Baaghi TV

Tag: عالم اسلام

  • مکہ المکرمہ کو عالم اسلامی کا پہلا سمارٹ سٹی بنا ئیں گے،گورنر مکہ

    مکہ المکرمہ کو عالم اسلامی کا پہلا سمارٹ سٹی بنا ئیں گے،گورنر مکہ

    مکہ المکرمہ کے گورنر اور سینڑل حج کمیٹی کے چیئرمین شہزادہ خالد الفیصل نے کہا ہے کہ ہم مکہ المکرمہ کو اسلامی دنیا کا پہلا سمارٹ سٹی بنائیں گے۔

    باغی ٹی وی : مکہ المکرمہ کے گورنر اور سینڑل حج کمیٹی کے چیئرمین حج کے لیے آنے کا ارادہ رکھنے والے کسی بھی بھی مسلمان کے مکہ المکرمہ کھلا شہر ہےسعودی عرب کی مسلسل کوششوں کےنتیجےمیں حجاج کرام اور حرمین شریفین کی زیارت کے لیے خدمت کا وہ معیار جلد حاصل کر لیں گے، جو ہم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

    سری لنکن صدرکومودی نے فرار ہونے میں‌ مدد دی:حالات بدستورکشیدہ

    شہزادہ خالد الفیصل ایک سوال کے جواب میں کہا کہ یقیناً ہم جہاں پہنچنا چاہتے ہیں وہ انتہائی مشکل ہے، تاہم ہم ضیوف الحرمین الشریفین کی خدمت کےلئے اپنی کوششیں جاری رکھیں گےحاجیوں کی خدمت کے لیے رضا کاروں کی خدمات اور آگے بڑھ کر کام کرنے کا جذبہ قابل تعریف ہے۔

    ساجد جاوید کنزرویٹیو پارٹی کی لیڈر شپ سے باہرہوگئے

    انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اس بات پر اللہ کا شکر بجا لاتے ہیں کہ جس نے سعودی مملکت کو یہ بھاری ذمہ داری ادا کرنے کے لیے چنا میری اس بات میں کوئی مبالغہ نہیں کہ سعودی عرب کے علاوہ کوئی دوسرا ملک یہ کام کر بھی نہیں سکتا۔

    زمینی میملز کی نصف سے زائد انواع میں پلاسٹک ذرات کے آثار

    ان کا کہنا تھا کہ مملکت سعودی عرب حاجیوں کی خدمت بجا لانےکے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے ہم مکہ المکرمہ کو عالم اسلامی کا پہلا سمارٹ سٹی بنا دیں گےحکومتی دفاتر کو مقدس مقامات سے باہر ایک مرکزی ہیڈ کوارٹر منتقل کرنے بہت سی خدمات میں سہولت پیدا ہوئی۔ مکہ کہ ترقی کے لیے مسلسل کوششوں کی ضرورت ہے۔

    لگتا ہے کہ اب ہرآنے والا سال معاشی تباہی لائے گا،امریکی شہری اپنے مستقبل سے متعلق پریشان

  • ترکی اورسعودی عرب نے پُرانی تلخیوں کوبھلاتے ہوئےنئے دورکا آغازکردیا

    ترکی اورسعودی عرب نے پُرانی تلخیوں کوبھلاتے ہوئےنئے دورکا آغازکردیا

    استنبول:ترکی اورسعودی عرب نے پُرانی تلخیوں کوبھلاتے ہوئےنئے دورکا آغازکردیا،اطلاعات کےمطابق ترکی دورے پرگئے ہوئے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان دونوں ملکوں نے صحافی جمال خاشقجی کی قتل سے پیدا ہونے والی پرانی تلخیوں کو بھلا کر "باہمی تعاون کا ایک نیا دور” شروع کرنے کا عہد کیا۔اور یہ بھی عہد کیاکہ دونوں ملک ایک دوسرے کے ساتھ ملکر باہمی معاملات کوحل کریں گے

    مشن کشمیر،سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصرکی ترکی،سعودی عرب اورروسی ہم منصبوں سے الگ الگ

