Baaghi TV

Tag: عارف نقوی

  • ابراج گروپ کے بانی عارف نقوی امریکہ حوالگی کے خلاف اپیل ہار گئے

    ابراج گروپ کے بانی عارف نقوی امریکہ حوالگی کے خلاف اپیل ہار گئے

    بند ہونے والی پرائیویٹ ایکویٹی کمپنی ابراج گروپ کے بانی عارف نقوی بدھ کو دھوکہ دہی کے الزامات کا سامنا کرنے کے لیے لندن سے امریکہ حوالگی کے خلاف اپیل ہار گئے-

    باغی ٹی وی: برطانیہ کی ایک عدالت نے پاکستان کی مشہور کاروباری شخصیت اور ابراج گروپ کے بانی عارف نقوی کی امریکہ کے حوالے کیے جانے کے خلاف درخواست مسترد کر دی تھی جس کے بعد عارف نقوی نے عدالت کا یہ فیصلہ چیلنج کر دیا تھا-

    ٹوئٹر کے دفتر میں محافظ ہروقت یہاں تک کہ باتھ روم میں بھی ایلون مسک …

    مقدمہ ہارنے کے بعد ایک وقت میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے مشرق وسطیٰ کے سب سے بڑے سرمایہ کار گروپ کے بانی کو امریکہ میں مقدمے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    امریکی استغاثہ نے الزام لگایا کہ پاکستانی تاجر عارف نقوی بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن سمیت امریکی سرمایہ کاروں کو دھوکہ دینے کی سازش میں ملوث رہے ہیں۔

    عالمی خبررساں ادارے کے مطابق عارف نقوی پبلک ریلیشنز فرم کے ذریعے ان الزامات سے انکار کر چکے ہیں۔

    برطانوی جج جوناتھن سوئفٹ نے بدھ کو عارف نقوی کو ان کی امریکہ حوالگی کی 2021 کے مقدمے کے فیصلے کا عدالتی جائزہ لینے کی درخواست مسترد کر دی۔

    عارف نقوی کے وکیل ایڈورڈ فٹزجیرالڈ نے ایک روز قبل لندن کی ہائی کورٹ کو بتایا تھا کہ ان کے مؤکل کو ممکنہ طور پر نیو جرسی کی جیل میں پرتشدد مجرموں کے ساتھ رکھا جا سکتا ہےعارف نقوی شدید ڈپریشن کا شکار ہیں اور حوالگی کی صورت میں ان کو خودکشی کا ’حقیقی خطرہ‘ لاحق ہے۔

    ہماری حکومت گرانے میں تاجروں کا ہاتھ تھا،پی ٹی آئی کا ایک اور یوٹرن

    تاہم امریکی حکومت کی نمائندگی کرنے والے وکلا نے کہا کہ عارف نقوی کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ استغاثہ مقدمے کی سماعت سے قبل ضمانت کی مخالفت نہیں کرے گا۔

    امریکی حکومت کے سرکاری وکیل مارک سمرز نے عدالتی فائلنگ میں کہا کہ عارف نقوی کے مقدمے کے امریکی ڈسٹرکٹ جج لیوس کپلان ہیں جنہوں نے ایف ٹی ایکس کے بانی سیم بینک مین فرائیڈ کی بھی ضمانت کی منظوری دی تھی جو ’مضبوط اشارہ‘ ہے کہ نقوی کو ضمانت مل جائے گی۔

    برطانوی جج سوئفٹ نے بدھ کو جاری فیصلے میں کہا کہ عارف نقوی کی حوالگی کی منظوری کے 2021 کے فیصلے کے بعد سے جیل کے حالات میں کوئی ’مادی تبدیلی‘ نہیں آئی ہے اگر عارف نقوی کو جیل میں رکھا گیا تو ان کی خودکشی کے ممکنہ خطرے کو روکنے کے لیے مناسب انتظام کیا جا سکتا ہے۔

    اسلام آباد میں عورت مارچ کے شرکا پر تشدد کرنے والے تین اہلکارمعطل

    عارف نقوی کے وکیل نے فوری طور پر اس فیصلے پر تبصرہ کرنے کی روئٹرز کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

