Baaghi TV

Tag: عالمی قوانین کی خلاف ورزی

  • سلووینیا  کی اسرائیلی وزیراعظم  کے ملک میں داخلے پر پابندی

    سلووینیا کی اسرائیلی وزیراعظم کے ملک میں داخلے پر پابندی

    یورپی یونین کے اہم رکن ملک سلووینیا نے عالمی قوانین کی خلاف ورزی اور فلسطین میں جنگی جرائم کے الزامات پر اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کی اپنے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کر دی۔

    خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق یہ فیصلہ انٹرنیشنل کریمنل کورٹ (آئی سی سی) کی جانب سے نیتن یاہو کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری ہونے کے بعد کیا گیا۔سلووینیا کی وزارت خارجہ کی عہدیدار نیوا گراسک نے سرکاری خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ نیتن یاہو پر جنگی جرائم کے الزامات ہیں اور عالمی قوانین کے تحفظ کے لیے ان پر پابندی عائد کی گئی ہے۔تقریباً 20 لاکھ آبادی والا یہ یورپی ملک گزشتہ سال فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکا ہے اور غزہ میں اسرائیلی جنگی جرائم کا سخت ناقد رہا ہے۔ ماضی میں بھی سلووینیا نے دو اسرائیلی وزیروں پر پابندی لگائی تھی اور اسرائیل کو اسلحہ فروخت کرنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

    سلووینیا کی حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ اسرائیل کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ سلووینیا بین الاقوامی عدالتوں کے فیصلوں اور انسانی حقوق کے قوانین کی مکمل پاسداری کرتا رہے گا۔

    ہائیکورٹ ججز کے ٹرانسفر آئین و قانون کے مطابق قرار ، تفصیلی فیصلہ جاری

    اسرائیلی حملوں نے خطے کو خطرے میں ڈال دیا،شامی صدر

    ایشیائی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ

    ایشیائی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ

  • برطانیہ، فرانس سمیت 21 ممالک کی اسرائیلی آبادکاری منصوبے کی مذمت

    برطانیہ، فرانس سمیت 21 ممالک کی اسرائیلی آبادکاری منصوبے کی مذمت

    برطانیہ، فرانس اور دیگر 21 ممالک نے اسرائیل کے مغربی کنارے میں آبادکاری کے بڑے منصوبے کی منظوری کو سخت الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے اسے عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق مذمتی بیان میں کہا گیا کہ یہ فیصلہ ناقابلِ قبول ہے، ہم اس کی شدید مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ اسے فوری طور پر ختم کیا جائے۔بیان یروشلم کے قریب ای ون (E1) علاقے میں منصوبہ بندی سے متعلق ہے، جسے اسرائیل نے حال ہی میں منظوری دی تھی۔ ناقدین کے مطابق یہ منصوبہ فلسطینی ریاست کے تصور کو ختم کرنے کے مترادف ہے۔

    مشترکہ بیان پر دستخط کرنے والے ممالک میں آسٹریلیا، کینیڈا اور اٹلی بھی شامل ہیں۔گزشتہ روز اسرائیل نے مغربی کنارے میں انتہائی متنازع اور غیر قانونی بستی کے قیام کی حتمی منظوری دی تھی، جسے عالمی سطح پر سخت تنقید کا سامنا ہے۔

  • سندھ طاس معاہدے کی معطلی عالمی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے،معین وٹو

    سندھ طاس معاہدے کی معطلی عالمی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے،معین وٹو

