Baaghi TV

Tag: عابد شیر علی

  • مقابلہ عمران خان سے نہیں بجلی بلوں کے ساتھ ہے،عابد شیر علی

    مقابلہ عمران خان سے نہیں بجلی بلوں کے ساتھ ہے،عابد شیر علی

    ن لیگی رہنما عابد شیر علی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ن لیگ نے پاکستان کو کرائسز سے نکالا

    عابد شیر علی کا کہنا تھا کہ مفتاح اسماعیل کی تقریر سن کر تکلیف ہوتی ہے مفتاح اسماعیل صاحب ذرا باہر جا کر حالات دیکھیں مفتاح اسماعیل صاحب آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کو بدلہ بھی جا سکتا ہے وزیر خزانہ جا کر جھگیوں میں رہیں تو اندازہ ہو آ پ کو مفتاح سماعیل صاحب لوگ خود کشیں کرنے پر مبجور ہیں ، نواز شریف سے درخواست کی ہے کہ اس معاملے کو خود دیکھیں مقابلہ عمران خان سے نہیں بجلی بلوں کے ساتھ ہے وزیراعظم خدا راہ یہ پالیسیاں تبدیل کریں، ایسا نہ کیا تو حلقوں میں جانا مشکل ہو جائے گا احتجاج کرنے والے لوگ ن لیگ کے ہی ہیں وزیراعظم صاحب لوگ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں رکشہ والے کو گھر کا بل دس ہزارآ رہا ہے آج لوگ میرے گھر ہزاروں بل منہ پر مار کر گئے ہیں صورت حال کا نوٹس لیں, ورنہ ہم بھی ان کے ساتھ احتجاج کریں گے خرم دستگیر صاحب خود جا کر کسی سب ڈویژن کا وزٹ کریں لوگوں کی ماں بیٹاں لائنوں میں لگی ہے بجلی بلوں کے لیے لوگوں کی ماوں بیٹیوں کی تذلیل ہو رہی ہے صعنتکاروں کو ریلیف دیا اچھا کیا عام عوام کو بھی ریلیف دیں اس بھنور سے ہم کو نکالیں

    ن لیگی رہنما طلال چودھری کا کہنا تھا کہ مریم نواز نے ٹویٹ کیا تو عمران کو سیلاب زدگان کی یاد آ گئی، پاکستان میں دوہرا معیار ہے ایک معیار عام آدمی,دوسرا لاڈلے کے لیے اس ملک میں دو قانون بنا لیں ایک قانون ہینڈسم کے لیے,دوسرا عام آدمی کے لیے ، عمران خان توشہ خانہ لوٹ کر کھا گیا بجلی کے بل سیلاب سے بڑا کرائسز ہے, لوگ عمران سے ناامید, ن لیگ سے بہت امیدیں وابستہ ہیں لوگ وزراء کی کارکردگی پر مطمن نہیں ہیں 200 یونٹ پر ریلیف ناکافی ہے بجلی کے بلوں پر پہلا احتجاج نواز شریف نے کیا سیلاب میں کے پی اور پنجاب کے وزیراعلی کہیں نظر نہیں ائے

    کیا فائدہ قانون کا، مفتی کو نامرد کیا گیا نہ عثمان مرزا کو،ٹویٹر پر صارفین کی رائے

    لڑکی کو برہنہ کرنے کی ویڈیو، وزیراعظم عمران خان کا نوٹس، بڑا حکم دے دیا

    عثمان مرزا کی جانب سے لڑکی اور لڑکے پر تشدد کے بعد نوجوان جوڑے نے ایسا کام کیا کہ پولیس بھی دیکھتی رہ گئی

    نوجوان جوڑے پر تشدد کیس، پانچویں ملزم کو کس بنیاد پر گرفتار کیا؟ عدالت کا تفتیشی سے سوال

    ویڈیو کس نے وائرل کی تھی؟ عدالت کے استفسار پر سرکاری وکیل نے کیا دیا جواب

  • عابد شیر علی 3 سال بعد  لندن سے وطن واپس پہنچ گئے

    عابد شیر علی 3 سال بعد لندن سے وطن واپس پہنچ گئے

    لاہور: مسلم لیگ (ن) کے رہنما عابد شیر علی لندن سے وطن واپس پہنچ گئے۔

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق سابق وزیر مملکت اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما عابد شیر علی تین سال بعد وطن واپس آئے ہیں اور وہ لندن سے لاہور پہنچے ہیں ں۔لیگی رہنما کی لاہور ائیرپورٹ آمد کے موقع پر کارکن شیر شیر کے نعرے لگاتے رہے جبکہ ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالتے بھی نظر آئے۔ عابد شیر علی لاہور سے فیصل آباد جائیں گے۔

