Baaghi TV

Tag: عافیہ صدیقی

  • عافیہ صدیقی کیس:حکومت کا امریکی عدالت میں معاونت کرنے اور فریق بننے سے انکار

    عافیہ صدیقی کیس:حکومت کا امریکی عدالت میں معاونت کرنے اور فریق بننے سے انکار

    حکومت نے عافیہ صدیقی کیس میں امریکی عدالت میں معاونت کرنے اور فریق بننے سے انکار کردیا-

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں عافیہ صدیقی کی وطن واپسی کی درخواست پر سماعت ہوئی سماعت کے موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت عالیہ کو بتایا کہ حکومت نے امریکا میں کیس میں فریق نہ بننے کا فیصلہ کیا ہے، عدالت نے استفسار کیا کہ کس وجہ سے یہ فیصلہ کیاگیا ہے، وجوہات کیا ہیں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت کی جانب سے یہی فیصلہ کیا گیا ہے۔

    عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ حکومت یا اٹارنی جنرل کوئی فیصلہ کرتے ہیں تو اس کی وجوہات ہوتی ہیں، بغیر وجوہات کے کوئی فیصلہ نہیں کیا جاتا، یہ آئینی عدا لت ہے، یہ نہیں ہوسکتا کوئی عدالت آکر کہہ دے فیصلہ کیاہے اور وجوہات نہ بتائے۔

    عدالت نے ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر وجوہات سے متعلق آگاہ کیاجائے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت جمعہ4 جولائی تک ملتوی کردی۔

  • عافیہ صدیقی، حکمرانوں نے غفلت کا مظاہرہ کیا،تابش قیوم

    عافیہ صدیقی، حکمرانوں نے غفلت کا مظاہرہ کیا،تابش قیوم

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رحم کی اپیل مسترد کیے جانے کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق امریکی صدر کی جانب سے اپنے بیٹے کی سزا معاف کرنا اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی اپیل مسترد کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ امریکہ انصاف کے دہرے معیار پر عمل پیرا ہے،

    ترجمان پاکستان مرکزی مسلم لیگ تابش قیوم کا کہنا تھا کہ جسٹس سردار اعجاز اسحاق کے ریمارکس کی مکمل تائید کرتے ہیں امریکا ہمیں ہماری اوقات دکھا رہا ہے، سابق امریکی صدر نے اپنے بیٹے کی سزا تو معاف کر دی لیکن ہمارے قیدی کو رہا نہیں کیا۔ تابش قیوم نے مزید کہا کہ دنیا کے تمام مسلم لیڈرز ایک عافیہ صدیقہ کی رہائی میں ناکام ہوئے دیگر ملکوں کے رہنماﺅں نے اپنے اپنے قیدیوں کو آزاد کرایا مگر ہمارے حکمرانوں نے غفلت کا مظاہرہ کیا، پاکستان مرکزی مسلم لیگ مطالبہ کرتی ہے کہ حکومت پاکستان ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے سفارتی سطح پر مؤثر اقدامات کرے۔ پاکستان مرکزی مسلم لیگ انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے بھی اپیل کرتی ہے کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے ساتھ انصاف کو یقینی بنائیں

    پارہ چنار میں پیش آنے والے واقعات افسوس ناک،علما آگے بڑھیں،تابش قیوم

    پاکستان کا میزائل ، ایٹمی پروگرام امن اور تحفظ کی ضمانت ہے،تابش قیوم

    رمضان کے مہینے میں خدمت کی سیاست کا سفر جاری رکھیں گے، تابش قیوم

  • عافیہ صدیقی کی رحم کی اپیل مسترد،اسلام آباد ہائیکورٹ کو آگاہ کر دیا گیا

    عافیہ صدیقی کی رحم کی اپیل مسترد،اسلام آباد ہائیکورٹ کو آگاہ کر دیا گیا

    سابق امریکی صدر جو بائیڈن نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی امریکی جیل سے رہائی کے لیے کی گئی رحم کی اپیل کو مسترد کر دیا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کو آگاہ کر دیا گیا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی اور ان کے امریکی وکیل کلائیو اسمتھ ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے، جب کہ وکیل درخواست گزار عمران شفیق اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل بھی موجود تھے۔سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ سابق امریکی صدر جو بائیڈن نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رحم کی اپیل مسترد کر دی ہے۔ اس کے علاوہ، امریکا نے پاکستان کے ساتھ قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے کیے گئے معاہدے سے انکار کر دیا ہے۔ اس پر جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ریمارکس دیے کہ "امریکا ہمیں ہماری اوقات دکھا رہا ہے، سابق امریکی صدر نے اپنے بیٹے کی سزا تو معاف کر دی لیکن ہمارے قیدی کو رہا نہیں کیا۔”

