Baaghi TV

Tag: عالت

  • توشہ خانہ کیس،عدالت فیصلہ محفوظ نہیں کر رہی، لیکن دلائل سنے جائیں گے،جج ہمایوں دلاور

    توشہ خانہ کیس،عدالت فیصلہ محفوظ نہیں کر رہی، لیکن دلائل سنے جائیں گے،جج ہمایوں دلاور

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد ،چیرمین پی ٹی آئی کیخلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت ہوئی

    کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور نے کی ،وکیل الیکشن کمیشن سعد حسن عدالت میں پیش ہوئے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہائیکورٹ میں کیس چل رہا ہے ،وکیل امجد پرویز ہائیکورٹ میں ہیں وہ دلائل دیں گے،جج ہمایوں دلاور نے وکیل سعد حسن سے استفسارکیا کہ کیوں آپ کونسل نہیں ہیں،وکیل سعد حسن نے کہا کہ جی میں کونسل ہوں لیکن یہ ہمارا مشترکہ فیصلہ تھا کہ وکیل امجد پرویز کیس کے دلائل دیں گے،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ساڑھے بارہ تک وقفہ کر رہے ہیں دلائل دیں نہیں تو میں فیصلہ محفوظ کر لوں گا،وکیل سعد حسن نے کہا کہ اگر امجد پرویز صاحب آجاتے ہیں تو وہ کریں گے نہیں تو میں دلائل دوں گا،

    خواجہ حارث کے جونئیر وکیل عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ خواجہ حارث ہائیکورٹ میں مصروف ہیں 12:30 تک آئیں گے،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ساڑھے بارہ بجے تک آئیں دلائل دیں ورنہ فیصلہ محفوظ کر دیں گے،عدالت نے کیس کی سماعت میں ساڑھے بارہ بجے تک وقفہ کردیا

    توشہ خانہ کیس کی سماعت دوبارہ شروع ہوئی، جج نے استفسار کیا کہ کوئی ڈائریکشن کوئی اسٹے آرڈر ہے ؟ وکیل امجد پرویز نے کہا کہ کوئی اسٹے آرڈر نہیں صرف تین بجے ان کی ایک درخواست پر سماعت ہے۔عدالت نے الیکشن کمیشن کے وکیل حتمی دلائل کی ہدایت کردی ، الیکشن کمیشن کے وکیل نے دلائل کا آغاز کردیا

    جج ہمایوں دلاورنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت فیصلہ محفوظ نہیں کر رہی، لیکن دلائل سنے جائیں گے، عدالت نے وکیل امجد پرویز کو دلائل جاری رکھنے کی ہدایت کی، وکیل امجد پرویز چیئرمین پی ٹی آئی کی اثاثوں کی تفصیلات پڑھ رہے ہیں ،امجد پرویز نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی اور اہلیہ کے اثاثوں میں نہ تو کوئی گاڑی، نہ زیورات ڈکلیئر کیے گئے ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی کے 300 مرلہ کے گھر اور دیگر اثاثوں کی مالیت صرف 5 لاکھ لکھی گئی ہے،انہوں نے 4 بکریاں 2 لاکھ کی ڈکلیئر کی ہوئی ہیں، یہ تو ان کے ڈکلیئر اثاثوں کی تفصیلات کی صورتحال ہےان کے پاس نہ تو کوئی گاڑی، نہ جیولری ہے، باقی تمام گھروں، زمین، فرنیچر کی مالیت صرف 5 لاکھ روپے لکھی گئی ہے، انہوں نے کہا یہ کیس سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا ہے، توشہ خانہ تحائف سے زیادہ بڑی بات ان کے دیگر اثاثوں کی تفصیلات ہیں، ان کے پاس کوئی گاڑی نہیں، 3 سو کنال کے گھر میں چلنے کیلئے گاڑی چاہیے ہوتی ہے، 107 ملین کے توشہ خانہ تحائف ہیں جو اس کیس میں زیر بحث ہیں،توشہ خانہ تحائف انہوں نے بطور وزیر اعظم 25 فیصد قیمت پر حاصل کیے، استغاثہ کا کیس یہ ہے کہ یہ حاصل شدہ تحائف اثاثوں میں شمار ہوتے ہیں، انہوں نے 4 بکریاں تو ہر سال ڈیکلیئر کیں، گاڑیاں، جیولری، تحائف ڈیکلیئر نہ کیے،یہ تحائف حاصل کرنے کو مانتے ہیں، انکار نہیں کرتے،ان کا دفاع یہ ہے کہ انہوں نے تحائف 58 ملین روپے میں بیچ دیئے،ان کا دفاع ہے کہ انہوں نے تحائف بیچ دیئے اور 30 جون 2019 کو تحائف ان کے پاس نہیں تھے،اس لیے انہوں نے اپنے اثاثوں میں ڈیکلیئر نہیں کیے،انہیں یہ تفصیلات میں بتانا چاہیے تھا کہ انہوں نے تحائف 58 ملین روپے میں بیچے،107 ملین کے تحائف کو انہوں نے 58 ملین میں بیچ دیا،

