Baaghi TV

Tag: عالمی ریکارڈ

  • انگوٹھی پر 24 ہزار سے زائد  ہیرے جڑکرایک نیا عالمی ریکارڈ

    انگوٹھی پر 24 ہزار سے زائد ہیرے جڑکرایک نیا عالمی ریکارڈ

    نئی دہلی: بھارتی کمپنی نے ایک انگوٹھی پر 24 ہزار سے زائد ہیرے جڑکرایک نیا ریکارڈ بنایا ہے سب سے زیادہ ہیروں والی انگوٹھی کا وزن ایک پاؤ سے بھی زیادہ ہے۔

    باغی ٹی وی :ہیرے کی انگوٹھی میں کتنے ہیرے لگائے جا سکتے ہیں؟ زیادہ سے زیادہ 10 لیکن آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ کیرالہ کے ضلع ملاپورم میں تیار ہونے والی ’ٹچ آف ایمی‘ نامی انگوٹھی نے انگوٹھیوں میں قائم ہیروں کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ اس انگوٹھی پر 24 ہزار 679 ہیرے نصب کیے گئے ہیں جس کی وجہ سے اس کا نام گنیز بک میں شامل کیا گیا ہے۔

    انگوٹھی کیوں خاص ہے جس نے گنیز ورلڈ ریکارڈ توڑ دیا؟

    بھارتی میڈیا کے مطابق گلابی اوئسٹرمشروم کی شکل کی یہ انگوٹھی تھری ڈی پرنٹر سے ڈیزائن کی گئی تھی جسے 5 مئی 2022 تک مکمل کیا گیا تھا اسے تیار کرنے میں کل 90 دن لگے اور اب گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ نے اس کی باقاعدہ تصدیق کرتے ہوئے سند عطا کی ہے۔

    انگوٹھی میں ابتدائی طور پر 12,638 ہیرے تھے۔ لیکن مکمل کرنے اور دوبارہ ٹچ کرنے کے بعد، اسے 24,679 ہیروز کے ساتھ مکمل کیا گیا۔ کمپنی نے کہا کہ انہیں فخر ہے کہ یہ کامیابی بیلجیئم کے بجائے کیرالہ میں حاصل ہوئی ہے۔ بیلجیم ہیروں کے زیورات کی پیداوار میں پہلے نمبر پر ہے۔

    یہ انگوٹھی ایس ڈبلیو اے ڈائمنڈ نامی فرم نے بنائی ہے جس کے مینیجر عبدالغفور انادیان نے بتایا کہ اس کا نام ’ایمی‘ رکھا گیا ہے ۔ سنسکرت کے اس لفظ کا مطلب لافانیت ہے جس کی خوبصورتی دیکھ کر دنیا بھر کے ڈیزائنر اور زیورات کے ماہرین نے اسے سراہا ہے۔

    ایس ڈبلیو اے کے مطابق اس انگوٹھی پر مہارت سے ہزاروں چھوٹے بڑے ہیرے لگائے گئے ہیں جن کا مقصد کمپنی کے برانڈ کو فروغ دینا تھا۔ تاہم ہیرے اسطرح لگائے گئے ہیں کہ واضح دکھائی دیں اور خوبصورتی میں اضافہ کریں۔ اس کی ڈیزائننگ سے قبل ایک نمونہ (پروٹوٹائپ) پلاسٹک کے سانچے میں ڈھالا گیا تھا۔ لیکن کمپیوٹر کی مدد سے اس کی ڈیزائننگ کی گئی ہے اور کئی ماہرین نے اسے تین مہینے میں خواب سے حقیقت بنایا ہے۔