    یو ایس سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی) نے الزام لگایا ہے کہ عارف نقوی اور ان کی فرم نے ابراج گروتھ مارکیٹس ہیلتھ فنڈ کے لیے رقم اکٹھی کی جنہوں نے تین سالوں میں امریکی خیراتی اداروں اور دیگر امریکی سرمایہ کاروں سے 10 کروڑ ڈالر سے زیادہ رقم جمع کی۔

    امریکی استغاثہ نے سابق ایگزیکٹو پر مالیاتی بحران کے دوران فنڈز کی پوزیشن کے حوالے سے سچ چھپانے کا الزام بھی عائد کیا، جب کہ لاکھوں ڈالرز ان کے اپنے ہی خاندان کو چوری چھپے منتقل کیے گئے۔

    عارف نقوی دبئی میں قائم ابراج کے بانی تھے پاکستان میں بھی ابراج گروپ کے اثاثے موجود ہیں۔ کراچی کو بجلی فراہم کرنے والا ادارہ کے الیکٹرک ابراج گروپ کی ملکیت ہے جب کہ اسلام آباد میں موجود ایک لیبارٹری میں بھی ابراج گروپ کے حصص موجود ہیں۔

    ماضی میں سابق وفاقی وزیر اسد عمر یہ انکشاف کر چکے ہیں کہ عارف نقوی ایک وقت میں ان کی حکومت کو بے ضابطہ مشاورت فراہم کر رہے تھے۔

    اس کے علاوہ عارف نقوی سابق وزیراعظم عمران خان کے ساتھ کئی اجلاسوں میں بھی نظر آئے تھے اور برطانیہ کی عدالت میں ایک موقع پر جج یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ ’عارف نقوی کے پاکستان میں اعلیٰ بااثر شخصیات کے ساتھ تعلقات ہیں جن میں وزیراعظم پاکستان عمران خان بھی شامل ہیں۔

    ابراج گروپ کے سربراہ عارف نقوی نے کس طرح بل گیٹس سمیت بڑوں بڑوں‌ سے فراڈ کیا: تفصیلات آگئیں

    پاکستان کے احتساب ادارے نیب کے مطابق عارف نقوی تحریک انصاف کو فنڈنگ بھی کر چکے ہیں جب کہ امریکہ میں اس وقت ان کے خلاف کیسز چل رہے ہیں سال 2018 میں فرم کے خاتمے کے وقت ابراج ایک ارب ڈالر سے زائد کا مقروض تھا۔

    امریکہ میں عارف نقوی پر فراڈ کے الزامات ہیں اور مبینہ متاثرین میں بل اینڈ ملنڈا گیٹس فاؤنڈیشن بھی شامل ہے 2019 میں برطانیہ میں میٹروپولیٹن پولیس نے ابراج گروپ کے سربراہ عارف نقوی کو سرمایہ کاروں سے دھوکہ دہی کے الزام میں لندن کے ہیتھرو ائیرپورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا۔

    عارف نقوی کے کاروباری ساتھی عبدالودود کو امریکہ میں گرفتار کیا گیا تھا، اور استغاثہ کے وکلاء نے ان پر الزام عائد کیا تھا کہ انھوں نے ہزاروں ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری کا غلط استعمال کیا امریکہ کے سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن کی شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے عارف نقوی کو لندن میں گرفتار کیا گیا تھا۔

    نیویارک کے جنوبی ڈسٹرکٹ کے اسسٹنٹ یو ایس اٹارنی نے عارف نقوی کے خلاف تحریری درخواست میں سنہ 2014 سے سنہ 2018 کے دوران فراڈ اور منی لانڈرنگ کے 16 مبینہ جرائم کا ارتکاب کرنے کے الزمات لگائے تھے۔

    مبینہ بیٹی ظاہر نہ کرنےکا کیس:عمران خان کی متفرق درخواست سماعت غیر معینہ مدت تک …