    اس دوران عدالت میں وزیراعظم اور وزیر خارجہ کے بیرون ملک دوروں کی تفصیلات پر مشتمل رپورٹ پیش کی گئی، جبکہ امریکی سفیر کی ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے متعلق ملاقاتوں میں شرکت نہ کرنے پر بھی جواب جمع کرایا گیا۔ وزارت خارجہ نے عدالتی سوالات کے جوابات پر مشتمل ایک رپورٹ بھی عدالت میں جمع کرائی۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس کیس کی سماعت مزید دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی ہے تاکہ اس پر مزید غور کیا جا سکے اور پاکستان کی حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات پر بحث کی جا سکے۔

    یہ امر قابل ذکر ہے کہ سابق امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنی مدت صدارت کے آخری دنوں میں اپنے بیٹے سمیت کئی قیدیوں کی رہائی کے پروانے پر دستخط کیے تھے۔ تاہم، ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رحم کی اپیل کے باوجود، جو بائیڈن نے ان کی رہائی کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا۔اس پیشرفت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کی کوششیں مزید پیچیدہ ہو چکی ہیں

    امریکی صدر نے 5افراد کو معافی دیدی،عافیہ صدیقی کا نام نہیں

    عافیہ صدیقی کی رہائی، وطن واپسی کیس کی سماعت 24 جنوری تک ملتوی

    عافیہ صدیقی کی رہائی، وطن واپسی کیس کی سماعت 24 جنوری تک ملتوی

    عافیہ صدیقی کی بہن فوزیہ صدیقی حکومت پر پھٹ پڑیں

  • امریکی صدر نے 5افراد کو معافی دیدی،عافیہ صدیقی کا نام نہیں

    امریکی صدر نے 5افراد کو معافی دیدی،عافیہ صدیقی کا نام نہیں

    امریکی صدر جوبائیڈن نےسزایافتہ 5افراد کو معافی دےدی ہے۔

    وائٹ ہاوس اعلامیہ کے مطابق امریکی صدر نے سزایافتہ 2افراد کی سزاؤں میں تبدیلی بھی کردی،اعلامیہ میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا نام شامل نہیں،انہوں نے صدربائیڈن سے عام معافی کی اپیل کی تھی۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ تاریخ میں دوسرے صدر کے مقابلے میں زیادہ انفرادی معافیاں اور سزا کی کمی کی،پرامید ہوں جن لوگوں کو معافی ملی ہے وہ معاشرے کیلئے اب بہترین کام کریں گے۔یاد رہے ڈونلڈ ٹرمپ 20 جنوری کو امریکی صدر کا حلف اٹھائیں گے ، جس کیلئے تمام تر تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔

    یاد رہے کہ ڈاکٹر عافیہ کے امریکی وکیل کلائیو اسٹافورڈ بھی صدارتی معافی کے لیے پرامید تھے۔ ان کا کہنا ہے تھا کہ پیرتک جو بائیڈن عافیہ کی درخواست پر احکامات جاری کرسکتے ہیں۔خیال رہے کہ امریکی صدر جوبائيڈن کے دور صدارت کا کل آخری دن ہے اور 20 جنوری کو نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ حلف اٹھائیں گے۔رپورٹ کے مطابق صدر بائیڈن اپنے بیٹے سمیت 39 افراد کو صدارتی معافی دے چکے ہیں۔واضح رہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی امریکا میں ایک متنازع عدالتی فیصلےکے باعث 86 سالہ سزا کاٹ رہی ہیں۔

    گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا افتتاح کل ہوگا

    جنگ بندی معاہدہ، 3 اسرائیلی خواتین قیدی ریڈ کراس کے حوالے

    صدر ٹرمپ نے اپنی کرپٹو کرنسی لانچ کردی

    یورو اسٹار کی اجارہ داری ختم ، 500 ملین پاؤنڈ کا تیز رفتار ٹرین منصوبہ منظرعام پر آ گیا

