Baaghi TV

Tag: عاشق علی بخاری

  • بگڑتی صورتحال اور سیاسی جماعتوں کا کردار — عاشق علی بخاری

    بگڑتی صورتحال اور سیاسی جماعتوں کا کردار — عاشق علی بخاری

    کہا جاتا ہے کسی بادشاہ نے اعلان کیا کہ جو بھی میری قبر میں ایک دن لیٹے گا اسی آدھی بادشاہت انعام میں دی جائے گی. ہر ایک کی نگاہیں راہ پہ لگی تھیں کہ اب کون اس اعلان کو قبول کرتا ہے. کہیں سے ایک بزرگ نے سنا کہ بادشاہ آدھی بادشاہی دینے لیے تیار ہے اور امتحان ایک رات کا ہے اور پھر میری کل ملکیت یہ ایک گدھا ہی تو ہے. سو اس نے بھی ڈبل شاہ کی طرح سوچا اور پھر یہاں تو انویسٹمنٹ بھی کچھ نہ تھی.

    دربار شاہی میں پہنچا اور آداب بجا لانے کے بعد عرض کی عالیجاہ بندہ ناچیز حاضر ہے.

    اسے خصوصی امتحان کے لیے لیجایا جائے، بادشاہ کی طرف سے جواب آیا.

    رات کا اندھیرا چھا چکا ہے ہر طرف بلا کی خاموشی ہے. کتوں کا غوغا اور الوؤں کی آوازیں ہیں. تھوڑی سی سرسراہٹ بھی صور فیل کی مانند تھی.

    اچانک سے دیوقامت منکر نکیر(مصنوعی) کمرے میں حاضر ہوجاتے ہیں.

    منکر نکیر: تم نے یہ گدھا کس طرح حاصل کیا؟

    پیسے کہاں سے لائے، کس ذریعے سے کمائے تھے؟

    تم نے فلاں وقت بوجھ زیادہ ڈالا اور چارہ کم کیوں دیا؟

    فلاں رات تم نے گدھے پر ظلم کیوں کیا؟ ساری رات سوال و جواب میں گزری اور کیفیت یہ تھی کہ نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن. گویا یہ قیامت کا دن تھا.

    الغرض ڈھیروں سوال اور بے چارہ سادہ بزرگ…

    صبح ہوئی تو وہ میدان سے یوں غائب ہوا جیسے گدھے کے سر سے سینگ. سوچا ایک گدھا ہے اور اتنے سوال آدھی بادشاہی ملی تو کیا حال ہونا ہے. الأمان والحفیظ

    اگر ایک نظر ملکی سیاست پر ڈالیں تو حیران و پریشان ہوجائیں گے. سال کی طرح 365 سیاسی جماعتیں ہیں اور ہر ایک ملک کو اوج ثریا پہ پہنچانے کے دعوے رکھتی ہے.؛ ور جو اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں وہ صرف باریاں تبدیل کررہے ہیں.

    ملکی معیشت کہاں پہنچی ہے؟

    تعلیم کا معیار کس قدر بلند ہے؟

    انصاف کی فراہمی کتنی بہترین ہے؟

    ملکی وقار و دفاع کتنا مضبوط ہے؟

    لیکن اس بارے میں کسی کو ذرہ برابر پرواہ نہیں ہے. البتہ ہر ایک سیاسی جماعت اقتدار میں ضرور رہنا چاہتی ہے. اور جواب دہی کا خوف اس گدھے والے سے بھی کم ہے. جو اتنی کم ذمے داری کو بھی بہت بڑا سمجھتا ہے اور حکمرانی کو ہلاکت جان سمجھتا ہے.

    اور یہی احساس ذمے داری سے عاری رویہ ہے کہ ہر چیز تباہی کا شکار ہے. اور حیران کن بات یہ ہے کہ ہمارے ساتھ اور ہمارے بعد آزاد ہونے والے ممالک ہم سے زیادہ مضبوط معیشت کے مالک ہیں. بدقسمتی سے حکومتوں کی آنیاں جہانیاں لگی ہوئی ہیں اور اس زاویے پہ سوچنے کے لیے کوئی بھی تیار نہیں ہے.

