Baaghi TV

Tag: عافیہ

  • وراثت میں خواتین کا حصہ، خواتین کی تعلیم تک رسائی اہم چیلنجز

    وراثت میں خواتین کا حصہ، خواتین کی تعلیم تک رسائی اہم چیلنجز

    رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد کے طلباء نے بدھ کے روز فیکلٹی ممبران کے ہمراہ پارلیمنٹ ہاوس کا دورہ کیا۔
    وفد کی سربراہی ڈاریکٹر شعبہ تربیہ رفاہ یونیورسٹی، سابق سینیٹر ڈاکٹر کوثر فردوس نے کی-وفد نے سینیٹر مشتاق احمد سے ملاقات کی-ملاقات میں خواتین کو درپیش مسائل اور ان کا حل، ڈاکٹر عافیہ صدیقی، قانون سازی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیاگیا-سینیٹر مشتاق احمد نے وفد کو آئین کے خدوخال اور پارلیمانی کاروائی بارے وفد کو آگاہ کیا-انہوں نے درس گاہوں /تعلیمی اداروں میں آئین پڑھانے کی ضرورت پر زور دیا-ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان میں کروڑوں خواتین شناختی کارڈ سے محروم ہیں، محض 7فیصد خواتین کے بینک اکاونٹس ہیں،وراثت میں خواتین کا حصہ، خواتین کی تعلیم تک رسائی اہم چیلنجز ہیں جس سے نمٹنا وقت کی ضرورت ہے-انہوں نے او-آئی-سی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ مسلم ممالک میں اس وقت 83 کروڑ لوگ ان پڑھ جس میں زیادہ تعداد خواتین کی ہے-

    اس موقع پر ان کا مزید کہنا تھا کہ سمجھ سے بالا تر ہیں کہ افغانستان میں خواتین پر پابندی کیوں لگائی گئی جبکہ اسلام کی تاریخ دیکھیں تو خواتین نے کاروبار، تعلیم اور دیگر شعبوں میں حصہ لیا ہے-انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ علم فرض ہے کسی کو اس سے روکا نہیں جا سکتا-ان کا کہنا تھا کہ“مسلمانوں کے مسائل کیلئے مغربی حل نہیں ڈھونڈنا چاہئے”-

    وفد کے عافیہ صدیقی سے متعلق سوال کے جواب میں سینیٹر مشتاق احمد کا کہنا تھا کہ وہ حکومت کی کوششوں سے امریکہ ڈاکٹر عافیہ سے ملنے نہیں گئے تھے- ہمارے ساتھ موجود وکیل نے 87 قیدیوں کو گوانتا ناموبے سے رہائی دلائی-ان 87 لوگوں پر اتنا ظلم نہیں کیا گیا جتنا اکیلے ڈاکٹر عافیہ پر ظلم کیا گیا ہے ڈاکٹر عافیہ کی 24 گھنٹے نگرانی کی جاتی ہے اور پاگلوں کے جیل میں رکھا گیا ہے-ہم کوشش کر رہے ہیں کہ ان کو اس جیل سے منتقل کیا جائے اگر ریاست مدعی بن جائے تو اس کی رہائی ممکن ہے- ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیلئے آن لائن رجسٹریشن کا آغاز کیا ہے اور دس لاکھ لوگوں کے دستخط لینے کا ٹارگٹ رکھا ہے-

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کروائی جائے، اہلخانہ عدالت پہنچ گئے

    نئی حکومت ڈاکٹرعافیہ صدیقی کو رہا کرائے،مولانا عبدالاکبر چترالی کا مطالبہ

     ایک ماہ کے بعد دوسری رپورٹ آئی ہے جو غیر تسلی بخش ہے ،

    عالمی یوم تعلیم امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے نام منسوب

    امریکی جیل میں ڈاکٹرعافیہ صدیقی پرحملہ:پاکستان نے امریکہ سے بڑا مطالبہ کردیا ،

    ربا سے متعلق سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے فیڈرل شریعت کورٹ کا فیصلہ بھی خوش آئند ہے اور مفتی تقی عثمانی صاحب نے بھی اس حوالے سے ایک سیمینار کا انعقاد کروایا تھا جس میں وزیرخزانہ سمیت مختلف متعلقہ شخصیات نے شرکت کی-ربا کے خاتمے کیلئے اقدامات اٹھانے ہوں گے تب ہی معیشت بہتر ہوگی-ان کا مزید کہنا تھا کہ جاپان میں انٹرسٹ ریٹ زیرو رکھا گیا ہے جبکہ یورپ میں بھی کم ترین ہے-انہوں نے ورلڈ اکنامک فارم کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ دنیا کی 83 فیصد دولت محض 3 فیصد لوگوں کے پاس ہے-