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد ،چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف توشہ خانہ کیس وقفہ کے بعد دوبارہ شروع ہوئی،ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور نے پی ٹی آئی کی وکیل آمنہ علی کو روسٹرم پر بلا لیا ،جج ہمایوں دلاور نے وکیل آمنہ علی سے استفسارکیاکہ اسلام آباد ہائیکورٹ سے کیا اپڈیٹ ہے،وکیل پی ٹی آئی آمنہ علی نے کہا کہ دلائل مکمل ہو چکے ہیں فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے،چیف جسٹس نے ریمارکس دیے ہیں کہ فیصلہ ابھی سناتا ہوں،وکیل الیکشن کمیشن امجد پرویز نے لائٹر موڈ میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہائیکورٹ میں فیصلہ سننے کیلئے انتظار کیا جا رہا ہے یہاں 1 منٹ اوپر ہونے پر اعتراض اٹھایا جاتا ہے،جج ہمایوں دلاور نے کہا کہ ایسا کرتے ہیں کیس کو کل صبح 8:30 بجے کیلئے رکھ لیتے ہیں ،عدالت نے کیس کی سماعت کل صبح 8:30 تک ملتوی کر دی

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

  • والدین سے نہیں ملنا چاہتی،دعا زہرہ کا عدالت میں والد کے سامنے بیان

    والدین سے نہیں ملنا چاہتی،دعا زہرہ کا عدالت میں والد کے سامنے بیان

    والدین سے نہیں ملنا چاہتی،دعا زہرہ کا عدالت میں والد کے سامنے بیان
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شہر قائد کراچی سے لاپتہ ہونے والی دعا زہرہ کو عدالت میں پیش کر دیا گیا

    عدالت نے دعا زہرہ کی عمر کے تعین کے لئے میڈیکل کروانے کا حکم دے دیا، دعا نے عدالت میں کہا ہے کہ میری عمر 18 برس ہے، مجھے کسی نے بھی اغوا نہیں کیا میں اپنے شوہر ظہیر کے ساتھ ہی زندگی گزارنا چاہتی ہوں اور ساتھ رہنا چاہتی ہوں

    دوران سماعت وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ لڑکی کی عمر کم ہے اغوا کا مقدمہ درج کرایا ہوا ہے جس پر جسٹس جنید غفار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ابھی لڑکی بیان دے گی اوراغوا کا مقدمہ ختم ہو جائے گا عدالت نے دعا زہرہ سےحلف لینے کی ہدایت کی ،عدالت میں بیان دیتے ہوئے دعا زہرہ کا کہنا تھا کہ کہ میرا نام دعا زہرہ ہے والد کا نام مہدی کاظمی ہے عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کیعمرکیا ہے جس پر دعا زہرہ نے کہا کہ میری عمر18سال ہے،عدالت نے پھر سوال کیا کہ آپ کے والد نے مقدمہ درج کرایا ہے کہ ظہیر نے آپ کو اغوا کیا ہے جس پر دعازہرہ نے کہا کہ نہیں ظہیر نے مجھے اغوا نہیں کیا ظہیر کے ساتھ رہتی ہوں لیکن مکان کا نمبر معلوم نہیں ہے عدالت نے دوبارہ پوچھا کہ پولیس نے آپ کو کہاں سے بازیاب کرایا ہے جس پر دعازہرہ نے جواب دیا کہ مجھے پولیس نے چشتیاں سے بازیاب کرایا ہے میں ظہیر کے ساتھ جانا چاہتی ہوں