    جب تھری ڈی پرنٹر سے خام سانچہ بنایا گیا تو اس پر مائع سونا انڈیلا گیا اور سرد ہونے پر مشروم کی اطراف 41 پتیاں نمودار ہوگئیں۔ تاہم گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ سے قبل غیرجانبدار ماہرین نے اسے دیکھا، تجرباتی مشاہدہ کیا اور اسے سب سے زیادہ ہیرے والی انگوٹھی کا اعزاز دیا اس انگوٹھی کا وزن 340 گرام ہے اور قیمت 95 ہزار ڈالر سے کچھ زائد ہے۔

    یہ پہلی بار نہیں ہے کہ ہیرے کی انگوٹھی نے عالمی ریکارڈ قائم کیا ہو۔ اس سے پہلے بھی سال 2020 میں اتر پردیش کے میرٹھ میں رہنے والے جیولری ڈیزائنر ہرشیت بنسل نے 12638 ہیروں سے جڑی انگوٹھی بنائی تھی جس کی وجہ سے ان کا نام گنیز بک میں درج کیا گیا تھا۔ ہرشیت سٹی بلین میں مقیم میسرز رینانی کے منیجنگ ڈائریکٹر ہیں۔

    بنسل نے انگوٹھی کا نام ‘دی میریگولڈ’ رکھا کیونکہ اسے میریگولڈ کے پھول کی طرح ڈیزائن کیا گیا تھا۔ انگوٹھی کا وزن 165 گرام ہے جس میں 38.08 قیراط ہیرے جڑے تھے۔ اسے تیار کرنے میں ہرشیت کو تین سال لگے۔ ہرشیت سے پہلے حیدرآباد کے سریکانت نے ’کروی تجریدی‘ ڈیزائن میں 7801 ہیروں کی انگوٹھی بنائی تھی اور ہرشیت نے اس سے زیادہ ہیرے لگا کر یہ نیا ریکارڈ بنایا تھا۔

    کہا جاتا ہے کہ کوہ نور دنیا کا سب سے مہنگا ہیرا ہے۔ کوہ نور 105.6 قیراط کا ہیرا ہے، جس کی شکل بیضوی ہے اور اس کا شمار مہنگے ترین ہیروں میں ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ ہندوستان میں 1300 میں پایا گیا تھا برطانیہ نے اسے 1850 میں لیا تھا اور اسے 1852 میں شہزادہ البرٹ نے تبدیل کیا تھا اور 186 قیراط کے ہیرے کو 105 کیرٹ میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ اس خاص قسم کے ہیرے کو ماؤنٹین آف لائٹ اور ڈائمنڈ آف بابر بھی کہا جاتا ہے۔

    دو ماہ قبل جنیوا میں دنیا کے سب سے بڑے سفید ہیرے ‘دی راک’ کی نیلامی ہوئی تھی۔ یہ نایاب سفید ہیرا جنوبی افریقہ کی ایک کان سے نکالا گیا تھا۔ جس کا وزن 228.31 کیرٹس تھا۔ اس نیلامی میں دی راک کے علاوہ ریڈ کراس ڈائمنڈ بھی نیلام ہوا۔ 205.7 قیراط کے اس پیلے رنگ کے ہیرے کو ’دی ریڈ کراس ڈائمنڈ‘ کا نام دیا گیا۔ اس کی نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم کا کچھ حصہ ریڈ کراس سوسائٹی کو دیا گیا۔

    بلیو ڈائمنڈ، دنیا کا اب تک کا سب سے مہنگا ہیرا، آج ہانگ کانگ میں سوتھبیز کمپنی کے تحت نیلام ہوا۔ De Beers Cullinan Blue Diamond 15.10 کیرٹس کا ہے۔ اسے £39 ملین میں فروخت کیا گیا ہے، امریکی ڈالر میں اس کی قیمت 57.5 ملین ڈالر ہے۔

  • 2020 میں ہونے والے ایک غیرمعمولی آسمانی واقعے کو ایک نیا عالمی ریکارڈ قرار دیا گیا

    2020 میں ہونے والے ایک غیرمعمولی آسمانی واقعے کو ایک نیا عالمی ریکارڈ قرار دیا گیا