    ایوان صدر میں جو شخص بیٹھا ہےملک کا دشمن ہے،حمزہ شہباز

    واضح رہےکہ عابد شیر علی سابق وزیراعظم نوازشریف کی کابینہ میں وزیر مملکت برائے توانائی رہ چکے ہیں 2013ء تا 2017ء تک وزیر مملکت برائے پانی و بجلی رہے عابد قومی اسمبلی پاکستان کے 2002ء سے رکن ہیں عابد شیر علی لندن میں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے ساتھ قیام پذیر تھے اور حکومت کی تبدیلی کے بعد وطن واپس آئے ہیں عابد شیر علی فیصل آباد کے سابق میئر اور پاکستان مسلم لیگ نواز شریف کے اہم رہنما چوہدھری شیر علی کے بیٹے ہیں جو کلثوم نواز شریف کے قریبی رشتہ دار تھے-

    یاد رہے کہ گزشتہ برس جولائی میں اہلیہ کے انتقال پر بھی عابد شیر علی پاکستان واپس نہیں آسکے تھے ۔

    پاکستان نے محدود وسائل کے باوجود افغانستان اور یوکرین میں انسانی امداد فراہم کی،وزیرخارجہ بلاول بھٹو

  • عابد شیرعلی نے پختونوں کی تذلیل کی انتہا کردی:پختونوں  کی غیرت وحمیت پرگھٹیا اورزہریلے طنزآمیزحملے

    عابد شیرعلی نے پختونوں کی تذلیل کی انتہا کردی:پختونوں کی غیرت وحمیت پرگھٹیا اورزہریلے طنزآمیزحملے

    لندن : عابد شیرعلی نے پختونوں کی تذلیل کی انتہا کردی:نوازشریف کی خاموشی نےتائید کردی:پختون کی غیرت پرحملےشروع،اطلاعات کے مطابق نوازشریف کے قریبی عزیزاور سابق رکن اسمبلی عابد شیر علی نے کے پی میں بلدیاتی انتخابات پرپی ٹی آئی کوشکست کو پختونوں کی شکست قرار دیتے ہوئے ایسے گھٹیا الفاظ کہے ہیں کہ تین دن گزرنے کے بعد بھی ان الفاظ کی زہرکم ہونے کا نام نہیں لے رہی

    ادھر سوشل میڈیا پر پختون طلبا ، وکلا اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں نوجوانوں نے عابد شیر علی کی طرف سے پختونوں کی تذلیل کوایک طئے شدہ پراکسی کا حصہ قراردیتے ہوئے اسے پختونوں کی غیرت و حمیت پرایک خطرناک حملہ قرار دیا ہے

     

    یاد رہے عابد شیر علی نے کے پی میں بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی کی شکست کو پختونوں کی شکست قراردیتے ہوئے بہت ہی گھٹیا اورزہریلاطنز کیا تھا اور کہا کہ "لگتا ہے کہ پختون بھائیوں‌ میں سے تبدیلی والا کیڑا نکل گیا ہے،جو آٹھ سال سے ان کو تنگ کررہا تھا ”

    اس بیان کے بعد پختونوں کی طرف سے سخت ردعمل کے تدارک کے لیے نوازشریف،مریم نواز، شہبازشریف اور حمزہ شہباز کی طرف سے عابد شیر علی کی مذمت میں ایک لفظ تک بھی نہیں بولا گیا اور نہ ہی کسی دوسرے لیگی رہنما نے عابد شیر علی کے ان گھٹیا ، زہریلے اور پختونوں کی توہین آمیز رویے اور ان الفاظ کی اور عابد شیر علی کے اس رویے کی مذمت کی

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ان انتہائی توہین آمیز الفاظ کے سامنے آنے پرپختون بھی پریشان ہیں اور سوشل میڈیا پر یہ باتیں سننے کو عام مل رہی ہیں کہ پختونوں نے آج تک اتنے گھٹیا اور توہین آمیز طنز اور جملے نہیں سنے جو آج پنجاب لاہور کی ایک سیاسی جماعت کے کارندوں کی طرف سے کیے جارہے ہیں ، احسن اقبال نے یہ کہا ہے کہ وہ عابد شیر علی کے موقف کے ساتھ نہیں لیکن انہوں نے عابد شیر علی اور ان کے اس گھٹیا رویے کی مذمت نہیں کی

    ادھر اطلاعات ہیں کہ پختوںوں نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ اگر نوازشریف عابد شیر علی کو ان توہین آمیز الفاظ پرپارٹی سے نہیں نکالتے تب تک ان کا یہ احتجاج جاری رہے گا

     

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ عابد شیر علی نے پختونوں سے معافی مانگنے سے انکار کردیا ہے اور نوازشریف نے بھی پارٹی سے نکالنے کا مطالبہ مسترد کردیا ہے ، اس حوالے سے پختونوں کے غُصے کوٹھنڈا کرنے کے لیے کچھ رسمی الفاظ ادا کیے گئے ہیں اور ساتھ ہی یہ اس جرم کا اقرار کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ میں‌ اس ٹویٹ کو پختونوں کی تذلیل کے بعد ڈلیٹ کررہا ہوں

