Baaghi TV

Tag: عارف انیس

  • مہربان ہوجاؤ!!! — عارف انیس

    مہربان ہوجاؤ!!! — عارف انیس

    اگر تمہارے پاس کچھ بھی ہونے کا اختیار ہو، تو بس مہربان ہو جاؤ!!!

    اگر تمہارے پاس کچھ بھی کرنے کا اختیار ہو، تو بس مہربانی کر جاؤ.

    دنیا میں آٹھ ارب سے زائد لوگ بستے ہیں. دیکھنے کو درجنوں رنگ، ترنگ، ادائیں، رویے، سٹائل ہیں. دیکھنے میں لگتا ہے کہ ہر ایک کے اندر ایک الگ کائنات آباد ہے. بھانت بھانت کے روپ، بہروپ ہیں. کوئی عاجز تو کوئی میر شہر، کوئی سوالی تو کوئی موالی، لیکن بہت اندر سے ہم ایک ہی ہیں. پیار کے متلاشی، یہی کہ کندھے پر کوئی تھپکی دے دے، جب گرنے لگیں تو کوئی تھام لے. اگر گر پڑیں تو کوئی ہاتھ بڑھا دے، بغیر طعنہ دیے اٹھنے دے، اٹھ کر چلنے دے.

    پھر ہم میں سے ہر ایک شخص کسی نہ کسی جنگ میں ہے. جنگ نہ سہی، لڑائی سہی. کچھ لوگ اپنے اس نصیب کے ساتھ حالت جنگ میں ہوئے ہیں، جس کے ساتھ وہ پیدا ہوئے ہیں، مگر اس پر راضی نہیں ہیں. وہ سمجھتے ہیں کہ وہ شاید اس سے بہتر کے حقدار ہیں.

    کچھ محبت کے حصول کے لیے کشمکش میں ہیں. شعوری، لاشعوری طور پران میں چاہے جانے کی تمنا ہے، جو کائنات کی ساری آسائشیں حاصل کرنے کے بعد بھی ماند نہیں پڑتی. محبت انہیں راتوں کو جگاتی ہے اور بدن میں لکڑیاں جلاتی ہے.

    کچھ روگ پال لیتے ہیں. کسی کا دل دھڑکنا بھول جاتا ہے تو کسی کے اندر خلیے بے قابو ہوجاتے ہیں کوئی بصارت کھو دیتا ہے تو کسی کی بصیرت لاپتہ ہوجاتی ہے.

    پھر ہم سب اندرونی خوف کے ساتھ دست پنجہ کرتے ہیں. پیدائش سے لے کر بڑے ہونے تک ہم بہت سےخوف دل میں پال لیتے ہیں. وہم ہیں جو ہم سےسکون چھین لیتے ہیں، انہونی کا ڈر، چھننے کا ڈر، کم ہونے کا ڈر، کیسے کیسے آسیب ہمارے اندر چھپے بیٹھے ہیں.

    پھر ایک باہر کی دنیا ہے جواب ہمارے گھروں، کپڑوں، گاڑیوں اور چالیس ڈھال کو دیکھتی ہے، ہماری پہنچ اور ہماری دسترس کو ناپتی ہے. ہمیں کامیاب یا ناکام کے خانے میں ڈالتی ہے ترازو میں تولتی ہے اور ہماری قیمت لگاتی ہے. کامیابی کا سکہ جمتا ہے، اس کے دام اونچے ہیں، مگر یاد رہے کہ ہم سب اپنی اپنی جگہ پر ناکام بھی ہوتے ہیں اور ہمیں اپنی کرچیاں بعض اوقات پلکوں سے چننی پڑتی ہیں.

    ہم انسان کوہکن بھی ہیں، فرہاد بھی ہیں، کہنے اور کرنے کو پتھروں کا سینہ چیر کر نہر بھی کھود لیتے ہیں. تاہم کبھی کبھی ایک چھوٹا سا وہم بھی ہمیں کھا جاتا ہے، کمر دوہری کردیتا ہے اور سانسیں صلب کرلیتا ہے.

    ہمیں چاہت کی طلب ہوتی ہے، ہم دوستیاں بھی پالتے ہیں، اب تو ہمارے گرد ڈیجیٹل دوستوں کی بھرمار ہوتی ہے. کچھ دوست واقعی ہمارے ہونے پر مہر ثبت کرتے ہیں، مگر سچی بات یہی ہے کہ ہمیں زندگی کی اکثر جنگیں پرائیوٹ طور پر لڑنی پڑتی ہیں، بہت دفعہ تو ہم کسی کو آواز بھی نہیں دے پاتے. یاد رکھیں کہ جو لوگ ہمیں سب سے زیادہ محبوب ہوتے ہیں، ہم اکثر انہی کو دکھ دیتے ہیں.