  • عافیہ صدیقی کی بائیڈن کی رخصتی سے قبل معافی کی اپیل

    عافیہ صدیقی کی بائیڈن کی رخصتی سے قبل معافی کی اپیل

    امریکہ میں قید پاکستانی نیوروسائنٹسٹ ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے اسکائی نیوز کو بتایا ہے کہ انہیں امید ہے کہ وہ "نئے شواہد” کی بنیاد پر آزاد ہو جائیں گی جو ان کی بے گناہی کا اشارہ دے سکتے ہیں۔

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی، 52 سالہ، جو کبھی دنیا کی سب سے زیادہ مطلوب خواتین میں شامل تھیں، پر الزام تھا کہ ان کا القاعدہ کی قیادت سے تعلق تھا اور 2010 میں انہیں افغانستان میں ایف بی آئی کے ایجنٹ کو قتل کرنے کی کوشش کے الزام میں 86 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو ان کے ناقدین "لیڈی القاعدہ” کے لقب سے یاد کرتے ہیں، تاہم انہوں نے ہمیشہ اپنی بے گناہی کا دعویٰ کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اب حالات بدلنے کی امید ہے۔ "مجھے امید ہے کہ مجھے بھلا نہیں دیا جائے گا اور میں انشاء اللہ جلد ہی رہائی پاوں گی۔” انہوں نے مزید کہا، "میں… ظلم کا شکار ہوں، صاف اور سادہ بات ہے۔ ہر دن اذیت ہے… یہ آسان نہیں ہے۔”

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے وکیل، کلف اسٹافورڈ اسمتھ، نے امریکہ کے موجودہ صدر جو بائیڈن سے درخواست کی ہے کہ وہ ان کے کیس پر صدارتی معافی جاری کریں اور انہوں نے بائیڈن کو 76,500 الفاظ پر مشتمل ایک رپورٹ بھیجی ہے۔اس رپورٹ کو اسکائی نیوز نے دیکھا ہے، لیکن اس میں دی گئی تمام معلومات کی آزادانہ تصدیق نہیں کی جا سکی۔بائیڈن کے پاس ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے اس درخواست پر غور کرنے کا وقت ہے۔ اب تک بائیڈن نے 39 افراد کو معافی دی ہے اور 3,989 سزاؤں میں کمی کی ہے۔
    aafia

    کلف اسٹافورڈ اسمتھ کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس کی غلطیوں کی وجہ سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو ابتدائی طور پر مشتبہ سمجھا گیا تھا، اور انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے مقدمے کے دوران وہ گواہیاں دستیاب نہیں تھیں جو ان کی بے گناہی کو ثابت کر سکتی تھیں۔ان کا کہنا ہے کہ جب ڈاکٹر عافیہ صدیقی 2003 میں پاکستان آئی تھیں، تو انہیں اغوا کر کے سی آئی اے کے حوالے کیا گیا، جس نے انہیں افغانستان کے بگرام ایئربیس پر منتقل کر دیا۔

    سی آئی اے نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی پر افغانستان میں القاعدہ کے لیے کام کرنے کا الزام لگایا اور وہ واحد خاتون تھیں جنہیں 2000 کی دہائی کے اوائل میں "ایکسٹراورڈنری رینڈیشن” کے پروگرام کے تحت تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ایکسٹراورڈنری رینڈیشن ایک ایسا عمل ہوتا ہے جس میں کسی گرفتار شخص کو خفیہ حراست میں منتقل کیا جاتا ہے یا کسی تیسرے ملک بھیجا جاتا ہے تاکہ تحقیقات کی جا سکے۔

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے مقدمے کے دوران، 2010 میں جج نے کہا تھا: "ریکارڈ میں کوئی قابل اعتماد ثبوت نہیں ہے کہ امریکی حکام یا ایجنسیاں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو ان کی 2008 میں گرفتاری سے پہلے حراست میں لے کر آئی تھیں،” اور یہ کہا تھا کہ ان الزامات کو ثابت کرنے کے لیے کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ کلف اسٹافورڈ اسمتھ کا کہنا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس نے شروع میں "غلط مفہوم” نکالا تھا کیونکہ ایجنسیاں یہ سمجھتی تھیں کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی ایک نیوکلیئر فزکس کی ماہر ہیں جو تابکاری بم پر کام کر رہی ہیں، حالانکہ ان کی پی ایچ ڈی تعلیم میں تھی۔