    عدالتی دستاویزات میں کہا گیا تھا کہ استغاثہ کی طرف سے لگائے گئے الزامات کے مطابق ابراج گروپ کو جب 2014 میں مالی مشکلات پیش آنا شروع ہوئیں تو اس وقت مبینہ طور پر فراڈ شروع ہوا تھا۔ گروپ کی آمدنی روزمرہ کے اخراجات اٹھانے کے لیے ناکافی پڑنے لگی تو مبینہ طور پر عارف نقوی اور اس کے ساتھ شامل کچھ لوگوں نے مبینہ طور پر گڑ بڑ کرنا شروع کی۔

    کہا گیا تھا کہ امریکہ کی طرف سے دائر کردہ درخواست میں کہا گیا ہے کہ فراڈ کے دو طریقے تھے۔ پہلے طریقہ جو مبینہ طور پر اختیار کیا گیا وہ ابراج گروپ کی مالی مشکلات کو چھپانے کے لیے سرمایہ کاروں کا پیسہ ادھر سے ادھر کیا گیا یا جس مقصد کے لیے حاصل کیا گیا تھا اسے دوسری جگہوں پر استعمال کیا جانا شروع کیا گیا۔ دوسرا طریقہ گروپ کے اثاثوں کی قدر بڑھا چڑھا کر ظاہر کی گئی۔ گروپ کی مالی حالت کے بارے میں سرمایہ کاروں کے سامنے غلط تصویر پیش کر کے ان سے مزید سرمایہ حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔

    گروپ کے اندر جاری اس مبینہ بدعنوانی اور فراڈ سنہ 2017 میں اس وقت سامنے آیا جب ایک نامعلوم ای میل پیغام سرمایہ کاروں کو موصول ہوا۔ اس پیغام میں کہا گیا ‘کیش’ کو ابراج کے ‘ورکنگ کیپٹل’ کو پورا کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

    اس کے علاوہ یہ الزام بھی عائد کیا گیا تھا کہ جو پیسہ ادھر اُدھر کیا جا رہا تھا اس کو ابراج گروپ کی مالی حالت کو چھپانے کے ساتھ ساتھ عارف نقوی کے خاندان کو فائدہ پہنچانے کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا تھا انھوں نے پاکستان میں بجلی پیدا کرنے والی کمپنی میں اپنے شیئر کو فروخت کرنے کی اجازت حاصل کرنے کے لیے ایک پاکستانی سیاست دان کو بھی رشوت دی۔

    ای سی سی نے گندم کی امدادی قیمت 3900 روپے فی من مقرر کرنے کی …

    عارف نقوی سنہ 1960 میں کراچی کےایک متوسط طبقے میں پیدا ہوئے، انھوں نے لندن اسکول آف اکنامکس سےگریجوئیشن کی، جس کے بعد کراچی میں امریکن ایکسپریس سے منسلک ہوگئے۔

    سنہ 1994 میں عارف نقوی نے 50 ہزار امریکی ڈالر کی خطیر رقم سے دبئی میں سرمایہ کاری کا آغاز کیا۔ انھوں نے پہلے دبئی میں کپولا کے نام سے کمپنی بنائی اور اس کے ساتھ ابراج کے نام سے سرمایہ کار گروپ قائم کیا جو ابھرتی ہوئی منڈیوں میں سرمایہ کاری کرنے والا پہلا گروپ تھاسنہ 2016 میں ابراج نے کریم کار میں بھی سرمایہ کاری کی اور دو سال کے بعد وہاں سے سرمایہ نکال لیا۔

    ابراج گروپ مشرق وسطیٰ اور شمالی امریکہ میں سب سے بڑا سرمایہ کار گروپ تھا۔ سنہ 2002 میں قائم اس گروپ کے 25 ممالک کے ساتھ ساتھ دبئی، استنبول، میکسیکو سٹی، ممبئی، نیروبی اور سنگاپور میں ریجنل دفاتر ہیں۔

    پوری دنیا میں گروپ کی 17 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری تھی جس میں سنہ2017 کے اختتام تک کمی آتی گئی اور یہ 3 عشاریہ 8 بلین ڈالر تک پہنچ گئی اور اس کی وجہ سرمایہ کاروں کی بےاعتمادی بنی جن میں عالمی بینک اور بل اینڈ ملینڈا گیٹس فاؤنڈیشن بھی شامل ہیں۔