    ہر الیکشن میں بلند بانگ دعوے اور وہ دعوے ہی رہتے ہیں. منصبوں کا افتتاح ہی اپنی سیاسی جدوجہد کا حاصل سمجھا جاتا ہے. ہر ایک حکومت آئی ایم ایف سے مضبوط مذاکرات کی خواہاں رہتی ہے. کبھی عرب ممالک تو کبھی چین اور آئی ایم ایف تو ان کا کامل پیر ہے.

    اپنے اثاثے گروی رکھو، قومی مفادات پہ کمپرو مائز کرو اور ہر بار ڈو مور پر عمل کرتے رہو. اور وہ جب چاہیں جیسے چاہیں تو تمہاری عزت خاک میں ملادیں. نہ بھی کانوں پہ جوں رینگتی ہے اور نہ ہی رگ حمیت بھڑکتی ہے. بس لفظی توپ خانے سے فائر ہوتے ہیں اور ہر طرف خاموشی ہی خاموشی رہتی ہے.

  • آزمائش — عاشق علی بخاری

    آزمائش — عاشق علی بخاری

    رسولِ کریم امام الانبیاء محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    سب سے زیادہ آزمائش انبیاء پہ آتی ہے اور پھر ان لوگوں کو زیادہ آزمایا جاتا ہے جو انبیاء کے نزدیک ہوتے ہیں. (مفہوم حدیث)
    اس سے ہمیں یہ بات سمجھنی چاہیے کہ مشکلات و پریشانیوں سے کوئی محفوظ نہیں بلکہ یہ ہر عام و خاص کو پہنچتی ہیں. اور یہ آزمائشیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہیں.

    اور یہ ان لوگوں کو بھی پہنچیں جنہیں انسانوں میں سے ایک خاص مقصد کے لیے منتخب کیا گیا تھا. اور پھر یہ نہیں کہ انہیں تھوڑی آزمائشیں آئی ہوں بلکہ تمام انسانیت سے زیادہ انہیں ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا. اس کا مطلب یہ ہوا کہ مجھے یا آپ کو جو مشکل پہنچ رہی ہے اگرچہ مجھے اس کا علم نہیں لیکن وہ مجھ سے پہلے لوگوں کو بھی پہنچتی رہی ہے. اور پھر ہوسکتا ہے جو مجھے تکلیف پہنچی ہے وہ کم ہو. میرے مقابلے میں وہی آزمائش کسی اور کو بہت زیادہ پہنچی ہوگی.

    دوسری بات یہ ہے کہ ان مشکلات کے دوران ہمیں وہی رویہ اختیار کرنا چاہیے جو انبیاء کرام علیہم السلام نے اختیار کیا. اور وہ لوگ ان آزمائشوں پر ہمیشہ ثابت قدم رہے. صبر و استقامت ساتھ سے ان مشکلات کا سامنا ہی نہیں کیا بلکہ رب کی رضا پہ راضی رہے.

    جزع و فزع نہیں کی، اپنی مشکلات کا رونا نہیں رویا.کسی حیلے بہانے کا سہارا نہیں لیا. اس لیے ہمیں بھی چونکہ چنانچہ اگرچہ مگرچہ سے نکل کر خالص اپنے رب کی طرف لوٹنا چاہیے.

    ہم مشکلات کی گتھیاں سلجھانے میں لگ جاتے ہیں، چونکہ بحیرہ عرب میں بننے والا سسٹم بہت زور دار اس لیے بارش ہوئی. اور دوبارہ بارشوں کا سلسلہ اس لیے شروع ہوا کیونکہ بنگال کے سمندر میں سسٹم بن رہا تھا. ہمیں نقصان اس لیے زیادہ ہوا کہ ہمارے شہر ترقی یافتہ نہیں. ایسے ہوتا تو یہ ہوجاتا، ہوائیں مشرق سے چلتی تو یہ ہوجاتا ہے.

    نوح علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو کہا تھا کہ ہمارے ساتھ کشتی میں آجاؤ لیکن وہ نہیں مانا بلکہ کہنے لگا میں پہاڑ پر چڑھ جاؤں گا یہ سیلاب میرا کیا بگاڑ لے گا. عاد و ثمود پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بناتے تھے، اس قدر زیادہ قوت و طاقت کے مالک تھے. اپنے رب کا انکار کیا تو انہیں کوئی نہیں بچا پایا اور ایسے پڑے تھے جیسے کھجور کے تنے گرے ہوتے ہیں.