    سی آئی اے کے ایک سابق اہلکار جان کریاکو کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی میں "دہشت گردی کے رجحانات” تھے۔ جان کریاکو نے سی آئی اے میں 2004 تک انسداد دہشت گردی کے محکمے میں کام کیا اور کہا کہ سی آئی اے ڈاکٹر صدیقی کو "قابل اور خطرناک” سمجھتی تھی۔کریاکو نے دعویٰ کیا کہ جب وہ سی آئی اے کے ساتھ کام کر رہے تھے، تب انہوں نے ڈاکٹر صدیقی پر تشدد کرنے کی تردید کی۔ "اگر ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو 2003 میں گرفتار کر کے کسی خفیہ مقام پر بھیجا گیا ہوتا، تو مجھے اس کا علم ہوتا۔”

    ڈاکٹر صدیقی کی بہن فوزیہ نے اسکائی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "میں جانتی ہوں کہ وہ بے گناہ ہیں۔ اگر میں جانتی کہ ان میں کوئی گناہ ہے تو میں اپنی ساری زندگی اس کے لیے وقف نہ کرتی۔ وہ جہاں ہیں وہ وہاں نہیں ہونی چاہیے۔”

    عافیہ صدیقی کی رہائی، وطن واپسی کیس کی سماعت 24 جنوری تک ملتوی

    ٴْڈاکٹرعافیہ کی رہائی، 10 لاکھ سے زائد افراد نےدستخط کر دیئے

    عافیہ صدیقی کیس،وزیراعظم،وزیر خارجہ کے دوروں کی تفصیلات طلب

    عافیہ صدیقی کی بہن فوزیہ صدیقی حکومت پر پھٹ پڑیں

    عافیہ صدیقی کیس ،پاکستانی وفد نے امریکہ میں وقت ضائع کیا،وکیل عافیہ

    جیل میں جنسی زیادتی،تشدد،عافیہ صدیقی کا جیل حکام کیخلاف مقدمہ

  • عافیہ صدیقی کی رہائی، وطن واپسی کیس کی سماعت 24 جنوری تک ملتوی

    عافیہ صدیقی کی رہائی، وطن واپسی کیس کی سماعت 24 جنوری تک ملتوی

    اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے امریکا میں قید پاکستانی شہری ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی اور وطن واپسی کے کیس کی سماعت 24 جنوری تک ملتوی کر دی ہے۔ اس کیس کی سماعت جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کی سربراہی میں کی گئی۔

    سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل دوسری عدالت میں مصروف ہونے کی وجہ سے پیش نہیں ہو سکے۔ اس کے باوجود، درخواست گزار کی وکیل، ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کے وکیل عمران شفیق نے عدالت کو آگاہ کیا کہ وزیرِ اعظم پاکستان کی طرف سے امریکی صدر کو لکھا گیا خط ابھی تک بغیر کسی جواب کے واپس آیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ امریکا کی طرف سے یہ تک نہیں بتایا گیا کہ آیا ان کا خط وصول کیا گیا ہے یا نہیں۔

    عدالت نے اس موقع پر کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے کیس سے متعلق آئندہ ہفتہ بہت اہم ہے اور وزارتِ خارجہ کو چاہیے کہ وہ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی سے بھرپور تعاون کرے۔ اس سلسلے میں عدالت نے وزیرِ اعظم کے بیرونِ ملک دوروں کی تفصیلات جمع کرانے کا حکم دیا تھا، تاہم نمائندہ وزارتِ خارجہ نے عدالت کو بتایا کہ سیکریٹری خارجہ چین میں موجود ہیں اور اس وجہ سے تفصیلات فراہم نہیں کی جا سکیں۔ اس پر عدالت نے وزارتِ خارجہ کو اگلے ہفتے تک وزیرِ اعظم کے بیرونِ ملک دوروں کی تفصیلات فراہم کرنے کی مہلت دی۔

    وکیل عمران شفیق نے مزید بتایا کہ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی امریکا پہنچ چکی ہیں، لیکن ان کی اب تک امریکی سفیر سے ملاقات نہیں ہو سکی ہے۔ عدالت نے اس پر وزارتِ خارجہ کو ہدایت دی کہ وہ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی ملاقات امریکا میں پاکستانی سفیر سے یقینی بنائے۔