    واشنگٹن: 2020 میں آسمانی بجلی کا 768 کلومیٹر طویل کڑاکا جسے تین امریکی ریاستوں میں دیکھا گیا تھا اس کو نیا عالمی ریکارڈ قرار دیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : رپورٹس کے مطابق 2020 میں دو ریکارڈ توڑ بجلی کی چمکیں رونما ہوئیں: ایک 768 کلومیٹر کی لمبائی کے ساتھ اب تک کی سب سے طویل ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ دوسری 17 سیکنڈ کے دورانیے کے ساتھ اب تک کی سب سے طویل ترین فلیش ہے۔

    ایک فلش جنوبی امریکہ میں اپریل 2020 میں ہوا تھا اور اس کی لمبائی تقریباً 768 کلومیٹر تھی یا لندن سے جرمنی کے ہیمبرگ تک کا فاصلہ تھا اس حوالے سے لی گئی تصویر میں ایک ’’میگا فلیش‘‘ یعنی آسمانی بجلی کے طویل ترین کوندے کو ٹیکساس، لیوزیانا اور مسی سپی تک میں دیکھا گیا –

    سعودی عرب کا ٹیکنالوجی کی دنیا میں 6.4 ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان

    اس کو خلا سے ماپا گیا ہے اور اس کی تصدیق ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن (WMO) نے کی ہے اب عالمی موسمیاتی تنظیم (ڈبلیو ایم او) نے اسے آسمانی بجلی کے طویل ترین کوندے کا ایک نیا ریکارڈ قرار دیا ہے-

    اس سے قبل 31 اکتوبر 2018 میں برازیل میں آسمانی بجلی کا 709 کلومیٹر طویل کوندا ریکارڈ کیا گیا تھا جسے اب امریکی مظہر نے پیچھے چھوڑ کر نیاریکارڈ قائم کیا ہے عام طور پر گرج چمک والی بارشوں میں ہم آسمان پر لپکتے بجلی کے کوندے دیکھتے ہیں۔ ایک کوندا 10 سے 15 کلومیٹر طویل ہوسکتا ہے اور وہ ایک سیکنڈ تک برقرار رہتا ہے۔

    تاہم ماہرین نے اسے آب و ہوا میں تبدیلیوں یعنی کلائمیٹ چینج قرار نہیں دیا سائنسدانوں کے مطابق بجلی کا شرارہ شدید طوفان کی وجہ سے رونما ہوا جس میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی-

    بھارت کا امسال ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا اعلان

    ڈبلیو ایم او سے وابستہ سائنسدانوں نے موسمیاتی شدت کی رپورٹ امریکن میٹرولوجیل سوسائٹی کے بلیٹن میں اس قدرتی ریکارڈ کی تفصیلات شائع کروائی ہے۔ اسی رپورٹ میں طویل ترین وقت تک برقرار رہنے والی آسمانی بجلی کی تفصیلات بھی دی گئی ہیں 18 جون 2020 کو یوراگوئے اور ارجنٹینا کی سرحد پر آسمانی بجلی کا کڑاکا 17 سیکنڈ تک برقرار رہا جو ایک اور ریکارڈ ہے۔

    ایریزونا اسٹیٹ یونیورسٹی میں رینڈل سروینی کہتے ہیں، "اب ہمارے پاس واضح ثبوت ہے کہ بجلی گرنے کے واحد واقعات 17 سیکنڈ تک جاری رہ سکتے ہیں۔” "یہ سائنس دانوں کے لیے اہم ہے کیونکہ یہ بجلی کی حرکیات کے بارے میں ہماری سمجھ کو بہتر بناتا ہے: کس طرح، کہاں اور اہم بات یہ ہے کہ بجلی اسی طرح کیوں گرتی ہے۔”

    جسٹس عمرعطا بندیال نے بطورچیف جسٹس آف پاکستان حلف اٹھا لیا