    بعد ازاں وفد کو سینیٹ میوزیم کا دورہ کرایا گیا جہاں پر ان کو سینیٹ کی تاریخ پر مبنی ڈاکومنٹری بھی دکھائی گئی۔طلباء نے سینیٹ میوزیم میں ملک کے ممتاز سیاستدانوں کے مجسموں اور تاریخی تصاویر میں دلچسپی کا اظہار کیا اور تصاویر بھی بنوائی۔طلباء کو فیکلٹی ممبران کے ہمراہ سینیٹ ہال کا بھی دورہ کرایا گیا جہاں پرایوان بالا کے کام کے طریقہ کار، قانون سازی اور فکشنز کے حوالے سے بھی وفدکو بریفنگ دی گئی

  • استقامت کو تیری سلام عافیہ ،تحریر:ڈاکٹر سبیل اکرام

    استقامت کو تیری سلام عافیہ ،تحریر:ڈاکٹر سبیل اکرام

    مدینہ منورہ کی گلی میں ایک بدقماش یہودی نے اپنی ہی ہم مذہب خاتون کے سر سے دوپٹہ چھینا اور اس کے دامن عصمت کو تار تار کرنا چاہا تو وہ باآواز بلند بے اختیار پکار اٹھی ’’ ہائے محمد( ﷺ ) !تیرے شہر میں میری آبرو لٹ گئی ! ‘‘ ۔مومنوں کی ماں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب اس یہودی خاتون کی فریادنبی مکرم رحمت عالم ﷺ کے مبارک کانوں میں پڑی تب آپ کھانا تناول فرما رہے تھے ، لقمہ ہاتھ میں تھا لیکن اسے منہ میں نہیں ڈالا بلکہ واپس رکھ دیا اورتاجدار مدینہ اس حال میں برہنہ پائوں گھر سے دوڑے کہ چادر مبارک پائوں میں گھسٹ رہی تھی وہ چادر جس کی پاکیزگی اورعظمت کی قسم آسمان والے نے اپنے قرآن میں اٹھائی ہے جبکہ زبان ِ مبارک پر یہ الفاظ تھے ’’ اے میری بیٹی تیری حفاظت کیلئے میں آرہا ہوں ‘‘ ۔ یہ بیٹی مسلمان نہیں تھی یہودی تھی محمد عربی ﷺ کاکلمہ پڑھنے والی نہیں تھی کافرہ تھی اس کے باوجود تاجدار مدینہ ﷺ اس کی عصمت وعفت بچانے کیلئے گھر سے نکل کر دوڑ پڑے تھے ۔ نبی رحمت ﷺ نے اپنے قول اور فعل سے ثابت کردیا تھا کہ بیٹی تو بیٹی ہی ہوتی ہے چاہے وہ کافر کی بیٹی ہی کیوں نہ ہو ۔