    یاد رہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی، جو کہ 2003 میں امریکا میں گرفتار ہوئی تھیں، اس وقت امریکا کی قید میں ہیں اور ان کی واپسی کے لئے مختلف سطحوں پر کوششیں جاری ہیں۔ اس کیس کی آئندہ سماعت 24 جنوری 2025 کو ہوگی۔

    پاکستان نے سکھ اور ہندو یاتریوں کے لیے ویزا پالیسی میں نرمی کر دی

    کراچی: اجتماعی شادیوں کی تقریب میں 100 سے زائد ہندو جوڑے رشتہ ازدواج میں منسلک

  • عافیہ صدیقی کیس،وزیراعظم،وزیر خارجہ کے دوروں کی تفصیلات طلب

    عافیہ صدیقی کیس،وزیراعظم،وزیر خارجہ کے دوروں کی تفصیلات طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ: ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی اور وطن واپسی سے متعلق انکی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے امریکہ میں سزا معافی کی درخواست سے لیکر اب تک وزیراعظم اور وزیر خارجہ کے دنیا بھر کے دوروں کی تفصیلات طلب کر لیں،ڈاکٹر عافیہ کے امریکہ میں وکیل مسٹر کلائیو سمتھ کا ڈیکلریشن عدالت میں پیش ہوئے،اسلام آباد ہائی کورٹ نےوزارت خارجہ سے عافیہ صدیقی کے امریکی وکیل کے ڈیکلریشن پر تفصیلی رپورٹ طلب کر لی،عدالت نے ڈاکٹر عافیہ کے امریکی وکیل مسٹر کلائیو سمتھ کی ڈیکلریشن کی تعریف کی، اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزارت خارجہ کو معاملات کو سفارتی سطح پر دیکھنے کی ہدایت کی،

    عدالت نے کہا کہ امریکہ خود مختار ملک ہے ، وہ ڈاکٹر فوزیہ کا ویزہ ریجیکٹ کرسکتا ہے،امریکہ وزیراعظم کا ویزہ بھی ریجیکٹ کرسکتا ہے مگر معاملات کو سفارتی سطح پر لے جانا ہوتا ہے،

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کیس کی سماعت کی،درخواست گزار کی جانب سے وکیل عمران شفیق اور سابق سینیٹر مشتاق عدالت پیش ہوئے،درخواست گزار ڈاکٹر فوزیہ صدیقی ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت پیش ہوئیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور نمائندہ وزارت خارجہ بھی عدالت پیش ہوئے، ڈاکٹر فوزیہ نے کہا کہ جب ایک ملک کے چیف ایگزیکٹو دوسرے ملک کے ایگزیکٹو کو خط لکھے تو جواب لازمی آتا ہے، نمائندہ وزارت خارجہ نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کا امریکی صدر جو بائیڈن کو لکھے گئے خط کا کوئی جواب نہیں آیا، وکیل وزارت خارجہ نے کہا کہ امریکہ میں پاکستانی مشن نے وفد کے ڈاکٹر عافیہ سے ملاقات کے انتظامات مکمل کرلئے تھے،

    عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ دستاویزات کے مطابق وفد تاخیر سے پہنچا مگر آپکا سفیر کہاں تھا؟ ایسے معاملات کو ہمیشہ سفیر دیکھتے ہیں، ملک کے ایگزیکٹو نے خط لکھا اور اسکا جواب نہیں آیا، اس کو کیا سمجھیں، امریکہ میں پاکستانی سفیر کو وفد کے جو بائیڈن انتظامیہ کے ساتھ ملاقات کرنی چاہیے تھی،

    عدالت نے وزیراعظم اور وزیر خارجہ کے امریکی دوروں کی تفصیلات طلب کرلیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے وزیراعظم اور وزیر خارجہ کے دوروں کی تفصیلات بارے احکامات واپس لینے کی استدعا کی،جو عدالت نے مسترد کر دی،عدالت نے امریکہ میں سزا معافی کی درخواست سے لیکر اب تک وزیراعظم اور وزیر خارجہ کے دنیا بھر کے دوروں کی تفصیلات طلب کر لیں،عدالت نے کیس کی سماعت 13 جنوری تک کیلئے ملتوی کر دی