    اسی دنیا میں ہم لوگوں کو ملتے ہیں، انہیں نظروں ہی نظروں میں تولتے ہیں اور ان کے بارے میں رائے قائم کرلیتے ہیں. پھر ہم اس رائے کا اظہار کرتے ہیں، ہمارا لہجہ بلند اور تلخ ہوجاتا ہے. ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے پاس سارا سچ موجود ہے، پھر ہم اشارے کرتے ہیں اور نعرے لگانے لگ جاتے ہیں.

    اپنی زندگی میں، ہزاروں لوگوں کے مسائل سنے. ان میں شاہی خاندان والے بھی تھے اور دریوزہ گر بھی. کارپوریٹ کنگ بھی اور ہتھ ریڑھی کھینچنے والے بھی. بہت سے ایسے زرداروں اور زورآوروں کو سنا جن کے بارے میں لوگ قسم کھا سکتے تھے کہ ان کو پوری زندگی کسی تڑخن کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہوگا. دیکھا کہ زندگی ہر ایک کو اپنی جگہ مارتی ہے، توڑتی ہے، بے بس کرتی ہے. ہم ناکام بھی ہوتے ہیں، ٹوٹتے بھی ہیں، جڑتے بھی ہیں، شاید ٹوٹنا ہمارے ہونے کا حصہ ہے کہ بعض اوقات اسی جگہ سے روشنی ہمارے اندر داخل ہوتی ہے.

    بعض اوقات میں سوچتا ہوں کہ اگر ہم اپنا اپنا لگیج اٹھائے ہوئے نظر آئیں اور ہماری کمر کے پیچھے کوئی سٹکر لگایا ہو تو لوگوں کو کیسا لگے گا؟ شاید ہم زیادہ عاجزی کے ساتھ ایک دوسرے کو برداشت کر پائیں گے، یا گالی دینے سے، یا آوازہ کسنے سے گریز کرسکیں گے یا ججمنٹ عارضی طور پر ملتوی کردیں گے.

    زندگی مشکل ہے. آسانی ہے، پھر مشکل ہے. راستہ ہے جو کاٹنا ہے، آہستہ آہستہ اپنے پیار کرنے والوں سے محروم ہونا ہے. ہمارے والدین، ہمارے زندگی سے رخصت ہونے والے تقریباً سب سے پہلے افراد ہوتے ہیں. کوئی بھی کتنے بڑے صدمے میں ہو، دیگیں کھڑکتی رہتی ہیں، زندگی ہمیں اپنے چرخے پر چڑھا کر چکر دے دیتی ہے. اور ہمیں "بھوں” چڑھ جاتے ہیں.

    ہمارے ارد گرد خودکشیاں عام ہوتی جارہی ہیں. ہم نہیں جانتے کہ جسے ہم جج کر کے، منصف بنتے ہوئے، پھانسی کی سزا سنارہے ہوتے ہیں وہ کن کن جاں گسل مرحلوں میں زندگی کو سہار رہا ہوتا ہے. کیا ہی بہتر ہو ہم منہ بھر کر گالی دیتے وقت، اپنی ججمنٹ دیتے وقت، فیصلہ سناتے وقت، ہارن دیتے وقت، چیختے، غراتے، باؤلے ہوتے وقت یہ یاد رکھیں کہ ہر شخص عرصہ محشر میں ہے، زندگی میں اپنی جنگ کے کسی نہ کسی مرحلے میں ہے اور کیا پتہ ہمارا اس کے گلے کی طرف اٹھتا ہوا ہاتھ اگر اس کے کندھے پر رکھ دیا جائے تو شاید اس کی زندگی اور امید بچائی جاسکتی ہو.

    زندگی امتحان ہے اور کڑا امتحان ہے. اکثر لوگ اس لیے بھی ناکام رہ جاتے ہیں کہ وہ دوسروں کا پرچہ نقل کرلیتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ زندگی ہر ایک کو مختلف قسم کا پرچہ پکڑاتی ہے. زندگی میں ہوسکتا ہے کچھ لوگ سفر میں ساتھ چلیں، پر سفر اپنا اپنا اور الگ الگ ہے. کوئی جتنا چاہے دوسرے کا پینڈا نہیں بھگتنا سکتا.

    آپ ہر چیز پر قابو نہیں ہا سکتے، مگر اپنے اوپر زین کس سکتے ہیں. اپنے لہجے کو نرم کر سکتے ہیں، تلخی کو جھٹک سکتے ہیں، چہرے پر مسکراہٹ لاسکتے ہیں، غلطیاں معاف کر سکتے ہیں تاکہ آپ کو بھی معاف کیا جاسکے.