    جسٹس جنید عفار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بچی کی بازیابی سے متعلق درخواست تو غیر موثر ہو چکی ہے بچی ہمارے سامنے کھڑی ہے وہ خود کہہ رہی ہے کہ اغوا نہیں کیا گیا ،دعا زہرہ کے والد کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ دعا کے برتھ سرٹیفکیٹ میں تاریخ پیدائش 27 اپریل 2008 ہے جس کے مطابق لڑکی کی عمر 14 سال اور کچھ دن بنتی ہے جس پرعدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم لڑکی کی عمرکے تعین کیلئے میڈیکل ٹیسٹ کرنے کا حکم دے رہے ہیں ،جسٹس جنید نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے استفسار کیا کہ لاہور میں کیا کیس ہے جس پرایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ لاہور ہائیکورٹ میں لڑکے کے والدین نے ہراساں کرنے کی درخواست دائر کی ہے اس صوبے میں کوئی جرم نہیں ہوا شادی پنجاب میں ہوئی ہے بچی اپنی مرضی سے گئی ہے یہاں کوئی جرم نہیں ہوا پنجاب پولیس نے دعا اور ظہیر کو پیش کرنا ہے ،ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت سے درخواست کی کہ ظہیر کو ہماری حفاظتی تحویل میں دیا جائےجس پر عدالت نے کہا کہ ملزم ظہیر کی کسٹڈی سے کوئی تعلق نہیں ہے

    دعا زہرہ کے والد کے وکیل نے عدالت سے استدعا کیکہ 10 منٹ کیلئے دعا کو اپنے والدین سے ملنے دیا جائے جس پرعدالت نے دعا سے سوال کیا کہ کیا آپ اپنے والدین سے ملنا چاہتی ہیں ؟جس پر دعا زہرہ نے جواب دیا کہ میں اپنے والدین سے نہیں ملنا چاہتی۔عدالت نے قرار دیا کہ اگر لڑکی ملنا نہیں چاہتی تو ہم کیسے زبردستی کر سکتے ہیں والدین کھڑے ہیں پریشان ہیں لیکن ہم نے قانون کو دیکھنا ہے ،عدالت نے دعا زہرہ کی عمر کے تعین کیلئے 2روز میں طبی ٹیسٹ کرانے کا حکم دے دیا ،تفتیشی افسر کو حکم دیا کے لڑکی کی عمر کا تعین کیا جائے ،عدالت نے کیس کی مزید سماعت 8 جون تک ملتوی کر دی اس دوران دعا زہرہ ثناء شیلٹر ہوم میں رہیں گی

    دعا زہرہ کے اغوا کا معاملہ رواں سال 16 اپریل کو رپورٹ ہوا تھا تاہم بعد ازاں دعا زہرہ نے پنجاب میں ظہیر نامی لڑکے سے شادی کا اعتراف کیا تھا ویڈیو بیان میں دعا زہرہ نے کہا تھا کہ میں اپنی مرضی سے اپنے گھر سے آئی ہوں، میرے گھر والے زبردستی میری شادی کسی اور سے کرانا چاہ رہے تھے، وہ مجھے مارتے تھے، جس پر میں راضی نہیں ہوئی، اپنی مرضی سے آئی ہوں کسی نے اغوا نہیں کیا جب کہ گھر سے کوئی قیمتی سامان نہیں لائی-

