Baaghi TV

Tag: عالمی ادارہ صحت

  • کورونا اب بھی ‘گلوبل ہیلتھ ایمرجنسی‘ ہے:احتیاط سب پر لازم ہے:عالمی ادارہ صحت

    کورونا اب بھی ‘گلوبل ہیلتھ ایمرجنسی‘ ہے:احتیاط سب پر لازم ہے:عالمی ادارہ صحت

    نیویارک:عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کورونا کے جلد ختم ہونے کے امکانات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تین سال قبل شروع ہونے والی وبا ابھی تک صحت کا عالمی مسئلہ بنی ہوئی ہے۔کورونا کے آغاز دسمبر 2019 میں چین سے ہوا تھا، جس کے بعد عالمی ادارہ صحت نے فروری 2020 میں کورونا کو ’گلوبل ہیلتھ ایمرجنسی‘ قرار دیا تھا۔

    بعد ازاں وبا میں تیزی کو دیکھتے ہوئے عالمی ادارہ صحت نے کورونا کو مارچ 2020 میں عالمی وبا قرار دیا تھا، جس کے بعد دنیا بھر میں اس سے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کیے گئے، لاک ڈاؤن نافذ کیے گئے، سفری پابندیاں عائد کی گئیں اور لوگوں کو گھروں تک محدود رہنے پر مجبور کیا گیا۔

    گزشتہ تین سال سے تاحال دنیا کے متعدد ممالک میں کورونا سے تحفظ کے لیے لاک ڈاؤن سمیت دیگر بعض پابندیاں نافذ ہیں مگر دنیا بھر کے لوگوں کا خیال ہے کہ اب کورونا ختم ہوچکا۔لیکن عالمی ادارہ صحت نے کورونا کے خاتمے کا سوچنے والے افراد پر واضح کیا ہےکہ کورونا تاحال عالمی ہنگامی صحت کا معاملہ بنا ہوا ہے۔

    خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق عالمی ادارہ صحت کی ’ایمرجنسی‘ کمیٹی نے واضح کیا کہ تاحال کورونا دنیا کے لیے چیلنج بنا ہوا ہے، اس کے ختم ہونے کے خیالات درست نہیں۔

    عالمی ادارہ صحت نے اعتراف کیا کہ حالیہ چند ہفتوں میں دنیا بھر میں کورونا کیسز میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے جب کہ اموات میں بھی نمایاں کمی ہوئی ہے لیکن یہ کہنا درست نہیں کہ کورونا ہیلتھ ایمرجنسی کا معاملہ نہیں رہا۔

    ادارے کے مطابق اگرچہ حالیہ دنوں میں کورونا سے ہونے والی اموات وبا کے آغاز سے لے کر اب تک کم ترین سطح پر آ چکی ہے لیکن اس باوجود اموات کی شرح دیگر وائرسز کے مقابلے میں زیادہ ہے۔عالمی ادارہ صحت کا کہنا تھا کہ دنیا کے بعض خطوں میں یہ سمجھا جا رہا ہے کہ کورونا ختم ہوچکا لیکن ایسا نہیں، یہ اب بھی گلوبل ہیلتھ ایمرجنسی بنا ہوا ہے۔

    خیال رہے کہ کورونا سے دسمبر 2019 سے 11 اکتوبر 2022 تک دنیا بھر میں 62 کروڑ 23 لاکھ 89 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوچکے تھے، جس میں 65 لاکھ 48 ہزار بیماری کے باعث ہلاک ہوچکے تھے۔

  • منکی پاکس وبا بھارت بھی پہنچ گئی،پہلا کیس رپورٹ

    منکی پاکس وبا بھارت بھی پہنچ گئی،پہلا کیس رپورٹ

    منکی پاکس وبا بھارت بھی پہنچ گئی۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت میں پہلا منکی پاکس کیس رپورٹ ہو گیا۔نئی دہلی کے 31 سالہ رہائشی منکی پاکس سے متاثر ہوئے متاثرہ شخص کی غیر ملکی ٹریول ہسٹری بھی نہیں ہے۔منکی پاکس سے متاثرہ شخص کو اسپتال داخل کرلیا گیاہے۔

    اس سے قبل 74 ممالک میں منکی پاکس کے 16 ہزار سے زیادہ کیس رپورٹ ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب عالمی ادارہ صحت نے منکی پاکس کو عالمی ایمرجنسی بھی قرار دے دیا ہے۔

    ڈبلیو ایچ او کے مطابق منکی پاکس کی وبا ایک ’’غیرمعمولی واقعہ‘‘ ہے اور یہ مزید ممالک میں پھیل سکتی ہے۔اس سے نمٹنے کے لیے مربوط عالمی ردعمل کی ضرورت ہے۔

