Baaghi TV

Tag: عاقب جاوید

  • قومی ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ نے عاقب جاوید  کو جوکر قرار دیا

    قومی ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ نے عاقب جاوید کو جوکر قرار دیا

    لاہور: پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ جیسن گلیسپی نے عاقب جاوید پر الزامات لگا تے ہوئے انہیں جوکر قرار دیا-

    باغی ٹی وی: جیسن گلیسپی نے سوشل میڈیا پر عاقب جاوید پر الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ عاقب جاوید واضح طور پر گیری کرسٹن اور میری ساکھ کو نقصان پہنچا رہے تھے،عاقب جاوید تمام فارمیٹس میں کوچ بننے کے لیے ہمارے پیچھے کیمپین کر رہے تھے، وہ ایک جوکر ہیں۔

    واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے سابق جنوبی افریقی بیٹر گیری کرسٹن کو وائٹ بال ٹیم جبکہ سابق آسٹریلین بولر جیسن گلیسپی کو ریڈ بال ٹیم کا ہیڈ کوچ لگایا تھا پہلے گیری کرسٹن وائٹ بال ٹیم کی کوچنگ سے مستعفی ہوئے تھے اور پھر جیسن گلیسپی ریڈ بال ٹیم کی کوچنگ سے الگ ہو گئے تھے،جس کے بعد عاقب جاوید کو قومی وائٹ بال اور ریڈ بال ٹیم کا عبوری ہیڈ کوچ نامزد کیا گیا تھا۔

    ریگی للمہ میں اسپورٹس گراؤنڈ کا افتتاح، نوجوانوں کو منشیات اور سماجی برائیوں سے بچانے کا عزم

    گورنر خیبرپختونخوا کی بلاول بھٹو سے ملاقات،مختلف امور پر تفصیلی بریفنگ

    پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان تجارت کا آغاز ،پاکستانی جہاز چٹاگانگ بندرگاہ پر لنگر انداز

  • عاقب جاوید ہیڈ کوچ بننے کیلئے پس پردہ مہم چلا رہے تھے، سابق کوچ کا انکشاف

    عاقب جاوید ہیڈ کوچ بننے کیلئے پس پردہ مہم چلا رہے تھے، سابق کوچ کا انکشاف

    پاکستان ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ جیسن گلیسپی نے قومی ٹیم کے موجودہ ہیڈ کوچ عاقب جاوید کو مسخرہ قرار دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ وہ خود کوچ بننے کے لیے پس پردہ مہم چلا رہے تھے۔

    آسٹریلیا کے سابق ٹیسٹ کرکٹر اور پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ جیسن گلیپسی نے فوٹو شیئرنگ ایپ ’انسٹاگرام‘ پر ایک اسٹوری شیئر کی جس میں انہوں نے قومی ٹیم کے موجودہ ہیڈ کوچ عاقب جاوید پر الزامات کی بوچھاڑ کردی۔جیسن گلیسپی کا کہنا تھا کہ عاقب جاوید واضح طور پر قومی وائٹ بال ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ گیری کرسٹن اور میری ساکھ کو نقصان پہنچا رہے تھے۔انہوں نے انکشاف کیا کہ عاقب جاوید پاکستان کرکٹ ٹیم کے تمام فارمیٹس میں کوچ بننے کے لیے پس پردہ مہم چلا رہے تھے کیونکہ وہ خود تینوں فارمیٹ کا کوچ بننا چاہتے تھے۔

    آخر میں جیسن گلیپسی نے عاقب جاوید کا حالیہ بیان کو حیران کن قرار دیتے ہوئے انہیں جوکر قرار دے دیا۔خیال رہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں پی سی بی کی جانب سے جنوبی افریقہ کے دورے کے لیے اسسٹنٹ کوچ ٹم نیلسن کے کنٹریکٹ میں توسیع نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا جس پر اس وقت کے ہیڈ کوچ جیسن گلیسپی پی سی بی سے ناراض ہوگئے اور انہوں نے جنوبی افریقہ جانے سے انکار کر دیا تھا۔جس پر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے عاقب جاوید کو قومی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کا عبوری ہیڈ کوچ مقرر کر دیا تھا۔