    کریم بنئے, کرم کی چادر اوڑھیے تاکہ وہ کریم آپ کے ساتھ مہربان ہو کہ کریم اپنے غلاموں کو رسوا نہیں کرتا.

    (مصنف کی کتاب "صبح بخیر زندگی” سے ری براڈکاسٹ)

  • کنٹیکٹ سے کنکشن تک!!! — عارف انیس

    کنٹیکٹ سے کنکشن تک!!! — عارف انیس

    ہم پانچوں دوست تقریباً دس سال بعد ملے. تین گھنٹے کی ملاقات میں آدھا گھنٹہ گپ شپ کی ہوگی. باقی وقت فیس بک چیک کرنے، واٹس ایپ کے پیغامات کی ترسیل اور چھان بین اور انٹ شنٹ کالوں کا جواب دینے اور اسی طرح کے ‘ارجنٹ’ مگر غیر ضروری کاموں میں صرف ہوگیا. اٹھنے لگے تو ایک دوست کی بات یاد آئی جس نے کہا تھا کہ کچھ عرصے بعد اصل امارت اور سٹیٹس کا سمبل یہ ہوگا کہ بندہ فیس بک یا کسی بھی سوشل میڈیا پر موجود نہیں ہے اور نہ ہی کسی قسم کے فون پر دستیاب ہے.

    نوبل انعام یافتہ ڈیسمنڈ ٹوٹو نے اس حوالے سے شاندار مثال دی ہے. انہوں نے کہا کہ شروع شروع میں جب عیسائی مشنری افریقہ میں آئے تو ان کے ہاتھ میں بائبل تھی اور ہمارے ہاتھوں میں افریقہ کی لاکھوں ایکڑ زمین تھی.

    پادریوں نے کہا ‘آؤ آنکھیں بند کریں اور خداوند کی عبادت کریں.’

    جب ہماری آنکھیں کھلیں تو پتہ چلا کہ بائبل ہمارے ہاتھ میں ہے اور ہماری زمینیں پادریوں کے قبضے میں جاچکی ہیں.

    جب فیس بک اور واٹس ایپ کے جن کا نزول ہوا تو اس وقت ہمارے پاس وقت اور آزادی تھی جب کہ ان کے پاس انٹرنیٹ اور انفارمیشن تھی. ہمیں بتایا گیا کہ سب کچھ مفت ہے. ہم نے آنکھیں بند کیں اور جب کھلیں تو معلوم ہوا کہ ہمارا وقت اور آزادی دونوں چھن چکے ہیں.

    ہم میں سے اکثر چغد لوگوں کے ہاتھ میں سمارٹ فون موجود ہے اور یہ کئی اعتبار سے ہم سے زیادہ سیانا ہے کہ اس نے بہت کچھ کھایا پیا ہوا ہے. مثال کے طور پر اس نے ہاتھ کی گھڑی کھائی ، ٹارچ لائٹ کھا گیا ،یہ خط کتابت کھا گیا، یہ کتاب کھا گیا، یہ ریڈیو کھا گیا، ٹیپ ریکارڈ کھا گیا، کیمرے کو کھا گیا، کیلکولیٹر کو نگل گیا، یہ پڑوس کی دوستی، میل محبت، ہمارا سکون، تعلقات، یاد داشت، نیند، توجہ اور ارتکاز ڈکار گیا. کمبخت اتنا سب کچھ کھا کر "اسمارٹ فون” بنا ہے. بدلتی دنیا کا ایسا اثر ہونے لگا ہے کہ انسان پاگل اور فون اسمارٹ ہوگیا ہے. جب تک فون تار سے جڑا تھا، انسان آزاد تھا، جب فون آزاد ہو گیا، انسان فون سے بندھ گیا، دیکھا جائے تو انگلیاں ہی آج کل رشتے نبھا رہی ہیں، زبان سے نبھانے کا وقت کہاں ہے؟

    اگر ہم اپنے ارد گرد دیکھیں تو سب ٹچ میں بزی ہیں، پر ٹچ میں کوئی نہیں ہے. یہاں مجھے ایک مشہور سوامی جی کا واقعہ یاد آتا ہے.

    سوامی جی نے جوگاجوگ (کا نٹیکٹ) اور سنجوگ (کنکشن) کے حوالے سے بات کی تھی اور ایک مشہور صحافی نے کڑے تیوروں کے ساتھ انہیں گھیر لیا تھا اور ہوا میں ہاتھ لہراتے ہوئے کہا، باباجی، آپ کی بات کی سمجھ نہیں آئی.