    دعا زہرہ نہیں ملی بلکہ صرف نکاح نامہ ملا،پولیس

    میں کئی دن سے سوئی نہیں،دعا زہرا کی والدہ کا ویڈیو پیغام

     کراچی سے لاپتہ ہونے والی لڑکی دعا زہرہ کا ویڈیو بیان منظرعام پرآگیا

    دعا زہرہ نے نکاح کے بعد والد کے خلاف استغاثہ دائر کردیا۔

    دعا نے مزید کہا تھا کہ گھر والے میری عمر غلط بتارہے ہیں، میری عمر 18 سال ہے، اپنی مرضی سے ظہیر احمد سے کورٹ میرج کی ہے، کوئی زبردستی نہیں ہوئی لہٰذا مجھے تنگ نہ کیاجائے، اپنے گھر میں شوہر کے ساتھ بہت خوش ہوں دعا زہرہ نے اپنے شوہر کےحق میں بیان حلفی بھی دیا تھا ں اوربیان حلفی میں 17 اپریل کو ظہیراحمد سے نکاح کی تصدیق بھی کی تھی۔

    دعا زہرہ نے نکاح کے بعد والد کے خلاف استغاثہ دائر کردیا۔

    دعا زہرا کے نکاح نامے پر لکھے پتے پر کون مقیم ؟دعا گھر سے کیسے نکلی تھی

    نکاح نامے پر غلط پتہ،پولیس پھر دعا زہرہ تک کیسے پہنچی؟

    کراچی سے بھاگ کر شادی کرنیوالی دعا زہرا کو عدالت نے بھی بڑا حکم دے دیا

    کل کہیں گے افغانستان سے سگنل آرہے ہیں تو ہم کیا کرینگے؟ دعازہرہ کیس میں عدالت کے ریمارکس

  • حنیف عباسی کو بطور معاون خصوصی عدالت نے کام سے روک دیا

    حنیف عباسی کو بطور معاون خصوصی عدالت نے کام سے روک دیا

    حنیف عباسی کو بطور معاون خصوصی عدالت نے کام سے روک دیا
    اسلام آباد ہائیکورٹ میں شیخ رشید کی حنیف عباسی کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد عدالت میں پیش ہوئے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے درخواست پر سماعت کی، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ امید ہے حنیف عباسی آئندہ سماعت تک عوامی عہدہ استعمال نہیں کریں گے ،حنیف عباسی کو عوامی عہدہ رکھنے سے روک رہے ہیں جس پر حنیف عباسی کے وکیل احسن بھون کا کہنا تھا کہ معاون خصوصی بپلک آفس نہیں ہے کام سے نہ روکیں اگر ایسا حکم جاری کر دیا گیا تو یہ حتمی فیصلے جیسا ہی ہوگا

    جس پراسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سزایافتہ شخص پبلک آفس ہولڈ نہیں کر سکتا اگر بطور معاون حنیف عباسی نے وزیر اعظم کو کوئی مشورہ دینا ہے تو اس کیلئے انہیں کوئی نوٹیفکیشن کے ذریعے عہدہ لینے کی ضرورت نہیں وہ بغیر کسی نوٹیفکیشن یاعہدے کے بھی وزیر اعظم کو مشورہ دے سکتے ہیں عدالت نے 27مئی تک سماعت ملتوی کر دی

    واضح رہے کہ سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے حنیف عباسی کے خلاف درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرائی ،درخواست میں کہا گیا ہے کہ حنیف عباسی کے خلاف 2012 میں اینٹی نارکوٹکس فورس نے مقدمہ درج کیا، حنیف عباسی ایفی ڈرین کوٹہ کیس میں سزا یافتہ ہیں، حنیف عباسی کےخلاف ٹرائل کورٹ نے 21 جولائی 2018 کو سزا سنائی،لاہور ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کی سزا معطل کر رکھی ہے،مجرم ہونے کا فیصلہ ختم نہیں ہوا، سیکرٹری کابینہ بتائیں کس قانون کے تحت حنیف عباسی کواس عہدے پر تعینات کیا گیا، حنیف عباسی کو 27 اپریل 2022 کو وزیراعظم کا معاون خصوصی مقرر کیا گیا تھا درخواست میں وفاق کو بذریعہ سیکرٹری کابینہ اور حنیف عباسی کو فریق بنایا گیا ہے