    کیونکہ ایسی حیلے سازیاں ہمارے ایمان کے لیے انتہائی خطرناک ہے. اس سے ہمیں بچنا چاہیے، سوچ سمجھ کر اپنی زبان کو استعمال کریں، ایسےکلمات نہ کہہ بیٹھیں جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب بن جائیں یا پھر جس وجہ سے ہمارے اعمال ضائع ہوجائیں.

    اسباب و وسائل کو ضرور اختیار کیا جائے لیکن بھروسہ وسائل دینے والی ذات پر رکھنا چاہیے. یہی ہماری کامیابی کا ذریعہ ہے اور اسی سبب ہم مشکلات سے بھی چھٹکارا حاصل کرسکتے ہیں.

  • آج کا نوجوان پیچھے کیوں؟ — عاشق علی بخاری

    آج کا نوجوان پیچھے کیوں؟ — عاشق علی بخاری

    قوموں کے عروج و زوال، ترقی و تنزلی میں نوجوانوں کا کردار ہمیشہ قابلِ ذکر رہا ہے.

    دنیا کے بے شمار انقلابات میں ہمیشہ نوجوانوں نے نمایا کردار ادا کیا. اس وقت دنیا کی شرح میں نوجوانوں کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے. جہاں بہت سارے نوجوان اپنی صلاحیتوں کا مثبت استعمال کرکے آگے بڑھ رہے ہیں، وہیں نوجوانوں کی اکثریت اپنے آپ کو مختلف قسم کی چیزوں میں مشغول کرکے ضائع کررہی ہے. نوجوان ہمیشہ بڑے بزرگوں کی امیدوں کا مرکز رہا ہے.

    دنیا کی ترقی میں جس قدر زیادہ حصہ نوجوانوں کا ہونا چاہیے تھا وہ نظر نہیں آتا بلکہ آج کا نوجوان مایوس مایوس سا دکھتا ہے. اگر نوجوانوں کو مثبت و حوصلہ افزا مواقع مہیا کیے جائیں تو آج کا نوجوان وہ کارہائے نمایا انجام دے سکتا ہے کہ دنیا دنگ رہ جائے.

    پاکستانی قانون کے مطابق 15 سے 30 سال کے افراد جوانی کی فہرست میں آتے ہیں. پاکستان ان چند ممالک میں سے ہے، جہاں نوجوانوں کی شرح بہت زیادہ ہے. جس قدر ہمارے جوانوں کی شرح زیادہ ہے اسی قدر ہمارے جوان دنیا کے مختلف شعبوں میں پیچھے دکھائی دیتے ہیں. ملکی و معاشرتی دونوں قسم کے اسباب ملکر ہمارے جوانوں کی صلاحیتوں کے ظاہر نہ ہونے کا سبب بنتے ہیں. اور کہیں خود نوجوان اپنے آپ کو ضائع کررہے ہوتے ہیں.

    اولاد کے آگے بڑھنے میں سب سے پہلے کردار والدین کا ہوتا ہے، جیسی تربیت والدین اپنی اولاد کو دیں گے، ویسے ہی نتائج ہمیں اپنی اولاد سے ملنے ہیں. اگر بچے کا رنگ کچھ کالا ہے اور والدین کالا یا کالو کہہ کر بلانا شروع کردیں تو باقی تمام افراد بھی اسی نام سے اسے پکارنا شروع کردیں گے. اگر اسے بہادروں، باہمت لوگوں کے واقعات سنائے جائیں تو اس کی فطرت بھی وہی رنگ اختیار کرتی جائے گی. اور پھر والدین کو صرف تعلیم پر ہی توجہ نہیں دینی چاہیے بلکہ ان کی ایک ایک حرکت پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے، ہمارا بیٹا کیسے دوستوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے، اس کی عادات تبدیل کیوں اور کیسے ہورہی ہیں، کیسے پروگرامات میں شامل ہورہا ہے. بچوں کے ساتھ اس کا رویہ کیسا ہے، بڑوں کے سامنے کس طرح پیش ہوتا ہے. گھر کے افراد کے ساتھ رویہ اور باہر کے لوگوں کے ساتھ کردار کیسا ہے؟ ہماری بیٹی یا بیٹا کس طرح کے فیشن اختیار کررہا ہے، حیا کا عنصر بڑھ رہا ہے یا پھر مغرب سے مرعوب ہے؟ یہ اور ان جیسی تمام عادات پر نظر رکھنا والدین ہی اہم ذمے داری ہے اور یہی چیز ہمارے بچے کو آگے بڑھنے میں تعاون کرتی ہیں.