    دونوں اداروں نے بھارت، پاکستان اور نائیجریا میں سکول اور ہسپتالوں کے قیام کے لیے فنڈز فراہم کیے تھے، عارف نقوی پر الزام ہے کہ دونوں اداروں کے فنڈ ابراج گروپ کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوئے جس کے بعد عارف نقوی کے اکاؤنٹ میں منتقل کردیئے گئے اور سرمایہ کاروں کو اس سے آگاہ نہیں کیا گیا۔

    ابراج گروپ نے سنہ 2009 میں 1.4 بلین ڈالرز کی سرمایہ کاری سے کے الیکٹرک کے اکثریتی شیئر خرید کر انتظامی اختیار حاصل کیا۔ پاکستان کے سب سے گنجان آبادی والے شہر کراچی کو بجلی فراہم کرنے والے اس ادارے کے 25 لاکھ صارفین ہیں اور یہ ادارہ نہ صرف بجلی کی پیداوار کرتا ہے جبکہ بجلی کی فراہمی اور منتقلی بھی اسی کے ذمے ہےابراج گروپ نے جب کے الیکٹرک کا انتظام سنبھالا تو اس وقت بجلی کے بحران کا سامنا تھا۔

    پنجاب اور خیبرپختونخوا انتخابات: الیکشن کمیشن نے وزارت داخلہ اور خزانہ حکام کو طلب کر …

    عارف نقوی نے اپنی پاکستانی شہریت برقرار رکھی ہے۔ وہ پاکستان کے سب سے بڑے بزنس اسکول انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹرینش کے طلب علموں کی مالی معاونت کرتے اس کے علاوہ انھوں نے کراچی میں امن فاؤنڈیشن کے نام سے فلاحی ادارا قائم کیا ہے، جو نہ صرف جدید ایمبولینس کی سہولت فراہم کرتا ہے بلکہ نوجوانوں کو جدید فنی تعلیم بھی دیتا ہے۔ عارف نقوی کے ساتھ ان کی اہلیہ فائزہ نقوی بھی اس ادارے کو چلاتی ہیں۔

    حکومت پاکستان نے سنہ 2011 میں ان کی خدمات کے اعتراف میں انھیں ستارہ امتیاز سے نوازا تھا۔ اس کے علاوہ انھیں اوسلو بزنس فار پیس ایوارڈ دیا گیا۔ وہ انٹرپول فاؤنڈیشن کے ٹرسٹی اور اقوام متحدہ کے بعض بورڈز کے رکن بھی ہیں۔

  • عمران خان کےلیےعارف نقوی کا جہازاستعمال ہوتا تھا:فوزیہ قصوری

    عمران خان کےلیےعارف نقوی کا جہازاستعمال ہوتا تھا:فوزیہ قصوری

    لاہور:عمران خان کےلیےعارف نقوی کا جہازاستعمال ہوتا تھا:اطلاعات کے مطابق ان خیالات کا اظہارکرتےہوئے فوزیہ قصوری نےکہا ہے کہ انکشاف کیا کہ عارف نقوی کا جہاز عمران خان کے لیے استعمال ہوتا تھا۔

    ذرائع کے مطابق اس حوالے سے فوزیہ قصوری نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’میں کبھی بھی عمران خان کی عارف نقوی کے ساتھ ہوئی میٹنگ میں شریک نہیں ہوئی لیکن ہمیں پتا تھا کہ عارف نقوی کا جہاز عمران خان کے لیے استعمال ہوتا تھا،فوزیہ قصوری نے کہا ہے کہ مجھے پتا چلا ہے کہ عمران خان کے لیے عارف نقوی کا جہاز استعمال ہوا ہے

     

    فوزیہ قصوری نے اس موقع پر اس حقیقت کا اعتراف کیا کہ عمران خان کے ہر ملک سے کئی دوست تھے لیکن غیر ملکیوں سے پیسے جمع کرنا کوئی غلط کام نہیں تھا۔