    عافیہ صدیقی کی رہا ئی کیلئےدرخواست وائٹ ہاؤس میں جمع
    دوسری جانب امریکی جیل میں قید پاکستانی خاتون ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہا ئی کیلئےدرخواست وائٹ ہاؤس میں جمع کرادی گئی ہے،واشنگٹن کے ذرائع کے مطابق وکلاء نے صدر جو بائیڈن پر زور دیا ہے کہ وہ 20 جنوری کو ان کی مدت ملازمت ختم ہونے سے پہلے انہیں رہا کریں،سینیٹر بشریٰ انجم بٹ کی قیادت میں ایک پاکستانی وفد نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کی وکالت کیلئے امریکا کا دورہ کیا ہے،وفد نے امریکی قانون سازوں ، کانگریس مین جم میک گورن،جو کمیٹی کی سربراہی کرتے ہیں کانگریس کی خاتون الہان عمر، ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وان ہولن اور جنوبی اور وسطی ایشیا کے لیے پرنسپل ڈپٹی اسسٹنٹ سیکرٹری آف سٹیٹ الزبتھ ہورسٹ سے ملاقاتیں کی ہیں،ملاقاتوں میں پاکستانی وفد نے عافیہ صدیقی کیلئے رہائی کی فوری ضرورت پر زور دیا، پاکستانی نژاد امریکی کمیونٹی کے ارکان نے تصدیق کی ہے کہ معافی کی درخواست وائٹ ہاؤس کو پہنچا دی گئی ہے،کمیونٹی کے ایک رکن نے کہا امید ہے کہ صدر بائیڈن 20 جنوری کو ڈونلڈ ٹرمپ کو اقتدار منتقل کرنے سے پہلے کوئی فیصلہ کریں گے۔

    ڈاکٹر عافیہ کی رہائی ،انسانی حقوق تنظیموں کا امریکی جیل کے باہر بڑامظاہرہ

    20 جنوری سے قبل عافیہ صدیقی کی رہائی کا فیصلہ متوقع

    عافیہ صدیقی کی بہن فوزیہ صدیقی حکومت پر پھٹ پڑیں

    عافیہ صدیقی کیس ،پاکستانی وفد نے امریکہ میں وقت ضائع کیا،وکیل عافیہ

    سینیٹر طلحہ محمود ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کیلئےامریکا روانہ

    ڈاکٹرعافیہ کی رہائی اور وطن واپسی سے متعلق درخواست پر تحریری حکمنامہ جاری

  • 20 جنوری سے قبل عافیہ صدیقی کی رہائی کا فیصلہ متوقع

    20 جنوری سے قبل عافیہ صدیقی کی رہائی کا فیصلہ متوقع

    وزیراعظم پاکستان، شہباز شریف کی ہدایت پر پاکستانی وفد نے امریکی جیل میں قید معروف پاکستانی محقق اور ماہر نفسیات ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے تقریباً تین گھنٹے تک ملاقات کی۔

    اس ملاقات میں ڈاکٹر عافیہ کی صحت، قید کی حالت اور رہائی کے حوالے سے اہم بات چیت کی گئی۔ پاکستانی وفد نے اس موقع پر امریکی حکام سے بھی ملاقاتیں کیں، جن میں امریکی کانگریس اور وزارت خارجہ کے حکام شامل تھے، تاکہ ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لئے موثر اقدامات کیے جا سکیں۔پاکستانی وفد میں شامل سینیٹر بشریٰ انجم نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عافیہ صدیقی کی رہائی کے حوالے سے امریکی حکام سے ہونے والی گفتگو انتہائی مثبت رہی۔ انہوں نے کہا کہ "ہمیں امید ہے کہ امریکی حکومت 20 جنوری سے پہلے عافیہ صدیقی کی رہائی سے متعلق کوئی فیصلہ کر لے گی”۔ سینیٹر بشریٰ انجم نے مزید کہا کہ یہ کیس صرف پاکستان کا نہیں بلکہ عالمی سطح پر انسانی حقوق کا مسئلہ بن چکا ہے، اور اس حوالے سے عالمی برادری کا بھی کردار اہم ہے۔