    سوامی جی کے چہرے پر ایک دبی دبی مسکان سی ابھری. ‘کوئی بات نہیں، ابھی سمجھ لیتے ہیں. یہ بتاؤ کہ کہاں کے رہنے والے ہو؟’

    صحافی کے چہرے پر ناگواری کے اثرات نمایاں ہوئے. تاہم اس نے ان پر قابو پاتے ہوئے اپنے علاقے کے بارے میں بتا دیا.
    ‘ہوں، کل کتنے لوگ ہو؟ والدین، بہن بھائی؟’ دوسرا سوال آیا.
    صحافی نے قدرے غور سے باباجی کو دیکھا. اسے ایسا لگا جیسے الٹا اس کا انٹرویو شروع ہوگیا ہے.
    ‘ہم، تین بہن بھائی ہیں. والدہ رخصت ہوچکی ہیں، والد حیات ہیں’. اس نے بوجھل لہجے میں جواب دیا.
    ‘ہوں، تو اپنے والد سے آخری دفعہ کب رابطہ ہوا؟
    ‘ایک ماہ پہلے ‘. صحافی نے روکھے لہجے میں جواب دیا. سوامی جی، بدستور ہشاش بشاش تھے.

    ‘ تم اپنے بھائیوں، بہنوں سے ملتے ہو؟ آخری ملاقات کب ہوئی تھی؟.
    ‘ ملتا ہوں. آخری دفعہ تین مہینے پہلے ملے تھے.’ اس کے لہجے میں کھردرا پن نمایاں ہورہا تھا.
    ‘ اچھا تو تم بہن بھائی آپس میں رابطہ رکھتے ہو؟ آخری مرتبہ پورا خاندان کب اکٹھا ہوا تھا؟

    اس مرتبہ صحافی کے ماتھے پر پسینے کے قطرے ابھرے تھے.’ خاندان تو دوسال پہلے اکٹھا ہوا تھا’.
    ‘بہت خوب. تو کتنا وقت تم لوگوں نے ایک ساتھ بتایا؟ ‘
    ‘ تقریباً تین دن کے آس پاس’. اس نے تھوک نگلتے ہوئے کہا.
    ‘ہوں. تو تم سب بہن بھائیوں نے اپنے باپ کے ساتھ کتنا وقت گزارا؟ سوامی جی اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا.
    صحافی کا سانس پھول رہا تھا اور اس نے خلا میں گھورنا شروع کر دیا.

    ‘کیا تم لوگوں نے ناشتہ اکٹھے کیا یا رات کا کھانا ایک ساتھ کھایا؟ کیا اپنے باپ کی صحت کی خبرلی؟ اس کے پاؤں دبائے؟ اس سے پوچھا کہ تمہاری ماں کے بغیر وہ کیسا محسوس کرتا ہے؟’

    صحافی کے چہرے پر عجیب و غریب سے تاثرات ابھرے. اس کی آنکھیں نم ہونے لگی تھیں اور سانس مزید بوجھل ہوگیا تھا.
    سوامی جی چہرے پر شفقت کے تاثرات لیے ہوئے اس کی طرف جھکے اور اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا.’ معاف کرنا اگر انجانے میں میری کسی بات نے دکھ پہنچایا ہو. میں تو بس تمہارے سوال کا جواب دے رہا تھا. اپنے باپ کے ساتھ، بہن بھائیوں کے ساتھ تمہارا کانٹیکٹ تو ہے مگر کنکشن نہیں ہے. تعلق دل کا دل سے ہوتا ہے. یہ ساتھ جڑ کر بیٹھنے سے، ایک ساتھ قہقہہ لگانے سے، ایک ہی لے میں رونے سے، ایک پلیٹ میں کھانے سے، وقت ایک ساتھ بتانے سے، ہاتھ ہر ہاتھ مارنے سے،گلے لگانے سے، کندھے سے کندھا جوڑنے سے بنتا ہے. اس میں روایتی حال چال نہیں بلکہ سب ٹھیک ہے کی تہ میں اترا جاتا ہے. آنکھوں میں دیکھا جاتا ہے، بدن بولی کو سمجھا جاتا ہے. رابطہ اور تعلق دو الگ چیزیں ہیں.’.

    صحافی نے نمناک آنکھوں سے باباجی کو دیکھا اور سر ہلایا. اس نے زندگی کا سب سے بڑا سبق سیکھ لیا تھا.

    ہمارے دور کی سب سے بڑی وبا کانٹیکٹ (رابطہ) بنانا ہے. اب دو چار سو کی بجائے ہمارے فون میں ہزاروں افراد کے نمبر ہوتے ہیں. تاہم اس بھاگم دوڑی میں کنکشن (تعلق) قربان ہوگیا ہے.