    واضح رہے کہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد شہباز شریف وزیراعظم بن چکے ہیں، شہباز شریف نے اپنی کابینہ تشکیل دی ہے جس میں پیپلز پارٹی سمیت اتحادی جماعتوں کو نمائندگی دی گئی ہے، شہباز شریف نے حنیف عباسی کو معاون خصوصی مقرر کیا تھا

    آپ اتنا مت گھبرائیں،فارن فنڈنگ کیس میں عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    فارن فنڈنگ کیس،باہر سے پیسہ آیا ہے لیکن وہ ممنوعہ ذرائع سے نہیں آیا،پی ٹی آئی وکیل

    فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روزمیں کرنے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    فارن فنڈنگ کیس، فیصلہ 30 روز میں کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

  • اسلام آباد ہائی کورٹ سے پی ٹی آئی کو بڑا ریلیف مل گیا

    اسلام آباد ہائی کورٹ سے پی ٹی آئی کو بڑا ریلیف مل گیا

    اسلام آباد ہائی کورٹ سے پی ٹی آئی کو بڑا ریلیف مل گیا

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روز میں کرنے سے روک دیا عدالت نے سنگل بینچ کا تیس روز میں فیصلہ کرنے کا حکم معطل کر دیا عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرکے 17 مئی تک جواب طلب کر لیا

    فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روز میں کرنے کے عدالتی فیصلے کے خلاف انٹراکورٹ اپیل پر سماعت ہوئی اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل بینچ نے سماعت کی، اسلام آباد ہائی کورٹ میں الیکشن کمیشن کے کنڈکٹ کے خلاف پٹیشن کو یکجا کر کے سماعت کی گئی پی ٹی آئی کی جانب سے شاہ خاور ایڈووکیٹ اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوئے،وکیل شاہ خاور نے کہا کہ ہائیکورٹ کے سنگل بینچ کے فیصلے کے خلاف انٹراکورٹ اپیل دائر کی ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ تحریک انصاف نے کیا ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی؟ شاہ خاور نے کہا کہ اسکروٹنی کمیٹی نے کہا کہ اکبر ایس بابر کے دستاویزات قابل تصدیق نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانون کے مطابق الیکشن کمیشن ہر سال سیاسی جماعتوں کی ا سکروٹنی کریگا،الیکشن کمیشن کے پاس اختیار ہے کہ ممنوعہ فنڈنگ کو ضبط کر سکتا ہے ،قانون کے مطابق الیکشن کمیشن نے فنڈز کی سکروٹنی کرنی ہے اگر ممنوعہ فنڈنگ ثابت ہو جائے تو اس کو ضبط کرنا ہے، جب اسکروٹنی کمیٹی نے کہہ دیا کہ دستاویزات قابل تصدیق نہیں تو اب کیا کارروائی ہو رہی ہے؟ وکیل شاہ خاور نے کہا کہ الیکشن کمیشن اب خود ا سکروٹنی کر رہا ہے،ہم کہتے ہیں کہ اکبر ایس بابر کو اسکروٹنی کی کارروائی سے باہر نکال دیا جائے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی استدعا ہے کہ کسی تیسرے بندے کو اس میں شامل نہ کریں،یہ مناسب تو نہیں ہو گا کہ ہم الیکشن کمیشن کو یہ ہدایات جاری کریں،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ تحریک انصاف کی دوسری درخواست میں کیا استدعا ہے؟ شاہ خاور نے کہا کہ اس درخواست میں ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ امتیازی سلوک نہ ہو،عامر کیانی کی دیگر جماعتوں کے خلاف درخواست پر کارروائی سست روی کا شکار ہے،تحریک انصاف کو الگ کر کے ہمارے خلاف کارروائی آگے بڑھائی جا رہی ہے،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی پارٹیز آرڈر کے تحت تو کسی جماعت کو ایسی رعایت دینی ہی نہیں چاہیے، الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ہے، 30 روز میں فیصلے کا حکم معطل کر دیتے ہیں،