    محمد بن قاسم کی ہندوستان میں آمد اور سندھ کی فتح کا سبب بھی ایک بیٹی ہی بنی تھی۔ اسی طرح فتح اندلس کا سبب بھی ایک بیٹی ہی بنی تھی ۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ اندلس کی ایک ریاست کے سربراہ کاونٹ جولین جو کہ بڑا بہادر اور خوددار سالار تھااس کی بیٹی فلورنڈا اندلس کے بادشاہ راڈرک کے محل میں رہتی تھی۔ راڈرک نے ایک رات فلورنڈا کے دامن عصمت کو تار تار کردیا ۔ بیٹی نے اس اندوہناک واقعہ کی اطلاع اپنے والد کو بھیجی توبیٹی تو وہ تڑپ اٹھا اور فی الفور دار الحکومت پہنچا۔ اس نے اپنے جذبات کو بادشاہ پر ظاہر نہ ہونے دیا اور صرف یہ درخواست کی کہ فلورنڈا کی ماں بستر مرگ پر ہے اس لیے اسے واپس جانے کی اجازت دی جائے۔راڈرک نے باپ اور بیٹی کو اجازت دے دی تاہم بوقت رخصت اس نے کا ونٹ جولین سے فرمائش کی کہ شکار کے لیے عمدہ بازمیرے پاس بھیجے جائیں جو لین نے جواب میں کہا’’ اس مرتبہ میں ایسے باز بھیجوں گا کہ آپ نے پہلے کبھی نہ دیکھے ہوں گے۔‘‘ اس کے بعد کاونٹ جولین موسی بن نصیر کے پاس حاضر ہوا اپنے بادشاہ کے ہاتھوں بیٹی کے لٹنے کا دلخراش واقعہ بیان کرتے ہوئے انصاف کیلئے مدد چاہی ۔ موسی بن نصیر نے سارا واقعہ خلیفہ ولید بن عبدالملک کو لکھ بھیجا ۔ خلیفہ نے فوراََ ہی موسی بن نصیر کو اندلس پر حملے کاحکم دے دیا ۔ چنانچہ موسی بن نصیر نے 7 ہزار مجاہدوں پر مشتمل ایک لشکر تیار کیا جس کی قیادت اپنے آزاد کردہ غلام طارق بن زیاد کے حوالے کی۔ یہ لشکر 9 جولائی 711ء کو اس جگہ پر پہنچا جسے آج جبل الطارق کہا جاتا ہے۔پھر چشم فلک نے دیکھا کہ چند ہزار کا لشکر لاکھوں دشمنوں پر فتح یاب ہوتا چلا گیا اور سرزمین اندلس پر اسلام کے ایسے جھنڈے گاڑے کہ جو آٹھ صدیوں تک لہراتے رہے ۔

    یہ تو ہمارا تابناک اور روشن ماضی تھا کہ ہم صرف اپنی ہم مذہب ہی نہیں بلکہ کافروں کی بہنوں اور بیٹیوں کی عزت وعصمت کی حفاظت بھی کیا کرتے تھے ۔ اب حال یہ ہے کہ اسلام کی بیٹی اور ہماری بہن ڈاکٹر عافیہ صدیقی امریکہ کی جیل میں سسک رہی اور ہماری بے حسی پر گریہ وزاری کررہی ہے ۔ دکھ اور افسوس اس بات کا ہے کہ عافیہ صدیقی کو امریکی درندوں کے حوالے کرنے والے غیرت وحمیت سے تہی ہمارے اپنے ہی حکمران ہیں ۔

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی 2 مارچ 1972ء کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ 8سال کی عمر تک زیمبیا میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد کراچی میں ابتدائی اور ثانوی تعلیم مکمل کی۔ اس کے بعد بوسٹن ٹیکساس میں جامعہ ٹیکساس میں کچھ عرصہ رہیں پھر وہاں سے میساچوسٹس ادارہ ٹیکنالوجی (MIT) چلی آئیں اور اس ادارہ سے وراثیات میں (.Ph.D) کی ڈگری حاصل کی۔
    2002ء میں پاکستان واپس آئیں مگرکچھ عرصہ بعد پھر امریکہ واپس چلی گئیں۔ وہاں کچھ عرصہ ملازمت کی اور 2003ء میں کراچی واپس آ گئیں۔یہ وہ موقعہ تھا جب بغیر کسی ثبوت اور سبب کے امریکی اداروں کے اہلکار شکاری کتوں کی طرح پاکستانیوں پر حملہ آور ہورہے اور انھیں اغواکررہے تھے جبکہ امریکی میڈیا مسلمانوں کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا کررہا تھا، دوسری طرٖف جنرل پرویز مشرف اور ان کے ساتھی ڈالروں کے حصول کیلئے اپنے ہی ملک کے شہری پکڑ پکڑ کر امریکہ کے ہاتھوں بیچ رہے تھے ۔ اسی اثنا میں امریکی ذرائع ابلاغ میں عافیہ صدیقی کی بطور دہشت گرد تشہیر کی گئی۔ یہ دیکھ کر عافیہ خوف زدہ ہوگئیں اور کچھ دیر کراچی میں روپوش ہو گئیں۔ 30 مارچ، 2003ء کو وہ اپنے تین بچوں سمیت راولپنڈی جانے کے لیے ٹیکسی میں ایر پورٹ کی طرف جارہی تھیں کہ راستے سے غائب ہو گیں بعدمیں خبریں آئیں کہ ان کو امریکی اداروں نے اغوا کر لیا ہے۔ اس وقت عافیہ صدیقی کی عمر 30 سال تھی، بڑے بچے کی عمر چار سال اور سب سے چھوٹے بچے کی عمر ایک ماہ تھی ۔ مقامی اخباروں میں عافیہ کے اغوا کی خبریں شائع ہوئیں مگر بعد میں حکومتی سطح پر لاعلمی کا اظہار کیا گیا اور ان کے خاندان کو دھمکیاں دی گئیں کہ وہ خاموش رہیں ۔