    دنیا کے زہین ترین اور نامور افراد میں سے ایک ٹونی بیوزان کے ساتھ میری پہلی ملاقات بہت دلچسپ رہی تھی. ٹونی تخلیقی معاملات اور انسانی دماغ کے استعمال پر دنیا بھر میں ماہر مانا جاتا ہے. اس کی ڈیڑھ سو سے زیادہ کتابیں، پچاس سے زائد زبانوں میں ترجمہ ہوچکی ہیں. اس کی ایجاد کردہ تکنیک مائنڈ میپنگ دنیا بھر میں کروڑوں افراد استعمال کرتے ہیں، جن میں درجنوں ملکوں کے سربراہان مملکت بھی شامل ہیں. میں ٹونی کو پاکستان آنے کی دعوت دینے کے لیے پہنچا تھا، اور مجھے معلوم نہیں تھا کہ آج میں اس سے بہت قیمتی سبق حاصل کرکے جاؤں گا.

    آدھے گھنٹے میں میرا فون چار دفعہ بجا اور مجھے ایکسکیوزمی کہ کر کال سننا پڑی. پانچویں دفعہ فون بجا تو ٹونی نے میز پر زور سے مکہ مارا اور غراتے ہوئے کہا ‘شٹ آپ، ناؤ یو آر انسلٹنگ می’. میں نے سکتے کے عالم میں اسے دیکھا اور اگلے دس منٹ میں ٹونی نے مجھے کمیونیکیشن کے آداب پر سیر حاصل لیکچر دے مارا.

    ‘میں دنیا میں بہت کچھ لے کر آیا ہوں مگر تمہارے لیے میرے پاس دو خاص تحفے ہیں. ایک میرا وقت اور دوسرا میری توجہ. جو وقت میرا تمہارے ساتھ بیتے گا، دنیا کی کوئی طاقت اور زروجواہر وہ وقت واپس نہیں لوٹا سکتے. تاہم اس وقت میں اگر میں تمہاری طرف متوجہ نہیں ہوں تو میں تمہاری توہین کررہا ہوں. اگر میں فون سنتا ہوں تو تمہیں بتارہا ہوں کہ فون پر موجود شخص تم سے زیادہ اہم ہے. اور یاد رکھو، کسی ملاقات میں فون میز پر سامنے رکھنا ایک طرح سے اپنے جنسی اعضاء نمائش کے لیے رکھنے کے مترادف ہے. اور ہاں اگر تم معلوم کرنا چاہتے ہو کہ تم زندگی میں کتنے کامیاب اور کامران ہو تو اسکا ایک دلچسپ ٹیسٹ یہ کہ تم کتنا عرصہ فون بند رکھ سکتے ہو یا اس کو سننے سے انکار کرسکتے ہو ‘.

    تو پیارے پڑھنے والے، آج اپنا فون بند کرکے یہ چھوٹا سا تجربہ کرلیتے ہیں کہ ہم کتنے کامیاب ہیں اور وقت اپنی مرضی سے استعمال کرنے پر قادر ہیں. آؤ، رابطہ نہیں، تعلق استوار کرتے ہیں، اپنے ارد گرد موجود جان لیوا شور سے جان چھڑا کر اپنے پیاروں کے ہاتھوں میں ہاتھ دیتے ہیں، ان کے لمس کو محسوس کرتے ہیں، ان کی آنکھوں کے گرد پڑنے والی لکیروں کو غور سے دیکھتے ہیں، ان کی باتوں کی تہہ تک پہنچتے ہیں کہ ہم توجہ سے زیادہ قیمتی تحفہ ایک دوسرے کو نہیں دے سکتے ہیں.

    (مصنف کی کتاب "گوروں کے دیس سے” اقتباس)

  • شریکا 2030!!! — عارف انیس

    شریکا 2030!!! — عارف انیس

    پچھلے دنوں پڑوسیوں نے چپکے چپکے ایک کام کیا. میچ تو وہ ہار گئے. لیکن دوسری طرف بڑی چھلانگ مار دی.

    حال ہی میں، انڈیا نے برطانیہ کو دنیا کی پانچویں بڑی مالی طاقت کے رتبے سے ہٹا کر، یہ پوزیشن خود سنبھال لی ہے. اب تو لگتا ہے شاید ملکہ جی نے اسی بات کو دل سے نہ لگا لیا ہو. ہندوستان کی جی ڈی پی 3.535 ٹرلین ڈالرز تک پہنچ چکی ہے. اس کوارٹر میں اقتصادی گروتھ کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ 13.5 فیصد ہے.

    ماہرین کا کہنا ہے کہ 2030 تک ہندوستان، جرمنی اور یورپ کو بھی پچھاڑ چکا ہوگا، اور امریکہ اور چین کے بعد تیسری مالی عالمی طاقت کی پوزیشن پر براجمان ہوگا.