    اس سے قبل، نومبر 2024 میں پی سی بی نے عاقب جاوید کو چیمپئنز ٹرافی تک قومی وائٹ بال ٹیم کا عبوری ہیڈ کوچ مقرر کیا تھا۔اکتوبر 2024 میں پاکستان وائٹ بال ٹیم کے ہیڈ کوچ گیری کرسٹن اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے، انہوں نے پی سی بی اور سلیکشن کمیٹی کے رکن عاقب جاوید سے اختلافات کی وجہ سے استعفیٰ دیا۔

    وزیر اعلیٰ سندھ سے نئے برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر کی ملاقات

  • ایک بھی ایسا کھلاڑی نہیں ہے جو بغیر پرفارمنس ٹیم میں آیا ہو، عاقب جاوید

    ایک بھی ایسا کھلاڑی نہیں ہے جو بغیر پرفارمنس ٹیم میں آیا ہو، عاقب جاوید

    راولپنڈی: قومی کرکٹ ٹیم کے عبوری ہیڈ کوچ عاقب جاوید نے کہا ہےکہ کھلاڑی افسردہ ہیں، جب ٹیم توقعات کےمطابق نہیں کھیلتی تو سب سےزیادہ دکھ کھلاڑیوں کو ہوتا ہے۔

    باغی ٹی وی : راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عاقب جاوید نے کہا کہ بھارتی ٹیم بہت تجربہ کار تھی اور 240 رنز کا دفاع کرنا ہو تو وکٹیں لینا ہوتیں، اٹیک کرنا ہوتا ہے اور بھارت کے خلاف صرف پلاننگ نہیں ہوتی،ہر میچ کےلیے ہوتی ہے،اگر پاکستان 300 کے قریب اسکور بنا لیتا تو اچھا مقابلہ ہو سکتا تھا۔ جب اچھا ٹوٹل نہ ہو تو بولرز کو زیادہ اٹیکنگ جانا پڑتا ہے، بڑے میچز میں امپیکٹ پلیئرز کا ہونا ضروری ہوتا ہے، صائم ایوب اور فخر زمان کی عدم موجودگی سے فرق پڑا۔ سفیان مستقیم اور عرفان نیازی کا ون ڈے کے حوالے سے ایکسپوژر نہیں تھا۔

    صحافی کی جانب سے ٹیم سلیکشن پر مطمئن ہونے کے سوال پر ہیڈ کوچ نے جواب دیا کہ مطمئن کبھی نہیں ہوسکتے مگر یہ جو ہماری ٹیم تھی یہی بیسٹ اور ممکنہ ٹیم تھی جس نے ایک میچ کھیلا ہم کہہ رہے ہیں وہ ہوتا تو پاکستان میچ جیت جاتا، ایک بھی ایسا کھلاڑی نہیں ہے جو بغیر پرفارمنس ٹیم میں آیا ہو، ٹیم کو بنانے میں ہماری سوچ تھی کہ بہترین ٹیم بنائیں۔

    عاقب جاوید نے کہا کہ ون ڈے میں سات بیٹرز اور چار بولرز کا کمبی نیشن کھلایا جاتا ہے، اور چونکہ صائم ایوب بیٹنگ کے ساتھ کچھ اوورز بھی کروا سکتے تھے، اسی لیے ان کی جگہ خوشدل شاہ کو ٹیم میں شامل کیا گیاانہوں نے بابر اعظم اور شاہین آفریدی کو ٹیم کے سب سے تجربہ کار کھلاڑی قرار دیا اور کہا کہ پاکستان نے اپنی بہترین دستیاب ٹیم میدان میں اتاری تھی۔ انہوں نے سعود شکیل کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی جگہ محنت سے بنائی۔