    اسی دوران اچانک ہی یہ خبر عیاں ہوئی کہ عافیہ صدیقی افغانستان کی بگرام جیل میں قیدی نمبر 650 کی حیثیت سے قید ہیں اور یہ بھی بتایا گہ عافیہ صدیقی کی حالت بے حد بری ہے۔ چنانچہ ان خبروں کی اشاعت کے بعد پاکستان میں طوفان اٹھ کھڑا ہوا ۔ اخبارات میں شور برپاہونے کے بعد امریکی حکومت نے اچانک اعلان کیا کہ عافیہ کو 27 جولائی 2008ء کو افغانستان سے گرفتار کر کے نیویارک پہنچا دیا گیا ہے تاکہ ان پر دہشت گردی کامقدمہ چلایا جا سکے۔ چنانچہ جھوٹے اور بے بنیاد الزامات کی پاداش میں عافیہ صدیقی پر مقدمہ چلاگیا 23 ستمبر2010ء میں عدالت نے انھیں 86 سال قید کی سزا سنادی ۔
    اس فیصلے کو20برس ہوچلے ہیں اس وقت سے ہماری بہن عافیہ امریکہ کی جیل میں ہیں ۔ 20برس کے اس طویل عرصہ میں پاکستانی قوم عافیہ صدیقی کو نہیں بھولی ہے کسی نہ کسی صورت ان کے لئے آواز اٹھائی جاتی رہی ہے اگرچہ یہ آواز اتنی توانا نہیں رہی کہ جو ہمارے حکمرانوں پر اثر انداز ہوسکے ۔ ان حالات میں ایک اچھی بات یہ ہوئی کہ جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد عافیہ صدیقی کیلئے مسلسل کوشاں رہے وہ سینیٹ کے اندر بھی اور عوامی سطح پر بھی آواز اٹھاتے رہے آخر ان کی کوششیں اس حد تک رنگ لائیں کہ امریکی حکومت نے ملاقات کی اجازت دے دی ۔ چنانچہ سینیٹر مشتاق احمد عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی اور وکیل کلائیو اسٹافورڈاسمتھ کے ہمراہ ملاقات کیلئے امریکہ جاپہنچے ۔

    سینیٹر مشتاق احمد خان نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کا احوال بتاتے ہوئے کہا کہ دونوں بہنوں کے درمیان 20 سال بعد امریکی جیل میں ملاقات ہوئی جو ڈھائی گھنٹے تک جاری رہی۔دونوں بہنوں کو گلے ملنے اور ہاتھ ملانے کی اجازت نہ تھی جبکہ ڈاکٹر فوزیہ کو یہ بھی اجازت نہ دی گئی کہ وہ عافیہ صدیقی کو ان کے بچوں کی تصاویر دکھا سکیں۔ملاقات جیل کے ایک کمرے میں ہوئی جس کے درمیان میں موٹا شیشہ لگا ہوا تھا جس کے آرپار سے دونوں بہنوں کی ملاقات کرائی گئی۔ عافیہ صدیقی نے سفید رنگ کا اسکارف اور جیل کا خاکی لباس پہنا ہوا تھا۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے روزانہ اپنے اوپر گزرنے والی اذیت کی تفصیلات بتائیں جبکہ انہیں اپنی والدہ کی وفات کا بھی علم نہیں تھا جن کے بارے میں وہ پوچھتی رہیں۔ عافیہ صدیقی نے اپنے بچوں سے متعلق بھی دریافت کیا۔ ڈاکٹر عافیہ کے سامنے کے دانت جیل میں تشدد کے باعث گر چکے ہیں اور انہیں سر میں لگنے والی چوٹ کی وجہ سے سننے میں بھی مشکل پیش آرہی تھی۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بطور قوم عافیہ صدیقی کیلئے آواز اٹھائیں اور اپنے حکمرانوں کو مجبور کریں کہ وہ امریکہ پر اخلاقی سفارتی دبائو ڈال کر عافیہ صدیقی کو رہا کروائیں ۔

