Baaghi TV

Tag: عالمی ثالثی عدالت

  • سندھ طاس معاہدہ:بھارت کی ہٹ دھرمی برقرار،ثالثی عدالت کا فیصلہ مسترد کر دیا

    سندھ طاس معاہدہ:بھارت کی ہٹ دھرمی برقرار،ثالثی عدالت کا فیصلہ مسترد کر دیا

    بھارت نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق عالمی ثالثی عدالت کے حالیہ فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے عدالت کے قیام کو غیر قانونی قرار دے دیا-

    بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق ثالثی عدالت کے حالیہ فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اپنی ہٹ دھرمی برقرار رکھی اور کہا کہ بھارت نے اس ’نام نہاد‘ عدالت کو کبھی تسلیم نہیں کیا، 15 مئی 2026 کو ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے کی تشریح سے متعلق ایک ضمنی فیصلہ جاری کیا، تاہم نئی دہلی نے اس فیصلے کو بھی غیر قانونی اور ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

    رندھیر جیسوال کے مطابق یہ ثالثی عدالت غیر قانونی طور پر قائم کی گئی تھی اور نئی دہلی اس کے تمام سابقہ فیصلوں کی طرح حالیہ اعلان کو بھی تسلیم نہیں کرتا ترجمان نے واضح کیا کہ اس عدالت کی جانب سے جاری کردہ کوئی بھی کارروائی، فیصلہ یا ایوارڈ بھارت کی نظر میں کالعدم اور بے حیثیت ہے اور اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔

    رندھیر جیسوال نےکہا کہ بھارت نے کبھی اس نام نہاد کورٹ آف آربیٹریشن کے قیام کو تسلیم نہیں کیا، اس لیے اس کے تحت ہونے والی تمام قانونی کارروائیاں مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہیں، انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے سے متعلق بھارت کا فیصلہ بدستور برقرار ہے۔

    واضح رہے کہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جو پاکستان اور بھارت کے مابین عالمی بینک کی ثالثی سے 1960 میں معاہدہ طے پایا تھا۔ اس کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان پانی کی تقسیم کا ایک مستقل حل اور منصفانہ طریقہ کار بنانا تھا، کیونکہ برصغیر کی تقسیم کے بعد دریاؤں کا نظام مشترکہ تھا۔

    معاہدے کے تحت بھارت کو 3 مشرقی دریاؤں بیاس ، راوی اور ستلج کا زیادہ پانی ملتا ہے، تینوں مشرقی دریاؤں پر بھارت کا کنٹرول زیادہ ہوگا۔ مقبوضہ کشمیر سے نکلنے والے مغربی دریاؤں چناب اور جہلم اور سندھ کا زیادہ پانی پاکستان کو استعمال کرنے کی اجازت ہوگی معاہدے کے باوجود بھارت کی جانب سے مسلسل اس کی خلاف ورزیاں جاری رہی ہیں، بھارت نے معاہدے کے باوجود پاکستان کو پانی سے محروم رکھا ہے بھارت کو ان دریاؤں کے پانی سے بجلی بنانے کا حق تو ہے لیکن پانی ذخیرہ کرنے یا بہاؤ کو کم کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔

    اس معاہدے کی ضرورت 1948 میں اس وقت پیش آئی جب انڈیا کی جانب سے مشرقی دریاؤں کا پانی بند کردیا گیا تھادونوں ملکوں کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کے باعث عالمی برادری متحرک ہوئی اور 19 ستمبر1960 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدہ طے پایا۔

  • سندھ طاس معاہدہ: پاکستان نےعالمی ثالثی عدالت میں بھارت کے خلاف اعتراضات جمع کرادیے

    سندھ طاس معاہدہ: پاکستان نےعالمی ثالثی عدالت میں بھارت کے خلاف اعتراضات جمع کرادیے

    سندھ طاس معاہدے کی مبینہ خلاف ورزیوں سے متعلق پاکستان کی جانب سے بھارت کے خلاف دائر مقدمے کی سماعت عالمی ثالثی عدالت میں جاری ہے-

    انڈس واٹرز آربیٹریشن کیس کے دوسرے مرحلے کی سماعت مکمل ہو چکی ہے، جس دوران پاکستان نے بھارتی پن بجلی منصوبوں کے ڈیزائن، پانی کے بہاؤ اور تکنیکی پہلوؤں پر تفصیلی تحفظات پیش کیےعالمی عدالت برائے ثالثی میں پاکستان کی نمائندگی اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے کی، جبکہ ان کے ہمراہ انڈس واٹر ٹریٹی کمشنر مہر علی شاہ اور مختلف ممالک میں تعینات پاکستانی سفرا بھی موجود تھے۔

    پاکستانی وفد نے عدالت کو آگاہ کیا کہ بھارت دریائے سندھ، جہلم اور چناب پر منصوبے تعمیر کرتے وقت سندھ طاس معاہدے میں طے شدہ حدود سے تجاوز کر رہا ہے، جو معاہدے کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