    عافیہ صدیقی کو 2003 میں افغانستان میں امریکی فوجیوں کے خلاف حملے کی کوشش کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور 2010 میں انہیں امریکا کی جیل میں 86 سال کی سزا سنائی گئی تھی۔پاکستانی وفد کی اس ملاقات کا مقصد ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کی کوششوں کو تیز کرنا تھا تاکہ انہیں طویل عرصے سے جاری قید سے نجات مل سکے۔ اس موقع پر وفد نے امریکی حکام سے ڈاکٹر عافیہ کے معاملے پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر غور کرنے کی درخواست کی، اور ان کے ساتھ انصاف کی فراہمی کی اپیل کی۔پاکستانی حکومت نے اس بات کا عہد کیا ہے کہ وہ عافیہ صدیقی کے معاملے کو ہر سطح پر اٹھا کر انہیں جلد سے جلد انصاف دلانے کی کوشش کرے گی۔

    عافیہ صدیقی کی بہن فوزیہ صدیقی حکومت پر پھٹ پڑیں

    عافیہ صدیقی کیس ،پاکستانی وفد نے امریکہ میں وقت ضائع کیا،وکیل عافیہ

    سینیٹر طلحہ محمود ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کیلئےامریکا روانہ

    ڈاکٹرعافیہ کی رہائی اور وطن واپسی سے متعلق درخواست پر تحریری حکمنامہ جاری

    جیل میں جنسی زیادتی،تشدد،عافیہ صدیقی کا جیل حکام کیخلاف مقدمہ

  • عافیہ صدیقی کی بہن فوزیہ صدیقی حکومت پر پھٹ پڑیں

    عافیہ صدیقی کی بہن فوزیہ صدیقی حکومت پر پھٹ پڑیں

    امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے حکومت پاکستان کی جانب سے عافیہ کی رہائی کے حوالے سے کیے گئے اقدامات پر شدید تنقید کی ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کا کہنا تھا کہ ان کے پاسپورٹ کو ان کے اہل خانہ کے پاس رکھنے کا کوئی مقصد نہیں ہے اور انہیں اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ "میرے اپنوں نے میرا پاسپورٹ رکھا ہوا ہے، مگر مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ حکومت پاکستان نے جو خط امریکا کو لکھا ہے، اس میں وزیرِ اعظم کا پیغام شامل ہے۔ اگر وزیرِ اعظم خود یہ خط بھیج سکتے ہیں تو کم از کم ڈپٹی وزیرِ اعظم یا وزیرِ خارجہ کو بھی اس خط کے ساتھ امریکا بھیجنا چاہیے تھا تاکہ خط کو عزت ملتی۔”انہوں نے مزید کہا کہ، "اگر چیئرمین سینیٹ یا وزیرِ خارجہ خود یہ خط لے کر جاتے تو امریکی حکومت پر اس کا زیادہ اثر پڑتا۔ بدقسمتی سے مجھے امریکا جانے سے روکا گیا اور عافیہ صدیقی کی رہائی کے حوالے سے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔”ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے 1500 افراد کو ایک ہی دن میں معافی دینے کا ذکر کیا اور کہا کہ، "صدر بائیڈن نے ایک دن میں 1500 افراد کو معافی دی، جبکہ ہمارے وفد کا کوئی مقصد حاصل نہیں ہو سکا اور وہ بغیر کسی نتیجے کے واپس آ رہا ہے۔ عافیہ کی رہائی کوئی معمولی بات نہیں ہے، یہ ایک نیکی ہے لیکن ان کے حق میں نہیں کی جا رہی۔”انہوں نے اپنے عوام کا شکریہ ادا کیا جو ان کی اور عافیہ کی آواز بنے ہیں، اور ان کے لیے حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    اس کے علاوہ، ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کے وکیل عمران شفیق نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہونے والی آج کی عدالتی کارروائی بہت اہمیت کی حامل تھی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان نے امریکا جانے کے لیے ایک وفد بھیجا تھا لیکن یہ وفد محض تین دن کے لیے امریکا پہنچ سکا جبکہ کم از کم اس وفد کا دورہ آٹھ دن کا ہونا چاہیے تھا۔عمران شفیق کا کہنا تھا کہ، "وفد پانچ دن کی تاخیر سے پہنچا اور ان کی ملاقاتیں اور اہم میٹنگز جو طے کی گئی تھیں، وہ نہیں ہو سکیں۔ امریکی وکیل اسمتھ اور ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے ایک ڈیکلریشن عدالت میں جمع کرایا، جسے عدالت میں پڑھا گیا، اور یہ ایک دل توڑنے والی داستان ہے۔”وکیل نے مزید کہا کہ حکومت نے جو وفد امریکا بھیجا تھا، وہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا۔ "جو اہم ترین میٹنگز ہونی تھیں، ان میں بھی وفد تاخیر کا شکار ہو گیا اور اس کی وجہ سے پاکستان کے موقف کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔”