    اس حوالے سے عالمی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ استنبول میں سعودی سفارت خانے میں سن 2018 میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد ولی عہد محمد بن سلمان کا ترکی کا یہ پہلا دورہ تھا جس میں محمد بن سلمان نے ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے ساتھ تقریباً دو گھنٹے تک بات چیت کی۔

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور ترک صدر رجب طیب اردوان کے درمیان ہونے والے اہم گفتگو کے بعد ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے،”باہمی تعلقات بشمول سیاسی، اقتصادی، فوجی، سکیورٹی اور ثقافتی تعلقات میں تعاون کا ایک نیا دور شروع کرنے کے مستحکم عزم کا عہد کیا گیا۔”

    مشترکہ اعلامیہ میں کہاگیاہے کہ دونوں ملکوں نے تجارت کو فروغ دینے اور سرمایہ کاری میں اضافہ کرنے نیز مختلف شعبوں میں شراکت داری کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ دونوں ملکوں نے کہا کہ اگلے دس برسوں کو تعاون کے ایک نئے دور کے طور پر لیا جائے گا۔اس مشترکہ اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماوں نے علاقائی اورعالمی مسائل کے حوالے سے اہم مسائل پر ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی کے لیے دو طرفہ تبادلہ خیال کو فعال بنانے سے بھی اتفاق کیا تاکہ "خطے میں سلامتی اور استحکام کی حمایت کی جاسکے اور تمام مسائل کے سیاسی حل میں مدد مل سکے۔”

    یاد رہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اپنے سہ ملکی دورے کے آخری مرحلے پر بدھ کے روز ترکی پہنچے تھے۔ اس سے قبل وہ مصر اور اردن بھی گئے تھے۔ انقرہ پہنچنے پر ان کا شاندار روایتی استقبال کیا گیا۔ وہ اپنا دورہ مکمل کرکے وطن واپس لوٹ آئے ہیں۔ محمد بن سلمان نے ان تینوں ملکوں کا دورہ ایسے وقت کیا جب امریکی صدر جو بائیڈن اگلے ماہ سعودی عرب آنے والے ہیں۔

    سعودی عرب اور ترکی ایک ہونے جارہے ، اہل اسلام کے لیے خوشی کی خبر

    ترکی اور سعودی عرب کے تعلقات میں کشیدگی تقریباً دس برس قبل اس وقت شروع ہوئی تھی جب مصر میں عبدالفتح السیسی سن 2013 میں اخوان المسلمون کے رہنما محمد مرسی کی حکومت کو برطرف کرکے خود صدر بن گئے تھے۔ ترکی نے عبد الفتح السیسی کواس وقت صدر تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

    گستاخانہ خاکے، فرانس کے خلاف ردعمل میں سعودی عرب کی پاکستان اور ترکی کے موقف کی

    رجب طیب ایردوآن نے سعودی عرب سےاپنےتعلقات کو ایک بار پھر بحال کرنےکا فیصلہ کیا ہے کیوں کہ اس وقت ترکی کو شدید اقتصادی مسائل کا سامناہےجبکہ اس کی تجارت میں سعودی عرب کا ایک بڑاحصہ ہے۔ایردوآن نے رواں برس اپریل کے اواخر میں سعودی عرب کا دورہ بھی کیا تھا۔ اس دوران ولی عہد محمد بن سلمان کےساتھ ان کےمعانقے کی تصویر وائرل ہوگئی تھی۔

    یوریشیا گروپ کی مشرق وسطیٰ ریسرچ ٹیم کےسربراہ ایہم کامل کا کہنا ہےکہ بائیڈن کےسعودی عرب کےدورے سے قبل ولی عہد کا تین ملکوں کایہ دورہ ریاض کے”علاقائی کردار کومستحکم کرنے اورمفاہمت کی کوششوں کو توسیع کرنے”کا حصہ ہے۔

     

    انہوں نے کہا کہ اس سے مصر اور ترکی کے درمیان ثالثی کرنے میں بھی مدد ملے گی جو سابق صدر مرسی کی معزولی کے بعد سے تعلقات میں پیدا ہونے والی کشیدگی کو دور کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

  • جناب وزیراعظم:آپ 2ارب مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکن:سعودی وزیرخارجہ کا وزاعظم  کوخراج تحیسن