    وفاقی وزیر آبی ذخائر معین وٹو نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنا عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے، پاکستان اپنے آبی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور تمام دستیاب فورمز پر اس معاملے کو اٹھایا جائے گا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وفاقی وزیر آبی ذخائر معین وٹو مقامی ہوٹل میں انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز اینڈ میڈیا ریسرچ کے زیراہتمام منعقدہ سیمینار سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر سابق صوبائی وزیر آبپاشی محسن لغاری، آبی ماہرین، صحافیوں اور انڈس واٹر کمیشن کے حکام نے بھی شرکت کی۔ محمد معین وٹو نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی قانونی دستاویز ہے جسے یکطرفہ طور پر نہ تو معطل کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ختم، بھارت کی نیت پاکستان کے دریاؤں پر درست نہیں لیکن ہم اپنے حقوق پر کوئی ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان کو سفارتی اور بین الاقوامی سطح پر کامیابی حاصل ہوئی،پاکستان پانی کے مسئلے پر کسی لچک کا مظاہرہ نہیں کرسکتا، سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کے خلاف تمام فورمز کو استعمال کریں گے اور کامیابی حاصل کریں گے،بھارت کا یکطرفہ فیصلہ کسی صورت بحال نہیں رہ سکتا۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تمام دریائوں میں پانی کا بہائو نارمل ہے،بھارت نے دو دن کیلئے جہلم کا پانی روکا تھا لیکن اب نارمل ہے ، خدشہ ہے کہ بھارت مستقبل میں کوئی بھی ایسا قدم اٹھا سکتا ہے۔ معین وٹو نے کہا کہ پانی ہماری لائف لائن ہے،پاکستان انڈس واٹر ٹریٹی کے ایشو کو حل کرنے کیلئے آخری حد تک جاسکتا ہے ، ہمیں چاہیے کہ تمام سیاسی جماعتیں ملکی مفاد کی خاطر ایک پلیٹ فارم پر اکھٹی ہوں اور مل بیٹھ کر ماہرین کا ایک گروپ بنائیں جو صوبوں کے درمیان غلط فہمی کو دور کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔

    وفاقی وزیر نے میڈیا پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پانی جیسے اہم قومی مسئلے پر میچورٹی اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عوام کو اصل حقائق سے آگاہ کیا جائے۔ چیئرمین انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز اینڈ میڈیا ریسرچ محمد مہدی نے کہا کہ انڈس واٹر ٹریٹی کے حوالے سے بھارت کے یکطرفہ اقدامات جنوبی ایشیا میں آبی سلامتی کے لیے چیلنج ہیں،بھارت کی جانب سے اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی کوششیں نہ صرف معاہدے کی روح کے خلاف ہیں بلکہ علاقائی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن چکی ہیں،پانی صرف ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ انسانی حق اور قومی خودمختاری کا مسئلہ ہے، بھارت کا رویہ جارحیت کے مترادف ہے جسے پاکستان انتہائی سنجیدگی سے لے رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان عالمی اداروں اور دوست ممالک کو بھارتی اقدامات سے مسلسل آگاہ کر رہا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اندرونی سطح پر پانی کے تحفظ، جدید آبپاشی نظام اور آبی خودکفالت کے لیے اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں،پاکستان پرامن حل اور بین الاقوامی قانون کے تحت مذاکرات کو ترجیح دیتا ہے لیکن اگر مذاکرات سے حقوق کا تحفظ ممکن نہ ہوا تو پاکستان اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائے گا۔

    سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سابق صوبائی وزیر محسن لغاری نے زور دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کا کوئی قانون بھارت کو معاہدے کی یکطرفہ معطلی کی اجازت نہیں دیتا، اگر ایسے معاہدے ختم ہونے لگیں تو عالمی نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ صحافی ذوالفقار مہتو نے کہا کہ سندھ طاس دنیا کا وہ واحد معاہدہ ہے جو پانی جیسے اہم مسئلے پر دو متحارب ممالک کے درمیان ممکنہ جنگ کو روکنے کے لیے کیا گیا۔ انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اسے سفارتی سطح پرموثر طور پر استعمال کرنا چاہیے۔آبی ماہر چوہدری محمد شفیق نے خبردار کیا کہ زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک گر رہی ہے جبکہ بھارت سمندر میں جانے والے پانی کو بنیاد بنا کر پروپیگنڈا کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا بہت سا پانی بغیر استعمال کے سمندر میں جا رہا ہے، جسے بچانے کی ضرورت ہے۔