    نجی ٹی وی میں گفتگو کرتے ہوئے فوزیہ قصوری نے کہا کہ ’میں نے سنا تھا عمران خان کے دبئی جانے کے لیے عارف نقوی کا جہاز استعمال ہوا، فوزیہ قصورنے واضع طور پرکہا کہ میں عارف نقوی کو ذاتی طور پر نہیں جانتی لیکن بہت سے لوگ جانتے ہیں کہ وہ جو کام کررہے تھے وہ بہت ہائی پروفائل کام تھا،

    فوزیہ قصوری نے مزید کہا کہ وہ امپیکٹ انویسمنٹ کے نام سے باہر کے ملکوں سے چندہ اکٹھا کررہے تھے جسے انہوں نے کچھ ایسے ممالک جہاں صحت کی ضرورت تھیں وہاں خرچ کرنا تھا مگر اس کے بجائے انہوں نے ان پیسوں سے اپنے بہت سے دوستوں کی مدد کی، ان کو نوازا، عالیشان سہولیات دیں اور یہ چھپی ہوئی بات نہیں‘۔

    فوزیہ قصوری نے نجی ٹی وی میں گفتگو کرتے ہوئے ایک بڑی بات کی اور کہا کہ ’پیسے ضرور باہر سے آئے لیکن آیا وہ ممنوعہ فنڈنگ تھی؟ کیا باہر سے آیا پیسا صحیح ذرائع سے آیا ؟ اسے چیک کرنا ہمارا کام نہیں تھا یہ کام ان فنڈز کو جمع کرنے والوں اور پاکستان میں کام کرنے والے فنانس بورڈ کا تھا‘۔

  • عمران نیازی جھوٹ، تضادات اور منافقت کا پیکر ہے:وزیراعظم شہبازشریف

    عمران نیازی جھوٹ، تضادات اور منافقت کا پیکر ہے:وزیراعظم شہبازشریف

    اسلام آباد:وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ عمران نیازی جھوٹ، تضادات اور منافقت کا پیکر ہے،شہبازشریف کا کہنا تھاکہ معتبر عالمی ادارے فنانشل ٹائمز کی تحقیقاتی رپورٹ عمران نیازی کے خلاف سنگین فرد جرم ہے۔

    میں نہیں مانتا:فضل الرحمن نےڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کوتسلیم کرنےسےانکارکردیا

    ٹویٹ پیغام میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ رپورٹ نے نے پی ٹی آئی کی فارن فنڈنگ، غیرقانونی بھاری رقوم کی ترسیل کے حقائق بے نقاب کر دیئے ہیں۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ رپورٹ میں بیان کردہ ٹھوس حقائق چیخ چیخ کر بتا رہے ہیں کہ عمران نیازی جھوٹ، تضادات اور منافقت کا پیکر ہے۔

    آصف زرداری کی مولانا فضل الرحمن سےملاقات’موجودہ سیاسی صورتحال پرغور

    واضح رہے کہ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ برطانیہ میں چندے کے نام پر جمع ہونے والی خیرات تحریک انصاف کو منتقل کی گئی، برطانیہ میں بزنس ٹائیکون اور ابراج گروپ کے بانی عارف نقوی پی ٹی آئی کیلیے خیرات کے نام پر پیسہ جمع کرتے رہے، اور انہوں نے فنڈ ریزنگ کیلیے برطانیہ میں ٹی ٹوئنٹی میچز کروائے۔

    میں علما سے فتوے لیکرعمران خان کی حکومت کوگرا دوں گا:فضل الرحمن نے اپنا آخری کارڈ…

    عارف نقوی 2012 سے 2014 تک ووٹن ٹی ٹوئنٹی کے صدر رہے، اور انہوں نے کیمن آئی لینڈز میں شامل کمپنی ووٹن کرکٹ لمیٹڈ کو پی ٹی آئی کے بینک رول کے لیے استعمال کیا۔

    عارف نقوی نے ٹی ٹونٹی کرکٹ ٹورنامنٹ کرایا اور پی ٹی آئی فنڈنگ میں اس ٹورنامنٹ کا اہم کردارتھا۔ سب سے اہم میچ آکسفورڈ شائر میں عارف نقوی کی رہائش گاہ پرکھیلا گیا، ویک اینڈ پر دی گئی دعوت میں عمران خان سمیت سیکڑوں بینکرز، وکلا اور سرمایہ کاروں نےشرکت کی۔ ووٹن پیلس میں فنڈ ریزنگ میچ میں مہمانوں سے فلاحی مقاصد کے لئے ڈھائی ہزار پاؤنڈ وصول کئے گئے۔