    جناب وزیراعظم:آپ 2ارب مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکن:سعودی وزیرخارجہ کا وزاعظم کوخراج تحیسن

    اسلام آباد:جناب وزیراعظم:آپ 2ارب مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکن:سعودی وزیرخارجہ کا وزاعظم کوخراج تحیسن ،اطلاعات کے مطابق آج وزیراعظم عمران خان سے سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان السعود نے ملاقات کی اور آو آئی سی کے پلیٹ فارم سے جس طرح عالم اسلام ،ختم نبوت،دین اسلام کا دفاع، فلسطین ، کشمیراور دیگربین الاقوامی مسائل کے حل کے لیے کوششوں پر خراج تحسین پیش کیا ہے ،

    ذرائع کے مطابق اس کے علاوہ وزیراعظم عمران خان سے سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان السعود نے ملاقات کی، ملاقات میں علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، ملاقات میں افغانستان اور بھارت کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال زیر بحث آئی۔

    ملاقات کے دوران وزیراعظم نے حرمین شریفین کے متولی شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے لیے تہنیتی پیغام پہنچایا۔

    اکتوبر 2021 میں اپنے دورہ سعودی عرب کو یاد کرتے ہوئے وزیر اعظم نے تازہ ترین پیش رفت کا جائزہ لیا وزیراعظم نے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے لیے تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے کی اہمیت پر زور دیا

    عمران خان نے اسلامی تعاون کی تنظیم کو اسلامی دنیا کے مقاصد کے لیے اہم پلیٹ فارم میں آگے بڑھانے کے لیے مملکت کے قائدانہ کردار کو سراہا اور امت کو درپیش بے شمار چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانے،اسلاموفوبیا سے نمٹنے کے لیے او آئی سی کے رکن ممالک کے اجتماعی اقدام کی اہمیت پر زور دیا

    انہوں نے مقبوضہ کشمیر کے منصفانہ کاز کے لیے مملکت کی مستقل حمایت پر ان کا شکریہ ادا کیا، شہزادہ فرحان نے اسلام آباد میں او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل اجلاس کے کامیاب انعقاد پر وزیراعظم کو مبارکباد دی۔

    وزیراعظم نے پاک سعودی تعلقات کی خصوصی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات قریبی برادرانہ تعلقات، تاریخی روابط اور مجموعی سطح پر تعاون پر مبنی ہیں۔

     

    آپ پاکستان نہیں عالم اسلام کے لیڈر ہیں ، امہ مسلمہ آپ کے ساتھ کھڑی ہے ، عراقی وزیرخارجہ
    دوسری طرف وزیراعظم عمران خان سے عراقی وزیر خارجہ نے ملاقات کی، ملاقات کے دوران وزیراعظم نے دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ اور دوستانہ تعلقات کا ذکر کیا۔

    وزیراعظم نے عراق کے ساتھ پاکستان کے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات کی جڑیں مشترکہ عقائد، مشترکہ اقدار اور ثقافتی وابستگیوں میں گہرے ہیں۔

    عمران خان نے عراق کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عراقی حکومت کی کامیابیوں کا اعتراف کیا۔

     

    جناب وزیراعظم صاحب:حکومت چین اور چینی قوم آپ کے ویژن سے بہت متاثر ہیں :چینی وزیرخارجہ کی وزیراعظم سے ملاقات پرگفتگو
    وزیراعظم عمران خان سے چینی وزیر خارجہ وانگ ژی کی ملاقات ہوئی ہے، ملاقات کے دوران وزیراعظم نے چینی طیارے حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔

    اسلامی تعاون تنظیم کے وزراء خارجہ کونسل کے 48 ویں اجلاس میں شرکت کیلئے پاکستان کے دورہ پر آئے ہوئے چینی وزیر خارجہ نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی۔ وزیراعظم نے وانگ یی کا پاکستان میں گرمجوشی سے خیرمقدم کیا اور گزشتہ روز ہونے والے چینی طیارے حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر دُکھ کا اظہار کیا۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاک چین دوطرفہ تعلقات کی رفتار اور بدلتے علاقائی، بین الاقوامی منظر نامے پر تبادلہ خیال کیا۔