  • اچھا ہوتا وزیراعظم اپنی تقریر میں ڈاکٹر عافیہ کا ذکر کرتے:حافظ سعد رضوی

    اچھا ہوتا وزیراعظم اپنی تقریر میں ڈاکٹر عافیہ کا ذکر کرتے:حافظ سعد رضوی

    لاہور:اچھا ہوتا وزیراعظم اپنی تقریر میں ڈاکٹر عافیہ کا ذکر کرتے۔ حافظ سعد رضوی ،اطلاعات کے مطابق تحریک لبیک کے سربراہ سعد رضوی نے کہا ہے کہ اچھا ہوتا اگروزیراعظم عمران خان او آئی سی کے فورم پرڈاکٹرعافیہ کا بھی ذکرکردیتے ،

    ذرائع کے مطابق اس موقع پر سعد رضوی کا کہنا تھا کہ عالمی برداری طالبان کا موقف سنے اور اور حقیقت تسلیم کرے۔

    امیر تحریک لبیک پاکستان نے او آئی سی کے اجلاس پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی میزبانی میں او آئی سی کا اجلاس خوش آئند اور مثبت اقدام ہے۔

    سعد رضوی نے کہا کہ افغانستان کی صورتحال انتہائی نازک اور مسائل سے دوچار ہے، افغانستان کی صورتحال پر انسانی ہمدردی کے اقدامات قابل ستائش ہیں۔وہاں افغان بیمار ہورہے ہیں ، ان کے پاس ادوایات نہیں ، کھانے کے لیے خوراک نہیں ، عالمی برادری کو ان حالات میں افغان قوم کو تنہا نہیں چھوڑنا چاہیے

     

    https://twitter.com/Ahsannankanvi/status/1472630186684342286?t=MuogOL2yc6LkDRic2cNOxw&s=19

    ان کا کہنا تھا کہ دنیا افغانستان کے لیے بہترین اقدامات کرے، عالمی برداری طالبان کا موقف سنے اور اور حقیقت تسلیم کرے۔

    انہوں نے کہا کہ عالمی برداری انسانی حقوق کا احترام کرتے ہوئے افغانستان کے منجمد اثاثے فوری طور پر بحال کروانے میں اپنا کردار ادا کرے۔

    سعد حسین رضوی نے مزید کہا کہ اسلامی دنیا نے صحیح طرح سے مغرب کی جانب سے ابھرنے والے اسلام فوبیا تاثر کو ختم کرنے میں حقیقی بنیادوں پر کام کیا ہوتا تو آج یہ نوبت نہ آتی۔

  • صدر،وزیر اعظم اورچیف جسٹس بے بس و بے اختیار ہیں تو بتائیں بااختیار کون ہے؟ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی

    صدر،وزیر اعظم اورچیف جسٹس بے بس و بے اختیار ہیں تو بتائیں بااختیار کون ہے؟ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی

    کراچی :وطن کی بیٹی عافیہ صدیقی کی بہن اور عافیہ موومنٹ کی رہنما ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے کہا ہے کہ اگرصدر، وزیر اعظم اور چیف جسٹس آف پاکستان ڈاکٹر عافیہ کی واپسی کے معاملے میں بے بس اور بے اختیار ہیں تو پھر با اختیار کون ہے؟قوم کی بیٹی پر اغیار کے مظالم کب ختم ہوں گے؟ اہل اقتدار عافیہ کو واپس لائیں، عدلیہ کے احکامات کی پابندی کریں ورنہ توہین قوم اور وطن سے غداری سمجھا جائے گا۔ قوم اب بیدار ہوچکی ہے، امریکہ کی جنگ ختم ہو چکی ہے۔