    امریکا کے سنٹرفار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے مطابق مئی سے اب تک 74 ممالک میں منکی پاکس کے 16 ہزار سے زیادہ کیس رپورٹ ہو چکے ہیں۔البتہ اب تک صرف براعظم افریقا میں منکی پاکس سے اموات کی اطلاع ملی ہیں جہاں اس وائرس کی زیادہ خطرناک قسم پھیل رہی ہے۔

    ڈبلیوایچ او کے منکی پاکس کے سرکردہ ماہر ڈاکٹر روزمنڈ لیوس کا کہنا تھاکہ افریقا کے علاوہ دوسرے ممالک میں منکی پاکس کے تمام متاثرہ کیسوں میں سے 99 فی صد مرد تھے اور ان میں 98 فی صد ہم جنس پرست مرد شامل تھے۔

    واضح رہے کہ افریقا میں منکی پاکس بنیادی طور پر چوہوں جیسے متاثرہ جنگلی جانوروں سے لوگوں میں پھیلتا ہے۔اس نے ماضی میں کبھی وبائی شکل اختیار نہیں کی اور نہ یہ کسی متاثرہ ملک سے سرحدپارپھیلی ہے تاہم یورپ، شمالی امریکااور دیگر جگہوں پرمنکی پاکس کا وائرس ان لوگوں میں بھی پھیل رہا ہے جن کا جانوروں سے کوئی تعلق نہیں یا جنھوں نے حال ہی میں افریقا کا سفر بھی نہیں کیا ہے۔

  • کورونا وبا پھرسراُٹھا رہی ہے:عالمی ادارۂ صحت

    کورونا وبا پھرسراُٹھا رہی ہے:عالمی ادارۂ صحت

    وائٹ ہاوس : کورونا وبا پھرسراُٹھا رہی ہے:اطلاعات کے مطابق عالمی ادارۂ صحت نے خبردار کیا ہے کہ کورونا کی وبا کا خاتمہ ابھی قریب نہیں ہے۔

    عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ٹیدروس نے کہا کہ دنیا بھر میں بڑھتے کورونا کیسز کی لہر اس بات کا ثبوت ہے کہ کووڈ نائنٹین کی وبا کا خاتمہ قریب نہیں ہے۔

    اُدھر وائٹ ہاؤس نے کورونا کے نئے ویریئنٹ بی اے 5 سے نمٹنے کیلیے بوسٹر ڈوز دینے اور چانج کروانے کی نئی مہم شروع کرنے کا اعلان کردیا۔

    چین میں کورونا کیسز سامنے آنے پر شہر "وگانگ” میں تین دن کا لاک ڈاؤن لگا دیا گیا ہے۔ صرف ایمرجنسی کی صورت میں لوگوں کو گھر سے نکلنے کی اجازت ہوگی۔

    پاکستان اور ہندوستان میں بھی ایک بار پھر کورونا وائرس کے مثبت کیسز میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان میں کورونا وائرس کے مثبت کیسز کی شرح 5 فیصد سے تجاوز کرگئی جبکہ ہندوستان میں کورونا وائرس وبا کے بڑھتے ہوئے معاملات کے درمیان 330 فعال معاملے بڑھ کر ایک لاکھ 31 ہزار 43 ہو گئے ہیں۔

    ادھر پاکستان میں ملک بھر میں کورونا کے وار جاری ہیں، مثبت کیسز کی شرح 1.55 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔این آئی ایچ کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران 15 ہزار 191 ٹیسٹ کئے گئے، 236 مثبت کیسز ریکارڈ کئے گئے۔

    قومی ادارہ صحت کے مطابق 152 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے، ملک میں کورونا مثبت کیسزکی شرح 1.55 فیصد رہی۔

  • 110 سے زائد ممالک مین کورونا پھرتیزی سے پھیلنے لگا ہے:سخت احتیاط کی ضرورت ہے:عالمی ادارہ صحت

    110 سے زائد ممالک مین کورونا پھرتیزی سے پھیلنے لگا ہے:سخت احتیاط کی ضرورت ہے:عالمی ادارہ صحت

    نیویارک:دنیا میں کورونا وائرس نے مختلف شکلوں کی صورت میں پھرسراٹھا لیا ہے ، اسی سلسلے میں خبردار کرتےہوئے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ 110 ممالک میں COVID-19 کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے، جو وائرس کی BA.4 اور BA.5 مختلف شکلوں سے چل رہے ہیں۔

    ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل، ڈاکٹر ٹیڈروس گیبریئس نے جنیوا میں ایجنسی کے ہیڈ کوارٹر میں اس کا انکشاف کیا، یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ مختلف حالتوں میں مجموعی طور پر 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔دنیا کے چھ میں سے تین خطوں میں اموات کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

    انہوں نے صحافیوں کو اپنی ہفتہ وار بریفنگ میں اس بات پر زور دیا کہ عالمی شخصیت مجموعی طور پر "نسبتاً مستحکم” ہے، لیکن کسی کو بھی اس وہم میں نہیں رہنا چاہیے کہ کورونا وائرس ختم ہونے والا ہے۔”یہ وبائی بیماری بدل رہی ہے لیکن یہ ختم نہیں ہوئی ہے۔ ہم نے ترقی کی ہے لیکن یہ ختم نہیں ہوا ہے۔”

    ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے کہا کہ "صرف حکومتوں، بین الاقوامی ایجنسیوں اور پرائیویٹ سیکٹر کے ٹھوس اقدامات سے ہی ہم بدلتے ہوئے چیلنجوں کو حل کر سکتے ہیں۔”انہوں نے متنبہ کیا کہ وائرس کو ٹریک کرنے کی ہماری صلاحیت خطرے میں ہے کیونکہ رپورٹنگ اور جینومک سیکونسز کم ہو رہے ہیں۔

    تمام ممالک کے لیے اپنی کم از کم 70 فیصد آبادی کو ویکسین پلانے کے لیے پرامید سال کی آخری تاریخ کا امکان کم نظر آرہا ہے، کم آمدنی والے ممالک میں اوسط شرح 13 فیصد ہے۔ گزشتہ 18 مہینوں میں، دنیا بھر میں 12 بلین سے زیادہ ویکسین تقسیم کی جا چکی ہیں، اور دنیا کے 75 فیصد ہیلتھ ورکرز اور 60 سال سے زائد عمر کے افراد کو اب ویکسین لگائی جا چکی ہے۔

    انہوں نے تمام خطرے والے گروپوں سے مطالبہ کیا کہ جلد از جلد ویکسین لگائی جائے اور ان کی حوصلہ افزائی کی جائے۔”عام آبادی کے لیے، قوت مدافعت کی اس دیوار کو مضبوط بناتے رہنا بھی سمجھ میں آتا ہے، جس سے بیماری کی شدت کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے اور طویل یا بعد میں کووِڈ کی حالت کا خطرہ کم ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ 70 فیصد کوریج کا ہدف اب بھی مطلوبہ ہے، اس اصول کی بنیاد پر کہ اگر ہم ویکسین کو مساوی طور پر شیئر نہیں کرتے ہیں، تو ہم اس فلسفے کو کم کرتے ہیں کہ تمام زندگیاں برابر ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ایجنسی کے سولیڈیریٹی ٹرائلز کے ذریعے نئی ویکسین کی عالمی سطح پر آزمائشیں ہو سکتی ہیں تاکہ ان کی حفاظت اور افادیت کو تیزی سے قائم کیا جا سکے۔”اب وقت آ گیا ہے کہ سرکاری محکمہ صحت کے لیے ٹیسٹ اور اینٹی وائرل کو کلینکل کیئر میں ضم کریں، تاکہ جو لوگ بیمار ہیں ان کا جلد علاج کیا جا سکے۔

  • منکی پاکس کاخطرہ موجود،احتیاط سب پرلازم:لیکن گھبرانا نہیں:عالمی ادارہ صحت

    منکی پاکس کاخطرہ موجود،احتیاط سب پرلازم:لیکن گھبرانا نہیں:عالمی ادارہ صحت

    نیویارک:منکی پاکس کےخطرے سےنمٹنےکےلئےاس وقت کوششوں کی ضرورت ہے:لیکن گھبرانا نہیں:اطلاعات کے مطابق عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے برائے بین الاقوامی صحت کے ضوابط (آئی ایچ آر) کی ہنگامی کمیٹی نے کہا ہے کہ موجودہ منکی پاکس کے خطرے سے نمٹنے کے لئے اس وقت کوششوں کی ضرورت ہے لیکن عالمی صحت کی ہنگامی حالت کے اعلان کی ضرورت نہیں ہے۔

    ڈبلیو ایچ او کی طرف سے جاری بیان کے مطابق کچھ اراکین نے الگ الگ خیالات کا اظہار کیا تھا اور آئی ایچ آر کی ہنگامی میٹنگ میں کچھ اراکین نے وسیع آبادی میں منکی پاکس وائرس کے اور پھیلنے کے خطرے کی وارننگ دی تھی۔