    دونوں رہنماؤں نے یوکرین کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا، پائیدار مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کی ضرورت کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور اس کے غیر ذمہ دارانہ رویے کے بارے میں بتایا۔

    عمران خان نے بھارت کی طرف سے پاکستان کی حدود میں میزائل کے نام نہاد "حادثاتی” میزائل کے بارے میں چینی وزیر خارجہ کو بھی آگاہ کیا اور پاکستان کی طرف سے مشترکہ تحقیقات کے مطالبے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا جائے کہ ایسا واقعہ دوبارہ نہ ہو۔

    انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دونوں ممالک کو افغانستان میں امن و استحکام کو فروغ دینے اور وہاں انسانی بحران کو روکنے کے لیے گہرے تعلقات کو جاری رکھنا چاہیے ۔

    وزیراعظم نے کہا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کا دوسرا مرحلہ صنعتی ترقی، زراعت اور معلومات جیسے شعبوں میں بڑھتے ہوئے تعاون کے ساتھ اقتصادی ترقی کے لیے پاکستان کی کوششوں کو تقویت دے گا۔

  • جامع مسجد سرینگرپابندسلاسل:میرواعظ کی نظربندی کو ڈھائی سال مکمل:عالمی برادری خاموش

    جامع مسجد سرینگرپابندسلاسل:میرواعظ کی نظربندی کو ڈھائی سال مکمل:عالمی برادری خاموش

    سرینگر :جامع مسجد سرینگرپابندسلاسل :مسلسل 27جمعہ بھی نہ ہوسکا ،میرواعظ کی نظربندی کو ڈھائی سال مکمل:عالمی برادری خاموش ،اطلاعات کے مطابق جامع مسجد سرینگر کے منبرو محراب مسلسل 27ویں جمعہ کو بھی خامو ش، میرواعظ کی نظربندی کو ڈھائی سال مکمل،اغیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی قابض انتظامیہ نے تاریخی جامع مسجد سرینگر میں ایک با ر پھر لوگوں کو مسلسل 27ویں مرتبہ بھی نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی ۔

    انجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر نے ایک بیان میں افسوس ظاہر کیا ہے کہ اسلامی دعوت و تبلیغ کا سر چشمہ تاریخی اور مرکزی جامع مسجد سرینگر کا منبر و محراب بدستور خاموش ہے جبکہ انجمن کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق کی گھر میں مسلسل غیر قانونی نظر بندی کوآج ڈھائی سال مکمل ہوگئے ہیں۔

    کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق5اگست 2019سے مسلسل گھر میں نظر بند ہیں اور قابض انتظامیہ نے میر واعظ کی تمام سیاسی اور سماجی سرگرمیوں پر بھی قدغن عائد کر رکھی ہے ۔ انجمن کے مطابق قابض انتظامیہ کی طر ف سے جامع مسجد میں مسلسل نماز جمعہ کی ادائیگی سے روکنے سے کشمیریوں کے مذہبی جذبات مجروح ہورہے ہیں اور یہ مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہے ۔

    انجمن نے کہا کہ جامع مسجد میں نماز جمعہ کی اجازت نہ دینے اور میر واعظ کی مسلسل غیر قانونی نظربندی سے قابض انتظامیہ کی متعصبانہ ذہنیت کی عکاسی کرتی ہے، جو انسانیت اور انصاف سے عاری ہیں۔بیان میں کشمیری عوام اور مذہبی تنظیموں سے پر اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس سلسلے میں قابض انتظامیہ پر دبائو ڈالیں تاکہ جامع مسجد میں ایک بار پھر قال اللہ وقال الرسول ۖ کی ایمان افروز صدائیں بلند ہو سکیں۔

    ادھر کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنماء آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے بڈگام میں نماز جمعہ کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ مسجد سرینگر میں نماز جمعہ کی ادائیگی پر مسلسل قدغن کی شدید مذمت کی ہے ۔انہوں نے کہاکہ جامع مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی پر قدغن کشمیری مسلمانوں کیلئے انتہائی تکلیف دہ اور باعث تشویش ہے۔ انہوں نے کہاکہ آمریت کے طولانی دور میں بھی یہ دینی مرکز اتنی مدت تک کبھی مقفل نہیں رہا ۔