    یاد رہے کہ اس فروری میں گوتم اڈانی 143 ارب ڈالر کی دولت کے ساتھ ایشیا کا تیسرا امیر ترین شخص بن چکا ہے اور امیزان کے جیف بیزوس کو دوسرے نمبر سے پھسلوانے ہی لگا ہے.

    یارو، جب میزائل اور بم وغیرہ مقابلے کے بنا لیے تو مالی مسل بنانے میں کیا حرج ہے؟ میں انتظار کرتا رہا کہ شاید اس بڑی خبر پر کوئی لکھے گا، مگر لگتا ہے اپن کا انٹیلی جنشیا، ایشیا کپ دیکھنے میں مصروف تھا.

    ہندوستان میں ابھی بھی جہالت، بھوک اور غربت نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں، جن سے چالیس کروڑ سے زائد لوگ متاثر ہیں. مگر نظر آ رہا ہے کہ اگلے بیس برس میں وہ خط غربت سے اوپر آ چکے ہوں گے. اور یہ سب "معجزہ” پچھلے تیس برس کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے.

    مسئلہ تو یہ ہے کہ آج ہم سمت بدلتے ہیں تو تیس برس بس پکڑنے میں لگ جائیں گے. مگر تیس برس بھی ٹھیک ہیں، چالیس برس ہوگئے تو پھر کیا ہوگا؟

    کرکٹ کے علاوہ، ہم کیوں کھیل سے باہر ہوتے جا رہے ہیں؟ منگتے ہونا یا دھمکی دینے کے علاوہ اپن کے پاس اور کیا کچھ ہے؟

    کیا وجہ ہے کہ ملتی جلتی مذہبی شدت، ایسی ہی فرسودہ بیوروکریسی، کٹا پھٹاانفراسٹرکچر اور بھرپور کرپٹ لیڈرشپ کے ساتھ، پڑوسی لوگ کدھر جا رہے ہیں اور ہم کدھر جارہے ہیں؟

    کدھر جارہے ہو، کدھر کا خیال ہے؟

    آپ کیا کہتے ہیں؟ اصل مسئلہ کیا ہے؟ ہم مالی سپر پاور بننے کی، ایشین بلی یا لگڑ بگڑ بننے کی بس کیسے پکڑ سکتے ہیں؟ ابھی، اسی وقت کیا، کرنا ضروری ہے؟

    صبح صبح مورال ڈاؤن کرنے اور مشکل سوال پوچھنے پر معافی!

  • للی بٹ کا جادو!!! — عارف انیس

    للی بٹ کا جادو!!! — عارف انیس

    ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کی موت کے بعد کئی زاویوں سے بات چیت چل رہی ہے. للی بٹ (Lilibet) ، ان کا نک نیم تھا. بہت سے دوستوں نے برطانوی سامراج پر تبرا کیا، جو بنتا بھی ہے کہ سارے سامراج انسانی خون اور ہڈیوں پر استوار ہوتے ہیں. ان کی ذاتی زندگی پر بھی پھبتیاں کسی جارہی ہیں کچھ دوست لیڈی ڈیانا کو ان پر ترجیح دے رہے ہیں. کچھ کو کوہ نور ہیرا یاد آرہا ہے. کچھ اس امر پر پشیماں ہیں کہ وہ کلمہ پڑھے بغیر دنیا سے چلی گئیں. میں چونکہ لیڈرشپ کی سائنس کا طالب علم ہوں تو اسی حوالے سے ان کی زندگی کا جائزہ لوں گا.کہا جاتا ہے کہ طاقت کی سب سے اونچی سیڑھی پر شور موجود نہیں ہوتا. ملکہ اس کا جیتا، جاگتا ثبوت تھیں.

    بہت کم دوستوں نے ملکہ کے اثر اور لیڈرشپ پر بات کی ہے، حالانکہ یہ سب سے زیادہ متعلق بات ہے. بی بی سی نے جب سرخی چھاپی کہ "ملکہ کی موت پر تاریخ رک گئی” تو شاید کسی کو مبالغہ لگے مگر برطانیہ اور فرسٹ ورلڈ کی حد تک ایسا ہی ہے. اس امر پر کم غور کیا گیا کہ جب الزبتھ ملکہ بنیں تو اس وقت دنیا کی سب سے بڑی سلطنت پر سورج ڈھل چکا تھا اور دوسری جنگ عظیم میں اس کی ہڈیاں چورا بن چکی تھیں. یاد رہے کہ ملکہ الزبتھ کی شادی کا لباس بھی کچھ عوامی عطیات جمع کر کے بنایا گیا تھا. للی بٹ نے جو تاج پہنا تھا وہ بہت بھاری اور کئی جگہوں سے چبھنے والا تھا.

