعات میں انکو سزا نہیں دی گئی انکو مزید سزا دینے کی اپیل کی گئی ہے ،

    نور مقدم کیس اور مبشر لقمان کو دھمکیاں، امریکہ کا پاکستان سے بڑا مطالبہ، ایک اور مشیر فارغ ہونے والا ہے

    جب تک مظلوم کوانصاف نہیں مل جاتا:میں پیچھے نہیں ہٹوں‌ گا:مبشرلقمان بھی نورمقدم کے وکیل بن گئے

    آج ہمیں انصاف مل گیا،نور مقدم کے والد کی فیصلے کے بعد گفتگو

    انسانیت کے ضمیرپرلگے زخم شاید کبھی مندمل نہ ہوں،مریم نواز

    مبارک ہو، نور مقدم کی روح کو سکون مل گیا، مبشر لقمان جذباتی ہو گئے

    نور مقدم کیس میں سیشن کورٹ کا فیصلہ خوش آئند ہے ،اسلامی نظریاتی کونسل