    جاری کئے جانے والے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں منکی پاکس سے آلودہ لوگوں کی سب سے بڑی تعداد برطانیہ میں پائی جاتی ہے۔ برطانیہ میں منکی پاکس کے سات سو ترانوے معاملات سامنے آچکے ہیں جبکہ برطانیہ کے بعد اسپین، جرمنی، پرتگال، فرانس، کینڈا، امریکہ اور ہالینڈ میں منکی پاکس کے زیادہ مریض پائے جاتے ہیں۔

    برطانیہ کا دارالحکومت لندن، دنیا کا سب سے زیادہ منکی پاکس سے آلودہ شہر ہے۔برطانیہ کے بعض طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں ہمجنس پرستی کے نتیجے میں منکی پاکس سے آلودہ لوگوں کی تعداد اس تعداد سے کہیں زیادہ ہے کہ جس کا اعلان کیا گیا ہے۔

  • پاکستان میں کورونا اموات تصدیق شدہ ہیں، وزارت صحت نے عالمی ادارے کوکھری کھری سنادیں

    پاکستان میں کورونا اموات تصدیق شدہ ہیں، وزارت صحت نے عالمی ادارے کوکھری کھری سنادیں

    اسلام آباد:پاکستان میں کورونا اموات تصدیق شدہ ہیں، وزارت صحت نے عالمی ادارے کوکھری کھری سنادیں،اطلاعات کے مطابق عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی رپورٹ کے رد عمل میں قومی وزارت صحت نے واضح کیا ہے کہ پاکستان میں کورونا سے ہونے والی اموات تصدیق شدہ اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہیں اور اضافی اموات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

    قومی ادارہ صحت نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ کورونا اموات سے متعلق کسی طرح کا سسٹم اور نظام درست ہو ہی نہیں سکتا، تاہم پاکستان کا نظام قدرے معیاری اور مستند تھا۔

    بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان میں کورونا سے ہونے والی ہر موت کو پہلے ضلعی، پھر صوبائی سطح پر تصدیق کیا گیا جب کہ قبرستانوں سے بھی ریکارڈ حاصل کیا گیا۔

    قومی ادارہ صحت کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کورونا سے ہونے والی اموات حکومت کے بتائے گئے اور تصدیق کیے گئے اعداد و شمار جتنی یا اس کے قریب ترین ہیں، اضافی اموات کا امکان نہیں۔

    بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کورونا کے دوران پاکستان میں اموات کی شرح میں اضافہ ہوا اور کیسز میں بھی نمایاں تیزی دیکھی گئی مگر کورونا سے نمٹنے کے لیے پاکستانی کوششوں کو عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا۔

    بیان کے مطابق پاکستان میں اموات کی رپورٹنگ کے لئے با قاعدہ نگرانی کے متعدد نظام موجود ہیں، معاون ڈیٹا کے ساتھ رپورٹ کردہ ہر نمبر کا موثر اور قابل اعتماد میکانزم کے ساتھ بیک اپ لیا گیا، اس کی ضلعی اور صوبائی سطح سے بھی تصدیق کی گئی۔

    ساتھ ہی بیان میں واضح کیا گیا کہ قبرستانوں میں رپورٹ ہونے والی اضافی اموات کورونا سے ملتی جلتی ہو سکتی ہیں تاہم ان کی تعداد حکومتی اعداد و شمار سے مختلف نہیں۔

    وزارت صحت کے اعلامیہ کے مطابق پاکستان 97 فیصد مسلم آبادی پر مشتمل ہے، جہاں کورونا کے باعث جاں بحق افراد کی اکثریت کی مخصوص قبرستانوں یا قبروں میں تدفین کی گئی، جس کا باقاعدہ ریکارڈ موجود ہے۔

    وزارت صحت کے بیان سے قبل عالمی ادارہ صحت نے 5 مئی کو اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ اندازوں کے مطابق دنیا بھر میں کورونا سے بلواسطہ یا بلاواسطہ 62 لاکھ نہیں بلکہ ڈیڑھ کروڑ اموات ہوئیں۔

    رپورٹ میں دنیا بھر کے ممالک میں ہونے والی ممکنہ اموات کا ڈیٹا دیا گیا تھا اور بتایا گیا تھا کہ امریکا اور بھارت سمیت کئی ممالک نے کورونا سے ہونے والی اموات کو کم کرکے بتایا۔