    ٹورنامنٹ اور دیگر چندہ مہم سے حاصل ہونے والی 13 لاکھ ڈالر کی رقم ابراج گروپ کی جانب سے 14 مارچ 2013 کو ووٹن کرکٹ کو منتقل کی گئی اور ووٹن کرکٹ کے اکاؤنٹ سے یہ رقم براہ راست پی ٹی آئی کے اکاؤنٹ میں منتقل کی گئی۔

  • ابراج گروپ کے مرکزی کردار:عارف نقوی کو دبئی میں 24 ارب 5 کروڑ جرمانہ،کاروبار پر پابندی

    ابراج گروپ کے مرکزی کردار:عارف نقوی کو دبئی میں 24 ارب 5 کروڑ جرمانہ،کاروبار پر پابندی

    دبئی : ابراج گروپ کے مرکزی کردار:عارف نقوی کو دبئی میں 24 ارب 5 کروڑ جرمانہ،کاروبار پر پابندی،اطلاعات کے مطابق دبئی فنانشل سروسز اتھارٹی نے سرمایہ کاروں کو گمراہ کرنے اور دھوکا دینے پر ابراج گروپ کے عارف مسعود نقوی اور وقار صدیق کے خلاف ابراج گروپ کے حوالے سے سنگین ناکامیوں پر فیصلہ کردیا ہے۔

    اماراتی اخبار خلیج ٹائمز کی رپورٹر کے مطابق ڈی ایف ایس اے نے اپنے فیصلے میں عارف نقوی پر 49 کروڑ 78 لاکھ 60 ہزار درہم (تقریباً 24 ارب 5 کروڑ روپے) اور ان کے ساتھ وقار صدیق پر 42 لاکھ 20 ہزار درہم (تقریباٍ 20 کروڑ 38 لاکھ روپے) کا جرمانہ عائد کیا ہے جبکہ دونوں کے دبئی میں کوئی بھی بزنس کرنے پر پابندی لگادی گئی ہے۔

    عارف نقوی اور وقار صدیق نے ڈی ایف ایس اے کے فیصلے کے خلاف فنانشل مارکیٹس ٹریبونل سے رجوع کیا تھا اور استدعا کی تھی کہ فیصلے کے خلاف اپیل پر کوئی فیصلہ ہونے تک ڈی ایف ایس اے کو فیصلہ جاری کرنے سے روکا جائے۔

    ایف ایم ٹی نے عارف نقوی اور وقار صدیق کی درخواست مسترد کرتے ہوئے رواں ماہ ڈی ایف ایس اے کو فیصلے جاری کرنے کی اجازت دے دی تھی تاہم جرمانہ کی ادائیگی کے حوالے سے حکم امتناع دے دیا تھا تاہم دبئی میں کسی بھی قسم کے کاروبار پر پابندی کے حوالے سے فیصلے کو بھی برقرار رکھا گیا تھا۔

    عارف نقوی نے 2002 میں ابراج گروپ کی بنیاد رکھی تھی یہ کمپنی خطے کی سب سے بڑی پرائیویٹ ایکویٹی فرم بن گئی تھی جس کے زیر انتظام14 ارب ڈالر کے اثاثے ہیں۔ عارف نقوی ابراج گروپ کے سب سے بڑے شیئر ہولڈر، سی ای او اور ایگزیکٹیو وائس چیئرمین تھے۔

    فیصلے کہا گیا ہے کہ عارف نقوی جان بوجھ کر ابراج انویسٹمنٹ لمیٹڈ کے ذریعے سرمایہ کاروں کو گمراہ کرنے میں ملوث تھا۔ خاص طور پر ڈی ایف ایس اے نے پایا کہ عارف نقوی نے ذاتی طور پر ایسے اقدامات کیے جو براہ راست یا بالواسطہ طور پر سرمایہ کاروں کو گمراہ اور دھوکا دیتے تھے۔