    پاکستان نے عدالت سے درخواست کی کہ بھارت کو معاہدے کے تحت ان تین دریاؤں پر پن بجلی منصوبوں کی اجازت، ان کی نوعیت اور دائرہ کار سے متعلق واضح وضاحت فراہم کرنے کا پابند بنایا جائے وفد کا مؤقف تھا کہ بھارتی منصوبوں کی نصب شدہ صلاحیت اور متوقع پانی کے بہاؤ کا درست اور شفاف تعین نہایت اہم ہے تاکہ سندھ طاس معاہدے کی روح کے مطابق فیصلے کیے جا سکیں،ادھر بھارت نے سماعت میں شرکت کی دعوت کا کوئی جواب نہیں دیا اور نہ ہی عدالت کے روبرو پیش ہوا۔

    ثالثی عدالت کے بینچ کی قیادت امریکا سے تعلق رکھنے والے پروفیسر شان ڈی مرفی نے کی، جبکہ دیگر بین الاقوامی ججز بھی کارروائی کا حصہ تھے، یہ عالمی فورم 127 رکن ممالک پر مشتمل ہے اور بین الاقوامی تنازعات کے حل میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔

  • سندھ طاس معاہدہ: بھارت کا عالمی ثالثی عدالت فیصلہ ماننے سے انکار

    سندھ طاس معاہدہ: بھارت کا عالمی ثالثی عدالت فیصلہ ماننے سے انکار

    بھارت نے عالمی ثالثی عدالت کے سندھ طاس معاہدے سے متعلق پاکستان کے حق میں حالیہ فیصلے کو مسترد کر دیا ہے۔

    بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ عدالت کو یہ فیصلہ سنانے کا کوئی اختیار نہیں، اس کے تمام فیصلے دائرہ اختیار سے باہر اور بھارت کے حقوق پر بے اثر ہیں۔دی انڈین ایکسپریس کے مطابق، عدالت نے 8 اگست 2025 کو اپنے فیصلے میں واضح کیا تھا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت مغربی دریاؤں کا پانی بلا رکاوٹ پاکستان کے لیے چھوڑنے کا پابند ہے، اور بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں میں معاہدے کی شرائط پر سختی سے عمل ضروری ہے۔

    بھارت اس ثالثی عمل میں شریک نہیں ہوا اور ابتدا ہی سے بائیکاٹ کر رکھا ہے، تاہم عدالت نے قرار دیا کہ اس کی غیر حاضری دائرہ اختیار پر اثر انداز نہیں ہوتی۔ پاکستان نے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے بھارت پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق، بھارت کا مؤقف خطے میں آبی تنازع کو بڑھا سکتا ہے۔

    یومِ آزادی کی تقریر: مودی کو شدید تنقید کا سامنا

  • سندھ طاس معاہدہ: عالمی ثالثی عدالت کی پاکستانی  مؤقف کی تائید

    سندھ طاس معاہدہ: عالمی ثالثی عدالت کی پاکستانی مؤقف کی تائید

    عالمی ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق اپنے اہم فیصلے میں پاکستان کے مؤقف کی مکمل تائید کر دی ہے اور واضح کیا ہے کہ بھارت کو معاہدہ معطل کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔

    پاکستان نے ثالثی عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے، جس میں عدالت نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے میں کہیں بھی یکطرفہ معطلی کی کوئی شق موجود نہیں ہے۔سندھ طاس معاہدے کا بغور جائزہ لینے کے بعد، عدالت نے بھارت کے اقدام کو غیرقانونی اور بلاجواز قرار دیا۔

    عدالت کے مطابق، ثالثی عدالت کا کردار واضح ہے اور بھارت کا اقدام عدالت کی فیصلہ سازی پر اثر انداز نہیں ہو سکتا.معاہدہ معطل کرنے کی بھارتی کوشش کو معاہدے کی روح اور قانونی بنیادوں کے خلاف قرار دیا گیا۔

    پسِ منظر
    یاد رہے کہ 23 اپریل 2025 کو جموں و کشمیر کے پہلگام میں حملے کے بعد بھارت نے اچانک سندھ طاس معاہدہ فوری طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا تھا، اور 24 اپریل کو پاکستان کو باضابطہ اطلاع دی گئی تھی۔اس پر عالمی ثالثی عدالت نے 16 مئی کو فریقین سے قانونی مؤقف طلب کیا، جس پر پاکستان نے بروقت تحریری مؤقف جمع کروا کر مؤثر دلائل دیے۔

    پاکستان کا مؤقف
    پاکستان نے اپنے جواب میں کہا کہ بھارت کے یکطرفہ اقدامات، خواہ وہ کسی بھی نوعیت کے ہوں، نہ تو عدالت کے دائرہ اختیار کو متاثر کر سکتے ہیں اور نہ نیوٹرل ایکسپرٹ کی حیثیت کو ختم کر سکتے ہیں۔پاکستانی حکام نے اس فیصلے کو سفارتی اور قانونی محاذ پر ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے اور عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کا پابند بنائے۔

    سوات کا سیلابی ریلہ مالاکنڈ میں داخل، متعدد علاقوں میں تباہی

    جنیوا ،کشمیری کمیونٹی کا مودی حکومت کے خلاف شدید احتجاج

    محرم الحرام، ملک بھر میں پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز تعینات

    پاکستان میں سونے کی قیمت میں اچانک بڑی کمی

    اسرائیل نےامداد کی آڑ میں فلسطینیوں پر حملے تیز کر دیے، 549 جاں بحق