    رپورٹ میں کئی ممالک کے حوالے سے اندازوں کے مطابق ڈیٹا فراہم کیا گیا تھا، جس کے مطابق پاکستان میں حکومتی سطح پر تسلیم شدہ اموات سے 8 گنا زیادہ اموات ہوئیں، جنہیں ممکنہ طور پر ظاہر ہی نہیں کیا گیا مگر حکومت کے مطابق پاکستان میں کورونا اموات کی حکومتی تعداد درست ہے۔

    پاکستان میں حکومتی اعداد و شمار کے مطابق کورونا کے آغاز سے 7 مئی کی شام تک ملک بھر میں اموات کی تعداد 30 ہزار 369 تھی۔

  • بھارت میں کورونا سے47 لاکھ افراد ہلاک ہوئے، عالمی ادارہ صحت

    بھارت میں کورونا سے47 لاکھ افراد ہلاک ہوئے، عالمی ادارہ صحت

    نئی دہلی :بھارت میں کورونا سے47 لاکھ افراد ہلاک ہوئے،اطلاعات کے مطابق عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کے نئے اعدادو شمار جاری کردیے۔

    عالمی ادارہ صحت کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں کورونا وائرس کے نتیجے میں اندراج کردہ اموات سے 3 گنا زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔

    اقوام متحدہ کے ادارے نے جمعرات کو کہا کہ 2021 کے آخر تک کورونا سے ایک کروڑ 49 لاکھ سے زائد اموات ہوئیں جبکہ جنوری 2020 سے دسمبر 2021 کے آخر تک اس عرصے میں کورونا سے ڈبلیو ایچ او کو رپورٹ کی جانے والی اموات کی سرکاری تعداد تقریباً 54 لاکھ تھی۔

    عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ یہ تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ کچھ ممالک میں اموات کا صحیح طریقے سے اندراج نہیں کیا گیا۔ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اب تک جن اموات کو شمار نہیں کیا گیا ان میں سے تقریباً نصف بھارت میں تھیں۔

    عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ وبائی امراض کے نتیجے میں بھارت میں 47 لاکھ افراد کی موت ہوئی۔رپورٹ کے مطابق اموات کے اصل اعداد و شمار بھارتی حکومت کے بتائے ہوئے اعداد و شمار سے دس گنا زائد ہے۔

    دوسری جانب بھارتی حکومت نے کورونا سے اموات پر دیے گئے ڈبلیو ایچ او کے اعداد و شمار مسترد کردیے۔بھارت کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کووڈ 19 سے اموات پونے پانچ لاکھ ہوئی ہیں۔

  • کورونا وائرس کا شاید اب کبھی بھی خاتمہ نہ ہو،عالمی ادارہ صحت

    کورونا وائرس کا شاید اب کبھی بھی خاتمہ نہ ہو،عالمی ادارہ صحت

    عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کورونا وائرس کا شاید اب کبھی بھی خاتمہ نہ ہو –

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ورلڈ اکنامک فورم کے آن لائن ڈیوس ایجنڈا 2022 کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی ادارہ صحت میں ایمرجنسیز پروگرام کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر مائیکل ریان نے کہا کہ فوری طور پر ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ اقدامات اٹھائے جائیں جن کی وجہ سے اس کے شرح پھیلاؤ میں کمی آئے۔

    2022 میں کورونا وبا کا خاتمہ ہونے کی توقع ہے ،سربراہ ڈبلیو ایچ او

    انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ کورونا وائرس کا شاید اب کبھی بھی خاتمہ نہ ہو اور یہ ہمیشہ انسانی معاشرے میں موجود رہے لیکن ساتھ ہی امکان ظاہر کیا ہے کہ کورونا کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتوں کے سبب اسپتالوں میں عائد کی جانے والی ہنگامی صورتحال کا سال رواں میں خاتمہ ہو سکتا ہے۔

    مائیکل ریان نے واضح کیا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو کم کرنے کا واحد مؤثر طریقہ کار ویکسینیشن کرانا اور جاری کردہ ایس او پیز پر عمل درآمد میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر آئندہ مستقبل میں کورونا مستقل بنیادوں پر انسانی معاشرے میں رہتا بھی ہے تو وہ اس قدر مہلک و خطرناک ثابت نہیں ہو گا جتنا اپنے ابتدائی دور میں تھا کورونا کے تیز پھیلاؤ کی وجہ سے بھی انسانوں میں قوت مدافعت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

    بل گیٹس کی کورونا وبا سے متعلق نئی پیشگوئی

    واضح رہے کہ اس سے قبل لمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئس نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا تھا کہ 2022 میں کورونا کی وبا ختم ہونے کی توقع ہے کیونکہ دنیا کے پاس اب وبا پرقابو پانے کے لئے آلات موجود ہیں۔