    معروف صحافی مجیب الرحمان شامی نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ معطل کرنا بھارت کے مفاد میں بھی نہیں، جنگوں کے باوجود یہ معاہدہ قائم رہا ہے، پاکستان میں پانی کا مسئلہ گھمبیر ہوتا جا رہا ہے ۔ سینئر صحافی سہیل وڑائچ نے کہا کہ ہمیں اس حساس معاملے پر جذباتیت کی بجائے دانشمندی سے کام لینا ہوگا اور باہمی تنازعات کو مل بیٹھ کر حل کرنا چاہیے۔ سابق انڈس واٹر کمشنر شیراز جمیل نے کہا کہ دریائے چناب کا سارا پانی مقبوضہ جموں و کشمیر سے آتا ہے، بھارت اس پر ڈیم بنا کر پانی روک سکتا ہے جس سے پاکستان کو خشک سالی کا سامنا ہو سکتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ 2022 کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان کوئی باضابطہ اجلاس نہیں ہوا، بھارت معاہدے کا ازسرنو جائزہ لینا چاہتا ہے لیکن یہ عمل وقت طلب ہو گا۔انڈس واٹر کمیشن کے کمشنر آصف بیگ نے کہا کہ بھارت طویل مذاکرات کی آڑ میں تعمیرات جاری رکھتا ہے، جو معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ بھارت نے معاہدے سے بڑے فوائد حاصل کیے ہیں، لیکن اب وہ ٹریٹی سے فرار چاہتا ہے۔

    حکومت درآمدات کی بجائے برآمدات کے فروغ کے لیے کوشاں ہے،وزیر برائے توانائی

    غزہ میں قحط شدت اختیار کرگیا، پیاز ٹکڑوں میں فروخت

    بغیر اجازت حج کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات، ڈرونز اور اے آئی سے نگرانی

  • بھارت کا عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا شرمناک اعتراف

    بھارت کا عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا شرمناک اعتراف

    بھارت کی جانب سے پہلگام حملے کی تحقیقات مکمل کیے بغیر ہی پاکستان پر فضائی حملہ کیا گیا، جو بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس اعتراف نے بھارتی مؤقف کو خود ہی کمزور کر دیا ہے۔

    بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ایک پریس کانفرنس کے دوران صحافی کے سوال پر اعتراف کیا کہ 22 اپریل کو پہلگام میں ہونے والے واقعے کی تحقیقات تاحال مکمل نہیں ہو سکیں۔ اس کے باوجود بھارتی حکومت نے پاکستان پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا، جسے مبصرین بین الاقوامی اصولوں، انصاف کے تقاضوں اور علاقائی استحکام کے خلاف قرار دے رہے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق، بھارتی فضائیہ نے پہلے مرحلے میں پاکستان کے اندر 6 مختلف مقامات پر کارروائیاں کیں، جن میں چار مساجد کو نشانہ بنایا گیا، جب کہ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق ان حملوں میں خواتین، بچوں اور بزرگوں سمیت 26 بے گناہ شہری شہید ہوئے۔پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی اس بلا جواز جارحیت کے دوران مجموعی طور پر 40 معصوم شہری شہید جبکہ 11 پاکستانی فوجی جوان مادر وطن کا دفاع کرتے ہوئے شہید ہوئے۔آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ بھارت کا یہ اقدام محض جنگی جنون کا مظہر ہے اور اس سے خطے میں مزید کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ہے۔

    واضح رہے کہ بین الاقوامی سطح پر بھی اس پیش رفت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، اور انسانی حقوق کے ماہرین اس حملے کو بے بنیاد الزامات کی بنیاد پر ایک خودمختار ملک کے خلاف جارحانہ کارروائی قرار دے رہے ہیں۔

    حج سیزن،حرمِ میں غلافِ کعبہ کا نچلا حصہ حسبِ روایت بلند کر دیا گیا

    پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ بجٹ پر آن لائن مذاکرات کا آغاز

    برطانیہ میں اسرائیل کو ایف-35 طیاروں کے پرزے دینے کا فیصلہ عدالت میں چیلنج

    پاکستان کا جوابی وار،اسلام آباد میں تعینات بھارتی سفارتی اہلکار کو ملک چھوڑنے کا حکم

    ٹرمپ کی ایک بار پھر پاک بھارت امن کی پیشکش،جنگ نہیں، تجارت کریں