    انہوں نے کھلاڑیوں کی جانب سے کارکردگی نہ ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ ہماری پرفارمنس نہیں آرہی ہے، بہتری تو لانی ہے، اس پروسیس کو کوئی روک نہیں سکتاسلیکشن کمیٹی کا کام بہترین کھلاڑی کھلانا ہے، اب وہی کریں گے آگے جو اس ٹیم کے لیے بہتر ہے مگر ایسا تو نہیں ہوسکتا جو ہار گئے ان کو بدل دیں اور انڈر 19 ٹیم کو لائیں، ہم اپنی کوشش میں لگے رہیں گے، اب ہم خود کو ٹیم کو کل کے میچ کیلئے تیار کریں گے۔

  • پاک بھارت میچ میں میدان خالی بھی کردیں تو بھی دباؤ رہے گا،عاقب جاوید

    پاک بھارت میچ میں میدان خالی بھی کردیں تو بھی دباؤ رہے گا،عاقب جاوید

    دبئی: پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ عاقب جاوید نے کہا ہے کہ شاہین شاہ آفریدی اور نسیم شاہ سے کافی امیدیں ہیں بھارت کیخلاف میچ ایک موقع ہے کہ ٹیم اور کھلاڑی دنیا کے سامنے اپنا نام کما سکتے ہیں-

    باغی ٹی وی : دبئی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے قومی مینز ٹیم کے ہیڈ کوچ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے میچ کا نام ہی کافی ہے دباؤ کو مینج کرنا ہی کھلاڑیوں کا کام ہے پاک بھارت میچ سے دباؤ ختم کردیں تو کیا بچے گا؟ دباؤ کا ہی تو مزا ہے پاک بھارت ٹاکرا ہائی وولٹیج، دلچسپ اور کرکٹ کی روح ہے۔

    عاقب جاوید نے کہا کہ ہمارے پلیئرز دبئی کی کنڈیشن سے واقف ہیں، ہمیں اپنی صلاحیتوں کے مطابق کرکٹ کھیلنی ہے بھارت کیخلاف کچھ خاص کرنے کی کوشش کریں گے پاک بھارت میچ میں میدان خالی بھی کردیں تو بھی دباؤ رہے گا، یہی مزا ہے پلیئرز کو بتایا ہے کہ اپنے ٹیلنٹ کو دنیا کے سامنے پیش کریں، دباؤ کو انجوائے کریں، ہمارے پاس فاسٹ بولرز میچ ونر ہیں شاہین شاہ آفریدی اور نسیم شاہ سے کافی امیدیں ہیں بھارت کیخلاف میچ ایک موقع ہے کہ ٹیم اور کھلاڑی دنیا کے سامنے اپنا نام کما سکتے ہیں، میڈیا لکھتا ہے ’داغ لگ گئے، داغ دھل گئے‘ پلئیرز کا کام کھیلنا ہے۔