    ٹیڈروس کا کہنا تھا کہ جب تک عدم مساوات برقراررہے گی اس وقت تک وبا بھی جاری رہے گی افریقہ میں طبی عملے کی بھی مکمل ویکسین نہیں ہوئی جبکہ یورپ میں عوام کو بوسٹرخوراک لگائی جارہی ہے عدم مساوات کی وجہ سے ویرینٹ کے پھیلنے کا زیادہ امکان ہوتا ہے عدم مساوات ختم ہوگی تو وبا بھی ختم ہوجائے گی اوریہ ڈراؤنا خواب بھی جس میں ہم اب جی رہے ہیں-

    قبل ازیں مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس نے بھی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا تھا کہ کورونا کی قسم اومی کرون کی لہر ختم ہونے کے بعد آئندہ سال تک کووڈ کے بہت کم کیسز دیکھنے میں آئیں گے۔

    کورونا کی نئی قسم کا خوف،چین میں 5 لاکھ سے زائد افراد قرنطینہ

    عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ’ٹوئٹر‘ پر سوال جواب کے سیشن کے دوران جب ان سے پوچھا گیا تھا کہ کورونا وائرس کی وبا کب اور کیسے ختم ہوگی؟ تو بل گیٹس نے کہا تھا کہ اومی کرون کی لہر سے دنیا بھر کے ممالک کے طبی نظام کو چیلنج کا سامنا ہے۔

    انہوں نے کہا تھا کہ اس سے بہت زیادہ بیمار ہونے والے زیادہ تر افراد وہ ہیں جن کی ویکسی نیشن نہیں ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک مرتبہ جب اومی کرون کی لہر ختم ہوگی تو باقی سال میں ہم کووڈ کے بہت کم کیسز دیکھیں گے اور یہ بیماری سیزنل فلو(موسمی بخار) جیسی ہوجائے گی۔

    وزیراعظم کی ہدایت پر حکومت کا بڑا فیصلہ: بوسٹر ڈوز میں ایک اور ویکسین کا اضافہ

    ایک سوال کے جواب میں مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس کا کہنا تھا کہ موجودہ ویکسینز سے بیماری کی سنگین شدت اور اموات کی شرح کی روک تھام میں کامیابی ملی ہے لیکن اب بھی موجودہ ویکسینز دو بنیادی عناصر سے محروم ہیں اول یہ کہ ویکسینز کے استعمال کے بعد بھی بیماری کا سامنا ہوسکتا ہے اور دوئم یہ کہ ہمیں ان کے اثر کا دورانیہ بھی محدود نظر آتا ہےتاہم ہمیں ایسی ویکسینز کی ضرورت ہے جو دوباری بیماری کی روک تھام آئندہ کئی برسوں تک مؤثر طریقے سے کرسکیں۔

  • اگرکچھ نہ کیا تو دنیا کی ایک چوتھائی آبادی کی آنکھیں جواب دے جائیں گی: عالمی ادارہ صحت کی پھروارننگ

    اگرکچھ نہ کیا تو دنیا کی ایک چوتھائی آبادی کی آنکھیں جواب دے جائیں گی: عالمی ادارہ صحت کی پھروارننگ

    نیویارک :عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق پوری دنیا میں اس وقت 2.2 ارب سے زیادہ افراد آنکھوں کی بیماریوں میں مبتلا ہیں جبکہ ترقی پذیر ممالک میں ان کی تعداد، ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں چار گنا زیادہ ہے۔ متاثرہ افراد میں سے 50 فیصد کا مرض قابل علاج ہے۔

    اگر مناسب اقدامات نہ کیے گئے تو پوری دنیا میں نابینا افراد کی تعداد 2050 تک 11 کروڑ 50 لاکھ کا ہندسہ عبور کرسکتی ہے جو موجودہ تعداد کے مقابلے میں تقریباً تین گنا ہوگی۔ اس کے سالانہ نقصان کا تخمینہ 410.7 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔

    جبکہ پاکستان میں 20 لاکھ سے زائد افراد بینائی سے محروم ہیں۔

    اگرکچھ نہ کیا تو دنیا کی ایک چوتھائی آبادی کی آنکھیں جواب دے جائیں گی: عالمی ادارہ صحت کی وارننگ،اطلاعات کے مطابق عالمی ادارہ صحت ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ اگرآنکھوں کی بیماروں سے متعلق احتیاط نہ برتی گئی تودنیا کی چوتھائی آبادی آنکھوں کے خطرناک امراض کی شکار ہوجائے گی جس کا نتیجہ خطرناک نکل سکتا ہے