    ہمارا نوجوان کچھ کرنا چاہتا ہے، آگے بڑھنا چاہتا ہے لیکن معاشرہ اسے آگے بڑھنے نہیں دیتا، معاشرے کے افراد جگہ جگہ روک ٹوک کرتے ہیں، حوصلہ شکنی کرتے ہیں. ارادوں کو کمزور کرنے کا سبب بنتے ہیں. بلکہ ہمارا پورا معاشرہ ملکر مایوسی پیدا کرتا ہے،
    اگر یہی معاشرہ حوصلہ افزائی کرے، تھوڑی سی محنت پہ ہمت بندھائے تو ہمارا نوجوان پیچھے ہٹنے کے بجائے اپنے قدموں کو مزید مضبوط کرکے نئے حوصلے و عزم کے ساتھ اپنے کام کو سرانجام دے سکے گا. اگر مثبت حوصلہ افزائی نہیں ہوگی تو یہی نوجوان خودکشی کرے گا.
    ہمارے نوجوان کے پیچھے رہنے کی وجوہات میں سے ایک وجہ ملکی سطح پر مواقع کا نہ ہونا بھی ہے. جیسے ہمارے نوجوانوں کی شرح بڑھ رہی ہے ویسے ہی ہمیں ملکی سطح پر نوجوانوں کی تعلیمی و ترقی کے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے. ایسے ذہین طالب علموں کے لیے مختلف شعبہ جات میں اسکالر شپس مہیا کرنے کی ضرورت ہے اور ان کی مزید تعلیم کے لیے اگر ہمارے پاس موجود نہیں تو باہر ممالک کی یونیورسٹیوں کے ساتھ اشتراک کرکے اپنے ملک یا پھر دوسرے ممالک میں تعلیم کا بندوبست کرنا چاہیے. تاکہ ہمارے نوجوان مختلف شعبوں میں جدید تقاضوں کے مطابق آگے بڑھ سکیں. ہماری نوجوان نسل کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے تو استعمال کیا جاتا ہے لیکن ان صلاحیتوں کا مثبت استعمال نہیں کیا جاتا. یہ لوگ اپنے بچوں کو تو اعلی تعلیم کے لیے پرائیویٹ اداروں میں پڑھاتے ہیں، باہر ممالک بھیجتے ہیں لیکن ہمارے ملک کا نوجوان بہتر تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے محروم ہو کر ضائع ہوجاتا ہے.

    اور پھر سب سے بڑھ کر نوجوان خود اپنے آپ کو پیچھے رکھنے کا سبب بنتا ہے. بہت کم نوجوان دین سے جڑے ہوتے ہیں، دینی صحبت اختیار کرتے ہیں، دین اور دیندار لوگوں سے تو گویا انہیں الرجی ہوتی ہے. انہیں دیکھ راستہ بدل لیتے ہیں، منہ بسورتے ہیں اور کچھ تو حقارت آمیز گفتگو کرتے ہیں اور اس امید میں زندگی کے بہترین اوقات ضائع کردیتے ہیں کہ ابھی تو بڑی زندگی ہے.

    اس کے مقابلے میں بے دین انہیں بڑے پسند ہوتے ہیں، فلموں کے ہیرو ان کے آئیڈیل اور ان کا اٹھنا بیٹھنا، بالوں کی کٹنگ، کپڑوں کا اسٹائل نمونہ ہوتا ہے. فحش قسم کا لٹریچر پڑھتے ہیں، فحش ویب سائٹس دیکھتے ہیں اور فحش قسم کے پروگراموں میں اپنی انرجی کو صرف کرتے ہیں.