  • عاقب جاوید کی ٹیسٹ اور وائٹ بال ٹیم کو الگ الگ کرنے کی حمایت

    عاقب جاوید کی ٹیسٹ اور وائٹ بال ٹیم کو الگ الگ کرنے کی حمایت

    پاکستان ٹیم کے عبوری ہیڈ کوچ عاقب جاوید نے کہا ہے کہ ٹیسٹ اور وائٹ بال ٹیم کو الگ الگ کرنا پڑے گا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ ٹیم اور مینجمنٹ میں ایک دم سے تبدیلی کا مقصد تھا کہ ٹیم جیت کی طرف جاسکے۔جس طرف کرکٹ ہو رہی ہے اس کےلیے ہمیں اپنا پلیئر پول بڑھانا پڑے گا، ایک کھلاڑی کو مسلسل بارہ ماہ نہیں کھیلا سکتے۔ ٹیسٹ اور وائٹ بال ٹیم کو الگ الگ کرنا پڑے گا۔عبوری ہیڈکوچ نے کہا کہ چیمپئنز ٹرافی ہماری ہوم کنڈیشنز میں ہو رہی ہے، اس سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔دوسری طرف ٹیسٹ ٹیم کے کپتان شان مسعود کا کہنا تھا کہ ہم اسی کوشش میں تھے کہ اپنے ہوم گراؤنڈ پر اچھی وکٹ تیار کر سکیں، ہم نے وہ پچز تیار کیں جو ہمارے اسپنرز کے کام آئیں۔قومی ٹیم کے کپتان کا کہنا تھا کہ اگر ہم پچھلی کچھ سیریز دیکھیں تو ہم نے بطور ٹیم اچھا کھیلا لیکن ٹیم میں بہتری کی ضرورت ہے۔ہم نے ایک طرح کی کنڈیشنز میں نہیں کھیلا بلکہ مشکل کنڈیشنز میں کھیلے۔

    برطانیہ کیلئے پی آئی اے کی پروازیں فروری تک چلنے کا امکان

    پٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں سالانہ بنیادوں پر 4 فیصد اضافہ

    سعودی عرب جانے والے مسافرسے ہیروئن برآمد

  • فخر زمان فٹ ہوا تو موقع دیا جائے گا،عاقب جاوید

    فخر زمان فٹ ہوا تو موقع دیا جائے گا،عاقب جاوید

    پاکستان کے عبوری وائٹ بال کے ہیڈ کوچ اور سلیکٹر عاقب جاوید نے لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ فخر زمان میچ ونر ہے ، فٹ ہوا تو موقع دیا جائے گا

    عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ فخر زمان کی پاکستان کے لئے اچھی پرفارمننس ہے، اسکے فٹنس کے مسائل ہیں، اسکے ساتھ رابطے میں ہیں، وہ فٹ ہو گا وہ اسکو سلیکشن کمیٹی موقع دے گی،ملتان سے لے کر اب تک کوئی ایسا پوائنٹ نہیں آیا، ملتان میں جو ٹیم تھی وہی پنڈی میں کھیلی، جو کھلاڑی موجود ہیں،ان سے بیسٹ الیون بنا کر پاکستان کے لئے میچ جیتنے کی کوشش کرتے ہیں ، کوچ کا ایک حد تک رول ہوتا ہے،جو میسجز ہیں وہ بڑے کلیئر ہونے چاہئے کہ کس طرح کی کرکٹ کھیلنی ہے، ریزلٹ تو ٹیم اور کپتان لے کر آتے ہیں،میرے لئے کوچنگ کوئی نئی چیز نہیں، 20 سال سے کر رہا ہوں، ابھی جو مجھے ٹاسک دیا گیا ہے، اس پر فوکس کر رہا ہوں، کوچنگ میرا پروفیشن ہے، پھر آگے جو نظرآئے گا اسکے مطابق فیصلہ ہو گا،اسد شفیق آسٹریلیا ٹور پر تھے، انکا کام یہ تھا کہ وہ کپتان سے بات چیت کریں اور ایک فائنل الیون پر بات ہو جو سلیکشن کمیٹی میں ہو، ابھی وہاں اسد شفیق نہیں بلکہ میں ہوں گا، کوچ کی جو سوچ ہو گی اسکو سلیکشن کمیٹی میں لایا جائے گا، سیلیکٹر ملکر فیصلہ کرتے ہیں،