    عالی ادارہ صحت کے مطابق ان میں سے نصف کیسز، یا ایک ارب کے قریب کیسز، روکے جا سکتے ہیں کیونکہ انہیں محض لاپرواہی (یا آگاہی کی کمی) کی وجہ سے نظر انداز کیا گیا تھا۔ڈبلیو ایچ او کی اس رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے نابینا پن یا بینائی سے محرومی کے کیسز میں ڈرامائی اضافہ ہو سکتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق دنیا میں تقریباً 1.8 بلین لوگ پری بائیوپیا کا شکار ہیں۔ اس بیماری میں لوگ آس پاس کی چیزیں نہیں دیکھ پاتے۔ یہ بیماری بڑھتی عمر کے ساتھ آتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ میوپیا (ایک بیماری جس میں لوگ دور کی چیزوں کو نہیں دیکھ سکتے) دنیا میں 2.6 بلین لوگوں میں موجود ہے۔اس میں سے 312 کروڑ مریض 19 سال سے کم عمر کے ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا میں موتیا کے مریضوں کی تعداد 65 ملین اور گلوکوما کے مریضوں کی تعداد تقریباً 7 ملین ہے۔

    اگرچہ دنیا میں ٹریکوما کے مریضوں کی تعداد 20 لاکھ ہے اور یہ بیکٹیریل انفیکشن کی وجہ سے ہوتا ہے ۔ بصارت کی خرابی سے جڑا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ معیار زندگی کو متاثر کرتا ہے۔ اس کا اثر زیادہ ترمعمرافراد پر پڑتا ہے۔نابینا پن نہ صرف معاشی انحصار کو بڑھاتا ہے اور پیداواری صلاحیت کو کم کرتا ہے بلکہ یہ معیشت کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی دستاویز میں لکھا گیا ہے کہ بصارت کے نقصان اور علاج نہ کیے جانے والے مایوپیا سے عالمی معیشت کو 244 بلین ڈالر اور پریس بائیوپیا کو 25.4 بلین ڈالر کی پیداواری نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

    اس رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ بصارت کی کمزوریوں کے کیسز زیادہ آمدنی والے طبقے کی نسبت کم اور درمیانی آمدنی والے طبقے میں زیادہ ہیں۔ دنیا کے کل بصارت سے محروم افراد (217 ملین) میں سے 62 فیصد صرف ایشیا میں ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر جنوبی ایشیا، مشرقی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا میں ہیں۔

    عالمی ادارہ صحت نے واضح طور پر کہا ہے کہ ان کا مرد یا عورت ہونے کے درمیان کوئی براہ راست تعلق نہیں ہے۔ لیکن رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موتیا بند اور trachomatous بیماریاں خواتین میں زیادہ پائی جاتی ہیں اور یہ بیماری کم اور درمیانی آمدنی والے گروپوں میں زیادہ دیکھی جاتی ہے۔اس معاملے میں دیہی اور شہری فرق بھی ہے۔ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ ملک کے دیہی علاقوں میں موتیا بند کے زیادہ کیسز ہیں اور ان کے آپریشن کی کوریج بھی کم ہے۔

    یاد رہے کہ بڑھتی عمر کے ساتھ، آنکھوں کی مناسب دیکھ بھال انتہائی ضروری ہے،یہ بھی یاد رہےکہ انہیں حقائق کی حساسیت سے متعلق ڈبلیو ایچ او نے دو سال قبل اپنی پہلی ورلڈ ویژن رپورٹ میں متنبہ کیا تھا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی آبادی کا مطلب نابیناپن میں بے اضافہ ہونا ہے۔اب تازہ رپورٹ میں عالمی ادارہ صحت نے خبردارکرتے ہوئے عالمی قوتوں کواس پرفی الفور کام کرنے پر زور دیا ہے ،

  • کورونا وائرس کی نئی قسم "اومی کرون”،آئی سی سی کی ویمن ٹیموں کو دبئی پہنچانے کیلئے کوششیں تیز

    کورونا وائرس کی نئی قسم "اومی کرون”،آئی سی سی کی ویمن ٹیموں کو دبئی پہنچانے کیلئے کوششیں تیز

    عالمی ادارہ صحت نے جنوبی افریقہ میں پائے گئے کورونا وائرس کے نئے ویرینٹ کو ’اومی کرون‘ کا نام دے دیا ہے-

    باغی ٹی وی :غیر ملکی میڈیا کے مطابق وائرس کے نئے قسم کے پھیلاؤ کے خدشات کے پیش نظر مختلف ممالک نے افریکی ملکوں سے آنے والی پروازوں پر پابندی عائد کردی ہے۔