    ہمارا نوجوان ایسی صحبت اختیار کرتا ہے جو اس کا وقت ضائع کرتی ہے، ایسے دوستوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے جو تعلیم سے بھاگتے ہیں. ایسے ساتھی بناتا ہے جو مشکوک قسم کی سرگرمیوں میں ملوث ہوتے ہیں. ہمارا نوجوان ناکامی کو برداشت نہیں کرتا. اس میں یہ حوصلہ ہی نہیں ہوتا کہ میں اگر ناکام ہوگیا تو کیا ہوا، دوبارہ پھر نئے سرے سے محنت کرکے آگے بڑھوں گا. سستی کاہلی میں اپنا وقت ضائع کرتا ہے. والدین کی دولت کے آسرے پڑا رہتا ہے. بے مقصد کاموں کے پیچھے دوڑتا ہے. غلط جگہ پہ اپنا قیمتی وقت لگاتا ہے. خود سے محبت نہیں کرتا بلکہ غیروں سے محبت میں اپنا پیسہ، وقت اور قوت ضائع کرتا ہے. کاش کہ یہ خود سے اتنی چاہت رکھتا جتنی اسے جنسِ مخالف محبت ہے.

    ہمارے اسلاف میں نوجوان بڑے بڑے ملکوں کو فتح کرتے تھے، لشکروں کی سیادت و قیادت کیا کرتے تھے. تلوار بازی، گھڑ سواری کے ماہر ہوا کرتے تھے لیکن ہمارا نوجوان کو پب جی اور سوشل میڈیا سائٹس پر اپنا اسٹیٹس اپڈیٹ کرنے سے فرصت نہیں.
    شاعر نے کیا خوب کہا تھا:

    اُٹھ کہ اب بزمِ جہاں کا اور ہی انداز ہے
    مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے

  • وہ تو امیر عمر تھے. رضی اللہ عنہ — عاشق علی بخاری

    وہ تو امیر عمر تھے. رضی اللہ عنہ — عاشق علی بخاری

    دنیا عظیم لوگوں سے بھری ہوئی ہے. اور کچھ شخصیات ایسی تھی جو منفی کاموں کی وجہ سے مشہور ہوئیں، ظلم و جبر، فساد فی الارض کی جو نشانی تھیں، وہ صفحہ دنیا پہ آئے لیکن اس زمین پر ایک کلنک کی نشانی بن کر رہ گئے. البتہ بہت ساری شخصیات دنیا اور لوگوں کے لیے سراپا خیر تھے اور دنیا کے نظام کے آئیڈیل کی حیثیت بن گئے. لوگ ان کے دشمن ہونے کے باوجود ان کے دیے ہوئے نظام کے معترف ہی نہیں بلکہ اپنے ملک میں اس کا نفاذ بھی کرتے ہیں.

    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثِ مبارکہ بھی ہے. جو زمانہ جاہلیت میں اچھا تھا وہ اسلام میں بھی اچھا ہوگا. (الحدیث)

    دیکھیے تو کون آرہا ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مکمل تیاری حالت میں آجاتے ہیں کہ کہہں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نقصان نہ پہنچا دیں. فرمایا آنے دو.

    اور پھر ان کا آنا مظلوموں کے لیے سہارا بنے، اسلام کے لیے قوت اور ظالموں کے سامنے مضبوط قلعہ بن گئے. یہ تو وہی عمر ہیں جن کے لیے دعائیں مانگی جارہی تھیں.

    اللھم اھد عمرین، اے اللہ ان دونوں (ابوجہل و عمر رضی اللہ عنہ) میں سے جو محبوب ہے اس کے ذریعے عزت عطا فرما.

    اور پھر جب آئے تو کیا ہی کمال شخصیت بنے. رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم خواب دیکھتے ہیں: فرمایا عمر کی قمیض اتنی لمبی ہے کہ وہ کھینچ رہے ہیں. تعبیر یہ کی کہ یہ دین میں زیادہ ہونگے.

    رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم دوسرا خواب دیکھتے ہیں: فرمایا میں دودھ پیتا ہوں اور دودھ کی تری مجھے ناخنوں میں نظر آنے لگتی اور پھر عمر کو دیتا ہوں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تعبیر پوچھتے ہیں فرمایا اس سے مراد علم ہے.

    ان کا آنا یقیناً خیر ہی تھا کیونکہ وہ دین کا قلعہ تھے، وہ علم کے مینار تھے. وہ ایمان و اسلام کے لیے عزت کا سبب تھے اور ہیں. یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بہترین کارنامے سرانجام دینے کی توفیق عطا فرمائی.