    عدالتی فیصلے کے بعد تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا تمام پارٹیوں کی فنڈنگ کا فیصلہ ایک ساتھ کرنے کا حکم بہترین فیصلہ ہے،اب آئے گا اونٹ پہاڑ کے نیچے، پتہ چلے گا کون کون پارٹی فنڈنگ کے نام پر بھتے لیتا رہا ن لیگ اورپیپلزپارٹی فنڈنگ کے نام پر کس طرح منی لانڈرنگ اور رشوت کا پیسہ اکاؤنٹ میں ڈالتے رہے ،تحریک انصاف کے رہنما فرح حبیب کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا روزانہ کی بنیاد پر پی ٹی آئی کا کیس سننے کا فیصلہ معطل کرنا خوش آئند ہے،اس حوالے سے سپریم کورٹ کا 2017 میں حنیف عباسی کیس کا واضح فیصلہ ہے،

    قبل ازیں پی ٹی آئی کا ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن کی مبینہ جانبداری کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی ،اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست پر سماعت کی ،پی ٹی آئی وکیل شاہ خاور ایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے کچھ اکاؤنٹس کی اسکروٹنی حتمی مرحلے میں ہے،فرخ حبیب نےن لیگ اور پیپلز پارٹی کے خلاف الیکشن کمیشن میں درخواست دے رکھی ہے،الیکشن کمیشن میں ان کا کیس سست روی کا شکار ہے، پی ٹی آئی کو باقی جماعتوں سے الگ کر کے ہمارے معاملات کواچھالا جاتاہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ الیکشن کمیشن سیاسی تعصب کا مظاہرہ کر رہا ہے؟یہی سوال انٹرا کورٹ اپیل میں نہیں اٹھایا گیا؟ وہ اپیل بھی آج لگی ہوئی ہے ، انٹراکورٹ اپیل کو ڈویژن بینچ سن رہا ہے اور آج ہی سماعت کے لیے مقرر ہے، عدالت نے پی ٹی آئی کی درخواست کو انٹرا کورٹ اپیل کے ساتھ یکجا کر کے آج ہی سماعت کرنے کا فیصلہ کر لیا

    درخواست میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کے خلاف کارروائی کرتے جانبداری کا مظاہرہ کر رہا ہے، الیکشن کمیشن 17 سیاسی جماعتوں کے اکاؤنٹس کی ا سکروٹنی سے انکاری ہے، الیکشن کمیشن کے رویے سے پی ٹی آئی متاثرہ پارٹی ہے،الیکشن کمیشن کو 17 سیاسی جماعتوں کے اکاؤنٹس کی چھان کا حکم دیا جائے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی جائے پی ٹی آئی کے ساتھ جانبدارانہ رویہ نہ رکھے

    تحریک انصاف کے رہنما اعظم سواتی کا کہنا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست جمع کروائی تھی، درخواست میں کہا ہے کہ کہ ہمارے اکاؤنٹس کی ا سکروٹنی ہوئی ہے، اگر پی ٹی آئی کی ا سکروٹنی کی جارہی ہے پھر دیگر جماعتوں کی بھی ہونی چاہیے الیکشن کمیشن دیگر جماعتوں کی طرح پی ٹی آئی کے ساتھ بھی ویسا رویہ رکھے ایک ہی قانون کے مطابق تمام جماعتوں کی اسکروٹنی کی جائے

    فارن فنڈنگ کیس،تحریک انصاف نے پھروقت مانگ لیا

    عمران خان ڈی چوک پر اپنا اعمال نامہ لے کر آئیں،مریم اورنگزیب

    تمام الزامات ثابت، کیوں استعفیٰ نہیں دیتے،اکبر ایس بابر کا وزیراعظم کو چیلنج

    فارن فنڈنگ کیس، تحریک انصاف کو دیا الیکشن کمیشن نے بڑا جھٹکا

    آپ اتنا مت گھبرائیں،فارن فنڈنگ کیس میں عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    فارن فنڈنگ کیس،باہر سے پیسہ آیا ہے لیکن وہ ممنوعہ ذرائع سے نہیں آیا،پی ٹی آئی وکیل

    فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روزمیں کرنے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    فارن فنڈنگ کیس، فیصلہ 30 روز میں کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

    فارن فنڈنگ کیس، تحریک انصاف نے ایک اور درخواست دائر کر دی

  • پرویز الہیٰ کی اندراج مقدمہ کی درخواست پر سماعت ملتوی

    پرویز الہیٰ کی اندراج مقدمہ کی درخواست پر سماعت ملتوی

    پرویز الہیٰ کی اندراج مقدمہ کی درخواست پر سماعت ملتوی

    سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی کی جانب سے ن لیگی رہنما حمزہ شہباز ، آئی جی پنجاب ، ایس ایس پی کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست پر سماعت سیشن کورٹ میں ہوئی ،

    سیشن کورٹ میں سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی کی نو منتخب وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز ، انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب، ایس ایس پی کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست پر سماعت ہوئی ۔ دالتی حکم پر ایس پی سول لائنز اور تھانہ قلعہ گجر سنگھ کے ایس ایچ او عدالت پیش ہوئے ۔ ایس پی سول لائنز نے عدالت میں کہا کہ پٹیشن کی کاپی اور عدالتی فیصلہ موصول نہیں ہوا ، جواب کیلئے موقع دیا جائے ۔

    سیشن کورٹ نے پولیس کو جواب داخل کرانے کا ایک موقع دیدیا جبکہ پرویز الٰہی کے وکیل نے پٹیشن کی کاپی ایس پی سول لائنز کو فراہم کی ۔ درخواست گزار کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پولیس کو پنجاب اسمبلی میں جھگڑے کے ذمہ داران کے خلاف اندراج مقدمہ کیلئے درخواست دی ہے ، پولیس نے جھگڑے میں ملوث افراد کے خلاف مقدمہ درج نہیں کیا۔سیشن کورٹ نے پولیس سے 29 اپریل کو جواب طلب کرلیا۔

    واضح رہے کہ پنجاب اسمبلی میں قائد ایوان کے انتخاب کے موقع پر ہنگامہ آرائی ہوئی تھی، پی ٹی آئی اراکین کی جانب سے ڈپٹی سپیکر پر تشدد کیا گیا تھا ،ڈپٹی سپیکر نے پولیس بلائی تو اراکین کی جانب سے پولیس اہلکاروں پر بھی تشدد کیا گیا تھا، اس دوران خواتین اراکین اسمبلی بھی پیچھے نہ رہیں اور انہوں نے پولیس اہلکاروں کے بال کھینچے، گردن سے پکڑا، راجہ یاسر بھی ایک ویڈیو میں نمایاں ہیں جو پولیس والوں کو دھکے دے رہے ہیں

    تین دفعہ شریفوں نے وعدے لئے جو کبھی پورے نہ ہوئے،پرویز الہیٰ پھٹ پڑے

    ہماری آفر پرویز الہیٰ نے مانی،دعا خیر کی پھر عمران کی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہو گئے،خواجہ آصف

    پنجاب اسمبلی میں دوبارہ جھگڑا ،پرویز الہیٰ بھی زخمی ہو گئے

    پنجاب اسمبلی اجلاس، تصادم کے بعد پی ٹی آئی کا بائیکاٹ

    زخمی ہونے کے بعد پرویز الہیٰ کی ہاتھ اٹھا کر بددعا، ویڈیو وائرل

    حکومت کے ہاتھ پاؤں پھول گئے، شہزاد اکبر کو کیوں نکالا؟

    عمران خان کے مشیر بیرون ملک روانہ

    میری جان سے زیادہ پاکستان کی آزادی ضروری ، فوری الیکشن چاہتے ہیں ، عمران خان

    کراچی جانے کیلئے عمران خان کو جہاز کس نے دیا؟ بحث چھڑ گئی

    این اے 33 ہنگو،ضمنی انتخابات، پولنگ جاری،سیکورٹی سخت

    پنجاب اسمبلی، ہنگامہ آرائی کا مقدمہ درج