    عاقب جاوید کا مزید کہنا تھا کہ آنےوالےدنوں میں ٹیم میں تبدیلی نظرآئےگی،آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میں ٹیم میں ایک تسلسل نظر آئےگا،آسٹریلیا کا ٹور کبھی بھی پاکستان کے لئے آسان نہیں آ رہا، ون ڈے سیریز اگر کہتے تو جیتنےجا رہے تو آسان نہیں تھا، ایک تو بہت ہی شارٹ میچ ہو گیا، دوسرے میچ میں بھی پاکستان کے چانس تھے،ہمارا اس وقت مین فوکس چیمپئنز ٹرافی ہے، ٹی ٹوئنٹی میں ایک سال سے زیادہ کافی تبدیلیاں نظر آئیں گی،ہماری کوشش ہے جو کھلاڑی ٹور پر جاتا ہے جہاں سیریز ہا ر گئے تو نئے کھلاڑی کو موقع دیا جائے، زمبابوے میں کھلاڑیوں کو ریسٹ بھی دیا گیا، آپشن رکھنا ضروری ہوتا ہے، کوچ اور کپتان کی سوچ کو ایک پلیٹ فارم پر لایا جائے گا، کوچ، کپتان اور پی سی بی سلیکشن کمیٹی ملکر فیصلہ کریں گے، ٹی 20 میچ میں واپس آنے کے کم چانسز ہوتے ہیں۔

  • عاقب جاوید  قومی کرکٹ ٹیم کےعبوری ہیڈ کوچ مقرر

    عاقب جاوید قومی کرکٹ ٹیم کےعبوری ہیڈ کوچ مقرر

    لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے عاقب جاوید کو وائٹ بال فارمیٹ میں قومی کرکٹ ٹیم کاعبوری ہیڈ کوچ مقرر کردیا۔

    باغی ٹی وی: عاقب جاوید قومی ٹیم کی سلیکشن کمیٹی کے سینئر رکن کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں تاہم اب وہ چیمپئنز ٹرافی کے اختتام تک وائٹ بال ہیڈ کوچ کی اضافی ذمہ داریاں بھی نبھائیں گے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ماہ سابق جنوبی افریقی بیٹر گیری کرسٹن نے وائٹ بال ہیڈ کوچ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا جس کے بعد پاکستان کے حالیہ دورہ آسٹریلیا کے دوران ریڈ بال کے ہیڈ کوچ جیسن گلیسپی نے عارضی طور پر وائٹ بال کوچ کی ذمہ داری بھی انجام دی۔پاکستان کرکٹ بورڈ نے نئے مستقل وائٹ بال ہیڈ کوچ کی تلاش کا عمل بھی شروع کردیا ہے۔

  • عاقب جاوید قومی وائٹ بال کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مقرر

    عاقب جاوید قومی وائٹ بال کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مقرر

    قومی کرکٹ ٹیم کے دورہ زمبابوے کیلئےسلیکٹر عاقب جاوید کو قومی وائٹ بال کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مقرر کردیا گیا ۔

    ذرائع کے مطابق ہیڈ کوچ گیری کرسٹن کے مستعی ہونے پر جیسن گلیسپی کو وائٹ بال ٹیم کی اضافی ذمہ داری سونپی گئی تھی تاہم اب قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ کی زمہ داری عاقب جاوید کو سونپی گئی ہے۔سابق ٹیسٹ کرکٹر اور پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں 2 بار کی چیمپئن ٹیم کے 52 سالہ ہیڈکوچ عاقب جاوید دورئہ زمبابوے اور جنوبی افریقہ میں کوچنگ کے فرائض نبھائیں گے۔ عاقب جاوید ماضی میں قومی ٹیم کے باؤلنگ کوچ کے فرائض انجام دے چکے ہیں، عاقب جاوید کی تقرری کا باقاعدہ اعلان جلد متوقع ہے۔ یاد رہے کہ ماضی میں جب مصباح الحق نے سلیکشن اور کوچنگ کی ذمہ داریاں ساتھ سنبھالی تھیں تو ان کے سب سے بڑے ناقد عاقب جاوید ہی تھے۔ البتہ دونوں میں نمایاں فرق کوچنگ کے تجربے کا ہے، عاقب گزشتہ 20 سالوں سے مختلف ٹیموں کی کوچنگ کررہے ہیں۔