    ڈاکٹرفوزیہ صدیقی نے اس موقع پر کہا کہ امریکہ قیدیوں کی رہائی کا عندیہ دے چکا ہے، ہمارے ارباب اختیار اور سیاستدان کیوں میٹھی اور پرسکون نیند سو رہے ہیں؟ ایک جانب امریکی مفادات کا تحفظ اور دوسری جانب حقوق نسواں کے گیت گائے جاتے ہیں، عالمی انسانیت پر لمبی لمبی تقاریر کی جاتی ہیں، مگر اٹھارہ سالوں سے ظلم و ستم سہتی، دشمنوں کی قید میں اپنی قوم کی مظلوم و بے گناہ بیٹی کی وطن واپسی کے لئے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے جا رہے۔

    وہ انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقعہ پر،کراچی پریس کلب کے باہر ایک انوکھے او رمنفرد احتجاجی مظاہرے سے خطاب کر رہی تھیں۔ مظاہرے میں مختلف سیاسی و سماجی، انسانی حقوق کی تنظیموں، وکلاء، صحافی اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقعہ پر ایک علامتی جیل کی کوٹھری بنائی گئی، مقامی اسکول کی طالبہ نے جیل میں بند ہو کر ڈاکٹر عافیہ کا کردار ادا کیا اور کہا کہ وزیر اعظم عمران خان ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں اورامریکہ کی کارزویل جیل میں موجود، تاجدار مدینہ کی باندی کو بھول گئے ہیں۔ حکمران سو جائیں تو قوم کو جاگنا ہوتا ہے۔ ایک کتے اور بلی کی تکلیف پر تڑپ اٹھنے والے انسانوں کو،ایک انسان کی تڑپ کیوں دکھائی نہیں دیتی؟

    ڈاکٹر عافیہ کا کردار ادا کرنے والی طالبہ نے درد بھرے انداز میں کہا کہ آج انسانی حقوق کا عالمی دن ہے اور میں اپنی قوم کی بیٹی عافیہ صدیقی کے ساتھ روا رکھے جانے والی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی طر ف توجہ دلاکر قوم کی مظلوم بیٹی کی فریاد عوام، حکمرانوں، سیاستدانوں،علماء و مشائخ اور عالمی امن کے نام نہاد ٹھیکیداروں تک پہنچارہی ہوں۔ اس علامتی مظاہرے میں عافیہ کے کردار کے ذریعے اس حقیقت سے پردہ اٹھایا گیا کہ اٹھارہ سال گزر گئے ہیں۔ حکومتیں آ اور جا رہی ہیں لیکن کیا مجال ہے کہ شرمناک بے حسی کی پالیسی کے تسلسل میں ذرا سا بھی فرق آیا ہو۔ اس دوران ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور ان کے خاندان پر قیامت گزرتی رہی۔ ظلم کی سیاہ راتیں اب تو صدیوں پر محیط لگتی ہیں۔

    ڈاکٹر عافیہ کی والدہ کی فریاد سے عرش تھرا جاتا ہے لیکن ہمارے خوابیدہ حکمرانوں پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ڈاکٹر عافیہ اس دوران تسلسل کے ساتھ کرب و بلا سے گزر رہی ہیں، ان کی آواز سے زمین لرزتی ہے اور آسمان کانپ جاتا ہے۔ جو ان پر گزر رہی ہے یہ وہ ہی جانتی ہیں یا ان کا اللہ جانتا ہے۔ عافیہ پر روا رکھنے جانے والے مظالم اور جبرو تشدد کی عکاسی کے لئے پریس کلب پر علامتی جیل بنا کر ڈاکٹر عافیہ کے مصائب کی منظر کشی کرنے کی کوشش کو عوام کی بہت بڑی تعداد نے سراہا،

    مظاہرے کے شرکاء آبدیدہ ہوگئے اور کہا کہ حکمران خواب غفلت سے بیدار ہوں اور ڈاکٹر عافیہ کی وطن واپسی کو ممکن بنائیں جس کے نتیجے میں اللہ تعالی کی رحمت و برکت کے باعث ملک و قوم کو حقیقی تبدیلی، ترقی اور خوشحالی کے راستے پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔مقررین اور شرکاء نے طاقتور بڑی سیاسی جماعتوں اور مقتدر قوتوں سے بھی اپیل کی کہ وہ ہوش کے ناخن لیں تاکہ انہیں قوم کی بیٹی پر جاری ان مصائب و آلام کا کچھ ادراک ہو سکے جن سے قوم کی بیٹی روز گذرتی ہے، روز جیتی اور روز مرتی ہے