    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں آپ بہترین مشیر ثابت ہوئے. حتی کہ آپ کے ذہن کی باتیں یا مشورے قرآن بن کر نازل ہوئے. آپ اپنی جان مال کے ذریعے سے دین کے لیے قوت بنے. اس کے بعد خلیفہ اول کے دور میں بھی آپ ان کی ہر طرح مدد و تعاون کرتے رہے. صفاتِ باکمال کا نتیجہ ہی تھا کہ آپ خلافتِ راشدہ کے دورے امیر کے طور پر منتخب کیے گئے.

    یہیں سے آپ کا جوہر کمال کی حد کو پہنچنے لگا، اللہ تعالیٰ نے ایسے ایسے کارنامے سرانجام دلوائے کہ دنیا میں آنے والے بے شمار بادشاہ آپ کے عشرِ عشیر کو بھی نہیں پہنچتے.

    آپ کے کارناموں کی فہرست خاصی دلچسپ اور دنیا کے ٹھیکیداروں کو چونکا دینے والی بھی ہے.

    آپ نے وہ کام اس وقت سرانجام دیے جب اس کا بڑی بڑی سلطنتوں میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا. آپ نے فوجی و پولیس کا نظام دیا، مجاہدین کے وظائف مقرر کیے، دودھ پیتے بچوں کے لیے وظیفہ مقرر کیا. اسلامی سرحدات کو توسیع دی. احتساب کا کڑا نظام قائم کیا. اہم چیزوں میں سے ایک "انصاف کی فراہمی” کو یقینی بنایا. چاہے وہ کسی سرکاری شخص سے ہی متعلق کیوں نہ ہو.

    آپ رضی اللہ عنہ گو نا گو خصوصیات کی حامل شخصیت تھیں، جن سے اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے دین متین کا کام لیا اور پھر ان کی وہ دعا بھی قبول ہوئی.

    اے اللہ مجھے شہرِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں شہادت عطا کرنا.

    اللّھم إني أسألك شھادة في سبيلك. آمين

  • ہمارا رویّہ اور اس کے اثرات — عاشق علی بخاری

    ہمارا رویّہ اور اس کے اثرات — عاشق علی بخاری

    "رویہ” ایک ایسا لفظ ہے جسے ہم روزانہ کئی بار استعمال کرتے ہیں. اگر ہم اسے اپنے لفظوں میں بیان کرنا چاہیں تو اس سے مراد انسان کا اپنے ماحول کی جانب توجہ یا جھکاؤ کہہ سکتے ہیں اب ہم اسے تین مختلف قسموں میں تقسیم کرتے ہیں.

    (1) سوچنا
    (2)محسوس کرنا
    (3)برتاؤ

    ان میں سے پہلے دو ہمارے کردار کو بنانے میں اہم رول ادا کرتے ہیں. اگر ہم بہت زیادہ منفی سوچتے ہیں یا محسوس کرتے ہیں تو ہم اپنی شخصیت کو بگاڑ کی طرف دھکیل رہے ہوتے ہیں.تیسرا پہلو برتاؤ ہے، جس کا تعلق براہ راست ہمارے ارد گرد لوگوں سے ہوتا ہے.

    برتاؤ کے بھی دو پہلو ہیں:

    مثبت یامنفی.

    مثبت اور منفی رویوں کی پہچان کے لیے ہم چند مثالیں پیش کرتے ہیں.

    اندھے شخص کو سڑک پار کروانا، ریڑھی بان کو کھانا اور پانی مہیا کرنا، سڑک کنارے درخت لگانا، سردیوں میں غریب و مساکین میں گرم کپڑے دینا وغیرہ وغیرہ. یہ سب مثبت پہلو ہیں.

    اگر منفی مثالوں کی بات کریں تو سڑک کنارے درختوں کو اکھاڑنا، گندگی پھیلانا، کسی ضروت مند کو دھتکارنا، اگر آپ کی گاڑی سے کوئی ٹکرا جائے تو اسے اٹھانے کے بجائے برا بھلا کہنا یہ ہمارے منفی پہلو ہیں.

    اگر ہم مثبت رویے اپناتے ہیں تو ہم ایک بہترین معاشرہ تشکیل دے رہے ہوتے ہیں جو ہر ایک کے لیے فائدہ مند ہے. اگر منفی سوچ، منفی برتاؤ بڑھتا چلا جائے تو معاشرہ جنگل کے معاشرے سے کم دکھائی نہیں دیتا کیونکہ ایک معاشرے کی بنیاد انسانی رویوں پر ہی قائم ہوتی ہے.