    انٹرنیشنل ریلیشنز میں ایک کانسپٹ "سافٹ پاور” ہے کہ جنگی سازوسامان اور فوج کی ہیبت کے علاوہ کس طرح اقوام اپنی زبان، ثقافت اور موسیقی سے دنیا میں اپنا مصالحہ بیچتی ہیں. یاد رہے کہ برطانیہ تقریباً سو سال سے عالمی طاقت کے سٹیج پر اپنی جگہ کھو چکا ہے، تاہم گزشتہ دس برس میں کئی مرتبہ دنیا میں سب سے بڑی سافٹ پاور رہنے کا اعزاز حاصل کر چکا ہے. سچی بات تو یہ ہے کہ اس اعزاز کا ٪80 کریڈٹ ملکہ برطانیہ کو جاتا ہے. کچھ محققین کا خیال ہے کہ برطانوی شاہی خاندان کی موجودگی، ہر برس دس ارب پاؤنڈز کے برابر رقم، سیاحوں، طالب علموں اور دیگر اثر و رسوخ سے برطانوی خزانے میں جانے کا باعث بنتی ہے. یعنی اگر ہاتھی ہے بھی سہی تو سفید ہاتھی نہیں ہے.

    سوشل میڈیا پر مرتب کی گئی ایک فہرست کے حساب سے، ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم نے 96 سالہ زندگی میں، مندرجہ ذیل تاریخی ساعتوں سے گزریں.

    طاعون سے
    چیچک سے
    دوسری جنگ عظیم کے دوران
    کوریا کے جنگ کے دوران
    ویتنام کی جنگ کے دوران
    لینڈ رورو اور رینج روور کے بننے والے عرصے کے دوران
    کنکورڈ جہاز کے شروع ہونے کے وقت
    کنکورڈ کے خاتمے کے بعد
    جرمنی میں نازی حکومت کے دوران
    برلن کی تباہی کے دوران
    برلن کی تقسیم کے وقت
    برلن کی یکجائی کے وقت
    اسرائیل کی تخلیق کے وقت
    فلسطینیوں کی اُن کے علاقوں سے بے دخلی کے وقت
    1956 میں تین مغربی قوتوں کے مصر پر حملہ کے وقت
    1973 میں ہونے والی جنگ کے دوران
    سرد جنگ کےعرصے میں
    ایران اور عراق کی جنگ کے دوران
    پہلی خلیجی جنگ کے دوران
    صدام حسین کے زوال کےوقت
    سوویٹ یونین کے خاتمے اور ریاستوں کا شیرازہ بکھرنے کےوقت
    برطانیہ کے یورپی یونین شمولیت کے وقت
    برطانیہ کے یورپی یونین چھوڑنے کےوقت
    اپالو 1 سے 17 کے درمیانی عرصہ کے دوران
    ایشیا اور افریقہ کے ممالک کی آزادی کے وقت
    15 برطانوی وزرائے اعظم کی حکومتوں کے دوران
    چارلس اور ڈیانا کی ازدواجی زندگی
    چارلس اور کامیلا پارکر
    اینڈریو اور فیرگی
    ہیری اور میگن
    اور انہوں نے اپنے اس وقت میں بھگتا دیے
    15 امریکی صدر
    7 سعودی بادشاہ
    48 اطالوی وزرائے اعظم
    اقوام متحدہ کے 10 سیکریٹری جنرل
    22 عدد پاکستانی وزرائے اعظم
    13 عدد پاکستانی صدور
    تیسری، چوتھی اور پانچویں فرانسیسی ریپبلک
    انٹرنیٹ
    ایپل ٹی وی
    نیٹ فلیکس
    کووڈ 19 ( کورونا وائرس)

    میں سب سے زیادہ متاثر اس امر سے ہوں کہ ملکہ برطانیہ نے انسانی ترقی اور تبدیلی کے سب سے تیز اور تند سالوں میں اپنے آپ کو تبدیل کیے رکھا اور شاہی خاندان جیسے فرسودہ ادارے کو مرنے نہیں دیا. آج بھی برطانیہ میں 65-70 فیصد افراد شاہی خاندان سے محبت کرتے ہیں اور گوروں کی مشہور زمانہ جمہوریت سے محبت اور اختیار سے نفرت کے باوجود اس وقت تاش کے پتوں کے علاوہ برطانوی بادشاہ بھی باقی ہے.