    24 نومبر احتجاج،بیرسٹر گوہر نے وزیراعظم،وزیرداخلہ،دفاع کیخلاف دی درخواست

    گلگت،پی آئی اے طیارہ حادثہ،کپتان تیزرفتاری کا عادی، سنگین غلطیاں

    مذاکرات کا طریقہ غلط ،ایسے لگ رہا ہم بھیک مانگ رہے ہیں،علی ظفر

  • عافیہ صدیقی کیس ،پاکستانی وفد نے امریکہ میں وقت ضائع کیا،وکیل عافیہ

    عافیہ صدیقی کیس ،پاکستانی وفد نے امریکہ میں وقت ضائع کیا،وکیل عافیہ

    اسلام آباد ہائیکورٹ، ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی اور وطن واپسی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    دوران سماعت عدالت کو بتایا گیا کہ وزارت خارجہ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کا اے ویزا منظور نہ کروا سکی جس پر جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نےسیکرٹری وزارت خارجہ کو فوزیہ صدیقی کو بی ویزا فراہم کرنے کا حکم دے دیا،عافیہ صدیقی کے امریکہ میں وکیل مسٹر سمتھ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو آگاہ کیا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی اور وطن واپسی سے متعلق پاکستان سے امریکہ بھیجا گیا وفد 8 روز کے لیے تھا جو پانچ روز تاخیر سے پہنچا ، پاکستانی وفد کا وقت آج ختم ہوگیا وفد کی واپسی کا وقت آگیا ہے ،ڈاکٹر عافیہ کے وکیل نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں امریکہ بھیجا گیا وفد ناکام ثابت ہوا حکومت کی جانب سے معاملے میں وقت ضائع کیا گیا وفد امریکہ میں اہم میٹنگز میں بھی دیر سے پہنچا ۔ فوزیہ صدیقی کا ویزا بھی امریکی ایمبیسی نے منظور نہ کیا ۔

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں حکومت اور وزارت خارجہ کی سستی پر عدالت برہم ہو گئی،جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور نمائندہ وزارت خارجہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر فوزیہ یہاں ہیں،وفد نے کتنے دن وہاں رکنا،مسٹر سمتھ وہاں اکیلے ہیں، سفیر نے بھی کچھ نہیں کیا،آپ کی طرف سے سستی ہے اور وقت پر معاملات درست نہیں،وزارت خارجہ پیرا وائز کمنٹس جمع کرائے اور مکمل رپورٹ دے،کیوں ایسا ہوا اور سفارتخانے نے کیا کیا،

    دوسری جانب ڈاکٹر عافیہ سے ملاقات کے بعد سینیٹر طلحہ محمود نے بتایا کہ میری تین گھنٹے کی ملاقات ہوئی ہے، ڈاکٹر عافیہ بچوں، والدہ، بہن کو یاد کر رہی تھیں ، انکا کہنا تھا کہ عافیہ نے کہا کہ مجھے رہا کروا جائے، سینیٹر طلحہ کا کہنا تھا کہ یہاں ہماری بہت سی ملاقاتیں ہوئی ہیں، لوکل کمیونٹی کو بھی ساتھ ملایا ہےتا کہ کیس میں مدد کریں، ہمیں یقین ہے کہ یہ ایک ایسا موقع ہوتا ہے کہ جانے والا صدر بہت سے لوگوں کو رہا کر دیتا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ عافیہ صدیقی کی درخواست بھی امریکی صدر کی ٹیبل پر آئے،

    سینیٹر طلحہ محمود ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کیلئےامریکا روانہ

    ڈاکٹرعافیہ کی رہائی اور وطن واپسی سے متعلق درخواست پر تحریری حکمنامہ جاری

    عافیہ صدیقی کیس، امریکا جانیوالے وفد کی مالی معاونت ،وزیراعظم نے دستخط کر دیئے

    جیل میں جنسی زیادتی،تشدد،عافیہ صدیقی کا جیل حکام کیخلاف مقدمہ

    سندھ اسمبلی میں ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کیلئے قرارداد متفقہ طور پر منظور