    ٹرمپ نے اسرائیل نواز کابینہ نامزد کرکے مسلمان حامیوں کو مایوس کیا

    دفاعی نمائش آئیڈیاز 2024ء 19 تا 22 نومبر تک کراچی میں ہوگی

    پاکستان کی ترقی کا واحد راستہ تعلیم ہے،خالدمقبول صدیقی

    چیمپئنز ٹرافی: براڈ کاسٹرز کا طے شدہ رقم میں کمی کا الٹی میٹم

  • جیسن گلیسپی دورہ آسٹریلیا کیلئے  وائٹ بال کرکٹ ٹیم کےہیڈکوچ مقرر

    جیسن گلیسپی دورہ آسٹریلیا کیلئے وائٹ بال کرکٹ ٹیم کےہیڈکوچ مقرر

    لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ نے ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے نئے ہیڈ کوچ کا اعلان کردیا، اب جیسن گلیسپی کو دورہ آسٹریلیا کے لیے وائٹ بال کرکٹ ٹیم کاہیڈکوچ مقرر کردیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی :پی سی بی کے مطابق گیری کرسٹن کے عہدے سے استعفیٰ دینے کے بعد اب جیسن گلیسپی کو دورہ آسٹریلیا کے لیے وائٹ بال کرکٹ ٹیم کاہیڈکوچ مقرر کردیا گیا ہے،پاکستان کرکٹ بورڈ نے سابق ہیڈ کوچ گیری کرسٹن کا استعفیٰ بھی قبول کر لیا ہے۔

    ذرائع کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے گیری کرسٹن کے رویےکو دیکھتے ہوئے نئےکوچ کا ٹاسک دے دیا تھا آسٹریلیا سیریز میں عبوری ہیڈ کوچ کے لیے جیسن گلیسپی پہلی چوائس ہیں،گلیسپی کو آسٹریلیاکے خلاف ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میچزکی اضافی ذمہ داری سونپی جاسکتی ہے جبکہ ثقلین مشتاق بھی وائٹ بال کوچ کے مضبوط امیدوار ہیں، کپتان محمد رضوان نے ثقلین مشتاق کی رائے دی ہے۔

    واضح رہے کہ گیری کرسٹن کا استعفیٰ قبول کر لیا ہے،معاہدے کے مطابق گیری کرسٹن نے پاکستان میں قیام پر انکار بھی کیا، ہیڈ کوچ سال میں ایک مہینہ چھٹیاں کر سکتے تھے لیکن گیری کرسٹن چیمپیئنز کپ کے بعد پاکستان نہیں آئے گیری کرسٹن کے ساتھ پی سی بی نے مئی میں 2 سال کا معاہدہ کیا تھا تاہم چھ ماہ بعد ہی اختلافات کی وجہ سے اب انہوں نے پی سی بی کے ساتھ اپنی راہیں جدا کرلی ہیں، گیری کرسٹن نے ورلڈ کپ ٹی ٹوئنٹی 2024 سے دس روز قبل قومی ٹیم کو امریکا میں جوائن کیا تھا-

    نیوزی لینڈ سے مسلسل شکست:ویرات کوہلی آگ بگولہ ہو گئے،غصہ آئس باکس پر نکا ل …

     

    ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق سلیکشن کمیٹی کی گیری کرسٹن سے اسکواڈز پر مشاورت بھی ہوئی، دورہ آسٹریلیا اور زمبابوے کے لیے اسکواڈ پر گیری کرسٹن اور موجودہ سلیکشن کمیٹی ایک پیج پرنہیں تھے،گیری کرسٹن نے مطالبات نہ ماننے کی صورت میں دورہ آسٹریلیا میں ٹیم کے ساتھ نہ جانے کی دھمکی دی تھی۔