    حال ہی میں نیٹ فیکس پر ڈرامہ "THE CROWN” نے باہر کی دنیا کو شاہی خاندان کے اندر کے مناظر دکھائے اور لوگوں کو نظر آیا کہ شاہی تاج بھی پہننے والے کو کہاں کہاں چبھتا ہے. میں ٹاپ کمپنیوں کے سی ای اوز کو کوچ کرتا ہوں تو انہیں یہ ڈرامہ سیریز دیکھنے کی ترغیب دیتا ہوں، انفلوئنس اور ایگزیکٹو پریزینس کے حوالے سے شاید اس سے بہتر چیز نہیں بنی.

    لیڈرشپ کے طالب علموں کو ایک اور شاندار چیز ضرور دیکھنی چاہیے. برطانوی ملکہ یا بادشاہ ہر منگل کو بکنگھم پیلس میں 6:30 کے آس پاس برطانوی وزیر اعظم سے ملاقات کرتے ہیں. 2013 میں ویسٹ اینڈ پر "THE AUDIENCE” نام کا ڈرامہ بنا جس میں ہیلن مرن نے ملکہ الزبتھ کا شاندار کردار ادا کیا. انہوں نے اپنے ستر برس کے دوران 14 برطانوی وزراء اعظم سے ملاقاتیں کیں جن میں چرچل سے لے کر بورس جانسن تک شامل تھے. سیاست اور لیڈرشپ کے طالب علموں کے لیے یہ ملاقاتیں اور کاروبار حکومت میں مداخلت کیے بغیر ملکہ کی وزراء اعظم کو ایڈوائس، بیش قیمت اور خاصے کی چیز ہیں.

    گزشتہ دس برس میں ملکہ برطانیہ سے دو مرتبہ شاہی تقریبات میں ملاقاتیں ہوئیں، شہزادہ چارلس، سارہ فرگوسن، شاہزادہ ولیم اور شہزادیوں سے کئی مرتبہ ملاقاتیں رہیں. 2 برس قبل جب میں نے سلیمان رضا کے ساتھ مل کر کووڈ کے دوران پورے برطانیہ میں طبی عملے اور دیگر افراد کو کھانے فراہم کرنے کی مہم "ون ملین میلز” چلائی تو اس کے بعد ملکہ برطانیہ کی طرف سے تعریفی خط موصول ہوا، جسے پا کر میں بہت حیران ہوا تھا کہ میرے خیال میں شاہی خاندان کو اس رضاکارانہ مہم سے کیا دلچسپی ہو سکتی تھی. پچھلے دس سالوں میں، میں یہی دیکھ پایا کہ شاہی خاندان کے اس ادارے کی گوند ملکہ برطانیہ ہی تھیں. شاہ برطانیہ کے طور چارلس یقیناً مؤثر رہیں گے، تاہم اس امر کا خطرہ موجود ہے کہ یونائٹد کنگڈم متحد نہ رہ پائے اور سکاٹ لینڈ اگلے کچھ برسوں میں علیحدہ ملک بن جائے.

    خیر اس وقت برطانیہ میں شدید سوگ کا عالم ہے. بکنگھم پیلس کا چکر لگا ہے تو وہاں کئی گوروں اور گوریوں کو دھاڑیں مار کر روتے دیکھا ہے جو گوروں کے ٹھنڈے پن کو جانتے ہوئے، ایک اجنبی سی ساعت ہے. سب سے خاص بات یہ تھی جب کچھ بزرگ گورے، گوریوں سے بات ہوئی تو اس کا مفہوم یہ بنا کہ، برطانیہ ویسے تو دوسری عالمی جنگ میں ختم ہوگیا تھا، تاہم یہ ملکہ کی برکت تھی کہ وہ اپنے پاؤں پر جم کر کھڑا ہوا، اور پاؤنڈ میں طاقت بھی برقرار رہی. اب یہ بزرگ لوگ آنسوؤں سے پریشان تھے کہ اب ملکہ نہیں رہی تو اس "برکت” کا کیا بنے گا؟ بابت ہوتا ہے کہ پیر صرف دیس میں نہیں ہوتے، یا شاید خدمت کرنے والے کسی بھی دیس میں ہوں، انہیں پیر مان لیا جاتا ہے.

    انسانی نفسیات صدیوں سے شاہوں، بادشاہوں اور شہزادیوں کو پسند کرتی ہے کیونکہ وہ ان کی کہانیوں کے مرکزی کردار ہوتے ہیں، جنہیں شاید جان بوجھ کو ابھارا جاتا ہے. تاہم ایسے غبارے دس بیس برس میں پھٹ جاتے ہیں، اگر کوئین الزبتھ ستر برس کی فرماں روائی میں دنیا کے سب سے بے رحم پریس اور تنقید کا سامنا کرتی ہوئی عزت سے رخصت ہوئی ہے تو اس میں لیڈرشپ کے طالب علموں کے لیے کافی کچھ سیکھنے کو موجود ہے.