    دبئی سے کورونا کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ یو اے ای نے افریقی ملکوں سے آنے والی پروازوں پر پابندی لگادی ہے۔

    بیان کے مطابق کورونا کی نئی قسم کے باعث جنوبی افریقا، زمبابوے، موزمبیق اور نمیبیا سمیت دیگر ملکوں پر پابندی لگائی گئی، 29 نومبر سے افریقی ملکوں سے آنے والوں کو دبئی میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔

    غیرملکی میڈیا کے مطابق کورونا کی نئی قسم ’’اومی کرون‘‘کے پھیلاؤ کا خدشہ پیدا ہونے کے بعد فرانس نے افریقی ملکوں کے لیے فضائی سروس 48 گھنٹوں کے لیے معطل کردی ہے۔

    علاوہ ازیں روس نے بھی افریقی ملک ہانگ کانگ کےخلاف سفری پابندیوں کا اعلان کردیا ہے روس میں ہانگ کانگ سے آنے والے غیرملکیوں پر پابندی کا اطلاق کل سے ہوگا روسی حکام کا کہنا ہے کہ روس میں کورونا کی نئی قسم ’’اومی کرون‘‘ کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔

    جبکہ بھارت کی مرکزی وزارت صحت نے تمام ریاستوں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ ان تین ممالک کا سفر کرنیوالے مسافروں پر نظر رکھیں اور انکے ٹیسٹ کروائیں، بھارتی سیکرٹری صحت نے ریاستوں کو خط لکھا ہے اور کہا ہے کہ کرونا کی نئی قسم سامنے آچکی ہے اسلئے انٹرنیشنل سفر کرنیوالے مسافروں کے کرونا ٹیسٹ لازمی کروائیں ، جو افراد ان ممالک کا سفر کر چکے انکا پتہ لگایا جائے اور انکے ٹیسٹ کروائے جائیں-

    یورپ میں کورونا کا قہر جاری:آسٹریا میں لاک ڈاون میں اضافہ:شہری سڑکوں پرنکل آئے

    برطانیہ نے بھی چھ افریقی ممالک سے آنے والی پروازوں پر پابندی لگا دی ہے برطانیہ کے سیکریٹری صحت ساجد جاوید نے اپنے بیان میں کہا کہ جمعہ کی دوپہر 12 بجے (جی ایم ٹی) سے چھ ممالک کو ریڈ لسٹ میں شامل کیا جائے گا اور یہاں سے تمام پروازوں پر عارضی طور پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔برطانیہ نے جنوبی افریقہ، نمیبیا، زمبابوے، بوٹسوانا، لیسوتھو اور ایسواتینی جانے والی تمام پروازیں معطل کر دی ہیں۔

    دوسری جانب ’اومی کرون‘ سامنے آنے کے بعد آئی سی سی نے ویمن ورلڈکپ کوالیفائرز زمبابوے سے باہر لےجانے پر غور شروع کردیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق یو اے ای کی جانب سے پروازیں معطل ہونے پر کرکٹ حکام پریشانی میں مبتلا ہوگئے ہیں، 29 نومبر کو پابندی کے اطلاق سے قبل ٹیموں کو دبئی لانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

    ذہنی امراض میں مبتلا افراد کے کورونا کا شکار ہونے کے امکانات زیادہ "بوسٹر ڈوز” ضروری

    ذرائع کا کہنا ہے کہ زمبابوے میں جاری ویمن ورلڈکپ کوالیفائرز کے بقیہ میچز دبئی میں ہوسکتے ہیں،۔

    رپورٹس کے مطابق اس وقت پاکستان سمیت 9 ملکوں کی خواتین ٹیمیں زمبابوے میں موجود ہیں، قومی ویمن ٹیم کی زمبابوے موجودگی پر پاکستان کرکٹ بورڈ آئی سی سی اور ٹیم سے رابطےمیں ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی سی سی ٹورنامنٹ کو معطل کرنے سمیت متعدد آپشن پر بھی غور کررہا ہے۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل جنوبی افریقہ میں 2020 کے آخر میں بیٹا ورژن کو بھی دریافت کیا گیا تھا ۔ کورونا کی اس قسم کے باعث جنوبی افریقہ میں وبا کی دوسری لہر کے دوران کووڈ کے سنگین کیسز کی تعداد پہلی لہر کے مقابلے میں بڑھ گئی تھی۔

    اہل پاکستان کےلیے مقام شکر:کئی ملکوں میں کورونا کی تباہی جاری: لوگوں نے تنگ…