    پاکستان کی وائٹ بال ٹیم کے ہیڈ کوچ گیری کرسٹن مستعفیٰ

  • ملتان ٹیسٹ کی فتح پاکستان کرکٹ کے لیے ایک ٹرن ہوگا؟

    ملتان ٹیسٹ کی فتح پاکستان کرکٹ کے لیے ایک ٹرن ہوگا؟

    عظیم انگلش کھلاڑی جیفری بائیکاٹ نے ایک بار کہا تھا، "آپ کی اہمیت صرف آپ کی آخری کارکردگی تک محدود ہے۔” یہ بیان جزوی طور پر پاکستان کی انگلینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ کی کارکردگی کے لیے درست ہو سکتا ہے۔اگرچہ اسکور بورڈ میزبان ٹیم کے لیے متاثر کن نظر آ سکتا ہے، لیکن گزشتہ ایک سال سے زیادہ عرصے کے بری کارکردگی کے بعد، ورلڈ کپ میں تباہ کن کارکردگی اور بنگلہ دیش کے خلاف ہوم ٹیسٹ سیریز میں شکست کے بعد، اس سیریز میں پاکستان کی کرکٹ نے کوئی خاص تاثر نہیں چھوڑا۔ملتان ٹیسٹ میں، جہاں دس دن کے وقفے میں ایک ہی پچ پر دو ٹیسٹ میچز کھیلے گئے، مقابلہ ہمیشہ اسپنرز کے لیے سازگار تھا، اور انگلش بیٹسمینوں کے لیے ایک ڈراؤنا خواب۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ساجد خان اور نعمان علی کی اسپن بولنگ کے علاوہ، پاکستان کے کسی بھی بولر نے کوئی خطرہ پیدا نہیں کیا۔ وہ ملک جو کبھی تیز گیند باز پیدا کرنے میں مشہور تھا، آج ایک ایسے حقیقی فاسٹ بولر کو میدان میں اتارنے میں مشکلات کا سامنا کر رہا ہے جو ایک باؤنسر کو سائیڈ اسکرین تک پہنچا سکے۔کرکٹ سے محبت کرنے والی قوم نے ایک خوبصورت فتح کا جشن منایا جس نے کھلاڑیوں کا مورال بلند کیا، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا راولپنڈی میں ہونے والے فیصلہ کن میچ میں پچ کیورٹر کا کردار اہم ہو گا؟. پاکستان نے بابر اعظم، شاہین آفریدی اور نسیم شاہ کو "آرام دینے” کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ میں پختہ طور پر کہتا ہوں کہ انہیں ان کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے ڈراپ کیا گیا ہے۔ اصل امتحان تیسرے ٹیسٹ اور آگے کے میچز میں ہو گا جہاں تمام وکٹیں دو اسپنرز نہیں لیں گے اور نہ ہی ہر پچ ملتان کی طرح اسپنرز کے لیے سازگار ہو گی۔اگرچہ پاکستان کے کیمپ میں کارکردگی کے مسائل اور کھلاڑیوں کے اختلافات موجود ہیں لیکن اس میں ایک مثبت بات عاقب جاوید کی بطور چیف سلیکٹر تقرری ہے۔ ان کی تقرری تازہ ہوا کا جھونکا ہے کیونکہ ان کا ریکارڈ صرف میرٹ کی بنیاد پر ناقابل سمجھوتہ انتخاب، اقربا پروری کے خلاف زیرو ٹالرنس، اور کوچنگ میں دو دہائیوں کا ثابت شدہ تجربہ ہے، چاہے وہ نچلی سطح کی ٹیمیں ہوں یا بین الاقوامی ٹیمیں۔آخر کار، ہم امید کر سکتے ہیں کہ پاکستان کی میرٹ پالیسی محفوظ ہاتھوں میں ہے، لیکن یہ کب تک قائم رہتی ہے، یہ دیکھنا باقی ہے۔