    جس میں‌عابد شیر علی لکھتے ہیں‌کہ میں کسی بھائی کی دل آزاری نہیں چاہتا خاص طور پر اپنے پختون بھائیوں کی اسلئے ٹویٹ ڈیلیٹ کررہا ہوں ۔ میرا مطمع نظر عمران خان انتظامیہ پر تنقید ہے کسی بھی طبقے کی دل آزاری نہیں ۔

  • پاکستانی سیاست میں گالم گلوچ کا کلچر – بقلم: آصف گوہر

    پاکستانی سیاست میں گالم گلوچ کا کلچر – بقلم: آصف گوہر

    پاکستانی سیاست میں گالم گلوچ کا کلچر
    بقلم: آصف گوہر

    "نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان کو گالی دینے سے آدمی فاسق ہو جاتا ہے اور مسلمان سے لڑنا کفر ہے۔ ”
    (صحیح بخاری 48)
    گالی گلوچ کو کسی بھی مہذب معاشرے میں پذیرائی حاصل نہیں ہوتی ۔بلکہ بدزبانی کرنے والوں سے لوگ کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں لیکن گذشتہ چند سالوں سے ہمارے سیاست دانوں نے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر گالیوں کا بے دریغ استعمال کیا ہے۔ جلسوں میں سیاسی مخالفین کو یہودی ایجنٹ اور یہودی کے بچے تک کہنے سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا یہودی خود ورطہ حیرت میں ہونگے کہ پاکستانی اپنی سیاست میں ہماری مشہوری کیوں کر رہے ہیں۔ افسوس کا مقام کا ہمارا میڈیا گالیاں دینے والے سیاستدانوں کی پذیرائی کرتا ہے جتنی زیادہ کوئی سیاستدان گالیاں دیتا ہے اتنا ہی اس کو رات 8بجے سے 11 بجے تک پرائم ٹائم میں میڈیا ٹاک شوز میں مدعو کرکے اس بدزبان شخص کو قوم کے سامنے لا کر بٹھایا جاتا ہے۔ ہماری پارلیمنٹ میں خواتین کو گالیاں دی جاتیں ہیں ٹریکٹر ٹرالی کہا جاتا ہے فحش جملہ بازی کا تبادلہ ہوتا ہے۔ سیاستدان باقاعدہ مرغوں کی طرح ایک دوسرے پر حملہ آور ہوجاتے ہیں۔
    کل سے سوشل میڈیا پر مسلم لیگ ن کے خودساختہ جلاوطن رہنما عابد شیرعلی کا لندن کے ایک ریسٹورانٹ میں گالم گلوچ پر مبنی ویڈیو کلپ گردش کر رہا ہے۔ کوئی شریف آدمی اس کو سن نہیں سکتا۔ موصوف بھرے ہوئے ہوٹل میں کسی کو ننگی گالیاں دے رہے تھے۔ اس ہوٹل میں خواتین اور بچے بھی کھانا کھانے آئے ہوئے تھے اور عید الضحٰی ہونے کی وجہ سے دیگر مسلم ممالک کے شہری بھی اسی ہوٹل میں موجود تھے اور ایک خاتون باقاعدہ کہتی سنی گئیں کہ آپ لوگ عید کے روز جھگڑا کررہے ہیں ۔ اس طرح کے لوگ پاکستان میں بھی ناپسندیدہ تھے اور بیرون ملک بھی پاکستان کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں ۔
    شیخ روحیل اصغر اپنی گالیوں کو پنجابی زبان اور کلچر قرار دیتے رہے پیپلزپارٹی کے ایک رکن اسمبلی فردوس عاشق اعوان کو ٹی وی ٹاک شو میں لائیو گالیاں دیتے رہے اور شو کا میزبان دور کھڑےہو کر دانت نکالتا رہا ۔
    جب تک ہمارا میڈیا مادر پدر آزاد گالم گلوچ کرنے والوں کو پرموٹ کرتا رہے گا معاشرے میں بدزبانی کے کلچر کو فروغ حاصل ہوتا رہے گا۔
    ہمارے میڈیا ہاوسز ریٹینگ کے چکر میں نورا کشتی ٹاک شوز کے ذریعے بدزبانی کی سرپرستی کر رہے ہیں ۔
    پیمرا کو آگے آنا چاہیے اور اس کو رکوانا چاہیئے اور بدزبان گالیاں دینے والوں پر قومی میڈیا پر آنے کی پابندی ہونی چاہئے ۔

    مضمون نگار ایک فری لانس صحافی، بلاگر اور معروف ماہر تعلیم ہیں۔ سیاسی امور پر بھی عمیق نظر رکھتے ہیں۔ حکومتی اقدامات اور ترقیاتی منصوبوں بارے بہت اچھی اور متناسب رپورٹنگ کرتے ہیں۔ ایک اچھے ایکٹوسٹ کے طور پر سوشل میڈیا پر جانے جاتے ہیں۔ ان کا پرسنل اکاؤنٹ ضرور ملاحظہ فرمائیں۔ @Educarepak