    ہمارے مثبت اور منفی رویوں میں زبان کے استعمال کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے، وہ اس وجہ سے کہ کبھی تو اس زبان سے نکلنے والے الفاظ انسان کو بلندیوں کی طرف لیجاتے ہیں اور کبھی انسان زبان کے نشتر برداشت نہیں کرپاتا اور اپنی ہی زندگی کا خاتمہ کردیتا ہے.غم کے وقت تسلی دینا، ہار کی صورت میں حوصلہ دینا، انسان کو اس بات کے لیے ابھارتے رہنا کہ تم کرسکتے ہو دوسرے انسان کے لیے کامیابی کا ذریعہ بنتا ہے.

    اب اس واقعے کو ہی دیکھ لیں اور یہ ہمارے معاشرے کا بدترین پہلو کہیں تو غلط نہ ہوگا.

    کہا جاتا ہے کہ ایک عرب تاجر جو اچھے اخلاق اور عمدہ کپڑوں اور خوشبوؤں کے استعمال کی وجہ سے مشہور تھا. ایک دن اس کے دوستوں نے اس سے مذاق کرنے کا سوچا، یہ چیز ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی کہ ہمارا یہ مذاق اس قدر خطرناک ثابت ہوگا. سو جب وہ اپنی دکان کی طرف جارہا تھا تو راستے میں ملنے والا پہلا دوست کہتا ہے کیا ہی بہترین کپڑے پہنے ہوئے ہیں، مجھے بھی آسمانی رنگ بہت پسند ہے. اور یہ تم نے عمامہ الٹا کیوں پہنا ہوا ہے؟ یہ اسے سمجھاتا ہے کہ نہیں بھائی یہ تو سفید رنگ کے ہیں اور عمامہ بھی سیدھا ہے لیکن وہ ماننے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتا. اس کے بعد دونوں اپنے راستے پر چل پڑتے ہیں لیکن وہ عرب تاجر بار بار اپنے کپڑوں کو دیکھتا ہے کہ یہ تو سفید رنگ کے ہیں اور عمامہ بھی سیدھا ہے، وہ اس خیال کو جھٹک کر آگے بڑھ جاتا ہے. جیسے ہی وہ سڑک پار کرتا ہے تو ایک دوسرے دوست سے سامنا ہوتا ہے، علیک سلیک کے بعد وہی باتیں جو پہلے دوست نے کہی تھیں یہ بھی کہتا ہے، تاجر کبھی کپڑے دیکھتا ہے تو کبھی عمامہ اتار کر سیدھا پہنتا ہے، اب اسے بھی کھٹکا لگ جاتا ہے کہ کہیں میرے کپڑوں کا رنگ مختلف تو نہیں، انہی سوچوں میں گم وہ دکان ابھی کھول ہی رہا ہوتا ہے کہ تیسرا دوست منصوبے کے مطابق اس کے پاس پہنچ جاتا ہے، اور وہ بھی وہی باتیں دہراتا ہے جو اس کے دیگر دو دوستوں نے کہی تھیں. اب اس عرب تاجر کا سر گھومنے لگتا ہے ایک ہی بات کو بار بار سننے کے بعد وہ اپنے حواس پر قابو نہیں پا سکتا. عمدہ کپڑے پہننے والا، بہترین خوشبو استعمال کرنے والا پاگل ہوجاتا ہے، نہ اسے کپڑوں کی پرواہ رہتی ہے اور نہ چاروں طرف بھنبھناتی مکھیوں کی.

    دیکھیے یہ دوستوں کے لیے ایک مذاق تھا لیکن بیٹوں سے باپ، بیوی سے شوہر الغرض خود اس کے لیے زندگی کا ایک تباہ کن حادثہ بن گیا. اب اس کے دوست مہنگے ڈاکٹروں کو دکھائیں یا پھر رات رات بھر آہیں بھرتے رہیں اب کسی کام کی نہیں.

    اپنے رویوں سے کسی کی زندگی اجاڑنے کے بجائے خوشیوں، مسکراہٹوں اور کامیابیوں کا سبب بنیں. کوشش کریں دوسروں کی زندگیوں سے کانٹیں چنیں نہ کہ دوسروں کی زندگیوں میں کانٹیں بچھائیں.